Baaghi TV

Author: +9251

  • کابل فتح، اس وقت افغانستان میں کیا چل رہا ہے؟ امریکہ اور بھارت کے لئے قیامت کا منظر. طالبان کا تاریخی اعلان

    کابل فتح، اس وقت افغانستان میں کیا چل رہا ہے؟ امریکہ اور بھارت کے لئے قیامت کا منظر. طالبان کا تاریخی اعلان

    سیئنیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، بلکہ ہوچکی ہے، کل رات سے اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ طالبان کابل کے اندر آچکے ہیں، لیکن انہوں نے اعلان کیا ہے کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا، کابل کے شہری باہر نکل آئے ہیں، وہ انکا استقبال کررہے ہیں، جتنے بھی مغرابی سفارتخانے ہیں انکی دوڑیں لگ چکی ہیں، ائیرپورٹ پر جانے کے تمام راستے اس وقت ٹریفک سے جام ہوگئے ہیں، ائیرپورٹ پر کئی جہاز کھڑے ہیں، جن میں سے دو پی آئی اے کے جہاز ہیں، جو مختلف سفارتکاروں کو لے کر کھڑے ہیں، ان کو ابھی اڑان بھرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، امریکہ کے چار سی 130 اور دو ہیلی کاپٹر رن وے پر ہیں.

    مبشر لقمان نے مزید کہا ہے کہ بگرام کا ہوائی اڈہ طالبان کے قبضہ میں ہے، بابیان کا ہوائی اڈہ اس وقت طالبان کے قبضہ میں ہے، اس کے گورنر ہاؤس پر طالبان نے اپنا جھنڈہ لہرا دیا ہے، انہوں نے جنرل ایمنسٹی کا اعلان کیا ہے، کس کو مارا نہیں جائے گا، کابل کی سب سے بڑی جیل کو توڑ کر اپنے قیدیوں کو رہا کروا لیا ہے.

    ارشد یوسفزئی نے کہا ہے کہ طالبان کابل شہر کے اندر داخل ہوچکے ہیں، مذاکرات جاری ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ملا برادرز اخند قطر سے روانہ ہوچکے ہیں، جس طرح پہلے سے کہا جارہا تھا کہ اشرف غنی کی حکومت سب کچھ چھوڑ کر بھاگ جائے گی، طالبان پرامن طریقے سے کابل شہر میں داخل ہونگے، یہ قیاس آرائی آج صبح سے شروع ہوئیں تھیں، اس سے پیچھے طالبان کی جو محنت شامل ہے، وہ کئی مہینوں‌ پر مشتمل ہے، انکے دوعت اور جلب کے جو کمیشن ہے، انہوں نے کئی مہینوں سے حکومتی عہدوں پر قائم افراد پر محنت کی تھی، جن کو دعوت دیتے تھے، ان کے ساتھ مسلسل مذاکرات جاری تھے، طالبان نے کہا ہے کہ حکومتی ادارے سرنڈر کرچکے ہیں، بہت جلد ان کو اپنے قبضے میں کرلیا جائے گا، سرکاری دفاتر خالی کیے جاچکے ہیں، بیس سال کی محنت کے بعد وہ کیوں کسی انٹرن کو قبول کریں گے، اگر کوئی آتا بھی ہے تو وہ کس پر اپنا حکم چلائے گا، فوج لڑنے کیلئے تیار نہیں ہے، افغانستان اس وقت طالبان کے قبضہ میں ہے، حکومتی اہلکار نالاں ہوچکے ہیں، وہ اب کام نہیں کرنا چاہتے ہیں.

