Baaghi TV

Author: +9251

  • انڈس اسپتال نے تین گھنٹے تک خواجہ سرا مریض کو داخل نہیں کیا،پہلی خواجہ سرا وکیل

    انڈس اسپتال نے تین گھنٹے تک خواجہ سرا مریض کو داخل نہیں کیا،پہلی خواجہ سرا وکیل

    پہلی خواجہ سرا وکیل نے کہاہے کہ انڈس اسپتال انتظامیہ نے تین گھنٹے تک خواجہ سرا مریض کو اسپتال میں داخل نہیں کیا۔پہلی خواجہ سرا وکیل نشا رائو نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے مریض خواجہ سرا کا علاج سے انکار کیا اور بدتمیزی کی وجہ پوچھنے پر اسپتال انتظامیہ آپے سے باہر ہوگئی۔ اور اسپتال انتظامیہ نے انتہائی بدتمیزی کی۔
    نشا رائو نے کہا کہ مددگار 15 کو کال کر کے مدد لی گئی۔ اسپتال انتظامیہ فنڈز لیتے ہیں مگر علاج نہیں دے رہے ہیں۔ کیا خواجہ سرا انسان نہیں ہیں انڈس اسپتال انتظامیہ نے تین گھنٹے تک مریض داخل نہیں کیا۔ مجبور ہوکر مددگار 15 پولیس کو بلایا اس کے بعد مریض کو داخل کیا ہے۔انہوں نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ واقعہ کا نوٹس لیا جائے۔

  • پروفیسر فتح محمد ملک: ایک سادہ لوح عظیم دانشور تحریر: ملک رمضان اسراء

    پروفیسر فتح محمد ملک: ایک سادہ لوح عظیم دانشور تحریر: ملک رمضان اسراء

     
    پروفیسر فتح محمد ملک جیسے عظیم دانشور ہماری فکری اور نظریاتی رہنمائی کرتے ہیں۔ نئی نسل کو اقبال اور قائد کے نظریہ سے روشناس کرتے ہیں۔ اور نظریہ پاکستان اور اسلام کی صحیح معنوں میں ترجمانی بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک روشن خیال عالم ہیں تو دوسری طرف اعتدال پسند پروفیسر جنکی محفل آپ کو گھنٹوں علم سے بھرپور گفتگو سننے پر مجبور کردے اور اختتام پر آپ کا دل پروفیسر صاحب کی علمی و ادبی نشست چھوڑنے پر اگلی بیٹھک تمنا رکھے۔
    تعلیم، ادب، اسلام، پاکستان، اقبال اور قائد اعظم بارے علم سے سرشار ایسا انداز بیان کے آپ انکی سادہ گرفتار کے اسیر ہوجائیں۔ فتح محمد ملک کی زبان و بیان اور عمل و فکر سے ناصرف اقبالیات جھلکتی ہے بلکہ قائد اعظم کا پاکستان اور وسیع النظر اسلامی سوچ کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے۔
    پروفیسر فتح محمد ملک 18 جون 1936 کو ضلع چکوال تحصیل تلہ گنگ کے چھوٹے سے گاؤں ٹہی میں ایک غریب کسان ملک گل محمد کے ہاں پیدا ہوئے۔ والد کی تعلیم میٹرک تک تھی لیکن وہ انہیں ہمیشہ تقاریر، مناظرے اور علمی مجالس میں لے جاتے تھے۔ اور گھر میں بھی بچوں کیلئے کتب رکھی ہوئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب فتح محمد ملک کو کالج میں داخلہ کرانے کا وقت آیا تو اس وقت جو آپشن تھا اس میں راولپنڈی کا گارڈن کالج، زمیندار کالج گجرات، گورنمنٹ کالج چکوال اور گورنمنٹ کالج کیمل پور یعنی اٹک تھا۔ لیکن ملک گل محمد نے کیمل پور کالج کا انتخاب کیا کیونکہ وہاں ڈاکٹر غلام جیلانی برگ اور پروفیسر محمد عثمان جیسے ہونہار اساتذہ تھے۔

