Baaghi TV

Author: +9251

  • پی آئی اے کےچیف ایگزیکٹوارشد ملک سےمبشرلقمان کےسخت سوالات:جوابات بھی کمال کے

    پی آئی اے کےچیف ایگزیکٹوارشد ملک سےمبشرلقمان کےسخت سوالات:جوابات بھی کمال کے

    لاہور: پی آئی اے کےچیف ایگزیکٹوارشد ملک سے مبشرلقمان کے سخت سوالات:جوابات بھی ایسے کہ سن کردلوں کوتسلی ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق سینیئرصحافی مبشرلقمان نے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹوارشد ملک سے پی آئی اے کے عروج وزوال سے متعلق اہم سوالات کئے جن کے جوابات بھی تسلی بخش تھے

    اس سے قبل کہ دونوں اہم شخصیت کے برمیان ہونے والی گفتگو کو پیش کیا جائے پہلے پی آئی اے کی حالت ذار کا تھوڑا سا خاکہ سمانے انا چاہیے

    سنیئرصحافی نے ارشد ملک کو مخاطت ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اپنے پائلٹس ، مینجمنٹ ، کیبن کریو اور ٹیکنیکل سٹاف کی وجہ سے خراب انتظامی صورتحال کی وجہ سے سخت جانچ پڑتال میں ہے۔ پاکستان کے قومی پرچم بردار جہاز نے اب 10 بڑے حادثات دیکھے ہیں ، اسی طرح مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=f7wbCAHPluU&t=1s

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ اقربا پروری ، بدعنوانی اور بدانتظامی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ جانبداری اور اقربا پروری نے ایئر لائن کی کارکردگی کو تباہ کر دیا ہے جس سے لاکھوں مسافروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

    سینیئرصحافی مبشر لقمان نے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل (ریٹائرڈ) ارشد ملک کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو اپنے آفیشل یوٹیوب چینل پر کیا جہاں دونوں نے پاکستان کے ایوی ایشن سیکٹر کے مستقبل اور متعلقہ حکام کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

    انٹرویو کا آغاز پی آئی اے کی جانب سے پھنسے ہوئے پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کو واپس لانے کی کوششوں سے ہوا ، جن میں غیر ملکی سفارتی مشنوں کا عملہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جیسی بڑی بین الاقوامی تنظیموں کے لوگ بھی شامل تھے جو طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان سے واپس آئے۔ اس کے نتیجے میں ، آئی ایم ایف نے خصوصی ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) مختص کے حصے کے طور پر پاکستان کو 2.75 بلین ڈالر کا غیر مشروط قرض دیا ، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 27.4 بلین ڈالر تک پہنچ گئے۔

     

     

    https://www.youtube.com/watch?v=f7wbCAHPluU&t=1s

    22 مئی 2020 کو کراچی میں اس کا ایک طیارہ گھروں کے نیچے گرنے کے بعد 98 افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان کا قومی پرچم بردار جہاز اس سال سخت جانچ پڑتال میں آیا۔ پی آئی اے کی جانب سے طیارہ حادثے کے بعد حفاظتی اقدامات کے بارے میں پوچھے جانے پر ایئر مارشل ارشد ملک نے کہا کہ پی کے 8303 طیارہ حادثہ پی آئی اے انتظامیہ کے لیے انتہائی فیصلہ کن لمحہ تھا اور اس کے بعد انہوں نے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اڑتے رنگوں کے ساتھ محفوظ طریقے سے باہر آئیں۔

    پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو ارشد ملک نے کہا کہ ان تمام مسائل کے پیچھے بڑا مسئلہ پی آئی اے میں سیفٹی مینجمنٹ سسٹم (ایس ایم ایس) کی کمی تھا۔ میرے اور میری ٹیم کے لیے پہلا اور سب سے اہم کام عالمی معیار کے سیفٹی مینجمنٹ سسٹم کو انسٹال کرنا تھا جو کثیر القومی کمپنیوں اور دکانداروں کے ذریعے حاصل کرنا بہت آسان تھا ، تاہم ، یہ بہت مہنگا تھا اور اسے ہمارے نظام کے مطابق ڈھالنا بہت مشکل تھا۔ جس کے نتیجے میں ، پی آئی اے مینجمنٹ نے سافٹ ویئر ماہرین ، ٹیکنیشنز ، پائلٹس ، انجینئرز اور سپلائی چین مینجمنٹ آفیسرز کی مدد سے ایک سیفٹی مینجمنٹ سسٹم ڈیزائن کیا اور اسے ہمارے سسٹمز کے مطابق ڈھال لیا جو سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کو پیش کیا گیا۔ ایک جائزہ ، ”

    سی ای او پی آئی اے نے مزید کہا کہ آئی اے ٹی اے آپریشنل سیفٹی آڈٹ (آئی او ایس اے) ، جب پی آئی اے کے ڈیزائن کردہ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم کا آڈٹ کرنے کی بات آئی تو اسے دنیا کا سب سے عملی اور صارف دوست انتظامی نظام قرار دیا گیا۔

     

     

    https://www.youtube.com/watch?v=f7wbCAHPluU&t=1s

    پی آئی اے پی کے 8303 طیارہ حادثے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مبشر لوک مین نے انکشاف کیا کہ حادثے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ایئر ٹریفک کنٹرولر (اے ٹی سی) موجود نہیں تھا ، تاہم دوسرا کنٹرولر نااہل تھا کیونکہ اس نے پائلٹ کو بائیں مڑنے کی ہدایت کی۔ 0180 اسے فیصل بیس پر اتارنے کے بجائے جہاں انجن گر گئے جس کے نتیجے میں ہوائی جہاز حادثے کا شکار ہوا۔

