Baaghi TV

Author: +9251

  • سندھ حکومت نے 13 سال سے کراچی کو ایک قطرہ پانی نہیں دیا، مصطفی کمال

    سندھ حکومت نے 13 سال سے کراچی کو ایک قطرہ پانی نہیں دیا، مصطفی کمال

    چیئرمین پی ایس پی مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے دوران کراچی کے تاجروں کا بہت نقصان ہوا ہے، مشکل حالات کے باوجود پاکستان کی محبت کم نہیں ہوئی۔کراچی کے علاقے برنس روڈ پر پاک سرزمین پارٹی اور آل تاجر سندھ اتحاد کی جانب سے یوم آزادی کی مناسبت سے پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
    اس موقع پر مصطفی کمال نے کہا کہ سندھ حکومت نے 13 سال سے کراچی کو ایک قطرہ پانی نہیں دیا، جو پانی آرہا تھا وہ بھی ہائیڈرنٹس کے ذریعے عوام کو دیا جارہا ہے۔مصطفی کمال نے کہا کہ سندھ حکومت نے ڈھائی لاکھ نوکریاں دیں، جن میں سے ایک بھی کراچی کے لئے نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں کورونا ٹائم بتاکر آتا ہے، 4 گھنٹے کے بجائے 24گھنٹے کاروبار کھول دیں، فیصلے جب ٹھیک ہوں گے، جب ہم ان فیصلوں کو اون کریں گے۔
    چیئرمین پی ایس پی نے کہا کہ آج اس تجدید کا دن ہے، جو آزادی ہمارے آباو اجداد نے حاصل کی تھی، اس کی تکمیل باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آزادی جب محسوس ہوگی جب ہمارے مسائل ختم ہوں گے، جن اسپتالوں میں وزیر کے بچوں کا علاج ہو وہاں ہمارے بچوں کا بھی علاج ہو۔مصطفی کمال نے کہا کہ پورے پاکستان میں وہ حالات نہیں ہیں جو سندھ اور کراچی کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور انگریزوں میں کوئی فرق نہیں، ایسے حکمرانوں کو میں بالکل نہیں مانتا۔پی ایس پی چیئرمین نے کہا کہ پی ڈی ایم والے کراچی میں جلسہ کرنے آرہے ہیں، قائدین پیپلز پارٹی کے کراچی کے خلاف اقدامات پر ضرور بات کریں۔

  • کابل ایئرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل پراشرف غنی کی کابینہ،جرنیل اوراہم شخصیات فرارکےلیے تیار

    کابل ایئرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل پراشرف غنی کی کابینہ،جرنیل اوراہم شخصیات فرارکےلیے تیار

    کابل:کابل ایئرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل پراشرف غنی کی کابینہ،جرنیل اوراہم شخصیات فرارکےلیے تیار،اطلاعات کے مطابق سقوط کابل ہونے کے قریب ہے اور اس وقت کابل کے ایئر پورٹ پر بڑی عجیب صورت حال دیکھنے کو مل رہی ہے

    کابل سے باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہا اس وقت ہرطرف افراتفری کا عالم ہے اور‏افغان حکومت کے عہدیدار افراتفری میں ادھرادھربھاگ رہےہیں‌

    کابل ائیرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل کی انتظارگاہ اور پارکنگ صدر اشرف غنی کے مشیر، وزرا، سابق وزرا اور ارکان پارلیمنٹ سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کے جہاز کو ٹیک آف کی اجازت نہیں مل رہی

    ادھرکابل سے آمدہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا، قائم مقام افغان وزیرداخلہ افغانستان میں اقتدار پرامن طور پرعبوری حکومت کو منتقل ہو گا۔

    افغان میڈیا کے مطابق طالبان کو اقتدارکی منتقلی کیلئےافغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں، علی احمدجلالی کونئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔ عبداللہ عبداللہ معاملےمیں ثالث کا کردارادا کر رہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کا کچھ دیرمیں مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات جاری ہیں۔

