Baaghi TV

Author: +9251

  • تجاوزات کے خلاف سی ڈی نے آپریشن شروع کردیا

    تجاوزات کے خلاف سی ڈی نے آپریشن شروع کردیا

    وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) انتظامیہ کی ہدایت پر شعبہ انفورسمنٹ نے بدھ کے روز ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کی معاونت سے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات کے خلاف متعدد مقامات پر کارروائیاں کیں جسمیں غیر قانونی عمارتیں، مکانات و دیگر غیر قانونی تعمیرات مسمار کردی گئیں ہیں.

    ان کارروائیوں کا آغاز اسلام آباد کے علاقے آ ئی جے پی روڈ سے کیا گیا ہے، جس میں بھاری مشینری کی مدد سے منڈی موڑ سے منسلک گرین بیلٹ پر قائم ایک غیر قانونی کار پارکنگ کی دیواروں کو مسمار کردیا گیا ہے، گاڑیوں کو غیر قانونی پارکنگ میں سے نکال کر گہرے گھڑے کھود کر زمین کو ناکارہ بنادیا گیا ہے، اراضی کا قبضہ سی ڈی اے کے ہی شعبہ انوائرمنٹ کے حوالے کردیا تاکہ خالی کرائی گئی جگہ پر شجرکاری شروع کی جاسکے گی.

    علاوہ ازیں آ ئی جے پی روڈ بالمقابل سی ٹی ٹی آ ئی کالج کے عقب میں واقع برساتی نالے کے اطراف میں 35 غیر قانونی گھروں کو بھاری مشینری کی مدد سے مسمار کردیا گیا ہے، تاکہ حالیہ مون سون بارشوں میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر کوئی ناخوشگوار واقع رونما نہ ہو، اسلام آباد کے ہی علاقے آ ئی جے پی روڈ پر ٹریفک اشارے کے پاس غیر قانونی قائم کئے گئے چار مویشیوں کے باڑے مسمار کردئیے گئے اور اراضی شعبہ انوائرمنٹ کے حوالے کردی تاکہ وہاں بھی شجرکاری کی جاسکے.

    بعد ازاں اسلام آباد کے سیکٹر F-6/3 کی گلی نمبر گیارہ میں ایک رہائشی گھر کے باہر غیر قانونی گارڈ روم، ایک ڈراپ ڈائون بیرئیر کو بھی مسمار کردیا گیا ہے، قبضہ شدہ سامان سی ڈی اے نے تحویل میں لیکر سٹور میں جمع کروادیا ہے، اسلام آباد کے سیکٹر G-9 اور سیکٹر G-10 میں تعمیر شدہ دو غیر قانونی ڈھابوں کو بھی مسمار کردیا گیا ہے.

    واضح رہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے وفاقی دارالحکومت میں سی ڈی اے غیر قانونی تجاوزات و تعمیرات کے خلاف مسلسل آ پریشن کرنے میں مصروف ہے، جس سے اربوں روپے کی سرکاری اراضی واگزار کرائی جاچکی ہے.

  • خطےمیں ہمیشہ امن کے لیے ہیمشہ مخلصانہ کوششیں کیں:امن کےسفیرہیں‌:پراپیگنڈہ بند کیا جائے:آرمی چیف

    خطےمیں ہمیشہ امن کے لیے ہیمشہ مخلصانہ کوششیں کیں:امن کےسفیرہیں‌:پراپیگنڈہ بند کیا جائے:آرمی چیف

    راولپنڈی: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم نے افغان امن عمل کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آرمی چیف کی زیر صدارت دو روزہ کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی، جس میں داخلی سیکیورٹی، بیرونی خطرات اور خصوصاً افغانستان کی صورت حال پر غور کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں افغانستان میں ہونے والی تازہ پیشرفت پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ اجلاس میں پاک افغان بارڈر میں بدلتی صورت حال پر بات چیت اور بریفنگ دی گئی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سرحد کنٹرول کے حوالے سے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    کانفرنس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ ’ہم نےافغان امن عمل کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے ، معاملات کےحل کیلئے آئندہ بھی سنجیدہ کوششیں کرتے رہیں گے‘۔