    مزید یہ کہ مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ دو مزید تجارتی ہوائی جہاز اسی رن وے پر اس دن تمام ملبے کے ساتھ اترے جہاں PK-8303 نے پیٹ سے لینڈنگ کی۔ مبشر لقمان نے زخمی مسافروں اور مدینہ کالونی ، کراچی کے رہائشیوں کو انخلاء اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکامی پر سی اے اے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

    سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کو مخاطب کرتے ہوئے مبشر لقمان نے کہا کہ "آپ کے حفاظتی معیارات سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر آپ کا ریگولیٹر مجرم ہونے کی حد تک نااہل ہے۔”
    مبشر لقمان کے دیئے گئے تجزیے کو سراہتے ہوئے ارشد ملک نے کہا کہ تجزیہ "بالکل درست” اور "ناقابل اعتراض” ہے کیونکہ "آپ ایک صحافی ہیں لیکن آپ خود ایک ہوا باز ہیں لہذا آپ کی آنکھوں سے کچھ بھی نہیں چھپایا جا سکتا”۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=f7wbCAHPluU&t=1s

    انٹرویو میں آگے بڑھتے ہوئے ، مبشر لقمان نے پارلیمنٹ میں وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کی تقریر پر ایک سوال اٹھایا جہاں انہوں نے کہا کہ ‘مشکوک’ اسناد کے لیے زیر تفتیش 262 پائلٹس کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ لوک مین نے ملک سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ "آپ نے ان پائلٹوں کے امیج کو بہتر بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا جن کے بارے میں آپ جانتے تھے کہ وہ اہل ہیں اور وہ اڑ سکتے ہیں۔”

    مبشر لقمان سے اتفاق کرتے ہوئے ملک نے کہا کہ غلام سرور خان کی جانب سے 262 پائلٹ کو "مشکوک” لائسنس رکھنے کا بیان دینا غلط تھا اور "بطور پاکستانی یہ پریشان کن تھا اور میں نے اس بیان کو چیلنج کیا اور پھر یہ دستاویزی ہے۔”

    ارشد ملک کے مطابق پی آئی اے واحد ادارہ تھا جس نے انکوائری کمیشن کے خلاف سوال اٹھایا اور کہا کہ جو عمل ہو رہا ہے وہ ہمیں گمراہ کرے گا۔ ملک نے کہا کہ میں نے اپنے پائلٹوں کی زیادہ سے زیادہ حمایت کی کیونکہ میں جانتا تھا کہ 262 پائلٹوں کی یہ تعداد غلط ہے جو بعد میں سچ ثابت ہوئی۔

    ہوا بازی کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا سارا کام ذاتی گروہ یا تنظیمی عزائم کو پورا کرنے کے لیے ایئر لائن کے استعمال میں زیادہ دلچسپی رکھنے والے گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ ملک پر فوج کا بالادستی کا کنٹرول پی آئی اے اور سی اے اے میں ظاہر ہوتا ہے جو پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے سابق عہدیداروں کا غلبہ ہے ، ہوا بازی کے شعبے کو فوجی جوانوں کے ریٹائرمنٹ ہوم کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔

    ائیر مارشل ارشد ملک نے پی آئی اے اور سی اے اے میں ائیر فورس کے پائلٹوں کو شامل کرنے کے حوالے سے مبشر لقمان کے دعووں کی مکمل تردید کی۔ پی آئی اے کے سی ای او نے کہا کہ یہ بالکل غلط ہے کہ میں ایئر فورس کے پائلٹس کو ایئر لائن میں شامل کرنا چاہتا تھا۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=f7wbCAHPluU&t=1s

    انٹرویو کے دوران مبشر لقمان نے سول ایوی ایشن اتھارٹی ٹیسٹ کے حوالے سے ایک اور سوال اٹھایا جو 25 ہزار سوالات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان 25000 سوالات میں سے بیشتر سوالات اور ان کے جوابات غلط ہیں۔ ارشد ملک نے اس حقیقت پر بھی اتفاق کیا کہ سی اے اے کا سوالیہ بینک غلط ہے ، اور کہا کہ "اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔”

    دسمبر 1982 میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے قیام کے بعد سے آج تک صرف ایک شخص نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں ، باقی تمام افراد کو پاک فضائیہ (پی اے ایف) سے تعینات کیا گیا ہے۔ اسی طرح پی آئی اے مینجمنٹ میں 12 میں سے 8 ڈائریکٹرز سابق فوجی ہیں۔

    ارشد ملک نے کہا کہ ایوی ایشن ریگولیٹری باڈی کے اندر نظام اور تنظیمی ڈھانچہ پاک فضائیہ کے چینلز نے تشکیل دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہوا بازی اور فضائیہ کے درمیان گہرا تعلق ہے۔مبشر لقمان نے پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے میں ہونے والی بدعنوانی کے حوالے سے ایک اور اہم سوال اٹھایا جس میں سابق فضائیہ کے پائلٹ کیپٹن عارف مجید کی نااہلی اور دو پائلٹ بہنوں ارم مسعود اور مریم مسعود کی تقرری کا ذکر کیا گیا۔

    ارشد ملک نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دور میں ایسی تقرریوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں ، تاہم وہ ماضی میں ایسی تقرریوں کے حوالے سے سوالات کے جواب نہیں دے سکتے۔

