Baaghi TV

Author: +9251

  • صبرکا پیمانہ لبریز: فردوس عاشق ق لیگ پربرس پڑیں

    صبرکا پیمانہ لبریز: فردوس عاشق ق لیگ پربرس پڑیں

    لاہور:پنجاب اسمبلی میں داخلے کی اجازت کیوں نہ ملی؟صبرکا پیمانہ لبریزہوگیاتوفردوس عاشق ق لیگ پربرس پڑیں،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے گزشتہ دنوں پنجاب اسمبلی میں داخلے سے روکنے کی وجہ بتادی۔

    گزشتہ دنوں فردوس عاشق اعوان عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی پہنچیں تھیں لیکن انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں ملی تھی۔

    اس حوالے سے اب فردوس عاشق اعوان نے چُپ کا روزہ توڑ دیا اور کہاکہ چند دن پہلے ق لیگ کے نائب صدر کے بیٹے کو تحریک انصاف میں شمولیت کرائی تھی اور انہیں امیدوار کے طور پر پی پی 38 کا پارٹی ٹکٹ لے کر دیا اور پھر وہ جیت کر اسمبلی آئے۔

    ان کا کہناتھا کہ ق لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان کہیں نہ کہیں اتحاد کی رسی سلگ رہی ہے ، پی ٹی آئی اور ق لیگ کے مضبوط اتحاد میں کہیں نہ کہیں دراڑیں نظر آرہی ہیں، یہ دراڑیں اسپیکر اسمبلی کے ذاتی ایکشن کی وجہ سے سامنے آجاتی ہیں، بے شمار واقعات ہیں۔

    خیال رہے کہ اسی روز وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کیلئے فردوس عاشق اعوان کو کئی جتن کرنے پڑگئے تھے۔

  • ہمارے مسائل اور ان کا علاج  تحریر : شاہ زیب

    ہمارے مسائل اور ان کا علاج تحریر : شاہ زیب

    آج بات کریں گے کچھ مسائل کی، ایسے مسائل جو بہت بڑے ہیں۔ جو حل نہیں ہو رہے۔ جن کے لیے انتظامیہ کچھ کر بھی رہی ہے تو نا کافی ہے۔ حکومتی توجہ نام کی چیز چند علاقوں میں نظر آتی ہے۔ کئی بار احتجاج کر کر کے دیکھ لیا۔۔۔
    کسی کام کی حکومت نہیں ناکارہ ادارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لیکن ذرا رکیں۔۔

    کہیں یہ مسائل ہمارے اپنے پیدا کردہ تو نہیں؟

    کیا سب ذمہ داری حکومت اور حکومتی اداروں کی ہے؟
    نہیں۔۔

    کچرا نالوں میں ہم پھینک رہے ہیں حکومت نہیں۔
    سڑکوں پر بے ہنگم انداز میں موٹر سائیکل کار بس ٹرک ہم چلاتے ہیں اور نظام حکومت کا خراب

    کوئی شخص جرم کا ارتکاب کرے تو پچاس افراد اسے چھڑانے فوری تھانے پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن جب کوئی ہمارے ساتھ جرم کر کے یہی کام کرے تو نظام خراب
    بازاروں میں جگہ جگہ پارکنگ کی خلاف ورزی، مارکیٹ بناتے ہوئے پارکنگ نہ چھوڑنا۔
    گاڑی کو جہاں دل کیا لگا کر شاپنگ شروع۔۔۔۔
    ان سب مسائل اور ان سے جڑے ہزاروں مسائل جو درحقیقت ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں ان کو حل بھی ہم کر سکتے ہیں۔
    گلیوں کو اپنے گھر کا حصہ سمجھیں۔ گاڑی موٹر سائیکل اپنی لین میں چلائیں۔
    جن جگہوں پر ممکن ہے اجتماعی طور پر پیسہ اکھٹا کر کے فلاحی کام مثلاً کوڑا کرکٹ اٹھوانا، سڑک کی مرمت، وغیرہ خود کروا دیں۔
    پاکستان کا خیال رکھیں
    پاکستانی بنیں۔

