Baaghi TV

Author: +9251

  • ادکار اور رکن پارليمنٹ سنی دیول لاپتہ ہوگے تلاش کے لیے پوسٹر لگا دئيے گئے۔

    ادکار اور رکن پارليمنٹ سنی دیول لاپتہ ہوگے تلاش کے لیے پوسٹر لگا دئيے گئے۔

    نئی دہلی :ادکار اور رکن پارليمنٹ سنی دیول لاپتہ ہوگے تلاش کے لیے پوسٹر لگا دئيے گئے۔ پٹھان کوٹ ریلوے اسٹیشن پرلگائے گئے پوسٹرز ميں دعوي کيا گيا ہے کہ گرداسپور سے منتخب بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور ادکار سنی دیول لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    گائے کو چھونے سے منفی سوچ دور ہوتی ہے، بھارتی وزیر

    پھٹان کوٹ سے ذرائع کےمطابق حلقے کہ لوگوں نے طویل مدت سے اپنے پارلیمانی حلقہ میں نہ جانے کے سبب ان کے گمشدہ ہونے کے پوسٹر لگا ديئے ہیں۔ حلقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سنی دیول کو ایک سال پہلے اس امید پر الیکشن میں کامیاب کر کے لوک سبھا میں بھیجا گیا تھا کہ وہ ترقی کے لیے کام کریں گے۔ اس کے علاوہ بڑے پروجیکٹ لے کر آئیں گے جس سے بے روزگاری کم ہوگی۔ لیکن سنی دیول الیکشن جیتنے کے بعد سے غائب ہيں

    صحافیوں اورصحافتی تنظیموں کی گورنرپنجاب سے ملاقات،ارشد انصاری کے معاملے پرتحفظات…

    سنی دیول کے لاپتہ والے پوسٹر پر کانگریس لیڈر منیش تیواری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی حیران کرنے والی بات نہیں ہے ان کے والد دھرمیندر کے ساتھ بھی بیکانیر میں یہی ہواتھا۔ 2019 میں ہوئے لوک سبھا الیکشن میں گرداسپور سیٹ سے بی جے پی کی ٹکٹ پر سنی دیول کو کامیابی ملی تھی۔

  • گائے کو چھونے سے منفی سوچ دور ہوتی ہے، بھارتی وزیر

    گائے کو چھونے سے منفی سوچ دور ہوتی ہے، بھارتی وزیر

    مہاراشٹرا۔:گائے کو چھونے سے منفی سوچ دور ہوتی ہے، بھارتی وزیرکی ہندوانہ منطق کا عقیدہ سامنے آگیا ،سیاسی جماعت کانگریس سے تعلق رکھنے والی بھارتی ریاست مہاراشٹرا کی نو منتخب وزیریشو متی ٹھاکر کا کہنا ہے کہ گائے سب جانوروں میں مقدس ہے، جسے چھونے سے محبت کا احساس جاگتا ہے جبکہ منفی سوچ کا خاتمہ ہوتا ہے ۔

    ذرائع کےمطابق بھارتی رہنما کے اس بیان کے بعد ایک اور سیاستدان نے ان کے اس بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ گائے سمیت سب جانوروں کو چھونے سے انہیں اچھا محسوس ہوتا ہے اور یہ ان کی ثقافت کا حصہ ہے۔ دونو ں سیاست دانوں کو عوام کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    بھارتی کانگریس جماعت کی سیاست دان یشومتی اس قسم کے بیانات دینے کے لیے مشہور ہیں ، اس بیان سے پہلے بھي انہوں نے ایک انتخابی مہم کے دوران اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہمیں جیت کر حکومت میں آنا ہے، مگر ہماری جیبیں خالی ہیں۔ اس سے قبل ایک بھارتی افسر نے انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ گائے کا گوبر انہیں ایٹمی حملے کے بعد جوہری تابکاری کے اثرات سے محفوظ رکھے گا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ایک گڑھا کھود کر لکڑی کی بلیاں ، پتے رکھ کر اس کے اوپر گائے کے گوبر کی ڈیڑھ فٹ تک کی تہہ لگا دیں تو جوہری تابکاری سے بچاجاسکتا ہے۔ بھارتی سول ڈیفنس کے افسر کا ایک ٹی وی شو میں دیے گیے اس بیان کا سوشل میڈیا پر خوب مذاق بنا تھا۔

