Baaghi TV

Author: +9251

  • استعفے اور ملکی مفاد حصہ اول تحریر : راجہ حشام صادق

    لازوال محبتوں بھرا رشتہ ماں باپ جو اپنے بچے کے بہتر اور روشن مستقبل کے لیے کچھ تلخ فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ماں باپ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے عزیزو اقارب کو ان کا کیا گیا فیصلہ پسند آئے یا نہیں ۔ بس وہ کر گزرتے ہیں جو اپنی اولاد کے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔ بلکل اسی طرح ملک کا جو سربراہ ہوتا ہے اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں ملک کو بہتر اور مستحکم بنانے کے لیے اچھے سے اچھے فیصلے کرے۔

    کسی بھی ملک کا سربراہ باپ کی حیثیت رکھتا ہے اور ایک باپ کے فیصلے اپنے گھر اپنی دھرتی ماں کے لیے ہی ہونے چائیں۔بھلے پھر ملکی مفاد کے لیے اسے کوئی کڑوا فیصلہ ہی کیوں نا کرنا پڑے۔ ہم نے گزشتہ تین سالوں میں ملکی مفاد کے حق میں ایسے فیصلے ہوتے دیکھیں ہیں۔
    جس کی مثال گزشتہ حکومتوں کے دور میں نہیں ملتی۔

    کپتان بائیس سالوں کی جدوجہد کے بعد جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم بنے تو سب سے پہلے انھوں نے قوم کو اپنے منشور کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انھیں یہ بات باخوبی بتائی کہ میری ذات اس عہدے کو سنبھالنے کے بعد جو بھی فیصلے کرے گی وہ ملکی مفاد کے لیے ہونگے۔ میرے لیے سب سے پہلے پاکستان کے مفاد ہونگے انھیں حاصل کرنے کے لیے اگر مجھے میرے کسی اپنے کے خلاف بھی جانا پڑا تو جاؤں گا۔

    ان تین سالوں میں ہمیں یہ بھی دیکھنے کو ملا کے کپتان نے اقتدار سنمبھالنے کے بعد اپنے کئی فیصلوں میں یوٹرن لیا۔یا یہ کہ لیں کہ اپنا فیصلہ تبدیل کیا کیونکہ وہ ملکی مفاد میں نہیں تھا۔اسی وجہ سے وہ اپوزیشن کی تنقید کا بھی نشانہ بنے رہے اپوزیشن کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کیا سنبھالے گا جب اپنے ہی کئے گئے فیصلوں پر بار بار یوٹرن لے لیتا ہے۔

    قارئین میرا تو ماننا ہے کہ انسان سے اگر کوئی غلط فیصلہ ہو جائے تو اس پر یوٹرن لے لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ اپنے ایک غلط فیصلے سے وہ اپنا اور دوسروں کا نقصان کر بیٹھے اور یقین جانیں ہمارے بہادر اور نڈر وزیراعظم عمران خان نیازی کی سوچ اس سے بھی کہیں آگے کی ہے جو ہر وقت اپنے ملک اور عوام کے مفاد کے لیے سرتوڑ محنت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس بات کا باخوبی اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کپتان نے تین سالوں میں حکومت میں کئی وزراء سے استعفے بھی لیے گئے اور انھیں ان کے عہدوں سے دستبردار کر دیا گیا۔

    مسلم لیگ ن کے دورے حکومت میں ہم نے تو یہ بھی دیکھا کہ اپوزیشن استعفے کا کہتی تو ن لیگ والے مذاق اڑاتے تھے کہ لو گے استعفے وہ طلال چھودی اور باقی سارے اور یہی کیوں خود نواز شریف کو جب تک عدالت نے گھر نہیں پھیجا اس نے استعفہ نہیں دیا تھا۔
    پھر گلی گلی کہتا رہا مجھے کیوں نکالا۔