    سپہ سالار نے زور دیا کہ ’ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے تمام فریقین مثبت کردار ادا کریں ، افغانستان میں دیرپا امن خطے کا استحکام ثابت ہوگا، غلط فہمیاں پھیلانے، قربانی کا بکرا تلاش کرنےسے اجتناب برتنا چاہیے ،سازشی عناصر کی تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں ملک کو درپیش کثیر النوعیت چیلنجز کا جائزہ بھی لیاگیا، جن سےنمٹنےکیلئےقومی حکمت عملی اختیارکرنےکی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    آرمی چیف نےکرونا سے نمٹنےکےلیے فارمیشنز کے تعاون کوسراہا اور مون سون، انسداد پولیو مہم کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں کا سراہا۔

  • امتحانات میں طلبہ کو پرسکون ماحول فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اسماعیل راہو

    امتحانات میں طلبہ کو پرسکون ماحول فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اسماعیل راہو

    کراچی میں انٹرمیڈئیٹ کے امتحان کا سلسلہ جاری ہے، صوبائی وزیر بورڈ اینڈ جامعات اسماعیل راہو نے مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا ہے، کورونا ایس او پیز اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا ہے، اس موقعی پر صوبائی وزیر کے ہمراہ سیکریٹری بورڈ اور چیئرمین بورڈ ہمراہ تھے.

    صوبائی وزیر بورڈ اینڈ جامعات اسماعیل راہو نے کہا کہ سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ تمام امتحانی مراکز کی سختی سے مانیٹرنگ ہوتی رہے، کراچی میں 26 ہزار طالبعلم امتحان دے رہے ہیں، سندھ میں 800 سو سے زائد امتحانی مراکز قائم ہیں، تمام ممکنہ اقدامات کیے ہیں، کوشش ہے کہ طلبہ وطالبات کو پرسکون ماحول مہیہ کریں، گزشتہ روز ایک سو پینتالیس کاپی کیسز پکڑے گئے ہیں، ڈیوٹی سے غفلت برتنے پر 6 سے زائد انویجیلیٹرز کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، کسی قسم کی غلطی برداشت نہیں کی جائیگی، سنیٹ جوزف گرلز کالج اور گورنمینٹ گرلس کالج شاہراہ لیاقت کے انتظامیہ کو امتحانی مراکز میں بہتر انتظامات کرنے پر شاباشی بھی دی ہے، شاہراہ لیاقت گرلز کالج کی پرنسپل کو ہدایت کی کے کلاسز کے اندر کی دیواروں کو رنگ کروایا جائے.

  • مقدس ماہ میں دشمن قوتیں پاکستان میں ایکٹو ہوجاتی ہیں، مل کر مقابلہ کرنا ہے، ساجد کیانی

    مقدس ماہ میں دشمن قوتیں پاکستان میں ایکٹو ہوجاتی ہیں، مل کر مقابلہ کرنا ہے، ساجد کیانی

    ڈی آئی جی آپریشنزلاہورساجد کیانی نے دارالعلوم جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو میں "امن و امان کے قیام میں پولیس اور عوام کا باہمی کردار” کے موضوع پرسیمینار سے خطاب کے دوران کہا کہ قیام امن کیلئے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا ہمیشہ کلیدی کردار رہا ہے، محرم الحرام کے اس مقدس مہینے میں بھائی چارے اور رواداری کی فضاء کو قائم رکھنے میں علماء کرام اپنا بھرپور تعاون جاری رکھیں، مقدس مہینوں کے موقع پرغیر ملکی امن دشمن قوتیں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کیلئے متحرک ہو جاتی ہیں، جن کو سبوتاش کرنے کیلئے ہمیں اپنی صفوں میں منظم رہنا ہوگا، نوجوان نسل پاکستان کا مستقبل ہے، دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا حصول اشد ضروری ہے، علم دین کا سیکھنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اسلام نے جتنے بھی احکامات دیئے ہیں ان پر علم کے بغیر عمل ممکن نہیں ہے، ملک میں امن کی فضاء کے قیام کیلئے ہم سب پر تمام مسالک کے عقائد کا احترام لازم ہے.

