Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستان فٹ بال فیڈریشن، فیفا اور فیفا نارملائیزیشن کمیٹی کے اختیارات،سینیٹ کی خصوصی کیمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے

    پاکستان فٹ بال فیڈریشن، فیفا اور فیفا نارملائیزیشن کمیٹی کے اختیارات،سینیٹ کی خصوصی کیمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے

    سلام آباد: پاکستان میں فٹ بال کے کھیل کے فروغ کے حوالے سے ایوان بالاء میں تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی کااجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر دلاور خان کے زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن، فیفا اور فیفا نارملائیزیشن کمیٹی کے اختیارات، مقاصد، ٹی او آرز، پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے انتخابات اور فٹ بال کے فروغ کے حوالے سے فیز وائز پروگرام کی تفصیلات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق کنونیئر کمیٹی سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ دنیا گلوبل و لج بن چکا ہے اور دنیا کو آپس میں منسلک کرنے میں کھیلوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ فٹ بال کا کھیل انتہائی اہمیت کا حامل اور دنیا بھر میں کھیلا جاتا ہے مگر پاکستان میں ناقص حکمت عملی کی وجہ سے یہ کھیل زوال کی طرف جا رہا ہے۔ ملک میں بے تحاشا ٹیلنٹ موجود ہے موثر حکمت عملی کی بدولت اس کھیل کو فروغ دے کر دنیا بھر میں امن،محبت اور دوستی کا پیغام دے سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بد قسمتی کی بات ہے کہ کمیٹی کے اجلاس میں با اختیار لوگ شرکت ہی نہیں کرتے آئندہ اجلاس میں متعلقہ با اختیارلوگ اپنی شرکت یقینی بنائیں ہر کمیٹی اجلاس میں نئے لوگ آ کر کمیٹی کو بریف کرتے ہیں اور کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد بھی دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ قائد ایوان سینیٹ سینیٹر سید شبلی فراز نے کہا کہ فٹ بال کے فروغ کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر اقدامات اٹھانا ہونگے اور اس کو ویلو چین کا حصہ بنانا ہوگا کمیٹی کو آگاہ کیا جائے کہ فٹ بال کے فروغ کیلئے اس وقت ہم کہا ں ہیں اور مستقبل کیلئے کیا منصوبہ جات ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان فٹ بال فیڈریشن کو سیاست سے پاک نہیں کیا جائے گا بہتری ممکن نہیں ہے کمیٹی نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے شفاف انتخابات پر زور دیا۔ کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ اس کھیل کی بہتری کیلئے ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت اس کھیل میں دلچسپی رکھنے والے لوگ بھی مدد کیلئے تیار ہیں بہتر یہی ہے کہ چاروں صوبوں کے ساتھ مل کر اقدامات اٹھائے جائیں۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ نومبر میں منعقد ہونے والی کمیٹی اجلاس میں کچھ سفارشات دی تھیں اُن پر عملدرآمد کی رپورٹ تک فراہم نہیں کی گئی تو کسطرح معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں

    کمیٹی کو ڈپٹی جنرل سیکرٹری نارملا ئیزیشن کمیٹی نے آگاہ کیا کہ فیڈریشن کے جون 2020میں انتخابات ہونگے اس کے لئے کلبز کی سکروٹنی کرائی جائے گی کمیٹی کو این سی کے مینڈیٹ بارے بھی آگاہ کیا گیا کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے ڈیلی امور کو چلانا، پاکستان میں قائم مختلف کلبز کی مناسب رجسٹریشن اور سکروٹنی کرانا اور فیڈریشن کے انتخابات کے حوالے سے انتظامات کرنا شامل ہے۔ کمیٹی نے این سی انتظامیہ سے آئندہ اجلاس میں شفاف انتخابات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ طلب کر لی۔

    سیکرٹری آئی پی سی نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت آئی پی سی کا اختیار صرف گرانٹ دینے اور باہمی تعاون تک محدود ہے کمیٹی کو بتایا گیا کہ فیفا کی طرف سے سالانہ 2.5ملین ڈالر فٹ بال کے فروغ کیلئے ملتے ہیں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ 2017سے پہلے اخراجات کا کوئی آڈیٹ نہیں ہوتا تھا۔ سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن اپنے مسائل میں گری ہوئی ہے جب تک ایک باڈی نہیں بنے گی، مینجمنٹ کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا اور ایک واضح اسٹریکچر تشکیل نہیں دیا جائے گا بہتری ممکن نہیں ہے۔