    طالبان نے افغانستان کے تمام بارڈرز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ طالبان کی طرف سے کہا گیا کہ جنگ کے ذریعے کابل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں، جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں چاہتے، کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں۔ سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم افغان اور دیگر لوگوں کیلئے عام معافی کا اعلان کر چکے ہیں، ان کوخوش آمدید کہیں گے جو بد عنوان کابل انتظامیہ کیخلاف ہیں، جنہوں نے دخل اندازوں کی مدد کی، ان کیلئے بھی دروازے کھلے ہیں۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ طالبان کو دارالحکومت میں داخلے کے دوران قابل ذکر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جنگجووں کی آمد کی اطلاعات پر افغان شہریوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ، کابل یونیورسٹی سے طالبات گھروں کو جا چکی ہیں، عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

    طالبان صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں بھی داخل ہوگئے، پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ کنڑ کے صدر مقام اسعد آباد پر بھی قبضہ ہو گیا، زابل کے گورنر نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔ صوبہ دایکندی کے دارالحکومت نیلی پر طالبان نے بغیر لڑے قبضہ کرلیا، افغان فوجیوں کی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں سمیت پناہ کے لئے ایران جانے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان جنگجوؤں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ سفارتی عملے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔ مستقبل میں بھی طالبان سے نمٹنے کے لئے نگرانی جاری رکھی جائے گی۔

  • کراچی کے ساحل پر پھنسا بحری جہاز شہریوں کیلئے تفریح کا سامان بن گیا

    کراچی کے ساحل پر پھنسا بحری جہاز شہریوں کیلئے تفریح کا سامان بن گیا

    کراچی کے ساحل پر پھنسا جہاز نکالا تو نہ جا سکا البتہ شہریوں کے لیے تفریح کا سامان ضرور بن گیا۔

    جشنِ آزادی کے موقع پر منچلے سی ویو پر موجود جہاز کے ہیڈ کی زنجیر سے جھولا جھولنے لگے اور ریسکیو کمپنی کا کچھ سامان بھی چوری ہو گیا۔

    عوام کی بڑی تعداد کے ہینگ ٹونگ 77 پر پہنچنے کے باعث جہاز کے کیپٹن عمر پریشان دکھائی دیئے جبکہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار مدد کرنے کے بجائے غائب ہوگئے۔

    جہاز کے رسے سے چار منچلوں کے لٹکنے کے خصوصی مناظر حاصل کیے ہیں، ہزاروں افراد سی ویو پر جہاز کے قریب پہنچے اور بارج پر بھی چڑھ گئے۔

    کمپنی ذرائع کے مطابق آج جہاز نکالنے کی ایک جزوی کوشش کا امکان ہے، اگر یہ کوشش بھی ناکام ہوئی تو اگلا آپریشن 20 اگست یا اس کے بعد شروع ہونے کا امکان ہے۔

  • پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل کی زندگی پر بننے والی ٹیلی فلم کا ٹیزرجاری

    پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل کی زندگی پر بننے والی ٹیلی فلم کا ٹیزرجاری

    پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کی زندگی پر بننے والی ٹیلی فلم ’’ایک ہے نگار‘‘کا ٹیزر جاری کردیا گیا فلم میں ماہرہ خان نے نگار جوہر کا مرکزی کردارادا کیا ہے۔ یہ فلم پاک فوج کی پہلی تھری اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی پاکر ملک کی پہلی لیفٹیننٹ جنرل خاتون نگار جوہر کی زندگی پر مبنی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ پاکستان کی پہلی خاتون سرجن جنرل بھی تعنیات ہوئیں۔
    نگار جوہر ایک شاندار سرجن ہیں جنہوں نے اپنی زندگی لگن کے ساتھ میڈیکل کے شعبے میں کام کرتے ہوئے گزاری۔ وہ اس شعبے سے 1985 سے وابستہ ہیں۔ ٹیلی فلم میں نگار جوہر کا کردار ماہرہ خان نے ادا کیا ہے جب کہ ان کے مقابل اداکار بلال اشرف مرکزی کردار میں نظرآئیں گے۔