    ایک اور سوال میں مبشر لقمان نے ارشد ملک سے پوچھا کہ اگر پی آئی اے آپریشنل منافع کما رہی ہے تو پھر قومی ایئرلائن اپنے کیبن کریو کو پچھلے 18 ماہ سے الاؤنس کیوں نہیں دے رہی یا پائلٹوں کو 30 فیصد تنخواہوں میں کٹوتی کا سامنا کیوں ہے؟

    ارشد ملک نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے واحد ایئر لائن ہے جس نے کسی ملازم کو نہیں نکالا تاہم ایئرلائن نے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم (VSS) کی پیشکش کی۔

     

     

    https://www.youtube.com/watch?v=f7wbCAHPluU&t=1s

    یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) کے حوالے سے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشد ملک نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز بشمول PIA ، CAA ، وزارت ایوی ایشن اور حکومت پاکستان کو ایک پیج پر آنے کی ضرورت ہے اور اسے بطور منصوبہ اور قومی خواہش ہے کہ ہم آئی سی اے او سے رجوع کریں اور انہیں جلد از جلد واپس آنے پر مجبور کریں ورنہ پاکستان کے ایوی ایشن سیکٹر کا مستقبل تاریک ہے۔

    مبشر لقمان نے سول ایوی ایشن اتھارٹی پر طنز کرتے ہوئے ریگولیٹری باڈی کی نااہلی کے حوالے سے ایک اور سوال اٹھایا کہ لاہور ائیرپورٹ پر رن ​​وے 36R بہت عرصے سے زیر تعمیر ہے جس کی وجہ سے آپ پورے بوجھ کے ساتھ ہوائی جہاز نہیں اتار سکتے۔ کینیڈا پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے مبشر لقمان کی طرف سے اٹھائے گئے نقطے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہوا بازی کو قومی صنعت قرار دیا جانا چاہیے۔

     

     

    https://www.youtube.com/watch?v=f7wbCAHPluU&t=1s

    پی آئی اے ، سی اے اے اور دیگر ریگولیٹری ایجنسیوں کے اندر شفافیت اور نظم و ضبط کا نفاذ ضروری ہے۔ حکومت پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے اور بھرتی کرنے والے ادارے کے موجودہ تنظیمی سیٹ اپ پر نظرثانی کرے۔

    پاکستان گھریلو اور بین الاقوامی سطح پر بھاری قیمت ادا کر رہا ہے کیونکہ سی اے اے میں معاملات کی ذمہ داری نبھانے والوں کی نا اہلی کی وجہ سے ان مشکوک تقرریوں کی وجہ سے اور اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے ایوی ایشن سیکٹر کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں۔

  • دنیابھارت کامحاسبہ کرے:مساجد کی بیحرمتی ناقابل برداشت:تاریخی مسجد کی شہادت پرپاکستان کاشدید ردعمل

    دنیابھارت کامحاسبہ کرے:مساجد کی بیحرمتی ناقابل برداشت:تاریخی مسجد کی شہادت پرپاکستان کاشدید ردعمل

    اسلام آباد: دنیا بھارت کا محاسبہ کرے:مساجد کی بیحرمتی ناقابل برداشت:بھارت میں تاریخی مسجد کی شہادت پر پاکستان کا شدید ردعمل ،.اطلاعات کے مطابق پاکستان نے ہریانہ میں تاریخی مسجد کی شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کو کٹہرے میں لایاجائے۔

    تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ ہریانہ میں بی جے پی حکومت کے دور حکومت میں ایک اور تاریخی مسجدکی شہادت کی مذمت کرتےہیں بی جے پی،آرایس ایس حکومت قابل مذمت اقدامات میں ملوث ہے، بھارتی حکام عدلیہ کی ملی بھگت سےقابل مذمت اقدامات کررہے ہیں،ہندتواکےزیراثر بھارتی حکومت مسلسل مسلمانوں کونشانہ بنارہی ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں اور ان کےمذہبی مقامات کو نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں نام نہاد اور سب سے بڑی جمہوریت کے ماتھےپر نہ مٹنےوالا داغ لگ چکا ہے،مسلمانوں،عبادتگاہوں،ثقافتی یادگاروں کوکشمیرمیں بھی نشانہ بنایاجارہاہے۔

     

     

    دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نےنومبردو ہزار انیس میں متنازع فیصلہ دیا، انتہاپسندوں کوتاریخی بابری مسجد کی جگہ مندر بنانےکی اجازت دی گئی، انتہاپسندجنونیوں نےانیس سو بانوے میں تاریخی بابری مسجدکوشہیدکیاتھا، سرعام مسجدشہیدکرنیوالےمجرموں کوعدلیہ کی ملی بھگت سےبری کیاگیا۔

    ترجمان دفترخارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلمانوں کوعبادتگاہوں میں شہیدکرنےکےواقعات بھی ہوچکے،دو ہزار دو میں گجرات، فروری دو ہزار بیس میں دہلی میں مسلمانوں کاقتل عام ہوا، ان جرائم کاارتکاب کرنیوالوں کیخلاف کوئی عدالتی کارروائی نہیں کی گئی۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری،اقوام متحدہ،اوآئی سی،انسانی حقوق کی تنظیموں سےمطالبہ کرتا ہے کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پربھارت کوکٹہرےمیں لایاجائے، بھارت تمام اقلیتوں بشمول مسلمانوں کی حفاظت جویقینی بنائے، بھارت ان کےمذہبی وثقافتی مقامات کاتحفظ بھی یقینی بنائے۔