    بلوچستان چمبر کے ممبر اکبر محمد کاکڑ نے کہاکہ صوبہ بلوچستان میں فٹ بال کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور ہمارے علاقے کے کئی کھلاڑی عالمی ٹیموں کا حصہ بھی ہیں مگر ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم دینا کی پسماندہ ٹیموں میں سے ایک ہے۔ مبشر حسین سنجرانی کپٹن فٹسال نے کہا کہ پہلے ملک میں فٹسال کو فروغ دینا ہو گا جس میں پانچ سال کے بچے شرکت کرتے ہیں دنیا کے بہترین کھلاڑی پہلے فٹسال کا حصہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن میں ایسے لوگ شامل کئے گئے جنہیں فٹ بال کے کھیل کی معلومات تک نہیں تھیں۔

    سابق صدر پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے کہا کہ پاکستان کی فٹ بال ٹیم 145ویں نمبر سے تنزلی کا شکار ہو کر 208ویں نمبر پر پہنچ گئی ہے جس کی بنیادی وجہ ادارے میں سیاست ہے نارملائیزیشن کمیٹی نو ماہ ہونے کے باوجود انتخابات نہیں کراسکی غیر متعلقہ افراد کو فیڈریشن نے بھاری تنخواہوں پر رکھ کر نواز گیا ہے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ جب تک میرٹ کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جائے گا بہتری ممکن نہیں ہے۔کنو نیئر کمیٹی نے کہا کہ این سی انتظامیہ یہ بات ذہین سے نکال دے کہ یہ کمیٹی کسی کے مینڈیٹ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اس کمیٹی کا بنیاد ی مقصد پاکستان میں فٹ بال کے فروغ دینا ہے اور اس کے لئے معاملات کو ٹریک لین پر لانا ہے۔

    کمیٹی کے آج کے اجلاس میں قائد ایوان سینیٹ سینیٹر سید شبلی فراز، سینیٹرز مرزا محمد آفریدی، روبینہ خالد کے علاوہ سیکرٹری آئی پی سی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل این سی، سابق صدرپاکستان فٹ بال فیڈریشن، اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

  • لودھراں : ولائتی شراب سے بھرا ٹرک الٹ گیا

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) بہاولپور روڈ پر تیز بارش کے باعث ولایتی شراب سے لوڈ ٹرک الٹ گیا

    ٹرک میں 20 ہزار کے قریب ولایتی شراب کی بوتلیں موجود ہیں

    ایکسائز آفیسزر، پولیس اور موٹر وے حکام موقع پر پہنچ گئے شراب راولپنڈی سے کراچی جارہی تھی

    پولیس حکام کے مطابق شراب کے پرمٹ آرڈزر چیک کررہے ہیں، ایکسائز انسپکٹر راؤ تسلیم رضا

  • کامیڈین امان اللہ کی وفات کے بعد شوبز کی دنیا سے ایک اورپریشانی والی خبر آگئی ، اداکارہ میرا امریکا میں حادثے کا شکار

    کامیڈین امان اللہ کی وفات کے بعد شوبز کی دنیا سے ایک اورپریشانی والی خبر آگئی ، اداکارہ میرا امریکا میں حادثے کا شکار

    نیو یارک: کامیڈین امان اللہ کی وفات کے بعد شوبز کی دنیا سے ایک اورپریشانی والی خبر آگئی ، اداکارہ میرا امریکا میں حادثے کا شکار ،اطلاعات کےمطابق پاکستان کی فلم انڈسٹری کی مشہور اداکارہ میرا امریکا میں حادثے کا شکار ہو گئیں۔