    ٹیلی فلم کا ابتدائی حصہ آرمی میڈیکل کالج میں شوٹ کیاگیا ہے جس میں نگار جوہر کی طالبعلمی کی زندگی اور اس کے بعد پیشہ ورانہ زندگی کو دکھایا جائے گا۔ ٹیزر میں ماہرہ خان نگار جوہر کے کردار میں بہت باوقار نظر آرہی ہیں۔
    ٹیلی فلم ’’ایک ہے نگار‘‘ کی کہانی عمیرہ احمد نے تحریر کی ہے۔ فلم کی ہدایت عدنان سرور نے دی ہے جب کہ نینا کاشف اور ماہرہ خان کی پروڈکشن کمپنی سلفری فلمز کے بینر تلے اس فلم کو تیار کیا گیا ہے۔

    ماہرہ خان نے فلم کا ٹیزر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کراتے ہوئے نگار جوہر کا کردار ادا کرنے کو اعزاز قرارد یا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے نگار جوہر کی زندگی کی کہانی کو بہترین قراردیتے ہوئے کہا کیا زندگی ہے، کیا کہانی ہے۔ نگار جوہر کی زندگی کے متعلق جاننا ایسا ہے جیسے ہمارے درمیان موجود عظیم ترین چیزوں میں سے ایک کو جاننا۔ اس کے علاوہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اس فلم کے ذریعے لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    یہ ٹیلی فلم نجی ٹی وی چینل اے آر وائے ڈیجیٹل پر پیش کی جائے گی تاہم ابھی تک اس کی ریلیزکی تاریخ منظرعام پر نہیں آئی ہے۔

  • ماڈل نایاب ندیم کے قتل کا ڈراپ سین

    ماڈل نایاب ندیم کے قتل کا ڈراپ سین

    گزشتہ ماہ ڈیفنس میں قتل ہونے والی ماڈل نایاب کے قاتل کو گرفتار کر لیا گیا، پولیس کے مطابق ماڈل کو سوتیلے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کیا۔
    ماڈل نایاب کے قتل کا معمہ حل ہوگیا، ڈیفنس میں قتل ہونے والی ماڈل نایاب کا قاتل سوتیلا بھائی ہی نکلا، پولیس کے مطابق مقتولہ نایاب کے سوتیلے بھائی اسلم نے غیرت کے نام پر نایاب کو قتل کیا۔
    پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم نے نایاب کو گلا دبا کر قتل کیا، پھر کپڑے اُتارے تاکہ قتل کو زیادتی کا رنگ دیا جا سکے،
    سی آئی اے پولیس وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی مدد سے قاتل تک پہنچی، نایاب کے قتل کا واقعہ 11 جولائی کو پیش آیا تھا، ماڈل نایاب کا دوسراسوتیلا بھائی محمد علی کیس میں مدعی ہے۔
    ذرائع کے مطابق ماڈل قتل کی رات اپنے دوستوں کے ساتھ دعوت پر گئی اور پارٹی میں مقتولہ ماڈل کا کچھ دوستوں سے جھگڑا ہو گیا تھا،
    نایاب دعوت سے واپس آگئی اور اسی رات اپنے بھائی کو فون کیا، سوتیلے بھائی نے حالات کو واقعہ اٹھاتے ہوئے نایاب کو قتل کر دیا اور حالات کو الجھانے کیلئے مختلف رنگ دیئے۔

  • پوری قوم کو آزادی مبارک  تحریر  : راجہ حشام صادق

    پوری قوم کو آزادی مبارک تحریر : راجہ حشام صادق

    ماہ اگست شروع ہوتے ہی جشن آزادی کی تیاریاں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار نظر آتی ہے۔جشن آزادی کے پروگرامز کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔جشن آزادی کے اس دن کو پورے جذبے سے منایا جاتا ہے۔کہیں آتش بازی تو کہیں بھنگڑے کہیں مختلف پروگرامز کو ترتیب دیا جاتا ہے۔لیکن اس آزادی کے پیچھے مقصد اور اس کی اہمیت پر کوئی بات نہیں کرتا یہ وطن عزیز کتنی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے ۔اس کے بارے نہ تو کوئی پروگرامز ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو بتایا جاتا ہے۔کہ اس وقت کیوں لاکھوں افراد نے قربانی دیں۔