    ‎@shahzeb___

  • ملک اس وقت داخلی اور خارجی خطرات ہیں پی ڈی ایم حکومت کی افغان پالیسی کی مکمل حمایت کرتی ہے

    ملک اس وقت داخلی اور خارجی خطرات ہیں پی ڈی ایم حکومت کی افغان پالیسی کی مکمل حمایت کرتی ہے

    اسلام آباد:ملک اس وقت داخلی اور خارجی خطرات ہیں پی ڈی ایم حکومت کی افغان پالیسی کی مکمل حمایت کرتی ہے ،اطلاعات کے مطابق آج اسلام آباد میں حکومت مخالف اتحاد کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں شہبازشریف سمیت اہم رہنماوں نے شرکت کی اورمریم نواز نے ویڈیو لنک کے ذریعے مداخلت کی

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملک اس وقت سنگین داخلی اور خارجی خطرات سے دوچار ہے۔اس موقع پر سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ڈی ایم افغانستان کے حوالے سے بڑے واضح الفاظ میں حمایت کرتی ہے کہ افغان مسئلے کا حل فریقین کے باہمی مذاکرات اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان کو مطلوب ہے۔

    اپوزیشن اتحاد کے سربراہ نے کہا کہ پی ڈی ایم کے قائدین نے بڑی تفصیل کے ساتھ داخلہ اور خارجہ حالات کا اظہار کیا اور اپنے خیالات اور خدشات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کے اندر موجود اپوزیشن کو اس بارے میں اعتماد میں لیا جائے کیونکہ پارلیمنٹ کا ایک بڑا حقیقی اور اہم حصہ ملک کو درپیش اس صورت حال سے آگاہ نہیں ہے، کیوں ان سےحقائق چھپائے جارہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اجلاس نے ملک میں بدترین مہنگائی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے، عوام کا جینا دو بھر ہوچکا ہے، ظالمانہ ٹیکسوں اور آئی ایم ایف کے شرائط پوری کرنے کے لیے عوام کے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے اگلے اقدامات کا شیڈول دیا ہے، 21 اگست کو اسلام آباد میں اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا، جس میں کچھ تجاویز جو یہاں اجلاس میں پیش ہوئیں، اس پر تمام جماعتیں اپنی جماعت سےمشاورت کے بعد اکٹھی ہوں گی

    انہوں نے کہا کہ 28 اگست بروز ہفتہ کراچی میں سربراہی اجلاس ہوگا اور اسٹیرنگ کمیٹی کی تجاویز پر غور کیا جائے اور فیصلے بھی صادر کیے جائیں گے۔ 29 اگست کو کراچی میں عظیم الشان اور فقیدالمثال جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت یکطرفہ طور پرانتخابی اصلاحات کی بات کی ہے اور کسی مشین کی بھی بات کی ہے، سنا یہ ہے کہ یہ مشین دھاندلی کرنے کا سب سے آسان ترین طریقہ ہے لیکن ہم واضح کردینا چاہتے ہیں یک طرفہ انتخابی اصلاحات یا اس طرح اقدامات مسترد کیے جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 اور 25 جولائی 2021 کشمیر کے انتخابات کے نتائج کو پی ڈی ایم مسترد کرتی ہے، عوام کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے نمائندے آزادی رائے سے چنیں، یہ حق کسی بھی بہانے عوام سے چھیننے نہیں دیں گے۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے ایک سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ میرے نزدیک یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے،

    شہباز شریف نے بتایا کہ نواز شریف کا وہاں علاج جاری ہے، ان کے دل کے مرض کے حوالے سے علاج ضروری ہے اور ڈاکٹر چیک اپ کرتے ہیں اور مناسب وقت پر ان کی سرجری ہونی ہے، اس لیے وہ علاج کرائے بغیر پاکستان نہیں آئیں گے۔

  • سندھ اسمبلی کی اسپیکر سمیت تین خواتین رہنما تحریک انصاف میں‌ شامل:سندھ حکومت کوخطرہ

    سندھ اسمبلی کی اسپیکر سمیت تین خواتین رہنما تحریک انصاف میں‌ شامل:سندھ حکومت کوخطرہ

