Baaghi TV

Author: +9251

  • چین نے کرونا وائرس کے حوالے سے جاپان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرہی لیا ، اہم پیش رفت قرار دیا

    چین نے کرونا وائرس کے حوالے سے جاپان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرہی لیا ، اہم پیش رفت قرار دیا

    بیجنگ :چین نے کرونا وائرس کے حوالے سے جاپان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرہی لیا ، اہم پیش رفت قرار دیا ،اطلاعات کےمطابق چین نے کہا ہے کہ جاپان میں انفلوائنزا کی نئی قسم کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا کورونا وائرس پر موثر ثابت ہورہی ہے۔

    برطانوی روزنامے دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ایک عہدیدار زینگ شن من نے بتایا کہ فیویپیراویر (favipiravir) نامی دوا کے اثرات ووہان اور شینزن میں کلینکل ٹرائلز کے دوران حوصلہ افزا رہے ہیں۔اس دوا کو 340 مریضوں کو استعمال کرایا گیا اور عہدیدار نے بتایا ‘یہ بہت زیادہ محفوظ ہونے کے ساتھ علاج میں واضح طور پر موثر ثابت ہوئی ہے’۔

    رپورٹ کے مطابق جن مریضوں کو شینزن میں یہ دوا استعمال کرائی گئی ان میں ٹیسٹ مثبت آنے کے 4 دن بعد وائرس ختم ہوگیا، جبکہ اس دوا کے بغیر مرض کی علامات کے لیے دیگر ادویات کے استعمال سے صحت یابی میں اوسطاً 11 دن درکار ہوتے ہیں۔

    جاپانی حکومتی ذرائع کا کہنا ہےکہ ایکسرے سے بھی اس نئی دوا کے استعمال سے 91 فیصد مریضوں کے پھیپھڑوں کی حالت میں بھی بہتری کی تصدیق ہوئی، جبکہ دیگر ادویات میں یہ شرح 62 فیصد کے قریب ہوتی ہے۔اس دوا کو فیوجی فلم ٹویاما کیمیکل نے 2014 میں تیار کیا تھا تاہم اس نے چینی دعویٰ پر کوئی بیان جاری کرنے سے انکار کیا۔

    جاپان میں بھی ڈاکٹروں کی جانب سے اس دوا کو کورونا وائرس کے معمولی سے معتدل علامات والے مریضوں پر ہونے والے کلینیکل ٹرائلز کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور ان کو توقع ہے کہ اس کے استعمال سے مریضوں میں وائرس کی نشوونما کی روک تھام ممکن ہے۔

    جاپانی وزارت صحت کے ذرائع نے کہا ہے کہ یہ دوا سنگین علامات والے مریضوں کے لیے ممکنہ طور پر زیادہ موثر نہیں کیونکہ ایسے مریضوں پر اس کا اثر دیکھنے میں نہیں آیا جن میں یہ وائرس زیادہ پھیل چکا تھا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اس سے ہٹ کر جن مریضوں میں ایچ آئی وی انفیکشن کے لیے استعمال ہونے والے ادویات کے امتزاج کو استعمال کیا گیا، ان کے ساتھ بھی سنگین کیسز میں یہی مسئلہ دیکھنے میں آیا۔اس نئی دوا کو نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والے بیماری کووڈ 19 کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے حکومتی اجازت کی ضرورت ہوگی کیونکہ یہ بنیادی طور پر فلو کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی۔

    جاپانی وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس دوا کی کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے استعمال کرنے کی منظوری مئی تک دی جاسکتی ہے، تاہم کلینیکل تحقیق کے نتائج میں تاخیر ہوئی تو منظوری کے عمل میں بھی تاخیر ہوسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ فی الحال کووڈ 19 کا علاج موجود نہیں بلکہ اس کی علامات کا علاج ان کی نوعیت دیکھتے ہوئے مختلف ادویات سے کیا جاتا ہے اور عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ 97 فیصد مریض ریکور بھی کرلیتے ہیں۔اس کے لیے مختلف ممالک میں ویکسین کی تیاری پر کام ہورہا ہے جبکہ امریکا میں ویکسین کی انسانوں پر آزمائش شروع ہوچکی ہے مگر کسی ویکسین کی عام دستیابی میں ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ درکار ہوگا۔