    تفصیلات کے مطابق اپنی اداکاری، انگریزی زبان سمیت بیانات کولے کر خبروں کی زینت بننے والی پاکستانی اداکارہ میرا امریکا میں حادثے کا شکارہوگئیں۔ حادثے میں اداکارہ کی گردن اور بازو پر چوٹیں آئی ہیں۔خاندانی ذرائع کے مطابق امریکا کے نجی ہسپتال میں اداکارہ کا علاج جاری ہے، ڈاکٹروں کی جانب سے میرا کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد کمرے میں شفٹ کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اداکارہ میرا کبھی اپنی گلابی انگریزی کے باعث تو کبھی مختلف اسکینڈلزسمیت دوسرے فنکاروں پرتنقید کرنے جیسے معاملات کے باعث خبروں کی زینت بنی رہتی ہیں۔

    یاد رہے کہ آج پاکستان کے معروف کامیڈین ساری زندگی لوگوں کوخوش رکھنے والی اہم شخصیت قضائے الہی سے وفات پاکرجاتے جاتے غم دے گئی

  • پشاور کی تاریخی سنہری مسجد 25 سال بعد خواتین کیلئے کھول دی گئی

    پشاور کی تاریخی سنہری مسجد 25 سال بعد خواتین کیلئے کھول دی گئی

    پشاور:پشاور کی تاریخی سنہری مسجد 25 سال بعد خواتین کیلئے کھول دی گئی،اطلاعات کےمطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی تاریخی سنہری مسجد کو 25 سال بعد خواتین نمازیوں کے لیے ایک مرتبہ پھر کھول دیا گیا۔

    مسجد کے نائب امام محمد اسمٰعیل نے بتایا کہ مسجد کھولنے کا فیصلہ صدر کے علاقے میں رہنے والی خواتین کی آسانی کے لیے کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ 1996 سے قبل خواتین کو مسجد کے اوپری حصے میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے آنے کی اجازت تھی تاہم 1996 میں عسکریت پسندی بڑھنے کے بعد خواتین کے داخلے پر پابندی لگادی گئی تھی۔

    محمد اسمٰعیل نے بتایا کہ تاہم اب مسجد کا یہ مخصوص حصہ دوبارہ خواتین کے لیے کھول دیا گیا ہے جہاں وہ نماز جمعہ کا خطبہ بھی سن سکتی ہیں جبکہ نماز عید بھی ادا کرسکیں گی۔مسجد میں نماز جمعہ کے آج ہونے والے اجتماع کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جمعہ کے خطبے کے دوران خطیب نے خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق پر بھی بات کی۔

    نائب امام محمد اسمٰعیل نے بتایا کہ اس مسجد کی تعمیر کا آغاز 1946 میں شروع ہوا تھا اور 30 سال بعد یہ مکمل ہوئی تھی۔ادھر صدر علاقے کی رہائشی 45 سالہ خاتون کوثر نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے اور ان کی بیٹیوں نے پہلی مرتبہ مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس اقدام سے بےحد خوش ہیں جبکہ یہ خواتین کے لیے ایک اچھا فیصلہ ہے۔پشاور کے علاقے صدر میں واقع اس تاریخی مسجد میں برسوں بعد خواتین کے لیے نماز جمعہ کا اہتمام کیا گیا جہاں 15 سے 20 خواتین نے نماز ادا کی۔

  • گجرات:تھانہ صدر گجرات کے علاقہ میں نوجوان حسن شہزاد کے قتل میں ملوث تمام نامزد ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔۔

    گجرات:تھانہ صدر گجرات کے علاقہ میں نوجوان حسن شہزاد کے قتل میں ملوث تمام نامزد ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔۔

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے) آج صبح تھانہ صدر گجرات کے علاقہ موضع بیووالی کے قریب نوجوان حسن شہزاد ساکن بھاگووال کو کار میں فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ صدر گجرات توقیر الحسن معہ نفری فوری موقع پر پہنچ گیا اور زخمی نوجوان کو علاج کے لئے عزیز بھٹی شہید ہسپتال منتقل کیا گیاجو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیاجس کی بعد ازاں شناخت کانسٹیبل حسن شہزاد کے نام سے ہوئی جوکہ تھانہ اے ڈویژن میں تعینات تھا اور ڈیوٹی سے فراغت کے بعدمعمول کی چھٹی پر تھا۔واقعہ کے متعلق ڈی پی او گجرات توصیف حیدر کو بھی آگاہ کیا گیا جنہوں نے ڈی ایس پی لالہ موسیٰ ریاض الحق کی سربراہی میں پولیس ٹیم تشکیل دے کر انہیں ہدائیت دی کہ قتل کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جائے اور واردات میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔ جائے وقوعہ سے کرائم سین یونٹ،پی ایف ایس اے گوجرانوالہ نے شواہد اکٹھے کئے۔ پولیس تھانہ صدر گجرات نے نوجوان کے والد محمد افضل کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے دیں۔ جنہوں نے چند گھنٹوں کے اندر وقوعہ میں ملوث تمام نامزد ملزمان گرفتار کرلئے۔ جن میں محمد ولید ولد محمد احسن ساکن بھاگووال،لائبہ زاہد دختر محمد احمد قوم اعوان ساکن گوجرانوالہ،رئیسہ جاوید دختر جاوید اقبال قوم جٹ سندھو ساکن شادیوال منڈی بہاؤالدین شامل ہیں۔جن کی انٹیروگیشن جاری ہے۔

  • ایرانی  وزیر خارجہ کے مشیر حسین شیخ الااسلام کورونا وائرس سے وفات پا گئے

    ایرانی وزیر خارجہ کے مشیر حسین شیخ الااسلام کورونا وائرس سے وفات پا گئے

    تہران :ایرانی وزیر خارجہ کے مشیر کورونا وائرس سے وفات پا گئے تہران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ‘ایک تجربہ کار اور انقلابی سفارتکار’ حسین شیخ الااسلام وفات پا گئے۔خیال رہے کہ ایران میں کورونا وائرس سے مرنے والوں میں 6 سیاستدان یا سرکاری اہلکار شامل ہیں۔ایران کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے کوشش کررہا ہے لیکن اب تک وائرس سے 3 ہزار 513 افراد متاثراور کم سے کم 107 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ حسین شیخ الااسلام 1979 میں امریکی سفارت خانے کے عملے کو یرغمال بنانے والے سیاسی بحران میں شریک تھے۔حسین شیخ الااسلام ، وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے مشیر تھے اور شام میں سابق سفیر کے فرائض بھی انجام دے چکے تھے۔انہوں نے 1981 سے 1997 تک نائب وزیر خارجہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔واضح رہے کہ حسین شیخ الااسلام 1979 میں امریکی سفارتخانے کے عملے کو یرغمال بنانے والے طلبا میں بھی شامل تھے۔

    ایرانی طلبا نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولا اور 52 امریکیوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔اس کے نتیجے میں واشنگٹن نے 1980 میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے۔امریکی یرغمالیوں کو جنوری 1981 میں 444 دن قید میں رہنے کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر کے قریبی ساتھی اور ان کو تجاویز دینے والے کونسل کے رکن کورونا وائرس سے متاثرہ ہوکر ہلاک ہوگئے تھے۔وہ ریاست میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے اعلیٰ عہدیدار تھے۔71 سالہ کونسل رکن محمد میر محمدی تہران کے ہسپتال میں ہلاک ہوئے۔

    خیال رہے کہ ایران میں دو ہفتے قبل کوروناوائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کے پیش نظر ملک بھر میں اسکولوں اور جامعات سمیت اہم ثقافتی مراکز اور کھیلوں کے مقابلے بھی معطل کردیے گئے ہیں۔

    ایران میں کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی اقدامات کے تحت دفاتر میں کام کے اوقات میں بھی کمی کردی گئی ہے اور گزشتہ روز ایران کی ایمرجنسی سروس کے سربراہ بھی متاثر ہونے کی تصدیق کردی گئی تھی۔خیال رہے کہ چین سے پھیلنے والا یہ وائرس اب دنیا کے کئی ممالک تک پھیل چکا ہے اور ایران میں چین کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور متاثرین مین جنوبی کوریا دوسرے نمبر پر ہے تاہم ہلاکتیں ایران سے کم ہوئی ہیں۔

  • مٹھی بھر خواتین عورت مارچ کے نام پر ہماری بیٹیوں کو گمراہ کر رہی ہیں: فردوس عاشق اعوان

    مٹھی بھر خواتین عورت مارچ کے نام پر ہماری بیٹیوں کو گمراہ کر رہی ہیں: فردوس عاشق اعوان

