Baaghi TV

Author: +9251

  • حکومتی عدم توجہ کا شکار آن لائن تعلیم میں درپیش طلبہ کے مسائل ،ازقلم: ملک رمضان اسراء

    حکومتی عدم توجہ کا شکار آن لائن تعلیم میں درپیش طلبہ کے مسائل ،ازقلم: ملک رمضان اسراء

    یقینا آن لائن ذریعہ تعلیم پاکستان جیسے ملک میں کسی بھی طالب علم کی ترجیح نہیں کیونکہ پاکستان ڈیجیٹل ورلڈ کی رینکنگ میں عالمی دنیا سے بہت پیچھے ہے لیکن موجودہ حالات کے اعتبار سے آن لائن ذریعہ تعلیم وقت کی اشد ضرورت ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ اس کو حکومتی سطح پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔ آپ وزیر تعلیم کے بیانات اور عملی کارکردگی دیکھ لیں ان میں کھلا تضاد نظر آتا ہے۔ موصوف خود تو تعلیمی اداروں بارے کورونا وبا کے ڈر سے آن لائن میٹنگز کرتے ہیں لیکن دوسروں کے بچوں کیلئے کورونا وبا میں بھی ان کیمپس تعلیم پر بضد ہوتے ہیں حتکہ انہیں وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے طلبہ اور اساتذہ کے مسائل کو مدنظر رکھ کر اسکا کوئی حل تلاش کرنا چاہئے اور سب سے اہم بات یہ کہ جدید ترین ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرانا چاہیے تاکہ تعلیمی میدان میں بہتری لائی جاسکے۔

    اس کے علاوہ اگر میں ذاتی تجربہ شیئر کروں تو وزارت تعلیم کی طرف سے ہر روز بدلتے فیصلوں سے مجھے ہزاروں روپے کا نقصان ہوا کیوں کہ کورونا کی تیسری لہر میں انتظامیہ نے نئے داخلوں کے وقت عین موقع پر جامعات کھول دی تھیں اور کوئی محض دس دن حاضری کرنے کے بعد اچانک کہا گیا کرونا کیسز بڑھنے کی وجہ سے جامعات بند کرنا پڑ رہی ہیں اور یہ اقدام کرنا حکومت کی مجبوری بھی تھی جسکی اصل وجہ یہ کہ سب سے پہلے کسی بھی چیز سے بڑھ کر اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ انسانی جان کا تحفظ ہے لیکن دانستہ کوتاہی یہ ہوئی کہ علم ہونے کے باوجود کے کورونا زور پر ہے مگر پھر بھی سارے تعلیمی ادارے کھول دیئے اور یوں ہم نے کئی قیمتی جانیں گنوا دیں۔

    اب جب دوبارہ سارا تعلیمی نظام مکمل آن لائن ہوگیا تو مسئلہ یہ تھا کہ جامعات کے اندر کے ہاسٹل، اور ٹرانسپورٹ کا کرایہ تو پہلے سے ہر نئے سمسٹر فیس کے ساتھ ہی جمع کرانا ضروری ہوتا ہے جو آن لائن تعلیم کے باوجود بھی طالب علموں کو واپس نہیں کیا جاتا اور رہی بات ہم جیسے طالب علموں کی جو پرائویٹ ہاسٹلز میں رہتے ہیں تو ہمیں ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو ایڈوانس میں کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے اور میں ادا کرچکا تھا کیونکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ صرف دس دن کے لیے یونیورسٹی کھل رہی ورنہ میں تیس دن کا کرایہ ادا ہی نہ کرتا لہذا مجھے مجبورا ہاسٹل چھوڑنے کے بجائے اپنا کمرہ ریزرو پر رکھنا پڑا اور کھانے کے پیسے چھوڑ کر باقی مکمل کرایہ ادا کرتا رہا۔ ریزرو پر کمرہ رکھنا میری مجبوری اس لیئے بھی تھا کہ حکومتی فیصلوں میں تضاد تھا کبھی وہ جامعات کھولنے کی کوئی تاریخ دیتے تو کبھی کوئی لہذا نااہل انتظامیہ کا چند ہفتوں کا فیصلہ مہینوں میں بدل گیا اور یوں مجھے خوامخووہ پورے ایک سمسٹر میں ہزاروں روپے کا نقصان اٹھانا پڑگیا۔