  • جنوبی کوریا نے پاکستان کو2 لاکھ ڈالرز کا عطیہ دے دیا ، کرونا سے نبٹنے کے لیے نہیں، توپھرکس لیے دیئے ، اہم خبرآگئی

    جنوبی کوریا نے پاکستان کو2 لاکھ ڈالرز کا عطیہ دے دیا ، کرونا سے نبٹنے کے لیے نہیں، توپھرکس لیے دیئے ، اہم خبرآگئی

    اسلام آباد:جنوبی کوریا نے پاکستان کو2 لاکھ ڈالرز کا عطیہ دے دیا ، کرونا سےنبٹنے کے لیے نہیں، توپھرکس لیے دیئے ، اہم خبرآگئی ،اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا نے پاکستان میں ٹڈی دل کی 2 دہائیوں کی بدترین صورتحال پر حکومت کو 2 لاکھ ڈالر عطیہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق کوریائی سفیرکواک سونگ کیو کا کہنا تھا کہ ‘ٹڈی دل کے نقصانات سے پریشان پاکستان کے کسانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کوریا کی حکومت نے ریلیف کے کاموں میں پاکستانی حکومت کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے’۔

    کوریائی سفیرکواک سونگ کیو کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں امید ہے کہ یہ کوریا اور پاکستان کے درمیان باہمی زراعتی تعاون کو بہتر بنانے کے لیے مددگار ثابت ہوگی جس میں موجودہ پاکستان میں کوپیا سینٹر کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے’۔

    یہ فنڈ اقوام متحدہ کی دو ایجنسیوں، ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) اور فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ذریعے پاکستان کو دی جائیں اور چھوٹے کسانوں تک جائیں گی جنہیں بحران کی وجہ سے غذائی قلت کا سامنا کرنے کا خدشہ ہے۔

  • کروناسے لڑنے کی بجائے چین اورامریکہ آپس میں لڑپڑے،3 امریکی اداروں کے صحافیوں کو چین سے نکل جانے کا حکم ،معاملات کے بگڑنے کا خدشہ

    کروناسے لڑنے کی بجائے چین اورامریکہ آپس میں لڑپڑے،3 امریکی اداروں کے صحافیوں کو چین سے نکل جانے کا حکم ،معاملات کے بگڑنے کا خدشہ

    بیجنگ :کروناسے لڑنے کی بجائے چین اورامریکہ آپس میں لڑپڑے،چین نے 3 امریکی اداروں کے صحافیوں پر پابندی لگادی،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور آزادی صحافت پر امریکا اور چین کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے اور امریکا میں 3 چینی اداروں پر پابندیوں کے بعد بدھ کو چین نے بھی 3 امریکی اداروں کے صحافیوں کو اپنے ملک میں کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

    ذرائع کےمطابق اس نازک موقع پر یہ اقدام ایک ایسے موقع پر اٹھایا گیا ہے جب گزشتہ ماہ اخبار کے کالم میں چین پر کڑی تنقید کے بعد چین نے وال اسٹریٹ جرنل کے 2 امریکی اور ایک آسٹریلین صحافی کو بے دخل کردیا تھا۔چین نے اس کالم کو نسل پرستانہ قرار دیا تھا اور اخبار کی جانب سے معافی مانگنے سے انکار کے بعد تینوں صحافیوں کے ویزے ختم کر دیے گئے تھے۔

    یاد رہے کہ ادارے کے ایک رپورٹر کو اس وقت چین سے جانا پڑا تھا جب ان کے ویزے کی میعاد بڑھانے سے انکار کردیا گیا تھا۔پھر رواں ماہ مارچ کے اوائل میں ہی امریکا نے اپنے ملک میں چین کے 4 ریاستی میڈیا اداروں میں کام کرنے والے افراد کی تعداد 160 سے کم کرتے ہوئے صرف 100 کو کام کرنے کی اجازت دی تھی۔

