Baaghi TV

Author: +9251

  • متعصبانہ،بغض سےبھرافیصلہ،جج وقارسیٹھ کےخلاف سپریم جوڈیشیل کونسل میں ریفرنس کا فیصلہ

    متعصبانہ،بغض سےبھرافیصلہ،جج وقارسیٹھ کےخلاف سپریم جوڈیشیل کونسل میں ریفرنس کا فیصلہ

    اسلام آباد:مشرف کے خلاف متعصبانہ اوربغض سے بھرافیصلہ، جج وقارسیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشیل کونسل میں ریفرنس دائرکرنے کا فیصلہ ،اس غیرقانونی ،غیرانسانی اورغیراسلامی فیصلے کے پرماہرین قانون نے بھی چیخ اٹھے،حکومت بہت جلد ااس جج کی ذہنی ، قانونی کیفیت کوسپریم جوڈیشیل کونسل میں پیش کرے گی

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں ایک اہم اجلاس جاری ہے اورتازہ ترین اطلاعات کےمطابق خصوصی عدالت کے جج کے اس فیصلے کے خلاف معاملے کوسپریم جوڈیشیل کونسل میں لے جانے کا فیصلہ کیاگیا ہے،

    ذرائع کےمطابق جج سیٹھ وقارکے بارے میں اہم معلومات ملی ہیں‌ کہ یہ فیصلہ انہوں نے کسی کی ڈکٹیشن پرلکھوایا ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اجلاس میں یہ بھی معاملہ زیربحث آیا ہےکہ سابق صدرجنرل پرویزمشرف کوڈی چوک میں تین دن تک لٹکانے اورگھسیٹ کرلانے پرنہ صرف فوج میں سخت غیض وغضب پایا جارہا ہے بلکہ آئینی اورقانونی ماہرین کا بھی کہناہےکہ جج کی ذہنی حالت کا جائزہ لینا چاہیے اوران کرداروں کا پتہ لگانا چاہیے جنہوں نے خصوصی عدالت پراثرانداز ہوکر اس غیرانسانی فیصلے کوکروایا ہے

  • پرویز مشرف کی سزائےموت پر رحم کی اپیل صدر پاکستان  کو ارسال

    پرویز مشرف کی سزائےموت پر رحم کی اپیل صدر پاکستان کو ارسال

    پرویز مشرف کی سزائےموت پر رحم کی اپیل صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پرویز مشرف کی سزائےموت پر رحم کی اپیل صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کر دی گئی ہے۔ رحم کی اپیل ایڈووکیٹ شاہ جہان خان نے ارسال کی جس میں کہا گیا کہ خصوصی عدالت نے سابق صدر کو غیرقانونی طریقے سے سزا دی اور انہیں شفاف کا ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔

    اپیل میں لکھا ہے کہ پرویز مشرف اس وقت علیل ہیں، اس دوران اگر سزا پر عمل در آمد ہوا تو یہ بدنما داغ ہوگا۔
    انہوں نے لکھا کہ پرویز مشرف کو قائد اعظم ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر کے پاس اختیار ہے کہ عدالت کیجانب سے سزا کو معطل کر سکتے ہیں۔اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ پرویز مشرف کی ملک و قوم کی خدمات کے عوض عدالتی سزاپر عمل درآمد روکا جائے۔ رحم کی اپیل پر فیصلہ دیتے ہوئے سزا پر عمل در امد روکا جائے۔
    واضح‌رہے کہ مشرف کے خلاف فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اور ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔ جس کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ میں سے دو ججز نے سزائے موت کے فیصلے کی حمایت جبکہ ایک جج نے اختلاف کیا تھا۔

    یاد رہے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو 17 دسمبر کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ دو ایک سے سنایا گیا اکثریتی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس شاہد فضل کریم نے دیا جبکہ جسٹس نذر محمد نے سزائے موت کے اس فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