    اسلام آباد:مٹھی بھر خواتین عورت مارچ کے نام پر ہماری بیٹیوں کو گمراہ کر رہی ہیں،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مٹھی بھر خواتین عورت مارچ کے نام پر ہماری بیٹیوں کو گمراہ کر رہی ہیں، عورت مارچ قابل اعتراض نعروں کے بغیر بھی کیا جاسکتا ہے۔

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ عورت مارچ کے نعرے ہماری چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کر رہے ہیں، ایسے نعروں کی ہمارے مذہب، معاشرے اور گھروں میں کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے جب کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر ریاست مدینہ کی اساس مضبوط نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ پر امن احتجاج ہر شخص کا بنیادی حق ہے لیکن جو نعرے خواتین حقوق کے لیے لگا رہی ہیں وہ کس معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں؟ ہمارے معاشرے میں ایسے نعروں کی اجازت نہیں۔

    فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ایسے نعروں کی ہمارا مذہب اور گھر کا ماحول اجازت نہیں دیتا، عورت مارچ میں چار دیواری کے تقدس کو پامال کیے بغیر نکلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عورت مارچ قابل اعتراض نعروں کے بغیر بھی کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مخصوص طبقے کی خواتین جس طرح کے نعرے لگا رہی ہیں، وہ کس کی نمائندگی کررہی ہیں؟ خواتین کو بااختیار بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہم اپنی بہن بیٹیوں کے حقوق کے تحفظ کےلیے پرعزم ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جو نعرے متعارف کرائے گئے ہیں اس سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوں گی، جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس سے یہ گتھی مزید الجھ گئی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں نجی ٹی وی شو کے دوران معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر اور سماجی کارکن ماروی سرمد کے درمیان ہونے والے تکرار کے بعد عالمی یوم خواتین کے موقع پر ہونے والا عورت مارچ زیر بحث ہے۔

  • ‏پیمرا نے عورت مارچ کی چینلز پہ کوریج کے دوران نامناسب غیر اخلاقی نعرے ، بینرز اور مواد دکھانے پہ پابندی عائد کر دی

    ‏پیمرا نے عورت مارچ کی چینلز پہ کوریج کے دوران نامناسب غیر اخلاقی نعرے ، بینرز اور مواد دکھانے پہ پابندی عائد کر دی

    اسلام آباد:‏پیمرا نے عورت مارچ کی چینلز پہ کوریج کے دوران نامناسب غیر اخلاقی نعرے ، بینرز اور مواد دکھانے پہ پابندی عائد کر دی،باغی ‌ٹی وی کےمطابق پیمرا نے پاکستان میں عورت مارچ کے دوران الیکٹرانک،پرنٹ میڈیا کودوران کوریج ایسے امور کو دکھانے سے منع کردیا ہے جو نامناسب ہوں اورغیراخلاقی بھی ہوں

    باغی ٹی وی کے مطابق پیمرا نے اپنے حکم نامے میں‌کہا ہےکہ کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دے جائے گی کہ عورت مارچ کے دوران غیراخلاقی مواد کوپیش کرے ، پیمرا کے مطابق اس مارچ کے دوران پیش آنےوالے معاملات جومذہب ، کسی کی ذات اورہماری اقدارپرکاری ضرب لگائیں ان کونہیں‌دکھایا جائے گا پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے الیکڑونک میڈیا کو عورت مارچ کی کوریج میں ‘پلے کارڈز پر قابل اعتراض مواد یا غیر اخلاقی نعرے’ نشر کرنے سے خبردار کردیا۔

    پیمرا نے 8 مارچ کو منائے جانے والے عالمی یوم خواتین کی کوریج سے متعلق ایک ایڈوائزری جاری کی جس میں قابل اعتراض یا غیراخلاقی نعرے یا مواد نشر کرنے کے خلاف متنبہ کیا گیا۔پیمرا ایڈوائزری میں لاہور ہائیکورٹ (ایل ایچ سی) کی جانب سے عورت مارچ کی مشروط اجازت کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ بعض چینلز نے ‘عورت مارچ سے متعلق متنازع نعرہ بھی نشر کیا’۔