    ذرائع کےمطابق اسی اقدام کے ردعمل کے طور پر بدھ کو بیجنگ نے نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں کو امریکی سرزمین پر کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ان اداروں کے افراد کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ 10دن کے اندر اپنے پریس کارڈ واپس کریں تاہم یہ بات واضح نہیں کہ اس حکم نامے کے نتیجے میں کتنے افراد متاثر ہوں گے۔

    اس کے ساتھ حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان تینوں اخبارات کی چین کی شاخوں، وائس آف امریکا اور ٹائم میگزین کو چین میں اپنے عملے، مالی معاملات، آپریشن اور ریئل اسٹیٹ کی تمام تر معلومات تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی۔چین نے کہا کہ وہ امریکا کی جانب سے چین کے صحافیوں پر عائد پابندیوں کے جواب میں یہ پابندیاں لگا رہے ہیں۔

    چین کے فیصلے میں اہم بات یہ ہے کہ اس نے اپنی نیم خودمختار ریاستوں ہانگ کانگ اور مکاؤ میں بھی امریکی صحافیوں کو کام سے روک دیا ہے حالانکہ ماضی میں چین میں پابندیوں کا سامنا کرنے والے صحافیوں کو ہانگ کانگ میں کام کی اجازت ہوتی تھی۔

    کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے ایشیا پروگرام کے کوآرڈینیٹر اسٹیون بٹلر نے کہا کہ اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ چین اس کا فیصلہ کرے کہ ہانگ کانگ میں کون صحافی کام کرے یا کون نہیں۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد چین اور امریکا کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو چکی ہے جہاں چین سے جنم لینے والے اس وائرس سے اب تک 7ہزار 400افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائک پومپیو نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کا یہ اقدام کورونا وارئس کے اس حد تک چیلنجنگ اوات میں دنیا اور چین کے عوام کو معلوما سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں چین کی جانب سے آزادانہ صحافت کی دنیا کی کاوشوں پر پابندی کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، یہ بدقسمتی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر غور کریں گے۔

    واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹؤ ایڈیٹر مارٹن بیرن نے اپنے بیان میں کہاکہ ہم امریکی رپورٹرز کو نکالنے کے چین کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں، چینی حکومت کا فیصلہ اس لیے بھی افسوسناک ہے کہ یہ ایک عالمی بحران کے دوران سامنے آیا ۔وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کی جانب سے بھی اس فیصلے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

  • ایم کیوایم پاکستان نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کروناوائرس فنڈزمیں جمع کرانے کا اعلان کردیا

    ایم کیوایم پاکستان نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کروناوائرس فنڈزمیں جمع کرانے کا اعلان کردیا

    کراچی :ایم کیوایم پاکستان نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کروناوائرس فنڈزمیں جمع کرانے کا اعلان کردیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے لوگوں میں حب الوطنی اورایک دوسرے سے خیرخواہی کے جزبے نے پھرجوش مارا ہےاور ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہیں کرونا فنڈز میں جمع کرانے کا اعلان کیا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق کرونا وائرس کی بڑھتی ہوئی تباہ کاریوں کے پیش نظراوراس سے بچاو کےلیے حفاظتی اقدامات اختیارکرتے ہوئے ایم کیوایم پاکستان نے اعلان کیا ہےکہ پارٹی کے تمام ایم پی ایز، ایم این ایز،سینیٹرز،میئراورڈپٹی میئرز کی ایک ماہ کی تنخواہ کرونافنڈز میں جمع کرانے کا اعلان کرکے پاکستان میں خیر الناس من ینفع الناس کے جزبے میں پہل کردی ہے