    اب آپ اندازہ لگائیں کہ اس زمانے میں پروفیسر صاحب کے والد گرامی نے عمارت یا فاصلے کو نہیں دیکھا بلکہ یہ دیکھا کہ وہاں تعلیم کون دے رہا ہے جہاں ملک صاحب کے ہم جماعت شفقت تنویر مرزا اور منو بھائی تھے۔ بعد ازاں جب ملک صاحب روالپنڈی کالج ایم اے کرنے کیلئے آئے تو وہاں  منو بھائی اور شفقت تنویر مرزا کے ساتھ مقامی اخبار روزنامہ تعمیر میں ملازمت بھی کی جس کے ایڈیٹر محمد فاضل تھے۔ پھر تینوں بیروزگار ہوگئے تو یہ دوست تقریباً بائیس دن تک لیاقت باغ میں سوتے رہے کیونکہ ان کے پاس بیروزگاری کے سبب رہنے کی جگہ نہیں تھی اور سامنے ایک چائے والا تھا جس کے ساتھ کنٹریکٹ کیا گیا تھا کہ وہ انہیں چائے اور رس دے گا یعنی انہوں نے مسلسل بائیس روز تک بنا روٹی کے چائے اور رس پر کھلے آسمان تلے گزارا کیا۔
    اس دوران ریڈیو پاکستان کے کمپیئر طارق عزیز مرحوم کچھ دنوں کیلئے بیمار ہوگئے تو انہوں نے انہیں پیغام بھیجا کہ میری جگہ آپ آجائیں اور خبریں پڑھیں اور منو بھائی کو سکرپٹ رائٹر بنا دیا گیا۔ پھر جب انہیں تنخواہ کا چیک ملا اور یہ پیدل آرہے تھے اور اس وقت ریڈیو پاکستان پشاور روڈ پر ہوا کرتا تھا تو راستے میں ہوٹلوں پر تکہ کڑاہی اور گوشت بنا نظر آیا تو فتح ملک نے ہاتھ پکڑ کر منو بھائی مرحوم سے کہا اس طرف نہیں دیکھنا بلکہ پہلے اپنے اس محسن چائے والے کا ادھار چکانا ہے کیونکہ اس نے بائیس دن تک ہمارے ساتھ تعاون کیا۔
    پروفیسر فتح محمد ملک نے اردو اور انگریزی زبان میں درجن بھر کتب لکھی ہیں، جن میں “تعصبات، انداز نظر، تحسین و تردید، فلسطین اردو ادب میں، اقبال فکر و عمل، اقبال فراموشی، اقبال اسلام اور روحانی جمہوریت، فیض شاعری اور سیاست، ن م راشد شخصیت اور شاعری، منٹو ایک نئی تعبیر، ندیم شناسی، انتظار حسین شخصیت اور فن، انجمن ترقی پسند مصنفین، فیض کا تصور انقلاب، اردو زبان ہماری پہچان، پاکستان کا روشن مستقبل، اقبال کی سیاسی فکر، پاکستان کے صوفی شعرا، پنجابی شناخت، اسلام بمقابلہ اسلام” وغیرہ شامل ہیں۔ اور یہ جتنی بھی کتابیں ہیں ساری اکٹھی کرکے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے دو جلدوں میں چھاپی ہیں جن میں ایک کا نام “آتش رفتہ کا سراغ” اور دوسری “کھوئے ہوؤں کی جستجو” ہے۔ یعنی یہ دو کتابیں  باقی تمام کتب کا مجموعہ ہیں۔