    لاکھوں ایسے افراد جنہوں نے کئی دہائیاں جدوجہد کی اس وطن کی بنیاد آزادی ایک لفظ آزادی کو بوڑھوں بچوں عورتوں اور نوجوانوں نے اپنے خون سے لکھا ہے ۔دو قومی نظریہ پر وجود میں آنے والی یہ ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان حقیقی معنوں میں آج بھی مکمل آزاد نہیں ہے ۔

    ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں انفرادی طور پر ہر شخص ایک مخصوص سوچ کا غلام ہے۔یہ ایک ایسی ریاست جس میں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ہر شخص آزاد ہے وہ اپنی مسجد میں عبادت کرتا ہے ۔ یا مندر میں جاتا ہے لیکن اس آزادی کو بھی ایک سوچ نے غلام بنا رکھا ہے۔ اس معاشرے میں دوسرے مذاہب سے نفرت کو دیکھا جاتا ہے وہیں اپنے ہی مذہب میں مختلف مسلک کے افراد کو بھی نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسلام کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔

    جو ریاست بنی ہی برابری کی بنیاد پر تھی جس کا مطلب لا الہ الا اللہ تھا اسی ملک کے اندر امیر غریب رنگ و نسل کا فرق رکھا جاتا ہے۔اسی ملک کی آزادی کے لیے بلا تفریق رنگ و نسل قربانیاں دی گئیں آج اسی سرزمین پر طاقت کے لئے ذات اور نسل سے طاقتور اور کمزور کا فیصلہ ہوتا ہے۔

    جس وطن کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کی بنیاد ہی قانون کی بالادستی انصاف اور امن کی بنیاد پر رکھی گئی آج اسی اسلامی جمہوریہ ریاست میں طاقتور کو منصف ظالم کو عادل معافیہ کو معاشرے کے شرفاء میں شمار کیا جاتا ہے۔ میرے وطن کا مقصد آزاد لوگوں کی ریاست تھا لیکن قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد اس ملک پر ایک طاقتور طبقہ مسلط ہو گیا جس نے عوام کی فلاح کی بجائے اپنی نسلوں اور خاندان کا سوچا۔

    خاص کر پچھلے 30 سالوں سے اس ملک پر حکمرانی کی جنگ عوام کی خدمت نہیں بلکہ اپنی انا اور طاقت کی جنگ رہی ہے ایک آزاد قوم کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے پھر سے غلام بنا دیا گیا ہے۔ یہ غلامی کسی دوسری قوم یا نسل کی نہیں بلکہ اپنے اوپر اپنی ہی طاقت سے مسلط کئے گئے چند افراد کی طرف سے ہے۔جن کو ہم اپنا رہبر سمجھتے رہے جن کو اپنا مسیحا سمجھے اور ان کے پیچھے چلتے رہے انہوں نے ہی ایک آزاد قوم کو پھر سے غلام بنا دیا ہے۔آزادی کے دن ہی ہم غیر مسلم قوم کی غلامی سے نکل کر اپنوں کے غلام بن گئے تھے ابھی شاید کچھ وقت اور لگے جب ہم خود کو آزاد قوم سمجھیں ۔

    14 اگست کا دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کیا ہم واقعی آزاد قوم ہیں ؟
    اگر آزاد ہیں تو پوری قوم کو آزادی مبارک۔ اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی ناصر ہو۔

