Baaghi TV

Author: +9251

  • لاک ڈاؤن سے کراچی کی فضائی آلودگی 40 فیصد کم ہوگئی

    لاک ڈاؤن سے کراچی کی فضائی آلودگی 40 فیصد کم ہوگئی

    شہر میں کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویرئینٹ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت سندھ کے لگائے گئے لاک ڈاؤن کے باعث کراچی کے فضائی ماحول اور شور کی سطح میں30 سے 40 فیصد تک بہتری کا امکان ہے۔

    تخمینے کی بنیاد ایک سال قبل لگائے گئے لاک ڈاؤن کے دوران ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ (سیپا) کے جمع کردہ ماحولیاتی اعداد و شمار ہیں جن کے مطابق لاک ڈاؤن کے باعث کراچی کے 6اضلاع سے فضا اور شور کے اس وقت جمع کیے گئے نمونوں کی روشنی میں شہر کے فضائی معیار میں 39فیصد جبکہ شور کی سطح میں 19 فیصد بہتری ہوئی تھی۔

    گزشتہ سال کے لاک ڈاؤن کے دوران ضلع وسطی کے فضائی معیار میں 8، شرقی میں 61، جنوبی میں 40، غربی میں 37، ملیر میں 25 جبکہ کورنگی میں 54 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ شور کی سطح میں وسطی میں 42، شرقی میں 20، جنوبی میں 15، غربی میں17، ملیر میں 2 اور کورنگی میں 26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    پچھلے سال کے سیپا کے لاک ڈاؤن سے پہلے اور دوران اکٹھے کیے گئے کراچی کے ماحولیاتی اعداد و شمار سے پتہ چلا تھا کہ کچھ دن تجارتی اور آمد و رفت کی سرگرمیوں کو بند کرنے سے حیرت انگیز طور پر ماحولیاتی حالات میں بہتری ہوتی ہے تاہم پائیدار بنیادوں پر ماحولیاتی بہتری کے لیے ایسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے ترقیاتی و تجارتی سرگرمیاں بھی یکساں رفتار سے چلتی رہیں اور ماحول کو بھی کوئی خاص نقصان نہ پہنچے۔

    اس کے لیے منطقی طریقہ یہ ہے کہ ایسے اقدامات لیے جائیں جن سے ہونے والی ہر قسم کی ماحولیاتی بہتری سے تجارت و صنعت کو فروغ حاصل ہو کیونکہ ماحول دوست مصنوعات و خدمات کی نہ صرف ملکی بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی زیادہ طلب ہوتی ہے جس سے ہماری پیداوار مناسب داموں فروخت ہوسکے گی۔

    حوصلہ افزاامر یہ تھا کہ گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے دوران فضائی معیار اور شور کی سطح سندھ کے ماحولیاتی معیار کے مقررہ پیمانوں سے بھی کہیں بہتر رہی جو ماحول اور انسانی صحت کے لیے نہایت فائدہ مند ہے، مذکورہ اعداد و شمار کراچی کی سات تسلیم شدہ ماحولیاتی تجربہ گاہوں کی مدد سے اکٹھے کیے گئے تھے۔

    ماہرین کی تجویز ہے کہ مذکوہ ماحولیاتی سروے اس لاک ڈاؤن میں بھی کیا جائے تاکہ جمع شدہ اعداد و شمار کی روشنی میں مستقبل میں ایسے اقدامات لیے جاسکیں جن سے بغیر کسی تاخیر کے ماحولیاتی حالات میں سدھار لایا جا سکے۔

    ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ اعداد و شمار مختلف محکموں بشمول انڈسٹریز، ٹرانسپورٹ، لوکل باڈیز اور سائٹ لمیٹڈ کو بھی بھیجے جائیں تاکہ ان کی روشنی میں وہ بھی مناسب اور موزوں اقدامات کے ذریعے اپنے اطراف کے ماحول کی حفاظت کر سکیں۔

