Baaghi TV

Author: +9251

  • پنجاب میں چھ ماہ کے دوران تین ہزار سے زائد خواتین کو نشانہ بنایا گیا

    پنجاب میں چھ ماہ کے دوران تین ہزار سے زائد خواتین کو نشانہ بنایا گیا

    پنجاب انفارمیشن کمیشن میں پنجاب پولیس کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے، اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب میں گزشتہ چھ ماہ میں چھ ہزار نو سوچون خواتین کو اغواء کیا گیا ہے، ایک ہزار آٹھ سو نوے خواتین سے جنسی زیادتی کی گئی ہے، سات سو باون بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے، یہ رپوٹ پولیس کی جانب سے کرائم ڈیپارٹمنٹ میں پیش کی گئی ہے، یہ روپورٹ جنوری 2021 سے 30 جون 2021 تک کی ہے، تین ہزار سات سو اکیس خواتین کے ساتھ تشدد کے واقعہ ملے ہیں، غیرت کے نام پر ایک سو سات خواتین کو قتل کیا گیا ہے، گھریلو تشدد میں تین سو پچیس خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے، سترہ کیس کم عمر بچیوں کی شادی کے واقعات ہیں، چائلڈ لیبر کے تئیس واقعات ملتے ہیں، اس دفعہ کام کرنے کی جگہ پر کسی خاتون کو ہراساں نہیں کیا گیا ہے.

    اس رپورٹ کے مطابق لاہور میں‌ سب سے زیادہ کیس ریکارڈ ہوئے ہیں، لاہور میں دو سو انچاس خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے، لاہور میں ایک سو سولہ بچوں کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا ہے.

    لاہور کے بعد راولپنڈی میں چار سو سترہ کیس ملے ہیں، فیصل آباد میں چار سو سولہ کیس ملے ہیں، شیخوپورہ میں تین سو تئیس کیس ملے ہیں، ملتان میں تین سو دو کیس ملے ہیں، رحیم یار خان میں دو سو ستسٹھ کیس ملے ہیں، بہاولپور میں دو سو چھپن کیس ملے ہیں، اوکاڑہ میں دو سو اٹھتیس کیس ملے ہیں، گوجرانواالہ میں دو سو ستائیس کیس ملے ہیں، سرگودھا میں دو سو سولہ کیس ملے ہیں، مظفر گڑھ میں ایک سو انیس کیس ملے ہیں، قصور میں دو سو سترہ کیس ملے ہیں.

  • حکومت نے او جی ڈی سی ایل کو نئے ذخائر کیلئے لائسنس دے دیے

    حکومت نے او جی ڈی سی ایل کو نئے ذخائر کیلئے لائسنس دے دیے

    آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی کو ملک میں تیل وگیس کی تلاش کے لیے پانچ لائسنس جاری کیے گئے ہیں، اس حوالے سے اسلام آباد میں معاہدے پرسیکرٹری پٹرولیم ڈاکٹر ارشد محمود اوراو جی ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہد سلیم خان نے دستخط کیے ہیں، جس کے تحت او جی ڈی سی ایل حضرو، وہاڑی، ستلج، کھیواڑی ایسٹ اورنوشہرہ بلاکس میں تیل وگیس کی تلاش کا کام کرے گی.

    وفاقی وزیرتوانائی حماد اظہر نے کہا کہ حکومت درآمدی تیل وگیس پر انحصار کم کرنا چاہتی ہے، اسی لیے او جی ڈی سی ایل کو پانچ لائسنس جاری کیے گئے ہیں، تیل وگیس کی تلاش کے علاقوں کی سماجی اقتصادی ترقی کے لیے او جی ڈی سی ایل ایک کروڑ روپے خرچ کرے گی، اس امید کا اظہار کیا کہ پانچ بلاکس میں تیل وگیس کی تیل میں کامیابی ملے گی.

