Baaghi TV

Author: +9251

  • نور مقدم : ظاہر جعفر کے والدین کی شاطر چالیں بے نقاب. وحشی درندے نے ماں باپ بھی نگل لیے. اہم انکشافات کیس کا پانسہ پلٹ گیا.!

    نور مقدم : ظاہر جعفر کے والدین کی شاطر چالیں بے نقاب. وحشی درندے نے ماں باپ بھی نگل لیے. اہم انکشافات کیس کا پانسہ پلٹ گیا.!

    سینئیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نور مقدم کیس کی نئی نئی اپڈیٹس کو آپ تک پہنچانے لگا ہوں، ڈارک ویب اور قتل کا علیحدہ علیحدہ کیس ہے، ہوسکتا ہے کہ ان کا آپس میں کوئی تعلق ہو، لیکن وہ تعلق جب ثابت ہوگا تو ساتھ جوڑیں گے، پہلے نہیں جوڑ سکتے ہیں، میں پہلے دن سے یہ کہ رہا ہوں کہ اس کے والدین معصوم نہیں ہیں، ہمیں ساڑھے چار ہزار گھنٹے کھرا سچ کے ہوچکے ہیں، ہمیں اگر کوئی کیس بتاتا ہے تو ہم اس کی نوعیت کا اندازہ لگا لیتے ہیں، تانیہ نامی خاتون نے ماسک پہن کر جو پریس کانفرنس کی تھی تو میں نے کہا تھا کہ وہ ایک ڈرامہ ہے.

    مبشر لقمان کا مزید کہا کہ تفتیشی افسران نے ظاہر کے والدین سے پوچھ گچھ شروع کردی ہے، انہوں نے واردات ہونے کے بعد مختلف لوگوں سے رابطے کیے کہ اس کو چوری اور ڈکیتی کا رنگ دے دیا جائے، یہ معصوم بنتے ہیں کہ ہمیں تو پتہ نہیں کیا ہورہا ہے، ہم ان کے دکھ میں شریک ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ میں تو کوریا میں کاروبار کررہا تھا، کتنا جھوٹ بول رہے ہیں، مجھے ان کی کسی بات کا یقین نہیں ہے، انہوں مختلف فون کیے کہ ہمارے گھر ڈکیتی ہوئی ہے، کچھ قیمتی تصاویر چوری ہوگئیں ہیں، قیمتی ہیرے جواہرات چوری ہوگئے ہیں، کیش چوری ہوگیا ہے، ڈاکوؤں نے آ کر ہمارے بیٹے کو بہت مارا ہے، اس نے مزاحمت کی ہے، اس میں ایک ڈاکو قتل ہوگیا ہے، اس ضمن میں ماں الگ فون کررہی تھی، باپ الگ فون کررہا تھا، ماں نے وکیلوں کو بھی فون کرنا شروع کردیا تھا، اس ڈکیتی اور سیلف ڈیفینس کے کیس فوری فائل کرنا شروع کردیں، یہ ایک گھناؤنی قسم کی پلیننگ ہے.

    قبل ازیں نور مقدم قتل کیس میں ٹیلی فون ڈیٹا کا فرانزک کرنے کی بھی ہدایت کر دی گئی ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سامنے رپورٹ پیش کی گئی ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد پولیس افضال کوثر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نور مقدم کیس کا چالان بہت جلد پیش کر دیا جائے گا ڈی این اے کی رپورٹ آتے ہی چالان مکمل کر کے داخل کر دیں گے۔ کمیٹی نے ٹیلی فون ڈیٹا کا فرانزک کرانے کی ہدایت کی ہے۔

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ ،

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نور قتل کیس، وزیراعظم عمران خان نے بڑا حکم دے دیا

    نور قتل کیس، ملزم کی عدالت پیشی،مزید جسمانی ریمانڈ منظور

    نور مقدم قتل کیس،ملزم مزید ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    نور مقدم قتل کیس،ظاہر جعفر کے والدین کے ریمانڈ میں توسیع

    نورمقدم کیس، ان شاء اللہ درندے کو پھانسی لگے گی، مبشر لقمان

    نورمقدم کیس، فارنزک رپورٹ آگئی. وحشی درندہ قتل سے پہلے دو دن نور سے کیا کرتا رہا. دل دہلا دینے والے انکشافات.