    @No1Hasham

  • پاکستان سے ہمارا روح کا رشتہ ہے  تحریر  : راجہ ارشد

    پاکستان سے ہمارا روح کا رشتہ ہے تحریر : راجہ ارشد

    یہ بات دل کو سکون دیتی ہے. جسم میں جیسے جان آ جاے روح کو تازگی مل گئ ہو.
    لیکن کیا ہم اس کی قدر کر رہے ہیں. کیا ہمارے اعمال اس بات کی اکاسی کر رہے ہیں؟ کیا پاکستان حاصل کرنے کا مقصد بھی پورا کر رہے ہیں؟
    پاکستان جس کے لیے ماؤں نے لعل کٹواے، بہنوں نے بھائی گنواے. باپ نے اپنا سہارا کھویا. بیٹی کا سایا گیا تو بیوی کا سہاگ. اتی قربانیاں پاکستان تو دے گئیں لیکن 75 سال میں ہم قوم نا بن سکے. ایسا لگتا ہے سب کچھ رائیگاں کر دیا گیا. پاکستان مملکت تو مل گئ لیکن ہم اس کی قدر نا کر سکے. یہ کیسی آزادی ہے جہاں بچیوں کا ریپ کیا جاے، عورتیں نیم برہنہ لباس پہن کر فخر محسوس کریں، کسی کی بہن بیٹی کی عزت اجاڑنا سٹیٹس سمجھا جائے، کسے کو نوکری دے کر غلام سمجھا جائے، کسی کی مدد کر کہ اسکی غریبی یا تنگدستی کا مزاق اپنے کیمرے کی آنکھ میں بند کیا جاے پھر اس کی تشہیر سے خود کو خدا ترس سمجھا جائے. کیا یہ مقصد تھا قیام پاکستان کا؟
    کیا ہم بحیثیت پاکستانی پاکستان کا حق ادا کر رہے ہیں.
    افسوس!
    ہم ملاوٹ کا بازار گرم کر رہے، ساتھ والے کو دھوکا دے کر فخر سے سینہ چوڑا کرتے اور خود کو عقلمند ثابت کرتے. کمزور کا حق کھا کر خود کو طاقتور ثابت کرتے ہیں لیکن یہ پاکستانی ہونے کا حق ادا نہیں کر رہے.خدارا ہوش کے ناخن لیں پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان بنائیں اپنا اخلاق اچھا بنائیں اپنا کردار اچھا بنائیں تاکہ دنیا میں اپنا وقار بحیثیت قوم دوبارہ حاصل کر سکیں
    قائد اعظم محمد علی جناح کے منشور کو سمجھیں؛ یمان اتحاد اور تنظیم سے اپنے پاکستان کے رنگوں کو دوبارہ تازگی بخشیں. دین کی سربلندی کے لیے اپنی کردار کو نمونہ بنا کر مثال بنا کر معاشرے میں پیش کریں تاکہ پاکستانی اور سچے مسلمان کی صحیح معنوں میں پہچان ہو سکے. ہمیں آج عہد کرنا ہے. پاکستان اور اسلام سے وفا کرنی ہے خود کو بدلنا ہے اور اپنی ایک نئ پہچان بنانی ہے جو حصول پاکستان اور اسلامی تہزیب کی بنیاد ہے.
    ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح رح نے ہمیں نا صرف یہ تحفہ پاکستان عطا کیا بلکہ ہمیں جینے کا سلیقہ بھی بتا کر گئے آج ان کے فرامین کو فراموش کر ہے ہم مزید پستی کا شکار ہو گئے ہیں ہمیں خود کو پہچاننا ہو گا آج کی تحریر میں میں ان کے فرامین کو دوبارہ شامل کرنے کا شرف حاصل کروں گا.
    قائد اعظم محمد علی جناح نے 28 دسمبر 1947 کو کراچی کے ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحاد، یقینِ محکم اورتنظیم ہی وہ بنیادی نکات ہیں جو نہ صرف یہ کہ ہمیں دنیا کی پانچویں بڑی قوم بنائے رکھیں گے بلکہ دنیا کی کسی بھی قوم سے بہتر قوم بنائیں گے* ”
    قائد اعظم محمد علی جناح نے 30 اکتوبر 1947 کو لاہور کے ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی* ”
    قائد اعظم محمد علی جناح نے 15 جون 1948 کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” *ہم سب پاکستانی ہیں اور ہم میں سےکوئی بھی سندھی ، بلوچی ، بنگالی ، پٹھان یا پنجابی نہیں ہے۔ ہمیں صرف اور صرف اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئیے* ”
    11 اگست کو قانون ساز اسمبلی میں فرمایا.” *انصاف اور مساوات میرے رہنماء اصول ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی حمایت اور تعاون سے ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہم پاکستان کو دنیا کی سب سے عظیم قوم بنا سکتے ہیں۔* ”
    1944 میں مسلم یونیورسٹی یونین میں فرمایا
    ” *دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں۔* ”
    23 مارچ 1940 کو چٹاگانگ میں فرمایا. ” *پاکستان کی داستان ‘ اس کے لئے کی گئی جدوجہد اور اس کا حصول‘ رہتی دنیا تک انسانوں کے لئے رہنماء رہے گی کہ کس عظیم مشکلات سے نبرد آزما ہوا جاتا ہے۔*”
    21 مارچ 1948 کو ڈھاکہ جلسے میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا. ” *یہ آپ کا اختیار ہے کہ کسی حکومت کو طاقت عطاکریں یا برطرف کردیں لیکن اس کے لئے ہجوم کا طریقہ استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ آپ کو اپنی طاقت کا استعمال سیکھنے کے لئے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ اگر آپ کسی حکومت سے مطمئن نہیں ہیں توآئین آپ کو مذکورہ حکومت برطرف کرنے کا اختیاردیتا ہے لہذا آئینی طریقے سے ہی یہ عمل انجام پذیر دیا جاناچاہئے۔* ” یہی وہ کامیابی کی کنجی ہے جو اس قوم کو عمل کرنے سے بدل سکتی ہے

