Baaghi TV

Author: +9251

  • مواچھ گوٹھ دھماکا، حملے کے وقت ڈرائیور نے کیا دیکھا اپنابیان قلم بند کرا دیا

    مواچھ گوٹھ دھماکا، حملے کے وقت ڈرائیور نے کیا دیکھا اپنابیان قلم بند کرا دیا

    شہرقائد کے علاقے مواچھ گوٹھ میں جس گاڑی پر دستی بم حملہ ہوا اس کے ڈرائیور کا بیان پولیس حکام نے قلم بند کرلیا ہے۔ڈرائیور نے اپنے بیان میں کہاکہ بلدیہ میں شادی کی دعوت سے واپسی پر دھماکا ہوا، حملے کے بعد فوری طور پر پولیس اور ریسکیو کو فون کیا، اس دوران ٹرک کے قریب آتے کسی کو نہیں دیکھا۔
    پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں ڈرائیور نے بتایا کہ دھماکے کی آواز بہت زیادہ تھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، دھماکے کی آواز سنی تو گاڑی روک دی۔ڈرائیو نے کہاکہ میرے ساتھ فیملی کے 2لوگ اور بیٹھے تھے، دھماکے سے گاڑی کا صرف پچھلا شیشہ ٹوٹا۔پولیس کے مطابق مواچھ گوٹھ میں ٹرک پردستی بم حملے کی تحقیقات جاری ہیں، دستی بم ہوا میں ہی پھٹنے سے اموات زیادہ ہوئیں، ٹرک کے فرش پر چھروں کے نشانات نہیں ہیں، زیادہ تر زخمی اور اموات جسم کے اوپری حصے پر چھرے لگنے سے ہوئیں، حملے سے متعلق تحقیقات کررہے ہیں۔

  • معزول افغان صدراشرف غنی افغانستان سے فرار ہوکرتاجکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے

    معزول افغان صدراشرف غنی افغانستان سے فرار ہوکرتاجکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے

    کابل:معزول افغان صدراشرف غنی افغانستان سے فرار ہوکرتاجکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے،کابل سےملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کابل میں افغان حکومت کا حاتمہ ہوچکا ہے اورمعزول افغان صدراشرف غنی کسی غیرملکی طیارے میں‌ بیٹھ کرنامعلوم مقام کی طرف فرار ہوگئے ہیں

    کابل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ امکان یہی ہےکہ یہ امریکہ کے طیارے میں فرارہوئے ہیں، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اس سلسلے میں امریکی حکومت کی درخواست پراشرف غنی کو پہلے تاجکستان پہنچایا جائے گا جہاں معاملات کوایڈجسٹ کیا جائے گا

    ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کابل میں اس وقت غیرملکی کابل ایئر پورٹ کے اندرمحصورہوچکے ہیں اورامریکہ نے افغان طالبان سے ان غیرملکیوں کی جان کی امان افغان طالبان سے مانگی ہے اورکہا ہے کہ ان کو کچھ نہ کہا جائے

    ادھر کابل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اشرف غنی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ فرار ہوئے ہیں ، اوران کی اگلی منزل کا ابھی تک کسی کو کوئی پتہ نہیں تاہم باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق ان کی پہلی منزل تاجکستان ہہے جہاں افغان حکومت کی نئی شکل کے حوالے سے ان کوشریک مذاکرات کیا جائے گا

    دوسری طرف برطانوی میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ معزول افغآن صدرفرارہوکرتاجکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں

  • بلدیہ کورنگی کی جانب سے عشرہ محرم کے جلوسوں کے روٹس کی تعمیر و مرمت اور خصوصی بلدیاتی انتظامات

    بلدیہ کورنگی کی جانب سے عشرہ محرم کے جلوسوں کے روٹس کی تعمیر و مرمت اور خصوصی بلدیاتی انتظامات