    کپتان نے جو استعفے مانگے اس کی وجہ ہی یہ تھی کہ وزراء نے اپنے عہدوں کا صحیح حق ادا نہیں کیا تھا۔ ان میں وہ وزراء بھی شامل تھے جو بہت حد تک کپتان کو عزیز تھے پر کپتان نے اپنے تعلقات سے ہٹ کر ملکی مفاد میں فیصلے لیے۔آپ سابقہ وزیر خزانہ اسد عمر کی ہی مثال لے لیں جنہوں نے کپتان اور اپنی پارٹی کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ پر جب ان سے بھی ان کی وزارت نا سنمبھالی گئی اور کپتان کو محسوس ہوا کہ ملک میں مہنگائی پر قابو نہیں پایا جارہا اور ملکی خزانے کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا تو انہوں نے اسد عمر سے بھی استعفیٰ طلب کرلیا تھا۔

    وجہ صرف ملکی مفاد تھی اور اس کے متعلق کپتان کا جو فرض تھا وہ ادا کیا۔ کپتان نے اپنے ہر عمل سے یہ بات ثابت کی کہ جو وعدے انہوں نے اپنی قوم سے کیے ہیں وہ وعدے وہ بھولے نہیں ہیں۔

    جمہوری حکمرانوں میں اسی طرح ہم نے اس سے قبل نہیں دیکھا۔اور نہ ہی سابقہ حکمرانوں میں کبھی کسی کو ملکی مفاد کے حوالے سے ایسے اقدامات کرتے دیکھا۔کوئی بتائے ہمارے سابقہ وزیراعظم نے اپنے کسی چہیتے وزیر سے ناقص کارکردگی پر استعفے کا مطالبہ کیا ہو؟ وجہ ان کا اصل مقصد وطن عزیز کو لوٹنا تھا ملکی مفاد کے لیے کام کرنا نہیں تھا۔

    اللہ پاک کپتان کو سلامت رکھیں اور وہ اس ملک کے لیے مزید اچھے اچھے فیصلے کریں۔آمین

    @No1Hasham

  • طالبان افغانستان کے فاتح تحریر  : راجہ ارشد

    طالبان افغانستان کے فاتح تحریر : راجہ ارشد

    افغان طالبان کا افغانستان کا کنٹرول سنبھال لینے سے ہمارے ملک کو کیا فائدہ ہو گا یا کیا نقصان ہوگا۔طویل عرصہ جنگ کرنے کے بعد دنیا کی طاقتور فوج کو شکست دینے کے بعد ایک بار پھر طالبان مکمل عروج کے ساتھ افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے میں خاطر خواہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

    ہمارے ملک کے لیے بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ طالبان کا افغانستان پر مکمل کنٹرول افغانستان میں امن لائے گا بلکہ میں تو کہوں گا کہ پاکستان میں بھی امن لائے گا۔ہمارے روائیتی حریف بھارت کے لئے ایک برا خواب ہے۔جو افغانستان سے ہو کر پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیاں کرواتا تھا۔طالبان کے ہوتے ہوئے تو اب بلکل بھی نہیں کروا پائے گا۔

    طالبان نے بھی علان کیا ہے کہ ایک تو عام معافی اور دوسرا کہ ہم اپنے ملک کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان ایجنسی این ڈی ایس مل کر جو وطن عزیز میں کاروائیاں کرواتے تھے سرحد پار سے خفیہ اڈوں سے حملے کروا کر ہماری پاک فوج کے جوانوں کو شہید کیا جاتا تھا۔اب پاکستان کو ان سب کاروائیوں سے کافی حد تک نجات ملے گی ان شاء اللہ

    افغانستان میں بیٹھ کر عالمی طاقتیں جو دہشتگردوں کی ڈوریں ہلاتی تھی اور ہمارے ملک میں پی ٹی ایم یا اس جیسی دشمن قوتوں کو متحرک کرتی تھی جو پاکستان میں بدامنی اور انتشار پھیلاتی تھی۔افغانستان کا مکمل کنٹرول طالبان کے پاس چلا جائے تو یقینی طور پر پاکستان میں بدامنی اور انتشار پھیلانے والے عناصر کو بھی لگام ڈالی جا سکے گی۔سب سے بڑھ کر تو افغان بارڈر سے جو غیر قانونی تجارت ہوتی تھی اس پر کنٹرول ہو گا۔

