Baaghi TV

Author: +9251

  • عربی شہزادے کی آمد،سیکورٹی کےانتہائی سخت انتظامات،آئی جی پنجاب نے اہم احکامات دے دیئے

    عربی شہزادے کی آمد،سیکورٹی کےانتہائی سخت انتظامات،آئی جی پنجاب نے اہم احکامات دے دیئے

    روجھان:آئی جی پنجاب کے حکم اور ڈی پی او راجن پور کی ہدایت پر عرب امارات کے شہزادے کی عربی ٹبہ روجھان کی متوقع آمد پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات مکمل 250 پولیس ملازم سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے،

    باغی ٹی وی کے مطابق آئی جی پنجاب کے حکم اور ڈی پی او راجن پور احسن سیف اللہ خان کی ہدایت پر عرب امارات کے شہزادے کی عربی ٹبہ روجھان آمد پر 250 پولیس ملازمین سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے پنجاب پولیس کے اہلکار عربی کیمپ کے خارجی اور داخلی راستوں اور پہاڑی دروں پر تعنیات سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے

    باغی ٹی وی کےمطابق علاوہ ازیں کمانڈنٹ آفیسر باڈر ملٹری پولیس راجن پور ڈاکٹر منصور احمد خان کی ہدایت ہر بی ایم پی کے اہلکار بھی پنجاب پولیس کے ساتھ ملکر کر سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے واضح رہے کہ اس سلسلے میں کمانڈنٹ آفیسر نے ٹرائیبل ایریا تھانہ بھنڈو والا میں سیکورٹی کی تعیناتی کے مطالق اہم میٹنگ ہوئی تھی

    باغی ٹی وی کے مطابق باڈر ملٹری پولیس کے سنیئر سرکل آفیسر بی ایم پی سردار معظم مسعود مزاری سمیت جملہ سرکل آفیسران، جمعداران، دفعداران اور دیگر ملازمین نے شرکت کی اور فول پروف سیکورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی گئی اسی طرح 170 پولیس اہلکار ایس ایچ او تھانہ عمر کوٹ کرم الہی خان کی قیادت، میں عمرکوٹ میں سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے

  • چکیاں پھلروان خطرناک موڑ کی وجہ سے ایک اور حادثہ

    چکیاں پھلروان خطرناک موڑ کی وجہ سے ایک اور حادثہ

    چکیاں پھلروان خطرناک موڑ کی وجہ سے ایک اور حادثہ جس کی وجہ سے ایک عورت چار بچے اور ڈرائیور شدید زخمی حادثہ ہونے کی وجہ سے گاڑی نہر میں گرگئ

  • ریحام خان کے بعد حریم شاہ ، پی ٹی آئی کے خلاف ایک اور زنانہ  ہتھیار استعمال

    ریحام خان کے بعد حریم شاہ ، پی ٹی آئی کے خلاف ایک اور زنانہ ہتھیار استعمال

    لاہور:ریحام خان کے بعد حریم شاہ ، پی ٹی آئی کے خلاف ایک اورزنانہ ہتھیاراستعمال،باغی ٹی وی کےمطابق حریم شاہ کی ملاقاتیں تونوازشریف زرداری سمیت کئی دیگرپارٹیوں کے سربراہان سے ہوئی مگربدنامی پی ٹی آئی کی ہوئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جس طرح ریحام خان عمران خان کے حرم میں شامل ہوئی اورپھرن لیگ کی پے رول پرکام کرتے ہوئے اپنے ہی خاوند عمران خان کے خلاف وہ زہراگلا جوکسی بھی گئے گزرے معاشرے کی گئی گزرئی خاتون بھی نہیں کرسکتی مگرن لیگ کی شہئہ پرریحام نے یہ سب کچھ ممکن کردکھایا

    ذرائع کےمطابق بالکل اسی طرح حریم شاہ کی ملاقاتیں تونوازشریف ،آصف علی زرداری ،سراج الحق،فاروق ستارسمیت پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات سے ہوئیں‌ لیکن ویڈیوزاورتصاویرصرف پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی وائرل کی جارہی ہیں‌،

    باغی ٹی وی کے ذرائع کےمطابق نوازشریف نے حریم شاہ سے اپنی خفیہ ملاقات میں عمران خان کے خلاف جدوجہدکرنے کی ترغیب دی اوراس ملاقات میں میاں نواز شریف نے حریم شاہ پرنوازشات کی بارش کردی،اسلام آباد اورلاہورمیں بہت قیمتی جائدادیں حریم شاہ کے نام پراسی شخصیت کی کرم نوازی ہے اوراس کے بدلے میں وہ حریم شاہ سے ریحام خان کے مشن کوآگے بڑھارہے ہیں‌

    ذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ حریم شاہ کی مریم نواز سے بھی کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں، ایک ملاقات نوازشریف کی موجودگی میں ہوئی جبکہ باقی ملاقاتیں اسلام آباد میں ہوئیں‌،ذرائع کےمطابق حریم شاہ کو بھی وہی سبق دیا گیا جوریحام خان پڑھایا گیا ،

    باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق مریم نواز کی ملاقات کے چند دن بعد حریم شاہ اورصندل خٹک نےمعروف اینکرمبشرلقمان کے خلاف سوشل میڈیا پربہتان بازی کی ،مگرجب مبشرلقمان نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا تو حریم شاہ نے مبشرلقمان سے نہ صرف معذرت کی بلکہ یہ بھی کہا کہ مبشر لقمان کے خلاف ہم نے جوکچھ بھی کہا وہ سراسرجھوٹ ہے ایک اورمقام پران حریم شاہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان کوکسی اہم شخصیت نے مبشرلقمان کے خلاف یہ ڈرامہ کھیلنے کےلیےٹاسک دیا تھا لیکن انہوں‌نے اس موقع پراس سیاسی شخصیات کا نام سامنے لانے سے انکارکرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس کردار کا نام نہیں بتائیں گیں‌

    ذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ حریم شاہ کی سابق صدراورپاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماآصف علی زرداری سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں لیکن آج تک حریم شاہ نے ان ملاقاتوں کی اندر کی کہانی نہ توبتائی اورنہ ہی کبھی اس کا ذکرکیا سوائے چند ایک مقامات پر .نواز شریف کی طرح آصف علی زرداری نے بھی حریم شاہ پرنظرکرم کی اورنوازشات کی بارش کی

    باغی ٹی وی کے مطابق حریم شاہ کی ملاقاتیں سراج الحق ،فاروق ستارسمیت پاکستان کی دیگربڑی سیاسی جماعتوں کی بڑی شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں‌ لیکن حریم شاہ نے ان ملاقاتوں کے خاص لمحات کا نہ تو کبھی ذکرکیا اور نہ ہی کبھی راز افشاں کیئے ،

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستانی سیاست میں بالکل وہی اندازوہی طریقہ کاراوروہی ذرائع استعمال کیئے جارہے ہیں جوریحام خان کے ذریعے تخت لاہوروالوں نے استعمال کئیے تھے .حریم شاہ بھی پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں سے ان لوگوں کوہدف بنا رکھا ہے جودوسری اپوزیشن جماعتوں کو بہت زیادہ چبتے ہیں اورسب سے زیادہ سیاسی مخالف سمجھے جاتے ہیں‌

    ذرائع کےمطابق عین اس موقع پرجب پاکستان تحریک انصاف کا گراف پھر بڑھنا شروع ہوگیا ہے اوراپوزیشن جماعتوں کی سیاست ناکام ہوتی نظرآرہی ہے اس وقت ،مبشرلقمان جسے شریف فیملی اپنے سیاسی مستقبل کا دشمن سمجھتی ہے اورساتھ ہی عمران خان کے جانی یار کے طورپرن لیگ خیال کرتی ہے پہلے حریم شاہ کے ذریعے ان کوٹارگٹ کرنے کی کوشش کی ،بالکل اسی اندازمیں وزیراعظم پاکستان عمران خان،شیخ رشید احمد ،جہانگیرترین،علیم خان سمیت پاکستان تحریک انصاف کی کئی شخصیات کوسوشل میڈیا کے ذریعے ہدف بنایا گیا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق اس سارے کھیل میں وہی قوتیں شامل ہیں جنہوں نے ریحام خان کواستعمال کیا ،وہی ہتھکنڈے استعمال کئیے گئے جوریحام خان کے ذریعےاستعمال کیئے گئے ،وہی شخصیات ہدف پرجوریحام خان کے نشانے پرتھیں اورسوشل میڈیا اورالیکٹرانک میڈیا کے ذریعے وہی بحث ومباحثہ جوریحام کے دورشرارت میں تھا ،وہ دوربھی گزرگیا یہ بھی گزرجائے گا،جولوگوں کی عزتوں سے کھیلتے ہیں معاشرے میں ان کی عزتیں پامال ہوتی دیکھی ہیں‌

  • کاربم دھماکہ،20 افرادہلاک،درجنوں زخمی

    کاربم دھماکہ،20 افرادہلاک،درجنوں زخمی

    موغادیشو:وفاقی دارالحکومت میں کاربم دھماکے کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد ہلاک اوردرجنوں زخمی ہوگئے ہیں ،یہ ایک ہفتے میں دوسرا دھماکہ ہےجس میں اتنے بڑے پیمانے پرہلاکتیں ہوئی ہیں ،یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ جنوبی علاقے میں جھڑپیں بھی ہورہی ہیں