    اور یہ صرف میرے ساتھ نہیں ہوا بلکہ میرے جیسے بہت ساروں نے یہ نقصان اٹھایا۔ دوردراز کے طلبہ کو مجبورا بھی کمرہ ریزرو کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ صبح اٹھتے ہی اگلے روز حکومت جامعات کھولنے کا اعلان کردے تو پھر مجھ جیسے طالب علم کیلئے کم وقت میں بروقت اپنی مطابقت کا ہاسٹل ڈھونڈنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اور اسی جھنجٹ سے بچنے کیلئے اکثر طالب علم کمرہ ریزرو پر رکھ لیتے ہیں لہذا وزیر تعلیم شفقت محمود سے درخواست ہے کہ آئیندہ جو بھی لائحہ عمل تیار کریں وہ جامع اور واضح ہو اور اس میں تضاد نہ ہو کیونکہ اس کنفیوژن کی وجہ سے ہمارے ہزاروں روپے ضائع ہوجاتے ہیں۔ اب فرض کریں اگر حکومت ایسے کنفیوژڈ فیصلے نہ کرتی تو کیا مجھ جیسے غریب خاندان کے طلبہ کا خواہ مخواہ نقصان ہوتا؟ ہرگز نہ ہوتا کیونکہ ہم ذہنی طور پر مکمل تیار ہوتے اور ہزاروں روپے کے نقصان سے بچ جاتے۔

    ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق ادا کرے لیکن پاکستان میں ریاستی ادارے مجھے اپنے باشندوں کے حقوق پورے کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں آپ فاٹا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پسماندہ علاقوں کے بارے زرا سوچیں جہاں نہ بجلی ہے اور نہ ہی موبائل سروس اور انٹرنیٹ کی سہولیات کیا طلبہ اور شہریوں کے ان بنیادی حقوق کو فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ اسی طرح ریاست طاقتور طبقہ کو تو مختلف اشیاء پر سبسڈی دیتی ہے لیکن کیا طلبہ کیلئے سمارٹ فونز، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ پر عائد ٹکسز کو معاف نہیں کیا جا سکتا؟ اور غریب طلبہ کیلئے جن کے والدین محنت مزدوری کرتے ہیں یا جنکی آمدنی بیس ہزار سے کم ہے کو لیپ ٹاپ، سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی سہولیات مفت فراہم نہیں کرنی چاہئے؟

    Malik Ramzan Isra is an Islamabad based Pakistani journalist and writer. He is in journalism since 2013 and survived two deadly attacks over his journalistic work. He has worked in different National and International outlets like independenturdu.com, dw.com/urdu, dunyanews.tv & express.pk and currently writing for baaghitv.com He tweets at @MalikRamzanIsra

  • ہائی کورٹ نے ججز، افسران اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیرقانونی قراردی

    ہائی کورٹ نے ججز، افسران اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیرقانونی قراردی

    اسلام آباد:ہائی کورٹ نے ججز، افسران اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیرقانونی قراردی،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے گریڈ 22 کے افسران ، ججز اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیرقانونی قرار دے دی۔

    ججز، افسران اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کے حوالے سےدائردرخواست پر 20 اگست کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے حکم امتناع جاری کرتے وہئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ کے ججوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کردی تھی

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ججز، 22 گریڈ کے افسران اور سول سرونٹس کو قرعہ اندازی کے ذریعے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ ایک اور بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے، اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے گریڈ 22 کے افسران ، ججز اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیرقانونی قرار دے دی ہے۔

    ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سنایا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ججز اور سول سرونٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں، حکومت اگر ججز اور سول سرونٹس کو پلاٹ دینا چاہتی ہے تو پہلے قانون سازی کرے۔