  • اسلام آباد میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس جی سکس سے برآمد ہوگا

    اسلام آباد میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس جی سکس سے برآمد ہوگا

    9 محرم الحرام 1443 ھ کو بمطابق 18 اگست 2021 بروز بدھ کو مرکزی امام بارگاہ اثناء عشری جی سکس ٹو اسلام آباد میں صبح تقریبآ 9 بجے مجلس عزا امام حسین علیہ السلام منعقد کی جائے گی، 11 بجے دن جلوس شبیہہ ذوالجناح برآمد ہوگا، جو اپنے مقررہ راستوں پر روانہ ہوگا، طے شدہ پروگرام کے مطابق 9 محرم الحرام کو ظہرین کی باجماعت نماز لال کوارٹر چوک پر ادا کی جائے گی، مغربین کی باجماعت نماز میلوڈی چوک پر ادا کی جائے گی.

    اسلام آباد میں محرم الحرام 1443 کے جلوس کا شییڈیول جاری کردیا گیا ہے، انتظامیہ نے کرونا ایس او پیز کا لازمی قرار دیا ہے، جلوس کی سیکیورٹی کیلئے سیکورٹی کے تمام ادارے تعنیات کیے جائیں گے، جلوس کے راستوں کو کھاردار تاروں سے بند کردیا جائے گے، جلوس کیلئے میٹل ڈیٹیکٹر اور واک تھرو گیٹس کا استعمال کیا جائے گا.

  • اسٹورمالکان کی شامت آگئی، فارماسسٹ کو لائیسنس دیا جائے گا

    اسٹورمالکان کی شامت آگئی، فارماسسٹ کو لائیسنس دیا جائے گا

    میٹرک پاس میڈیکل سٹورمالکان کی شامت آگئی ہے، حکومت نے تمام میڈیکل سٹور پر فارماسسٹ کی تعیناتی 100 فیصد یقینی بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، پنجاب میں 90 فیصد میڈیکل سٹور بغیر فارما سسٹ کے چلتے ہیں.

    مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ اب کوئی میڈیکل سٹور کوالیفائیڈ پرسن کے بغیر نہیں چلے گا، ادویات دینے میں مدد کر نے والا کم از کم ڈسپنسر یا بی کیٹگری ہولڈر ہونا ضروری ہے، کوئی میڈیکل سٹور فارماسسٹ کے بغیر ادویات فروخت کرنے کا مجاز نہیں ہوگا، تمام ڈرگ انسپکٹرز نے فیلڈ پلان و چھاپوں کا پروگرام ترتیب دے دیا ہے.

    پاکستان میں میڈیکل اسٹورز پر زیادہ تر فیلڈ سے غیر آشنا افراد تعینات کیے جاتے ہیں، زیادہ اسٹور مالکن میٹرک پاس ہوتے ہیں، حکومت نے اب فیصلہ کرلیا ہے کہ فارماسسٹ کے بغیر کسی میڈیکل اسٹور کو لائیسنس جاری نہی‌کیا جائے گا، فارماسسٹ میڈیکل اسٹور کا نگران ہوگا، کسی بھی قسم کی جعلی ادویات کا ذمہ دار ہوگا، اکثر میڈیکل اسٹورز پر جعلی یا ایکسپائری والی ادویت بھی موجود ہوتی ہیں، اس لیے اس قسم کا فیصلہ بہت ضروری ہے.

  • تین سال میں ایک دھیلہ ثابت نہ کرسکے، ہر شام نیازی کا نیا جھوٹ ہوتا ہے، مریم اورنگ زیب

    تین سال میں ایک دھیلہ ثابت نہ کرسکے، ہر شام نیازی کا نیا جھوٹ ہوتا ہے، مریم اورنگ زیب