    یاد رہے کہ اس وقت کرونا وائرس پاکستان میں بھی پنجے گاڑنے لگا ہے اوراس وقت ملک بھر میں مصدقہ کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 263 سے تجاوز کرگئی ہے ،اس آفت سے نبٹنے کے لیے جہاں وفاقی اورصوبائی حکومتیں بڑی محنت سے کام کررہی ہیں وہاں ایم کیوایم جیسی سیاسی جماعتوں نے اس کارخیرکی ابتدا کرکے ایک نئی مثال قائم کردی ہے

  • بڑی عمر والے اراکان سینٹ کو ملی چھٹی

    بڑی عمر والے اراکان سینٹ کو ملی چھٹی

    بڑی عمر والے اراکان سینٹ کو ملی چھٹی

    باغی ٹی وی :چیئرمین سینیٹ کی ہدایت پر کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے 50 سال سے زائد عمر اور بیمار ملازمین کو 3 اپریل تک چھٹیاں دیدی گئیں۔

    تمام سینیٹ ملازمین کے لئے چیئرمین صادق سنجرانی کا نیا حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ سینیٹ ملازمین کو 3 اپریل تک نئی ہدایات پر فوری عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایڈیشنل، جوائنٹ اور ڈپٹی سیکرٹریز کو بھی متبادل ڈیوٹیاں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    سینیٹ کی خواتین ملازمین کو بھی دفتر آنے سے استثنی مل گیا۔ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور سیکیورٹی کے آفسز معمول کے مطابق کام کرتے رہیں گے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے اوقات کار میں بھی تبدیلی کر دی گئی، سینیٹ آفس کے ملازمین نو سے دو بجے تک ڈیوٹی سرانجام دیں گے.
    واضح رہے کہ اس سے پہلے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں. ملک میں‌تقریبات اور سوشل کاموں پر باپندی ہے . شاہ محمود قریشی نے ماہرین کی ہدایت پر خود کو آئیسولیشن میں رکھ لیا۔ انہوں نے کہا چین سے آنے پر صدر عارف علوی اور اسد عمر کا بھی ٹیسٹ ہوا، تمام ادروں اور جماعتوں کو مل کر اس وبا سے لڑنا ہے، تنقید سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

  • علامہ ناصر مدنی پر تشدد اور اغواء کرنے والے 4 ملزمان گرفتار

    علامہ ناصر مدنی پر تشدد اور اغواء کرنے والے 4 ملزمان گرفتار

    گجرات (طارق محمود سے) علامہ ناصر مدنی کے اغواء اور تشد د کرنے والوں کو گجرات 4مرکزی ملزمان کو جدید آتشیں اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات ملک کے معروف مقرر علامہ ناصر مدنی نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے تھانہ کھاریاں کے علاقہ میں چند اشخاص نے انہیں مدعو کر نے کے بعد اغواء کر لیا اور بد ترین تشد د کا نشانہ بنایا۔وقوعہ کی اطلاع پر ڈی پی او گجرات توصیف حیدر نے فوری طور پر ڈی ایس پی کھاریاں سرکل اسد اسحاق کی زیر نگرانی، ایس ایچ او تھانہ صدر کھاریاں SIمجاہد عباس اور دیگر پولیس ملازمان پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دیکر انہیں وقوعہ کے اصل حقائق اور وقوعہ میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کے احکامات جاری کئے۔ جس پر ایس ایچ او تھانہ صدر کھاریاں مجاہد عباس نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کاروائی کا آغاز کیا اور ملزمان کی CCTVفوٹیج حاصل کی اور جدید سائنسی ٹیکنالوجی اور پیشہ وارنہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کی شناخت کرنے کے بعد انتہائی مختصر وقت میں وقوعہ میں ملوث 4مرکزی ملزمان جن میں غلام ربانی ولد محمد الیاس 2۔ علی عباس ولد محمد الیاس ساکنائے دھوریہ3۔ناظم حسین ولد غلام قادر سکنہ گھنسیہ 4۔ آصف اقبال ولد محمد نور سکنہ ملکووال ضلع منڈی بہاوالدین شامل ہیں کو گرفتار کر لیا،ملزمان کے قبضہ جدید آتشیں اسلحہ کلاشکوف، رائفل 222بور، پسٹل 30بور اور بڑی تعداد میں روندبھی برآمد کر لئے گئے۔یاد رہے کہ ملزمان کے خلاف تھانہ مزنگ لاہور میں مقدمہ درج ہوا تھا جن کی مزید تفتیش اور کاروائی کے لئے ملزمان کو لاہور پولیس کے حوالے کیا جائے گا.