    اس کے علاوہ مصنف و قلم کار محمد حمید شاہد نے پروفیسر فتح محمد ملک کی زندگی پر “پروفیسر فتح محمد ملک شخصیت اور فن” کے نام سے بھی ایک کتاب لکھی ہے اور انہوں نے پروفیسر صاحب کے مزاج اور عظمت کو یہ کہہ کر جیسے دریا کو کوزے میں بند کردیا کہ: "علامہ محمد اقبال نے نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو جیسے پروفیسر فتح محمد ملک بارے کہا تھا۔ یہ ایسی عظیم اور اعلی طبیعت شخصیت ہیں جس کی کوئی مثال نہیں۔”
    پروفیسر فتح محمد ملک کی شادی اپنے آبائی علاقہ عطا اللہ شاہ بخاری کے احراری خاندان کی ذکیہ ملک سے ہوئی تھی جو پڑھی لکھی اور انتہائی عظیم خاتون تھی جن کی تربیت ان کے چاروں بچوں میں جھلکتی ہے، جس میں محمد طارق ملک موجودہ چیئرمین نادرا، پروفیسر طاہر نعیم ملک نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویج اسلام آباد، اور پروفیسر ڈاکٹر عدیل ملک آکسفورڈ یونیورسٹی لندن جبکہ چھوٹی بیٹی سعدیہ ملک بھی پروفیسر ہیں۔
    فتح محمد ملک کی رفیق حیات ذکیہ ملک ایک ہاوس وائف خاتون تھیں جو بیماری میں مبتلا ہو کر 1995ء میں جہان فانی سے کوچ کرگئی تو فتح محمد ملک کو رشتہ داروں اور احباب نے مشورہ دیا کہ آپ دوسری شادی کرلیں لیکن ملک صاحب نے انہیں یہ کہہ کر لاجواب کردیا کہ: "یہ تو بہت بڑی زیادتی ہوگی کہ میرے دل میں کوئی اور ہو اور گھر میں کوئی اور۔”
    پروفیسر صاحب پر نمل یونیورسٹی، بہاولدین زکریا یونیورسٹی، اور بہاول پور یونیورسٹی میں تین ایم فل ہوچکی ہیں۔ علاوہ ازیں اردو یونیورسٹی میں ان کی علمی، ادبی خدمات پر پی ایچ ڈی کا ایک تھیسس بھی لکھا گیا ہے۔ اور علم و ادب کی بے پناہ خدمات پر 2006 میں ستارہ امتیاز، 2017 میں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ سمیت مختلف اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ ناصرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی جامعات سے بھی آپ وابستہ رہے۔ جن میں کولمبیا یونیورسٹی، ہیڈلبرگ یونیورسٹی، ہمبولٹ یونیورسٹی، سینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی شامل ہیں۔
    پروفیسر صاحب  نے ہمیشہ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے نظریات کو اہمیت دی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان سے پہلے نیا پاکستان بنانے کا عزم ذوالفقار علی بھٹو بھی سامنے لائے تھے لیکن ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقیقی پاکستان کا تصور پیش کیا جائے کیونکہ اس پاکستان کا خواب علامہ اقبال اور قائد اعظم نے دیکھا تھا۔ اور جس پاکستان کیلئے انہوں نے دن رات انتھک محنت کی تھی۔ اور وہ اپنے نظریات کے مطابق یہ سمجھتے تھے کہ حقیقی پاکستان بنانے کیلئے سب سے پہلے پاکستان میں جاگیردارانہ نظام کو ختم کیا جائے۔ سردار اور وڈیرا نظام شاہی وہ چاہے کہیں بھی ہو ختم ہوگا تو عام عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملیں گے۔
    قائداعظم نے سب سے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ: نسل، رنگ  اور لسانی تصورات کے تعصبات کو ختم کیا جائے۔ ایک دفعہ تحریک پاکستان  کے دوران قائد اعظم ایک بہت بڑے جلسے کی قیادت کررہے تھے تو ان کے کان میں ایک آواز سنائی دی کہ حضرت مولانا قائد اعظم محمد علی جناح زندہ باد اس پر انہوں نے جلوس کو روک کر نعرہ لگانے والوں کو مخاطب کر کے انگریزی میں  کہا میں آپ کا مذہبی رہنما نہیں بلکہ سیاسی رہنما ہوں، اس لیے مجھے مولانا نہ کہیں۔
    پروفیسر فتح محمد ملک کہتے ہیں کہ: کاش جنرل ضیاء جیسی ذہانت کے لوگ اس جلسہ میں شریک ہوتے اور قائد کے اس فرمان سے سبق اندوز ہوتے۔