    ارشد یوسفزئی نے مزید کہا ہے کہ القاعدہ، ٹی‌ ٹی پی اور داعش کے جو کنڑ اور نورستان میں بیسسز ہیں، ان پر طالبان کا قبضہ ہوچکا ہے، طالبان نے بارہا کہا ہے کہ ہم اپنے ملک کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، اب جب وہ اقتدار میں آچکے ہیں، اب انکو چاہیے کہ اس وعدے کو وفا کریں، اپنی رٹ کو قائم کرنے کیلئے کسی اور کو وہاں مداخلت کی اجازت نہ دیں، وہ لوگ بھاگ کر بارڈرکراس کرنے کی کوشش کریں گے اور پاکستان آنا چاہیں گے، اب ان کے پاس وہ سپورٹ نہیں رہی جو پہلے حاصل تھی، اشرف غنی ابھی تک قابل میں ہی ہے، ان کو مارنے کا کسی کا اردہ نہیں ہے، اگر وہ سرنڈر کرتے ہیں تو طالبان انہیں گرفتار کریں گے، جیسے انہوں‌ نے کمانڈر اسماعیل خان اور دوسرے علاقے کے گرنرز کے ساتھ سلوک کیا اچھے طریقے سے پیش آئیں گے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اشرف غنی طالبان کے سامنے سرنڈر کرے گا، میں سمجھتا ہوں کہ وہ افغانستان سے نکل جائیں گے.

    ارشد یوسفزئی کا مزید کنہا تھا کہ ایک وقت تھا کہ جنرل عبدالرشید دوستم واحد ازبک کمانڈر تھے ان کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں تھا، آہستہ آہستہ وہ حکومت میں‌ چلتے چلے گئے سہل زندگی کے ساتھ انہیں‌ پیسوں کا شوق پڑگیا تھا، پھر اورعوام ابھرنا شروع ہوگئی تھی، کیساری ان مں سے ایک کمانڈر تھے، امید یہ کی جاتی تھی کہ اگر دوستم نہ لڑیں گے تو کیساری لڑیں گے، جس طرح دوستم اور عطا نور وغیرہ لڑائی سے بھاگ گئے، کیساری نے بھی بھاگنے کی کوشش کی تھی، اب مسئلپ یہ ہے کہ دوستم اور عطا نور پہلے جہاز سے چلے گئے تھے، ان کیلئے ازبکستان جانا آسان تھا، افغانستان اور ازبکستان کے بارڈر پر جو پل لگتا ہے ازبکستان کی فورسسز نے بیاسی گاڑیاں روک لیں تھیں، موقع پر پہنچ کر طالبان نے ان سب کو گرفتار کرلیا تھا، وہ سب سرنڈر ہوگئے تھے، میں سمجھتا ہوں کہ کیساری نے بہت بڑی غلطی کی کہ وہ روڈ سے جانا چاہ رہا تھا، ان کو چاہیے تھا کہ پہلے جہاز میں بیٹھ کر نکل جاتے.

    ارشد یوسفزئی نے مزید کہا کہ فوج ملک کے دفاع کیلئے لڑتی ہے، فوج میں یہ بات مشہور تھی کہ فوج حکومت کی کرپشن کو بچانے نہیں آئے گی، کرپٹ لوگوں نے فوج کو سپورٹ نہیں کیا تھا، پچھلے ماہ ہلمند میں فوج کو طالبان کیخلاف لڑائی میں کوئی امداد فراہم نہیں کی گئی تھی، وہ پھر سمجھنے لگ گئے کہ ایسی حکومت کے ساتھ مل کر کسی خلاف لڑنا بے فائدہ ہے.

  • لائنز ایریامیں نوجوان نے گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی

    لائنز ایریامیں نوجوان نے گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی

    لائنز ایریامیں نوجوان نے گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی۔
    تفصیلات کے مطابق بریگیڈ تھانے کی حدود لائنز ایریا جٹ لائن میں واقعے ایک گھرمیں پھندا لگی لاش کی اطلاع پرپولیس موقع پرپہنچی اور لاش کارروائی کیلئے جناح اسپتال لائی گئی ، پولیس کے مطابق متوفی نے گھر میں چھت کے پنگھے میں رسی کی مدد سے پھندا لگاکر خودکشی،اس کی شناخت 19 سالہ علی رضا ولد یامین کے نام سے کی گئی ، ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ گھریلو رنجش کا شاخسانہ ہے ، پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