    کراچی: سندھ اسمبلی کی اسپیکر سمیت تین خواتین رہنما تحریک انصاف میں‌ شامل:سندھ حکومت کوخطرہ ،اطلاعات کے مطابق سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر سمیت مسلم لیگ ق اور فنکشنل لیگ کی تین خواتین رہنماؤں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

    کراچی سے پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سندھ ارباب غلام رحیم اب سے کچھ دیر قبل سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر راحیلہ ٹوانہ کے گھر پہنچے، جہاں اُن سے موجود سیاسی صورت حال پر گفتگو کی۔

    اس موقع پر مسلم لیگ ق کی سابق رہنما نے اپنے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا اور آئندہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے عوامی خدمات جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

    سابق ڈپٹی اسپیکر راحیلہ ٹوانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’کراچی کے حالات بدتر ہوگئے، میرے گھر پی ٹی آئی کے بہت لوگ آئے، میں کسی جماعت میں جانا نہیں چاہتی تھی مگر عمران خان کے نظریے نے بہت زیادہ متاثر کیا، جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے، انہوں نے دبنگ انداز سے پاکستان کی لڑائی لڑی‘۔

    انہوں نے کہا کہ ’ارباب غلام رحیم جب وزیراعلیٰ سندھ تھے تو تمام نہروں کو صاف کردیا گیا تھا اور پانی کی منصفانہ تقسیم ہوتی تھی، ہم نے پاک وطن پارٹی کی بنیاد رکھی تھی، آج میں اُس پارٹی کو پاکستان تحریک انصاف میں ضم کررہی ہوں‘۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ق کی رہنما اور سابق رکن اسمبلی سندھ بانو صدیقی نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔

    علاوہ ازیں مسلم لیگ فنکشنل کی سابقہ رکن اسمبلی نائلہ انعام نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔

  • وزیراعظم،وزیراعلیٰ ن لیگ کا ہوگا:پیپلزپارٹی نےسندھ حکومت بچانے کے لیے کارڈ کھیل دیا

    وزیراعظم،وزیراعلیٰ ن لیگ کا ہوگا:پیپلزپارٹی نےسندھ حکومت بچانے کے لیے کارڈ کھیل دیا

    کراچی :ن لیگ کا وزیراعظم،وزیراعلیٰ ہوگا:پیپلزپارٹی نےسندھ حکومت بچانے کے لیے کارڈ کھیل دیا،اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے درمیان بیک ڈور رابطے شروع ہوگئے ہیں، اور ان رابطوں میں اہم ہیش رفت بھی ہوئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے چئیرمن بلاول بھٹو زرداری ایک بار پھر مرکز اور پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کے خواہاں ہیں، اور بیک ڈور رابطوں میں پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو زرداری کی خواہش کا اظہار بھی کردیا ہے۔

    پیپلزپارٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ رہنماؤں نے مسلم لیگ (ن) کو وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کے عہدوں کی پیشکش کردی ہے، اور کہا ہے کہ اگر ن لیگ ساتھ دے تو مرکز اور پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی ممکن یے، کیوں کہ ہمارے پاس مرکز اور پنجاب میں نمبرز پورے ہیں، اگر آپ ساتھ دیں تو ان ہاؤس تبدیلی کی صورت میں پیپلزپارٹی مرکز میں وزیراعظم اور پنجاب میں وزیراعلی ن لیگ کا قبول کرے گی۔

    پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مرکز اور پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کے لئے تحریک انصاف کے ناراض اراکین اور حکومتی اتحادی پوری طرح تیار ہیں، حکومت اور اتحادیوں کے 25 سے زائد ارکان قومی اسمبلی اور پنجاب میں 31 ارکان اسمبلی ساتھ دیں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگی رابطہ کاروں نے پیپلز پارٹی کی پیشکش پر وقت مانگ لیا ہے، اور کہا ہے کہ قیادت سے مشاورت کے بعد آپ کی پیشکش کا جواب دیں گے۔

    دوسری طرف ن لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ پی پی سندھ حکومت کونیازی سے بچانے کے لیے ہمارے ساتھ کھیل کھیل رہی ہے ، ہاں اگروہ مخلص ہے تو وہ سینیٹ الیکشن میں ہونے والی بے وفائی پرپہلے معافی مانگے