    ‎پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ے کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کی ناکامی کے بعد ایف آئی اے نیازی گٹھ جوڑ کا تماشہ شروع ہوگیا ہے، تین سال ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہ کرسکے، تین سال سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے کاغذ لہرا لیتا کہ
    میڈیا ٹرائیل اور ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہ ہوسکی ہے، شہبازشریف کے خلاف ایک ہی نوعیت کے 2 مقدمات الگ الگ عدالتوں میں چلائے جارہے ہیں، عمران صاحب شہبازشریف کے خلاف مقدمات میں اثرانداز ہونے کی ہر کوشش کر رہے ہیں، حکومت چیف جسٹس سے ان کے اختیار پر سوال کررہی ہے، عمران صاحب بھول گئے کہ عدلیہ کا کردار انتظامیہ سے الگ ہے، تین سال گزرگئے، ایک الزام ثابت ہوا، نہ کسی کیس میں ثبوت آسکا، لیکن نیب نیازی گٹھ جوڑ کا بے شرم سیاسی انتقام جاری ہے،

    ‎مریم اورنگ زب نے مزید کہا کہ قوم مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کی آگ میں اور عمران صاحب سیاسی حسد میں جل رہے ہیں، عمران صاحب آٹا چینی دوائی توسستی قیمت پر عوام کو فراہم کرنہ سکے، ہر صبح کا آغاز اور ہر شام کا اختتام ایک نئے جھوٹ پر کرتے ہیں، شہبازشریف کے خلاف نت نئے مقدمات اور نوٹس عمران صاحب کے خوف کی علامت ہیں، عدالت ثبوت مانگتی ہے تو نیب اور ایف آئی اے نیازی گٹھ جوڑ بھاگ جاتے ہیں، خود عدالتوں سے مفرور اور شہباز شریف سے جعلی الزمات لگانے پہ معافی مانگ رہے ہیں، تین سال سیاسی مخالفین کے خلاف میڈیا ٹرائیل اور اب ہر روز اپنی چوری چھپانے کے لئے میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا انتظام کر رہے ہیں.

  • ڈی سی گوجرانوالہ کے خلاف تحریک استحقاق پنجاب اسمبلی میں‌ جمع

    ڈی سی گوجرانوالہ کے خلاف تحریک استحقاق پنجاب اسمبلی میں‌ جمع

    ڈی سی گوجرانولہ خواجہ محمد سہیل کے خلاف تحریک استحقاق پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی ہے، تحریک استحقاق مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی توفیق بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے.

    درخواست کے متن میں لکھا گیا ہے کہ انتظامی افسران حکومت پنجاب کی جانب سے تعنیات ہوتے ہیں، انتظامی افسران کو تنخواہوں کے علاوہ بھاری مراعات سے نوازا جاتا ہے، یہ سب پیسہ عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھا کیا جاتا ہے، انتظامی افسران کے فرائض منصبی میں شامل ہے کہ وہ ضلع میں امن و امان اور عوام کے مال ع جان کا تحفظ یقینی بنائیں، لوکل سطح پر عوام کے جتنے جائز مسائل ہیں انکو حل کریں، عوامی مسائل کے حل کے لیے میں نے ڈی سی آفس سے ملاقات کے کیے وقت مانگا، ڈی سی کی پی اے نے ہمیں مقررہ دن آفس آنے کا ٹائم دیا، جب میں ڈی سی آفس مقررہ وقت پر پہنچا تو ڈی سی صاحب کہنے لگے آپ میرے آفس کیا کر رہے ہیں.

    درخواست کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈی سی صاحب غصے میں مزید کہا کہ آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے میرے آفس کیوں آئے ہیں، میں نے ڈی سی صاحب کو بتایا کہ اپنے ذاتی مسلے کے لیے نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے آیا ہوں، آپ ہماری بات سن لیں اگر وہ جائز اور فوری نوعیت کے حل طلب نہ ہوں تو رد کر دیں، آپ کے فرائض میں شامل ہے کہ عوامی مسائل کو حل کیا جائے، لیکن وہ ہماری بات سننے کو تیار نہیں تھے، جس سے میرا اور اس معزز ایوان کا استحقاق مجروع ہوا ہے، سپیکر کی اس حوالے سے متعدد رولنگ موجود ہیں، میں عوامی منتخب نمائندہ ہونے کے ناطے یی میرا فرض ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشش کروں، مگر ڈی سی گوجرانولہ کے رویے سے میرا استحقاق مجروح ہوا ہے.

