آئی جی سندھ کی ذیر صدارت سی پی او میں منعقدہ ایک ویڈیو لنک اجلاس میں میرپورخاص پولیس رینج اور اسکے متعلقہ اضلاع کے لیئے محرم الحرام سال 2021 کے دوران اختیارکردہ حفاظتی اقدامات اور لائحہ عمل کا مختلف پہلوؤں سے تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مزید ضروری ہدایات دی گئیں۔اجلاس میں ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز سندھ،اے آئی جی آپریشنز سندھ اور اے آئی جی ایڈمن سی پی او براہ راست جبکہ دوسری جانب ویڈیو لنک پر ڈی آئی جی میرپور خاص اور ضلعی ایس ایس پیزکے علاوہ میر پورخاص،عمرکوٹ اور تھرپارکر/مٹھی میں قائم مختلف امام بارگاہوں،شیعہ کونسل اور درگاہوں سے تعلق رکھنے والی علماء اکرام/ذاکرین/متولی ظہیرالحسن نجمی، حمزہ نقوی،شاہ بخش لند،سیدعباس علی شاہ،سیدزوالفقار علی شاہ،زمان کھوسو، صابرفقیر،شمس الدین شاہ اورگل محمد باجیر بھی موجود تھے۔
آئی جی سندھ نے محرم سیکیورٹی اقدامات پر اجلاس میں شریک علماء اور ذاکرین سے باقاعدہ مشاورت کی اور انکی تجاویز کی روشنی میں پولیس کو جملہ حفاظتی اقدامات کو ٹھوس اور مربوط بنانے کے احکامات دیئے۔آئی جی سندھ نے ہدایات دیں کہ محرم مجالس،جلوسوں کی فہرستوں کو سامنے رکھتے ہوئے اور منتظمین سے مسلسل روبط کے تحت ہر سطح پر غیرمعمولی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر علماء اکرام اور ذاکرین نے محرم سیکیورٹی اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنی جانب سے سندھ پولیس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
Author: +9251
-

آئی جی سندھ کی زیر صدارت سی پی او میں اجلاس
-

ضلع وسطی بازی لے گیا، ہیموفیلیا مریضوں کی ویکسی نیشن بھی شروع
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او)سینٹرل نے سندھ بھر میں سبقت لیتے ہوئے خون کی بیماری ہیموفیلیا کے مریضوں کی کورونا سے بچاو کی ویکسی نیشن ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی کراچی کے تعاون سے شروع کرا دی۔ ویکسی نیشن کا عمل ناظم آباد نمبر چار میں واقع ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی کراچی کے سینٹر پر پیر سے شروع کر دیا گیا ہے۔
سینٹر کا افتتاح مہمان خصوصی ڈی ایچ او آفس سینٹرل کی فوکل پرسن برائے کورونا ڈاکٹر حرا ظہیر، سیکریٹری سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی ڈاکٹر درناز، سینئر صحافی اینکرپرسن میٹرو ون نیوز اختر شاہین رند، سوسائٹی کے بانی و صدر راحیل احمد نے کیا۔ اس موقع پر سوسائٹی کے عہدیداران فخر عالم زیدی، انیس الرحمان، محمد شاہد، ڈاکٹر منیرہ برہانی، رانا اصغر علی، ڈائریکٹر سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی ڈاکٹر ثاقب، ڈاکٹر درشہوار و دیگر بھی موجود تھے۔
افتتاح کے موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے صدر راحیل احمد نے بتایا کہ ہیموفیلیا کے مریض کورونا سے بچاو کی ویکسین سے محروم تھے۔ میڈیا پر بھی اس پریشانی کو اجاگر کیا گیا۔ کورونا یا کوئی بھی انٹرامسکولر انجکشن لگنے سے پہلے ہیموفیلیا کے مریضوں کو اینٹی ہیموفیلیا لگنا ضروری ہوتا ہے ورنہ متاثرہ جگہ سے اندرونی طور پر خون کا رساو شروع ہو جاتا ہے۔