  • سندھ اسمبلی کی اسپیکر سمیت تین خواتین رہنما تحریک انصاف میں‌ شامل

    سندھ اسمبلی کی اسپیکر سمیت تین خواتین رہنما تحریک انصاف میں‌ شامل

    سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر سمیت مسلم لیگ ق اور فنکشنل لیگ کی تین خواتین رہنماؤں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سندھ ارباب غلام رحیم اب سے کچھ دیر قبل سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر راحیلہ ٹوانہ کے گھر پہنچے، جہاں اُن سے موجود سیاسی صورت حال پر گفتگو کی۔

    اس موقع پر مسلم لیگ ق کی سابق رہنما نے اپنے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا اور آئندہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے عوامی خدمات جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

    سابق ڈپٹی اسپیکر راحیلہ ٹوانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’کراچی کے حالات بدتر ہوگئے، میرے گھر پی ٹی آئی کے بہت لوگ آئے، میں کسی جماعت میں جانا نہیں چاہتی تھی مگر عمران خان کے نظریے نے بہت زیادہ متاثر کیا، جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے، انہوں نے دبنگ انداز سے پاکستان کی لڑائی لڑی‘۔

    انہوں نے کہا کہ ’ارباب غلام رحیم جب وزیراعلیٰ سندھ تھے تو تمام نہروں کو صاف کردیا گیا تھا اور پانی کی منصفانہ تقسیم ہوتی تھی، ہم نے پاک وطن پارٹی کی بنیاد رکھی تھی، آج میں اُس پارٹی کو پاکستان تحریک انصاف میں ضم کررہی ہوں‘۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ق کی رہنما اور سابق رکن اسمبلی سندھ بانو صدیقی نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ’ق لیگ کی جب حکومت ختم ہوئی میں نے کسی بھی سیاسی پارٹی میں شمیولت کا اعلان نہیں کیا، ارباب رحیم نے شمیولیت کا اعلان کیا تو میں بھی آج پی ٹی آئی میں شمیولت کا اعلان کرتی ہوں، عمران خان کی کشمیر پالیسی بہت اچھی ہے‘۔

    علاوہ ازیں مسلم لیگ فنکشنل کی سابقہ رکن اسمبلی نائلہ انعام نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔

    انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ارباب رحیم نے پانچ سال میں جو کام کیا ہے، وہ سندھ کی شان ہے، اُن کے دور میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی، ارباب رحیم کا شکریہ ادا کرتی ہوں‘۔

  • تعلیم اور صحت کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کررہے ہیں، عمران خان

    تعلیم اور صحت کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کررہے ہیں، عمران خان

    وزیرِ اعظم عمران خان نے بہاولپور ڈویژن میں ترقیاتی منصوبوں اور جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کی کارکردگی و تعمیر پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدات کی اور مقامی ارکانِ قومی وصوبائی اسمبلی سے ملاقات کی ہے.

    وفاقی وزراء مخدوم خسرو بختیار، طارق بشیر چیمہ، سید فخر امام، معاونِین خصوصی جمشید اقبال چیمہ، ڈاکٹر شہباز گِل، ملک عامر ڈوگر، سینیٹر عون عباس بپی، وزیرِ اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، رکنِ قومی اسمبلی کنول شوزیب اور دیگر ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی نے اجلاس میں شرکت کی ہے، اجلاس میں وزیرِ اعظم کو بہاولپور ڈویژن کی مجموعی صورتحال جس میں معاشی، سماجی، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور خصوصی طور پر زراعت کی پیداوار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ بہاولپور ڈویژن رقبے کے لحاظ سے پنجاب کی سب سے بڑی ڈویژن ہے، جس میں پسماندگی کی شرح پورے پنجاب میں دوسرے نمبر پر ہے جس کو دور کرنے کیلئے حکومت نے جامع حکمتِ عملی تیار کر لی ہے. جنوبی پنجاب پیکیچ میں تمام اضلاع میں صحت تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں. مزید اس ڈویژن میں پنجاب کی 50 فیصد کپاس کی پیدوار ہوتی ہے جس کو مزید بہتر کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں تحقیقی اداروں کا قیام، اچھے بیج کی فراہمی، کسانوں کی معاونت، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور پانی کے مسائل کے حل شامل ہیں.