    واضح رہے کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی ایف 14 ،ایف 15 کے مختلف کیٹگریز کے4700 پلاٹس کی قرعہ اندازی کی گئی تھی، جس میں چیف جسٹس گلزار احمد، سابق چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی اور پانامہ کیس کا فیصلہ تحریر کرنے والے اعجاز افضل خان سمیت معروف ججز اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے بھی پلاٹ نکلے تھے۔

    20 اگست کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے حکم امتناع جاری کرتے وہئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ کے ججوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کردی تھی۔

  • سابق سفارتکار, ماہر بین الاقوامی امور طارق پیرزادہ قضائے الٰہی سے وفات پاگئے

    سابق سفارتکار, ماہر بین الاقوامی امور طارق پیرزادہ قضائے الٰہی سے وفات پاگئے

    لاہور:سابق سفارتکار, ماہر بین الاقوامی امور طارق پیرزادہ قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سابق سفارتکار, ماہر بین الاقوامی امور طارق پیرزادہ کورونا کی وجہ سے زندگی کی بازی ہارگئے

    طارق پیرزادہ ایک نہایت شفیق,عاجز اور ملنسار انسان تھے.طارق پیرزادہ کے ملنساروں کا کہنا ہے کہ وہ ایک انتہائی شریف النفس انسان تھے اورہمیشہ ملک وقوم کے لیے سفارتکاری اورہمیشہ بات بھی کی پاکستانیت کےلیے یہی وجہ ہے کہ آج ان کے چاہنے والے ان کی وفات شدت غم سے نڈھال ہیں‌

    ادھر آج پھرپاکستان میں کرونا کی تباہ کاریاں‌جاری رہیں اورآج کی اب تک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دورا ن کورونا وائرس کے سبب مزید 95افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ چار ہزار 16نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مثبت کیسز کی مجموعی شرح 6.4 فیصد رہی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے میں 62 ہزار496 ٹیسٹ کیے گئے۔پاکستان میں کورونا سے ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 25 ہزار 415 جبکہ کیسز کی مجموعی تعداد 11 لاکھ 44 ہزار 427 ہوگئی۔

    این سی او سی کے مطابق پنجاب میں تین لاکھ 86 ہزار 578، سندھ میں چار لاکھ 27 ہزار 37، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 59 ہزار 483، بلوچستان میں 32 ہزار 14، گلگت بلتستان میں نو ہزار 795، اسلام آباد میں 97 ہزار 956 جبکہ آزاد کشمیر میں 31 ہزار 478 کیسز رپورٹ ہوئے۔

  • تمباکو نوشی جان لیوا .تحریر :ام سلمیٰ

    تمباکو نوشی جان لیوا .تحریر :ام سلمیٰ

    جی کئی بار ہم ایسا سنتے ہیں کے تمباکو نوشی جان لیوا ہے تو پھر لوگ اب بھی ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
    تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں . پھر بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اگر یہ بہت برا ہے تو اچھے خاصے سمجھدار لوگ ایسا کیوں کر رہے ہوتے ہیں؟ اداکار ہوں یہ سماجی لوگ فلموں میں کام کرنے والے یہ میگزینوں میں آپ ہر جگہ کچھ انتہائی خوبصورت اور باصلاحیت لوگوں کو سگریٹ نوشی کرتے دیکھتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے ، "وہ بہت اچھے لگ رہے ہیں! یہ میرے لیے کیسے برا ہو سکتا ہے؟ ” یا "اگر میں تمباکو نوشی کرو تو شاید میں ایسا ہی لگوں ٹھیک ہے لیکن شاید ہمیں انہیں دیکھنے میں اچھا لگتا ہے لیکن انسان کے اندرونی جسم کی کہانی بالکل مختلف کہانی ہے۔