    ہمارے ہاں موسیقی کو اسلام سے دوری سمجھا جاتا ہے لیکن پروفیسر صاحب ایک واقعہ سناتے ہیں کہ میں ہیڈلبرگ  یونیورسٹی میں ایک کلاس میں پڑھا رہا تھا جس میں اس سمسٹر کا مضمون تھا Muslim thoughts and South Asia تو وہاں ایک خاتون مجھ سے ملنے آئی اور وہ گیٹ پر میرا انتظار کررہی تھی، میں جیسے باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ جناب میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی اور بتانے لگی "میں میڈکل کی طالبہ ہوں۔” انتظار کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی مجھے آپ کی اجازت چاہئے تاکہ آپ کی کلاس میں، میں بھی بیٹھ سکوں؟  کیونکہ میں اسلام سے متعلق جاننا چاہتی ہوں۔ جس پر میں نے انہیں کہا خوش آمدید، ضرور آئیں اور پھر اس نے اپنا ایک واقع سنایا کہ: میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ایک پب میں بیٹھی تھی اور وہاں ایک میوزک لگا ہوا تھا اور اتنا لطیف میوزک تھا، بہت اعزاز کی کیفیت تھی۔ خیر میں نے سمجھا کہ شائد میں زیادہ (شراب) پی گئی ہوں اس لیے یہ کیفیت ہے۔ لیکن دوسری صبح میں نے سوچا اب دوپہر کو جاونگی وہاں دوپہر کا کھانا کھاوں گی اور ان سے اسی موسیقی کی فرمائش کروں گی۔  تو انہوں نے جب وہ میوزک لگایا تو وہی کیفیت وہی وجد طاری ہوگیا تو میں حیران ہوئی اور ان سے جاکر پوچھا کہ: یہ کس ملک کا میوزک ہے اور یہ موسیقار کون ہیں تو انہوں نے کہا یہ پاکستانی میوزک ہے اور نصرت فتح علی خان وہاں کے بہت بڑے موسیقار ہیں یہ ان کی گائیکی ہے۔ پھر میں نے کہا یہ پاکستان سے کسی کو کہہ کر منگوانا پڑے گا، جس پر جواب ملا نہیں باہر جاکر کسی موسیقی کی دوکان پر یہ نام بتائیں اور آپ کو مل جائے گا۔ میں نے جاکر خرید لیا اب یہ سنتی ہوں اور بہت لطف اندوز ہوتی ہوں  اور پھر سوچا کہ مجھے اسلام کے بارے میں کچھ سمجھ ہونی چاہیے۔ اور میں اس لیے آپ کے پاس آئی ہوں۔
    جہاں پر پروفیسر صاحب نے وضاحت کی موسیقی بھی اللہ کی دین ہے اور یہ سننے اور گانے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس زاویہ سے سنتا ہے۔
    ملک صاحب نے ناصرف اقبال کے نظریہ پر چلتے ہوئے اس ملت کو بحث تنقید بنایا جس کے بارے میں اقبال نے فرمایا تھا کہ “نیم حکیم خطرہ جان؛ نیم ملا خطرہ ایمان، دین کافر فکر و تدبیر و جہاد، دین  ملا  فی سبیل اللہ فساد” بلکہ جب فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو نے آپ ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کئے تو اس سے متعلق ایک مضمون بعنوان ” آزادیء اظہار یا آزادی آزار” لکھا اور اس میں متذکرہ بالا جریدے اور فرانسیسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے اس عمل کو صحافتی دہشت گردی قرار دیا اور فرانسیسی قیادت کو اس قبیح حماقت پر ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری جیسے القابات سے مخاطب کیا۔ اور یہ مضمون مصنف کی کتاب “چچا سام اور دنیائے اسلام” میں بھی موجود ہے۔
    قارئین آپ کو ان کی تحاریر پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ یہ مذہبی انتہاپسندی اور لبرل فاشزم دونوں کے خلاف ہیں ایک اعتدال پسند یعنی پروگریسو مسلمان ہیں۔ تبھی تو ان کی مسلسل یہی کوشش رہی ہے کہ نئی نوجوان نسل میں وہ اپنی قلم کے ذریعے حقیقی پاکستان، اسلام اور علامہ اقبال و قائد کی روح پھونک سکیں۔ چونکہ نوجوان نسل ہی قوم و ملک کا مستقبل ہوتی ہیں تو اگر ان کے دل اقبال اور قائد کے فکر و عمل سے صحیح معنوں میں سرشار ہونگے تو تب جاکر کہیں حقیقی پاکستان کا تصور عمل میں لانا ممکن ہوگا۔
     پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی عمر اب 85 سال کو پہنچ گئی جس میں 55 سال اور علم ادب کی خدمات میں گزرگئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لہذا اس عظیم دانشور کی بے بہا خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے یہ تحریر بالکل ناکافی ہے کیونکہ یہ احقر ایک علم کے پہاڑ کے سامنے مٹی کا ایک زرا ہے۔ بس دعا ہے کہ اللہ تعالی ایسے دانشوروں کا سایہ ہم طلبہ اور انکے بچوں پر ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین

  • امریکی ہتھیاروں پر افغان طالبان کا قبضہ:امریکی جرنیل سخت پریشان

    امریکی ہتھیاروں پر افغان طالبان کا قبضہ:امریکی جرنیل سخت پریشان

    کابل:امریکی ہتھیاروں پر افغان طالبان کا قبضہ:امریکی جرنیل سخت پریشان ،اطلاعات کے مطابق اس وقت افغانستان کی صورت حال کافی حد تک بہترہوگئی ہے ددوسری طرف امریکہ کودن کی روشنی میں تارے نظرآنے شروع ہوگئے ہیں‌، اطلاعات ہیں کہ افغانستان پر کنٹرول کے دوران امریکی ہتھیاروں پر افغان طالبان کے قبضہ نے پینٹا گون شدید تشویش کا شکار ہو گیا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 2 ہزار بکتر بند گاڑیاں ، 40 طیارے طالبان کے ہاتھ لگ چکے ہیں، بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور سکین ایگل ڈرونز بھی طالبان کے قبضے میں ہیں، امریکی ٹیکنالوجی روس، چین یا القاعدہ کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق 2002ء سے 2017ء تک افغان فوج کو 28 ارب ڈالرز کے ہتھیار دیے گئے، 2003 سے 2016ء تک افغان فورسز کو 208 طیارے دیے گئے، بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز افغانستان سمیت دنیا کے بہت کم ممالک کے پاس تھے، افغان فورسز نے ان طیاروں کو لڑنے کے بجائے بھاگنے کے لیے استعمال کیا۔

    امریکی حکام کے مطابق 40 سے 50 طیارے ازبکستان میں اتارے گئے ہیں، ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کو فضائی حملے میں تباہ کیا جاسکتا ہے، فی الحال پوری توجہ کابل سے اپنے لوگوں کو بحفاظت نکالنے پر ہے، طالبان جنگجو امریکی رائفل تھامے گھومتے نظر آتے ہیں۔

  • گوادر شہر میں زوردار دھماکے :2 بچے جاں بحق،چینی انجینیئربھی زخمی

    گوادر شہر میں زوردار دھماکے :2 بچے جاں بحق،چینی انجینیئربھی زخمی

    کوئٹہ:گوادر شہر میں زوردار دھماکے :2 بچے ہلاک ،اطلاعات کے مطابق گوادرشہر میں ابھی تھوڑی دیرپہلے زورداردھماکے میں 2 بچوں کے جانبحق ہونے اوردیگرکے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں

    گوادرسے ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ بلوچ وارڈ گوادر ایکسپریس وے کے قریب ہوا ہے، اس دھماکے کی آوازیں دوردورتک سنائی دیں ، یہ بھی سننے میں آرہاہےکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے

    ادھر اس دھماکے کے نتیجے میں غیرمصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ 2 افراد ہلاک ہوئے اوریہ بھی کہا جارہا ہے کہ ان میں سے اکثرغیرملکی ہوسکتےہیں ، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ یہ ہلاک ہونے والے چینی شہری بھی ہوسکتے ہیں

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی اداروں نے اس علاقے کواپنی تحویل میں لے لیا اورواقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہیں

    ابتدائی معلومات کے مطابق ایکسپریس وے جانے والی گاڑی کے قریب یہ خودکش دھماکہ ہوا ہے ، ایکپریس وے بلوچ وارڈ کے مقام پر دھماکے کے نیتجے میں دو بچے شہید ہوگئے

    دھماکے سے دو بچے اور ایک شخص زخمی بھی ہوگیا ، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ دھماکے سے ایکسپریس وے پر موجود ایک چینی انجئیر بھی معمولی زخمی ہوا۔

  • آرمی چیف کاپاکستان ملٹری اکیڈمی کادورہ:پاک فوج کے شاہینوں سے خطاب:خطے اورعالمی حالات سے آگاہ کیا

    آرمی چیف کاپاکستان ملٹری اکیڈمی کادورہ:پاک فوج کے شاہینوں سے خطاب:خطے اورعالمی حالات سے آگاہ کیا

    راولپنڈی :آرمی چیف کاپاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کادورہ:پاک فوج کے شاہینوں سے خطاب ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کا دورہ کیا ہے

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی اسی پی آر کے مطابق آرمی چیف 4thپاکستان بٹالین کو بٹالین پرچم عطا کرنے کی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔

    اس موقع پر وطن عزیز کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ آج کا دِن پاکستان ملٹری اکیڈمی جیسے عظیم ادارے کی تعمیر و ترقی اور ارتقاء میں ایک اہم سنگِ میل ہے

    پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں نوجوان افسران سے خطاب کرتے ہوئے ارمی چیف نے کہا کہ فورتھ پاکستان بٹالین نے5سال قبل قیام سے اب تک شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔

    آرمی چیف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کا شمار دُنیا کے بہترین اداروں میں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کا وطن کیلئے اپنے آپ کو وقف کرنے کا عہد، پاکستان دُشمنوں کے دِلوں میں خوف کی علامت ہے۔