    مولانا راغب نعیمی سمیت دیگر علماء کرام، ایس ڈی پی او قلعہ گجر سنگھ سرکل رضا حسنین اور ایس ایچ او، ادارہ کے اساتذہ و طلباء کی کثیرتعداد اس موقع پرموجود تھی۔

    مولانا راغب نعیمی نے شہر میں امن و امان کے قیام کیلئے کی پولیس خدمات کو سراہا، مذہبی ہم آہنگی، رواداری کے قیام کیلئے لاہور پولیس کی خدمات قابلِ ستائش ہیں.

    بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز نے مولانا راغب نعیمی سمیت دیگر علماء کرام سے ملاقات میں امن وامان کے قیام اور بین المسالک یکجہتی کو فروغ دینے کیلئے مشترکہ کوششیں کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے، لاہو رپولیس تمام اداروں، علماء کرام کے ساتھ مل کر محرم الحرام کے پروگراموں کو پرُامن بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے، محرم الحرام میں سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کے لئے شہریوں کا تعاون نا گزیر ہے، ڈی آئی جی آپریشنز نے تقریب کے اختتام پر سرسبز پاکستان مہم کے تحت جامعہ نعیمیہ میں پودا لگایا اور ملک و سلامتی کیلئے دعا بھی کی ہیں.

  • پاکستان کومیڈیا وارکا سامنا،پی ٹی ایم ریاست مخالف ٹرینڈ چلانےمیں ملوث:ن لیگ حصہ ڈالتی رہی:فوادچودھری

    پاکستان کومیڈیا وارکا سامنا،پی ٹی ایم ریاست مخالف ٹرینڈ چلانےمیں ملوث:ن لیگ حصہ ڈالتی رہی:فوادچودھری

    اسلام آباد:پاکستان کومیڈیا وارکا سامنا،پی ٹی ایم ریاست مخالف ٹرینڈ چلانےمیں ملوث:ن لیگ پاکستان سے حصہ ڈالتی رہی ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے دو سالہ ڈیٹا سے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان مخالف سارے ٹرینڈز کو پی ٹی ایم نے شروع کیا، اسے بھارت سے سپورٹ مل رہی تھی۔ پی ٹی ایم نے ریاست مخالف 150 ٹرینڈز چلائے۔

    اسلام آباد میں مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر بے بنیاد پروپگنڈا کیا جاتا ہے، ان سوشل میڈیا ٹرینڈز کو بھارت نے لیڈ کیا۔ پاکستان میں سب سے بڑے پلیئر پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اوران کے ورکرز ہیں۔

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ڈس انفولیب کے مطابق 845 ویب سائٹس پاکستان کیخلاف استعمال کی گئیں۔ پی ٹی ایم نے شروعات کی اور حمایت بھارت سے ملی۔ کریمہ بلوچ کی ہلاکت ٹاپ ٹرینڈ رہی حالانکہ وہ کینیڈا کی شہری تھیں، ان کی موت طبعی تھی۔ پی ٹی ایم نے 20 ہزار ٹویٹ کیے کہ ریاست نے کریمہ بلوچ کو قتل کیا۔ اس کے علاوہ زلفی بخاری کے اسرائیل دورے سے متعلق ٹرینڈ چلایا گیا۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ افغانستان میں بیس سال کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوششیں ہو رہی ہے۔ افغانستان میں طالبان کی جنگ جاری ہے لیکن پاکستان کے خلاف افغان اور بھارت کے اکاؤنٹس استعمال ہو رہے ہیں۔

    وزیر اطلاعات نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بہت بڑی میڈیا وارکا سامنا ہے۔ جعلی خبروں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹی ایل پی کے بہت زیادہ ٹویٹس کو بھارت سے بہت زیادہ سپورٹ ملی۔ پاکستان میں ہر طرح کے فساد پھیلانے میں باہر کے لوگ ملوث ہوتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے چار لاکھ ٹویٹس کا بہت بڑا حصہ بھارت کے شہر احمد آباد سے تھا۔ نور مقدم کیس میں سوشل میڈیا پر پوری کمپین چلائی گئی کہ پاکستان خواتین کے لیے محفوظ نہیں ہے۔