    تمباکو کے استعمال سے ہر سال 54 لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں – ہر چھ سیکنڈ میں اوسطا ایک شخص – اور دنیا بھر میں 10 میں سے ایک بالغ کی موت ہوتی ہے۔
    تمباکو تمام صارفین میں سے نصف کو ہلاک کرتا ہے۔
    دنیا میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد اس وقت تقریباََ ایک ارب سے زیادہ ہے۔
    نیکوٹین انتہائی نشہ آور ہے۔ نیکوٹین کا نشہ آور اثر تمباکو کے بڑے پیمانے پر استعمال کی بنیادی وجہ ہے۔ بہت سے تمباکو نوشی کرنے والے سگریٹ نوشی کے درد سے بچنے کے لیے سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔ تمباکو نوشی کرنے والے اپنے رویے کو ایڈجسٹ کرتے ہیں مثلاً زیادہ گہرائی سے سانس لیتے ہوئے تاکہ جسم میں نیکوٹین کی ایک خاص سطح کو برقرار رکھا جاسکے۔
    سگریٹ نوشی کرنے والوں میں سے نصف اپنی 18 ویں سالگرہ تک باقاعدہ تمباکو نوشی کر رہے ہوتے ہیں ، اور 90 فیصد نے 21 سال کی عمر سے شروع کر دیتے ہیں.
    ہر روز 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریبا 4 4000 بچے اپنا پہلا سگریٹ پیتے ہیں اور ان میں سے ایک اندازے کے مطابق 1300 باقاعدہ سگریٹ پینے والے بن جائیں گے۔

    نوعمری میں تمباکو کا استعمال دیگر غیر صحت بخش رویوں سے بھی وابستہ ہے ، بشمول لڑائی جھگڑوں میں ملوث ہونا ، ہتھیار اٹھانا ، اور زیادہ خطرہ جنسی رویے میں شامل ہونا۔
    تمبا کو نوشی نہ صرف آپ کے لیے سخت نقصان دہ بلکے آپ کے ساتھ جُڑے لوگو کے لیے اور آپ کے ارد گرد کے افراد کے لیے بھی سخت نقصان دہ ہے۔

    تمباکو نوشی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتی ہے اور فضا میں زہریلی آلودگی پھیلاتی ہے۔ سگریٹ کے جو ٹوٹے بچتے ہیں وہ بھی ماحول کے لیے خطرناک اس کی باقیات میں موجود زہریلے کیمیکل مٹی اور آبی گزرگاہوں میں گھس جاتے ہیں ، جس سے بالترتیب مٹی اور پانی کی آلودگی ہوتی ہے۔

    جانور اور پودے جو سگریٹ کی باقیات سے رابطے میں آتے ہیں یا زہریلے مادوں کو جذب کرتے ہیں وہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔

    اس طرح یہ نہ صرف سگریٹ کا دھواں بھی ماحول کے کے نقصان ده ہے جو لوگوں اور ماحول پر کئی طرح کے اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ سگریٹ کی بنائی کے عمل کے دوران جاری سگریٹ ٹوٹے باقیات اور دیگر فضلہ بھی ماحول کے کے سخت نقصان دہ ہے.

    تمباکو کی صنعت اس سیارے کو نقصان پہنچا رہی ہے جس پر ہم رہتے ہیں ، ماحولیاتی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں ، پانی ، زمین اور ہوا کو آلودہ کرتے ہیں.اور زمین کو دھکیل رھے ہیں ایک عالمی تباہی کی طرف.

    جو لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جب انکو بتایا جاتا ہے کے ان کے لیے تمباکو نوشی ان کے نقصان دہ ہے وہ یہ سب جانتے ہوئے بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہں ہوتے.
    زیادہ تر تمباکو نوشی کرنے والے دفاعی موقف اختیار کرتے ہیں . یقینی طور پر وہ جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی غیر صحت مند ہے لیکن اور وہ اپنے علاوہ کسی اور کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں؟ یقینی طور پر ، سگریٹ کے بارے میں کچھ بھی غیر قانونی نہیں ہے ، ٹھیک ہے؟ وہ بندوقیں نہیں ہیں لیکن ہر سال اس سے مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے

    تمباکو نوشی سے پرہیز کریں اپنے کے اپنے ساتھ جُڑے لوگوں کے لیے اور بہترین ماحول کے لیے۔
    Twitter Handle
    @aworrior888