  • جواہر لعل نہرو یونیورسٹی  تشدد ميں آخر فیس بک، واٹس ایپ کو نوٹس کیوں جاری کیا گيا

    جواہر لعل نہرو یونیورسٹی تشدد ميں آخر فیس بک، واٹس ایپ کو نوٹس کیوں جاری کیا گيا

    جواہر لعل نہرو یونیورسٹی تشدد ميں فیس بک، واٹس ایپ کو نوٹس کیوں جاری کیا گيا

    باغی ٹی وی : دہلی ہائی کورٹ نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں 5 جنوری کو ہونے والے تشدد کے معاملے میں فیس بک، گوگل اور واٹس ایپ کو نوٹس جاری کیا ہے۔
    دہلی ہائی کورٹ نے جے این یو تشدد معاملے میں داخل کیے گئے ثبوتوں کو محفوظ رکھنے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران فیس بک، گوگل اور واٹس ایپ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سماعت کے دوران دہلی پولیس نے کہا کہ جے این انتظامیہ کو سی سی ٹی وی فوٹیج کے ساتھ دیگر معلومات دینے کے لیے خط لکھا گیا ہے لیکن جے این یو انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک خط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے تین پروفیسرز کا دعوی ہے کہ ثبوتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی بنیاد پر انہوں نے ایک درخواست داخل کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے دوران کے سی سی ٹی وی فوٹیج، تشدد سے متعلق معلومات اور ثبوتوں کو محفوظ کرنے کے لیے ہدایات جاری کی جائیں۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان واٹس ایپ گروپ کی اطلاعات کو محفوظ کیا جائے جن کے ذریعے حملے کی سازش کو انجام دیا گیا تھا انہیں شک ہے کہ انتظامیہ ثبوتوں کو ضائع کررہی ہے۔جے این یو میں 5 جنوری کے تشدد کے معاملے میں کچھ نقاب پوش لوگوں کی تصدیق کی جارہی ہے لیکن پولیس نے فی الحال کوئی گرفتاری نہیں کی ہے۔

  • جواہر لعل نہرو یونیورسٹی  تشدد : فیس بک، واٹس ایپ کو نوٹس جاری،عدالت مودی سرکار کی زبان بولنے لگی ۔

    جواہر لعل نہرو یونیورسٹی تشدد : فیس بک، واٹس ایپ کو نوٹس جاری،عدالت مودی سرکار کی زبان بولنے لگی ۔

    دہلی :جواہر لعل نہرو یونیورسٹی تشدد ميں فیس بک، واٹس ایپ کو نوٹس جاری کرديا گيا،اطلاعات کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں 5 جنوری کو ہونے والے تشدد کے معاملے میں فیس بک، گوگل اور واٹس ایپ کو نوٹس جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے جے این یو تشدد معاملے میں داخل کیے گئے ثبوتوں کو محفوظ رکھنے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران فیس بک، گوگل اور واٹس ایپ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سماعت کے دوران دہلی پولیس نے کہا کہ جے این انتظامیہ کو سی سی ٹی وی فوٹیج کے ساتھ دیگر معلومات دینے کے لیے خط لکھا گیا ہے لیکن جے این یو انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک خط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

    جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے تین پروفیسرز کا دعوی ہے کہ ثبوتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی بنیاد پر انہوں نے ایک درخواست داخل کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے دوران کے سی سی ٹی وی فوٹیج، تشدد سے متعلق معلومات اور ثبوتوں کو محفوظ کرنے کے لیے ہدایات جاری کی جائیں۔

    ذرائع کے مطابق درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان واٹس ایپ گروپ کی اطلاعات کو محفوظ کیا جائے جن کے ذریعے حملے کی سازش کو انجام دیا گیا تھا انہیں شک ہے کہ انتظامیہ ثبوتوں کو ضائع کررہی ہے۔جے این یو میں 5 جنوری کے تشدد کے معاملے میں کچھ نقاب پوش لوگوں کی تصدیق کی جارہی ہے لیکن پولیس نے فی الحال کوئی گرفتاری نہیں کی ہے۔