  • از خدا جوییم توفیق ادب  محمد عتیق گورائیہ

    از خدا جوییم توفیق ادب محمد عتیق گورائیہ

    مرو به غُربت و عیشِ وطن غنیمت دان
    اسیرِ کِشورِ غُربت همیشه بیمار است
    یعنی اپنے وطن سے نہ جائیے اور اپنے وطن کی عیش و عشرت کو غنیمت جانیے اور اس سے فائدہ اٹھائیے۔ غریب الوطنی کا شکار بندہ ہمیشہ بیمار رہتا ہے۔ ماہ آزادی شروع ہےا ور آپ کو آزادی کے حوالے سے مختلف احباب کے خیالات و تاثرات الفاظ کی شکل میں پڑھنے کو مل رہے ہوں گے ۔آپ بھی سوچ رہے ہوں گے مذکورہ بالا شعر کا آزادی سے کیا تعلق ہے ۔ تو عرض یہ ہے کہ اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے دیارِغیر کہاں اپنا کہلایا جاسکتا ہے ۔ اس وقت پاکستان میں پرچم کے ساتھ پودا لگانے کا احسن کام بھی شروع ہے ۔ جہاں حکومتی سطح پر شجرکاری کا اہتمام کیا جا رہا ہے وہی پر اہل وطن بھی اس معاملے میں پیش پیش نظر آرہے ہیں ۔ شجرکاری کے حوالے سے حکومتی اقدامات نہ صرف قابل تحسین ہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہیں ۔ پاکستانی جھنڈے کا ایک حصہ سبز ہے اور اس وقت موجودہ حکمران بھی پاکستان کو سرسبز کرنا چاہ رہے ہیں ۔ ماہ اگست کی آمد کے ساتھ جہاں وہ تصاویر و الفاظ نظروں سامنے گھوم جاتے ہیں جو تکالیف و مصائب واضح کرتے ہیں جو کہ قیام پاکستان کے وقت بزرگوں نے برداشت کی تھیں وہی پر ہمارے لیے سبق آموز بھی ہیں کہ آزادی یوں ہی نہیں مل جاتی۔ محمد ایوب صابر کا شعر ملاحظہ کیجیے
    یہ دھرتی ہے مرا اعزاز میں ٹھہرا زمیں زادہ
    زمیں دو گز کی خاطر وسعت ِ افلاک چھوڑ آیا

