Baaghi TV

Author: +9251

  • مزارقائد پراعزازی گارڈز تبدیلی کی پرقارتقریب

    مزارقائد پراعزازی گارڈز تبدیلی کی پرقارتقریب

    کراچی میں یوم آزادی کے موقع پر مزار قائد پر اعزازی گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔

    کمانڈینٹ پاکستان نیول اکیڈمی کماڈور سہیل احمد عظمی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

    اس موقع پر پاکستان نيول اکيڈمی کے کيڈٹس نے اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھال لئے۔ ليفٹننٹ کمانڈر فہد سليم نے پريڈ کی سربراہی کی۔ اعزازی گارڈز ميں ايک دستہ پاک بحريہ کے سيلرز پر مشتمل ہے۔ پريڈ ميں 2 پلاٹون بھی شامل ہیں ۔

  • سالانہ نچوڑ. تحریر : محمد اسامہ

    سالانہ نچوڑ. تحریر : محمد اسامہ

    “امتحان ” اس جانچ کا نام ہے جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ طلباء نے کس خاص مضمون میں کس قدرمہارت اور سمجھ بوجھ حاصل کرلی ہے. تدریس کے مقاصد کس حد تک حاصل کیے گئے ہیں. اسکول میں تدریس کے عمل میں طلباء، اساتذہ اور والدین تینوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے. کوئی ایک بھی اپنے کردار کو ادا کرنے میں غفلت کرے تو تدریس کا عمل متاثر ہوتا ہے. ملک عزیز میں کرونا کی آمد کے بعد معاشی، سماجی اور تعلیمی روابط بری طرح متاثر ہوئے ہیں.

    تعلیم کو ہی دیکھیں تو تدریسی عمل اورامتحانی عمل دونوں بری طرح متاثر ہوئے ہیں. پہلے تو احتیاط کے طور پر تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بند کردیا گیا تھا. پھر تدریس کے عمل کو online classes کی طرف لے جایا گیا تھا. یہ عمل کارآمد ثابت نہ ہوسکا. کیونکہ کبھی بجلی کی بندش اور کبھی انٹرنیٹ کی مختلف علاقوں میں عدم دستیابی ہوتی ہے. لیکن پھربھی یہ ایک عمدہ کاوش ضرور تھی.

    گزشتہ سال طلباء کو بغیر امتحان لیے اگلی جماعت میں پروموٹ کردیا گیا تھا. انہیں تین نمبر اضافی بھی دیے گئے تھے. جبکہ انکی قابلیت میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوا تھا. رواں سال طلباء سے صرف اختیاری مضامین کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے. اس فیصلے کا جواز سمجھ سے باہر ہے. جب طلباء مطلوبہ قابلیت نہیں رکھتے تو انہیں اپ کس حد تک سہارا دے سکتے ہیں.

    یہ بات سمجھ سے باہر ہے.
    کیا یہ لازمی مضامین کو نظر اندازکرنے کے مترادف نہیں ہوگا؟
    “لازمی ” کیسے غیر ضروری؟
    کیا یہ طلباء مستقبل میں معاشرے کے لئے اس حد تک کارآمد ہونگے جتنا کہ انکو ہونا چاہیئے ہے؟

    والدین نے کرونا کے دوان خراب معاشی حالات کے باوجود اپنے بچوں کے لئے معمول سے زیادہ کوشش کر کے online classes کے دوران اپنے بچوں کو کمپیوٹر اور موبائل لے کر دینا اور انٹرنیٹ کا اضافی بوجھ اٹھانا ہر طبقے کے لئے سہل نہیں تھا. اساتذہ اور طلباء نے ایک نئے طریقہ تدریس کو اپنایا جسکی اس سے پہلے مثال نہیں تھی. “سمارٹ لاک ڈاؤن کے ساتھ سمارٹ سلیبس” کی اصطلاح بھی سماعتوں نے سنی ہے. جب طلباء تمام سلیبس میں مہارت حاصل نہیں کریں گے تو مطلوبہ نتائج تو حاصل نہیں ہوں گے. بلکہ کمزورنتائج حاصل ہوں گے.