  • تاریخی قصبہ انتظامیہ کی عدم توجہ کا مرکز، عوام سراپہ احتجاج

    تاریخی قصبہ انتظامیہ کی عدم توجہ کا مرکز، عوام سراپہ احتجاج

    صدیوں کا بیٹا تاریخی قصبہ لڈن تبدیلی سرکار کا قصبہ لڈن سے سوتیلی ماں جیسا سلوک ہے، ایک لاکھ کی آبادی بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث سخت اذیت کاشکار ہے، ناقص سیوریج سسٹم ہے، پینے کا صاف پانی کئی سال سے بند ہے واٹر سپلائی ضلعی انتظامیہ کا منہ چڑھارہی ہے، لڈن کی سیاسی سماجی اور تجارتی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر ملتان اور ڈی سے وہاڑی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، ناقص سیوریج سسٹم کے باعث گلی محلے سڑکیں گندے پانی میں ڈوب چکیں ہیں، شہرکے چاروں اطراف محلہ جاوید کوٹ، ممتازبازار، نئی آبادی، حسن محمود کالونی، حسوپورہ، امام بارگاہ، شاہد کالونی مین بازار چوک قاسم شہید، عیسن والا میں گندے پانی کے جوہڑ بن چکے ہیں، یہاں کی عوام ترقی کے اس دور میں بھی مضرصحت پانی پینے پر مجبور ہیں، جس سے شہریوں میں پیٹ کی بیماریوں وبائی امراض کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کا شکار ہورہے ہیں، جگہ جگہ گندگی اور غلاظت کے ڈھیر لگ چکے ہیں، شہرکے وسط میں کئی سال سے پڑی بند واٹر سپلائی گندے پانی اور مچھروں کی آماجگاہ بن گئی ہے.

    لڈن کی سیاسی سماجی اورتجارتی رہنماوٴں عنصر جوئیہ، عمر دراز رحمانی، حاکم علی رحمانی، مہر زاکر، شوکت کاٹھیا، حاجی زبیح اللہ، چوہدری انیل نے میڈیا کو بتایا کہ قصبہ لڈن لاوارثوں کا شہر ہے، یہاں پر اقتدار کرنے والے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں نے اس شہر کی کبھی بھی صیح معنوں میں حقیقی ترجمانی نہیں کی ہے، آج بھی یہ قصبہ گنجان آباد ہونے کے باوجود پستی اور تنزلی کا شکار ہے، پرانے اور نئے پاکستان کے دعوے دار آج بھی ان بنیادی مسائل سے منہ پھیر چکے ہیں، سب سے بڑا مسئلہ سیوریج کا ہے، جو کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہ اور کرپشن کے باعث جوں کا توں ہے، یہاں کے سفید پوش لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں، سیوریج کے پانی سے غریب لوگوں کے مکان گر رہے ہیں، لہزا ہم وزیراعلیٰ پنجاب کمشنر ملتان اورڈپٹی کمشنر وہاڑی سے نوٹس لینے کامطالبہ کرتے ہیں.

    طیب اشرف
    نمائندہ باغی ٹی وی لڈن
    تحصیل وہاڑی ضلع وہاڑی

  • بہاولپور میں‌ کونسا ترقیاتی کام ہونے جا رہا ہے؟ ٹینڈر نوٹس بھی جاری

    بہاولپور میں‌ کونسا ترقیاتی کام ہونے جا رہا ہے؟ ٹینڈر نوٹس بھی جاری

    بہاولپور میں دو اہم سڑکیں بنانے کے لئے ٹینڈر نوٹس جاری ہوگیا ہے، منصوبہ کے مطابق ایک دو رویہ سڑک دبئی محل کالج روڈ سے شروع ہو کر دبئی چوک احمدپور روڈ سے نکلتی ہوئی وسیب بینکوئٹ ہالز، محمد بن قاسم روڈ ماڈل ٹاؤن اے سے ہوتی ہوئی ویلکم چوک تک پہلا فیز مکمل ہوگا، جسکی تکمیل کا دورانیہ 12 ماہ یعنی ایک سال ہے.

    جبکہ دوسرے فیز میں ویلکم چوک سے غلہ منڈی چوک کی جانب سے ایک روڈ شاہدرہ چوک تک جبکہ دوسرا روڈ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے سامنے سے ریلوے روڈ سے مل جائے گا، اسی طرح اس چوک سے غلہ منڈی کے سامنے سے ہوتا ہوا کلمہ چوک سے سیدھا بوہڑ گیٹ ملتان روڈ پر اختتام ہوگا.

