Baaghi TV

Author: +9251

  • لاہورن لڑکی پر تشدد کی ویڈیو آزاد کشمیر کی نکلی

    لاہورن لڑکی پر تشدد کی ویڈیو آزاد کشمیر کی نکلی

    لاہور:لاہورن لڑکی پر تشدد کی ویڈیو آزاد کشمیر کی نکلی ،اطلاعات کے مطابق پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور کے ایک پارک میں لڑکی پر تشدد سے منسوب ویڈیو آزاد کشمیر کی ہے۔

    پنجاب پولیس کے مطابق پارک میں لڑکی پر تشدد کی وائرل ویڈیوکا پتا چل گیا اور یہ ویڈیو آزاد کشمیر کے ضلع میرپور کے پارک کی ہے۔ ابتدائی تحقیق میں ویڈیو میرپورکے شہری حسنین نے ٹک ٹاک پراپ لوڈ کی جس پر شہری سے رابطہ کیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ایس پی، سی آراو نے حسنین سے رابطہ کرکے ویڈیو کے بارے دریافت کیا جس پر حسنین نے تصدیق کی کہ ویڈیو جھری کس فیملی پارک میرپور آزادکشمیر کی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ 14 اگست کی شام 6 بجے پارک میں آنے والی دو فیملیز کے درمیان جگھڑاہوا تھا جبکہ حسنین کا کہنا ہے کہ اس نے ویڈیوبناکراپ لوڈکی اور کچھ ہی دیر بعد اسے ڈیلیٹ کردیا۔

    پولیس کے مطابق آزادکشمیرپولیس ویڈیو سے متعلق قانونی کارروائی کررہی ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل پارک میں لڑکی پر تشدد کی ویڈیو کو لاہور سے منسوب کیا گیا تھا۔

  • سوشل میڈیا پر وائرل تصاویرلیک ہوئیں‌:اوربھی آسکتی ہیں:قاسم علی شاہ نے خود ہی انکشافات کردیئے

    سوشل میڈیا پر وائرل تصاویرلیک ہوئیں‌:اوربھی آسکتی ہیں:قاسم علی شاہ نے خود ہی انکشافات کردیئے

    لاہور:سوشل میڈیا پر وائرل تصاویرلیک ہوئیں‌:اوربھی آسکتی ہیں:قاسم علی شاہ نے خود ہی انکشافات کردیئے ،اطلاعات کے مطابق معروف ایکٹیوسٹ، موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ نے سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر پر وضاحت دے دی۔

    یاد رہے کہ قاسم علی شاہ کی چند نیم برہنہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں اور اب انہوں نے تصاویر کے حوالے سے وضاحت دی ہے۔

    اپنے ویڈیو بیان میں قاسم علی شاہ کا کہنا تھاکہ سوشل میڈیا پر میری ذاتی اور گھر کی تصاویر وائرل ہوئی ہیں، ان کے ساتھ تبصرے پڑھ کر میں اور فیملی ہنس ہنس کر پاگل ہوگئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ یہ میرے گھر کی تصاویر ہیں اور تین چار سال پرانی ہیں، یہ میری تصاویر کہیں نہ کہیں سے چوری ہوئیں اور پھر لیک کردی گئیں۔اس دوران انہوں نے گھر کی مزید تصاویر بھی دکھائیں۔

    قاسم شاہ کا کہنا تھاکہ گھر میں دھوتی اور بنیان بھی پہن لیتا ہوں، گھر کے اندر کی تصاویر میں قابل اعتراض کیا ہے؟ ان تصاویر پر جو تبصرے کیے جارہے ہیں، ان میں عوام کو انتظار کرایا جارہا ہے کہ مزید تصاویر بھی آنی ہیں۔

    مزید تصاویر کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ میری مزید تصاویر فیملی کے ہمراہ آسکتی ہیں کیونکہ یہ لیک ہوئی ہیں، میری ایسی کوئی نازیبا تصاویر نہیں آئیں گی۔

    موٹیویشنل اسپیکر کا کہنا تھاکہ ایف آئی اے میں درخواست جمع کرادی ہے اور آئندہ چند دنوں میں پتا چل جائے گا کہ یہ حرکت کس نے کی ہے۔

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان ون ڈے سیریز منسوخ:کیوں ہوئی اہم وجہ سامنے آگئی