    آرمی چیف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تمام تر مشکلات کے باجود آج کا پاکستان اقوامِ عالم میں مضبوط اور ترقی کرتا ہوا پاکستان ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ اگست کا مہینہ ہمیں آزادی کیلئے اپنے آباؤ اجداد کی لازوال قربانیوں اور تاریخی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔

    آرمی چیف نے کہا کہ یاد رکھیں کہ ہمارے محنتی جوان ہمارا فخر اور سرمایہ ہیں۔زندگی کے تمام چیلنجز میں ایمان، اتحاد اور نظم کے راہنما اُصول آپ کیلئے مشعل راہ ہیں۔دُنیا کی کوئی طاقت ایک متحد قوم کو کسی قسم کی گزند نہیں پہنچا سکتی

    آرمی چیف نے کہاکہ آزادی کے بعد تما م تر معاشی اور دیگر مشکلات کے باوجود پاکستان نے نہ صرف اُن کا مقابلہ کیا بلکہ ہر چیلنج کے بعد ہم مزید مضبوط بن کر اُبھرے۔

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہاکہ ہم نے دہشت گردی پر قابو پا کر وطن کی سرحدوں کا بھرپور دِفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کووڈ اور لوکسٹ کے خلاف محدود وسائل اور انفراسٹرکچر نہ ہونے کے باوجود پاکستان نے بحیثیت قوم جس نظم و ضبط، یگانگت اور بہترین حکمت عملی کا مظاہر ہ کیا، دُنیا اُس کی معترف ہے۔

    آرمی چیف نے کاکول اکیڈمی کے افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روایتی جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف رسپانس، ایمرجنسی صورتحال ہو یا قدرتی آفات، افواجِ پاکستان ہمیشہ قوم کے اعتماد پر پورا اُتریں۔

    آرمی چیف نے پاکسان کے اصولی موقف کی پھروضاحت کی اورکہا کہ پاکستان قومی اور علاقائی امن اور ترقی کا خواہاں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان امن عمل میں پاکستان کی مخلصانہ کوششیں، ایک ایسے خطے کے قیام کیلئے ہیں، جو پُرامن، خوشحال اور معاشی شراکت دار ہو۔

    آرمی چیف نے کہا کہ ہم نے مسلسل عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے پُرامن حل کیلئے کردار ادا کرے۔

    آرمی چیف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں بدامنی کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔اپنی معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان نے4دہائیوں سے30لاکھ سے زیادہ افغانیوں کو پناہ دی۔ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوششوں پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

    پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ یہ سازشیں کرنے والے وہی ہیں جو علاقائی امن میں رکاوٹ ہیں۔ہم افغانستان میں امن اور استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

    آرمی چیف نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان میں امن خطے اور بالخصوص افغانستان کے لوگوں کیلئے اشد ضروری ہے۔ان کا کہنا تھ اکہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ طالبان خواتین اور انسانی حقوق کے عالمی برادری سے کئے گئے وعدے پورے کریں گے اور افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔

    آرمی چیف اس موقع مقبوضہ کشمیرکے مسلمانوں سے عہد کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے اس مہینے میں ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو نہیں بھول سکتے۔آرمی چیف نے بھارت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ بدترین ریاستی دہشت گردی اور استحصال کا شکار ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ہم ہمیشہ کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

    آرمی چیف نے اس موقع پر کہا کہ بین الاقوامی کمیونٹی کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ کشمیر کے پُرامن منصفانہ حل تک علاقائی امن ایک سراب ہے۔

    آرمی چیف نے کہا کہ برصغیر کے لوگوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آزادی کی تحریک کے قائدین کا مقصد ایک محفوظ، آزاد، پُرامن اور خوشحال خطے کا قیام تھا۔

    آرمی چیف نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا خطہ جہاں نئے آزاد ہونے والے ممالک امن سے رہ سکیں۔ایک آزاد اور پُرامن خطے کا تصور ہمارے ہمسائے میں انتہا پسندی اور گروہی تقسیم کی سوچ کے ہاتھوں میں یرغمال ہے۔مستقبل میں آپ کو کئی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔

    آرمی چیف نے کاکول اکیڈمی کے افسران کو پاکستان دشمنوں کے عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ دُشمن قوتیں ہائبرڈ وار کے ذریعے ہمارے معاشرے اور ریاست کو کمزور کرنے کے درپے ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ جنگ کی نوعیت مسلسل بدل رہی ہے ، پاکستان آرمی ان تمام چیلنجز سے آگاہ ہے اور نبرد آزما ہونے کیلئے تیار ہے۔