  • پولیس کو رشوت دینے کا معاملہ، مجرم کی سزا کو کم کردیا گیا

    پولیس کو رشوت دینے کا معاملہ، مجرم کی سزا کو کم کردیا گیا

    ایک نشئی ڈرائیور نے گرفتاری سے بچنے کیلئے پولیس آفیسر کو دو سو ڈالر کی رشوت کی پیش کردی.

    مئی 2019 میں ستائیس سالہ نیوزی لینڈ میں‌ مقیم گوروندر سنگھ نامی شخص کو شراب کے نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے روکا گیا تھا، اس نے لیگل مقدار سے زیادہ شراب پی ہوئی تھی، اس نے پولیس آفیسر کو گرفتاری سے بچنے کیلئے دو سو ڈالر رشوت دینے کی کوشش کی تھی، سنگھ نیوزی لینڈ میں ورک ویزہ ہولڈر ہے.

    دسمبر 2020 میں،فروری میں سزا سنانے سے پہلے اس کو عدالتی سماعت کیلئے تین ماہ تک اندر رکھا گیا تھا، سنگھ کو چھ ماہ کیلئے گھر میں رہنے کی سزا دی گئی تھی، اس کو ایک سو ستر ڈالر کا جرمانہ کیا گیا تھا، اس کو چھ ماہ کیلئے ڈرائیونگ کرنے سے بھی معطل کردیا گیا تھا.

    سنگھ نے سزا کے خلاف اسانی حقوق کے ٹرائبیونل میں اپیل دائر کی کہ میں انڈیا واپس نہیں جا سکتا ہوں، یہ میرے اوپر ایک ظلم ہوگا.

    سنگھ نے نیوزی لینڈ آنے کے بعد بزنس مینجمینٹ کا ڈپلومہ کیا تھا، اس میں اس کا لیول 5 ہے، لیول 6 پر قومی بزنس مینجمینٹ کا ڈپلومہ کیا تھا، اس کے والدین اور دو بہنیں بھارت میں ہی ہیں.

    اس نے جو کام نہ کرنے خلاف جو اپیل دائر کی ہے اس پر اس کے دوستوں اور ساتھ کام کرنے والوں نے کہا ہے کہ وہ ایک نرم دل انسان ہے، محنتی اور قابل اعتماد ہے، وہ اپنے گھر والوں کی مالی مدد بھی کرتا ہے، کرونا وبا کے دوران اس نے دوسری نوکری ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے.

    جب ٹربیونل کو معلوم ہوا کہ وہ پچھلے سات سال سے نیوزی لینڈ میں مقیم ہے، اس کی تعلیم اور کام کا تجربہ اور کمیونٹی کی مداخلت سے ظاہر ہوا کہ اس سے بہتر کوئی نہیں ہے، جو یہاں‌ پڑھائی اور کام کرسکے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ سنگھ کا بھارت میں گھریلو ماحول ٹھیک نہیں تھا، کرونا کی وجہ سے پریشان تھے، اس نے یہاں کہ لوکل ماحول، تعلیم، اچھے کام کے تجربہ سے بھارت میں کوئی نوکری کی درخواست نہ دے.

    سنگھ نے کہا کہ اگرمیں کچھ کما نہیں سکوں گا تو انسنای حقوق کی خلاف کر لوں گا اس سے مجھے خوف آرہا ہے.

    عدالت نے اس کے سات سالہ کردار کو دیکھتے ہوئے تین ماہ کیلئے اس ڈرائیونگ نہ کرنے کی پاپندی لگا دی ہے.