    ہمارے ہمسایہ اور روائیتی حریف ملک بھارت کی کھربوں کی انویسمنٹ جو کے ہمیں نیچا دکھانے کے لیے کی گئی تھی وہ ضائع ہو جائے گی۔ ہماری طالبان کے ساتھ بھائی چارے والی بات قائم رہی تو ان شاء اللہ سی پیک کو بھی بہت فائدہ ہو گا۔ہم افغانستان کے ذریعے اور افغانستان ہمارے زریعے اپنی معیشت کو نمایاں مقام پر کھڑا کر سکتا ہے۔

    طالبان کے کنٹرول کے بعد ہم افغان بارڈر سے بے فکر ہو جائیں اور اپنی باقی سرحدوں کی حفاظت صحیح طریقے سے کر سکیں گے۔بارڈر پار سے اگر دراندازی بند ہو جائے تو پاکستان کو اندرونی معاملات سنبھالنے میں آسان ہو گی۔پورا دن بھارتی چینل اور افغانستان کی بوکھلائی ہوئی اشرف غنی حکومت جو مکمل بھارتی ایجنسی را اور امریکہ کی اشیرواد سے چلتی تھی گزشتہ چند ہفتوں سے سخت بوکھلائی ہوئی تھی۔اور انتہائی اوچھے قسم کے ہتھکنڈے بھی کر رہی تھی۔

    اشرف غنی حکومت بار ہا بار افغانستان امن کو سبوتاژ کرتی رہی ہے پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام لگانا اور پھر افغانستان سفیر کی بیٹی کا چھوٹے اغوا کا ڈرامہ رچانہ بھی سازش کا حصہ تھا۔

    بہرحال طالبان افغانستان کے فاتح ہیں اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پہلے ہی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ پاکستان ہر اس افغان حکومت کو خوش آمدید کرے گا جس کو وہاں کی عوام منتخب کرے گی۔

    ان شاء اللہ پاکستان عمران خان کی قیادت میں تمام سازشوں کے عناصر پر قابو پا لیں گے ۔اللہ پاک ہمارے پیارے ملک کو دشمنوں کی سازشوں سے بچائیں اور مستقبل قریب میں ترقی اور خوشحالی پاکستان اور افغانستان کا مقدر بنیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

    تحریر : راجہ ارشد

    @RajaArshad56

  • اگر پی ڈی ایم نے کراچی کی سرزمین پر پیپلزپارٹی کے ظلم کیخلاف آواز بلند نہیں کی تو کراچی والے بھرپور جواب دینگے، مصطفی کمال

    اگر پی ڈی ایم نے کراچی کی سرزمین پر پیپلزپارٹی کے ظلم کیخلاف آواز بلند نہیں کی تو کراچی والے بھرپور جواب دینگے، مصطفی کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ اگر پی ڈی ایم نے کراچی کی سرزمین پر پیپلزپارٹی کے ظلم کیخلاف آواز بلند نہیں کی تو کراچی والے بھرپور جواب دیں گے۔ شہباز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی کے سندھ پر بالعموم اور کراچی حیدرآباد پر بالخصوص مظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی تو واضح ہو جائے گا کہ پی ڈی ایم کا مقصد صرف اقتدار ہے عوام نہیں ہے۔
    29 اگست کو پی ڈی ایم قیادت نے پیپلز پارٹی کے ظلم کیخلاف آواز بلند نہیں کی تو پی ایس پی پہلے کی طرح ایک بار پھر عین اسی جگہ جہاں پی ڈی ایم کی 11 جماعتیں جلسہ کریں گی وہاں اکیلے دوبارہ کراچی والوں کی جانب سے پہلے سے بڑا جلسہ منعقد کرے گی۔
    کراچی کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، غیر منتخب ایڈمنسٹریٹر مسلط کرکہ کراچی کی ملکیتوں کو زرداری کی ملکیتوں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔

    کراچی میں کورونا وائرس ٹائم ٹیبل کے تحت حملہ کرتا ہے۔ پورے شہر کے صنعتکار اور تاجر ہم سے رابطے میں ہیں اور بھرپور تعاون کی پیشکش کر رہے ہیں۔ کراچی کی تاجر برادری کو نامساعد حالات میں کاروبار کرنے اور لوگوں کے گھروں کے چولہے جلائے رکھنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برنس روڈ پر فریسکو چوک پر آل سندھ تاجر اتحاد کی دعوت پر جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا۔
    اس موقع پر وائس چیئرمین ڈاکٹر ارشد وہرا اور بزنس فورم کے صدر قمر آختر نقوی بھی موجود تھے۔ سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ علامتی آزادی کا جشن کیسے منایا جائے جب 74 سال بعد بھی ظالم حکمران قوم کو پینے کا پانی، ادویات، تعلیم، روزگار، ٹرانسپورٹ دینے کو تیار نہیں۔ جس مقصد کے حصول کے لیے ہمارے آبا اجداد نے قربانیاں دیں تھی وہ مقاصد آج تک حاصل نہیں ہوئے۔
    آزادی سے پہلے مساجد یا امام بارگاہوں پر نہیں بلکہ عوام کے حقوق پر پابندی تھی۔ ہمارے پرکھوں نے قربانیاں اس لیے نہیں دیں تھیں کہ ملک کو زرداریوں کی جاگیر بنا دیا جائے۔ قوم کو نا آزادی سے پہلے حقوق حاصل تھے اور نا آزادی کے 74 سال بعد حاصل ہیں۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ایک اور نسل کو قربانی دینے کے لیے تیاری کرنی ہوگی۔
    میں شہباز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان کو آواز دے کر کہتا ہوں کہ کراچی کی سر زمین پر آئیں تو پیپلز پارٹی کے مظالم کے خلاف آواز بلند کریں۔ سندھیوں پر پیپلز پارٹی شدید ظلم کررہی ہے لیکن تمام سندھی دانشور اور سیاستدان خاموش ہیں۔ میں اپنے سندھی بھائیوں سے کہتا ہوں کہ پاک سر زمین پارٹی ظلم کیخلاف کسی صورت خاموش نہیں رہے گی۔ ہم ظالم کے ظلم کیخلاف بند باندھیں گے یا مرجائیں گے لیکن قوم کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔

  • ملیر میمن گوٹھ میں گھر میں فائرنگ سے باپ بیٹی جاں بحق

    ملیر میمن گوٹھ میں گھر میں فائرنگ سے باپ بیٹی جاں بحق

    ملیر میمن گوٹھ میں گھر میں فائرنگ سے باپ بیٹی جاں بحق ہوگئے۔

    ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کے مطابق ملیر میمن گوٹھ میں گھر میں فائرنگ سے جاں بحق باپ بیٹی کی شناخت 50 سالہ غلام حیدر اور 20 سالہ بشریٰ کے نام سے ہوئی جب کہ فائرنگ سے 17 سالہ زینب زخمی بھی ہوئی۔

    مقتول کی بیوی نے پولیس کو بتایا کہ غلام حیدر تعویذ گنڈے کرتا تھا،کچھ روز قبل اس کے عمل سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئی تھی جس کے شوہر نے غلام حیدر سے بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی، رات گئے ملزم گھر میں آیا اور فائرنگ کردی۔

    خاتون کے مطابق فائرنگ کرنے کے بعد ملزم وہاں سے فرار ہوگیا۔

  • ایف آئی اے نے بلیک میلنگ اور ہراسانی میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا

    ایف آئی اے نے بلیک میلنگ اور ہراسانی میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا

    ایف آئی اے سائبرکرائم نے بلیک میلنگ اور ہراسانی میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیاہے۔ایڈیشنل ڈائریکٹرایف آئی اے سائبر کرائم سندھ زون عمران ریاض کے مطابق کراچی میں کارروائی کے دوران شان قریشی نامی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے جو بلیک میلنگ، ہراسانی اور خاتون متاثرہ کی فحش ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے میں ملوث تھا۔
    متاثرہ خاتون نے شکایت درج کرائی کہ اسے سوشل میڈیا (واٹس ایپ اور فیس بک)پر فحش ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے ہراساں کیا گیا اور بلیک میل کیا گیا، عمران ریاض کے مطابق سے ملنے والے ڈیجیٹل آلات میں موجود فحش مواد برآمد ہوا ہے۔

  • پہلے کی نسبت طالبان مزید مضبوط ہوکر آ گئے

    پہلے کی نسبت طالبان مزید مضبوط ہوکر آ گئے

    2001 سے شروع ہونے والی بیس سال کی طویل جنگ کا بالآخر اختتام ہوگیا ہے، خون سے آلود جنگ ختم ہوگئ ہے، جن کا علاقہ تھا انہوں نے واپس اپنے قبضہ میں لے لیا ہے، اس جنگ میں لاتعداد جانوں کا ضیاع ہوا ہے، معصوم بچوں سے لیکر بزرگ افراد کو بغیر کسی وجہ سے اس جنگ میں امنی جان دینا پڑی ہے، مغرب سے آنے والی فوج نے کھربوں ڈالر کا بجٹ لگا دیا ہے، حاصل شکت ہوئی ہے.

    2001 میں افغانستان پر طالبان نامی افراد کے ہاتھ میں حکومت تھی، سوویت یونین کو شکست کھائے سولہ سال ہوئے تھے کہ امریکہ نے نیٹو اتحاد بنا کر کر 2001 میں حملہ کردیا تھا، اس وقت افغانستان پر طالبان کی حکومت تھی، افغانستان کے اہم ترین شہر قندوز، بغلان، مزاری شرف، ہیرات، لشکر گاہ، قندھار، غزنی، جلال آباد اور کابل افغان طالبان کے زیر قبضہ تھے، اس کے علاوہ افغانستان کے اندرونی شہر پر مقابلہ ہورہا تھا، تاجکتستان اور قندوز اور بغلان کے درمیان کا علاقہ حکومت کے زیر اثر چل رہا تھا، اس دور میں‌ افغانستان کے 80 فصد علاقہ پر طالبان حکومت کررہے تھے.

    حالیہ صورتحال یہ ہے کہ بیس سال کی طویل جنگ کا اختتام ہوا ہے، اس طویل جنگ کے بعد طالبان نے افغانستان پر مکمل قبضہ کرلیا ہے، اس وقت طالبان نے صوبائی دارالحکومت کے شہروں‌ پر بھی قبضہ کرلیا ہے، ان دارالحکومتوں میں صوبہ وردک کے دارالحکومت میدان، صوبہ لغمان کے دارالحکومت میتھارلم، صوبہ کنڑ کے دارالحکومت اسدآباد، صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد، صوبہ کھوسٹ کے دارالحکومت کھوسٹ، صوبہ پکتیکہ کے دارالحکومت شاران، صوبہ ڈے کنڈی کے دارالحکومت نیلی پر طالبان نے اپنا قبضہ جما لیا ہے، کابل کے ملحقہ چند ایک علاقے حکومت کے زیر قبضہ ہیں، ان علاقوں میں حکومت کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے.