    صنعتوں کی ترقی کیلئے صنعتی زونز میں کام کی رفتارکو بڑھانے اور موجودہ صنعتوں میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئ. علاوہ ازیں اجلاس کو بتایا گیا کہ چولستان اور بہاولپور کے ماسٹر پلان پر تیزی سے کام جاری ہے. چولستان میں سکولوں کو سولرائز کرنے، ہسپتالوں کی تعمیر اور بہاولپور کو سی پیک سے ملانے کیلئے شاہراہ کے منصوبے پر پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی ہے.

    جنوبی پنجاب کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ رولز آف بزنس پر کام مکمل کرلیا گیا ہے، جن کی جلد منظوری حاصل کر لی جائے گی، 40 میں سے 15 صوبائی محکموں کو جنوبی پنجاب میں منتقل کر دیا گیا ہے، پچھلے چھ ماہ سے ایڈیشنل چیف سیکٹری سیکریٹریٹ کے امور دیکھ رہے ہیں، جنوبی پنجاب کی ملتان اور بہاولپور میں عمارتوں کی تعمیر پر پیش رفت سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا، رواں مالی سال بجٹ میں جنوبی پنجاب کیلئے 189 ارب روپے کی رقم سے 2491 منصوبے شامل ہیں، جن میں سے 91 فی صد کی منظوری بھی ہوچکی ہے، سرکاری نوکریوں میں کوٹہ کیلئے مختلف تجاویز پرغور کیا جا رہا ہے، جسکے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد لے لیا جائے گا.

    وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے کسی بھی قسم کا اقدام اٹھانے سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مشاورت کی جائے گی، پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اس خطے میں زراعت کی اہمیت کے پیشِ نظر پانی سے متعلق تمام مسائل کو حل کیا جائے گا، پاکستان میں پہلی دفعہ ٹیکس کی مد میں ریکارڈ محصولات اکیل ہوئی ہیں، جو عوام کے حکومت پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے، تعلیم صحت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے.

    اس موقع پر قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین نے بہاولپور ڈویژن کے مختلف اضلاع میں عوام کو درپیش مسائل اور انکے تدارک کیلئے تجاویز پیش کیں.

  • وزیراعظم نے اسلامیہ یونیورسٹی میں مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح کردیا

    وزیراعظم نے اسلامیہ یونیورسٹی میں مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح کردیا

    وزیرِ اعظم نے یونیورسٹی میں عالمی معیار کی تدریسی سہولیات سے آراستہ نرسنگ کالج کا افتتاح کیا ہے، نرسنگ کالج نہ صرف خطے میں نرسنگ کے حوالے سے موجود افرادی قوت کی استعداد بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں مدگار ثابت ہوگا.

    وزیرِ اعظم نے کرکٹ کی فروغ کیلئے قائم کئے جانے والے اسلامیہ یونیورسٹی کے بغداد الجدید کیمپس میں کرکٹ سٹیڈیم کا افتتاح بھی کیا ہے، وزیرِ اعظم نے اسلامیہ یونیورسٹی کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے 2.5 میگا واٹ کے سولر منصوبے کا بھی افتتاح کیا ہے، منصوبہ نہ صرف یونیورسٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کی استعداد رکھتا ہے بلکہ اس سے ملنے والی اضافی بجلی کو میپکو کو فراہم کیا جائے گا. منصوبے سے حاصل ہونے والی بجلی کا یونٹ صرف 1.7 روپے میں میسر آئے گا اور 25 سال کی مدت میں یہ منصوبہ مجموعی طور پر قومی خزانے کو 45 کروڑ 50 لاکھ روپے کا فائدہ پہنچائے گا، یہ ناصرف دوسرے اداروں کیلئے مشعلِ راہ ہوگا بلکہ یونیورسٹی میں طلبہ کو عملی تعلیم و مشاہدے کا موقع بھی فراہم کرے گا.