    موگا دیشوسےپولیس حکام ابراہیم محمدنےدھماکےکی تصدیق کرتےہوئےبتایاکہ دھماکہ اتناشدیدتھا کہ موقع پرہی 20 افرادجان گنواں یٹھےتھےجبکہ زخمیوں اورہلاکتوں کی تعدادمیں اضافےکاخدشہ ہے۔ پولیس حکام کاکہناہےکہ بارودسےبھری کارجنکشن کےقریب ٹیکسیشن آفس سےٹکراگئی جس کے بعد زورداردھماکہ ہوا۔

    عینی شاہد کاکہناہےکہ میں نے دھماکےکےبعد 22 افراد کی لاشیں بکھری دیکھی ہیں اور جائے وقوعہ پر 30 سےزائد افرادزخمی حالت میں موجود تھے ۔موغادیشو کےمئیرعمرمحمد نےمیڈیا سےبات چیت کرتےہوئے بتایا کہ کم ازکم 90 افراد جن میں زیادہ تعداد طالب علموں کی ہےزخمی ہوئے ہیں ۔

    موغا دیشو کی حکومت نےہسپتال انتظامیہ کوماضی کی طرح اموات کی تعداد بتانے سے منع کردیا ہے جبکہ صحافیوں کو بھی جائےحادثہ پرجانےسےروک دیا گیا ہے ۔دوسری جانب اب تک کسی بھی گروپ کی جانب سے حملے کی زمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے ۔ایک اورعینی شاہدجوکہ حادثےکےقریبی جگہ پرموجودتھاکاکہناہےکہ دھماکےکےنتیجےمیں آس پاس کھٹری گاڑیوں کےشیشے بھی ٹوٹ گئےہیں ۔

  • حریم شاہ بڑوں بڑوں کےحرم میں،جاتی ہیں‌”بیٹی”بن کر،دکھاتی ہیں”خاص”بن کرآتی ہیں‌”فتنہ”بن کر

    حریم شاہ بڑوں بڑوں کےحرم میں،جاتی ہیں‌”بیٹی”بن کر،دکھاتی ہیں”خاص”بن کرآتی ہیں‌”فتنہ”بن کر

    لاہور:ٹک ٹاک سٹارحریم شاہ بڑوں بڑوں کے حرم میں جاتی ہیں‌” بیٹی” بن کر،دکھاتی ہیں”خاص”بن کرآتی ہیں‌ "فتنہ”بن کر ،باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان کی ٹک ٹاک سٹارحریم شاہ ایک ایسا فتنہ بن کرابھررہی ہیں‌کہ بڑوں بڑوں کی عزت کوداغ لگانے میں چند لمحے ہی کافی دکھائی دیتے ہیں‌،وہاں وزیروں اور حکمرانوں سے بھی پوچھنا چاہیے کہ ایک لڑکی اس طرح اہم لوگوں اور جگہوں تک رسائی کیسے ہو گئی ؟

     

    https://www.youtube.com/watch?v=_cTIkivcpQE

    باغی ٹی وی کے مطابق حریم شاہ جب بڑوں بڑوں کے حرم میں جاتی ہیں‌ توپہلے "بیٹی "بن کرملنے کی استدعا کرتی ہیں اورجب پہنچ جاتی ہیں توان شخصیات کو اپنا باپ،بھائی سمجھ کران کے ساتھ اپنی یادگارتصویربنوانے میں بڑی تئزی دکھاتی ہیں ،وہی تصویرجوبیٹی بن کربنواتی ہیں میڈیا پران کواستعمال کرتے ہوئے منہ بولے باپ اوربھائی کی تذلیل کا باعث بنتی ہیں

     

     

    باغی ٹی وی کے مطابق حریم شاہ نے اس ملک کے بڑوں بڑوں کی عزت کو داوپرلگا دیا ہے، دیکھا جائے تو ملک کے وزیراعظم سے لے کروزیرخارجہ تک اس حریم شاہ کی حرکتوں کی نذرہوگئے ہیں،ملک کے بڑے بڑے مقتدراداروں میں جس طرح حریم شاہ نے جاکراپنی برتری ثابت کی ہے اس سے ناں صرف اداروں کی بدنامی ہوئی بلکہ اداروں کے سربراہوں کوبھی اس فتنہ کوزندہ رکھنے میں ذمہ دارقراردیا گیا