  • ایم کیو ایم اراکین پارلیمنٹ کا کرونا متاثرین  کیلیے بڑا اعلان

    ایم کیو ایم اراکین پارلیمنٹ کا کرونا متاثرین کیلیے بڑا اعلان

    ایم کیو ایم اراکین پارلیمنٹ نے کورونا وائرس سے نمٹنے کےلیے ایک ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کردیا

    باغی ٹی وی :متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اراکین پارلیمنٹ نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کورونا وائرس سے نمنٹے کے لیے قائم فنڈ میں دینے کا اعلان کیا ہے۔کنوینر ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اگر صورتحال سنگین ہوجاتی ہے تو ان کی جماعت تمام ضرورت مندوں میں اجناس تقسیم کریگی۔

    انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان ایک لاکھ سینیٹائزرز بھی عوام میں تقسیم کریگی۔ خدمت خلق فاؤنڈیشن (کے کے ایف) پر پابندی کے باوجود کورونا وائرس کی پرائمری اسکریننگ کرنے کیلئے کیمپ لگادیا گیا ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ تمام یو سی چیئرمین کو ہدایت کی ہے کہ سینیٹائزرز اور صابن عوام میں تقسیم کریں۔ حکومت کے ایم سی ڈی ایم سی اور کے کے ایف میں آئیسولیشن وارڈز قائم کرنے کیلئے اپنی تمام عمارتیں دینے کو تیار ہیں.

    واضح‌رہے کہ سندھ میں کرونا وائرس کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت نے اپنے اقدامات بارے اٹھائے گئے اقدام بارے میڈیا کو بریف کی اتھا . ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں کرونا وائرس کے 181 مریض ہیں، 2 صحت یاب ہوئے ہیں، 9 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، کرونا سے نمٹنے کیلئے 3 ارب کا فنڈ قائم کر رہے ہیں۔

  • پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسرارشد ملک ہی کام جاری رکھیں گے،امید ہے بہتری آئے گی ،سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا

    پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسرارشد ملک ہی کام جاری رکھیں گے،امید ہے بہتری آئے گی ،سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا

    اسلام آباد:پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسرارشد ملک ہی کام جاری رکھیں گے،امید ہے بہتری آئے گی ،سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا ،اطلاعات کےمطابق آج سپریم کورٹ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ارشد ملک کو فرائض جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔عدالت نے اس موقع پرتوقع ظاہرکی کہ ارشد ملک پی آئی اے کوضرور سنبھالا دیں گے

    عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سماعت کی۔سپریم کورٹ میں ہونے والے پی آئی اے کے اہم کیس سے متعلق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایئرمارشل ارشد ملک اچھے اور قابل انسان ہیں، 9 برسوں میں پی آئی اے کے 12سربراہ تبدیل ہو چکے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے کے بارے میں کوئی ایک چیز بتائیں جو اچھی ہو، پی آئی اے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے کیا اس کو بند کریں؟پچھلی حکومتوں نے تواداروں کوبرباد کردیا تھا ،