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طلباء کے مسائل بھی توجہ طلب ہیں. یونیورسٹیاں کرونا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں بھی اپنے مطلوبہ معیارسے نیچے آنے کو تیار نہیں ہیں. انکا کہنا ہے کہ پہلے سمسٹر کو مکمل کرنے سے پہلے گزشتہ امتحان میں مطلوبہ نمبرز کا ہونا ضروری ہے.

    جو طلباء مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتریں گے ان کی یونیورسٹی کو ادا کی گئی فیسوں اور پہلے سمسٹر میں لگائے جانے والےوقت کا کیا ہوگا؟
    کیا ان پر یہ اضافی دبائو نہیں ہوگا کہ آگےانکے ساتھ کیا ہوگا؟

    سونے پرسہاگہ ہمارا تعلیمی نظام جو جدید تعلیمی اصولوں سے ابھی کوسوں دور ہے. تعلیمی اداروں کا تمام تر زور اپنے تعلیمی کاروبار سے منافع حاصل کرنے پر ہے. تعلیم کا معیار بہتر بنانا، طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنا انکا مطمع نظر ہے ہی نہیں. رہی سہی کسر ہمارا امتحانی نظام اور نقل کا بڑھتا ہوا رجحان پوری کردیتا ہے. امتحانات میں مارکنگ کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ عملے کی بہت ضرورت ہے. ہمارا تعلیمی نظام بہت زیادہ کمزوریوں کا شکار ہے. فوری توجہ کا طالب ہے. تاکہ تیزی سے گرتے ہوئے تعلیمی معیار کو بہتری کی طرف لے جایا جاسکے.

    جب تلک یہ سوچوں کا زاویہ نا بدلے گا
    منزلیں نا بدلیں گی ,راستہ نا بدلے گا

    @its_usamaislam

  • شہر میں جشن آزادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کے باعث گولیاں لگنے سے 2 بچوں سمیت 11 افراد زخمی

    شہر میں جشن آزادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کے باعث گولیاں لگنے سے 2 بچوں سمیت 11 افراد زخمی

    شہرمیں بارہ بجتے ہی شہر کے مختلف علاقوں جشن آزادی کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا جو کافی دیر تک جاری رہا ،ہوائی فائرنگ کے باعث نامعلوم سمت سے آنے والی گولیاں لگنے سے2 بچوں سمت11 افراد زخمی بھی ہو گئے۔

    کلری تھانے کے علاقے لیاری نیا آباد نیازی چوک کے قریب نامعلوم سمیت آنے والی گولی ہاتھ پر لگنے سے 60 سالہ غلام رسول ولد مہربان خان زخمی ہو گیا اسی دوران بغدای تھانے کے علاقے شاہ بیگ لین بلاک سی گلی نمبر 5 میں نامعلوم سمیت سے آنے والی گولی سر پر لگنے سے 50 سالہ غلام فرید ولد غلام قدیر زخمی ہو گیا۔
    بغدادی تھانے کے علاقے لیاری یوسف ہارون روڈ بلاک سی گلی نمبر 3 کے قریب نامعلوم سمیت سے آنے والی گولی ہاتھ پر لگنے سے 45 سالہ رضا خان ولد ولی داد زخمی ہو گیا۔

    سٹی کورٹ تھانے کے علاقے سٹی کورٹ جامعہ مسجد کے قریب نامعلوم سمت سے آنے والی گولی چہرے پر لگنے سے12 سالہ مدیحہ دخترراشد زخمی ہو گئی۔