  • انصاف کا خون      ، تحریر : سید زید زمان حامد

    انصاف کا خون ، تحریر : سید زید زمان حامد

    انصاف کا خون ، تحریر : سید زید زمان حامد

    سیانے کہتے ہیں کہ اگراپنی صفوں میں غداروں کو تلاش کرنا ہو تو یہ دیکھیں کہ عین میدان جنگ میں اپنی ہی فوج کے خلاف کون کارروائیاں کررہا ہے، کون حملے کررہا ہے، کون اس کے حوصلے پست کررہا ہے، کون پیٹھ میں خنجر مار رہا ہے۔۔۔۔غدار کی صرف یہی نشانی ہے۔۔۔!

    یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی دن بھارتی مشرک پاکستان پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ کشمیر آتش فشاں بنا ہوا ہے، پورا ہند احتجاج کی آگ میں تہہ و بالا ہورہا ہے اور ہندو صیہونی آزاد کشمیر اور پاکستان پر حملے کیلئے تلواریں تیز کرچکے ہیں۔ ایسے میں مشرف فیصلے سے پوری فوج کو غدار قرار دینا کس قسم کی بے شرمی ہے۔۔۔؟

    یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں افتخار چوہدری جیسے ناپاک اور پلید، خوارج کے حمایتی جج موجود ہیں، کہ جن کی کیاری وہ خود لگا کر گیا تھا۔ مشرف فیصلے نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان پر ”عدالتی دہشت گردی“ بھی حملہ آور ہے۔ معاشی دہشت گرد، خوارج دہشت گرد اور ابلاغی دہشت گرد ہی کیا کم تھے کہ اب ایک نئی مصیبت ”قانونی دہشت گرد“ بھی پیدا ہوگئے، چاہے وکیلوں کی شکل میں ہوں یا ججوں کی۔

    یہ فیصلہ مشرف کے خلاف نہیں ۔۔۔ پوری پاک فوج اور ریاست پاکستان کے خلاف ہے!
    ذرا ان دو ججوں کی تحقیق تو کریں، کیا پس منظر ہے ان کا، کیا ماضی ہے، کیا کردار رہا ہے، کن کن دہشت گرد تنظیموں کے لیے یہ ”مسیحا“ بنے رہے ہیں، کتنے دہشت گردوں کو انہوں نے رہا کیا ہے، خوارج اور پی ٹی ایم سے ان کا کیا تعلق ہے۔۔۔سب کچھ سامنے آجائے گا۔۔۔!

    مشرف کیس کے شرمناک عدالتی فیصلے کے بعد اب عمران اور جنرل باجوہ کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ پاکستان کے اندر موجود غداروں اور خائنوں کو بہت ز یادہ ڈھیل دینے کا نتیجہ اب یہ نکلا ہے کہ عین میدان جنگ میں پوری پاک فوج کو ہی بے عزت کرنے کی سازش کی گئی ہے، حوصلہ پست کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    ایک ریاستی ادارے کی جانب سے پاک فوج کو غدار قرار دینا اور اپنے ان تمام ججوں کو بری کردینا کہ جنہوں نے جنرل مشرف کے تمام اعمال کو ”قانونی تحفظ“ فراہم کیا، نہ صرف بدنیتی ہے بلکہ بے شرمی اور بذات خود غداری ہے۔

    اب ججوں کا بھی احتساب ہونا لازم ہے، اور فوج کرے گی۔۔۔!