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کراچی ایئرپورٹ پر خستہ اور خراب حالات میں جہاز کھڑے ہوئے ہیں، اگر خدانخواستہ حادثہ ہو گیا تو لوگوں کا کیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ کی طرف گند نظر آتا ہے، ہر خراب چیز ایئرپورٹ پر نظر آتی ہے، پی آئی اے، اے ایس ایف اور کسٹمز والے لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پی آئی اے میں کوئی پروفیشنلزم نظر نہیں آتا، ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمیں ادارے کا مستقل 3 سال کے لیے سربراہ چاہیے جو ادارے کو بہتر کرسکے۔جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ اس ادارے میں ایک حکومت اپنے بندے بھرتی کرتی ہے اور دوسری آکر نکال دیتی ہے، نکالے جانے والے بعد میں ترقی اور رقوم کا دعوی کرتے ہیں، ان کو پھر تیسری حکومت لاکھوں روپے دے دیتی ہے۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم اپنے گھر میں ایک ملازم اپنی بساط سے زیادہ نہیں رکھتے، اگر گھر کا ملازم ایک گلاس پانی دیر سے پہنچاتا ہے تو اس کو نکال دیتے ہیں، پی آئی اے تو ہمارا ادارہ ہے اس کے ساتھ نازیبا سلوک کیا گیا۔

    دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی آئی اے کے ملازمین نے ایک سابق سربراہ کو واش روم میں بند کردیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی ایک ادارہ ہیں، لوگوں کے مسائل حل کرنا ہمارا کام ہے، پی آئی اے کو کس طرح چلانا ہے ہمیں پتہ ہے، پی آئی اے کے علاوہ بھی کمپنیاں اچھا کام کررہی ہیں تاہم اگر کوئی بھی ادارہ یونین کے ہاتھوں میں دیں گے تو وہ ادارہ بند ہی ہوجائے گا، ان سب کا ذمہ دار پھر کون ہوگا۔

    ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کچھ لوگ آتے ہیں تو سہولیات لے کر غائب ہوجاتے ہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسٹیل مل کے حالات ہمارے سامنے ہیں، جس کی حالت خراب ہے، پی آئی اے ایک قومی ادارہ ہے، پورے پاکستان کو اس پر فخر ہے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے کچھ لوگوں کے خراب ہونے سے ادارہ خراب ہو گیا ہے، ادارے میں ایسے ملازمین بھی ہیں جو ایمانداری سے کام کررہے ہیں، ایک خاتون جیکولین کینیڈی نے پی آئی اے سے سفر کیا تو پھر ایئر لائن کی تعریف کی۔اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ سابق وزیر اعظم لندن گئے تو پی آئی اے کا جہاز وہاں کھڑا رہا، انہیں کس نے ایسا کرنے کی اجازت دی، لندن میں طیارہ کس کے خرچ پر کھڑا رہا۔

    چیف جسٹس نے ملک کے سابق حکمران خاندان کے بارےمیں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے گلگت گھومنا ہو تو وہ خاندان کے ساتھ جہاز لے کر چلا جاتا ہے، جس نے کہیں اور جانا ہو وہ جہاز کا رخ بدلوا دیتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک کو فرائض جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ وفاق نے قانونی طریقے سے ارشد ملک کو مقرر کیا جبکہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کو کام کرنے کی اجازت دی جائے۔حکم میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ادارہ وینٹیلیٹر پر ہے اس لیے ارشد ملک کو کام کرنے دیا جائے جبکہ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ارشد ملک قابل آدمی ہیں، وہ نتائج دیں گے۔

  • نیا کورونا وائرس کی زندگی اورموت تک کے سفر کے بارے میں اہم معلومات اہم تحقیق سامنے آگئی

    نیا کورونا وائرس کی زندگی اورموت تک کے سفر کے بارے میں اہم معلومات اہم تحقیق سامنے آگئی

    واشنگٹن :نیا کورونا وائرس کی زندگی اورموت تک کے سفر کے بارے میں اہم معلومات اہم تحقیق سامنے آگئی ،اطلاعات کےمطابق نئی تحقیق کے مطابق نوول کورونا وائرس جو عالمی وبائی شکل اختیار کرچکا ہے، ہوا میں نمی کے اندر گھنٹوں اور سطح پر کئی دن برقرار رہ سکتا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کا حصہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشیئس ڈیزیز (این آئی اے آئی ڈٰی) کے سائنسدانوں نے متاثرہ شخص سے لیے گئے وائرس کو گھریلو اشیا اور ہسپتال میں استعمال ہونے والے آلات کی سطح پر رکھ کر دیکھا۔انہوں نے ایک ڈیوائس کو استعمال کیا جس سے مائیکرو اسکوپک ڈراپلٹس کھانسنے یا چھینکنے کی طرح چھوڑے گئے۔