    پیمرا نے چینلز پر زور دیا کہ وہ اس حقیقت کو ذہن میں رکھیں کہ اس طرح کے متنازع مواد کو نشر کرنا معموعی طور پر قابل قبول شائستگی کے معیارات کے منافی ہونے کے ساتھ مذہبی، معاشرتی، ثقافتی اصولوں اور عوام کے جذبات کے منافی ہے۔ایڈوائزری میں مزید کہا گیا کہ اس طرح کے فحش / نامناسب مواد کو نشر کرنا ٹی وی چینلز پر دیکھنے کے لیے موزوں نہیں ہے۔نوٹی فکیشن میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کس طرح کے مواد کو ‘متنازع’ یا ‘فحش’ ہے۔علاوہ ازیں ایڈوائزری میں قابل اعتراض نعرہ بھی واضح نہیں کیا گیا۔

    الیکٹرونک میڈیا کا نگراں ادارے کا کہنا تھا کہ پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 20 (ایف) کی خلاف ورزی ہے۔علاوہ ازیں بیان میں کہا گیا کہ ‘5 مارچ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے متفقہ طور پر ٹیلی ویژن چینلز پر عالمی یوم خواتین مہم سے متعلق غیر مہذبانہ نعروں اور متنازع مواد کے نشر کی حوصلہ شکنی کی’۔پیمرا نے مزید کہا کہ ٹی وی چینلز کو ‘اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے اور ناظرین میں اعلی اخلاقی اقدار اور کردار کی تشکیل میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاہئے’۔

    علاوہ ازیں پیمرا نے اینکرپرسن کو بھی ہدایت کی کہ وہ ‘الفاظ / اشاروں کے انتخاب میں محتاط رہیں اور ایسے سوالات / تبصرے کو گریز کریں جو بولڈ / غیر واضح ہوں’۔پیمرا نے ہدایت کی کہ چینلز کسی بھی ‘نامناسب الفاظ / مواد’ کو نشر کرنے سے بچنے کےلیے ٹائم ڈیلے میشن استعمال کریں۔ایڈوائرزی میں کہا گیا کہ چینلز کی مانیٹرنگ کمیٹی کو پروگراموں، بلیٹن اور ٹاک شوز کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ کوئی قابل اعتراض چیز نشر نہ ہو۔

    خیال رہے کہ پاکستان بھر میں آئندہ ہفتے 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر ملک بھر میں ’عورت مارچ‘ منعقد کیے جائیں گے اور اس حوالے سے تیاریاں جاری ہیں۔پاکستان میں گزشتہ سال سے ’عورت مارچ‘ کے انعقاد کا سلسلہ شروع ہوا اور ’عورت مارچ‘ کے حوالے سے کافی تنقید بھی سامنے آئی۔ماضی کی طرح اس سال بھی ’عورت مارچ‘ شروع ہونے سے قبل ہی اس پر تنقید کی جا رہی ہے اور مختلف سیاسی و سماجی رہنما اس حوالے سے اپنے بیانات دے رہے ہیں۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ’عورت مارچ’ رکوانے کی درخواست خارج، اب راج کرے گا "عورت مارچ”

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ’عورت مارچ’ رکوانے کی درخواست خارج، اب راج کرے گا "عورت مارچ”

    اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ: ’عورت مارچ’ رکوانے کی درخواست خارج، اب راج کرے کا عورت مارچ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے ’عورت مارچ‘ کو رکوانے کے خلاف دائر کی گئی اسلام آباد کے 8 شہریوں کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر اسے خارج کردیا۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں قائم بینچ نے عمران جاوید عزیز، محمد ایوب انصاری، امیر زیب، قاری سہیل احمد فاروقی، محمد اجمل عباسی، عبدالوحید، بشیر احمد اور میر اویس خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزاروں کی جانب سے سہیل اکبر چوہدری، راجا شجاعت علی اور حافظ محمد مظہر سمیت دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

    درخواست گزاروں نے ایک روز قبل ہی پاکستانی آئین کی مختلف شقوں اور مذہب کا حوالہ دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ’عورت مارچ‘ کو رکوانے کی درخواست دائر کی تھی۔درخواست میں ’عورت مارچ‘ کو غیر قانونی اور غیر مذہبی قرار دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ اسے روکنے کا حکم سنائے۔