  • پرویز مشرف اور پاک فوج سے اظہار یکجہتی کے لئے ملک بھر میں مظاہرے

    پرویز مشرف اور پاک فوج سے اظہار یکجہتی کے لئے ملک بھر میں مظاہرے

    پرویز مشرف اور پاک فوج سے اظہار یکجہتی کے لئے ملک بھر میں مظاہرے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پرویز مشرف سے اظہار یکجہتی کے لئے لاہور، کوئٹہ، وہاڑی، صادق آباد، تھرپارکر، ضلع خیبر سمیت کئی شہروں میں ریلیاں نکالیں گئیں، مظاہرین نے پاک فوج کے زندہ باد کے نعرے لگائے۔
    پاک فوج سے محبت اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے عوامی پاسبان اور عوامی رکشہ یونین نے ریلی نکالی، لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، فضا پاک فوج زندہ باد کے نعرے سے گونجتی رہی۔

    عوامی پاسبان اور عوامی رکشہ یونین نے لاہور پریس کلب کے باہر ریلی کا اہتمام کیا، ریلی کی قیادت صدر عوامی رکشہ یونین مجید غوری نے کی، ریلی میں رکشہ ڈرائیورز نے بڑی تعداد میں شرکت کی، شرکاء نے پاک فوج زندہ باد کے نعرے بلند کیے اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے بینرز لہراتے رہے۔

    صدر عوامی رکشہ یونین مجید غوری نے کہا کہ ریلی پاک فوج سے اظہار محبت کے لئے نکالی، سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، اداروں میں تصادم کی جو فضا قائم ہے اس کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ عوامی رکشہ یونین کی جانب سے شہر بھر میں استحکام پاکستان ریلیاں نکالنے کا اعلان بھی کیا گیا۔
    واضح‌رہے کہ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اور ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔ جس کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ میں سے دو ججز نے سزائے موت کے فیصلے کی حمایت جبکہ ایک جج نے اختلاف کیا تھا۔

    یاد رہے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو 17 دسمبر کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ دو ایک سے سنایا گیا اکثریتی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس شاہد فضل کریم نے دیا جبکہ جسٹس نذر محمد نے سزائے موت کے اس فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

  • کراچی ٹیسٹ: گرین شرٹس 191 رنز پر ڈھیر

    کراچی ٹیسٹ: گرین شرٹس 191 رنز پر ڈھیر

    کراچی ٹیسٹ: قومی ٹیم 191 رنز پر ڈھیر

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے مابین نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز چائے کے وقفے تک پاکستان نے 5 وکٹوں پر 171 رنز بنا لیے۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے مابین دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے مہمان ٹیم کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، چائے کے وقفے تک پاکستان نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر ایک سو اکھتر رنز بنا لیے ہیں۔

    کھانے کے وقفے سے قبل شان مسعود 5، کپتان اظہر علی صفر اور عابد علی 38 رنز بنا کر پویلین لوٹ چکے تھے، جب کہ اسد شفیق ایک اور بابر اعظم 27 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔ کھانے کے وقفے کے بعد دوسرا سیشن شروع ہوا تو قومی بیٹنگ لائن سنبھل نہ سکی، پاکستان کی چوتھی وکٹ 127 رنز پر گر گئی، بابر اعظم 60 رنز پر ہمت ہار گئے، حارث سہیل کا فلاپ شو بھی جاری رہا، وہ 9 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، سری لنکا کی طرف سے وشوا فرنینڈو اور امبل دینیا نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔
    قومی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے اور بیمار عثمان شنواری کی جگہ یاسر شاہ کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔

    سری لنکن ٹیم میں بھی ایک تبدیلی کی گئی ہے اور زخمی کسن رجیتھا کی جگہ لیفٹ آرم اسپنر لستھ امبلدینیا کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان راولپنڈی میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ بارش اور خراب موسم کے باعث ڈرا ہو گیا تھا۔