  • سندھ حکومت اور پی ٹی آئی کی صوبے میں اچھی ورکنگ ریلیشن شپ ہے : مراد علی شاہ

    سندھ حکومت اور پی ٹی آئی کی صوبے میں اچھی ورکنگ ریلیشن شپ ہے : مراد علی شاہ

    مزارِ قائد پر حاضری کے بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں اپنی مشرقی اور سرحدوں پر مسائل کا سامنا ہے، قوم کا متحد ہونا اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے بہت ضروری ہے ،آج ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو بھی نہیں بھولے ہیں، ہمارے نہتے کشمیری بھارتی جارحیت کا مقابلہ کررہے ہیں، دوسال سے ہمارے کشمیری بھائی مشکلات کا شکار ہیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ کورونا وبا پر وفاق اور صوبوں میں این سی او سی کے ذریعے کوآرڈینیشن چل رہی ہے، کورونا وبا کی چوتھی لہر میں ہم چل رہے ہیں، آج ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ کورونا وائرس کے ساتھ کیسے رہنا ہے، ہر شخص کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانی چاہیے۔
    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت گزشتہ 13 سال سے عوامی ووٹوں سے حکومت میں ہے، سندھ حکومت اور پی ٹی آئی کی صوبے میں اچھی ورکنگ ریلیشن شپ ہے، کراچی ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ 1100 ارب روپے کا منصوبہ ہے، جو مشترکہ طور پر چل رہا ہے، کراچی سرکولر ریلوے کے لئے سپریم کورٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت کرے گا، صوبائی حکومت نے بجٹ میں کراچی میں بسوں کے لئے 8 ارب روپے رکھے ہیں، ہم نے بسوں کی خریداری کا آرڈر بھی کیا ہے۔

    اس موقع پر گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ آج پاکستان کی آزادی کو 74 سال ہوگئے، ان 74 برسوں میں کئی بار لڑکھڑائے بھی آگے بھی بڑھے، اس وقت پاکستان کو کافی مشکلات کا سامنا ہے، افغانستان کی بگڑتی صورتحال کے اثرات پاکستان تک آئیں گے، ہمیں ملک کی بقا کے لیے ایک قوم بن کر اکھٹا رہنا ہے، ہمیں اس وقت متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے۔

    گورنرسندھ نے کہا کہ دو مختلف سوچ رکھنے والی سیاسی جماعتوں میں کہیں کہیں اختلاف ضرور آتا ہے، سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن ہم ترقیاتی معاملات پر مشاورت کرتے ہیں،ہماری ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہے۔

  • آزادی اللہ تعالیٰ کے ان گنت احسانوں میں سے ایک احسان ہے : آفاق احمد

    آزادی اللہ تعالیٰ کے ان گنت احسانوں میں سے ایک احسان ہے : آفاق احمد

    مہاجر قومی موومنٹ ( پاکستان) کے چیئر مین آفاق احمد نے جشن آزادی کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ آزادی اللہ تعالیٰ کے انگنت احسانوں میں سے ایک احسان ہے جس کیلئے اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے اور اسکی جتنی قدر کی جائے کم ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس آزادی کی اہمیت وہی جانتا ہے جس نے اسکی قیمت ادا کی ہو،میرا ملک ایسے خاندانوں سے بھرا پڑا ہے جنکا ماضی انگریزیوں کی غلامی اور قیام پاکستان کی مخالفت سے رقم ہے،لیکن آج ایسے ہی تحریک پاکستان کی مخالفت کرنے والے خاندان بلاشرکت میرے اس ملک کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ ہمارے بزرگ جنہوں نے اپنے خون سے اس آزادی کی قیمت ادا کی اور اپنا سب کچھ چاہے اس میں اورینٹ ائیرلائن ہویا ولی دکن کی دولت ، لیاقت علی خان کی جائیدایں ہو یا رانا لیاقت کو تحفے میں ملنے والا محل ،ایک عام آدمی کا قلم ہو یا اسکا ہنر ، دن ہو یا اسکی راتیں سب کچھ اس ملک پر نجھاور کردیا ۔
    انہوں نے کہا کہ آج ان بزرگوں کی اولادوں کی حب الوطنی پر قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے انگلیاں اٹھا رہے ہیں، یہ لوگ پہلے قیام پاکستان کی مخالفت کرتے تھے آج اس ملک کو گدوں کی طرح نوچ نوچ کر تباہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

    آفاق احمد نے کہا کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کیلئے اس ملک کو اور اسکی آزادی کو ہر قیمت پر محفوظ بنانا ہے اور اس کیلئے ہمیں کسی سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔

  • ہم سب مل کر قائد اعظم کی11اگست1947 کی تقریر کی روشنی میں ملک کی تعمیر کریں : ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    ہم سب مل کر قائد اعظم کی11اگست1947 کی تقریر کی روشنی میں ملک کی تعمیر کریں : ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے 74ویں یوم آزادی کے موقع پر قوم کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا کہ زندہ قومیں اپنی آزادی کا جشن اپنے مشن اور مقصد کو سامنے رکھ کر مناتی ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کے ملک کے نوجوان اور نئی نسل کو اس مشن اور مقصد سے آگاہ کیا جائے ہے جس کے لئے بر صغیر کے مسلمانوں نے لازوال قربانیوں کی تاریخ رقم کی کروڑوں نفوس نے ہجرت کی یہ ہجرت تعداد کے اعتبار سے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے اجداد کی قبر یں چھوڑیں اور مشکلات میں وطن حاصل کیامحض پاکستان بنانا مقصد نہیں تھا بلکہ پاکستان کا بھی کوئی مقصد تھا۔
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قائد اعظم کے پاکستان کو قوم کو لوٹا دیں جاگیردارانہ جمہوریت کے بجائے شراکتی،شمولیتی،عوامی جمہوریت کے لئے کام کریں مورثی اقتدار کے بجائے عوام کی مرضی عوام کے زریعے اور عوام کے لئے اقتدار ہو جہاں نظریاتی سیاست کی جائے نہ کہ پیشہ وارانہ سیاست اور ملک کے تمام نفوس کو برابر کا حقداراور برابر کا وفادار سمجھا جائے تو ہم پاکستان کا مقصد حاصل کر پائینگے ایم کیو ایم پاکستان اس ہی مقصد کے حصول کے لئے کوشاں ہیں .
    آج انہی کی اولادیں اس ملک میں یوم آزادی ہی نہیں بلکہ ماہ آزادی منا رہی ہیں یہ جذبہ اس عزم کی تجدید ہے جو بانیان پاکستان نے قیام پاکستان کے لئے کیا تھا یعنی دنیا کے نقشے پر ایک ایسی فلاحی اور جمہوری ریاست کا قیام جس میں تمام مذاہب نسل اور فرقے سے تعلق رکھنے والے افرادمساوی حقوق کے ساتھ زندہ رہنے کا حق رکھتے ہوں۔خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو دعوت فکر ہے کہ وہ قیام پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں اور اپنے ذہنوں کو قیام پاکستان کے مشن اور مقصد سے ہم آہنگ کریں اور ساتھ ساتھ پاکستان کے سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں کے فکر اور فلسفے کا بھی مطالعہ کریں تو آپ اس حقیقت تک پہنچیں گے کہ ایم کیو ایم پاکستان وہ جماعت ہے جس نے غریب و متوسط طبقے میں سے نوجوان قیادت تیار کی اور اسے ایوانوں تک پہنچایااس طرح ہم نے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے لئے اپنے حصے کا کام کر کے عوام کے سامنے ایک نمونہ پیش کیا ہے اور آج ملک کے نوجوان جہاں بھی ہیں وہ اپنے اندر سے قیادت نکالیں اور متحد ہوجائیں ایم کیو ایم کا پلیٹ فارم انکے لئے حاضر ہے آئیں ہم سب مل کر بانیان پاکستان کے افکار اور خیالات بلخصوص قائد اعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947کو آئین ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو تصور پاکستان دیا تھا اس کی روشنی میں مملکت پاکستان کی تعمیر کریں۔

  • ہر صورت صوبے میں امن و امان چاہتا ہوں، وزیراعلی سندھ

    ہر صورت صوبے میں امن و امان چاہتا ہوں، وزیراعلی سندھ

    وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورت میں صوبے میں امن چاہتے ہیں، انہوں نے جرائم کو مانیٹر کرنے کے لیے یونٹ بنانے کا بھی اعلان کیا۔وزیراعلی مراد علی شاہ کی زیرصدارت امن و امان سے متعلق اجلاس ہوا۔
    ترجمان کے مطابق مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ ہر صورت صوبے میں امن و امان چاہتے ہیں، جرائم کو مانیٹر کرنے کے لیے وزیراعلی ہاوس میں یونٹ بنا رہے ہیں۔

    ترجمان وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ ہر ڈسٹرکٹ میں اپنے ذرائع سے کرائم کو مانیٹر کریں گے۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی نے بریفنگ میں بتایا کہ کراچی میں سوائے چند واقعات کے زیادہ تر حالات ٹھیک ہیں۔اجلاس میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سکھر اور لاڑکانہ میں جرائم کی وارداتوں میں اضافہ نظر آرہا ہے۔