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان ون ڈے سیریز منسوخ:کیوں ہوئی اہم وجہ سامنے آگئی

    لاہور:پاکستان اور افغانستان کے درمیان ون ڈے سیریز منسوخ:کیوں ہوئی اہم وجہ سامنے آگئی ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت آگئی ہے مگربدقسمتی سے دوسری طرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان ون ڈے سیریز کو منسوخ کر دیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اورافغانستان کی ون ڈے سیریز سری لنکا میں کھیلی جانے تھی ، اس سیریز کے دوران گرین شرٹس نے افغانستان کی میزبانی میں سیریز کھیلنی تھی۔ اس سیریز میں دونوں ٹیموں کے درمیان 3 سے 9 ستمبر تک 3 میچوں کی ون ڈے سیریز کھیلے جانے تھے

    ذرائع کے مطابق سری لنکا میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے کیسز کے بعد ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگا دیاگیا ہے جس کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی ون ڈے سیریز منسوخ کر دی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرزکی رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ سری لنکن کے صدر جمعہ کو لاک ڈاؤن لگانے کا اعلان کریں۔ کیونکہ سری لنکا میں حالات کافی خراب ہو رہے ہیں، ہسپتالوں میں حالات ابتر ہو رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ملک بھر میں کرفیو لگا دیا جائے۔

    واضح رہے کہ سری لنکا میں کورونا وائرس کے باعث روزانہ کی بنیادوں پر 186 افراد زندگی کی بازی ہار رہے ہیں جبکہ 3800 سے زائد افراد مہلک وباء کا نشانہ بن رہے ہیں اس وقت ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے کوئی آئی سی یو بیڈز دستیاب نہیں ہے۔

  • ہم عمران خان کووزیراعظم نہیں دیکھ سکتے:پی ڈی ایم کا 29 اگست کو کراچی میں حکومت مخالف جلسے کا اعلان

    ہم عمران خان کووزیراعظم نہیں دیکھ سکتے:پی ڈی ایم کا 29 اگست کو کراچی میں حکومت مخالف جلسے کا اعلان

    اسلام آباد:ہم عمران خان کووزیراعظم نہیں دیکھ سکتے:پی ڈی ایم کا 29 اگست کو کراچی میں حکومت مخالف جلسے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے ایک مرتبہ پھر حکومت مخالف احتجاج شروع کرنے کا اعلان کر دیا، پہلا جلسہ 29 اگست کو کراچی میں ہو گا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال کی زیر صدارت حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، جمعیت علمائے اسلام ف کے عبد الغفور حیدری، حافظ حمید اللہ، سکندر شیر پاؤ سمیت دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔

    اجلاس میں ملکی سیاسی، اندرونی اور معاشی صورت حال پر مشاورت کی گئی، سٹیئرنگ کمیٹی اجلاس میں حکومت مخالف جلسوں اور مظاہروں کی تاریخوں کا ‏فیصلہ کیا جائے گا، سٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلوں کی حتمی منظوری 28 اگست کو ہونے والے سربراہی ‏اجلاس میں دی جائے گی۔ سٹیئرنگ کمیٹی کی حکومت کے 3 سالہ کار گردگی پر وائٹ پیپر پر مشاورت کی گئی۔

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں 8 جماعتوں نے شرکت کی، 29اگست کو کراچی میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہو گا، ‏پی ڈی ایم ملک کی اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ہے، ‏پی ڈی ایم چاہتی ہے ملکی معاملات کو آئین کے مطابق چلایا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ ‏اجلاس کا مقصد وہ سفارشات طے کرنا تھا جنہیں 28 اگست کو سربراہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، اجلاس میں شیڈول طے کیا گیا جس کے تحت ملک میں جلسے اور ریلیاں ہوں گی، ‏28اگست کے اجلاس کے بعد اس شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‏الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا مقصد الیکشن میں چوری کو سہارا دینا ہے، ‏حکومتی انتخابی اصلاحات کا مقصد ووٹ چوری کو سہولت دینا ہے، یہ یکطرفہ انتخابی اصلاحات کی بات ہے،