    حریم شاہ نوازشریف دوسے زیادہ مرتبہ ملاقات کرنے کا دعویٰ کرنے والی ایم کیوایم کے فاروق ستار سے بھی ملاقات کرچکی ہیں، اس کے علاوہ وہ عمران خان  سے ملاقات کرچکی ہیں ،حریم شاہ کی آصف علی زرداری سے بھی پہلے دو اہم ملاقاتیں ہوچکیں ہیں،

     

    تازہ واقعہ میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی سوشل میڈیا پر مقبول ٹک ٹاک گرلز کے ساتھ مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ ویڈیو میں ٹک ٹاک گرلز کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آپ ویڈیو پر غلط قسم کی حرکتیں کرتے تھے، مجھے ننگا ہو کر دکھاتے تھے۔

    گذشتہ روز سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ان ٹک ٹاک گرلز کو وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید احمد کے ساتھ ویڈیو چیٹ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں صندل خٹک ہے جب کہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں موجود لڑکی حریم شاہ ہے۔ایک ویڈیو میں صندل خٹک اور شیخ رشید فون پر بات کر رہے ہیں۔ شیخ رشید کہتے ہیں کہ میں اس وقت جنازے پر ہوں میری بھتیجی فوت گئی ہے میں صبح بات کروں گا۔

     

    چند دن قبل جب شیخ رشید سے متعلق حریم شاہ نے ایک ویڈیوشیئرکرتے ہوئے ان کوبدنام کرنے کی کوشش کی تواس پرپی ٹی آئی کے ورکروں کی طرف سے سخت ردعمل آیا جس پرحریم شاہ نے یہ کہتے ہوئے کہا کہ غصہ نہ دلائیے، یہ نہ ہو کہ خان صاحب کی بھی ویڈیو لگا دوں۔

    حریم شاہ نے ایک ٹویٹ میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے سوشل میڈیا حامیوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے ان کے خلاف پوسٹیں لگانا بند نہ کیں تو وہ ’خان صاحب‘ کی ویڈیو بھی جاری کر دیں گی۔ تاہم حریم نے فوراً یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی۔سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ یہاں خان صاحب سے مراد وزیرِ اعظم عمران خان ہیں۔

     

    دوسری طرف ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے دفتر خارجہ میں ویڈیو بنا کر کوئی منفرد کام نہیں کیا۔حریم شاہ کا کہنا ہے کہ ’میں تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملنے گئی تھی جو میرے لیے والد کی طرح ہیں۔ وہاں جانے کے لیے باقاعدہ اجازت لی، تمام ضروری کارروائی مکمل کی لیکن ان سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔‘

    حریم شاہ کا یہ بھی کہنا ہےکہ انہیں وزارت خارجہ میں داخل ہونے کی اجازت کس نے لے کر دی اس کا نام نہیں لوں گی۔ ایک خالی کمرے میں ویڈیو بنا کر کچھ غلط نہیں کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سیاسی شخصیات تک ان کی پہنچ محض اس وجہ سے ہے کہ وہ ان سے ملنے کا شوق رکھتی ہیں۔ ارادہ کرتی ہوں تو ان کی ملاقات ہو جاتی ہے۔‘

    دوسری طرف ٹک ٹاک سٹارحریم شاہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ ویڈیو انھوں نے دفتر خارجہ کے کانفرنس روم میں بنائی تھی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو بنا کر ان کا مقصد کسی کی تذلیل کرنا نہیں تھا۔ ’اس کمرے میں تمام کرسیاں خالی تھیں اس لیے میں وہاں بیٹھ گئی۔‘

    حریم کا مزید کہنا ہے کہ سوشل میڈیا صارفین ’میری حالیہ ویڈیو پر بلاوجہ مسئلہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی بنی گالہ، پی ایم آفس اور عمران خان کے ساتھ میری تصاویر بنی ہوئی ہیں اس لیے اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے‘۔جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’حریم کا وزیرِ اعظم کی کرسی پر بیٹھنا غلط ہے‘۔

    (ن) لیگ کے رکن اسمبلی کا حریم شاہ کے ساتھ رقص کی ویڈیو منظرعام پر آگئی اور آتے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مقامی ہوٹل میں ایک رقص کی محفل ہے جس میں حریم شاہ گلوکاروں کے گانوں پر محو رقص ہیں اور رکن اسمبلی ان کے ساتھ رقص میں مصروف ہیں اور اس دوران محمد امین کے دوست حریم شاہ پر پیسے لٹاتے رہے۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=aNil5ziYUTE

    سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی تصاویرکےبارے میں حریم شاہ نے کہا کہ ’عمران خان سے ملاقات کی تصویریں ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے کی ہیں۔ حریم شاہ نے کہا کہ انھیں میڈیا میں خود پر ہونے والی تنقید کی پرواہ نہیں تاہم بنا کچھ سوچے سمجھے کسی کو کسی کے ساتھ جوڑ دینا مناسب نہیں۔‘