  • بھارتی فوجی جب  برف  سے  پھسلا تو کہاں سے  کہاں پہنچ گیا

    بھارتی فوجی جب برف سے پھسلا تو کہاں سے کہاں پہنچ گیا

    بھارتی فوجی جب برف سے پھسلا تو کہاں سے کہاں پہنچ گیا
    باغی ٹی وی: مقبوضہ کشمیر میں گلمرگ کے علاقے میں تعینات بھارتی فوجی برف میں پھسل جانے کے باعث اتفاقی طور پر پاکستان کی حدود میں داخل ہوگیا۔
    بھارتی فوجی اہلکار جس کی شناخت حولدار راجندر سنگھ نیگی کے نام سے ہوئی ہے، مقبوضہ کشمیر کے علاقے گلمرگ میں گشت کی ڈیوٹی پر تھا جب یہ حادثہ پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق راجندر کی بیوی راجیشوری کو یونٹ کا فون آیا جس میں انھیں بتایا گیا کہ راجندر لاپتہ ہے اور وہ شاید پاکستان میں داخل ہوگیا ہے۔ بھارتی اہلکار کے اہل خانہ نے ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کی محفوظ اور جلد واپسی کو یقینی بنائے۔ دہرادون کے امبی والا سائینک کالونی کا رہائشی نیگی 2002 میں 11 گڑھوال رائفلز رجمنٹ میں شامل ہوا تھا۔ وہ اکتوبر میں دہرادون پہنچا تھا اور نومبر میں گلمرگ کے برفیلے علاقے میں تعینات ہوا تھا۔ فوج کے ذرائع نے بتایا کہ حولدار کا پتہ لگانے کے لئے سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اسے بحفاظت واپس لانے میں بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا گڑھوال رجمنٹ کے حولدار راجندر سنگھ نیگی کو تلاش کرنے کے لئے گلمرگ سیکٹر میں بچا وکی کوششیں جاری ہیں ، جو برف میں پھسل گئے تھے۔ سرچ آپریشن جاری ہے۔ برفباری کی شدید سطح اور موسم خراب ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں رکاوٹیں پیش آر ہی ہیں

  • رحیم یار خان۔موٹر سائیکل سوار کو بچانے کی کوشش میں گاڑی عباسیہ نہر میں جا گری

    رحیم یار خان۔موٹر سائیکل سوار کو بچانے کی کوشش میں گاڑی عباسیہ نہر میں جا گری

    رحیم یار خان۔موٹر سائیکل سوار کو بچانے کی کوشش میں گاڑی عباسیہ نہر میں جا گریگاڑی میں فیملی سوار تھی
    تفصیلات کے مطابق چھلاں والے پل سے لیور پل کی جانب جاتے ہوئے لطیف آباد والے چھوٹے پل پر مخالف سمت سے آنے والے تیز رفتار موٹر سائیکل سوار کو بچانے کی کوشش میں گاڑی نہر میں گر گئی۔ سلور کلر کی کورے گاڑی میں ایک فیملی سوار تھی۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔ موقع پر موجود ریسکیو عملے کے مطابق دو بچوں اور ان کے والد کو ہلکی خراشیں آئی ہیں۔محافظ اہلکار اور ریسکیو 1122 نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد دی۔ اور زخمیوں کو شیخ ذید ہسپتال شفٹ کر دیا۔گاڑی کو نہر سے باہر نکالنے کے اقدامات جاری ہیں۔

  • کیا وجہ بنی کہ  مفتی کفایت اللہ کو پارٹی کے عہدے سے معطل کردیا گیا

    کیا وجہ بنی کہ مفتی کفایت اللہ کو پارٹی کے عہدے سے معطل کردیا گیا

    جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مفتی کفایت اللہ کو پارٹی کے عہدے سے معطل کردیا۔

    ترجمان جے یو آئی نے پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مفتی کفایت اللہ کو پارٹی ڈسپلین کی خلاف ورزی پر عارضی طور پر معطل کیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ مفتی کفایت اللہ کی پارٹی رکنیت ختم نہیں کی گئی اور اس سلسلے میں صوبائی جنرل سیکٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
    واضح رہے کہ مفتی کفایت اللہ دھرنے کے دنوں میں ٹی وی شوز پر اپنے خاص انداز گفتگو سے کافی مشہور ہوئےتھے،