  • مرد کو عزت دو تحریر: سحر عارف

    مرد کو عزت دو تحریر: سحر عارف

    پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پہ جو ماحول بن چکا ہے اس نے مجھے دوبارہ قلم اٹھانے میں مجبور کردیا۔ مینار پاکستان پر ہونے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پہ کافی دنوں سے کافی ہل چل مچی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی توجہ کا رخ مرد ذات کی طرف ہے۔ ہر مرد و عورت کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اور دوسرا برا۔ اگر سو مرد ایک ساتھ ایک جگہ موجود ہیں تو ضروری نہیں کہ ان میں سارے کے سارے عورت کی عزت کرنے والے ہی ہونگے۔

    یقیناً ان میں سے آٹھ دس غلط مرد بھی شامل ہونگے جو کہ عورت کو بری نگاہ سے دیکھتے ہوں۔ اسی طرح ہر سو میں آٹھ دس عورتیں بھی ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عورت ہونے کا غلط فائدہ اٹھاتی ہیں۔ کبھی مردوں پر الزام تراشی، تو کبھی غلط قسم کی آزادی کے لیے عورت مارچ کا حصہ بن کر میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہیں۔

    تو پھر کیا ہم باقی کے مردوں اور عورتوں کے خلاف بولنے لگ جائیں اور انہیں غلط کہنا شروع کردیں؟ اس لیے ضروری نہیں کہ ہر مرد اور ہر عورت برے ہوں۔
    کچھ روز قبل مینار پاکستان پر جو حرکت چار سو مردوں نے کی اس واقعے نے مرد ذات پر انگلی اٹھانا شروع کردی۔ لیکن کیا یہ ٹھیک بات ہے کہ ہم معاشرے میں موجود چند گندے انڈوں کی وجہ سے باقی مردوں کے کردار پر بھی بات کریں؟کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس دنیا میں صرف وہی چار سو مرد نہیں رہتے۔

    ہمارے اردگرد وہ مرد بھی موجود ہیں جو عورت کی عزت کرنا جانتے ہیں۔ ان کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے سکیورٹی فورسز میں بھی تو زیادہ تعداد مردوں کی ہے اور وہ نا صرف عورتوں کی بلکہ پوری قوم کی حفاظت کرتے ہیں۔

    تو ہم کیوں ان چار سو بھیڑیوں کی وجہ سے اپنے محافظ مردوں کو بھول جائیں۔ اس کے علاؤہ ہم نے ایسے مرد بھی دیکھے ہیں جو سوشل میڈیا پر اور جب جہاں ضرورت پڑے عورت کے حقوق اور ان کی جائز آزادی کے لیے اپنی آواز بھی بلند کرتے ہیں۔ ہر اس مرد کے خلاف بھی بولتے ہیں جو عورت کی تذلیل اور اس کے لیے پریشانی کا باعث بنیں۔ پھر میں کیسے کہہ دوں کہ مرد ذات بری ہے جب کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنے گھر کے مردوں کی ہی وجہ سے ہوں۔

    جنہیں میں نے ہمیشہ ہر عورت کی عزت کرتے دیکھا ہے۔ میں کیسے کہہ دوں کہ ہر مرد برا ہے جب کہ میں نے اپنے اردگرد ایسے بےشمار مرد دیکھیں ہیں جو عورتوں کو دیکھتے ہی اپنی نظریں جھکا لیتے ہیں۔ مرد بھی عزت کے قابل ہے۔ جو صبح سے شام تک اپنے گھربار کے لیے سخت محنت کرتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ عورت کی عزت اور اس کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ عورت کی طرح مرد بھی مظلوم ہے۔ خاص کر آج کے معاشرے میں جہاں جب بھی کوئی جنسی تشدد اور گھریلو تشدد کا کوئی واقع سامنے آجائے تو پوری کی پوری مرد ذات پر آوازیں قسی جاتی ہیں۔

    کیا مرد انسان نہیں؟ کیا کچھ گندے بھیڑیوں کی وجہ سے ہم باقی مردوں کی عزت کرنا چھوڑ دیں؟ نہیں جناب جو عزت کے قابل ہے اسے عزت ملنی چاہیے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں مظلوم مردوں کے لیے بھی اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔

    @SeharSulehri

  • نیا پاکستان اور ہماری عوام  تحریر  : راجہ حشام صادق

    نیا پاکستان اور ہماری عوام تحریر : راجہ حشام صادق

    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس نظام کے نفاذ  کے لیے دیکھا جانے والا وہ  خواب جو ستر سال پہلے پایہ تکمیل کو پہنچ چکا الحمدللہ ۔ اس چشم فلک نے علامہ محمد اقبال کے اس خواب کو قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں حقیقت میں بنتے ہوئے دیکھا۔