  • تمباکو نوشی اور اس کے اثرات، تحریر: فروا منیر

    تمباکو کی وبا دنیا کے سب سے بڑے صحت عامہ کے خطرات میں سے ایک ہے ، جس سے دنیا بھر میں سالانہ آٹھ ملین سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔  ان میں سے ستر لاکھ سے زائد اموات براہ راست تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں جبکہ تقریبا 1.2 ملین غیر سگریٹ نوشی کرنے والوں کی سگریٹ کے دھویں کی وجہ سے ۔

    تمباکو کی تمام اقسام نقصان دہ ہیں۔  سگریٹ نوشی دنیا بھر میں تمباکو کے استعمال کی سب سے عام شکل ہے۔  تمباکو کی دیگر مصنوعات میں واٹر پائپ تمباکو ، مختلف تمباکو نوشی کی مصنوعات ، سگار ، سگریلو ، رول آپ کی اپنی تمباکو ، پائپ تمباکو ، بڈیاں اور کریٹیکس شامل ہیں۔

    سگریٹ تمباکو کے استعمال کی طرح واٹرپائپ تمباکو کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔  تاہم ، واٹرپائپ تمباکو کے استعمال کے صحت کے خطرات کو اکثر صارفین کم سمجھتے ہیں۔
    تمباکو کا استعمال انتہائی لت اور صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔  تمباکو میں بہت سے کینسر پیدا کرنے والے زہریلے مادے ہوتے ہیں اور اس کے استعمال سے سر ، گردن ، گلے ، غذائی نالی اور زبانی گہا کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے (بشمول منہ ، زبان ، ہونٹ اور مسوڑوں کا کینسر) نیز دانتوں کی مختلف بیماریاں۔

    دنیا بھر میں 1.3 بلین تمباکو استعمال کرنے والوں میں سے 80 فیصد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں ، جہاں تمباکو سے متعلقہ بیماری اور موت کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔  تمباکو کا استعمال گھریلو اخراجات کو بنیادی ضروریات جیسے کھانے اور پناہ گاہ سے تمباکو کی طرف موڑ کر غربت میں مدد کرتا ہے۔

    تمباکو کے استعمال کے معاشی اخراجات کافی ہیں اور ان میں تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے صحت کی دیکھ بھال کے اہم اخراجات کے ساتھ ساتھ گمشدہ انسانی سرمایہ بھی شامل ہے جو تمباکو سے منسوب بیماری اور اموات کا نتیجہ ہے۔

    کچھ ممالک میں غریب گھرانوں کے بچوں کو تمباکو کی کاشت میں لگایا جاتا ہے تاکہ خاندان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔  تمباکو بڑھانے والے کسان صحت کے کئی خطرات سے بھی دوچار ہیں ، جن میں "سبز تمباکو کی بیماری” بھی شامل ہے۔

    تمباکو مصنوعات میں  ٹیکس میں اضافہ اتنا زیادہ ہونا چاہیے کہ قیمتوں کو آمدنی میں اضافے سے اوپر لے جائے۔  تمباکو کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافے سے تمباکو کے استعمال میں کم آمدنی والے ممالک میں تقریبا 4 4 فیصد اور کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں تقریبا 5 5 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔

    اس کے باوجود ، تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانا ایک ایسا اقدام ہے جو تمباکو کنٹرول کے دستیاب اقدامات کے سیٹ کے درمیان کم از کم لاگو ہوتا ہے۔

    مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت کم لوگ تمباکو کے استعمال کے مخصوص صحت کے خطرات کو سمجھتے ہیں۔ تاہم ، جب تمباکو نوشی کرنے والے تمباکو کے خطرات سے آگاہ ہوجاتے ہیں تو ، زیادہ تر لوگ چھوڑنا چاہتے ہیں۔

    اگر آپ سگریٹ کی ڈبیا کر غور سے دیکھیں تو اس پر بھی درج ہے کہ خبر دار تمباکو نوشی کینسر کا باعث بنتی ہے۔سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کواس بات کو سمجھنا چاہیے۔

    بے شک سگریٹ ایک بری وبا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ سگریٹ نوشی کے خلاف مہم چلائی جائے اور لوگوں میں شعور پیدا کیا جائے ان کو تمباکو سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔

  • کراچی: کیمیکل فیکٹری میں آگ 14 مزدورجانبحق؟ وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کر لی

    کراچی: کیمیکل فیکٹری میں آگ 14 مزدورجانبحق؟ وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کر لی

    کراچی: کیمیکل فیکٹری میں آگ کیسے لگی ،اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورنگی کی کیمیکل فیکٹری میں آگ لگنے کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

    اس حوالے سے خبروں میں بتایا جارہا ہے کہ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی اور لیبر ڈپارٹمنٹ سے فیکٹری آتشزدگی واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ حکام سے پوچھا ہے کہ کہا ہے کہ بتایا جائے واقعہ کیسے پیش آیا؟ فیکٹری میں احتیاط اور سیفٹی کے کیا انتظامات تھے؟ مراد علی شاہ نے حکام سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اتنا زیادہ جانی نقصان کیسے ہو گیا؟

    وزیراعلیٰ نے فیکٹری سانحے کے لواحقین کی بھرپور مدد کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کا مکمل علاج کیا جائے اور علاج و معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

    یاد رہے کہ آج کورنگی کے علاقے مہران ٹاؤن میں واقع کیمیکل فیکٹری میں صبح 10 بجے کے قریب آگ لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے پوری فیکٹری میں پھیل گئی۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں جس کے باعث آگ پھیل گئی۔

    فائر بریگیڈ کا عملہ فیکٹری میں لگی آگ بجھانے کے لیے موجود ہے اور آگ بجھانے کی کوشش کے دوران فائر فائٹرز بھی زخمی ہوئے جبکہ فیکٹری کی دیواریں توڑنے کے لیے ہیوی مشینری کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

    فائر بریگیڈ حکام کا بتانا ہے کہ فیکٹری میں مختلف اشیاء کے بنانے میں استعمال ہونے والا کیمیکل موجود تھا، آگ کیمیکل کے ڈرم میں لگی اور پوری فیکٹری میں پھیل گئی۔

    کراچی میں ایک کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی سے 14 مزدور جاں بحق جبکہ فائرفائٹرسمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں‌،اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ کیمیکل 14 مزدور وں کی لاشیں نکال لی گئیں ،آگ سے متاثر ہ علاقے کوکارڈن آف کر لیا گیا

    دوسری طرف ترجمان رینجرز کی طرف سے یہ اچھی خبر سنائی گئی ہے کہ کرچی میں کیمیکل فیکٹری میں لگی آگ پرقابو پالیاگیا اب اس آگ ک بعد کولنگ کا عمل جاری ہے اوربہت جلد حالات پرقابو پالیا جائے گا

  • پاکستان کی وضاحتیں،دلیلیں اورکارکردگی کام نہ آئی:’ریڈ لسٹ’سے نام نہ نکل سکا

    پاکستان کی وضاحتیں،دلیلیں اورکارکردگی کام نہ آئی:’ریڈ لسٹ’سے نام نہ نکل سکا

    لندن: پاکستان کی وضاحتیں،دلیلیں اورکارکردگی کام نہ آئی:’ریڈ لسٹ’سے نام نہ نکل سکا ،اطلاعات کےمطابق پاکستانی ہائی کمیشن اور پاکستانی نژاد اراکین پارلیمان کی کئی ہفتوں کی لابنگ کے باوجود برطانوی حکومت کے سفری جائزے میں پاکستان کے لیے کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ ریڈ لسٹ میں برقرار ہے۔

    ایک لاکھ سے زائد افراد کی آن لائن پٹیشن ،برطانوی ممبرپارلیمنٹ اورپاکستان کی کوششوں کے باوجود برطانیہ باز نہ اور ایک نئی کہانی سنا دی ہے ،پاکستان سے آنے والے مسافروں کے لیے دھچکا ثابت ہوگا جنہیں برطانیہ آنے پر ہوٹل میں 10 روز لازمی قرنطینہ کرنا ہوگا جس کی لاگت 2 ہزار 250 پاؤنڈز ہے۔