    یاد رہے کہ حریم شاہ اُس وقت میڈیا کی خبروں کی زینت بنی تھیں جب انہوں نے اپنی دوست صندل خٹک کے ساتھ سینیئر صحافی مبشر لقمان کےجہاز تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں اورجہاز میں ٹک ٹاک ویڈیو بنائی تھی۔

    اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مبشر لقمان نے ان دونوں ماڈلز کے خلاف قانوی چارہ جوئی کی توحریم شاہ اورصندل خٹک نےمعذرت کرتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کی اورمانا کہ مبشرلقمان کی شخصیت کے بارے میں جوکچھ ہم نے کہا وہ کسی کے کہنے پرکیا ،جبکہ حقیقت یہ ہےکہ مبشرلقمان ایک بہت ہی اچھے انسان ہیں

     

    https://www.youtube.com/watch?v=QJvZyAE3hOM

    یہ بات بھی یاد رہےکہ اس سے پہلے ونوں ٹاک ٹاک سٹارز کی ویڈیو اور تصاویر پنجاب کے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے ساتھ بھی سامنے آئی تھیں۔ٹک ٹاک گرل حریم شاہ اہم سیاسی شخصیات کے ساتھ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر چکی ہیں

    ٹک ٹاک نامی ایپلیکیشن سے مشہور ہونے والی حریم شاہ کی ایک اور متنازع ویڈیو سامنے آئی ہے، ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ٹک ٹاک گرل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

     

    ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنا تعارف ’ٹِک ٹاک کوئین‘ کے نام سے کروانے والی حریم شاہ وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا پر نظر آتی رہتی ہیں۔ حریم شاہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو شئیر کی ہے جس میں ان کو سوشل میڈیا اور بعد میں نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ‘جیتو پاکستان’ سے شہرت حاصل کرنے والے بچے احمد شاہ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

    خود کو ٹک ٹاک کوئین کہنے والی حریم شاہ نے احمد شاہ کے ساتھ ایک ویڈیو بنائی ہے جسے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘احمد کے ساتھ کل ویڈیو بنائی کتنا شرارتی بچا ہے پر اتنا ہی پیارا بھی ہے’۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حریم شاہ چھوٹے بچے کو نازیبا انداز میں بوسہ دے رہی ہیں۔ اخلاقی طور پر بچوں کو بھینچ بھینچ کر پیار کرنا، ان کے بے تحاشا بوسے لینا صحیح نہیں۔ بچوں کے ساتھ اس طرح کا اظہار محبت ان کے استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔ بدقسمتی سے ننھے احمد شاہ کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے، لیکن وہ احتجاج بھی نہیں کر سکتا۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=auyZeVjz9c8

    حریم شاہ پہلے بھی سوشل میڈیا پر متنازع ویڈیو اپلوڈ کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ حریم شاہ سوشل میڈیا پر لائکس اور فالوورز کے لئے اس طرح کی حرکتیں کرتی رہتی ہیں۔ دفتر خارجہ سے لے کر سرعام ہوائی فائرنگ کرنے تک کے مناظر عکس بند کر کے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کے باوجود ٹک ٹاک گرل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی

    https://www.youtube.com/watch?v=9MY4REy3V3g

    یاد رہے کہ ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کے پرتعیش لائف سٹائل پر بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ایک نجی چینل کے پروگرام میں حریم شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے بہترین علاقوں میں گھر بھی ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ حریم شاہ کے پاس اس کےعلاوہ بھی بہت سی جائیداد ہے

    لیکن عوامی حلقوں کا یہ کہنا ہےکہ حریم شاہ کا کوئی کاروبارنہیں وہ ٹک ٹاک کے ذریعے بلیک میلنگ کرتی ہیں اوریوں بلیک میلنگ سے اتنی زیادہ جمع پونجی اکٹھی کرچکی ہیں اس کا بھی آڈٹ ہونا چاہیے .نیب کوپتہ لگانا چاہیے کہ اس کے ذرائع آمدن کیا ہیں‌

    دفتر خارجہ میں ویڈیو بنانے والی متنازع ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ نے بھی حراسانی کے الزامات عائد کرکے ”می ٹو” میں شمولیت اختیار کرکے اپنے آپ کومشہورکرنے کا ایک نیا ذریعہ بنایا

    سٹار حریم شاہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی ،جس میں انھو ں نے الزام عائد کیا ہے کہ انھیں ایک تقریب کے دوران حراساں کیا گیا۔ اپنے ٹویٹ میں حریم شاہ نے خود کو حراساں کرنے والے افراد کو شرم سے عاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیسے کیسے بے شرم لوگ ہیں اس دنیا میں، اس کے ساتھ ہی انھوں نے می ٹو کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