  • قائمہ کمیٹی برائے فنی تعلیم نے تاریخی فیصلے کرکےاچھے مستقبل کی بنیاد رکھ دی

    قائمہ کمیٹی برائے فنی تعلیم نے تاریخی فیصلے کرکےاچھے مستقبل کی بنیاد رکھ دی

    اسلام آباد(محمداویس ) قائمہ کمیٹی برائے فنی تعلیم نے تاریخی فیصلے کرکےاچھے مستقبل کی بنیاد رکھ دی ،اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنی تعلیم نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن بل ،اقلیتوں کواعلی تعلیم تک رسائی کابل ،ڈیسلیکسیا سپیشل اقدامات بل کو پاس کرلیا،ایچ ای سی نے اقلیتوں کے اعلی تعلیم اداروں میں 5فیصد کوٹہ دینے کی مخالفت وزارت کی حمایت کے بعد بل پاس ہوگیا،

    ذرائع کے مطابق سب کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف ہواہے کہ اسلامی یونیورسٹی میں بچے سے زیادتی کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ ،پولیس اور ڈاکٹر نے واقع کوچھپانے اور شواہد کومٹا نے کی کوشش کی، کمیٹی نے سفارش کی کہ ریکٹر اسلامی یونیورسٹی،سیکورٹی انچارچ،پولیس،ڈاکٹرودیگر کے خلاف شوہد مٹانے پر قانونی کاروائی کی جائےاور ریکٹر کوفورا عہدے سے ہٹایاجائےجبکہ متاثرہ بچے کی بحالی کے لیے کونسلنگ کی جائے۔قومی نصاب کونسل کے حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ یکساں قومی نصاب پانچویں جماعت تک بناکر نافذکردیاگیاہے

    اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 6ویں سے 12ویں تک کانصاب دسمبر 2022تک بن جائے گا اور 2023تک ملک بھرمیں 12ویں جماعت تک یکساں قومی نصاب نافذہوجائے گا۔اسلام آباد کے ارکان کمیٹی کافیڈریل ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن کی کارکردگی پر شدید برہمی کااظہار،سرکاری سکولوں میں مقامی بچوں کوداخلے دینے کے بجائے سفارش پر داخلے پرنسپل کررہے ہیں اس کوروکا جائے پرنسپل ایم این ایز کی توہین کرنابندکریں ،کمیٹی نے یونیورسٹیوں کی حالات بہتربنانے کے لیے سب کمیٹی بنادی ۔منگل کوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کااجلاس نجیب الدین اویسی کی سربراہی میں قومی نصاب کونسل اسلام آباد میں ہوا۔

    اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری تعلیم وجہیہ اکرام نمائندے ایچ اسی سی ،قومی نصاب کونسل ودیگر حکام نے شرکت کی ۔کمیٹی میں علی نواز اعوان ،صداقت عباسی ، جویریہ ظفر آہر ، عمر اسلم خان ، محمد فاروق اعظم ملک ، نفیسہ عنایت اللہ خان خٹک ،عندلیب عباس ،غزالہ سیفی ، اسما قدیر ، تاشفین صفدر ، فرخ خان ، مہناز اکبر عزیز ، کرن عمران ڈار ، مسرت آصف خواجہ اور ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو اور جمشید تھامس نے شرکت کی ۔اجلاس شروع ہواتو ارکان کمیٹی نے کہاکہ اسلامی یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی میں ریپ کے کیس سامنے آئے ہیں اس کا کیا بنا، منشیات پر کیا کام ہواہے

    ۔نفیسہ خٹک نے پوچھاکہاکہ جو بل ہمارے پاس ہوگئے ہیں ان کے رولز کب تک بن پائیں گے ۔مہناز عزیز نے کہاکہ جسمانی سزاؤں پر بل کو میں نے روزانہ کی بنیادپر پیچھا کیا اس کے باوجود اتنا وقت لگا بل گم ہوجاتے ہیں رولز کے لیے میں نے ابھی سے کام شروع کردیاہے۔بچوں سے زیاتی کے کیس معمول بن رہے ہیں اس حوالے سے اقدامات کرنے ہوں گے ایک یونیورسٹی کی بات کرتے ہیں تو 6دیگر یونیورسٹی کے لوگ آجاتے ہیں۔عندلیپ عباس نے کہاکہ بہاولپور یونیورسٹی کے مسائل سنگین ہیں مگر ان پر متعلقہ لوگوں کو سب کمیٹی نے بلایا ہے ۔صداقت عباسی نے کہاکہ ہماری سفارت پر عمل نہیں ہوتا ہے کمیٹی کا استحقاق مجروح ہوتا ہے ۔ اسلامی یونیورسٹی کے جس بندے نے زیادتی کے کیس کو سامنے لایااس کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے اس معاملے کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔رکن کمیٹی ڈاکٹر شازیہ نے کہاکہ حامد حبیب کی کمیٹی رولز کے مطابق نہیں ہے قانون کے مطابق بنایا جائے ۔

    چیرمین کمیٹی نے کہاکہ اگلے اجلاس میں شازیہ کو بھی بلائیں۔سب کمیٹی کی رکن عندلیب عباس نے کہاکہ بہاولپور یونیورسٹی پر کمیٹی بنانے پر مجھے دھمکیاں ملی ہیں کہ آپ نے کمیٹی کیوں بنائی ہے اس معاملے کوکیوں اٹھایاہے ۔فاروق اعظم ملک نے کہاکہ بہاولپور یونیورسٹی کے مسائل کو حل کیا جائے ۔ایچ ای سی حکام نے پاکستان گلوبل انسٹی ٹیوٹ بل کمیٹی میں پیش کیاکہ یہ ادارہ بن گیاہے تمام شرائط پوری کرتاہے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے جس پر ارکان نے کہاکہ ہمیں اس یونیورسٹی کے بارے میں تفصیل بریفنگ دی جائے کہ یہ کون لوگ بنارہے ہیں اور کوکون سپانسر کررہاہے اس کے بعد ہی بل پاس کرسکتے ہیں جس پر ایجنڈے کوموخر کردیاگیا۔