    سائنسدانوں نے تحقیق کی کہ وائرس سطح پر کتنی دیر تک رہ سکتا ہے۔تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب وائرس ڈراپلٹس کے ذریعے چھوڑے گئے تو یہ تقریباً 3 گھنٹوں تک دوسروں کو متاثر کرنے کے قابل رہے۔

    آدھی زندگی کے حساب سے تحقیقی ٹیم کو معلوم ہوا کہ وائرس کے ذرات کو فضا میں تقریباً 66 منٹ لگے کام نہ کرنے کی حد تک پہنچنے میں۔اس کا مطلب ہے کہ ایک گھنٹہ اور 6 منٹ مزید تک وائرس کے 3 چوتھائی ذرات اثر کرنے کے قابل نہ رہے تاہم دیگر 25 فیصد اس وقت بھی متاثر کرنے کے قابل تھے۔

    راکی ماونٹین لیبارٹریز کے این آئی اے آئی ڈی فیسیلٹی کے نیلجے وین ڈوریمالن کی قیدت میں ہونے والی تحقیق کے مطابق متاثر کرنے والے وائرس کی مقدار تیسرے گھنٹے میں 12.5 فیصد ہوگئی۔محققین کو معلوم ہوا کہ اسٹین لیس اسٹیل پر اسے 5 گھنٹے 38 منٹ لگے اپنی آدھی زندگی پر پہنچنے میں جبکہ پلاسٹک پر یہ 6 گھنٹے 49 منٹ تک برقرار رہا۔

    کارڈ بورڈ پر اس کی زندگی 3 گھنٹے اور 30 منٹ رہی تاہم محققین کا کہنا ہے کہ ان نتائج میں بہت ساری چیزیں استعمال کی گئیں۔اس تحقیق میں یہ چیز سامنے آئی ہے کہ وائرس نے سب سے کم زندگی کاپر پر گزاری جہاں وہ 46 منٹ بعد غیر موثر ہوگیا۔

    خیال رہے کہ چین سے پھیلنے والا کورونا وائرس اب تک دنیا کے 150 سے زائد ممالک تک پھیل چکا ہے جبکہ عالمی سطح پر اس کے ایک لاکھ 98 ہزار کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں اور 7 ہزار 948 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    اس وائرس سے اب تک 81 ہزار 946 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔پاکستان میں اس وائرس کے اب تک 262 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ 3 صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

  • مایوس نہیں ہونا، پریشان نہیں ہونا ، کرونا وائرس سے بچاوکیسے ممکن ، ماہرڈاکٹرزکی مبشرلقمان کے ساتھ مفید گفتگو

    مایوس نہیں ہونا، پریشان نہیں ہونا ، کرونا وائرس سے بچاوکیسے ممکن ، ماہرڈاکٹرزکی مبشرلقمان کے ساتھ مفید گفتگو

    لاہور:مایوس نہیں ہونا، پریشان نہیں ہونا ، کرونا وائرس سے بچاوکیسے ممکن ، ماہرڈاکٹرزکے مبشرلقمان کے ساتھ مفید ترین گفتگو،سننا نہ بھولیئے ،دیکھنا نہ بھولیئے،اطلاعات کےمطابق کرونا وائرس سے بچاوکیسے ممکن ، ماہرڈاکٹرزکے مبشرلقمان کے ساتھ مفید ترین گفتگو،اطلاعات کےمطابق پاکستان کے معروف صحافی سینیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان کرونا کےخلاف شروع دن سے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، اسی سلسلے میں انہوں نے پچھلے دو دن سے ماہرڈاکٹرز کی مدد سے اپنے عزیزہم وطنوں کے لیے مفید ترین طبی مشوروں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے ،