    آرمی چیف نے اس موقع پر کہا کہ ٹیکنالوجی اور مخصوص صلاحیتوں پر توجہ دے کر وطن کے دِفاع کو یقینی بنائیں گے۔

  • طالبان سے منسوب اکاؤنٹس کو آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں، یوٹیوب نے اپنا فیصلہ سنادیا

    طالبان سے منسوب اکاؤنٹس کو آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں، یوٹیوب نے اپنا فیصلہ سنادیا

    لندن :طالبان سے منسوب اکاؤنٹس کو آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں، یوٹیوب نے اپنا فیصلہ سنادیا،اطلاعات کے مطابق افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد یوٹیوب نے کہا ہے کہ کمپنی نے طویل عرصے سے اپنی سائٹ پر طالبان سے منسوب اکاؤنٹس کو آپریٹ کرنے کی اجازت نہ دینے کی پالیسی اپنائی ہے۔

    برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق جب یوٹیوب سے پوچھا گیا کہ کیا وہ طالبان پر پابندی لگاچکے ہیں تو کمپنی نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔تاہم اگلے روز یوٹیوب نے کہا کہ طالبان سے منسوب افراد کے چینلز کی ممانعت ان کا دیرینہ نقطہ نظر ہے۔

    افغانستان پر طالبان کے قبضے نے بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں اور میسجنگ پلیٹ فارمز کے لیے چیلنجز کھڑے کردیے ہیں کہ ان کے پلیٹ فارمز پر کس مواد اور کن افراد کو استعمال کی اجازت دی جائے گی۔

    رپورٹ کے مطابق فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ واٹس ایپ نے طالبان سے رابطہ کرنے کے لیے بنائے گئے گروپس کو بند کردیا۔

    خیال رہے کہ فیس بک پہلی بڑی کمپنی تھی جس نے اعلان کیا تھا کہ طالبان کی حمایت پر مبنی پوسٹس اس کے پلیٹ فارم سے ہٹا دی جائیں گی۔

    دوسری جانب ٹوئٹر نے افغان طالبان کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کی پابندی نہیں لگائی تاہم کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے قواعد کو فعال طور پر نافذ کرتے رہیں گے اور مواد کا جائزہ لیں گے۔

  • سانحہ مینار پاکستان  کے بعد ایک اور لڑکی سے مبینہ بدسلوکی کی ویڈیو:پنجاب حکومت حرکت میں آگئی

    سانحہ مینار پاکستان کے بعد ایک اور لڑکی سے مبینہ بدسلوکی کی ویڈیو:پنجاب حکومت حرکت میں آگئی

    لاہور: سانحہ مینار پاکستان کے بعد ایک اور لڑکی سے مبینہ بدسلوکی کی ویڈیو:پنجاب حکومت حرکت میں آگئی ،اطلاعات کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے

    سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شاہراہ پر نوجوان ہلڑ بازی کررہے ہیں اور اسی دوران چنگچی رکشا میں جانے والے ایک لڑکی کو نوجوان رکشے میں چڑھ زبردستی بوسہ دیکر فرار ہوتا ہے اور لڑکی ہکا بکا رہ جاتی ہے۔

    اسی دوران اور نوجوان بھی چنگچی رکشہ کی جانب بڑھتے ہیں لیکن لڑکی کے ساتھ بیٹھی دوسری لڑکی چپل اتار کر اپنی طرف آنے والے نوجوانوں کو روکتی ہے۔

     

    وائرل ہونے والی ویڈیو کے حوالے سے یہ واضح طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ویڈیو کس شہر اور مقام کی ہے تاہم ممکنہ طور پر یہ واقعہ بھی جشن آزادی کے موقع پر لاہور میں پیش آیا۔

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے اور فوری طور پر اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

    دوسری طرف لاہورپولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس ویڈیو کا پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کس علاقے سے تعلق رکھتی ہے اورنہ ہی ابھی تک کسی نے کوئی شکایت درج کروائی ہے

    دوسری طرف فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ کشہ میں خاتون کے ساتھ حرکت کرنے والا جلد گرفتار کرلیاجائےگا

    صوبائی وزیرکا کہنا تھا کہ اقبال پارک واقعے میں 20افراد کو گرفتار کرلیاگیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت میں کسی پر بھی ظلم برداشت نہیں کیا جائے گا