  • گجرات.. دارالامان گجرات کڈنی سنٹر کے پاس تعمیر کیا جائے گا.ایم پی اے سلیم سرور جوڑا

    گجرات.. دارالامان گجرات کڈنی سنٹر کے پاس تعمیر کیا جائے گا.ایم پی اے سلیم سرور جوڑا

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے)گجرات.. دارالامان گجرات کڈنی سنٹر کے پاس تعمیر کیا جائے گا. پیچھلے سال پارلیمانی سیکرٹری برائے سوشل ویلفیئر سلیم سرور جوڑا نے گجرات کے لیے دارالامان کی منظوری دی تھی جنکو
    Annual development program 2019-20
    میں شامل کیا گیا تھا. جسکے فورا بعد پناہ گاہ کی عمارت کی تعمیر کا کام عزیز بھٹی شہید ہسپتال کے ساتھ شروع کر دیا گیا تھا. لیکن دارالامان کے لیے شہر میں جگہ نہیں مل رہی تھی لیکن اب کڈنی سنٹر کے پاس یونین کونسل 12 میں جگہ کا انتخاب کر کے منظوری لے لی گئی ہے نقشہ بننے کے بعد چند دنوں میں تعمیر کا آغاز کر دیا جائے گا.
    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں پہلے سال کے 2 منصوبے گجرات شہر کو مبارک ہوں

  • مریم نواز کا نام ایک بار پھر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیوں ہوا

    مریم نواز کا نام ایک بار پھر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیوں ہوا

    مریم نواز کا نام ایک بار پھر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیوں ہوا

    باغی ٹی وی وفاقی حکومت نے پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کا نام ایک بار پھر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی سفارش پر کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دے دی ہے۔

    نیب لاہور نے مریم نواز کا نام چوہدری شوگر ملز تحقیقات کیس میں ای سی ایل پر ڈالنے کی سفارش کی تھی۔اس سے پہلے العزیزیہ اور ایون فیلڈ کیسز میں مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔
    مریم نواز نے نام ای سی ایل سے نکالنے اور پاسپورٹ کی واپسی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔نیب لاہور کی جانب سے وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ نیب کے مطابق مریم نواز ملک سے باہر جانے کے بعد واپس نہیں ائیں گی۔

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    پانچ کمپنیوں میں 19 کروڑ کی منتقلی،حمزہ شہباز نیب کو مطمئن نہ کر سکے

    شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

    حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے خلاف درخواست دائر

    مریم نواز کو والد نواز شریف کی تیمار داری کے لئے ضمانت منظور کی گئی تھی تا ہم نواز شریف لندن جا چکے ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے مریم نواز کی چودھری شوگر ملز میں درخواست ضمانت منظور کی تا ہم عدالت نے فیصلے میں یہ حکم بھی دیا کہ مریم نواز اپنا پاسپورٹ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو جمع کروائیں گے .عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر مریم نواز پاسپورٹ جمع نہیں کروانا چاہتی تو 7 کروڑ روپے زرضمانت جمع کرنا ہو گا ، مریم نواز کا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے مریم پاکستان میں ہیں اور اب وہ لندن جانا چاہتی ہیں

  • عنوان: شہر قائد سیاست کی نذر، تحریر: انشال راؤ

    عنوان: شہر قائد سیاست کی نذر، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: شہر قائد سیاست کی نذر