    ارکان کمیٹی نے شکایت کی کہ ان کوکمیٹی کے ورکنگ پیپرز لیٹ دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے تیاری نہیں کرسکتے اس کوقوائد کے مطابق وقت پر دیاجائے ۔ پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ نے کہاکہ واٹس ایپ گروپ میں ایجنڈا بھیج دیاگیا تھا۔۔پاکستان انسٹیوٹ آف ایجوکیشن بل پر سیکرٹری وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ دو اداروں کو ملاکر ایک ادارہ بنارہے ہیںجس کے تحت تعلیم کے حوالے سے ملک بھرسے ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا اور ریسرچ اور ٹریننگ ہوگی یہ ایک تھینک ٹینک ہوگا۔جس پر کمیٹی نے بل پاس کردیاگیا۔مہنازعزیز نے ڈیسلیکسیا سپیشل اقدامات بل کمیٹی میں پیش کیاانہوں نے کہاکہ کچھ بچے ایک بیماری کاشکارہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ الفاظ میں تفریق نہیں کرسکتے ان کے لیے الگ لوگ درکارہوتے ہیں کہ ان کوپڑھائیں اس حوالے سے یہ بل لائی ہوں جس پر کمیٹی نے متفقہ طور پر بل کوپاس کرلیا۔

    وجیہہ اکرام نے کہاکہ سابق سینیٹرثمینہ سعید نے بہت کوشش کی مگر یہ بل پاس نہیں ہوا۔ بل کی حمایت کرتے ہیں ایف ڈی ای حکام نے کہاکہ ہمارے پاس کوئی سہولت نہیں ہے ہمیں لوگ بھرتی کرنے ہوں گے موجودہ وسائل کے ساتھ کام نہیں کرسکتے ہیں جس پر وزارت کے حکانے وسائل دینے کی یقین دہانی کرادی اور کمیٹی نے بل پاس کردیا۔جمشید تھامس نے اقلیتوں کواعلی تعلیم تک رسائی کابل پیش کیا جس کے تحت یونیورسٹیوں میں اقلیتوں کے لیے 5 فیصد کوٹہ رکھنے کی سفارش کی گئی تھی جو کی ایچ ای سی نے مخالفت کردی اور کہاکہ تعلیم میں اقلتیوں کاکوٹہ نہیں ہوناچاہیے جو میرٹ پر آئے اور اس کے مسائل ہوں تو سکالر شپ دی جاسکتی ہے وزارت تعلیم نے بل کی حمایت کردی جس پر کمیٹی نے بل کوپاس کرلیا۔

    قومی نصاب کونسل کے حکام نے کمیٹی کویکساں نصاب تعلیم پر بریفنگ دی حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ پاکستان میں تین قسم کے تعلیمی نظام ہیں۔یکساں نصاب تعلیم کا50فیصدنصاب انگلش اور 50فیصداردو اور مادری زبانوں میں ہوگا ۔چاروں صوبوں گلگت بلتستان کشمیر ودیگر سٹاک ہولڈر نے مل کر یہ نصاب بنایا .4سو لوگوں نے مل کریہ کام کیا ۔یہ نصاب ہر سکول کے لیے ہوگا۔اقلیتوں کے لیے الگ نصاب بن رہاہے ۔مدارس میں بھی یہی نصاب پڑھایا جائے گا ۔ 5ویں جماعت تک یکساں نصاب بن گیا ہے اور اس کا اطلاق ہوگیاہے۔ہمیں یکساں معیار کی ضرورت ہے نہ کہ یکساں نظام کی کیوں کہ یکساں معیار سے ہمارے مسائل حل ہوں گے ۔احساس کمتری کی وجہ سے اردو کے نفاذ میں مسائل ہیں ۔ 2کڑور 50لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں ۔2022تک 12ویں جماعت تک یکساں نصاب بنالیں گے جبکہ 2023میں 12ویں جماعت تک یکساں نصاب پورے ملک میں رائج ہوجائے گا۔وفاقی سرکاری سکولوں میں داخلے کے مسائل کے حوالے سے نفیسہ خٹک نے کہاکہ وفاقی سکولوں کو مقامی یونین کونسل کے بچوں کو پہلے داخلہ دیا جائے اس کے بعد دیگر علاقوں کے بچوں کو داخلہ دیا جائے۔

    صداقت عباسی نے کہاکہ اسلام آباد میں بھی بچوں کو سرکاری سکول میں داخلہ نہیں دیا جاتا ہے اسلام آباد کے سکولوں میں پرچی چل رہی ہے غریب بچوں کو داخلہ نہیں دیا جارہا ہے ۔مہناز عزیز نے کہاکہ چھوٹے بچوں کو بھی کہاجاتاہے کہ ٹیسٹ میں فیل ہوگیا ہے ۔ کچھ سکولوں میں بچے نہیں اور کچھ میں داخلہ نہیں ملتاہے۔نفیسہ خٹک نے کہاکہ بارہ کہو میں سرکاری سکولوں میں ایم این اے کی بھی توہین کی جاتی ہے ۔علی اعوان نے کہاکہ بچوں کے داخلے کے لیے لوگ آتے ہیں سکولوں کی جو حالت ہے اس لیے سکول نہیں جاتا کیوں کہ میں گیا تو پھر خبریں ہی چلیں گئیں ۔سکولوں کا انفرسٹکچر ٹھیک کیا جائے والدین کو سکول کے باہر کھڑے کردیتے ہیں اورپرنسل تین تین گھنٹے ملاقات نہیں کرتے ہیں۔آئین کے تحت سکولوں میں کوئی میرٹ نہیں ہے جو بچہ جائے اس کو داخلہ دیا جائے گا۔ ایف ڈی اے حکام نے کہاکہ کچھ سکول خالی ہیں اگر آپ کہاں تو ان میں داخلہ دے دیں گے۔