    ملک بھر میں اس وقت جہاں جشن آزادی کو جوش و خروش سے منانے کی تیاری عروج پر ہے وہی پر ہمیں ادب و آداب کا بھی خیال ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا کہ
    از خدا جوییم توفیق ادب
    بی ادب محروم گشت از لطف رب
    ” ہم خدا سے ادب کی توفیق مانگتے ہیں۔ بے ادب خدا کے فضل سے محروم رہا ہے۔” پاکستانی پرچموں کی بہار کے ساتھ درختوں کی بہتات کا ہونا اس بات کو ثبوت ہے کہ ہم قومی سطح پر بھی قوم بننے کی راہ پر گامزن ہوچکے ہیں۔ یہ راہ طویل بھی ہے اور پر خطر بھی، ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم اس پر چلتے رہیں۔ پودے کو لگا کر اس کی دیکھ بھال کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اسے لگانا۔ 14 اگست سے اگلے دن اگر آپ دیکھیں تو وہی پرچم و جھنڈیاں جنھیں ہم سینے پر سجاے پھرتے تھے جنھیں ہم نے گھروں کی زینت بنایا ہوا تھا اور جنھیں ہم نے گلیوں بازاروں میں لگاکر حب الوطنی کا ثبوت دیا تھا اور اپنے جذبہ حب الوطنی کو تروتازہ کیا تھا ۔ خاک نشین ہوے پڑے ہیں، ہوا انھیں کبھی کوڑا کرکٹ پر لے جاتی ہے تو کبھی آندھی انھیں اڑاتے اڑاتے نالیوں میں بہا دیتی ہیں اور کبھی وہ لوگوں کے قدموں تلے روندے نظر آتے ہیں۔ یہ وطن کے پرچم کی توہین ہے اور یہ ان شہداکی بھی توہین ہے جنھوں نے وطن کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا ہے ۔ اسی چیز کو سامنے رکھتے ہوے انتہائی مناسب اور موزوں وقت پر عدالت عالیہ نے قومی پرچم کی حرمت کے حوالے سے قواعدوضوابط پر مبنی فیصلہ دیا ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے قرار دیا ہے کہ ہمارا قومی پرچم محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں، سبز رنگ خوش حالی، سفید رنگ اقلیتوں کے لئے امن، ہلال ترقی، پانچ کونوں کا ستارہ روشنی اور علم کی عکاسی کرتا ہے۔ پرچم چھاپنے کے دوران اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ قومی پرچم گہرا سبز حصہ تین چوتھائی، سفید حصہ ایک چوتھائی ہو، قومی پرچم کو دیگر رنگوں، بدنما پورٹریٹ یا کارٹون کی شکل میں ہرگز نہ چھاپا جائے۔ زمین پر نہ گرنے دیا جائے، پاؤں کے نیچے ہرگز نہ آئے، پرچم ایسی جگہ نہ لہرایا جائے جہاں گندا ہونے کا خدشہ ہو، قومی پرچم کو نذرآتش کیا جائے نہ قبر میں دفن کیا جائے۔ قومی پرچم کی بے حرمتی پر تین سال قید ہے۔ ملکی قوانین پر عمل درآمد کا ہونا خوش آئند بھی ہوگا اور ہمارے لیے باعث سکون بھی ۔ قوانین سارے ہی تقریبا موجود ہیں بس کمی ان پر عمل کرنے اور کروانے کی ہے ۔ اس بار ہمیں بحیثیت پاکستانی شہری اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ اپنے لگاے گیے پرچم کی دیکھ بھال کریں ، اگلی صبح اپنے اردگرد نظر دوڑائیں جہاں پرچم و جھنڈیاں گری ہوئی نظر آئیں انھیں اٹھا کر صاف ستھرا کرکے محفوظ کریں ۔ حکومت کو بھی اس حوالے سے کوشش کرنی ہوگی کہ وہ اب سے بھرپور آواز اٹھاے لوگوں کو بتانے کے ساتھ انتظامیہ کو پابند کرے کہ وہ علاقوں میں مخصوص جگہوں پر ان پرچموں اور جھنڈوں کو اکٹھا کرنے کا اہتمام کرے اور بعد ازاں انھیں بہ ترین طریقے سے محفوظ بنانے کا اہتمام کرے ۔

  • اپوزیشن خودساختہ کورنٹائن ہونے کی بجائے کرونا وباء میں اپنا کردار ادا کرے، ضیاء لانگو

    اپوزیشن خودساختہ کورنٹائن ہونے کی بجائے کرونا وباء میں اپنا کردار ادا کرے، ضیاء لانگو

    صوبائی وزیر داخلہ و پی ڈی ایم اے میر ضیاء لانگو نے کہا ہے کہ اپوزیشن ارکان حلقے کی بجائے اپنے اور گھر والوں کے لئے سامان مانگتے تھے، حکومت بلوچستان نے کورونا وباء میں27 ہزار زائرین کو سہولیات فراہم کی ہیں، پی ڈی ایم اے نے اس وقت تفتان میں فرائض انجام دیئے جب کوئی وہاں جانے کوتیار نہیں تھا، پی ڈی ایم اے اور حکومت بلوچستان نے وباء میں انسانیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کام کیا ہے، جن مشکل حالات میں کام کیا ہر بلوچستانی اور پاکستانی کو ہم پر فخر ہونا چاہیے.

    وباء کے دنوں میں لوگ اپنے گھروں میں محصور تھے اور اپوزیشن ارکان اسمبلی خودساختہ کورنٹائن تھے، کوئٹہ سے تفتان بارڈر8 سو کلومیٹر کے فاصلے پر محیط ہے، تفتان ویرانہ ہے، جہاں ضرورت کا ہر سامان کوئٹہ سے بھیجنا پڑا ہے، اپوزیشن غلط بیانی سے کام لے رہی ہے، کورونا وبا کے دوران مہنگا سامان خریدنے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے، اپوزیشن کے ساتھ خریدے گئے سامان میں اگر باقاعدگیوں کا کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں، کورونا کی پہلی لہرمیں سامان کی قلت تھی.