  • اتحاد ٹائون انویسٹی گیشن پولیس کا شادی شدہ خاتون کو بازیاب کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتارکرنے کا دعوی

    اتحاد ٹائون انویسٹی گیشن پولیس کا شادی شدہ خاتون کو بازیاب کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتارکرنے کا دعوی

    اتحاد ٹائون انویسٹی گیشن پولیس نے شادی شدہ خاتون کو بازیاب کرتے ہوئے ایک مبینہ ملزم کو گرفتارکرنے کا دعوی کیاہے۔تفتیشی افسر شوکت اعوان کے مطابق بازیاب کرائی جانے والی وجیہہ کے شوہر نے اغوا کا مقدمہ درج کر ایا تھا پولیس نے شاہ فیصل سے وجیہہ کو بازیاب کرالیاہے۔
    دوران تفتیش معلوم ہوا کہ وجیہہ ملزم مظہر شاہ کے گھر میں اس کی بیٹی کی حیثیت میں رہے رہی تھی،خاتون کی پانچ سال قبل گل ولی سے شادی ہوئی تھی،خاتون بے اولاد تھی جس کے باعث ساس طعنے دیتی تھی،خاتون طعنوں سے تنگ آکر شاہ فیصل کالونی میں مظہرشاہ کے گھر چلی گئی تھی، مظہر شاہ کے گھر رو رو کر پناہ کی التجاء کی جس پر مظہر شاہ نے اسے اپنی بیٹی بنا کر پنا ہ دیدی تھی ، تاہم پولیس واقعے کی مزید تفتیش کررہی ہے ۔

  • نور مقدم کیس، روک سکو تو روک لو، تھیراپی ورکس کی 2 نمبری پکڑی گئی. ایک اور گرفتاری، کیس سے توجہ ہٹانے کے ہتھکنڈے شروع. بڑا پینڈور بکس کھلنے والا ہے

    نور مقدم کیس، روک سکو تو روک لو، تھیراپی ورکس کی 2 نمبری پکڑی گئی. ایک اور گرفتاری، کیس سے توجہ ہٹانے کے ہتھکنڈے شروع. بڑا پینڈور بکس کھلنے والا ہے

    سیئینر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سب کو یوم آزادی مبارک ہو، بہت خوشی کا دن ہے، اس دن ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اللہ نے کتنا ہمیں خوش نصیب کیا کہ ہم بھی اسی طرح ہوتے جس طرح آج ہندوستان میں مسلمانوں کا حال ہے، مودی وہاں پر جس طرح سے ظلم کررہا ہے، اس طرح چودہ اگست کی بہت زیادہ قدر ہوتی ہے، ایک دل خراش بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کا ایمان ڈولتا رہتا ہے، کبھی کمزور دل ہوتے ہیں، کبھی مجبور ہوتے ہیں، کسی نہ کسی وجہ سے ایمان ڈولتا رہتا ہے.

    مبشر لقمان نے مزید کہا ہے کہ نور مقدم کیس میں ایک نیا واقعہ سامنے آگیا ہے، تفتیش ہونے کے بعد میں آپ کواس کی تفصیلات دینے جا رہا ہوں، جس میں لگتا ہے کہ پیسے کا زورایک دفعہ چل گیا ہے، اور کہاں پر چلتا ہے اور چلے گا وہ آپ کو بتا دوں‌ گا، ابھی ایک جگہ پر چلا ہے، بھرپور طریقے سے ایک خاندان کی چمک اور دھمک چل گئی ہے، اس کیس میں متعدد پرچے ہونے چاہیں تھے، ایک پرچہ قتل کا جو کہ ہوگیا ہے، دوسرا وحشیانہ قتل کا جو کہ وہ بھی ہے، تیسرا ہپسے بے جا میں رکھنے کا، چوتھا اغواء کا، پانچواں جب تھیراپی ورکس والے آئے تو ان کا ایک لڑکا اوپر گیا تو ظاہر جعفر نے اس پر متعدد چاقو کے وار کیے تھے اس پراقدام قتل کا پرچہ، اس پورے کیس میں وہ پرچہ نہیں‌ ملتا ہے، تھیراپی ورکس کے لڑکے پر چاقو کے وار کرنے کا پرچہ نہیں ہے، اس پرچہ کی رپورٹ ہی نہیں ہے، جب رپورٹ ہی نہیں ہے تو پولیس پرچہ کیسے کرے گی، پولیس کو مدعی چاہیے، کیونکہ یہ انجان جگہ پر ریاست کی مدعیت میں نہیں ہے.