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، تھانہ کوہسار میں درج ہونیوالے ایف آئی آر کے مطابق شوکت علی مقدم نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ 19جولائی کونورمقدم فیملی کی غیرموجودگی میں گھرسے نکلی اور ہمیں رات کے وقت اطلاع ملی کہ وہ دوستوں کے ساتھ لاہورجارہی ہے نور نے ایک دو دن میں واپس آنے کا کہا۔ ملزم ظاہر جعفر سے فیملی طرز کی جان پہچان تھی  ظاہرجعفر کا ٹیلیفون آیا کہ نوراس کیساتھ نہیں ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پرپہنچ کردیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا

  • جشن آزادی کے موقع بچوں کیلئے تفریحی پروگرام کا انعقاد

    جشن آزادی کے موقع بچوں کیلئے تفریحی پروگرام کا انعقاد

    جشن آزادی کے حوالے سے اسلامیہ سکول اور ترناب اولسی خیگڑہ کے اشتراک سے بچوں کے لیے ٹھیکیدار پلے گراونڈ میں تفریحی پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے، جس میں بچوں نے قومی ترانے، ملی نغمے سنا کر وطن عزیز کے لیے قربانی دینے والے بزرگوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، بچے مختلف جھولوں اور کھیلوں سے ملحوظ ہوئے.

    ترناب اولسی خیگڑہ تنظیم کے جنرل سیکرٹری سید افضال باچا کا HI کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہینڈی کیپ انٹرنیشنل نے ترناب کے بچوں کے لیے جب یہ پارک بنایا تو بہت سے نام نہاد سوشل ورکروں نے اس پر بے بنیاد اعتراضات کیے تھے، سب کا کہنا تھا کہ یہ پارٹی چند مہینوں میں ختم ہوجائے گی، الحمد اللہ پارک آج بھی آباد ہے، گاؤں کے بچے یہاں کھیلنے اور جشن منانے آتے ہیں، پارک میں کھیلتے ہوئے بچوں کی خوشی کی انتہا نہیں تھی، ہمیں مل کر پاکستان اور بچوں کے مستقبل کو روشن بنانا ہوگا۔

    احتشام احمد نمائندہ باغی نیوز پشاور

  • نارووال ریسکیو 1122 کے اسٹیشن میں جشن آزادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا

    نارووال ریسکیو 1122 کے اسٹیشن میں جشن آزادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا

    نارووال میں ریسکیو 1122 کے آفس میں جشن یوم آزادی پاکستان جوش و جذبہ اور پرعزم طریقے سے منایا گیا ہے، اس حوالے سے ریسکیو اسٹیشن نارووال میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے، ریسکیو 1122 کے دستے نے سبزہلالی پرچم کو سلامی پیش کی ہے، اس موقع پر پاکستان کی تعمیرو ترقی، خوشحالی، سلامتی اور استحکام سمیت کشمیریوں کی آزادی کے لئے دعائیں مانگی گئی ہیں، پرچم کشائی کی تقریب کے بعد کیک کاٹا گیا ہے.

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجنئیر عدنان نواز نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارے لیے الله کی بہت بڑی نعمت ہے، ہمارے بزرگوں نے پاکستان بہت بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے، یہ دن ہمارے لئے تجدید عہد کا دن ہے ہم سب نے مل کر پاکستان کی ترقی اور استحکام میں حصہ ڈالنا ہے.

    ڈی ای او نارووال نےمزید کہا کہ ریسکیو 1122 کے جوان عوام کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں، الله تعالیٰ نے ریسکیو کے شعبے کو بڑی عزت سے نوازا ہے ریسکیورز بر وقت پہنچ کرعوام کی خدمت کرتے ہیں.

    تقریب کے اختتام پر فضا پاکستان زندہ آباد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی.