    ڈپٹی کمشنر و ایڈمنسٹریٹر کورنگی ڈاکٹر محمد بخش راجہ دھاریجو کی ہدایت پر بلدیہ کورنگی کی جانب سے محرم الحرام کے موقع پر امام بارگاہوں ،مجالس گاہوں اور جلوسوں کے روٹس پر خصوصی بلدیاتی انتظامات کی انجام دیہی کو یقینی بنا یا جارہا ہے ،امام بارگاہوں کے اطراف اور جلوسوں کے روٹس پر سڑکوں کی تعمیر و مرمت ،صفائی وستھرائی اور روشن ماحول کے قیام کو یقینی بنا نے کے لئے بلدیہ کورنگی کا متعلقہ محکمہ شب ور وز مصروف ہے ۔
    میونسپل کمشنر بلدیہ کورنگی محمد فہیم خان نے کہا کہ عزاداروں کو ہر ممکن بلدیاتی سہولیات کی فراہمی کے لئے بلدیہ کورنگی کی جانب سے اقدامات کررہے ہیں مساجد و امام بارگاہوں ،مجالس گاہوں کے اطراف اور عشرہ محرم الحرام کے دوران برآمد ہونے والے جلوسوں کے روٹس پر صفائی وستھرائی ،اسٹریٹ لائٹس کی درستگی روشن ماحول کا قیام اور شاہراہوں کی پیچ ورک کا کام ہنگامی بنیادوں پر انجام دیا جارہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوںنے بلدیہ کورنگی کے متعلقہ محکماجاتی سربراہان کے ہمراہ ڈسٹرکٹ کورنگی کا تفصیلی دورہ کرکے امام بارگاہوں اور جلوسوں کے روٹس کا معائنہ کرتے ہوئے کیا اس موقع پر انہوںنے منتظمین سے ملاقات کی اور بلدیہ کورنگی کی جانب سے جاری انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔
    منتظمین نے مثالی اور بہتر انتطامات کے حوالے سے ڈی سی کورنگی اور میونسپل کمشنر بلدیہ کورنگی کے اقدامات کو سراہا ۔میونسپل کمشنر فہیم خان نے منتظمین کو یقین دلا یا کہ تمام تر انتظامات آپ کی تجاویز اور مشاورت کے ساتھ انجام دیا جارہا ہے اور انجام دیا جاتا رہیگا انہوںنے اس موقع پر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ امام بارگاہوں اور مجالس گاہوں پر جراثیم کش اسپرے انجام دیا جائے اور جلوسوں کے روٹس اور امام بارگاہوں کے اطراف سڑکوں پر چونے کا چھڑکائو کیا جائے میونسپل کمشنر بلدیہ کورنگی نے بلدیہ کورنگی کے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ جلوس سے قبل روٹس کا معائنہ کیا جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں فوری انتظامات کو یقینی بنا یا جائے ۔

  • مثبت سوچ تحریر: شاہ زیب

    مثبت سوچ ایک ذہنی اور جذباتی رویہ ہے جو زندگی کے روشن پہلو پر مرکوز ہے اور مثبت نتائج کی توقع رکھتا ہے۔  ایک مثبت شخص خوشی ، صحت ، کامیابی کی توقع رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی رکاوٹ اور مشکل پر قابو پا سکتا ہے۔
    مثبت سوچ کو ہر کوئی قبول نہیں کرتا۔  کچھ لوگ اسے بکواس سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرنے والوں پر طنز کرتے ہیں۔  لیکن ایسے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے جو مثبت سوچ کو حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں اور اس کی تاثیر پر یقین رکھتے ہیں۔  ایسا لگتا ہے کہ یہ موضوع مقبولیت حاصل کر رہا ہے جیسا کہ اس کے بارے میں بہت سی کتابوں ، لیکچرز اور کورسز سے ثبوت ہے۔  اسے اپنی زندگی میں استعمال کرنے کے لیے آپ کو اس کے وجود سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے۔  آپ کو ہر کام میں مثبت سوچ کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

    مثبت رویہ کے ساتھ ہم خوشگوار اور خوشگوار جذبات کا تجربہ کرتے ہیں۔  یہ آنکھوں میں چمک ، زیادہ توانائی اور خوشی لاتا ہے۔  ہماری پوری نشریات ، خوشی اور کامیابی۔  یہاں تک کہ ہماری صحت بھی فائدہ مند طریقے سے متاثر ہوتی ہے۔
    مثبت اور منفی سوچ متعدی ہوتی ہے۔ ہم ان لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں جن سے ہم ایک طرح سے ملتے ہیں۔  یہ فطری طور پر اور لاشعوری سطح پر الفاظ ، سوچ اور احساس اور جسمانی زبان کے ذریعے ہوتا ہے۔  مثبت سوچ تناؤ کے انتظام میں مدد دیتی ہے اور یہاں تک کہ آپ کی صحت کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔

    مثبت سوچ زندگی کو بڑھاتی ہے ، اس سے ڈپریشن کی شرح کم ہوتی ہے ، تکلیف کی سطح کم ہوتی ہے۔ مثبت سوچ انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ چیزوں کو حاصل کر سکتا ہے اسے حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گا اسے کامیابی کے راستے میں کوئی مسئلہ نہیں ملے گا اور ایک دن وہ مثبت جیت جائے گا۔ خود اعتمادی ، عزم ، ثابت قدمی اور محنت کامیابی کی کلید ہے۔ لگن ، کام کے لیے لگن اور عزم کے ساتھ مثبت سوچ کامیابی کا اہم عنصر رہا ہے۔ زندگی ایک جنگ ہے ، کسی کو اس سے بے خوف لڑنا پڑتا ہے۔ اعتماد کے ساتھ لڑیں ، پرعزم اور متمرکز کوشش کے ساتھ مثبت رویہ کامیابی کی یقینی راہ پر گامزن ہے۔ آپ کا سب سے بڑا اثاثہ آپ کا جوش ہے جو آپ کی مثبت سوچ کو تقویت بخشتا ہے۔ جو ہمیشہ منفی حالات میں بھی مثبت سوچتا ہے وہ جیت جاتا ہے۔
    ‎@shahzeb___

  • ٹھٹھہ پولیس کو سلام، سب اسی طرح کام کریں تو جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ یقینی ہے

    ٹھٹھہ پولیس کو سلام، سب اسی طرح کام کریں تو جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ یقینی ہے

    سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کہتے ہیں میں ٹھٹھہ پولیس کو سلام پیش کرتا ہوں، سب اسی طرح اپنا کام کریں اور موقع پہنچیں تو ایسے جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ یقینی ہے-

    ٹھٹھہ واقعے سے متعلق اپنے وڈیو بیان میں حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ 14 سالہ بچی کی لاش کو قبر سے نکال کر زیادتی کی گئی، ورثاء کے رابطے پر میں متاثرہ خاندان کے پاس پہنچا.

    اطلاع ملنے پر ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر عمران خان نے ایک جھونپڑی میں کیمپ لگایا اور سخت نوٹس لیا۔

    انہوں نے کہا کہ پولیس کا ملوث درندے کو ڈھونڈنے کے دوران مقابلہ ہوا اور وحشی درندہ مارا گیا، پولیس کے فوری کارروائی پر ٹھٹہ پولیس کہ سلام پیش کرتا ہوں۔

  • کابل ایئرپورٹ پر پھنسے پی آئی اے کے دونوں طیارے اہم شخصیات کولیکرپاکستان پہنچ گئے

    کابل ایئرپورٹ پر پھنسے پی آئی اے کے دونوں طیارے اہم شخصیات کولیکرپاکستان پہنچ گئے

    کابل کابل ایئرپورٹ پر پھنسے پی آئی اے کے دونوں طیارے اہم شخصیات کولیکرپاکستان پہنچ گئے،اطلاعات کے مطابق کابل میں پھنسے پی آئی اے کے دونوں طیارے مسافروں کو لے کروطن واپس پہنچ گئے ہیں‌ :

    اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخل ہونے کی اطلاعات کے بعد کابل کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت معطل ہونے کے بعد اب بحال ہوگئی ہے اورپاکستانی طیارے بحفاظت پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں‌

    ذرائع کے مطابق پی آئی اے کا بوئنگ777 طیارہ اور ایک ائیر بس آج صبح اسلام آباد سے کابل پہنچے تھے جن میں سے ایک پرواز اسلام آباد پہنچ چکا ہے کہ یاد رہے کہ آج دوپہر 12 بجے سے کابل ائیرپورٹ پر نہ کوئی لینڈنگ ہوئی اور نہ ہی کسی طیارے نے ٹیک آف کیا ،

     