    فیاض الحسن چوہان کہتے ہیں کہ ایسی شرمناک حرکت کرنے والا بچ کر نہیں پائے گا، جس کی شکل ویڈیو میں واضح ہے وہ بچ نہیں پائے گا، واقعے کی سائنسی بنیاد پر تحقیقات کرائی جائےگی

  • اہم غیرملکیوں کو لے کر پی آئی اے کی ایک اورپرواز کابل سے اسلام آباد پہنچ گئی

    اہم غیرملکیوں کو لے کر پی آئی اے کی ایک اورپرواز کابل سے اسلام آباد پہنچ گئی

    اسلام آباد:اہم غیرملکیوں کو لے کر پی آئی اے کی ایک اورپرواز کابل سے اسلام آباد پہنچ گئی،اطلاعات کے مطابق کابل سے غیر ملکی مسافروں کو لے کر پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز اسلام آباد پہنچ گئی۔

    پاکستان سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق کابل سے واپس آنے والی پرواز سے 140 سے زائد غیر ملکی مسافر اسلام آباد پہنچے ہیں ، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دوسری پرواز بھی کچھ دیر میں کابل روانہ ہوگی۔ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او) بھی پرواز میں کابل پہنچے تھے۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق خصوصی پروازیں کابل میں پھنسے پاکستانیوں اور دیگر غیر ملکیوں کو پاکستان لانے کے لیے چلائی جارہی ہیں۔حکام کے مطابق پہلی پرواز ائیربس 320 تھی جبکہ دوسری بوئنگ 777 سے آپریٹ ہو گی۔

    یہ بھی یاد رہے کہ پاکستانی سول ایوی ایشن حکام کابل ائیرپورٹ پر افغان سول ایوایشن اور نیٹو افواج حکام سے اہم ملاقاتیں کرنے کے لیے پہلی پرواز کے ساتھ گئے تھے۔

  • ڈاکٹر نے ڈلیوری کے دوران بچے کی گردن ہی کاٹ دی

    ڈاکٹر نے ڈلیوری کے دوران بچے کی گردن ہی کاٹ دی

    راولپنڈی : ڈاکٹر نے ڈلیوری کے دوران بچے کی گردن ہی کاٹ دی ،اطلاعات کے مطابق راولپنڈی کے اسپتال میں ڈاکٹر نے ڈلیوری کے دوران بچے کی گردن کاٹ دی۔

    ادھر ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ راولپنڈی کے مقامی اسپتال میں پیش آیا جہاں حاملہ خاتون کو طبعیت ناسازی کی وجہ سے گذشتہ رات اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔جہاں ڈاکٹر نائلہ نے ڈلیوری کے دوران کمسن بچے کی گردن ہی کاٹ دی۔

    اسپتال انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندان پر قانونی کارروائی نہ کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا گیا۔متاثرہ شہری کی جانب سے تھانہ نیو ٹاؤن پولیس کو واقعے سے متعلق آگاہ کیا گیا۔واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی

    پولیس حکام کے مطابق ان کے پہنچنے سے پہلے ہی لیڈی ڈاکٹر اسپتال سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔لواحقین نے اسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور ڈاکٹر کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔

  • کراچی ایئر پورٹ پر بوئنگ 746طیارے کی ایمر جنسی لینڈنگ

    کراچی ایئر پورٹ پر بوئنگ 746طیارے کی ایمر جنسی لینڈنگ

    کراچی :کراچی ایئر پورٹ پر بوئنگ 746طیارے کی ایمر جنسی لینڈنگ،اطلاعات کے مطابق کراچی میں آج پھرایک طیارہ حادثے کا شکارہوتے ہوتے بچا ہے ، ادھر سول ایوی ایشن حکام کےمطابق ابھی تھوڑی دیرپہلے کراچی ایئر پورٹ پر بوئنگ 746طیارے نے ایمر جنسی لینڈنگ کرکے سب کوحیران کردیا

    کراچی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جیسے ہی طیارے میں فنی خرابی کا احساس ہوا پائلٹ نے کنٹرول ٹاورسے رابطہ کرنے کی کوشش کی ، جس پرپائلٹ کوکارگوجہازاتارنے کی اجازت دی گئی

    ادھر کراچی سے سول ایوی ایشن حکام کا کہنا تھا کہ یہ کارگو طیارہ کراچی سے ریاض جارہا تھا، جس میں اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعدطیارے کے انجن میں فنی خرابی پیدا ہوگئی

    کراچی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ ایک غیرملکی کارگوطیارہ ہے جس میں فنی خرابی نے پائلٹ کوفوری اترنے پرمجبورکردیا