  • جشن آزادی پر ہمیں اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر غور کرنا ہے،سعید غنی

    جشن آزادی پر ہمیں اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر غور کرنا ہے،سعید غنی

    صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ جشن آزادی پر ہمیں اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر غور کرنا ہے۔ جیسے پاکستان کا خواب ہمارے بانیوں نے دیکھا اب ہمیں ویسا پاکستان بنانا ہے ۔ ہمارے ملک میں تمام وسائل و معدنیات موجود ہیں اسکے باوجود بھی ہم دیگر ممالک سے پیچھے ہیں، ہم آزادی صحافت اور عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے ہیں لیکن آزادی صحافت پر قدغن لگانے کے لئے قانون سازی ہورہی ہے ، ملک میں ایسے قانون بنائے جا رہے ہیں جو مارشل لا میں بھی نہیں بنائے گئے ۔
    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کی شب پاکستان کے 75 یوم آزادی کی مناسبت سے کراچی پریس کلب میں پرچم کشائی اور کیک کاٹنے کی کی پروقار تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے کیا۔
    وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کراچی پریس کلب کے عہدیداروں اور ممبران کے ہمراہ 74پونڈ کا کیک بھی کاٹا۔اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری محمد رضوان بھٹی، جوائنٹ سیکریٹری ثاقب صغیر، نائب صدر شازیہ حسن، خازن عبدالوحید راجپر، ممبر گورننگ باڈی عبدالوسیع قریشی، حامد الرحمن، فاروق سمیع، عزیز سنگھور سمیت کراچی پریس کلب کے ممبران کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ تقریب میں پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی، ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری آصف خان ا ور ڈاکٹر ہما میر بھی موجود تھیں۔

    اس موقع پر سعید غنی نے کراچی پریس کلب ممبران کے ہمراہ قومی ہلالی پرچم بھی فضا میں بلند کیا ۔پرچم کشائی کی تقریب کا آغاز ڈاکٹر ہما میر کی جانب سے جیوے جیوے پاکستان کے گیت سے کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ جشن آزادی پر ہمیں اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر غور کرنا ہے ، ہمارے ملک میں تمام وسائل و معدنیات موجود ہیں اسکے بعد بھی ہم اور ممالک سے پیچھے ہیں ۔
    ہمارا ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا کراچی پریس کلب سے پرانا تعلق ہے ۔ وزارت ہو یا نہ ہو پریس کلب سے تعلق جڑا رہتا ہے۔ خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ اطلاعات کی وزارت کے بعد پہلا دورہ کراچی پریس کلب ہی ہو۔ سعید غنی نے کہا کہ ملک میں جو خرابیاں ہیں اس کے زمہ دار ہم خود ہیں ۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا ملک آگے بڑھے ۔ ہم آزادی صحافت اور عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے ہیں لیکن آزادی صحافت پر قدغن لگانے کے لئے قانون سازی ہورہی ہے جبکہ عدلیہ کے خلاف بھی سازش ہورہی ہے۔
    المیہ ہے اب ملک میں ایسے قانون بنائے جا رہے ہیں جو مارشل لا میں بھی نہیں بنائے گئے ، ہماری کارکردگی اچھی ہوگی تو ملک اچھا ہوگا۔ جشن آزادی مناتے وقت اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہئے ۔ ہم اپنی نسلوں کو بہتر پاکستان دینا چاہتے ہیں جب تک سچ نہیں بولیں گے ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔

  • جنرل ندیم رضا کی قازقستان میں دفاعی اورسیاسی شخصیات سے اہم ملاقاتیں

    جنرل ندیم رضا کی قازقستان میں دفاعی اورسیاسی شخصیات سے اہم ملاقاتیں

    قازقستان:جنرل ندیم رضا کی قازقستان میں دفاعی اورسیاسی شخصیات سے اہم ملاقاتیں ،اطلاعات کے مطابق جنرل ندیم رضا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جو کہ قازقستان کے سرکاری دورے پر ہیں نے قازقستان کی فوجی اورسویلیں شخصیات سے اہم ملاقاتیں کیں‌

    قازقستان کے وزیر اعظم۔ چیئرمین جوائنٹس چیف نے وزیر دفاع ، نائب وزیر صنعت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ، اور قازقستان کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