    یہ منصوبہ بہاولپور سے ممبر پنجاب اسمبلی سمیع چودھری کے پرپوزل پر بنایا جارہا ہے، جبکہ دوسرا اہم منصوبہ کانجو چوک سے سر صادق محمد خان عباسی ہسپتال ( سول ہسپتال) تک 2 اعشاریہ ایک کلو میٹر کی سڑک ہے جو حماتیاں، سیٹلائٹ ٹاؤن اور ارد گرد کی آبادی کو ہسپتال تک رسائی دے گی، یہ منصوبہ گو کہ پچھلی گورنمنٹ کا تھا لیکن اس ک لئے اس وقت کے ممبران اسمبلی فنڈ ریلز نہ کراسکے یہ منصوبہ بھی اب برادرم سمیع اللہ چودھری کی محنت کا نتیجہ ہے، ان منصوبوں سے شہریوں کو آمد و رفت میں یقیناﹰ سہولت پیدا ہوگی.

    غلام محمد قریشی باغی نیوز بہاولپور

  • معروف اداکارہ دردانہ بٹ کی کورونا وائرس سے جنگ جاری

    معروف اداکارہ دردانہ بٹ کی کورونا وائرس سے جنگ جاری

    سینئر آرٹسٹ دردانہ بٹ کورونا کا شکار ہونے کے بعد مسلسل طبیعت کی ناسازی کے باعث وینٹی لیٹر پر ہیں۔اداکار خالد ملک نے دردانہ بٹ کی بھانجی کا ایک پیغام اپنے انسٹاگرام پر شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی خالہ دردانہ بٹ کیلئے دعائیں کرنے اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔
    دردانہ بٹ کی بھانجی ملیحہ خان کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی میری خالہ دردانہ بٹ اس وقت بہادری سے کورونا کیخلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔انہوں نے لکھا کہ پوری دنیا سے سوشل میڈیا صارفین کی محبتوں، دعاں، حمایت کے پیغامات ہم تک پہنچ رہے ہیں۔ملیحہ خان نے کہا کہ آپ سب دردانہ بٹ کیلئے اپنی دعائیں جاری رکھیں، اللہ رحم کرے گا اور وہ جلد صحتیاب ہوجائیں گی۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اداکار خالد ملک نے انسٹاگرام پر دردانہ بٹ کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ دردانہ بٹ کی طبیعت بگڑنے پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا ہے ۔

  • الخدمت نے ہمیشہ عوام کی خدمت اور کراچی کی بہتری کے لیے کام کیا ہے،حافظ نعیم الرحمن

    الخدمت نے ہمیشہ عوام کی خدمت اور کراچی کی بہتری کے لیے کام کیا ہے،حافظ نعیم الرحمن