  • ماحولیات پر بنی ’لیاری گرلز کیفے‘ کی دستاویزی فلم نے ایوارڈ جیت لیا

    ماحولیات پر بنی ’لیاری گرلز کیفے‘ کی دستاویزی فلم نے ایوارڈ جیت لیا

    کراچی کے علاقے لیاری میں قائم سماجی ادارے ’لیاری گرلز کیفے‘ کی تربیت یافتہ لڑکیوں کی جانب سے ماحولیات پر بنائی گئی مختصر دستاویزی فلم نے پاکستان میں موجود جرمن سفارت خانے کے فلم فیسٹیول میں ایوارڈ جیت لیا۔’ڈان اخبار‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق جرمن سفارت خانے اور جرمن قونصلیٹ کراچی کی جانب سے کرائے گئے دستاویزی فلم فیسٹیول ’گرین اٹ‘ میں لیاری کی لڑکیوں کی جانب سے بنائی گئی مختصر دستاویزی فلم نے تیسرا بڑا ایوارڈ جیتا۔
    ’گرین اٹ‘ فلم فسٹیول کی تقریب کراچی قونصلیٹ میں منعقد ہوئی، جس میں ایوارڈ یافتہ فلموں کی ٹیم سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔’گرین اٹ‘ فلم فیسٹیول میں کے پہلے دو بڑے ایوارڈز گلگت بلتستان کی دستاویزی فلموں نے جیتے، جب کہ تیسرا ایوارڈ ’لیاری گرلز کیفے‘ کی تربیت یافتہ لڑکیوں کی جانب سے ماحول پر بنائی گئی دستاویزی فلم نے جیتا ۔
    ایوارڈز تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن قونصل جنرل ہوگلر زیگلر نے بتایا کہ فلم فیسٹیول منتظمین کو پاکستان بھر سے 52 دستاویزی فلمیں موصول ہوئی تھیں، جن میں سے کچھ ڈاکیومینٹریز کو سوشل میڈیا کے ذریعے مداحوں کے ووٹوں سے شارٹ لسٹ کیا گیا۔

    ایوارڈز کے لیے منتخب ہونے والی تین بہترین دستاویزی فلموں میں دو گلگت بلتستان کینوجوان فلم سازوں کی جانب سے بنائی گئی ڈاکیومینٹریز تھیں جب کہ تیسری بہترین فلم کا ایوارڈ لیاری کی لڑکیوں کی فلم نے جیتا۔لیاری کیفے گرلز نامی سماجی تنظیم کی لڑکیوں کی جانب سے بنائی گئی دستاویزی فلم کی ہدایات سحرش ترک نے دی تھیں اور ان سمیت دیگر ٹیم ارکان کو فیسٹیول میں ایوارڈ دیا گیا۔

  • میرے پاس انٹرنیٹ ہے اور نہ ہی لیپ ٹاپ ، انور مقصود

    میرے پاس انٹرنیٹ ہے اور نہ ہی لیپ ٹاپ ، انور مقصود

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے مشہور ترین مزح نگار، شاعر ، مصنف، ٹی وی میزبان اور مصور انور مقصود نے سوشل میڈیا پر اپنے نام سے منسوب اکائونٹ سے خبر دار کردیا۔انور مقصود کا ایک ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر زیرگردش ہے جس میں وہ اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے نام سے کئی لوگ سیاسی رہنمائوں کے بارے میں مختلف ٹوئٹس کر رہے ہیں۔
    انہوں نے واضح کیا کہ میرے پاس نہ لیپ ٹاپ ہے ، نہ انٹرنیٹ ہے اور نہ ہی کوئی اسمارٹ فون ہے۔انور مقصود نے اپنے ہاتھ میں پکڑا سادہ فون دکھاتے ہوئے کہا کہ میرے پاس یہ سب سے پرانا ٹیلی فون ہے، جس میں میسج بھی مشکل سے ہوتا ہے کیونکہ مجھے میسج کرنا نہیں آتا ۔انہوں نے کہا کہ میں ان تمام بڑے لوگوں سے معافی چاہتا ہوں جنہیں میری وجہ سے تکلیف ہورہی ہے، میرا کوئی اکائونٹ نہیں ہے ۔انور مقصود نے کہا کہ جو لوگ میرے نام سے منسوب جعلی اکائونٹس بنا رہے ہیں ان سے درخواست ہے کہ ایسا نہ کریں،میں پچھلے 50 سال سے انڈسٹری میں ہوں، میں نے کبھی کسی کے لیے غلط الفاظ استعمال نہیں کیے۔