    محمد عارف راشد باغی ٹی وی نارووال

  • ایمان داری سے اپنے فرائض کو ادا کرنے کو ترجیح دیں، نبیلہ عرفان

    ایمان داری سے اپنے فرائض کو ادا کرنے کو ترجیح دیں، نبیلہ عرفان

    ڈپٹی کمشنر نبیلہ عرفان نے کہا ہے کہ آزادی ایک انمول نعمت ہے، یہ اللہ کا بڑا فضل و انعام ہے کہ آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں، علامہ محمد اقبال کے خواب کی تعبیر میں آزاد وطن کے حصول کیلئے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانان برصغیر نے بے شمارقربانیاں پیش کیں ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا کے نقشے پر پاکستان معرض وجود میں آیا ہے، اب ہمارا یہ فرض ہے کہ اس وطن کی آزادی کی حفاظت کریں اور اس کی ترقی و خوشحالی کیلئے خلوص نیت سے اپنے حصے کا کردار ادا کریں.

    ڈپٹی کمشنر نبیلہ عرفان نے مزید کہا کہ آج ہم بانی پاکستان حضرت قائد اعظمؒ‘، مصور پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ اور تحریک پاکستان کے دیگر اکابر رہنماؤں اورکارکنوں کی عظیم جدوجہد اور اس مادر وطن کے حصول کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت اورسلام پیش کرتے ہوئے اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ فرائض کی ایمانداری سے ادائیگی کے ذریعہ اس ملک کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں اپنا کرداراداکریں گے.

    پی ٹی آئی رہنما کرنل (ر) جاوید صفدر اور حافظ ذوالفقار مہیس نے ڈپٹی کمشنر آفس میں میں 74 ویں جشن آزادی کے سلسلہ میں پرچم کشائی کی گئی ہے، ڈی پی او سید اکبر علی شاہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرزمحمد حنیف، عائشہ غضنفر، عمر فاروق وڑائچ، اسسٹنٹ کمشنرزعثمان اکرم، عثمان سکندر، محمد اکرم، ڈسٹرکٹ سول ڈیفنس آفیسر عاصم ریاض واہلہ، ڈی او ایمر جنسی عدنان نوازاس موقع پر موجود تھے.

    محمد عارف راشد باغی ٹی وی نارووال

  • کابل میں افغان طالبان کوخوش آمدید کہنےکی تیاریاں:     لوگ مکانوں کی چھتوں پرچڑھ چڑھ کردیکھنےلگے

    کابل میں افغان طالبان کوخوش آمدید کہنےکی تیاریاں: لوگ مکانوں کی چھتوں پرچڑھ چڑھ کردیکھنےلگے

    کابل :کابل میں افغان طالبان کوخوش آمدید کہنے کی تیاریاں:لوگ مکانوں کی چھتوں پرچڑھ چڑھ کردیکھنے لگے،اطلاعات کے مطابق جیسے جیسے افغان طالبان کی کابل کی طرف پیش قدمی کی اطلاعات کابل کے شہریوں تک پہنچ رہی ہیں ویسے ویسے کابل کے اندورونی منظربڑی تیزی سے تبدیل ہوتے نظرآرہے ہیں‌

    کابل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ اس وقت افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل سے صرف 37 کلومیٹر دو رہ گئے،دوسری طرف افغان طالبان کی پیش قدمی کو بھانپتے ہوئے امریکی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ طالبان اگلے 72 گھنٹے میں کابل کا گھیراؤ کر سکتے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ رات 12 بجے سے لیکراب تک کابل سے امریکی سفارتی عملے کے انخلا کی تیاریاں جاری ہیں۔دوسری طرف امریکی حکام نے اہلکاروں کو حساس نوعیت کا سامان تباہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکیوں اور اتحادیوں کے انخلا کے لیے 3 ہزار امریکی فوجی اتوار تک کابل ائیرپورٹ پہنچ چکے ہیں اوروہ بڑی تیزی سے امریکیوں کووہاں سے نکال کرکئی ہمسائیہ ممالک میں عارضی طورپرٹھہرا رہے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض پروازیں براہ راست امریکہ کی طرف روانہ ہوچکی ہیں‌

    ادھر افغان طالبان کی قوت کودیکھ کر امریکا نے طالبان سے کہا ہے کہ اگر وہ ملک کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں تو امریکی سفارتخانے پر حملہ نہ کریں۔

    امریکی اخبار کے مطابق امریکی مذاکرات کار طالبان سے یقین دہانی چاہتے ہیں کہ اگر وہ امداد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں وہ دارالحکومت کابل میں موجود امریکی سفارتخانے کو نشانہ نہ بنائیں۔

    امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ میں ایک بات واضح کردوں کہ افغانستان میں امریکی سفارتکانے کھلے رہیں گے اور ہم اپنا سفارتی کام جاری رکھیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے سبب افغانستان میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات اور عدم استحکام کے حوالے سے ہمیں شدید تحفظات ہیں۔

    افغانستان میں تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال کے پیش نظر ڈنمارک اور ناروے نے اپنا سفارتخانے بند کرنے اور جرمنی نے اپنا سٹاف انتہائی کم کرنے کا اعلان کیا ہے،

    دوسری طرف افغان طالبان نے دنیا پرواضح کردیا ہے کہ وہ تمام غیرملکیوں کی حفاظت کری گے جواففانستان میں سفارتی ذمہ داریاں اداکررہے ہیں ، ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں سفارتخانوں کی عمارتیں ان کا ہدف نہیں ہیں۔

    فن لینڈ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ کابل کے سفارت خانے سے اپنا 130 رکنی عملے کو نکال رہا ہے

    سیکرٹری جنرل نیٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان تشدد اور حملوں کا سلسلہ بند کریں، طاقت سے حکومت پر قبضہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

    ادھر کابل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ہزاروں افغان اس انتظار میں ہیں کہ افغان طالبان کب فاتح کی حیثیت سے کابل میں داخل ہوتے ہیں‌، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ جن افغانوں کے افغان طالبان سے رابطے ہیں وہ بالکل خوف میں نہیں اوروہ یہ سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان کے آنے سے کابل میں امن اورسکون بھی آجائے گا

  • وطن کے ساتھ اپنی وابستگی کو بے حد مضبوط کریں، سجاد مہیس

    وطن کے ساتھ اپنی وابستگی کو بے حد مضبوط کریں، سجاد مہیس

    صوبائی صدر انصاف ویلفیئر ونگ سنٹرل پنجاب چوہدری سجاد مہیس کی زیر نگرانی 14 اگست جشن یوم آزادی کے حوالے سے (ڈیرہ سجاد مہیس) میں تقریب منعقد ہوئی ہے، جس میں ٹائیگرفورس کے نوجوان اور پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی ورکرز نے شرکت کی ہے، تقریب میں ٹائیگرفورس کے نوجوانوں نے قومی ترانہ، ملی نغمے اور تقاریر کے ذریعے آزادی کے دن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، پی ٹی آئی رہنما حافظ ذوالفقار مہیس نے ورکز کے ساتھ جشن آزادی کا کیک کاٹا اور شرکاء کو آزادی کی مبارکباد دی ہے.

    چوہدری سجاد مہیس نے اس موقع پر کہا کہ حضرت قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان حقیقی معنوں میں علامہ اقبال کے خواب کی تکمیل ہے، لہذا حصول پاکستان کے مقاصد حاصل کرنے کیلئے پیارے وطن کے ساتھ اپنی وابستگی کو بے حد مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، خوشحال پاکستان کی منزل حاصل کرنے کیلئے ہمیں متحد ہوکر مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اسی ویژن کو وزیراعظم پاکستان عمران آگے بڑھا رہے ہیں، یہ دن ہمیں بزرگوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جن کی قربانیوں کی قدرکرنی چاہیے.

    حافظ ذوالفقار مہیس نے کہا کہ ملک کی ترقی وخوشحالی کے لیے ہم سب کو حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے، بالخصوص شجرکاری کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان کے پروگرام کو کامیاب بنا کر ان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہوگا.

    محمد عارف راشد باغی ٹی وی نارووال

  • خون کو خون تصور کرنا ہوگا تحریر: سحر عارف

    خون کو خون تصور کرنا ہوگا تحریر: سحر عارف

    پاکستان میں قتل وغارت کی بیماری ایسے پھیل رہی ہے جیسے جنگل میں لگی آگ پھیلتی ہے۔ ہمارے ملک میں اب خون اتنا سستا ہوگیا ہے کہ ہر چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے پہ اتر آتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ ہم مسلمان کس راہ پر نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمارا تو دین کہتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

    پھر بھی ہمارے ہی معاشرے میں یہ چیز عام ہوتی چلی جارہی ہے۔ اب تو یہ قتل وغارت کی خبریں روز کا معمول بن چکی ہیں۔ کہیں کوئی لوٹ مار کرتے ہوئے کسی کی جان لے لیتا ہے تو کوئی معمولی سے آپسی لڑائی جھگڑے کے دوران۔