     

     

     

    دوسری طرف پاکستان کے حوالے سے برطانوی حکومت کے فیصلے پرپاکستان سے محبت کرنے والوں‌کو بہت مایوسی ہوئی ہے ، یہی وجہ ہے کہ مانچسٹر گورٹن شیڈو کے لیبر رکن پارلیمنٹ اور ہاؤس آف کامنز کے ڈپٹی لیڈر افضل خان نے ایک ٹوئٹ میں ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کو ریڈ لسٹ میں برقرار رکھنے کے حکومتی فیصلے سے سخت مایوسی ہوئی’۔

     

     

     

    مانچسٹر گورٹن شیڈو کے لیبر رکن پارلیمنٹ اور ہاؤس آف کامنز کے ڈپٹی لیڈر افضل خان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسے میں کہ جب افغانستان میں بحران جاری ہے، پاکستان اہم انسانی امداد پہنچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، اس فیصلے سے کئی لوگ پریشان ہوں گے اور انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

    ٹوئٹ میں مانچسٹر گورٹن شیڈو کے لیبر رکن پارلیمنٹ اور ہاؤس آف کامنز کے ڈپٹی لیڈر افضل خان نے پارلیمانی سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے ٹرانسپورٹ، رکن پارلیمان رابرٹ کورٹس کی جانب سے انہیں بھیجا گیا خط بھی شیئر کیا جنہوں نے گزشتہ سفری جائزے کے دوران پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے کے حکومتی فیصلے کے بارے میں مانچسٹر گورٹن شیڈو کے لیبر رکن پارلیمنٹ اور ہاؤس آف کامنز کے ڈپٹی لیڈر افضل خان کو جوابی خط لکھا تھا۔

    دوسری طرف رابرٹ کورٹس نے کہا کہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان کے ریڈ لسٹ میں رہنے کے فیصلے کا لوگوں پر کیا اثر پڑے گا تاہم یہ درست ہے کہ حکومت، برطانیہ میں درآمد ہونے والے کووڈ 19 کے نئے سلسلے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ برطانیہ میں ویکسین پروگرام کے لیے انتہائی اہم وقت میں کووڈ 19 کی نئی اقسام سے بچنے کے لیے کیا گیا۔

    خط میں برطانوی رکن پارلیمان نے مزید کہا کہ تشویشناک اقسام وسیع پیمانے پر نگرانی کے طریقہ کار مثلاً جینومک نگرانی کے ذریعے شناخت کی جاتی ہیں، لیکن پاکستان میں اس کی صلاحیت اور گنجائش محدود ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانوی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایک بڑی تعداد میں مسافر پاکستان سے ہر ہفتے برطانیہ آتے ہیں جس میں کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کی شرح خاصی بلند ہے جبکہ ان میں تشویشناک اقسام سے متاثرہ افراد بھی شامل ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے ریڈ لسٹ سے اخراج کے لیے وزرا کو مطمئن ہونا پڑے گا کہ برطانیہ میں وائرس کی آنے والی تشویشناک اقسام کا خطرہ کم ہوگیا ہے۔

     

     

    دوسری جانب ایک ٹوئٹ میں پاکستانی ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں برقرار رکھنے کے فیصلےسے مایوسی ہوئی، جس کا مطلب ہزاروں پاکستانیوں اور برطانوی شہریوں کے لیے مسلسل مشکلات ہیں۔

     

    یاد رہے کہ اس مہینے کے ابتدا میں ہی شیریں مزاری نے ڈاکٹرفیصل سلطان کی طرف سے برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید کو لکھے گئے ایک خط میں برطانیہ کے فیصلے میں تضادات کو اجاگر کیا اور ایک نیا نقطہ نظر تجویز کیاتھا

     

     

     

  • بلاول بھٹو کا کابل ائیرپورٹ دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار افسوس

    بلاول بھٹو کا کابل ائیرپورٹ دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار افسوس

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کابل میں قیام امن کی افسوس ناک صورت حال پر اظہار تشویش.

    بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کابل ائیرپورٹ پر دھماکوں میں غیرملکیوں سمیت درجنوں افغان شہریوں کو زندگی سے محروم کرنا انسانیت پر حملہ ہے،

    کابل میں خواتین اور بچوں کو بھی دھماکوں میں نشانہ بناکر دہشت گردوں نے ہر حد پار کردی،

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کابل ائیرپورٹ دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار افسوس

    غیرمستحکم افغانستان کسی کے مفاد میں نہیں، اقوامِ عالم کو پرامن حل ہر صورت میں ممکن بنانا ہوگا،

    افغانستان میں دہشت گردوں کے نئے ابھرتے ہوئے گروہ مستقبل میں دنیا میں قیام امن کو سبوتاژ کرسکتے ہیں.

  • افغانستان سے ہزاروں افراد کراچی پہنچیں گے

    افغانستان سے ہزاروں افراد کراچی پہنچیں گے

    آئندہ 3 سے 4 روز میں افغانستان سے ہزاروں افغان اور غیر ملکی باشندے، صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی آئیں گے اور کچھ روز قیام کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق کمشنر کراچی آفس نے ڈی جی رینجرز، آئی جی پولیس اور سیکریٹری ہیلتھ ڈپارٹمنٹ سمیت متعلقہ اداروں کو اہم مراسلہ روانہ کردیا۔

    مراسلے میں کہا گیا کہ کور ہیڈ کوارٹر 5 میں افغانستان سے کراچی آنے والے افغان باشندوں اور غیر ملکیوں کے حوالے سے اجلاس ہوا، اجلاس کی صدارت چیف آف اسٹاف نے کی ہے۔

    مراسلے کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ آئندہ 3 سے 4 روز میں افغانستان سے 2 ہزار کے قریب افغان باشندے اور غیر ملکی کراچی آئیں گے اور کچھ روز قیام کریں گے۔

    اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر ملیر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے احاطے میں ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کریں، ڈپٹی کمشنر ملیر پی ڈی ایم اے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے ٹرانزٹ کے طور پر افغانستان سے کراچی آنے والوں کی سیکیورٹی، بورڈنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات کے لیے انتظامات کریں۔

    مراسلے میں ہدایت کی گئی کہ ایئرپورٹ اور رامادہ ہوٹل سمیت ایئرپورٹ کے قریب ان کی رہائش کے لیے نشاندہی کی گئی ہے، محکمہ صحت موبائل یونٹس، ایمبولینس اور میڈیکل عملے کو نشاندہی کیے گئے مقامات پر ڈپٹی کمشنر ملیر کے ساتھ مل کر تعینات کریں۔

    اجلاس میں کہا گیا کہ کے الیکٹرک رہائش کے لیے نشاندہی کیے گئے مقامات پر بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائے، جو مسافر نشاندہی کیے گئے ہوٹلز میں قیام کریں گے وہ اپنا خرچہ خود اٹھائیں گے۔

  • کورنگی میں نوجوان لڑکے نے پھندا لگا کر مبینہ طور پر خودکشی کر لی

    کورنگی میں نوجوان لڑکے نے پھندا لگا کر مبینہ طور پر خودکشی کر لی

    کورنگی میں نوجوان لڑکے نے پھندا لگاکر مبینہ طور پر خودکشی کرلی ،تفصیلات کے مطابق کورنگی کے علاقے کورنگی ضیاء کالونی گلی نمبر چھ میں قائم گھر کے اندر پھندا لگی نوجوان لڑکے کی لاش ملی اس اطلاع پرپولیس موقع پر پہنچ گئی ، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے لئے لاش جناح اسپتال پہنچائی جہاں ایس ایچ او اعظم گوپانگ نے بتایا کہ متوفی کے اہلخانہ کا ابتدائی بیان ہے کہ انکے بچے نے گھریلوں پریشانیوں سے تنگ آکر خودکشی کی ہے تاہم اہلخانہ نے قانونی کارروائی سے انکارکردیا اور لاش لیکر چلے گئے ، پولیس واقعے کی مزید جانچ کررہی ہے .