    حادثاتی طور پر وجود میں آنے والی ایم کیو ایم MQM اپنے پینتیس سالہ دور میں کئی نشیب و فراز سے گزری، بہت سی جماعتوں سے اتحاد بھی کیا اور تقریباً ہر بار ہی حکومت کا حصہ رہی، موجودہ وقت میں شہری سندھ کی نمائندہ جماعت کو تاریخ کے مشکل ترین حالات کا سامنا ہے، اپنے عروج سے زوال تک MQM بہت سے تلخ و شیریں تجربات و مشاہدات سے گزری لیکن طرز سیاست اور روش میں تبدیلی نہ آئی، یہ جماعت جتنی بار بھی حکومتوں کا حصہ بنی ہمیشہ ناراضگی اور اتحاد اس کا خاصا رہا یعنی کہ چھوڑنا چھوڑنی کا کھیل انکی طرز سیاست کا اہم ہتھیار رہا ہے عام طور پر مہاجر حلقوں میں اسے بلیک میلنگ کی سیاست کے نام سے پکارا جاتا ہے جس کا متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت کو ہر سطح پر نقصان ہی نقصان ہوا، اس قسم کے طرز سے فرد یا مخصوص لوگوں کو تو فائدہ ہوجاتا ہے لیکن جماعتی سطح پر اس کے اثرات کبھی مثبت نہ آئے، روایت کے مطابق متحدہ نے ایک بار پھر کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے جو آگے چل کر اتحاد سے علیحدگی کی صورت بھی اختیار کرسکتا ہے لیکن حکومت کے لیے یہ اچانک تغیر شاید زیادہ پریشان کن نہ ہو کیونکہ متحدہ کی روس منائیوں سے کون ہے جو واقف نہیں لیکن اس چھوڑنا چھوڑنی اور آن جان کے کھیل میں نقصان شہر قائد اور اس کے باسیوں کا ہے جن کی مشکلات میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہوجانا ہے اگر موجودہ صورتحال پر غور کیا جائے تو شہر قائد ایک بار پھر ستر کی دہائی میں پہنچ گیا جب مذہبی جماعتیں مہاجر کارڈ کو استعمال کرتی تھیں اور اب PTI سے PPP تک اس کارڈ کو ہتھیانے کے لیے زور آزمائی کررہی ہیں، جس طرح ستر کی دہائی میں بھٹو اور مہاجر دانشوروں کے مابین طے پانے والا فارمولا 60 فیصد دیہی اور 40 فیصد شہری کوٹہ سیاست کی نذر ہوگیا اسی طرح خستہ حال کراچی کی ڈویلپمنٹ کے منصوبے ایک بار پھر سیاست کی نذر ہوگئے، تحریک انصاف کے لارے لپے اور ٹال مٹول نے متحدہ کے لیے شکوک و شبہات کو جنم دیا کہ شاید PTI متحدہ کو کراچی کے منظرنامے سے ہٹاکر اس کی جگہ لینی چاہتی ہے ویسے اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو کچھ کچھ ایسا بھی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اس بداعتمادی کی وجہ سے (جو 1989 میں پیدا ہوئی) آج تک شہری سندھ کو اس کے حقوق سے جبراً محروم کیے آرہی ہے،

    1989 میں بینظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں MQM نے اتحادی ہوتے ہوے مخالف ووٹ دیا اور ساتھ ہی مختلف نعروں کے ساتھ شہری سندھ میں فسادات پھوٹ پڑے تو دیہی سندھ میں وڈیروں کے ہاتھوں بیسیوں لاکھ مہاجروں کو شدید نقصان برداشت کرنا پڑا اور یہ سلسلہ بینظیر حکومت کے خاتمے پہ جا کر تھما، اس کے بعد سے پیپلزپارٹی نے شہری سندھ سے ہمیشہ غیرجمہوری و غیرآئینی سلوک برتا حتیٰ کہ یونیورسٹی جیسے عظیم مطالبے تک کی راہ میں رکاوٹ بنی رہی جس کا درحقیقت نقصان PPP ہی کو پہنچا نہ صرف شہری سندھ میں PPP کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا بلکہ ملک کے سب سے بڑے شہر کی خستہ حالی کا اثر پنجاب و KPK میں PPP کی ساکھ پہ ہوا، اگر پیپلزپارٹی جمہوری تقاضوں کو پورا کرتی تو یقیناً آج صورتحال اس کے برعکس ہوتی جیسا کہ PPP کے لیے شہری علاقوں میں سوچ پائی جاتی ہے، ماضی میں یہی PPP تھی جب جنرل ضیا کے دور میں 1979 میں بلدیاتی الیکشن ہوے تو کراچی سے عوام نے PPP پر بھرپور اعتماد کیا لیکن دو کونسلروں کے اغوا نے PPP کو میئر شپ سے محروم کردیا اور ڈپٹی میئر پر ہی اکتفا کرنا پڑا، اب کراچی میں خلا کو دیکھتے ہوے اور ہر خاص و عام کی تنقید کے بعد سندھ حکومت کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں پہ توجہ دیتی ہوئی نظر آرہی ہے لیکن ابھی مزید کرنے کی ضرورت ہے بلاول بھٹو جو پنجاب پہ خصوصی توجہ دئیے ہوے ہیں وہ اگر اس کا دس فیصد بھی کراچی پر دے دیں اور ایک دو ماہ کراچی میں ڈیرے ڈال لیں تو PPP نہ صرف دیہی سندھ بلکہ شہری علاقوں کی بھی نمائندہ جماعت بن جائے گی کیونکہ PTI کی عدم توجہی اور غیرسنجیدہ روئیے کی وجہ سے اردو اسپیکنگ PTI کو محض نعروں والی جماعت سمجھنے لگے ہیں، MQM جو اپنے قائد سے محروم ہوکر یتیم جماعت بن چکی تھی اب تقسیم در تقسیم در تقسیم کا شکار ہوکر بالکل مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، وڈیرہ شاہی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والی جماعت کے کرتا دھرتا 30 سے 35 سالوں میں وڈیرانہ نظام کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے لیکن خود شہری وڈیرے بن کر بیٹھ گئے اب اپنی چودھراہٹ کو جاتے دیکھ کر اندرون خانہ ایک نیا مہاجر اتحاد قائم کرکے ایک نئی سیاسی جماعت کو کھڑا کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں لیکن افسوس کہ جو سفر 35 سال پہلے مہاجر حقوق کے نام سے شروع کیا آج 35 سال بعد اردو اسپیکنگ کو وہیں لا کر کھڑا کردیا،