    اس ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ایسے واقعات ہوتے ہیں جو منظر عام پر آتے ہیں اور جو منظر عام پر نہیں آتے وہ الگ سے ہوتے ہیں۔ اب یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ آئے روز غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں۔ اگر کہیں کوئی لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرنے لگ جائیں تو یہ خبر ان کے گھروالوں کی غیرت کے خلاف سمجھی جاتی ہے اور پھر نتیجہ اگلے ہی روز سامنے اجاتا ہے جب ان دونوں کی لاشیں ملتی ہیں۔

    نہیں نہیں یہ میں کوئی فلم یا کسی ڈرامے کا سین نہیں بتارہی یہ تو بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کا اصل روپ ہے جس سے ہم سب باخوبی واقف ہیں۔ پھر سلسلہ یہاں ہی نہیں رک جاتا اگر خوش قسمتی سے ایک دوسرے کو پسند کرنے والے دو لوگ اپنے گھروالوں سے بچ کر نکاح جیسے پاک رشتے میں منسلک بھی ہوجائیں تب بھی یہ بات ان کے باپ بھائیوں کو گوارہ نہیں گزرتی اور وہ ان کے لیے ناقابل قبول ہوجاتے ہیں۔

    اور پھر ایک نا ایک دن وہ بھی موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں یہ کہہ کر کہ انھوں نے ہماری عزت اچھالی ہے اور ہماری غیرت ہمیں یہ اجازت نہیں دیتی کہ ہم انھیں زندہ رہنے دیں۔ ہم مسلمان ہوتے ہوئے یہ تک بھول جاتے ہیں کہ اللّٰہ پاک نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے انتخاب کا حق خود دیا ہے۔ پھر کون سی غیرت؟ کہاں کی غیرت؟ یہاں تو خون اتنا سستا ہے کہ درندے چھوٹے چھوٹے بچوں تک کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے بعد انہیں قتل کر دیتے ہیں۔

    جہاں ہر سال ہزاروں بچے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں وہیں ان میں آدھ سے زائد جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیے جاتے ہیں۔ اس کے علاؤہ ہمارے معاشرے میں اگر لڑکا کسی لڑکی کو شادی کی پیشکش کرے اور وہ انکار کردے تو اس کو بھی قتل کرنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ پھر یہ کوئی ایک آدھ بار نہیں بلکہ خواتین کی ایک کثیر تعداد اس سے متاثر ہوئی ہے۔ تو اس سب سے آپ کو باخوبی اندازہ تو ہو ہی گیا ہوگا کہ یہاں خون کس حد تک سستا ہے۔

    پر افسوس صد افسوس کے ایسے واقعات روز کے روز کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے چلے جارہے ہیں آخر کیوں؟ کیوں طاقت ور خونیوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی نہیں کی جاتی؟ کیوں ان جانوروں کو ان کے جرم کی نسبت کم سزائیں دی جاتی ہیں؟

    ہمارے ملک کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں صرف امیر کے خون کو ہی خون تصور کیا جاتا ہے اور اس کے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا بھی جاتا ہے۔ پر اس کے برعکس ایک غریب کا خون بھی اس کی طرح غریب ہی ہوتا ہے جس کے بہنے اور ضائع ہونے سے شاید کسی کو فرق نہیں پڑتا۔

    @SeharSulehri

  • ایک قوم ایک آواز تحریر  : راجہ ارشد

    ایک قوم ایک آواز تحریر : راجہ ارشد

    ہو سکتا ہے آپ میری اس بات سے اتفاق نہ کریں کہ شاید ہم نے تو ایک قوم بننے کے لئے ابھی سفر کا آغاز کیا ہے۔ کبھی ہم ایک قوم تھے جب قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں متحدہ ہندوستان میں ہم ایک قوم بن کر سامنے آئے اور جدوجہد آزادی کی جنگ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے جن تک آزادی کا سورج طلوع نہ ہوا۔