ہیموفیلیا کے مریضوں کو ویکسی نیشن سینٹرز میں زیادہ دیر انتظار کرنے کی وجہ سے جوڑوں میں اندرونی خون رسنے کی شکایات ہو رہی تھیں۔ بلیڈنگ کے خوف سے مریض ویکسی نیشن کے لیے نہیں جارہے تھے تاہم اب یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی وہ واحد ادارہ ہے جو اپنے مریضوں کو بنیادی ضروریات اور سہولتیں فراہم کرنے میں سب سے آگے ہے۔
راحیل احمد نے ڈی ایچ او سینٹرل ڈاکٹر مظفر اوڈھو، فوکل پرسن ڈاکٹر حرا ظہیر، محکمہ صحت سندھ اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے ویکسی نیشن کا یہ عمل ممکن ہوا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی ڈاکٹر حرا ظہیر نے ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ڈی ایچ او سینٹرل کی ٹیم کورونا ویکسی نیشن کے حوالے سے ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ لوگ کورونا سے خوفزدہ نہ ہوں، احتیاط جاری رکھیں اور ویکسی نیشن ضرور کرائیں۔ سینئر صحافی اینکرپرسن میٹرو ون نیوز اختر شاہین رند نے کہا کہ میڈیا اسی طرح اپنا مثبت کردار ادا کر کے لوگوں کے مسائل مزید بہتر طور پر حل کرا سکتا ہے۔ سیکریٹری ایس بی ٹی اے ڈاکٹر درناز نے بتایا کہ محکمہ صحت صوبے میں ہیموفیلیا سمیت مختلف بیماریوں سے متاثرہ افراد کو ترجیحی بنیادوں پر ویکسین فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی کی خدمات کو بھی سراہا۔ -

سندھ کابینہ نے بھینس کالونی والے سلاٹر ہاؤس کی واپسی کے احکامات جاری
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس چیف منسٹر ہاؤس میں منعقد ہوا ہے، اس اجلاس میں سندھ کے تمام صوبائی وزرا نے شرکت کی ہے، اجلاس میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے، کرونا کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، اس اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں.
سندھ کابینہ نے کے ایم سی سے 29 ایکڑ سلاٹر ہائوس بھینس کالونی کی زمین واپس لے لی ہے، کے ایم سی اپنا سلاٹر ہائوس چلا نہیں سکی ہے، بھینس کالونی والے سلاٹر ہائوس کی زمین پر بی آر ٹی ریڈ لائن کے لیے بائیو گیس پلانٹ لگایا جائے گا، سندھ حکومت نے کے ایم سی کو نیا سلاٹر ہاؤس بنانے کی ہدایت دے دی گئی ہے،
سندھ حکومت سلاٹر ہائوس کے لیے کے ایم سی کو کسی اور مقام پر اراضی دے گی. -

ٹھٹہ پولیس کی کاروائی، کرمنل گینگ کا مرکزی ملزم گرفتار
ایس ایس پی ٹھٹہ ڈاکٹر محمد عمران خان کی ہدایات پر ٹھٹہ پولیس کی جرائم کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں.
ایس ایچ او تھانہ دھابیجی انسپیکٹرغلام علی لاکھو اور اے ایس آئی شکیل شورو بمعہ اسٹاف نے دوران گشت خفیہ اطلاع ملنے پر ولیج اللہ ڈنو کلمتی بلوچ لنک روڈ دھابیجی کے قریب پہنچے تو ملزمان اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، پولیس نے کامیاب کارروائی کرکے کرمنل گینگ کا مرکزی ملزم مجیب عرف سلطان ولد غلام رسول شیخ کو زخمی حالت گرفتار کرلیا ہے، گرفتار ملزم کے قبضے سے جرائم میں استعمال کی گئی پسٹل اور کراچی کورنگی سے چھینی ہوئی موٹرسائیکل برآمد کرکے تھانہ دھابیجی پر الگ الگ مقدمات درج کردیے گئے ہیں، گرفتار ملزم ضلع ٹھٹہ اور کراچی میں ڈکیتی، رہزنی اور موٹرسائیکل چھیننے کی وارداتوں میں ملوث ہے، جس کا کرمنل رکارڈ طلب کیا جارہا ہے، ملزم سے مزید تفتیش کی جاری ہے.
مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیئے پولیس کے چھاپے جاری ہیں.