    اس خواب کو حقیقت میں بدلنےکے لیے مسلمانوں کو عبرت ناک سزائیں برداشت کرنی پڑھیں ۔ جانیں اور عزتیں تک نہ بچ سکیں ۔ اللہ تعالٰی کی خاص کرم سے پاکستان بنا بھی۔ ہمارے لیڈر جنہیں ہم بابائے قوم بھی کہتے ہیں قائد اعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت کی بدلت اور پھر سنبھل بھی گیا۔

    ہمارا یہی وطن 60 کی دہائی میں دنیا کے لیے مثال بنا ہوا تھا۔ اسی دوران مارشل لاء کا دور بھی آیا اور جمہوری حکومتیں بھی آئیں مگر ترقی اور استحکام کا سفر نہ رک سکا۔

    بد قسمتی سے 80 کی دہائی کے آخر میں وہ لوگ پاکستان کی سیاست بھی گھس گئے ۔ جن کا مقصد صرف اور صرف اپنی پیٹ پوجا تھا۔ بزنس مین ذہن بھی وطن عزیز کی سیاست کی بھاگ دوڑ سنبھالنے لگا۔
    ان بزنس مین ذہنوں میں شامل دو خاندان جن کے بچے پیدا ہونے سے پہلے ہی عرب پتی بن بیٹھے۔اور کیا ہونا تھا ۔ تیری باری میری باری والا سیکول شروع ہوا ۔ ان کے ہر ایڈیشن نے ملکی معیشت کا بیڑا ڈبونا شروع کردیا۔

    ان کاروباری ذہنوں نے اپنے مفاد کے حصول کے لیے نوکرشاہی سے ان کا پروفیشنلزم چھین لیا۔ اسی دور میں کرپشن نامی جن نے جنم لیا جس کی دھاک پورے ملکی نظام کے جوڑ جوڑ میں سرا گئی ۔اس وقت سے لے کر اب تلک حالات اس نہج تک پونچ چکے کہ نوکری سے لے کر برتن سرٹیفکیٹ لینے تک کے لیے عملے اور آفیسرز کی جیبین گرم کرنا پڑتی ہیں۔

    ایک دستخط جو بامشکل پانچ منٹ کا بھی کام نہیں اس کے لیے بھی مہینے لگ جاتے ہیں ہاں افسر شاہی کی جیب گرم کریں وہی کام پانچ کیوں دو منٹ میں اسی آفیسر کا چپڑاسی آپ کو کرا کے دے دے گا۔ 
    جب چیزیں اس قدر خراب ہوں تو ہم کیسے ان کو پلک چھپکتے ہوئے ٹھیک کر سکتے ہیں؟؟

    اب ایک اور لیڈر نے اس ملک کو ایک عظیم ملک بنانے کا خواب دیکھا ہے وہ ہمیں بھی وہ خواب دیکھا رہا ہے وہ خواب ہے نیا پاکستان وہ پاکستان جہاں عدل و انصاف کا نظام ہو ایسا نظام جو تمام پاکستانیوں کے لیے برابر ہو وہ نظام جو ریاست مدینہ میں تھا ایک ایسا نظام جہاں ہمارے غریب لوگ بھی اسی معاشرے میں عزت کی زندگی جی سکیں۔

    اپنی جدوجہد کے تقریبا پچیس سال بعد کپتان عمران خان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ بکھرے ہو ہجوم کو اس نے ایک کر دیا اتنا باشعور کر دیا ہے کہ وہ اب غلط کو غلط کہنے کی جرات کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس صیح اور غلط میں دوست اور دشمن میں مکمل طور پر پہچان نہیں کر سکتے یہی وجہ ہے کہ پچیس سال بعد بھی وقت کا کپتان اکیلا کھڑا ہے۔اور اس قوم کے بچوں کے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہے۔ریاست مدینہ کے ماڈل کی ریاست کا خواب دینے والا کپتان نے تو راستے کا بہتر انتخاب کیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی کپتان کے اس خواب کو سچ بنانے کے لیے اس کا بھرپور ساتھ دیں آخر یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔منزل تک پہنچنے کے لئے عوام کا ساتھ ضروری ہوتا 