    اسلامی یونیورسٹی میں طلبہ کے ساتھ ذیاتی کے حوالے سےسب کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی کمیٹی کوحکام نے بتایاکہ ملزمان گرفتار ہیں واقع کے بعد سب نے مل کر اس کو چھپانے کی کوشش کی ۔یونیورسٹی نے بھی اس کو چھپایا ڈاکٹر نے بھی چھپانے کی کوشش کی اور پولیس نے بھی ایف آئی آر درج نہیں کی ۔رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ سیکورٹی کے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، جس بندے نے ویڈیو بنائے اس کو بھی سزا دی جائے، ڈاکٹر کے خلاف بھی کاروائی کی جائے، زیادتی کرنے والے کے خلاف پولیس ایف آئی آر درج کرے گی۔

    علی اعوان نے کہاکہ اسلامی یونیورسٹی میں شواہد کو مٹایا گیا اس پر ایف آئی آر ہونی چاہیے ۔ جب شواہد مٹانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی تو لوگ میں خوف ہوگا ۔اس معاملے میں ریکٹرخود ملوث ہے ۔اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور اس کوعہدے سے ہٹایاجائے ۔ صداقت عباسی نے کہاکہ ریکٹر کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان کو ہٹایاجائے وہ اس میں ملوث تھےاس لیے واقعے کوچھپایا۔مہناز عزیز نے کہاکہ جب تک سزا نہ ہو تو اس وقت تک خوف پیدا نہیں ہوگا پولیس بھی اس کو سنجیدہ نہیں لیتی ہے راولپنڈی میں ایک مفتی نے 16سال کی لڑکی سے ذیاتی کی مگر اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔کمیٹی نے یونیورسٹیوں کے حالات کودیکھتے ہوئے دوبارہ نئی سب کمیٹی بنادی ۔جس کی سربراہی صداقت عباسی کریں گے ۔

  • شاہ سلمان کی جانب سے گلگت بلتستان میں‌ سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد

    شاہ سلمان کی جانب سے گلگت بلتستان میں‌ سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد

    اسلام آباد:شاہ سلمان کی جانب سے گلگت بلتستان میں‌ سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد ،اطلاعات کے مطابق شاہ سلمان كے فلاحی امدادی ادارے كی طرف سے گلگت بلتستان کے سیلاب سےمتاثرہ1000 گھرانوں میں اشیاء خوردونوش كی تقسیم کا عمل مکمل ہوگیا ہے

    شاہ سلمان كے فلاحی امدادی ادارے كی طرف سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 7 ہزار افراد مستفید ہوئے اس فوڈ پیكیج میں تمام ضروری اشیائے خوردونوش شامل تھیں ۔ ایك فوڈ پیك 41 كلوگرام پر مشتمل جس میں 20 كلو فائن آٹا ،5كلو چاول ، 5لیٹر كوكنگ آئل ،5كلو دال چنا، 5كلو چینی اور 1كلو چائے شامل تھیں ۔

    جوكہ NDMA اور حیات فاونڈیشن كے تعاون سے گلگت بلتستان کے ضلع غزر ، دیامر ، استور کے متاثرہ دیہاتوں میں شفاف طریقے سے متاثرین میں تقسیم كی گئیں۔

  • افغانستان کے وزیردفاع کون؟اہم تقرری کا اعلان ہوگیا

    افغانستان کے وزیردفاع کون؟اہم تقرری کا اعلان ہوگیا

    کابل:افغانستان کے وزیردفاع کون؟اہم تقرری کا اعلان ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق گوانتا نامو میں قید کاٹنے والے ملا عبدالقیوم ذاکر افغانستان کے عبوری وزیر دفاع مقرر کردیئے گئے ہیں‌،

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے عبوری وزیر دفاع عبدالقیوم ذاکر گوانتا نامو میں قید رہے ہیں۔ادھر ابھی تک افغان طالبان کی جانب سے فی الحال اس تقرری کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ آج افغان میڈیا نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ طالبان نےگل آغاکو افغانستان کا وزیرخزانہ، صدر ابراہیم کو قائم مقام وزیرداخلہ اورنجیب اللہ کوانٹیلی جنس چیف مقرر کیا ہے۔

    افغان میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے ملاشیریں کوکابل کاگورنر اورحمداللہ نعمانی کو دارالحکومت کا میئرلگایا گیا ہے۔

    افغان میڈیا کا بتانا ہےکہ افغآن طالبان کی جانب سے حاجی محمد ادریس کے نام سے مشہور ملا عبدالقہار کو مرکزی بینک کا قائم مقام سربراہ بنایا گیا ہے جب کہ ہیمت اخوندزادہ قائم مقام وزیر تعلیم مقرر کیے گئے ہیں۔

    افغان میڈیا کے مطابق ملا عبدالقہار نے اپنی تقرری کے بعد افغان سینٹرل بینک کے اسٹاف سے تعارفی میٹنگ کی جس میں انہوں نے عملے کو بتدریج کام پر واپس لوٹنے کی ہدایت کی۔
    ان تمام تقرریوں کی طالبان نے اب تک کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