    اس کے علاوہ اپنے ایک انٹرویو میں حریم شاہ نے کہا کہ ایک تقریب کے دوران چند لوگوں نے انہیں نامناسب انداز میں چھوا اور انہیں حراساں کیا گیا۔ چاہے آپ عام خاتون ہیں، ٹک ٹاک اسٹاریا کوئی مشہور شخصیت، جنسی حراسانی کسی صورت قابل قبول نہیں اورافسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں جنسی حراسانی کے خلاف کوئی مؤثرقانون سازی نہیں۔

    یاد رہے کہ حریم شاہ نے بڑے بڑے لوگوں کے حرم میں داخل ہوکرانہیں بدنام کرنےکی کوشش کی لیکن ہرموقع پربدنام ہوئی .بعض ذمہ دار ذرائع کے مطابق حریم شاہ کا کراچی کے واقعہ کا ذکر کرنا کے اس کے ساتھ چند لوگوں نے جنسی زیادتی کی تھی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ حریم شاہ کراچی جن لوگوں کے پاس جارہی تھی ان کو اس بات کی خبر ہوگئی کہ حریم شاہ ان کو بلیک میل کرنےکےلیے کچھ پوزبنوانے آرہی ہےتوپھر جوابی کارروائی میں اس گروہ نے اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی

    ذرائع کےمطابق اس موقع پرحریم شاہ نے اپنے منصوبے کا اعتراف بھی کیا تھا کہ وہ واقعی کچھ مناظر کی عکس بندی کے لیے یہاں پہنچی تھی ،یہی وجہ ہے کہ حریم شاہ اپنے ان آشناوں کا نام نہیں لیتی اورصرف اتنا اظہار کرتی ہےکہ اس کے ساتھ جنسی ہراسگی کی گئی

    یہ بھی یاد رہےکہ آج کل جو تصاویر سوشل میڈیا پرشیئر کی جارہی ہیں ان میں عمران خان کے ساتھ حریم شاہ کی تصویر ہے، جس کے بارے میں حریم شاہ کا کہنا ہےکہ یہ وزارت عظمیٰ کے دور سے پہلے کی ہے اوریہ تصویر ایک پارٹ اجلاس کے دوران لی گئی،اس کے علاوہ تازہ واقعہ میں شیخ رشید کے ساتھ تصاویری سکینڈل جو ان دنوں سوشل میڈیا مقبول ہے،

    باغی ٹی وی کےمطابق حریم شاہ کی جہانگیرترین،شاہ محمود قریشی،علیم خان،اورفیاض الحسن چوہان سمیت کئی اہم سیاسی رہنماوں کے ساتھ وائرل ہوئی ہیں جس کی وجہ سے آج کل سوشل میڈیا پرایک بھونچال آیا ہوا ہے