    @RajaArshad56

  • وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا بلدیہ ٹاؤن کراچی دھماکے کا نوٹس

    وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا بلدیہ ٹاؤن کراچی دھماکے کا نوٹس

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بلدیہ ٹاون کراچی میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بلدیہ ٹاون کراچی میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہارکرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ بھی اظہار ہمدری کیا۔ وزیر داخلہ نے حکم دیا کہ ٹرک واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات ہونی چاہئیں ،وفاقی ادارے سندھ حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرینگے۔

    ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان نے تاریخ رقم کردی
    واضح رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ مواچھ گوٹھ کےقریب شہ زور ٹرک میں دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 10افراد جھلس کر جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ دوسری جانب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ دہشت گردی کے نتیجے میں ہوا ہے،ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اکبر ریاض نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

  • یوم آزادی پر کراچی میں بچے نے باجا کھا لیا، پھر کیا ہوا؟

    یوم آزادی پر کراچی میں بچے نے باجا کھا لیا، پھر کیا ہوا؟

    گزشتہ روز ملک بھر میں جہاں جشن آزادی کا دن بڑے جوش و خروش سے منایا گیا ، یوم آزادی پر بجاتے ہوئے باجا ہی بچے کے حلق میں پھنس گیا، اس بچے کو ہسپتال کی ٹیبل پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔

    انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیو میں بچے کے پاس کھڑا شخص بچے سے پوچھ رہا ہے کہ اس نے کیا کھایا ہے جس کے جواب میں بچے نے بتایا کہ اس نے باجا کھا لیا ہے اور اب سانس لینے میں بھی باجے کی آواز آ رہی ہے۔باجا کھانے کی وجہ سے متعلق بچے نے بتایا کہ باجا بجاتے ہوئے اندر حلق میں چلاگیا تھا۔

    دوسری جانب ویڈیو میں موجود خواتین کی آوازوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ویڈیو ہسپتال میں بنائی گئی ہے جہاں خواتین کہہ رہی ہیں کہ ڈاکٹر نے جلدی کا کہا ہے

    بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے جس پر ایک طرف کچھ صارفین بچے کے لیے پریشان ہو رہے ہیں تو وہیں کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ بچہ جھوٹی ایکٹنگ کر رہا ہے اور یہ ویڈیو بھی فیک ہے۔

  • کراچی میں امن و امان کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے، بلاول بھٹو زرداری

    کراچی میں امن و امان کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے، بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کراچی میں امن و امان کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں گزشتہ رات دستی بم حملے میں ہونے والے جانی نقصان کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا اور ان کے بہترعلاج کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بدترین بربریت ہے، کراچی میں امن کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں، شہرِ قائد میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے نہیں دیں گے، انہیں یقین ہے کہ واقعے میں ملوث مجرمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