    بہاولپور ڈویژن میں کپاس کی فصل کی اہمیت کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم نے اسلامیہ یونیورسٹی میں نیشنل کاٹن بریڈنگ انسٹیٹیوٹ کا بھی افتتاح کیا. ادارہ کپاس کی فصل میں کم وسائل سے ذیادہ پیداوار پر تحقیق کے ذریعے کپاس کی کاشت میں جدتیں لا رہا ہے. تحقیق شدہ اقسام میں اب تک 40 فی صد کم پانی، 50 فی صد کم کیڑے مار ادویات کے استعمال، 35 فی صد کم مجموعی لاگت سے پیداوار میں 20 فی تک صد اضافہ کیا گیا ہے، جسکو 40 فی صد کم لاگت سے 30 فی صد پیداوار میں اضافے تک لانے کیلئے کام جاری ہے.

    اسکےعلاوہ وزیرِ اعظم نے انٹر کراپنگ ریسرچ سینٹر کا بھی افتتاح کیا جہاں ابتدائی طور پر سٹرپ انٹر کراپنگ (Strip Intercropping) کے ذریعے سویا بین اور مکئی کی پیداوار بڑھانے کیلئے تحقیق کی جا رہی ہے، مزکورہ تکنیک مکئی کی کاشت کو متاثر کئے بغیر سویابین کی پیداوار میں اضافے میں معاون ثابت ہوگی. سویا بین کی پیداوار میں اضافے سے کسان کی آمدن میں اضافہ، درآمدات میں کمی اور خوردنی تیل میں پاکستان کافی حد تک خود کفیل ہو سکے گا.

  • اولمپکس میں ناکامی کے بعد فہمیدہ مرزا کی وزیراعظم سے ملاقات متوقع

    اولمپکس میں ناکامی کے بعد فہمیدہ مرزا کی وزیراعظم سے ملاقات متوقع

    ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کی ناقص کارکردگی کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے پیش کرنے پر غور، حکومت نئے سپورٹس فیڈریشنز کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائے گی.

    وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا کی کل وزیر اعظم سے ملاقات متوقع ہے، آئندہ ہفتے وزیر بین الصوبائی رابطہ سپورٹس فیڈریشنز کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گی، مستقبل کی حکمت عملی کے پیش نظر کھیلوں کی اکیڈمیز بنانے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے، پی ایس بی حکام پی اواے عہدیداروں کی ہرزہ سرائی کا بھی جائزہ لے گی، پی او اے عہدیداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے گا، براہ راست اکیڈمیز تشکیل دینے کے معاملے پر سپورٹس حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے.

  • بولنےلکھنےکی آزادی چاہیے:کوئی قدغن قبول نہیں کریں گے:میڈیا اتھارٹی کومسترد کرتےہیں:میڈیا تنظیمیں

    بولنےلکھنےکی آزادی چاہیے:کوئی قدغن قبول نہیں کریں گے:میڈیا اتھارٹی کومسترد کرتےہیں:میڈیا تنظیمیں

    اسلام آباد:بولنےلکھنےکی آزادی چاہیے:کوئی قدغن قبول نہیں کریں گے:پاکستان میڈیا اتھارٹی کومسترد کرتے ہیں:اطلاعات کے مطابق پاکستان کی میڈیا تنظیموں نے مجوزہ پاکستان میڈیا اتھارٹی کو مستردکردیا۔

    آل پاکستان نیوز پیپرسوسائٹی (اے پی این ایس)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یوجے) اورایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیاایڈیٹراورنیوزڈائریکٹرز (ایمنڈ) نے مجوزہ پاکستان میڈیا اتھارٹی کا تصورغیر آئینی اورڈریکونین قانون قراردے دیا۔

    میڈیا تنظیموں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ مجوزہ پاکستان میڈیا اتھارٹی آزادی صحافت اورآزادی اظہار کے خلاف ہے، مجوزہ پاکستان میڈیا اتھارٹی کامقصد میڈیا کے تمام شعبوں کو ریاست کے کنٹرول میں لانا ہے۔میڈیا تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلاکر مجوزہ پاکستان میڈیا اتھارٹی کو مسترد کیا جائے۔