  • پاکستان 84 لاکھ کسان اس ملک کا اثاثہ ہیں، وزیر اعظم کا قوم کے کسانوں سے خطاب

    پاکستان 84 لاکھ کسان اس ملک کا اثاثہ ہیں، وزیر اعظم کا قوم کے کسانوں سے خطاب

    بہاولپور: پاکستان 84 لاکھ کسان اس ملک کا اثاثہ ہیں، وزیر اعظم کا قوم کے کسانوں سے خطاب،اطلاعات کے مطابق آج بہاولپورمیں کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمرا ن خان نے کہا ہے کہ ہمارے 84 لاکھ کسان اس ملک کا اثاثہ ہیں اور اگر ہم اپنے کسانوں کی مدد کر گئے تو یہ ملک اٹھ جائے گا۔

    وزیر اعظم نے بہاولپور میں کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کنونشن کے انعقاد کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ اگر یہ ملک اپنے لاکھوں کسانوں کی مدد کر گیا تو یہ ملک اٹھ جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ایک مہم چلی ہوئی تھی کہ اس ملک کو جاگیرداروں نے تباہ کردیا لیکن شہر کے لوگ تو جاگیردار اور کسانوں میں فرق ہی نہیں کر سکتے۔

    انہوں نے کہا کہ اس ملک میں 26ہزار وہ لوگ ہیں جن کی زمین 125 ایکڑ سے زیادہ ہے تو جب لوگ کہتے تھے کہ جاگیردار ٹیکس نہیں دیتے اور انہوں نے لوگوں پر ظلم کیا تو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ لوگ 26 ہزار سے بھی کم ہیں، اس ملک کی اصل جان اس ملک کے کسان ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک میں 84 لاکھ کسان ہیں جو اس ملک کا اثاثہ ہیں، آج مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں سب سے محنت کش کسانوں کے پاس 1100 ارب روپے اضافی گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں قانون کی نہیں طاقت کی بالادستی رہی ہے، شوگر ملز والے طاقتور تھے تو کسانوں کی ٹرالی کھڑی رہ جاتی تھیں اور انہیں اپنے گنے کی قیمت بھی نہیں ملتی تھی، جو ریٹ دیے جاتے اس سے کم پیسے ملتے تھے، کٹوتی ہوتی تھی اور محنت کرنے والے کو اپنی محنت کا پھل نہیں ملتا تھا اور طاقتور نفع کما رہا تھا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ یہ سب دیکھتے ہوئے اپنے قانون سازی کی کہ کس دن شوگر ملز کرشنگ شروع کریں گی اور اگر وہ نہیں کریں گی تو ان پر جرمانہ کیا جائے گا، ہم نے کسانوں کو پوری قیمت دلوائی اور اسی طرح کسانوں کو گندم اور مکئی کی بھی صحیح قیمت ملی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس سے پاکستان کو فائدہ ہو گا، جب کسان کمائے تو وہ اپنی زمین پر لگائے گا، زمین کی پیداوار بڑھے، ملک کو فائدہ ہو گا، ملک میں غربت کم ہو گی اور کسان کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔

    انہوں کہا کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کی ایک وجہ یہ ہے کہ دنیا کو چیزیں برآمد کرنے والا پاکستان آج اشیا برآمد کررہا ہے، جب ملک بنا تو ہماری آبادی 4 کروڑ تھی لیکن آج آبادی ساڑھے 22 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور جب آبادی اتنی بڑھے گی تو ہمیں پیداوار بھی اسی طرح سے چاہیے، اس سال ہماری گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی لیکن اس کے باوجود ہم 40لاکھ ٹن گندم درآمد کررہے ہیں۔

  • بلوچستان میں آج کے موسم کی صورتحال

    بلوچستان میں آج کے موسم کی صورتحال

    محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا، شام اور رات کے اوقات میں ژوب، بارکھان اور گردوانواح میں بارش کا امکان ہے، کوئٹہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ کیا گیا ہے، قلات میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ کیا گیا ہے، بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، سبی میں زیادہ سے زیادہ موجودہ درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، نوکنڈی میں زیادہ سے زیادہ موجودہ درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی ریکارڈ کیا گیا ہے، کوئٹہ میں ہوا میں نمی کا تناسب 23 فیصد، گوادرمیں نمی کا تناسب61 فیصد، سبی میں ہوا میں نمی کا تناسب 39 فیصد، نوکنڈی میں ہوا نمی کا تناسب 7 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے.