  • گجرات پولیس کاغنڈہ طالب علم گروپوں کے خلاف آپریشن جاری،

    گجرات پولیس کاغنڈہ طالب علم گروپوں کے خلاف آپریشن جاری،

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے) پولیس کاغنڈہ طالب علم گروپوں کے خلاف آپریشن جاری،
    پنڈی حسنہ کے قریب فائرنگ،لڑائی جھگڑا اور توڑ پھوڑ کرنے والے دو گروپوں کے15ملزمان گرفتار
    قانون شکن طالب علم گروپوں کے خلاف بلا امتیاز سخت ایکشن لیا جائے گا،،ڈی پی او توصیف حیدر
    تفصیلات کے مطابق گجرات کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹی کے غنڈہ طالب علم گروپوں کے خلاف گجرات پولیس نے آپریشن تیز کر دیا ہے۔ ڈی پی او گجرات توصیف حیدر نے ان پرتشدد گروپوں کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی ریاض الحق کی زیر نگرانی ایس ایچ او تھانہ صدر گجرات محمد اسلم،ASIشرجیل اسلم اور ASIفیض احمد کو خصوصی ٹاسک دے رکھا ہے کہ ان گروپوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ خوف و ہراس پھیلاکر زیور تعلیم سے آراستہ ہونے کے لئے آنے والے دیگر طالب علموں کی ایسے غنڈہ گروپوں سے جان چھڑائی جائے۔ڈی پی او گجرات کی ہدائیت پر پولیس ٹیم نے خصوصی آپریشن کے دوران دو گروپوں کے 15ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے ڈنڈے سوٹے اور 6پسٹل 30بور برآمد کرلئے۔گرفتار ملزمان میں امیر حمزہ سکنہ دھول چوپالہ،عنصر بیگ سکنہ شیخ چوگانی،جابر علی سکنہ دھول،وقار آصف،ذیشان فیاض،محمد یسین سکنائے جلالپورجٹاں،فضل عثمان سکنہ چک کالا،ولید ناصر سکنہ النبی کالونی گجرات،جمشید اقبال،امیر حمزہ اور فخر سجاد سکنائے جیوونجل،سفیان لیاقت سکنہ حافظ حیات،اویس علی سکنہ رسولپور،عبدالرحمن سکنہ نوشہرہ میانہ،سمیع اللہ ظفر سکنہ کالو وال شامل ہیں۔ گزشتہ روز پنڈی حسنہ کے قریب دو گروپوں کے چالیس سے زائد طالب علم لڑائی جھگڑا اور اسلحہ سے لیس ہوکر فائرنگ کررہے تھے۔جنہوں نے اس دوران پولیس ملازم کے موٹر سائیکل کوبھی ڈنڈوں سے نقصان پہنچایا۔قانون شکن 21طالب علموں کے خلاف تھانہ صدر گجرات میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور بقیہ ملزمان کے خلاف مختلف جگہوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔جنہیں جلد گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
    ڈی پی او گجرات توصیف حیدر نے کہا ہے کہ ضلع کا امن وامان خراب کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجاز ت نہیں دی جائے گی۔والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں کہ تعلیم حاصل کرنے کی بجائے ان کے بچے تشدد،لڑائی جھگڑے جیسی غیر قانونی کارستانیاں کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ایسے تمام گروپوں کے خلاف بلا تفریق قانونی کارروائی کی جائے گی جو تشدد اور خوف و ہراس پھیلانے جیسی وارداتوں میں ملوث ہیں۔

  • ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سرگودہا کے انتخابات التواء کا شکار

    ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سرگودہا کے انتخابات التواء کا شکار

    سرگودہا(عمیر ضیاء)ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سرگودھا کے انتخابات میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا مرحلہ طوالت اختیار کر گیا۔ انتخابات 11 جنوری کو منعقد ہونگے۔
    بار کے سینئر رکن اشفاق احمد سیال ایڈووکیٹ نے امیدوار برائے صدارت خرم اقبال بسراء اور جنرل سیکریٹری کے امیدوار میاں شمس الحق سپراء نے اپنے مدمقابل علی حسن چیمہ کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات داخل کردیے۔
    اشفاق احمد سیال ایڈووکیٹ نے اعتراضات اپنے وکیل ذیشان احمد اعوان ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کیے جبکہ میاں شمس الحسن سپراء نے بذات خود اعتراضات دائر کیے
    اعتراضات الیکشن بورڈ کے روبرو دائر کیے گئے۔ الیکشن بورڈ نے خرم اقبال بسراء کے خلاف اعتراضات پر خرم اقبال بسراء، ڈسٹرکٹ بار انتظامیہ، سال 2014 سے سال 2018 تک رہنے والے تمام سابقہ بار صدور اور الیکشن بورڈ 2018 کے چیئرمین جبکہ علی حسن چیمہ کے خلاف اعتراضات پر امیدوار علی حسن چیمہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
    خرم اقبال بسراء پر اعتراض کیا گیا ہے کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں حقائق کے منافی بیان حلفی جمع کروایا، وہ 2012 میں چیمبرز فنڈ خردبرد کی انکوائری میں الزام ثابت ہونے پر تھانہ کینٹ میں پنجاب بار کونسل کے حکم پر درج مقدمہ نمبر 136/2014 بجرم 406 ت پ میں نامزد ملزم ہیں جبکہ ان پر ان کے اپنےحقیقی والد پر جائیداد کے تنازعے پر جان لیوا تشدد کا بھی مقدمہ سیشن جج سرگودھا کی عدالت میں زیر سماعت رہا۔ اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ خرم اقبال بسراء اور بار ایسوسی ایشن کا مفاد متنازعہ ہے لہذا وہ بار صدارت کے اہل نہیں۔
    جنرل سیکریٹری کے امیدوار علی حسن چیمہ کے خلاف اعتراض داخل کیا گیا ہے کہ جنرل سیکریٹری کے لیے سات سال مسلسل وکالت کا تجربہ درکار ہے جبکہ علی حسن چیمہ کا کل تجربہ محض پانچ سال ہے لہذا وہ اس منصب کے لیے امیدوار بننے کے اہل نہیں۔
    چیئرمین ظہور ندیم، ممبران راجہ انیس اکبر اور رانا عبد الرؤف پر مشتمل الیکشن بورڈ 30 دسمبر کو اعتراضات کی سماعت کرے گا۔

  • شام میں پھرخون اورآگ کی ہولی شروع،ادلب میں لڑائی، دو لاکھ سے زائد افراد فرار ہونے پر مجبور