    مبشر لقمان نے مزید کہنا تھا کہ تھیراپی ورکس والے نے پولیس کو بتایا کہ مجھے ایک نشئی نے مجھے چاقو سے مارا ہے، میں‌ تیھراپی ورکس میں کام کرتا ہوں، میرا کام نشئی افراد سے ڈیل کرنا ہے، اس نے نشئی کا نام نہیں لیا ہے، یہ مجرمانہ کیس نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ چمک دھمک لگ گئی ہے، جب تھیراپی ورکس والا زخمی ہوا تو اسے پہلے پرائیویٹ ہسپتال میں لے گئے تھے، اس کو ایف 10 میں کلثوم ہسپتال میں لے کر گئے تھے، کلثوم ہسپتال کی انتظامیہ نے اس کو دیکھ کر کہا کہ یہ چاقو کے وار ہیں، مجرمانہ کیس ہے ہم اس کو ڈیل نہیں کرسکتے ہیں، آپ یا تو پولیس کو بلا لیں یا سرکاری ہسپتال لے جائیں.

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ وہاں سے اس کو پیمز ہسپتال لے جایا گیا تھا، جس پر چاقو کے متعدد وار کیے گئے ہیں اس کو جگہ جگہ لے کر جایا جارہا تھا، خدانخواستہ خون کے مسلسل بہنے کی وجہ سے اس کی موت بھی واقع ہوسکتی تھی، لیکن جو حکم ملا ہے وہ پورا کیا جارہا تھا، ہر سرکاری ہسپتال میں پولیس کے کاؤنٹرز موجود ہیں، بلکہ ڈی ایچ کیو میں‌ بھی موجود ہوتے ہیں، پیمز میں‌ ڈاکٹرز کے پوچھنے پر تھراپی ورکس والوں‌ نے کہا کہ ہم نے اس کا میڈیکولیکل ٹیسٹ نہیں کروانا ہے، کیونکہ جب میڈیکولیکل ہوتا ہے تو پولیس اس میں شامل ہوتی ہے اور پولیس اس کی تفتیش بھی کرتی ہے، اس میں پولیس کی کاروائیاں بھی شامل ہوتی ہیں، اس کے بعد انہوں اس کا علاج شروع کردیا تھا، اس وقت بھی وہ آدمی زیرعلاج ہے.

  • رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے شرعی پردہ شروع کر دیا

    رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے شرعی پردہ شروع کر دیا

    رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے شرعی پردہ شروع کر دیا.
    تفصیلات کے مطابق ماضی میں ہم نے کئی بار دیکھا کہ معروف اداکارائیں اور ماڈلز فیشن کی دنیا چھوڑ کر اسلام کی طرف راغب ہوئیں اور آئندہ زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنے کا فیصلہ کیا۔کئی ایسی اداکارائیں بھی ہیں جنہوں نے شوبز کی دنیا کو خیرباد کہہ کر باپردہ رہنے کا فیصلہ کیا۔
    اور اب معروف سیاسی خاتون رہنما نصرت سحر عباسی نے بھی بقیہ زندگی باپردہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ویڈیو پیغام کے ذریعے شرعی پردے پر وضاحت بھی پیش کی۔ نصرت سحر عباسی نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اللہ پاک نے مجھے ہدایت دی ہے۔پہلے فل میک کر کے گھومنا اور پھر اس طرح سے پردہ کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن اللہ آسان کرواتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ جب دل میں ڈال دے تو پھر دنیا کی پرواہ نہیں ہوتی،ہم سب کو پتہ ہے ہم نے مرنا ہے،اللہ نے مجھے بھی ہدایت دے دی ہے۔

    ہدایت کسی کو بھی اچانک مل سکتی ہے۔ کئی لوگ اچانک اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ مجھے بھی ایمان ملا ، ہدایت ملی، اللہ کا شکر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگ میرے پردے پر تنقید کی بجائے مثبت انداز میں لیں۔