    مبشرلقمان یوٹیوب پرگفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹرعاطف مجید نے کرونا وائرس سرزد ہونے کی علامات کے بارے میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اس کی علامات واضح نہیں ، عالمی ادارہ صحت نے بھی اس حوالے سے یہی گزارشات مرتب کی ہیں کہ کئی ایک علامات ہوسکتی ہیں‌

     

    https://www.youtube.com/watch?v=cHQ0cPAPTlY&feature=youtu.be

    ڈاکٹرعاطف مجید نے کہا کہ کرونا مریض کے حوالے سے اہم علامات اس وقت گردش کررہی ہیں انہوں نے بتایا کہ ایسے مریض بھی آئے جن کو نہ تو کھانسی تھی اورنہ ہی بخارمگران میں کرونا کا وائرس پایاگیا ، ایسے ہی بعض ایسے مریض آئے جن کو خشک کھانسی کی تکلیف تھی ، انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اس کی علامات کوئی طئے نہیں ہیں ، بس سب سے بہترطریقہ کاریہی ہےکہ ہرکسی کواس موقع پرپرہیز کرنا چاہیے

    باغی ٹی وی کےمطابق کرونا وائرس کے حوالے سے اہم نشست میں ڈاکٹرسید خزیمہ بخاری نے بہت مفید گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے کم عمرکے لوگوں میں اس وائرس کے پائے جانے کے بہت کم واقعات ہیں ، انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے وہ انتظامات نہیں کئے گئے جوکرنے چاہیں تھے،ڈاکٹرسید خزیمہ بخاری نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پربھی ایسی گفتگواورپوسٹس شیئرکی جارہی ہیں جوبے چینی پھیلا رہی ہیں ان کوایسی حرکتوں سے باز رہنا چاہیے اس سے صورت حال کنٹرول ہونے کی بجائے بگڑنے لگتی ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق آج لائیوپروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹرعاطف نے کہا کہ کرونا سے بچنے کےلیے سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ اگرکسی آدمی میں کسی قسم کی علامات پائی جاتی ہیں تواس کاسب سے پہلا علاج اس آدمی کے پاس ہی ہے جسے یہ مرض لاحق ہے ،

    مبشرلقمان یوٹیوب چینل پرسینیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان سے گفتگوکرتے ہوئے اس امید کا اظہارکیا کہ جس شخص کوکرونا کی شکایت ہےاورابھی وہ ابتدائی مراحل میں تواسے خود کو حفاظی تدابیراختیارکرنی چاہیے ، اپنے آپ کودیگراپنے اردگرد رہنے والے سے دوررہے ، بار بار اپنے ہاتھ دھوئے ، پانی کا بار بار استعمال کرے

    ایک موقع پرجب سینیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان نے گفتگوکرتےہوئے انکشاف کیاکہ کینیڈا میں ایک ڈاکٹردوست کوکرونا کی شکایت ہوگئی ہے ، اگرمریضوں کوبچانے والوں کی یہ صورت حال ہے توپھرکیا حشرہوگا عام آدمی کا، اس پرگفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹرعاطف نے کہا کہ ڈاکٹرز کو بھی وہی اصول اپنانے چاہیں جوکرونا وائرس سے بچاوکے ہدایایت دوسروں کے لیے ہیں

    ڈاکٹرعاطف نے مزید کہا کہ یہ تو حقیقت ہے کہ ڈاکٹرز بھی عام انسانوں کیطرح ہیں مگران میں اورعام آدمی میں فرق یہ ہے کہ ڈاکٹرز کواس قسم کے حالات کا علم ہوتا ہے اورپھراس سے نبٹنے کی صلاحیت ہوتی ہے ، اس لیے ڈاکٹرز حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ خود کوکرونا سے محفوظ رکھنے کے لیے وہ اصول اپنائیں جس کی ہدایات دی گئی ہیں

    گفتگوکرتے ہوئے سینیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان نے ڈاکٹرزسے تجربات کی بنیادپرگفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت قوم ہم نے اس مشکل وقت میں کرونا سے لڑنا ہے، ہم نے اپنے آپ کواوراپنے اردگرداوراپنے گھروالوں کو اس مشکل سے بچانا ہے،