  • سعودی عرب نے اقامہ رکھنے والے پاکستانیوں کو خوشخبری سنادی:جلدی آئیں ، جلدی جائیں‌

    سعودی عرب نے اقامہ رکھنے والے پاکستانیوں کو خوشخبری سنادی:جلدی آئیں ، جلدی جائیں‌

    ریاض :سعودی عرب نے اقامہ رکھنے والے پاکستانیوں کو خوشخبری سنادی:جلدی آئیں ، جلدی جائیں‌ ،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے والےغیر ملکیوں کو مملکت واپس آنے کی اجازت دے دی ہے۔

    نئے حکم نامے کے بعد پاکستان سمیت سفری پابندی کا شکار دیگر ممالک کے ایسے شہری جو سعودی عرب میں برسرروزگار ہیں یا ان کے پاس سعودیہ کا رہائشی اجازت نامہ’اقامہ’ موجود ہے وہ واپس سعودی عرب جاسکتے ہیں بشرطیکہ انہوں نے سعودی حکومت کی منظور شدہ ویکسین کی دونوں خوراکیں لگارکھی ہوں۔

    ادھر پاکستانیوں کو یہ ریلیف دینے پر سعودی دارالحکومت ریاض میں پاکستانی سفارت خانے نے پاکستان سے براہِ راست سعودی عرب سفر کی اجازت کا خیر مقدم کیا ہے ۔

     

     

    ایک بیان میں پاکستانی سفارت خانے نے کہا ہے کہ سعودی حکومت نےنافذ العمل اقامہ ہولڈرپاکستانیوں کوبراہ راست پروازوں سے داخلےکی اجازت دے دی ہے،جو لوگ سعودی عرب سے جانے سے پہلے ویکسین لگواچکے وہ بھی براہ راست واپس آسکتے ہیں۔

    اس سے قبل سعودی اقامہ رکھنے والے پاکستانیوں کو سفری پابندی سے مستثنیٰ کسی دوسرے ملک میں 14 روز گزارنے پڑ رہے تھے تاہم اب وہ ویکسین لگوا کر براہ راست سعودی عرب جاسکتے ہیں۔

  • وزیراعلیٰ سندھ کا کورونا وائرس کی صورتحال پر بیان

    وزیراعلیٰ سندھ کا کورونا وائرس کی صورتحال پر بیان

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے مزید 19971 نمونے ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق مراد علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1702 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 122252 ویکسینیشن کی گئی ہیں جس کے بعد سندھ بھر میں اب تک ویکسینیشن کی تعداد 10333698 یعنی 30.03 فیصد ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں مجموعی طور پر کوویڈ کے 5431239 ٹیسٹ کیے گئے ہیں، صوبے میں اب تک 424072 کیسز ہوچکے ہیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ آج عالمی وبا کے مزید 1483 مریض صحتیاب ہوگئے جس کے بعد 368724 کورونا کے مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آج مزید 86 مریض انتقال کرگئے، مجموعی تعداد 6713 ہوگئی ہے۔

    سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اس وقت 48635 مریض زیرِعلاج ہیں، 47418 مریض گھروں،371 مریض آئسولیشن سینٹرز پر، 1180 مختلف اسپتالوں میں زیرِعلاج ہیں جس میں سے 1040 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کے 1702 کورونا کیسز میں 876 نئے کیسز کا تعلق شہر کراچی سے ہے۔

    سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی شرقی میں277 ، کراچی وسطی میں 217، جنوبی کراچی میں 162، کورنگی میں 107، کراچی غربی میں 65 اور ملیر میں 48 مزید کیسز ظاہر ہوئے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حیدرآباد میں 192، سکھر میں 45، گھوٹکی میں 44، خیرپور میں 42، مٹیاری میں 38، سجاول اور سانگھڑ میں 37-37، تھرپارکر اور شکارپور میں 35-35، ٹنڈو محمد خان اور کشمور میں 34-34، بدین اور ٹھٹہ میں 28-28، جیکب آباد میں 23، دادو میں 19، نوابشاہ اور عمرکوٹ میں 18-18، نوشہروفیروز میں 16، لاڑکانہ میں 14، ٹنڈوالہیار میں 12، قمبر میں 11، جامشورو میں 8، میرپورخاص میں 7 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

  • ضیاء الدین یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ زیادتی افسوسناک ہے، حلیم عادل شیخ

    ضیاء الدین یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ زیادتی افسوسناک ہے، حلیم عادل شیخ

    اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ضیاء الدین یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ زیادتی افسوسناک ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ 35 ہزار بچوں کے مستقبل کو نقل مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ، اسکولوں کو سینٹر بنانے کے بعد سینٹرز پر عملہ ہی موجود نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نقل مافیا امتحانی مراکز کا کنٹرول سنبھال کر امتحان کروارہے ہیں ، سندھ حکومت نے تعلیمی نظام کو طبقات میں تقسیم کردیا ہے ، وزیر محکمہ بورڈ اینڈ یونیورسٹیز انتظامات میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا کہ بورڈ میں کوئی ناظم امتحانات تک موجود نہیں ، سندھ حکومت باالخصوص کراچی کی تعلیم پر سیاہ دھبا بن چکی ہے۔

    اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ تعلیم دشمن جماعت کے خلاف اسمبلی کے باہر احتجاج کریں گے ، صوبے کو اناڑیوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے نہیں دیں گے۔

  • جماعت اسلامی شمالی پنجاب،مسائل کے حل کے لیے عوامی عدالتیں لگائے گی،ڈاکٹرطارق سلیم