    ادھر کابل سے باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات میں بتایاگیا ہے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے کابل پہنچنے والی ائیر انڈیا کی پرواز اے آئی 243 ایک بج کر 42 منٹ پر کابل پہنچی لیکن تاحال لینڈ نہ کر سکی۔

    اُدھر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان طالبان کے داخلے کی اطلاعات کے بعد ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ ابھی کابل میں سفارتخانہ بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ، پاکستان کا ہمیشہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو ،

    ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں ، کابل میں پاکستان کا سفارتخانہ فعال ہے ، کابل میں سفارتی عملے کی سیکیورٹی کے لیے تمام اقدامات کیے ہیں، ابھی کابل میں سفارتخانہ بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ سفارتخانہ بند نہ کرے ، افغانستان میں تمام پاکستانیوں کو ممکنہ مدد فراہم کی جارہی ہے، افغانستان میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے ، پاکستان کا ہمیشہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو ، پاکستان ہمیشہ سے چاہتا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال خراب نہ ہو۔ دوسری طرف افغانستان کی سورتحال سے متعلق افغان صدارتی محل میں ہوئے مذاکرات میں معاہدہ طے پا گیا

    ادھر ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے افغانستان کے لیے عبوری سربراہ کے لیے ملاعبدالغنی برادرکومقرر کردیا ہے اوریہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ کسی بھی وقت کابل پہنچ سکتے ہیں‌

  • سب کی چھٹی:افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادر کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا ہے

    سب کی چھٹی:افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادر کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا ہے

    کابل:سب کی چھٹی:افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادر کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا ہے ،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ اشرف غنی اقتدار چھوڑنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، ایسے میں افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادرکو نئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کو کابل شہر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کو اقتدار کی منتقلی کے لیے افغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں۔

    افغان مصالحتی کونسل (ایچ سی این آر) کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللّٰہ عبداللّٰہ معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود طالبان عہدے دار کا کہنا ہے کہ طالبان رہنما ملا برادر افغانستان پہنچنے والے ہیں اور وہ کسی بھی وقت کابل میں پہنچ جائیں گے ۔

    واضح رہے کہ افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں۔

    اس موقع پر قائم مقام افغان وزیرِ داخلہ عبدالستار میر زکوال نے کہا ہے کہ طالبان سے کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    میڈیا کو جاری کیئے گئے بیان میں انہوں نے بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پرامن ماحول میں ہو گی۔

    افغان حکام نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہیں۔

    افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغان حکومت خونریزی کی خواہاں نہیں ہے، کوشش ہے کہ جنگ کے بغیر ہی معاملہ حل کر لیا جائے۔

    اس سے قبل افغان میڈیا پر جاری بیان میں طالبان نے کہا ہے کہ کابل میں بزورِ طاقت داخل نہیں ہوں گے۔

    دوسری طرف سے مذاکرات جاری ہیں تاکہ کابل میں داخلے کے وقت شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

    طالبان نے کسی قسم کا انتقام نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انتقام نہیں لے رہے، تمام فوجی اور سویلین اہلکار محفوظ رہیں گے۔

    عرب ٹی وی سے گفتگو میں طالبان ترجمان نے کہا کہ بزورِ طاقت کابل میں داخل نہیں ہوں گے، اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے بات چیت کریں گے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہتے ہیں کہ افغان دارالحکومت کا کنٹرول پرامن طریقے سے ملے، اس کے لیے چند روز یا ہفتہ بھی لگا تو انتظار کریں گے۔

  • پی آئی اے کے 2 طیارے کابل ایئرپورٹ پر پھنس گئے

    پی آئی اے کے 2 طیارے کابل ایئرپورٹ پر پھنس گئے

    کابل :پی آئی اے کے 2 طیارے کابل ایئرپورٹ پر پھنس گئے،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخل ہونے کی اطلاعات کے بعد کابل کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت معطل ہو گئی۔

    ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے 2 طیارے بھی کابل انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر موجود ہیں ، پی آئی اے کا بوئنگ777 طیارہ اور ایک ائیر بس آج صبح اسلام آباد سے کابل پہنچے تھے جن میں سے ایک پرواز اسلام آباد کیلئے اڑان بھرنے کیلئے تیار کھڑی ہے لیکن اسے تاحال پرواز کی اجازت نہیں دی گئی جب کہ دوپہر 12 بجے سے کابل ائیرپورٹ پر نہ کوئی لینڈنگ ہوئی اور نہ ہی کسی طیارے نے ٹیک آف کیا ،

    ادھر کابل سے باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات میں بتایاگیا ہے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے کابل پہنچنے والی ائیر انڈیا کی پرواز اے آئی 243 ایک بج کر 42 منٹ پر کابل پہنچی لیکن تاحال لینڈ نہ کر سکی۔

    اُدھر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان طالبان کے داخلے کی اطلاعات کے بعد ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ ابھی کابل میں سفارتخانہ بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ، پاکستان کا ہمیشہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو ،

    ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں ، کابل میں پاکستان کا سفارتخانہ فعال ہے ، کابل میں سفارتی عملے کی سیکیورٹی کے لیے تمام اقدامات کیے ہیں، ابھی کابل میں سفارتخانہ بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ سفارتخانہ بند نہ کرے ، افغانستان میں تمام پاکستانیوں کو ممکنہ مدد فراہم کی جارہی ہے، افغانستان میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے ، پاکستان کا ہمیشہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو ، پاکستان ہمیشہ سے چاہتا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال خراب نہ ہو۔ دوسری طرف افغانستان کی سورتحال سے متعلق افغان صدارتی محل میں ہوئے مذاکرات میں معاہدہ طے پا گیا

  • اشرف غنی کی چھٹی:نئے افغان عبوری سربراہ کون ہوں گے اعلان ہوگیا

    اشرف غنی کی چھٹی:نئے افغان عبوری سربراہ کون ہوں گے اعلان ہوگیا

    کابل:اشرف غنی کی چھٹی:نئے افغان عبوری سربراہ کون ہوں گے اعلان ہوگیا،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ اشرف غنی اقتدار چھوڑنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، ایسے میں افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ علی احمد جلالی کو نئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کو کابل شہر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کو اقتدار کی منتقلی کے لیے افغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں۔

    افغان مصالحتی کونسل (ایچ سی این آر) کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللّٰہ عبداللّٰہ معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    علی احمد جلالی افغانستان کے سابق وزیرِ داخلہ بھی ہیں، وہ جرمنی میں افغان سفیر کےطور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

    دوسری جانب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود طالبان عہدے دار کا کہنا ہے کہ طالبان رہنما ملا برادر افغانستان آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں۔

    اس موقع پر قائم مقام افغان وزیرِ داخلہ عبدالستار میر زکوال نے کہا ہے کہ طالبان سے کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    میڈیا کو جاری کیئے گئے بیان میں انہوں نے بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پرامن ماحول میں ہو گی۔

    افغان حکام نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہیں۔

    افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغان حکومت خونریزی کی خواہاں نہیں ہے، کوشش ہے کہ جنگ کے بغیر ہی معاملہ حل کر لیا جائے۔

    اس سے قبل افغان میڈیا پر جاری بیان میں طالبان نے کہا ہے کہ کابل میں بزورِ طاقت داخل نہیں ہوں گے۔

    دوسری طرف سے مذاکرات جاری ہیں تاکہ کابل میں داخلے کے وقت شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

    طالبان نے کسی قسم کا انتقام نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انتقام نہیں لے رہے، تمام فوجی اور سویلین اہلکار محفوظ رہیں گے۔

    عرب ٹی وی سے گفتگو میں طالبان ترجمان نے کہا کہ بزورِ طاقت کابل میں داخل نہیں ہوں گے، اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے بات چیت کریں گے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہتے ہیں کہ افغان دارالحکومت کا کنٹرول پرامن طریقے سے ملے، اس کے لیے چند روز یا ہفتہ بھی لگا تو انتظار کریں گے۔

  • تکبر،عہدہ اورقوت سب خاک میں مل گئے:دستبرداری سےانکاری افغان صدراشرف غنی ذلّت کےساتھ مستعفی