    ہماری قوم کو وزیراعظم عمران خان کا نیا پاکستان  فلمی انداز میں بدلا ہو چاہے۔ جو چیزیں تیس سالوں میں خراب ہوئیں وہ کیا ہم ایک سال یا تین سال میں ٹھیک کرسکتے ہیں؟
    اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ (  حصہ چہارم  ) تحریر: چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ چہارم ) تحریر: چوہدری عطا محمد

    پاکستان تحریک انصاف نے2013میں بننے والی ن لیگ کی حکومت کے اگلے سال ہی الیکشن میں دھاندلی اور پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے مطابق سیاستدانوں کے احتساب کے لئے ایک احتاجاجی تحریک کا آغاز کر دیا

    2014 میں عمران خان نے اپنی اس احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کر دیا اور دارالحکومت تک لانگ مارچ لے گئے اور 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف طویل ترین دھرنا دیا۔
    انہوں نے اس دھاندلی کے لیے ن لیگ کی حکومت کو اس کا زمہ دار ٹھہرایا احتجاجی تحریک میں چار چاند اس وقت لگ گے جب عمران خان نے علامہ طاہرالقادری سے سے ہاتھ ملا لیے جو کہ ماڈل ٹاؤن سانحے کے متاثرین کو انصاف دلوانے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔
    اور پھر دونوں رہنماؤں نے مل کر لانگ مارچ کا آغاز کر دیا
    مسلم لیگ ن کے بھرپور ہتھکنڈوں جیسا کہہ گوجرانوالہ میں عمران خان کے قافلہ پر پتھراؤ اور گولیوں کے باوجود یہ دونوں رہنما اپنے اپنے قافلہ کو لانگ مارچ کی صورت میں بزریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد لانے میں کامیاب ہوگے
    اس میں ان کو عوام کی طرف سے بھر پور حمایت حاصل تھی دارلحکومت اسلام آباد پہنچ کر تاریخ کا ایک لمبا ترین 126دن کا دھرنا دے دیا اور اس میں حکومت کو بہت مشکل ٹائم دیا اس دھرنا میں جو مطالبات تھے وہ نواز شریف کا استعفی اور چار حلقوں کے الیکشن کھولنے اور ماڈل ٹاؤن کے زمہ داروں کو کٹہرے میں لانا تھا
    دھرنے میں جہاں بہت سی مشکلات آئی الزامات لگے جاوید ہاشمی نے پارٹی چھوڑ دی اور اسٹیبلشمنٹ پر الزامات لگاۓ اور دھرنا کا زمہ دار ان کو ٹھہرایا لیکن عمران خان نے ہمت نہیں ہاری اور ڈٹے رہے
    اسی دوران انہوں نے ایک صحافی خاتون ریحام خان سے شادی بھی کر لی
    شادی بنی گالہ میں سادی سی تقریب کی شکل میں منعقد ہوئی اس شادی کو عوام نے شروع میں بہت سراہا
    دھرنا اس وقت ختم کرنا پڑا جب آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشتگردوں نے ایک بڑا حملہ کر دیا جس میں 135افراد شہید ہوۓ جن میں زیادہ تعداد سکول کے معصوم بچوں کی تھی
    دھرنا میں پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت عروج پر جانے کم بعد جب کم ہونے لگی تو اسی اثناء میں تب ہی اپریل 2016 میں پاناما پیپرز اسکینڈل سامنے آیا۔ عمران خان، جنہوں نے لیکس کو "خدائی تحفہ کا بھیجا گیا” قرار دیا تھا، نے وزیرِ اعظم نواز شریف پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ اپنی دولت کا حساب دیں۔
    احتساب کے اسی طرح زور دینے کے دوران کچھ مہینوں میں حکومت اور اپوزیشن کا شریف خاندان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی شرائطِ تحقیقات پر ڈیڈلاک برقرار رہا۔اور ریفرینس کی ٹرمز نہ تہہ ہوسکی

    جون 2016 میں پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نواز شریف کے خلاف مبینہ طور پر اثاثے چھپانے کی بناء پر نااہلی کی درخواست دائر کر دی۔ یہ نواز شریف کے اختتام کا آغاز تھا۔اور کپتان عمران خان کے عروج کا وقت پھر سے شروع ہونے لگا۔ جاری ہے

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس، چیف جسٹس کی سربراہی میں‌ سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل

    صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس، چیف جسٹس کی سربراہی میں‌ سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل

    اسلام آباد:صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس، چیف جسٹس کی سربراہی میں‌ سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل،اطلاعات کے مطابق صحافیوں کو ہراساں کرنے پرجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے ازخود نوٹس کے معاملے پر قائم مقام چیف جسٹس نے لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

     

     

    ذرائع کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس عمرعطابندیال نےپانچ رکنی لارجربینچ تشکیل دے دیا ہے، لارجربینچ کی سربراہی خود قائم مقام چیف جسٹس عمرعطابندیال کریں گے جبکہ جسٹس قاضی فائز جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں قائم بینچ کاحصہ نہیں ہونگے۔

     

     

    بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن،جسٹس منیب اختر، جسٹس قاضی محمدامین،جسٹس محمدعلی مظہرشامل ہونگے، پانچ رکنی لارجر بینچ چھبیس اگست کے بجائے پیر کو کیس کی سماعت کرے گا، کیس سے متعلق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو نوٹس جار ی کردیا گیا ہے۔

     

     

    واضح رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف دائر درخواست کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل، انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد اور سیکریٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کا حکم دیا تھا۔

     

     

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے آئین کی دفعہ 184(3) کے تحت عوامی مفاد میں نوٹس لیا تھا،صحافیوں کوہراساں کرنےپرسپریم کورٹ کےازخودنوٹس کا تحریری حکم جاری کیا تھا۔

  • کرکٹ کےمیدان سےاہم خبرآگئی:پاکستان اورویسٹ انڈیزکےدرمیان دوسرے دن کا کھیل کیوں‌ شکار؟

    کرکٹ کےمیدان سےاہم خبرآگئی:پاکستان اورویسٹ انڈیزکےدرمیان دوسرے دن کا کھیل کیوں‌ شکار؟

    کنگسٹن:کرکٹ کےمیدان سےاہم خبرآگئی:پاکستان اورویسٹ انڈیزکےدرمیان دوسرے دن کا کھیل کیوں‌ شکار؟ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کا دوسرے دن کا کھیل بارش کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔

    کنگسٹن ٹیسٹ کے پہلے دن پاکستان نے صرف دو رنز پر تین کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد کپتان بابر اعظم اور فواد عالم کی نصف سنچریوں کی بدولت چار وکٹ پر 212 رنز بنائے تھے۔

    ٹیسٹ کے پہلے روز ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔پاکستانی اوپنر عابد علی ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے ، اسکور دو ہوا تو اظہر علی اور عمران بٹ بھی پویلین لوٹ گئے۔

    کنگسٹن سے کرکٹ ذرائع کے مطابق کپتان بابر اعظم اور فواد عالم نے ٹیم کو سنبھالا۔دونوں نے چوتھی وکٹ پر 158 رنز کی شراکت بنائی۔فواد عالم جب 76 کے انفرادی اسکور پر پہنچے تو ریٹائرڈ ہرٹ ہوگئے۔کپتان بابر اعظم 75 رنز بناکر کیمار روچ کا شکار بنے۔

    پہلے دن کے اختتام تک پاکستان نے چار وکٹ پر 212 رنز بنالیے تھے۔ فہیم اشرف 23 اور محمد رضوان 22 رنز بناکر کریز پر موجود ہیں۔

  • فیس بک پر حریم شاہ کی مقبولیت میں اضافہ ، فالورز کی تعداد 29 لاکھ ہو گئی

    فیس بک پر حریم شاہ کی مقبولیت میں اضافہ ، فالورز کی تعداد 29 لاکھ ہو گئی

    متنازع ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ نے فیس بک کی دنیا میں بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا۔انسٹاگرام پر زیادہ متحرک رہنے والی ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ کی فیس بک پر مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
    اس ضمن میں حریم شاہ نے انسٹاگرام پر اپنے فیس بک اکائونٹ کا سکرین شاٹ شیئر کیا ہے۔حریم شاہ کی جانب سے شیئر کیے جانے والے اسکرین شاٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر انہیں 2.9 ملین یعنی 29 لاکھ صارفین نے فالو کرلیا ہے۔ٹک ٹاک سٹار کے فیس بک اکاونٹ کی جانب نظر دوڑائی جائے تو ان کے فالوورز کی تعداد ملین میں ہے لیکن حریم شاہ نے اپنے اکانٹ سے صرف 66 صارفین کو فالو کیا ہوا ہے .