  • سرگودھا تحصیل ساہیوال میں ڈرگ انسپکٹر کا عطاٸیوں کے خلاف آپریشن

    سرگودھا تحصیل ساہیوال میں ڈرگ انسپکٹر کا عطاٸیوں کے خلاف آپریشن

    سرگودھا (ادریس نواز سے) کی تحصیل ساہیوال میں ڈپٹی کمشنر سرگودھا اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی سرگودھا کے احکامات پر ڈرگ انسپکٹر فہیم ضیا کا متعدد عطاٸیوں کے خلاف آپریشن۔
    تفصیلات کے مطابق:
    سرگودھا کی تحصیل ساہیوال میں ڈپٹی کمشنر سرگودھا اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی سرگودھا کے احکامات پر ڈرگ انسپکٹر فہیم ضیا نے تحصیل بھر میں متعدد عطاٸیوں کے خلاف آپریشن کرتے ھوۓ متعدد کلینک سیل کر دیے۔ جن میں ان کوالیفاٸیڈ اسپیشلسٹ عطاٸیوں کے چالان کر کے انکے کلینک سیل کر دیے۔ اسکے علاوہ ساٸن بورڈ کے بغیر اور زاٸدالمیعاد ادویات رکھنے والے میڈیکل سٹور اور کلینک بھی سیل کر دیے۔ اس موقع پر ڈرگ انسپکٹر فہیم ضیا کا کہنا تھا کہ انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے والے ایسے لوگوں کے خلاف کارواٸیاں جاری رھیں گی۔

  • ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کا سول ہسپتال میں اہم منصوبے کا افتتاح

    ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کا سول ہسپتال میں اہم منصوبے کا افتتاح

    ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ (ر)سہیل اشرف نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرانوالہ میں

    روٹری انٹرنیشنل کلب کے تعاون سے فراہم کی گئی ہیپاٹائٹس -سی کنٹرول اور مستحق مریضوں کو جدید علاج کی سہولیات سرکاری سطح پر فراہم کرنے کے لیے جدید ریئل ٹائم پی سی آر مشین (PCR)کا افتتاح کر دیا۔

    ہیپاٹائٹس سی کے مرض کی تشخیص عالمی معیار کے مطابق ممکن ہو سکے گی جس سے قیمتی جانوں کا تحفظ ممکن ہو گا۔

    اس موقع پر ایم ایس ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال سہیل انجم بٹ،سابق روٹری گورنر ساجد بھٹی،ڈی ایم ایس ڈاکٹر گلزاراور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

    روٹری انٹرنیشنل کلب کی جانب سے ہیپاٹائٹس- سی کے مریضوں کی روز بہ روز بڑھتی ہوئی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہیپاٹائٹس -سی کے مریضوں کے لیے پی سی آر کے ذریعے مرض کی روک تھام اور جانچ کے لیے ایک نیا پروجیکٹ تیار کیا ہے جس کے تحت ہیپاٹائٹس کے ایسے مستحق مریض جو مہنگے داموں ٹیسٹ نہیں کروا سکتے وہ اس سے مستفید ہو سکیں گے۔ روٹری انٹرنیشنل کلب کے تعاون سے رئیل ٹائم پی سی آر مشین ڈی ایچ کیو ہسپتال گوجرانوالہ کو دے دی جس کا ڈپٹی کمشنر نے افتتاح کر دیا۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لیفٹیننٹ (ر)سہیل اشرف نے کہا کہ کوئی بھی بیماری جان لیو ا نہیں ہوتی، جلدتشخیص اور فوری علاج سے ایسے امراض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ہیپاٹائٹس -سی کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کے لیے مل کرٹھوس اقدامات اُٹھانے ہوں گے اور ایسی حکمت عملی اپنانی ہو گی جس پر عمل پیرا ہو کر آئندہ مستقبل میں اس بڑھتے ہوئے مرض پر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ روٹری انٹرنیشنل کلب کا تعاون ناگزیر ہے،ہیپاٹائٹس -سی کے خاتمے کے لیے ان کی کوششوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