    قازقستان میں جنرل ندیم سے ملاقاتوں کے دوران دونوں فریقوں نے دلچسپی کے مختلف شعبوں ، دوطرفہ تعاون بشمول سلامتی ، انسداد دہشت گردی اور موجودہ علاقائی ماحول خاص طور پر افغانستان کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

    معززین نے دونوں ممالک کے مابین فوجی مصروفیات کی سطح اور دائرہ کار کو بڑھانے کے اقدامات پر توجہ دی اور مزید گہرے تعلقات استوار کرنے کا اعادہ کیا۔

    اس موقع پر جنرل ندیم رضا نے کہا کہ پاکستان اپنی موجودہ دو طرفہ فوج کو قازقستان کے ساتھ فوجی تعاون تک بڑھانے کا خواہاں ہے۔ معززین نے پاکستان مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا۔

    جنرل ندیم رضا نے قازقستان کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا اور ‘پاکستان ملٹری آرٹ روم’ کا افتتاح کیا۔ یہ کمرہ پاکستان کی مسلح افواج کی شاندار تاریخ ، اس کی ثقافت اور روایات کی عکاسی کرتا ہے۔

    قبل ازیں وزارت دفاع پہنچنے پ جنرل ندیم رضا کو قازقستان کی مسلح افواج کے ایک ہوشیار نکلے ہوئے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

  • افغانستان میں بھارت کہ بہت زیادہ ٹھکائی:قیمتی اثاثے جنگی طیارے اورہیلی کاپٹرطالبان کے قبضے میں‌

    افغانستان میں بھارت کہ بہت زیادہ ٹھکائی:قیمتی اثاثے جنگی طیارے اورہیلی کاپٹرطالبان کے قبضے میں‌

    ہرات :افغانستان میں بھارت کہ بہت زیادہ ٹھکائی:قیمتی اثاثے جنگی طیارے اورہیلی کاپٹرطالبان کے قبضے میں‌ آچکے ہیں‌، اطلاعات کے مطابق افغانستان میں بھارت کے “اثاثے” ایک ایک کر کے افغان طالبان کے ہاتھ میں جانے لگے۔

    تفصیلات کے مطابق افغان طالبان ہر گزرتے دن کیساتھ افغانستان کے دارالحکومت کابل سے قریب سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے گزشتہ روز افغانستان کے دارالحکومت کابل کے بعد ملک کے 2 سب سے بڑے شہروں قندھار اور ہرات پر بھی قبضہ کرلیا تھا،

    جبکہ جمعہ کے روز صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ سمیت 17 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے، یوں افغانستان کے نصف صوبائی دارالحکومت طالبان کے قبضے میں جا چکے۔

    بتایا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے افغانستان کو فراہم کیے گئے ملٹری اثاثے ایک ایک کر کے افغان فوج کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔

    افغان میڈیا کے مطابق افغان طالبان نے ہرات ائیرپورٹ پر قبضے کے بعد وہاں موجود بھارت کا جنگی طیارہ بھی قبضے میں لے لیا۔ اس سے قبل افغان طالبان نے قندوز کی ائیربیس پر موجود بھارتی ہیلی کاپٹر کو بھی قبضے میں لے لیا تھا۔

    افغان طالبان کی جانب سے قبضے میں لیے گئے جنگی ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارہ بھارت کی جانب سے افغان فوج کو بطور تحفہ دیے گئے تھے۔

    ادھرافغانستان سے تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بلخ صوبے میں بھارتی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔

    دوسری جانب غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل سے اب صرف 50 میل کی دوری پر رہ گئے ہیں۔ افغان طالبان نے جہاں ملک کے اہم اور بڑے شہروں پر قبضہ کیا ہے، وہیں افغان فوج کی 2 اہم ترین ائیربیسز پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔

    افغان میڈیا کے مطابق صوبے فرح، بدخشاں اور بغلان سے افغان افواج کے انخلا کے بعد اب طالبان نے نہ صرف قندوز ائیرپورٹ بلکہ وہاں قائم افغان فوج کی کور پامیر 217 کے ہیڈکوارٹر کو بھی قبضے میں لے لیا۔