  • آئی جی سندھ کی زیرصدارت اجلاس ،محرم الحرام میں سکیورٹی اقدامات کا جائزہ

    آئی جی سندھ کی زیرصدارت اجلاس ،محرم الحرام میں سکیورٹی اقدامات کا جائزہ

    آئی جی سندھ نے محرم الحرام کے موقع پر سکھر رینج اور اسکے اضلاع میں سیکیورٹی اقدامات پر ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایات دیں کہ عوام کی جان ومال کے تحفظ جیسی ذمہ داریوں کو انتہائی چوکنا اور مستعد رہتے ہںوئے یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ یوم عاشور تک برآمد ہونیوالے جلوسںوں کے روٹس،مجالس کے مقامات پر سیکیورٹی کو علمائ اکرام/زاکرین/منتطمین کو اعتماد میں لیکر انکی مشاورت اور تجاویز کی روشنی میں مربوط اور مو ٴثر بنایا جائے۔
    علاوہ اذیں ماضی میں پیش آنیوالے ناخوشگوار واقعات وتجربات کو پیش نظر رکھ کر جلوسوں کے روٹس پر ممکنہ فلیش پوائنٹس پر سیکیورٹی کو انتہائی ٹھوس اور غیر معمولی بھی بنایا جائے۔
    آئی جی سندھ نے کہا کہ تمام تر آلات اور اسلحہ سے لیس اینٹی رائٹس پلاٹونز کو تیار حالت میں رکھا جائے تاکہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے بروقت اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دل آزار,مذہبی منافرت پر مشتمل وال چاکنگ کے انسداد اور پمفلٹس کی تقسیم کی روک تھام کو یقینی بنانیکے ساتھ ساتھ محرم الحرام کے دوران لاو ٴڈ اسپیکر ایکٹ اور فورتھ شیڈول لسٹ پر قانون کے مطابق عمل درآمد کو عین کنٹی جینسی پلان اور اسکی ترجیحات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یقینی بنایا جائے۔آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی سکھر اور ضلعی ایس ایس پیز سکھر رینج کوہدایات دیں کہ متعلقہ ایس ایچ اوز کو باقاعدہ پابند کیا جائے کہ وہ علاقوں میں اپنی موجودگی کے تحت محرم سیکیورٹی کے مجموعی اقدامات کی نا صرف مانیٹرنگ کرینگے بلکہ اس حوالے سے لمحہ بہ لمحہ رپورٹ بھی ذریعہ وائرلیس نوٹ کرائیں گے۔
    علاوہ اذیں محرم کے دوران مجموعی سیکیورٹی اقدامات کی مانیٹرنگ کے ضمن میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول روم پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی سکھر،ڈی آئی جی سکھر،ضلعی ایس ایس پیز سکھر رینج کے علاوہ متعلقہ علمائ /ذاکرین ویڈیو لنک پر موجود تھے جبکہ سی پی او سے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز سندھ،اے آئی جی آپریشنز سندھ اور ایڈمن اجلاس میں شریک تھے۔
    ویڈیو لنک پر موجود علمائ /ذاکرین سید میران شاہ،سید رکھیئل شاہ،مولانا ایم صالح ایندھر، مولانا محبوب علی، سیدجعفر علی شاہ، سیدصغیر حسین،ظفر علی لاشاری،مولانا محمد اسحاق لاشاری اور میاں محمد اسلم پر مشتمل وفد نے محرم سیکیورٹی امور پر پولیس پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور اپنی جانب سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی .

  • مواچھ گوٹھ دھماکے کی تحقیقات میں پیشرفت،3 موٹر سائیکل سوار دہشت گرد مبینہ طور پر دھماکے میں ملوث

    مواچھ گوٹھ دھماکے کی تحقیقات میں پیشرفت،3 موٹر سائیکل سوار دہشت گرد مبینہ طور پر دھماکے میں ملوث

    مواچھ گوٹھ دھماکے کی تحقیقات میں پیشرفت سامنے
    آئی ہے۔ذرائع کے مطابق 3 موٹر سائیکل سوار دہشت گرد مبینہ طور پر دھماکے میں ملوث ہیں .

    ذرائع نے بتایا کہ تین موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے مبینہ طور پر منی ٹرک کا تعاقب کیا اور دستی بم پھینکا۔تحقیقاتی ذرائع نے بتایا کہ دستی بم منی ٹرک پر گرنے سے پہلے ہوا میں ہی پھٹ گیا۔

  • یکساں نظام تعلیم ،صوبہ سندھ کی مخالفت

    یکساں نظام تعلیم ،صوبہ سندھ کی مخالفت

    ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم کا معاملہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سندھ نے وفاق کا نصاب تعلیم ماننے سے انکار کردیا ہے، جس کے بعد کل وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والی تقریب میں سندھ سے کوئی شرکت نہیں کرے گا تقریب میں شرکت کے لیے وزیر تعلیم، سیکریٹری و دیگر کو مدعو کیا گیا تھا۔

    وزیرتعلیم سندھ سردارشاہ کا کہنا ہے کہ ہم یکساں تعلیمی نصاب پر پہلے ہی اپنے تحفظات ظاہر کرچکےہیں، تعلیم مکمل صوبائی معاملہ ہےنصاب بھی صوبےکا معاملہ ہے، یکساں نصاب کومن وعن رائج کرنےکی پوزیشن میں نہیں ہے۔

    سردارشاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت ہم پر اپنےفیصلےمسلط نہیں کرسکتی، صوبوں کا اختیار ہے کہ وہ یکساں نصاب قبول کریں یا نہ کریں، اٹھارویں ترمیم کی روشنی میں ہمیں اختیارہےکہ ہم اپنافیصلہ کریں۔

    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے متعلق وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ شفقت محمود کہتےہیں کہ یکساں نصاب پی ٹی آئی کےمنشورکاحصہ ہے، انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ یکساں نصاب آئین کاحصہ تو نہیں ہے، پیپلزپارٹی جمہوری جماعت ہے آئین کی بالادستی پریقین رکھتی ہے۔

    وزیرتعلیم سندھ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کی شرکت کےبغیریہ قومی اور یکساں نصاب نہیں ہوسکتا، یکساں نصاب کےسائنسی مضامین کی اچھی چیزیں قبول کرسکتےہیں،سوشل اسٹیڈیز میں ہرصوبے کی اپنی تاریخ، ثقافت اورہیروز ہوتےہیں، قومی ہیروز کل بھی ہمارے نصاب میں شامل تھے،آج بھی ہیں۔

    سردارشاہ کا مزید کہنا تھا کہ اردو،انگریزی کیساتھ سندھی پڑھانا چاہتےہیں توہمارا آئینی حق ہے،ہم اس سےدستبردارنہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرتعلیم نے کہا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ‏یکساں تعلیمی نصاب لایاجارہاہے پہلی سے پانچویں جماعت میں کل سے یکساں تعلیمی نصاب لاگو ہو‏گا۔ ‏

    شفقت محمود کا کہنا تھا کہ پنجاب،کےپی،جی ‏بی،آزادکشمیرمیں اس کا اطلاق ہوچکا ہے تاہم سندھ نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا سندھ حکومت ‏سے استدعا ہےکہ قومی دھارےمیں شامل ہوجائے باقی تمام صوبےیکساں تعلیمی نظام میں شامل ہو ‏رہے ہیں، معاملے پر سندھ جاکروزیراعلیٰ سندھ اور وزیرتعلیم سےملاقات کروں گا۔

    وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ موجودہ تعلیمی نصاب ایک ناانصافی پر مبنی ہے صرف چھوٹے طبقے کو ‏آگے بڑھنے کے بےپناہ مواقع ملنا ناانصافی ہے یکساں تعلیمی نصاب پورے ملک کےلئے انقلاب ‏ہوگا ہدف کو ذہن میں رکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں اہداف کےلئے پرامید ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب صوبہ سندھ کی جانب سے یکساں نصاب تعلیم کی مخالفت کی گئی ہے، اس سے قبل رواں سال دو جولائی کو بھی وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں یکساں تعلیمی نصاب کی مخالفت کی گئی تھی۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ صوبائی حکومت اپنا تعلیمی نصاب برقرار رکھےگی تاہم وفاق کےنصاب میں اچھی چیزکوصوبائی نصاب میں شامل کیاجائے گا۔

  • سابق صوبائی صدر و سنیٹرسردار فتح محمد حسنی کی مسلم لیگ ن میں شمولیت

    سابق صوبائی صدر و سنیٹرسردار فتح محمد حسنی کی مسلم لیگ ن میں شمولیت

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی صدر و سنیٹرسردار فتح محمد حسنی کا پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت کا فیصلہ

    سابق صوبائی صدر و سنیٹرسردار فتح محمد حسنی شمولیت کا باقاعدہ اعلان کوئٹہ میں جلسہ عام میں کریں گے،

    دیگر اہم شخصیات بھی پارٹی صدر میاں محمد شہباز شریف سے رابطے میں ،جلدکئی اراکین اسمبلی سمیت سابق سنیٹر ز،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی و سابق و زرا کی بھی شمولیت متوقع

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی صدر و سنیٹرسردار فتح محمد حسنی کا پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت کا فیصلہ، باقائدہ اعلان کوئٹہ میں جلسہ عام میں کریں گے،ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی دیگر اہم شخصیات بھی پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر میاں محمد شہباز شریف سے رابطے میں ہیں ،جلدکئی اراکین اسمبلی سمیت سابق سنیٹر ز،سابق اراکین قومی و صوبائی اسمبلی و سابق وزراء کی بھی شمولیت متوقع ہے۔

  • مواچھ گوٹھ دھماکے پر پی ٹی آئی مرکزی جوائنٹ سیکریٹری  محمد علی شیروانی کی مذمت

    مواچھ گوٹھ دھماکے پر پی ٹی آئی مرکزی جوائنٹ سیکریٹری محمد علی شیروانی کی مذمت

    پی ٹی آئی کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری محمد علی شیروانی کا کراچی کے علاقے مواچھ گوٹھ میں دھماکے کی مذمت

    دھماکے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس ہے۔یوم آزادی کے موقع پر اس طرح کا واقعہ امن خراب کرنے کی کوشش ہے۔

    شرپسند عناصر کے خلاف صوبائی حکومت ایکشن لے۔ شہر میں بد امنی کے واقعات لمحہ فکریہ ہے۔
    رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں امن و امان کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کریں۔
    واقعے میں زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گوہ ہیں۔

  • افغان طالبان کےکابل پرقبضے کے بعدسرکاری ٹی وی کی پہلی نشریات کا درود شریف کے ساتھ آغاز

    افغان طالبان کےکابل پرقبضے کے بعدسرکاری ٹی وی کی پہلی نشریات کا درود شریف کے ساتھ آغاز

    افغان طالبان کےکابل پرقبضے کے بعدسرکاری ٹی وی کی پہلی نشریات درود شریف کے ساتھ آغاز ،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے کابل پرقبضے کے بعدسرکاری ٹی وی پربھی قبضہ کرلیا:پہلی نشریات درود شریف کے ساتھ شروع کردی ہیں‌، سرکاری ٹی وی قبضے کی خبرسن کرمخالفین ہواس باختہ ہوگئے