  • تفصیلی فیصلے میں تمام باوردی افسران بارے کیا سخت حکم دیا گیا

    تفصیلی فیصلے میں تمام باوردی افسران بارے کیا سخت حکم دیا گیا

    تفصیلی فیصلے میں تمام باوردی افسران بارے کیا سخت حکم دیا گیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ آگیا جس میں کافی نکات سامنے آرہے ہیں‌ان میں ایک نکتہ یہ بھی ہے. تفصیلی فیصلے کےمطابق اگر ایک لمحے کے لیے یہ تصور کیا جائے کہ کور کمانڈرز سمیت اعلیٰ فوجی کمانڈ اس میں ملوث نہیں تو پھر کیوں وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کا دفاع اور تحفظ کرنے میں ناکام رہے اور ایک وردی میں موجود شخص کو نہ روکا، اس وقت کی کورکمانڈرز کمیٹی ساتھ تمام دیگر وردی والے افسران جنہوں نے انہیں ہر وقت تحفظ فراہم کیا وہ ملزم کے عمل اور قدم میں مکمل اور برابر کے شریک ہیں۔
    واضح‌ رہے کہ آج اس کیس کا 167 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں جسٹس نذر اکبر کا 44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔عدالت کا تفصیلی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ نے تحریر کیا ہے اور اس میں ان کے ساتھ جسٹس شاہد کریم نے معاونت کی۔جس میں 2 ججز نے سابق صدر کو غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت دی۔

    تاہم جسٹس شاہد کریم نے سزا سے اتفاق کیا لیکن انہوں نے فیصلے میں شامل پیراگراف 66 سے اختلاف کیا، جس میں مشرف کے سزا سے پہلے وفات پانے کی صورت میں ‘ڈی چوک پر گھسیٹ کر لانے اور 3 دن تک لٹکانے’ کا ذکر کیا گیا۔

  • تفصیلی فیصلے میں سابق صدر پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم

    تفصیلی فیصلے میں سابق صدر پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم

    تفصیلی فیصلے میں سابق صدر پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم

    باغی ٹی وی :خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس کے تفصیلی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سابق صدر پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

    167 صفحات پر مشتمل فیصلے میں حکم دیا گیا ہے کہ پرویز مشرف کو مفرور کرانے میں ملوث افراد کو قانون میں دائرے میں لایا جائے اور ان کے مجرمانہ اقدام کی تفتیش کی جائے۔

    مختصر فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اور ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔ جس کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔
    پرویز مشرف کے خلاف عدالت نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے ، اس فیصلہ میں جسٹس وقار نے نوٹ لکھا کہ اگر پرویز مشرف پھانسی سے پہلے فوت ہوجائیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک میں 3دن لٹکایا جائے.
    خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے سابق صدر کیخلاف 17 دسمبر 2019 کو دو ایک کی اکثریت سے مختصر فیصلہ سنایا تھا۔جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی تھی۔ بینچ میں جسٹس شاہد کریم اور جسٹس نذر اکبر بھی شامل تھے۔

  • لاش کے ساتھ کیا سلوک کیاجائے ،،،،؟ تفصیلی فیصلہ

    لاش کے ساتھ کیا سلوک کیاجائے ،،،،؟ تفصیلی فیصلہ

    لاش کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ،،،،؟ تفصیلی فیصلہ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف عدالت نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے ، اس فیصلہ میں جسٹس وقار نے نوٹ لکھا کہ اگر پرویز مشرف پھانسی سے پہلے فوت ہوجائیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک میں 3دن لٹکایا جائے.

    واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف اس فیصلے کو ذاتی انتقام پر مبنی اور یک طرفہ قرار دے چکے ہیں.یاد رہے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو 17 دسمبر کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ دو ایک سے سنایا گیا اکثریتی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس شاہد فضل کریم نے دیا جبکہ جسٹس نذر محمد نے سزائے موت کے اس فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔
    خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے سابق صدر کیخلاف 17 دسمبر 2019 کو دو ایک کی اکثریت سے مختصر فیصلہ سنایا تھا۔جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی تھی۔ بینچ میں جسٹس شاہد کریم اور جسٹس نذر اکبر بھی شامل تھے۔