-

کراچی میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد جگہ جگہ ٹریفک کی ابتر صورتحال
کراچی میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد جگہ جگہ ٹریفک کی ابتر صورتحال
پی ٹی آئی رہنماء خرم شیر زمان کا شہر کے ناقص ٹریفک کے نظام پرکڑی تنقید
مراد علی شاہ کبھی لاک ڈاؤن لگانے اور کبھی ہٹانے کےشوقین ہیں،کم عقل وزیراعلیٰ لاک ڈاؤن ختم کرنے سے قبل ایک اجلاس ٹریفک کی صورتحال پر بھی کرلیتے۔
نالائقِ اعلیٰ کو اہم منصب پر بیٹھے برسوں بیت گئے مگر شہر میں ٹریفک کا نظام نہیں بدل سکے، کراچی کے کاروباری گڑھ صدر اور اطراف میں ٹریفک بری طرح جام ہے،
سندھ حکومت کراچی شہر کو 14 سالوں میں ٹریفک کا ایک ماسٹر پلین بھی نہ دے سکی،وزیر اعلیٰ کی کام چوری کی وجہ سے کراچی کے عوام سڑکوں پر دھکے کھارہے ہیں۔وزیراعلیٰ صوبے کے مسائل حل نہیں کرسکتے تو مستعفیٰ ہوجائیں،پی پی اپنی کم عقلی اور نااہلیوں کی وجہ سےایک علاقے کی جماعت بن چکی ہے۔
-

سیف سٹی کیمروں کی خرابی کی وجہ سے ملزمان تک نہیں پہنچا جا رہا، سعدیہ تیمور
سیف سٹی اتھارٹی کا ملزمان کو گرفتار کرنے والا سسٹم عرصہ دراز سے خراب ہونے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروا دی گئی ہے، قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے.
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ سیف سٹی اتھارٹی کا کیمروں کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کرنے کا سسٹم ناکارہ ہو گیا ہے، فیشل ریگنائزیشن سسٹم بند ہونے سے پولیس کو بھی ملزمان تک پہنچنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، اہم مقامات پر نصب ایک ہزار کیمروں کا سسٹم بھی جواب دے گیا ہے، کیمروں اور سسٹم کی خرابی کی بڑی وجہ نامناسب دیکھ بھال ہے.
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سیف سٹی اتھارٹی کا ملزمان کو گرفتارکرنے کا سسٹم جلد از جلد ٹھیک کیا جائے،
لاہور شہر میں سیف سٹی کے خراب کیمروں کی بھی فوری مینٹینس کرائی جائے. -

عبادت انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دے دی گئی، شفقت محمود
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کا اجلاس سینیٹرعرفان صدیقی کی زیر صدارت میں منعقد ہوا ہے، اجلاس میں وزیر تعلیم شفقت محمود سمیت متعلقہ حکام شریک ہوئے ہیں.
وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ احساس پروگرام کے تحت ہائیرایجوکیشن کمیشن کو پچاس ہزارسکالرز شپ دیں گے، کمیٹی نے اسلام آباد میں عبادت انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام کے بل کی متفقہ منظوری دے دی ہے، قومی اسمبلی عبادت انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے قیام کا بل پہلے ہی منظور کرچکی ہے.
سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور بائیو ٹیک کے علاؤہ تحقیق کے شعبوں میں پاکستان کو آگے لائے گی، یونیورسٹی 15 فیصد طلباء کو سکالرشپ فراہم کرے گی.
-

پنجاب سے سوات تک .حصہ سوم .تحریر: ارم شہزادی