    کوئی شک نہیں تب بھی مشکلات اور کچھ اپنوں کی سازشیں شامل تھیں اس کے باوجود قائداعظم محمد علی جناح کا ساتھ دیا اور ایک الگ اور خودمختار وطن حاصل کر لیا۔وطن عزیز کے قیام کے بعد بہت سے مہاجرین یہاں آئے جن کی تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں تھی۔ بے سروسامان لٹے پٹے قافلے جب آزاد سرزمین پر داخل ہوئے تو یہاں بسنے والوں نے کھلے دل سے قبول کیا اور ایک قوم بن کر جدوجہد کرنے لگے ۔

    ایک خود مختار قوم اور مضبوط اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لئے شب و روز ایک کر کے انڈسٹریاں ہوں یا زراعت یا پھری ملکی دفاع اپنے فریضہ کو بخوبی انجام دیا اس قوم کے اندر وفا اور بہادری بے مثال ہے۔بدقسمتی سے خود غرض ، لالچی اور اقتدار کے بھوکے، پجاری حکمرانوں نے ہمیشہ اس قوم سے سچ اور حقائق کو چھپایا غلط بیانی جھوٹے وعدے جھوٹی قسمیں جھوٹی شہرت اور کبھی رعب و دبدبے سے زور بازو پر اس قوم کی آواز کو دبایا گیا ہے۔

    یہاں اس نظام سے بغاوت کرنے والوں کو نشان عبرت بنا دیا گیا یہی وجہ تھی 1971 میں جب اقتدار کے پجاریوں نے اس سازش اور جرم کے کرداروں نے ملک کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ اس وقت بھی قوم سے سچ کو چھپایا گیا تھا قیام پاکستان کے چند سال بعد ہی اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی تھی۔ اور یہ نظام ہمارے جاگیرداروں اور طاقتوروں کا محافظ بن گیا تھا۔

    چند خاندانوں نے اپنے مفادات کی خاطر اس قوم کو رنگ ذات پات میں تقسیم کر دیا کسی نے پختون تو کسی نے مہاجر کا نعرہ لگا دیا۔بلوچ انتہا پسند راہنمائوں نے بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اپنے معصوم لوگوں کو بغاوت پر اکسایا اور ان کے ہاتھ میں بندوق پکڑا دی گئی۔

    یہاں فوجی اور جمہوری حکمرانوں میں آنکھ مچولی کا کھیل تو چلتا ہی آیا مگر اس دوران ایک تیسرا طبقہ جو اس ملک کے عام شہری تھے وہ ظلم و زیادتی اور غربت کی چکی میں پستے ہی رہے اس ملک کے کہنے کو عوامی نمائندے اور اس ملک پر حکمرانی کرنے والے اپنے قارئین یہ بات یاد رکھیں صرف اپنے بچوں کے لئے محلات اور کاروبار بناتے رہے۔ لیکن اس قوم کے بچے دو وقت کی روٹی کے لئے اپنا مستقبل تباہ کرتے رہے۔اعلی تعلیم اگر حاصل بھی کر لی تو مقصد نوکری کرنا اور ان امیروں اور جاگیرداروں کی غلامی کرنا تھا ایک قوم بنانے کی بجائے اس قوم کو جہالت اور غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا۔

    آج ایک ایسا حکمران اس ہجوم نما قوم کو ملا جو پھر ایک قوم بنانے نکلا ہے جس نے رنگ ، نسل ، زبان کی تفریق کے بغیر سب کو ایک قوم بنانے میں لگا ہے جو اس قوم کو دنیا کی عظیم قوم بنانے کا خواب دیکھتا ہے ۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے محب وطن حاکم اور ایماندار لیڈر کا ساتھ دیں۔ ہم سب اپنے اپنے حصے کا کام کریں اپنے کام اور اپنے وطن سے محبت کریں۔ اس دنیا کی باقی قوموں کی طرح ہم نے ایک ایماندار قوم بننا ہے۔ اس لیڈر کو آپ کی اور اس قوم کی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اس نے نہ کرپشن کرنی ہے نہ کرنے دینی ہے اور نہ ہی بیرون ملک محلات تعمیر کرنے ہیں۔ اس کی پہلی ترجیح قوم کا وقار بلند کرنا ہے۔آپ نے دیکھا اسی وجہ سے بہت کم وقت میں آج ہم دنیا کے ساتھ برابری کے تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ان شاءاللہ