    تکبر،عہدہ اورقوت سب خاک میں مل گئے:دستبرداری سےانکاری افغان صدراشرف غنی ذلّت کےساتھ مستعفی

    کابل :تکبر:عہدہ اورقوت سب خاک میں مل گئے:دستبرداری سے انکارکرنے والا افغان صدراشرف غنی ذلّت کے ساتھ مستعفی ،اطلاعات کے مطابق تاریخ نےآج وہ وقت دیکھا جب افغانستان میں تکبر، غرور اورطاقت کے بل بوتے پرزبردستی حکومت کرنے والا اشرف غنی جو چند دن پہلے نہ صرف مستعفی ہونے سے انکاری تھا بلکہ افغان طالبان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہا تھا آج بڑی ذلت اوررسوائی کے ساتھ جان کی امان مانگتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں

    باغی ٹی وی کے مطابق 3 بج کر10 منٹ پرافغان صدرصدارتی محل میں بڑی شرمساری اورجان کی امان مانک کراپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوچکے ہیں ،

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغان صدارتی محل میں طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں جہاں فغانستان کے صدر اشرف غنی مستعفیٰ ہوگئے ہیں ،

    جب کہ مذکرات میں کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ بھی طے پا گیا ہے ، جس کے تحت طالبان عبوری حکومت کو اقتدار کی پرامن منتقلی کا فیصلہ کیا گیا ہے ، علی احمد جلالی نئی حکومت کے سرا راہ مقرر کئے جائیں گے جب کہ اس سارے معاملے میں عبداللہ عبداللہ ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    افغانستان کے قائم مقام وزیرداخلہ عبدالستار مرزا کوال نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور حکومت کی منتقلی پرامن طریقے سے ہوگی ، کابل کے شہری یقین رکھیں کہ سکیورٹی فورسز شہر کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔

    اس سے پہلے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ افغانستان میں طالبان افغان دارالحکومت کابل میں چاروں اطراف سے داخل ہونے لگے ہیں ، وزارت داخلہ نے طالبان کے کابل میں داخلے کی تصدیق کردی ہے جب کہ کابل میں افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے باعث افغان دارالحکومت میں سرکاری عمارتیں خالی کرالی گئیں

    دوسری طرف افغانستان میں طالبان نے طورخم بارڈر کا کنٹرول سنبھال لیا ، طالبان کی جانب سے طورخم بارڈر کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد پاک افغان سرحد طورخم پر تعینات افغان فوجی فرار ہوگئے جب کہ پاک افغان سرحد طورخم کو آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ۔

    بتایا گیا کہ ملک کے اکثریتی علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بھی چاروں طرف سے داخل ہونے لگے ہیں ، مجموعی طور پر طالبان اب تک 34 میں سے 25 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر چکے ہیں اور جلال آباد پر بھی طالبان نے قبضہ کرلیا ہے جس کے بعد افغان حکومت کا کنٹرول صرف کابل تک محدود ہو گیا ہے جب کہ افغان دارالحکومت کابل میں کئی گھنٹوں سے بجلی کا مکمل بلیک آؤٹ ہے ، علاوہ ازیں پاکستانی سرحد کے ساتھ 2 اہم صوبوں پکتیا اور پکتیکا پر بھی طالبان قبضہ کر چکے ہیں، صوبے فاریاب اور کنڑ بھی طالبان کے زیرِ اثر ہیں۔

    اسی طرح طالبان نے ازبک سرحد کے قریب آخری بڑے شہر مزار شریف پر بھی قبضہ کر لیا ہے جہاں وہ اپنے پہلے دور میں قابض نہیں ہو سکے تھے ، شہر کے دفاع پر مامور افغان فورسز، فیلڈ مارشل اور وار لارڈ جنرل عبدالرشید دوستم اور ملیشیا لیڈر عطاء محمد نور وہاں سے فرا ر ہو گئے ہیں جن کے بارے میں کچھ پتہ نہ چل سکا تاہم اطلاعات ہیں کہ فیلڈ مارشل اور وار لارڈ جنرل عبدالرشید دوستم مزار شریف سے ازبکستان فرار ہوگئے ہیں اور طالبان جنرل رشید دوستم کے گھر بیٹھ کر میں قہوے اور ڈرائی فروٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