    جماعت اسلامی شمالی پنجاب،مسائل کے حل کے لیے عوامی عدالتیں لگائے گی،ڈاکٹرطارق سلیم

    راولپنڈی :امیرجماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹرطارق سلیم نے کہاہے کہ رابطہ عوام مہم، بلدیاتی اورقومی الیکشن کی تیاری ہے 15ستمبرسے صوبے بھرمیں سرگرمیوں کا آغازہوجائے گا،تمام اضلاع میں قومی اورصوبائی امیدوارفائنل کررہے ہیں،تحریک انصاف کی حکومت نے عوام کومسائل کے انبارمیں دفن کردیا مسائل کواجاگرکرکے حل کی طرف لے جانے کے لیے یونین کونسل سطح تک عوامی عدالتیں لگائیں گے،جماعت اسلامی کے نام،بیانیہ،انتخابی نشان ترازو،پرچم اور لیڈرشپ سمیت ہرسطح کے امیدواروں کی پہچان کی شرح میں اضافہ کریں گے،نامزدامیدواروں سمیت خواتین اورنوجوانوں کوہرتنظیمی اورعوامی محاذ پراہم کرداردے رہے ہیں۔ان خیالات کااظہارانھوں نے صوبائی سیکرٹر یٹ میں منعقدہ رابطہ عوام مہم کے بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صوبائی سیکرٹری جنرل اقبال خان،ڈپٹی سیکرٹری جنرل رسل خان بابر،صوبائی صدرجے آئی یوتھ اویس اسلم مرزا سمیت صوبے بھرسے ضلعی سیکرٹریز،صدورسیاسی کمیٹیزاورضلعی صدورجے آئی یوتھ نے اجلاس میں شرکت کی۔اقبال خان نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک کی واحد انتخابی جمہوری جماعت ہے جوفرقہ واریت،لسانی ومذہبی تعصبات سے پاک ہے کراچی،خیبرپختونخوا،پنجاب وسندھ سمیت جہاں بھی اقتدارملایاممبران پارلیمنٹ پرعوام نے اعتماد کیاہم نے عوامی ریلیف کے لیے قابل قدرکرداراداکیا،اقتدارکے بغیربھی عوامی فلاحی کام کرنے میں جماعت اسلامی کامدمقابل کوئی نہیں ہے،کرپشن سے پاک ایمانداراورتعلیم یافتہ قیادت ہی ملک کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ صوبائی کوآرڈینٹر رابطہ عوام مہم رسل خان بابرنے کہاکہ اضلاع،صوبائی حلقوں زونز اوریونین کونسل سطح تک مہم کے کوآرڈینیٹرزکاتقررکیاجائے گا،صوبائی سطح پرعوامی عدالتوں کے لیے ماسٹرٹرینرتیارکئے جائیں گے، مہم کی تشہرکے لیے میڈیا اورسوشل میڈیاکا موثراستعمال کیا جائے گا،یونین کونسل میں بڑے کیمپ لگائے جائیں گے جہاں عوام الناس کوممبراورووٹربنایاجائے گا۔

  • ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرا ٹیسٹ: پاکستان کو جیت کیلئے 4 وکٹیں درکار:جیت بہت قریب آگئی

    ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرا ٹیسٹ: پاکستان کو جیت کیلئے 4 وکٹیں درکار:جیت بہت قریب آگئی

    کنگٹسن :ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرا ٹیسٹ: پاکستان کو جیت کیلئے 4 وکٹیں درکار:جیت بہت قریب آگئی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز کا دوسرا ٹیسٹ اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جہاں مہمان ٹیم کو جیت کے لیے 4 وکٹیں جبکہ میزبان کو 209 رنز درکار ہیں۔

    کنگسٹن میں کھیلے جارہے سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کے آخری روز پاکستان کی جانب سے دیے گئے 329 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز نے کھیل شروع کیا تو اسکور ایک وکٹ پر 49 رنز تھا۔

     

     

    شاہین شاہ آفریدی نے پاکستان کو پہلی وکٹ دلاتے ہوئے الزاری جوزف کو 17 رنز کی انفرادی اننگز پر آؤٹ کردیا، جس کے بعد حسن علی نے بونر کو 2 رنز بنانے کے بعد پویلین بھیج دیا۔

    ویسٹ انڈیز کا اسکور جب 73 رنز پر پہنچا تھا تو حسن علی نے نئے آنے والے بلے باز روسٹن چیز کی وکٹیں اڑا دیں اور انہیں کھاتہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں دی۔جرمین بلیک ووڈ نے کپتان کریگ بریتھویٹ کے ساتھ مل کر ٹیم کے 100 رنز مکمل کیے۔

     

     

     

    نعمان علی نے پاکستان کو اہم کامیابی دلائی اور 25 رنز پر کھیلنے والے بلیک ووڈ کو محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ کروا دیا۔ویسٹ انڈیز کے کپتان بریتھویٹ 39 رنز بنا کر نعمان علی کی وکٹ بن گئے تو میزبان ٹیم شدید مشکلات کا شکار ہوگئی۔ویسٹ انڈیز نے 6 وکٹوں پر 120 رنز بنا لیے ہیں۔

    قبل ازیں پاکستان نے پہلی اننگز میں 302 رنز بنائےتھے، جس کے جواب میں شاہین شاہ آفریدی کی تباہ کن باؤلنگ کے باعث ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 150 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔پاکستان نے دوسری اننگز 6 وکٹوں پر 176 رنز بنا کر ڈیکلیئر کردی تھی اور ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے 329 رنز کا ہدف دے دیا تھا۔