  • نوازشریف کی جان بخشی کی جائے:نوازشریف کی ہدایت پرشہبازشریف خفیہ رابطوں میں مصروف

    نوازشریف کی جان بخشی کی جائے:نوازشریف کی ہدایت پرشہبازشریف خفیہ رابطوں میں مصروف

    لاہور:نوازشریف کی جان بخشی کی جائے:نوازشریف کی ہدایت پرشہبازشریف خفیہ رابطوں میں مصروف،اطلاعات کے مطابق سینئر صحافی رانا عظیم کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اسلام آباد میں کسی کے ذریعے اہم ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے یہ بھی کہا جارہا ہےکہ نوازشریف کوبرطانیہ سے سخت بے رحمی سے جوپیغام ملا ہے اس کے بعد نوازشریف کے پاس اب جھکنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں‌ ہے ، اس حوالے سے نوازشریف اورشہبازشریف کے درمیان چند دن پہلے جو رابطہ ہوا تھا اس میں نوازشریف کو شہبازشریف نے اس بات پرقائل کرلیا تھا کہ اب بغاوت سے بازآجائیں اورملک کے خلاف بیانیہ دینا چھوڑ دیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ شبازشریف نے نوازشریف کو یہ بھی درخواست کی کہ پارٹی کا وجود خطرے میں ہے اوراگرپارٹی ہی نہ بچی توہمارے پیچھے کون کھڑا ہوگا

    یہ بھی سننے کو ملا ہے کہ اس موقع پرنوازشریف پہلے کی نسبت اب کی باربہت دھیمے دھیمے اورقابل رحم انداز میں شہبازشریف سے بات کرتے رہے

    ادھر ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شہازشریف نے نوازشریف کو پھرقائل کیا کہ وہ اپنے بیانیہ سے باز آتے ہیں‌ تو پھر وہ پاکستانی اداروں سے بات کرسکتے ہیں اس کےلیے اپنی اورمریم کی زبان بندی کی شرط ضروری ہے ، جس پر نوازشریف نے ہاں کرتے ہوئے کچھ کرنے کا مشورہ بھی دیا

    ذرائع نے اس حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ شہبازشریف بہت جلد اہم شخصیات سے ملنے والے ہیں اور اس ملاقات کےبعد اگرمعاملات طئے پاگئے تو پھرنوازشریف کے ساتھ ساتھ شہبازشریف کو بھی اپنے عزائم سے تائب ہونا پڑے گا اوراس کے نتیجے میں ن لیگ بالکل تقسیم ہوکررہ جائے گی ، بلکہ اہم ذرائع نے تو دعویٰ کیا ہے کہ ن لیگ کا وجود ختم ہوجائے گا اورپھریہ پر انی لیگوں کی طرح کاغذوں میں رہ جائی گی

    ادھر ایسی ایک بڑی خبرمعروف صحافی رانا عظم نے دی ہے وہ کہتے ہیں‌ کہ شہباز شریف جلد اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ملاقات کے لیے شہباز شریف نے فیملی کے کچھ لوگوں کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔شہباز شریف کے قریبی دوست نے بتایا کہ اہم ملاقات میں وہ یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کریں گے کہ میں اپنے بھائی اور بھتیجی کو منا لوں گا،دونوں کی زبان بندی ہو گی لیکن ہمیں اگلے انتخابات میں ریلیف دیا جائے۔

    رانا عظیم نے پہلے دعوے کے برعکس دعویٰ کیا کہ شہباز شریف یہ ملاقات نوازشریف سے مشورہ کیے بغیر کر ہے ہیں۔اس کے لیے انہوں نے قریبہ رشتہ داروں سے مشورہ کیا ہے۔رانا عظیم نے مزید دعویٰ کیا کہ نوازشریف نے کہا کہ اگر مجھ سے کچھ پوچھے بغیر کیا گیا تو میں پاکستان آ جاؤں گا پھر کئی اپنوں کی امیدوں پر پانی پھر جائے گا۔قبل ازیں سینئیر صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا کہ شہباز شریف اسی گارنٹی پر باہر آئے تھے کہ اب اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ نہیں چلے گا۔