    پاکستانیوں 1947 کی طرح ہم آج بھی جناح ثانی کی قیادت میں ایک عظیم قوم بنیں گے ۔بس ایک قوم ایک آواز بن جائیں۔

    تمام عزیز ہم وطنوں کو جشن آزادی مبارک ہو۔
    اللہ پاک آپ سب کا حامی ناصر ہو

    @RajaArshad56

  • پی ڈی ایم ڈبہ فلم، باکس آفس پر ناکام ہوگئی ہے، فرخ حبیب

    پی ڈی ایم ڈبہ فلم، باکس آفس پر ناکام ہوگئی ہے، فرخ حبیب

    وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا ہے کہ ہم صحافت کے ہر شعبے کے استحصال کو روکنے کیلئے اقدامت کررہے ہیں، آپ کو جو استحصال ہے ہر صورت روکا جاسکے، پی ڈی ایم اب ڈبہ فلم بن چکی ہے، یہ فلم باکس آفس پر فیل ہوچکی ہے، ایک راستہ ہے کہ آئندہ آنے والے انتخابات پر تمام جماعتیں نظر رکھیں، انتخابی اصطلاحات پر توجہ دیں.

    فرخ حبیب نے مزید کہا کہ عدم اعتماد، استعفیٰ اور لانگ مارچ ان سے ملک گزر چکا ہے، یہ اس میں ناکام ہوچکے ہیں، اس سے عوام میں پزیرائی حاصل نہیں ہوتی ہے، اپوزیشن ایک دوسرے کی اپوزیشن ہے، اپوزیشن کے اندر کسی قسم کی کوئی جان نہیں ہے، وہ اپنی ذمہ داری نبھائیں، بجائے ہر انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور مچانے کے انتخابی اصطلاحات پر فوکس کریں، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ڈیمو پارلیمنٹ میں تمام ممبران کو دینا شروع کردیے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پریس کلب، بار اور دیگر ایسوسی ایشن کے انتخابات بھی اسی مشین سے کیے جائیں، اس سے عوام کی اعتماد سازی بھی ہوگی، نوے لاکھ جو بیرون ملک پاکستانی ہیں ان کو بھی ووٹنگ کا حق دیں، دنیا کہ ایک سو بیس مملک میں اپنے بیرون ملک باشندوں‌ کیلئے ووٹنگ کا حق حاصل ہے.

  • قرآن و سنت کو ریاستی پالیسی بنانا چاہیے، ظفرالحق

    قرآن و سنت کو ریاستی پالیسی بنانا چاہیے، ظفرالحق

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء راجہ ظفرالحق نے 14 اگست کے حولے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے استحصال کی جنگیں ہوتی تھیں، نئے دور کے معاشی ماہرین کو چاہیے کہ اب استحصال نہ ہوسکے، ایسا نظام بنایا جائے جس میں غریبوں کا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ بھی اپنی زندگی عزت سے گزار سکیں.

    ظفرالحق نے مزید کہا کہ ورنہ قائد نے فرمایا تھا کہ دنیا کے جھنڈوں میں ایک نئے رنگ کے جھنڈے کا اضافہ کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے، بلکہ پورا ایک نظام بنانا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی دور رس نگاہ نے وہ بھی دیکھ لیا تھا، نئی مملکت تمام شہریوں کو بلاتمیز مذہب آزادی ہوگی، ان کو اپنے مذہب پر چلنے کیآزادی ہوگی، ان کو برابر کے شرعی حقوق دیے جائیں گے، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سب کا فرض ہے کہ ان کے اس مقدس الفاظ کی پیروی کریں، اپنی ریاست کی پالیسی ایسی بنائیں جن کی بنیاد قرآن اور سنت ہو، جن کی بنیاد قائداعظم اور علامہ اقبال کے فرموداد کے اوپر ہوں، 1930 میں‌ علامہ اقبال نے ایک تجویز پیش کی تھی کہ ہندو مسلم فسادات ہوتے ہیں، اس وقت سے لیکر آج تک یہ فسادات جاری ہیں، بھارت میں مسلمان ہوں، دلت ہوں جن کی بہت بڑی تعداد ہے، سکھ ہوں یا عیسائی ہوں وہاں کسی دوسرے مذہب کو آزادی سے اپنے مذہب پر چلنے کا کاوئی امکان نہیں ہے.