    80 کی دہائی میں بھی مہاجر حقوق کا نعرہ تھا آج 2020 میں بھی مہاجر حقوق کا نعرہ ہے اگر کچھ حاصل ہوا تو وہ دو چار درجن افراد کی ہوائی چپل سے شہری وڈیرے کے طور پر ترقی حاصل ہوئی، اگر یہ اتحاد نیا جنم لیکر منظر پر آ بھی جائے تو نقشہ کیا ہوگا وہی شہری دیہی تفریق، وہی لسانیت وہی نفرتیں جس کے اب مزید متحمل نہیں ہوسکتے، اردو اسپیکنگ جو ملک کا سب سے پڑھا لکھا طبقہ تھا اور اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑا ہونا ان کے شعور کی گواہی ہے لیکن ستم بالا ستم نعرہ تھا حقوق کا، نعرہ تھا جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کے خاتمے کا، نعرہ تھا مساوات کا، متوسط طبقے کا لیکن ان کا رخ لسانیت کی طرف موڑ دیا گیا، جدوجہد تو ظالم وڈیروں اور ظالم جاگیرداروں کی اقرباپروری کے خلاف کرنی تھی لیکن نامعلوم راز ہے کہ لڑوایا گیا عام سندھی عام پنجابی و عام پٹھان سے، کبھی ایک بار بھی عملی طور پر اسٹیٹس کو کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا گیا، اور اب ایک بار پھر مہاجر اتحاد کی کوشش نتیجہ کیا نکلنا ہے وہی لسانیت بیشک مہاجر نہ سہی کوئی اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے لسانی تعصب کو ابھار سکتا ہے لہٰذا اب لسانی سیاست اور ایک مخصوص سوچ سے باہر نکل کر قومی سیاست میں قدم رکھا جائے اور موجودہ خستہ حال نظام کے خلاف عملی جدوجہد کی جائے تو یقیناً جلد ہی یہ نیا اتحاد پورے ملک کی سیاست پہ چھا جانے کے ساتھ ساتھ ایک انقلاب ثابت ہوگا، مسائل سب کے یکساں ہیں مشکلات سب کی ایک سی ہی ہیں خواہ دیہی ہوں یا شہری سب ہی اس نظام کے ستائے ہوے ہیں ہر خاص و عام اس نظام سے بیزار ہے عوام بےچین ہے کہ کوئی چنگاری نظر آئے تو وہ آگ بن کر اس ظالم نظام کو راکھ کردے لیکن افسوس کوئی بھی ایسا نہیں جو عوام کے لیے نکلے، کراچی وہ شہر ہے جہاں سے ماضی میں بہت سی تحریکوں نے جنم لیا، کیا ہی اچھا ہو جو ایک بار پھر انقلابی تحریک منبع ثابت ہو۔