    درخواست میں وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو فریق بنایا گیا تھا۔درخواست میں گزشتہ سال کے ’عورت مارچ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ مارچ میں نامناسب بینرز اور نعروں سے فحاشی پھیلتی ہے اور مارچ غیر قانونی اور غیر مذہبی ہے۔

    عدالت کے مطابق ضروری ہے کہ عورت مارچ کو مثبت انداز میں دیکھا جائے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
    عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے 6 مارچ کو سماعت کی جس میں درخواست گزاروں کے وکیل پیش ہوئے، جنہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار خواتین کے حقوق نہیں بلکہ ’عورت مارچ‘ کے خلاف ہیں۔

    درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت کو استدعا کی کہ وہ غیر قانونی طور پر ہونے والے عورت مارچ کو روکنے کا حکم دے۔درخواست گزاروں کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’درخواست گزار قبل از وقت اس عدالت سے ریلیف مانگ رہے ہیں‘۔

    چیف جسٹس نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’توقع ہے کہ عورت مارچ کے شرکا شائستگی برقرار رکھتے ہوئے آئینی حق استعمال کریں گے‘۔عدالت نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلے میں مزید لکھا کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عورت مارچ کا اعلان کیا گیا ہے اور ’عورت مارچ کے شرکا ان کے ارادوں پر شک کرنے والوں کو اپنے عمل سے غلط ثابت کریں‘۔

    عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے سے قبل عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا اور نماز جمعہ سے قبل ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمارے معاشرے میں کئی دیگر اسلامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے، عدالت امید کرتی ہے کہ درخواست گزار تمام اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے بھی عدالت سے رجوع کریں گے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عورتوں کے نعرے وہی ہیں کہ ’جو اسلام نے انہیں حقوق دیے وہ دیے جائیں‘۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ خواتین نے کل پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اسلام میں دیے گئے اپنے حقوق مانگ رہی ہیں، جب پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنی بات واضح کردی تو ہم کیسے مختلف تشریح کرسکتے ہیں اور ان کے نعروں کی کیا ہم اپنے طور پر تشریح کرسکتے ہیں؟چیف جسٹس نے درخواست گزاروں کے وکلا کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج پورے میڈیا میں ان کی کل کی پریس کانفرنس شائع ہوئی ہے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ خاتون تھیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے درخواست گزاروں کے وکلا سے استفسار کیا کہ بتائیں کہ ہم کتنی خواتین کو وراثتی حقوق دے رہے ہیں اور آپ اپنے طور پر ان کے سلوگنز کی تشریح کیسے کر سکتے ہیں؟

    جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ نہ مارچ کے خلاف ہیں نہ عورتوں کے حقوق کے خلاف ہیں، عدالت حکم دے کہ مارچ میں جو کچھ ہو وہ آئین و قانون اور اسلام کے دائرے میں ہو۔وکیل کی وضاحت پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ضروری ہے کہ آپ اس عورت مارچ کو مثبت انداز میں دیکھیں۔

    چیف جسٹس نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ اگر 8 مارچ کو کچھ بھی خلاف قانون ہوتا ہے تو عدالت قانونی کارروائی کرے گی۔بعد ازاں عدالت نے مذکورہ فیصلہ سناتے ہوئے عورت مارچ کو رکوانے کی درخواست خارج کردی۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں بھی عورت مارچ کو رکوانے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’آئین و قانون کے مطابق عورت مارچ کو روکا نہیں جا سکتا‘۔ساتھ ہی عدالت نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور مارچ منتظمین کو ہدایت کی تھی کہ مارچ میں کسی طرح کے غیر اخلاقی سلوگن نہیں ہونے چاہیئیں۔

    خیال رہے کہ خواتین رہنماؤں نے لاہور سمیت اسلام آباد، کراچی، حیدرآباد، سکھر، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر 8 مارچ کو عورت مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور پاکستان میں گزشتہ 2 سال سے ان مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

    اس سال ’عورت مارچ‘ شروع ہونے سے قبل ہی اس پر بحث شروع ہوگئی ہے اور جہاں کئی افراد اس مارچ کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں کچھ افراد اس کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔

    عورت مارچ کی حمایت کرنے والے افراد کا ماننا ہے کہ ’عورت مارچ‘ خواتین کی خودمختاری اور حقوق کے لیے اہم قدم ہے جب کہ اس کی مخالفت کرنے والے افراد کا مؤقف ہے کہ یہ مارچ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے، خواتین کو بے راہ روی اختیار کرنے اور فحاشی پھیلانے کا سبب ہے۔

    گزشتہ سال پہلی مرتبہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ’عورت مارچ‘ منعقد ہوا تھا جس میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہوئی تھیں اور ان مارچ میں شامل خواتین کی جانب سے اٹھائے گئے بینرز پر سخت تنقید کی گئی تھی۔

    کراچی سے لے کر لاہور اور اسلام آباد سے حیدرآباد تک ہونے والے عورت مارچ میں خواتین نے درجنوں منفرد نعروں کے بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں کچھ بینرز پر مختلف طقبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے تنقید بھی کی تھی۔

  • معروف اخبار نے فلم سٹار احمد بٹ کو کیا "سیکھنے” کا  کہہ دیا

    معروف اخبار نے فلم سٹار احمد بٹ کو کیا "سیکھنے” کا کہہ دیا

    معروف اخبار نے فلم سٹار احمد بٹ کو کیا "سیکھنے” کا کہہ دیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق :معروف فلم سٹر احمد بٹ نے اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ایک معروف اخبار جس کا دعوی ہے کہ وہ غیر جانبدار ہے اور آزاد ہے نے مجھے میرے فلموں بارے ذمہ طعنہ دیتے ہوئے کہا ہے کہا آپ "میرا جسم میری مرضی” جیسے نعرے کو صحیح طور پر سمجھیں اور اس بارے تعلیم حاصل کریں،اس کے خلاف پراپیگنڈہ مت کریں اس کے رد میں اسلام اور تہذیب کی دعوت نہ دیں اخبار نے کہا کہ آپ کی فلم جوانی پھر نہیں آنی دیکھ خوب اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کتنا اسلام کے اوپر عمل پیرا ہیں.اور اس فل میں جیسے کردار تھے وہ سب جانتے ہیں . اب اس فلم کا اداکار تہذیب کا درس دے گا تویہ منافقت ہے. واضح رہے وہ ڈان اخبار ہے جس نے فلم سٹار احمد بٹ کو ٹویٹ کی ہے اس کے جواب میں احمد بٹ نے کہا کہ یہ بات کتنی حیران کن ہے کہ ایک اخبار ایجوکیشن کی بات کر رہا ہے .آپ اپنا ایجنڈا جاری رکھیں.کیونکہ آپ کے ہر سین اور پوسٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ فنڈڈ ہو اور آپ کے بل کی پیمنٹ ہو گئی ہے. اس پر احمد بٹ نے قہقہ لگایا….


    واضح رہے کہ عورت آزادی مار چ میں لبرلز خواتین میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے لگا رہی ہیں. جس پر ایک ٹی وی مذاکرے میں خلیل الرحمان قمر اور ماروی سرمدکے درمیان تلخ کلامی ہو گئی تھی. خلیل الرحمٰن قمر نے براہ راست پروگرام میں بات کرتے ہوئے ماروی سرمد کو ’گھٹیا عورت‘ کہنے سمیت ان کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی اور انہیں ’جسم کے طعنے‘ بھی دیے تھے۔

    خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    ماروی سرمد کے خلاف ایسی زبان استعمال کیے جانے پر کئی سیاستدانوں، اداکاروں، سماجی رہنما اور دیگر افراد نے بھی خلیل الرحمٰن قمر کے رویے کی مذمت کی اور سوشل میڈیا پر مہم چلائی کہ ڈراما نویس کا بائیکاٹ کیا جائے اور انہیں کسی پروگرام میں نہ بلایا جائے.
    اس کے بعد سوشل میڈیا میں عورت آزادی مارچ کے خلا ف بہت بڑی کمپین چلی اور بہت بھاری اکثریت نے اس مارچ اور نعرے کی مخالفت کی ہے .اسی طرح خلیل الرحمٰن قمر کے حق میں ٹاپ ٹرینڈ چل رہے ہیں.