"کارگل جھیل” خوبصورت نام خوبصورت جگہ اور ٹھنڈا پانی جو روح تک کو تازگی بخشے۔ اگر ہم مری ایبٹ آباد میں جائیں کسی آبشار پر یا جھیل پر تو کولڈ ڈرنک تو دور کی بات سادا پانی اتنا مہنگا ہوتا کہ حیرانگی ہوتی ہے۔ یہاں مجھے پیاس لگی تو چھوٹے سے بنے کھوکھے پر گئی پانی کہا تو گلاس میں دینے لگے کولر سے، میں نے کہا منرل چاہیئے تو بوتل پکڑائی جو کہ میرے خیال میں 150 تک کی ہونی تھی لیکن اس نے 80 روپے لیے ساتھ ڈسپوزیبل گلاس لیے اور سو میں یہ ہوگیا جو کہ ایسی جگہ پر ناقابل یقین تھا۔ خیر واپسی ہوئی اسی بچے صابر نے ایک ویگن ٹائپ روک دی تاکہ بچوں کو اور چھوٹے بچوں والی ماؤں کو بیٹھا کے بھیجا جا سکے۔ اور ہم باقی لوگ پیدل ہی واپس آئے۔ جیسے ہی ہم لوگ مسجد کےپاس پہنچے تو مسجد بند تھی اسے استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا۔ صابر نے کہا وہ سامنے ہمارا گھر ہے آپ ادھر اجائیں ہماری تقریباً دس بچیاں گئی انکے گھر جب کافی دیر ہوئی تو مجھے پریشانی لاحق ہوئی کہ ابھی تک واپس نہیں آئیں کہیں یہاں سے گئیں افغانستان کی کسی سرنگ سے ہی نا برامد ہوں میں گئی تو دیکھ کر حیران رہ گئی صابر کی ماں اور بہنیں باتیں کررہی تھیں اور ساتھ کھانا اور چائے کے لیے ضد کررہی تھیں یہ لوگ پھر معذرت کرتے واپس آئے کہ ان شاء الله دوبارہ آٰے تو ضرور ائیں گے۔ صابر کا چھوٹا سا لیکن بہت خوبصورت گھر تھا۔ وہاں چائلڈ لیبر نام کی کوئی چیز نہیں تھی وہاں سب محنت کرتے ہیں بچے بڑے بوڑھے اور گھر کی خواتین گھر کو بہت خوبصورت انداز سے سمبھالے ہوئے ہیں۔
واپسی پر ایک چھوٹی سیدوکان کے بایر ہم بیٹھ گئے دوکاندار نے ہمیں کرسیاں لگا دیں اور ہم وہاں بیٹھ کر ٹھنڈے پانی اور جوس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ صابر وہاں بھی ہمارے ساتھ تھا اور اسکا وہ آخری جملہ مجھے شرمندہ کرنے کے لیے بہت تھا۔ جب ہم نے اسے پیسے دینے چاہے تو اس نے لینے سے انکار کردیا حالانکہ اپنے نشانہ بازی کے پورے لیے تھے۔ لیکن یہ ہم نے ویسے ہی دیے تھے کہ اتنا وقت ہمارے ساتھ رہے اور کام کرتے رہے یہاں تک کہ گھر بھی لے گئے۔ کہتا ہے یہ گناہ ہوتا ہے ہم پیسہ نہیں لےگا یہ تو ہم ہر حرام ہے آپ ہمارا مہمان ہے اور مہمان نوازی کا پیسہ نہیں ہوتا ہے۔ ہم نے بہت کوشش کی مگر وہ باضد رہا پھر ہم نے اس سے وعدہ کیا کہ دوبارہ جب بھی آئے تمہارے گھر ائیں گے اور کھانا بھی کھائیں گے۔ اسکے ساتھ تصاویر پھر جا کر اس نے کہیں ہم سے پیسے لیے اور پھر جتنی دیر ہم وہاں رکے رہے وہ شرمندہ شرمندہ سا سر جھکائے کھڑا رہا۔ اتنا پیار ارہا تھا اس بچے پر۔ اسکی تربیت کرنے والی ماں پر۔ کتنا بڑا دل اورظرف ہے ان لوگوں کا۔ کیسے انکے بازو کھلے ہیں مہمانوں کے لیے۔ میں اپنے رویہ پر بہت شرمندی تھی کہ ہم کیا سمجھے اور وہ کیا نکلے۔ لیکن اسکے بعد میں نے یہ تہیہ کر لیا کہ اب شک نہیں کرنا ہے۔ بے لوث محبت کرنے والوں کی قدر کرنی ہے۔ واپس "اوشو” جنگل میں رکے رہے کافی دیر بچوں نے گھڑ سواری کی تصاویر بنائیں سلومو بنائے میوزک لگا کر ارتغرل کو یاد کیاگیا۔
اونٹ والا اپنی بےوقوفی اور ضد کی وجہ سے کچھ نا کما سکا جبکہ گھوڑے والے نے اچھا خاصہ کمالیا۔ ڈولی جھولے لیے ۔گنے کی روہ پی اور واپسی ہوئی۔ کچھ دیر سستانے کے بعد کھانے کے لیے گئے "لاروش” کچھ اسی ٹائپ کا نام تھا کھانے کا ارڈر کیا تو بارش شروع ہوگئی کافی تیز بارش وہیں بیٹھے بیٹھے انجوائے کی جیسے بارش رکی ہر منظر بہت خوبصورت تھا اتنا شفاف دھلا ہوااور آسمان کی نیلاہٹ نے اسکی خوبصورتی میں مزیدچار چاند لگا دیے۔ گھاس نہا کر فریش ہوگئی تھی۔ کھانا حسب معمول بہت مزیدار تھا۔ ہر چیز کا زائقہ مختلف تھا۔ دال سے لے کر کڑاہی تک کابلی پلاؤ سےلے کر ہانڈی تک۔ یہاں بھی بل مناسب تھا۔ ادا کیا اور راستے سے ائس کریم کھاتے ہوئے لوٹ آئے۔ تھکن اور نیند سے برا حال تھا جبکہ ابھی ایک پڑاؤ مالم جبہ کاباقی تھا جس کے لیے صبح سویرے جانا تھا اس لیے ضروری سامان الگ کر کے اور باقی سامان بیگ کی صورت بنا کر ایک طرف رکھ کے سوگئے۔