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سندھ میں 13 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن اس نے کراچی کے لیے سوائے اعلانات، دعوئوں اور وعدوں کے کچھ نہیں کیا ۔ وفاقی حکومت کو بھی کراچی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اہل کراچی وفاقی و صوبائی حکومتوں سے خیرات نہیں بلکہ اپناحق مانگتے ہیں ۔
    جماعت اسلامی اور الخدمت نے ہمیشہ عوام کی خدمت اور کراچی کی بہتری کے لیے کام کیا ہے ۔بلدیہ عظمی کراچی کے پاس وسائل نہ ہونے کے سبب الخدمت کے ساتھ اسپرے مہم کا آغاز کیا گیا ،کے ایم سی کے سابق ایڈمنسٹریٹر کے شکر گزار ہیں جنہوں نے الخدمت کے ساتھ اشتراک کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے الخدمت اور بلدیہ عظمیٰ کے تحت شہر بھر میں جراثیم کُش اسپرے مہم کے 5ویں روز تین بڑے سب ڈویژن ملیر ، شاہ فیصل کالونی اور ماڈل کالونی میں جمعہ کے روز ملیر کینٹ میں اسپرے مہم کا افتتاح کرتے ہوئے کیا ۔
    ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ایک خاص مائنڈ سیٹ کے مطابق کام کر رہی ہے اور اختیارات دینے کی بجائے کراچی پر اپنا قبضہ جمانا چاہتی ہے۔
    سندھ حکومت کے لیے شرم کا مقام ہے کہ تین کروڑ کی آبادی والے شہر کی بلدیہ کے پاس صفائی ،ستھرائی کے حوالے سے وسائل اور ضروری سامان موجود نہیں ہے۔ بلدیہ کا عملہ موجود ہے لیکن وسائل کا نہ ہونا المیہ ہے۔انہوں نے کہا کہ الخدمت نے گزشتہ سال بھی کراچی میں بڑے پیمانے پر جراثیم کُش اسپرے کیا اور کراچی کی مساجد ہی نہیں ، گرجا گھروں ، مندروں اور گوردواروں سمیت ہر جگہ اور ہر علاقے میںپر بلا تفریق اسپرے کیا۔
    انہوں نے کہا کہ کراچی میں بے شمار مسائل ہیں اور کوئی حل نہیں کر رہا کوئی بھی جماعت کراچی کو اون کرنے پر تیار نہیں ہے۔صرف جماعت اسلامی کراچی کو اون کرتی ہے اور ہم نے ہمیشہ کراچی کے لیے آگے بڑھ کر خدمات انجام دی ہیں ۔ وفاقی و صوبائی حکومت کراچی کو مسلسل نظر انداز کررہی ہے۔ماضی میں بھی ایسا ہی کیا گیا اور اہل کراچی کے ساتھ ظلم و زیادتی اور حق تلفی کی گئی جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔توفیق الدین صدیقی نے کہا کہ الخدمت اور بلدیہ عظمی کے تعاون سے تین بڑے ڈویژن کے لیے اسپرے مہم کے لیے ایک درجن سے زائد گاڑیاں روانہ کی گئیں۔ کراچی میٹروپولیٹن سٹی ہے اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی موثر انتظامات موجود نہیں ہیں۔

  • پاکستان تحریک انصاف کراچی نے شہر کے تمام کنٹونمنٹ بورڈ کے بلدیاتی انتخابات کے لئی42 امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیئے

    پاکستان تحریک انصاف کراچی نے شہر کے تمام کنٹونمنٹ بورڈ کے بلدیاتی انتخابات کے لئی42 امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیئے

    پاکستان تحریک انصاف کراچی نے شہر کے تمام کنٹونمنٹ بورڈ کے بلدیاتی انتخابات کے لئی42امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیئے۔ امیدواران کے ہمراہ پی ٹی آئی کراچی کے صدر و رکن سند ھ اسمبلی خرم شیر زمان نے انصاف ہاوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کنٹونمنٹ انتخابات کے حوالے سے جیت کے لئے پر امید ہے ۔
    ہر کنٹونمنٹ سے بہترین امیدواروں کا انتخاب کیا ہے۔ پی ٹی آئی نے کراچی کی خدمت کی ہے۔ ہمارے اراکین قومی اسمبلی نے وزیر اعظم عمران خان کے فنڈز سے 9ارب 90 کروڑ روپے گلی محلوں میں عوامی مسائل حل کرنے کے لئے خرچ کیے ۔سندھ حکومت کراچی کی عوام کو ڈیلیور کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ سیوریج ،سڑکوں کی تعمیر، پارکس ہمارے ایم این ایز نے تعمیر کروائے، کراچی شہر میں اسپورٹس گراؤنڈ بنائے گئے۔