    اطلاعات کے مطابق آج کابل پرافغآن طالبان کے قبضے کےبعد افغان مجاہدین نے سرکاری ٹی وی پربھی قبضہ کرلیا ہے اوریہ اطلاعات ہیں کہ نشریات کا آغاز ہی بابرکت نام سے کیا جس نے دنیا بھرکے مسلمانوں کے دلوں کو سکون فراہم کیا

     

    باغی ٹی وی کے مطابق کابل میں سرکاری ٹی وی سے باقاعدہ درودشریف سے نشریات کا آغاز کیا گیا

    دوسری طرف دیگراہم سرکاری عمارتون پربھی افغان طالبان کا قبضہ ہوگیا ہے اس وقت شہرمیں امن وامان کی صورت حال بہتر ہے اورسڑکوں پرافغان طالبان گشت کررہے ہیں اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ہدایت بھی کررہے ہیں‌
    د

  • ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر دیا

    ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر دیا

    کابل : ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر دیا ،اطلاعات کے مطابق افغانستان پرافغان طالبان کے قبضے کے بعد جس طرح صورت حال بڑی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے ایسے یہ لمحات بھی بڑے دلچسپ ہورہے ہیں

    ایک طرف جہاں اس وقت کابل کی سڑکوں پرافغان طالبان اللہ اکبر کے نعروں سے ہرطرف اپنی دھاک بٹھائے ہوئے ہیں وہاں دوسری طرف مخالفین اپنے انجام پرنوحہ کناں ہیں

    ان حالات میں عین اس وقت جب امریکہ ، برطانیہ ، بھارت ، اسرائیل اوردیگر درجنوں نیٹواتحادی شکست کی وجہ سے راہ فراراختیارکرچکے ہیں وہاں ان حالات مین خوشخبریاں بھی سنائی دی جارہی ہیں

     

    ایسے میں ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر تے ہو ئے کہا ہے کہ :
    ‏افغانستان کی پوری مسلم ملت بالخصوص کابل کے شہریوں کو فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

    اللہ کی مدد و نصرت سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اللہ کا ہر وقت عاجزی کے ساتھ شکر ادا کرتے ہیں۔ کسی غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہیں۔

    ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر تے ہوئے کہنا تھا کہ ‏طالبان کا اصل امتحان اور آزمائش اب شروع ہوئی ہے کہ وہ کیسے افغان عوام کی خدمت کرتے ہیں اور دنیا کے لیے ایک ایسی مثال بنتے ہیں، جس کی باقی دنیا پیروی کرے۔

  • تمام دھڑوں کوافغانستان کی تعمیرنو،ترقی اورخوشخالی کے لیے ملکرکام کرنا چاہیے :پاکستان

    تمام دھڑوں کوافغانستان کی تعمیرنو،ترقی اورخوشخالی کے لیے ملکرکام کرنا چاہیے :پاکستان

    اسلام آباد: تمام دھڑوں کوافغانستان کی تعمیرنو،ترقی اورخوشخالی کے لیے ملکرکام کرنا چاہیے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے کہا ہے کہ وہ ہم افغانستان میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں پیش رفت کو قریب سے دیکھتے رہتے ہیں۔

    اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ افغان لیڈر مل کر کام کریں تاکہ ابھرتی ہوئی صورت حال سے نمٹا جا سکے اور افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے آگے کا راستہ بنایا جا سکے۔

    پاکستان نے مسلسل زور دیا ہے کہ سیاسی حل ناگزیر ہے۔ پاکستان اس ہدف کو آگے بڑھانے میں اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

    ہمارے خیال میں افغانستان میں دیرپا امن اور استحکام کا حصول اور چار دہائیوں سے جاری تنازع کا خاتمہ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری اجتماعی کوششیں افغانستان میں دیرپا امن ، ترقی اور خوشحالی لانے میں معاون ثابت ہوں گی۔