    شام میں پھرخون اورآگ کی ہولی شروع،ادلب میں لڑائی، دو لاکھ سے زائد افراد فرار ہونے پر مجبور

    دمشق:شام میں پھرخون اورآگ کی ہولی شروع،ادلب میں لڑائی، دو لاکھ سے زائد افراد فرار ہونے پر مجبور،اطلاعات کےمطابق شامی ریجن ادلب میں جاری جنگی صورتحال کے نتیجے میں وہاں سے سوا دو لاکھ سے زائد افراد فرار ہو چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ذرائع کےمطابق بارہ تا پچیس دسمبر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ادلب سے فرار ہوئی جبکہ جنوبی ادلب میں واقع معرة النعمان نامی شہر بالکل خالی ہو چکا ہے۔لوگ خوف کے مارے محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کررہےہیں،

    یاد رہےکہ اس علاقے کو شام میں اپوزیشن کا آخری گڑھ قرار دیا جاتا ہے۔ شامی اور روسی فورسز اس علاقے میں عسکری کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے انسانی بحرانی صورتحال کے خطرات سے بھی خبردار کیا جا چکا ہے

  • مسلم مخالف متنازع قانون کیخلاف احتجاج، نئی دلی میں خواتین کا دھرنا

    مسلم مخالف متنازع قانون کیخلاف احتجاج، نئی دلی میں خواتین کا دھرنا

    نئی دہلی :متنازع قانون کیخلاف احتجاج، نئی دلی میں خواتین کا دھرنا،اطلاعات کےمطابق بھارت میں شہریت سے متعلق متنازع قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف نئی دلی میں خواتین 15 دسمبر سے دھرنا دیئے بیٹھی ہیں۔دوسری طرف بھارتی ریاست کیرالہ میں فٹ بال میچ کے دوران آزادی کے نعرے لگ گئے،

    اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بھارتی وزیراعظم کو جھوٹا قرار دے دیا۔ مودی نے دو روز قبل کہا تھا کہ ملک میں کوئی حراستی مرکز نہیں ہے۔بھارتی دارالحکومت نئی دلی متنازع قانون کے خلاف احتجاج کا مرکز بنا ہواہے،

    نئی دلی کے شاہین باغ میں خواتین 15دسمبر سے 24 گھنٹے دھرنے پر بیٹھی ہیں، آسام میں مسلمانوں کے ساتھ ہوئے مظالم پر خواتین خوفزدہ ہیں، دن رات جاری دھرنے میں خواتین دلی کے سرد موسم میں اپنے چھوٹے بچوں کو بھی ساتھ لیے بیٹھی ہیں۔

    اتر پردیش کی بنارس ہندو یونیورسٹی اور اس سے منسلک کالجوں کے 51 پروفیسروں نے متنازع قانون کے خلاف دستخط مہم شروع کردی ہے، یونیورسٹی کے طالب علموں کی گرفتاری کے بعدپروفیسروں نے یہ اقدام اٹھایا۔کیرالہ میں اس قانون کے خلاف فٹ بال میچ کے دوران آزادی کے نعرے گونج اٹھے۔کیرالہ میں مسیحی برادری نے ٹوپیاں اور لڑکیوں نے سروں پر حجاب پہن کر مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

  • برطانوی شہری نے 52 برس بعد ایمانداری کی مثال کر دی

    برطانوی شہری نے 52 برس بعد ایمانداری کی مثال کر دی

    لندن :دنیا میں آج بھی بہت سے لوگ موجود ہیں جواعلیٰ اوراچھی صفات کے مالک ہیں. ایمانداری کے پیکرہیں، ویسے توبہت سے واقعات بیان کیے جاتے ہیں مگرتازہ واقعہ میں ایک برطانوی شہری نے ایمانداری کی مثال کر دی، 52 برس قبل لائبریری سے لی گئی کتاب جرمانے کیساتھ لائبریری انتظامیہ کو لوٹا دی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک شخص نے 1967 میں لائبریری سے لی گئی کتاب 52 سال بعد جرمانے کی رقم کے چیک سمیت لائبریری میں دوبارہ جمع کروا دی۔اس شخص نے نہ صرف کتاب واپس کی بلکہ معذرت بھی کی .

    دوسری طرف لائبریری کے منیجر کا کہنا تھا کہ قاری کئی برس کتاب اپنے پاس رکھنے پر شرمندہ تھا اور اس نے 52 سال بعد کتاب لائبریری کو لوٹاتے ہوئے 100 پاؤنڈ کا چیک بھی بطور جرمانہ دیا، اس کتاب پر 1967 میں جاری کئے جانے کی مہر ثبت ہے۔