جاری -

پرندوں کو آزاد کرو تحریر: سحر عارف
پرندہ وہ جاندار ہے جسے اللّٰہ پاک نے اڑنے کی صلاحیت عطاء کی ہے۔ پرندے اللّٰہ پاک کی بےحد خوبصورت تخلیق ہیں۔ جب وہ آسمان میں اڑتے ہیں تو دیکھنے والے کو اپنا دیوانہ بنا لیتے ہیں۔ انھیں آزادی سے آسمان پہ رقص کرتے دیکھ کر جاندار رشک کر اٹھتا ہے۔ ان سے معصومیت اور خوبصورتی میں کو جیت نہیں سکتا۔
مجھے یاد ہے میں بچپن میں جب بھی پرندوں کو آڑتا دیکھتی تھی تو ہمیشہ خواہش ہوتی تھی کہ کاش میں بھی اڑ سکتی، کاش میرے بھی پر ہوتے۔ اور جب میں اڑنا سیکھ جاتی تو پورا آسمان گھومتی اور خوب سارا اڑتی۔
خیر ایسی خواہشات تو ہر بچے کے ذہن میں آتی ہونگی۔ پرندوں کی خوبصورتی اور پھر ان کے اڑنے کی صلاحیت تو ہر جاندار کو اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے۔ نا چاہتے ہوئے بھی انسان بہت کچھ سوچنے لگتا ہے۔ ناجانے کیوں پرندوں کو کھلے آسمان میں آزادی سے اڑتا دیکھنا دل کو بہت خوشی کا احساس دیتا ہے شاید اس لیے کیونکہ وہ پیدا ہی اڑنے کے لیے ہوتے ہیں۔
لیکن افسوس کہ ہم آج کے انسان پرندوں کو بھی نہیں بخشتے۔ ہم تو ان سے بھی اڑنے کا حق چھیننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ ناجانے کیوں ہم انسانیت سے گرتے چلے جارہے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللّٰہ پاک نے انہیں کائنات کی خوبصورتی کے لیے پیدا کیا ہے۔ مجھے تو ان کی اڑان دیکھ کے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اڑتے ہیں تو اللّٰہ پاک کی حمد و ثناء کرتے ہیں۔
لیکن پھر بھی جیسے جیسے انسان تعلیم کی دنیا میں آگے سے آگے نکلتا چلا جارہا ہے وہ پرندوں سے ان کے حقوق چھیننے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ صرف اپنی خوشی اور تفریح کی خاطر پرندوں کو خرید کے گھروں میں پنجروں کے اندر قید کرتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایک جاندار کے لیے آزادی کیا چیز ہے۔ آزادی کے بغیر تو ہم انسان بھی زندہ نہیں رہ سکتے وہ تو پھر معصوم سے پرندے ہوتے ہیں۔
جیسے آزادی ہم انسانوں کے لیے نعمت ہے ویسے ہی پرندوں کے لیے بھی ہے آخر کار وہ بھی تو جاندار ہیں۔ انسانوں کا پرندوں پر ظلم صرف یہاں ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ اب تو جانوروں کی طرح پرندوں کا شکار بھی عام سے عام ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں آسمان پر پرندے پہلے کہ نسبت کم نظر آتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ مل کر پرندوں کے شکار اور ان کی قید کے خلاف آواز اٹھائیں اور اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے پرندوں کی آزادی کے معاملے میں تھوڑی انسانیت دیکھائیں۔
اور جہاں بھی پرندوں کی خریدوفروخت دیکھیں فوری طور پر اس کے خلاف کام کریں۔ کیونکہ پرندے آسمانوں پر ہی اڑتے ہوئے خوبصورت لگتے ہیں پنجروں میں قید نہیں۔ اس لیے خود سے عہد کریں کہ کبھی بھی زندگی میں پرندوں کو قید نہیں کریں گے۔
@SeharSulehri
-
قصوروار کون تحریر : راجہ حشام صادق
ہر روز سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر اسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں ۔خواتین کے ساتھ بڑھتے زیادتی کے واقعات دن با دن بڑھتے ہی جلے جا رہے ہیں پچھلی تحریر میں خواتین کی عزت ان کے مقام کے بارے میں لکھا تھا۔ لیکن تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے ۔جس طرح آج ریاست پر ایک تنقید ہوتی ہے کہ یہ کیسی ریاست مدینہ کی داودار حکومت کی حکومت میں ہو رہے ہیں ۔
سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جہاں اتنا ظلم ہوتا ہے اس ظلم میں ہر فرد شامل ہے۔ جو کام مدینہ جیسی پرامن ریاست میں بلکل بھی نہیں ہوتے تھے۔ جو برائیاں وہاں کے افراد میں نہیں تھیں۔ ہمارے معاشرے کے اندر تمام برائیاں پائی جاتی ہیں۔ رشوت، کرپشن، زنا اور قتل جیسے گھنائونے واقعات ہو رہے ہیں۔ اس کی ذمہ داری صرف حکومت وقت پر نہیں ہمارا کیا فرض بنتا ہے۔ ہم نے خود کا کیسے محاسبہ کرنا ہے ۔اپنے آپ کو کیسے بدلنا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔نہ کہ حکومت کی کسی ریاست کا حاکم انفرادی طور پر کسی کی سوچ عادات یا اس کے اعمال نہیں بدل سکتا۔
ہمارے معاشرے میں خواتین کو ہراساں کرنا مردوں کی غلطی ہو سکتی ہے مگر دوسری طرف خواتین کے لباس وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے فیشن مختلف جگہوں پر خواتین اور مرد ایک ساتھ پارٹی کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز میں لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کے نام پر غلط سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں۔ جہاں اساتذہ بےپرواہ ہوتے ہیں۔ وہیں والدین بھی اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔
یہاں یہ کہوں گا کہ جس ملک کی بنیاد اس نظریہ پر رکھی جائے جہاں مرد اور خواتین ایک گاڑی کے دو پہیئے ہوں ۔جہاں مرد اور خواتین ایک ساتھ کام کرتے نظر آئیں۔ جس ملک پر عورت کو حکمرانی کا حق مل چکا ہو ۔ جس ملک کی بنیاد خواتین کی مکمل آزادی پر رکھی جائے جہاں چادر اور چاردیواری کا تصور ختم ہو جائے وہاں ایسے واقعات صرف مردوں کی غلطی نہیں ہوتی۔اس جرم میں خواتین کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔ ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں پر اس وجہ سے بھی تنقید ہو رہی ہوتی ہے کیونکہ وہ خواتین کے تحفظ کے ساتھ ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں۔کیسے ممکن ہے کہ اسلامی فلاحی ریاست کے ساتھ وہ قوانین اور آزادی بھی چلتی رہے۔جو اس ملک کے اندر خواتین کو حاصل ہے۔
یاد رکھیں جس معاشرے کے اندر خواتین کو بیٹے شوہر اور باپ پر برتری حاصل ہو وہاں پر حکمرانی عورت کی ہو وہاں پھر قصور صرف مرد کا نہیں ہوتا۔ وہاں تنقید صرف حاکم وقت پر نہیں ہونی چاہیئے۔ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح نے اس ملک کے لئے جدوجہد کی دو قومی نظریہ پیش کیا لیکن الگ ریاست کے قیام کے بعد اس کے اندر ان نظریات کی نفی کر دی گئی اور بہت سارے ایسے نئے نظریات نے جنم لیا جس کی وجہ سے یہ قوم منتشر ہو گئی انتظامی طور پر بھی دیکھا جائے تو تقسیم کے وقت جو کچھ ہوا شاید وہ قربانیاں بھی اس جدوجہد سے کہیں زیادہ دی گئی تھیں۔ انگریزوں سے پہلے مسلمان حکمران تھے وہاں سے آزادی کے وقت اتنی قربانیوں کے باوجود آج تک غلامی کرتے آ رہے ہیں حقائق سے پردہ جس دن اٹھ گیا یا جس دن سچ کا سامنا اس قوم نے کر لیا اور سچ بولنا لکھنا شروع کر دیا تو شاید آزاد قوم کی حیثیت سے سامنے آئیں لیکن شاید ابھی اس قوم کے اندر برداشت نہیں ہے۔ جو حق اور سچ کا سامنا کر سکے جو اس ملک کی بنیاد رکھے جاتے وقت کی تاریخ کو واضح الفاظ میں بیان کر سکے۔
اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین
پاکستان زندہ باد۔@No1Hasham