    کراچی کے بڑے مسائل وزیراعظم حل کررہے ہیں ۔ اس موقع پرخرم شیر زمان کے ہمراہ پارلیمانی لیڈر بلال غفار، رکن سندھ اسمبلی شاہنواز جدون، پی ٹی آئی رہنما کیپٹن رضوان، فضہ ذیشان، گوہر خٹک سمیت دیگر رہنما موجود ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں پینے کے پانی کا مسئلہ دیکھتے ہوئے کراچی میں کے فور منصوبہ وزیر اعظم مکمل کروا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت نے 52 فائر بریگیڈ کراچی کو دیے۔
    سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں جس کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاق کے فنڈ سے منگھوپیر، نشتر روڈ تعمیر کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے نارتھ ناظم آباد میں6فلائی اوورز تعمیر کروائے۔ یہ تمام کام سندھ حکومت کی ذمہ داری تھی۔ لیکن جب سندھ حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہی تو ہم عوام کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے کراچی میں اللہ کی رحمت زحمت بن جاتی تھی ۔
    35 ارب روپے وفاق نے نالوں کی صفائی پر خرچ کیے، سندھ حکومت کی نالائقی کی وجہ سے نالوں میں گندگی کچرہ جمع کیا جاتا تھا۔ وفاقی حکومت نے اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے انتخابات کا اعلان کیا ۔ اس کے برعکس سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے جارہے ۔ پیپلز پارٹی کچرا،ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر بنانے میں ناکام رہی ،13 سالوں میں سندھ کے حالات بدتر ہوگئے۔
    اس موقع پر پی ٹی آئی کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بلال غفارکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نوجوان طبقے کو آگے لیکر آئی ہے،کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کیلئے عام آدمی کا انتخاب کیا ہے ۔ وزیر اعظم کا وژن ہے نوجوان طبقے کو آگے لیا جائے۔ کراچی شہر نے عام انتخابات میں جس طرح پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا تھا اسی طرح کنٹونمنٹ کے انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کو کامیاب بنائیں گے۔ہمیں پوری امید ہے کہ یہ نوجوان کامیابی کے بعد تبدیلی لیکر آئیں گے۔

  • سندھ ہائیکورٹ نے گجر نالے تجاوزات آپریشن سے متعلق لیز مکانات توڑنے کیخلاف درخواست پر چیف سیکریٹری ودیگر کو نوٹس جاری

    سندھ ہائیکورٹ نے گجر نالے تجاوزات آپریشن سے متعلق لیز مکانات توڑنے کیخلاف درخواست پر چیف سیکریٹری ودیگر کو نوٹس جاری

    سندھ ہائیکورٹ نے گجر نالے تجاوزات آپریشن سے متعلق لیز مکانات توڑنے کیخلاف درخواست پر چیف سیکریٹری، سیکریٹری بلدیات کو نوٹسز جاری کردیئے۔ جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس آغا فیصل پر مشتمل ڈویژنل بینچ کے روبرو گجر نالے تجاوزات آپریشن میں لیز مکانات توڑنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
    درخواستگزاروں کے وکیل نے موقف دیا کہ اینٹی انکروچمنٹ ٹربیونل نے گھر گرانے کا حکم نہیں دیا۔ گجرنالہ تجاوزات سے متعلق فیصلے کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ لیز مکانات کو توڑا جا رہا ہے۔ متعلقہ حکام کو لیز مکانات توڑنے سے روکا جائے۔ چیف سیکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ عدالت نے چیف سیکریٹری، سیکریٹری بلدیات کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

  • گلشن طیبی میں کرنٹ لگنے کا افسوس واقعہ

    گلشن طیبی میں کرنٹ لگنے کا افسوس واقعہ

    سندھ ہائی کورٹ میں کراچی کے علاقے گلشن طیبی میں کرنٹ لگنے کے ایک واقعے کی عدالت میں دائر کی گئی درخواست کے حوالے سے کی-الیکٹرک کے ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک بچے نے ہائی ٹینشن تاروں کو لوہے کے پائپ سے چھونے کے کوشش کی۔
    گھر کی اوپری منزل کی غیر قانونی تعمیر ہونے کی وجہ سے مکان کا بجلی کی تاروں سے فاصلے پر کام رہ گیا۔

    کے الیکٹرک اپنے نیٹ ورک پر موجود غیر قانونی تجاوزات کے متعلق مسلسل آگاہی بھی دیتا ہے۔ ان غیر محفوظ تجاوزات کی وجہ سے بجلی کے ترسیلی نظام میں حفاظتی نقطہ نگاہ سے خلل پیدا ہوتا ہے جو خطرناک حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔ کمپنی باقاعدہ نوٹس موصول ہونے پر معزز عدالت میں تفصیلات جمع کروادے گی۔