  • بشریٰ انصاری نے آزادی کا صحیح مقصد بتا دیا

    بشریٰ انصاری نے آزادی کا صحیح مقصد بتا دیا

    پاکستان کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری کی جانب سے گزشتہ روز یوم آزادی کے موقع پر سوشل میڈیا پر اپنا ایک ویڈیو پیغام قوم کے نام شیئر کیا گیا ہے. ویڈیو میں قوم کو یوم آزادی کی مبارک باد دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ہم ہر یوم آزادی پر بہت اچھی باتیں کرتے ہیں، بہت اچھے کپڑے پہنتے ہیں مگر اصل میں ہم سب اپنے وطن کے لیے کچھ بھی نہیں کرتے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ ’ہم صرف اپنے سیاست دانوں اور حکمرانوں کو برا بھلا کہتے ہیں، تھوڑا بہت اپنے بارے میں بھی سوچنا چاہیے کہ ہم خود کیا کرتے ہیں، مگر ہم اپنی ذمہ داری پر کوئی دھیان نہیں دیتے ہیں۔بشریٰ انصاری کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ ہم نے تعلیم کے لیے یا پاکستان کی بڑھتی آبادی کم کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے، ہمیں اپنی آبادی کے لیے ہی سوچنا چاہیے کہ اگر وسائل کم اور آبادی زیادہ ہوگی تو ملک کیسے چلے گا، تعلیم ضروری ہے مگر ملک میں اس وقت اور بھی بہت سے شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔
    بشریٰ انصاری نے کہا کہ صرف باتیں نہیں بنانی ہیں ملک کے لیے کچھ مثبت بھی کرنا ہے، اپنے ملک کے باسیوں کا خیال کرنا ہے مدد کرنی ہے اور آنے والے مستقبل کے لیے کچھ اچھا سوچنا۔اٴْن کا ویڈیو میں کہنا تھا کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے سوچنا چاہیے اور ایسی نسلیں تیار کرنی چاہئیں کہ جو پاکستان کو آگے لے کر چلیں اور اس کا مستقبل پہلے سے بہتر بنائیں۔بشریٰ انصاری کا اپنی ویڈیو میں قوم کو آزادی کی مبارک باد دیتے ہوئے پیغام میں کہنا تھا کہ ’آپ سب کو یوم آزادی بہت بہت مبارک ہو، اللّٰہ کرے آنے والی چودہ اگست اس سال سے کافی بہتر ہو، اپنے ملک کی بھلائی کے لیے قدم اٹھائیں ترقی میں مدد کریں۔

  • اسماء سفیر ودیگر رہنماؤں کی معراج خان سواتی کے غمزدہ خاندان سے ملاقات و اظہار تعزیت

    اسماء سفیر ودیگر رہنماؤں کی معراج خان سواتی کے غمزدہ خاندان سے ملاقات و اظہار تعزیت

    جماعت اسلامی (حلقہ خواتین )کراچی کی ناظمہ اسماء سفیر معتمدہ کراچی فرح عمران ،ناظمہ ضلع ملیر جمیلہ عبد الرحمن اور ان کی ٹیم کے ہمراہ معراج محمد خان سواتی کے غمزدہ خاندان سے ملاقات اور اظہارِ تعزیت کیا اور دعا کی کہ اللہ مرحومین کی مغفرت کرے اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
    ملاقات میں ناظمہ الخدمت ضلع ملیر مریم سراج، نائب ضلع فرزانہ،شبانہ ناظمہ نشرو اشاعت حسین بانو نا ظمہ زون ارم اور ناہید شریک تھیں۔اسماء سفیر نے اپنی تعزیتی بیان میں کہاکہ اللہ اپنے نیک بندوں کی آزمائش کرتا ہے ،ہم اس غم کی گھڑیوں میں آپ کے ساتھ ہیں اور رب تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ آپ کو صبر و استقامت عطا فرمائے۔دریں اثناء مرحومین کے انتقال پر نائب ناظمات کراچی ثناء علیم،شمینہ عتیق،شیبا طاہر،جاویداں فہیم،سمیہ عاصم،اور سیکریٹری اطلاعات ثمرین احمدنے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے لیے مغفرت ،لواحقین وپسماندگان کے لیے صبرجمیل کی دعا کی ہے ۔