  • مرکزی جماعت اہلسنّت کی جانب سے یوم سفیر اسلام منایاگیا

    مرکزی جماعت اہلسنّت کی جانب سے یوم سفیر اسلام منایاگیا

    مرکزی جماعت اہلسنّت پاکستان کراچی کی جانب سے منائے گئے یوم سفیر اسلام شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ کے موقع پرقادریہ مسجد دارالعلوم قادریہ سبحانیہ شاہ فیصل کالونی میں منعقدہ اجتماع سے کراچی ڈویژن کے امیر پیرطریقت مفتی محمدعبدالعلیم قادری ، صاحبزادہ مفتی محمدزبیر ہزاروی صدیقی،فقیر ملک محمدشکیل قاسمی، علامہ خلیل نورانی، مفتی زبیر عامر گیلانی، علامہ فاضل نورانی، حافظ نورالعین انصاری، صاحبزادہ مفتی عبدالباسط قادری، علامہ عدنان قادری، حافظ مرسلین قادری، ملک مبین سعیدی ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے مبلغ اعظم وسفیر اسلام حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی ؒ کی تاریخی خدمات پر روشنی ڈالی۔
    مرکزی جماعت اہلسنّت پاکستان کراچی کے امیر مفتی عبدالعلیم قادری نے اپنے خطاب میں کہاکہ حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ کے ہاتھوں پر لاکھوں غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے، آپ نے دنیاکے کونے کونے میں جاکر اسلام کی تبلیغ کا فریضہ انجام دیااور دنیابھر میں مساجد ،مدارس اور اسلامی مراکز قائم کئے جہاں سے آج بھی دین اسلام کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔
    انہوں نے کہاکہ حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ نہ صرف مبلغ اسلام تھے بلکہ انہوں نے تحریک قیام پاکستان میں بھی کلیدی کرداراداکیا،آپ نے دنیابھر میں قیام پاکستان کے لئے رائے عامہ ہموارکی اور سربراہان مملکت اور دیگر مقتدر شخصیات کو قیامپاکستان کے حق میں ووٹ دینے کے لئے راضی کیاجس پر قائداعظم محمدعلی جناح ؒ نے آپ کو سفیر اسلام کاخطاب دیا۔
    انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے فوری بعد پہلی عیدالفطر کی نماز قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ کی اقتدامیں اداکی۔مقررین نے کہاکہ حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ کی خدمات تاریخ کاروشن باب ہیں ،جنہیں حکومتی سطح پر پذیرائی ملنی چاہئے تھی لیکن آپ کی تاریخی خدمات پر سرکاری سطح پرکسی قسم کی پذیرائی تو کجابلکہ ان کی خدمات کاسرکاری صفحات پرکوئی نام ونشان تک نہیں ،سٹی گورنمنٹ کے دورمیںسٹی ناظم نعمت اللہ خان نے ڈاکخانہ چورنگی کو ان سے منسوب کیاتھابعدازاں پل بننے سے چورنگی ختم ہوئی تو نام بھی ختم ہوگیا،یہی نہیں حضرت شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ کے صاحبزادے قائدملت اسلامیہ حضرت علامہ شاہ احمدنورانی صدیقیؒ سے منسوب نورانی(نمائش) چورنگی کو بھی ختم کردیا گیا ہے،لیکن اس طرح ان نابغہء روزگار ہستیوں کی تاریخی خدمات کو فراموش نہیں کیاجاسکتا،ملک کے طول وعرض میں ان کے کروڑوں اور دنیابھر میں بے شمار چاہنے والے ان کا نام ہمیشہ روشن رکھیں گے۔

  • بلاول بھٹو کی سلیم خاصخیلی سے والدہ کی وفات پر تعزیت

    بلاول بھٹو کی سلیم خاصخیلی سے والدہ کی وفات پر تعزیت

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا پی پی پی بدین سٹی کے اطلاعات سیکریٹری محمد سلیم خاصخیلی سے تعزیت کرتے ہوئے افسوس ودلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
    لاول بھٹو زرداری نے مرحومہ کے لیئے جنت الفردوس اور سوگوار خاندان کے لیئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