Baaghi TV

Author: +9251

  • انوکھا خودکش حملہ !

    انوکھا خودکش حملہ !

    انوکھا خودکش حملہ !

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق .شام میں ایک منفرد خود کش حملہ وقوع پذیر ہوا ہے جو اپنی نوعیت کا الگ خود کش تھا.19 سالہ شامی نوجوان نے بیسان نامی 17 سالہ دوشیزہ کے گھر متعدد بار شادی کا پیغام بھیج دیا لیکن ہر بار لڑکی کےگھر والوں نے پرپوزل مسترد کردیا.

    محبت میں پاگل وہ لڑکا کل شام لڑکی کے گھر گیا اور گرنیڈ سے خود اور لڑکی کو موت کی وادی میں پہنچا دیا.

  • کوئٹہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ

    کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ جاری ہے کیسکو کی جانب سے روزانہ 6 اور 7 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا شیڈول دیا گیا ہے اعلانیہ شیڈول کے برعکس روزانہ 10 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے پشتون اباد، پشتون درہ،جان محمد روڈ کے علاقے بری طرح متاثر ہیں جس کی وجہ سے غیر اعلانیہ اور اضافی لوڈ شیڈنگ سے معمولات زندگی شدید متاثر ہے۔

  • پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ  جاری

    پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق خصوصی عدالت کا فیصلہ 167 صفحات پر مشتمل ہے۔ پرویز مشرف کے وکیل کو فیصلے کی کاپی فراہم کردی گئی ہے۔میڈیا کو فیصلہ نہیں دیا گیا

    مختصر فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اور ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔ جس کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ میں سے دو ججز نے سزائے موت کے فیصلے کی حمایت جبکہ ایک جج نے اختلاف کیا تھا۔

    یاد رہے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو 17 دسمبر کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ دو ایک سے سنایا گیا اکثریتی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس شاہد فضل کریم نے دیا جبکہ جسٹس نذر محمد نے سزائے موت کے اس فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔
    خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے سابق صدر کیخلاف 17 دسمبر 2019 کو دو ایک کی اکثریت سے مختصر فیصلہ سنایا تھا۔جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی تھی۔ بینچ میں جسٹس شاہد کریم اور جسٹس نذر اکبر بھی شامل تھے۔

    سابق آرمی چیف نے فیصلے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے فرد واحد کو نشانا بنایا گیا۔ انہوں نے قانونی ماہرین کے ساتھ مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • وزیرِ اعظم  کی زیرصدارت حکومت کی معاشی ٹیم کا اجلاس

    وزیرِ اعظم کی زیرصدارت حکومت کی معاشی ٹیم کا اجلاس

    وزیرِ اعظم کی زیرصدارت حکومت کی معاشی ٹیم کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔

    ذرائع کےمطابق اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے متعلقہ عدالتی مقدمات میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس میں معاشی استحکام اوراقتصادی اعشاریوں پربریفنگ دی جائے گی’

    اس کے علاوہ اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز بحالی، عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پرغور ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں معاشی استحکام ، اقتصادی اعشاروںاور معاشی اصلاحات میں پیش رفت سے متعلق اقدامات پر مشاورت ہوگی۔اجلاس کے دوران اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کے اقدمات اور ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف انتظامی اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز کا آغاز مندی کے رجحان سے ہوا ہے۔

    جمعرات کے روز مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 41 ہزار 603 کی سطح سے ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 100 انڈیکس میں 90 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی ہے۔
    واضح‌رہے کہ پاکستان کی مسلسل سٹآک مارکیٹ میں بھی بہتر ہو رہی ہے اور پچھلے دنوں اسٹاک مارکیٹ نے چھ سال کا ایک ماہ کا ریکارڈ توڑا ہے.خیال رہے کہ اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیز ہو رہی تھی اسی لیے پاکستان کی معاشی صورت حال عالمی جریدے کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو بہت مثبت قراردیا،بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے تیزی کے زبردست رجحان کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قراردے دیا، ماہ فروری میں ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا

  • روپے کے مقابلے ڈالرکی قدر مزیدگرگئی

    روپے کے مقابلے ڈالرکی قدر مزیدگرگئی

    روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر مزید گر گئی
    باغی ٹی وی :کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 5 پیسے کمی ہوئی ہے۔
    فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر 154.94 سے کم ہوکر 154.89 روپے کا ہو گیا ہے۔

    خیال رہے کاروباری ہفتے کے تیسرے روز انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں پانچ پیسے کمی ہوئی۔ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹر بینک میں آج ڈالر 154.95 روپے میں فروخت ہوا جو کہ منگل کو 155 روپے میں دستیاب تھا۔

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی اور یہ 154.70 روپے میں فروخت ہوا۔رواں سال جون سے لیکر اب تک اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں نو روپے اور 35 پیسے کی کمی ہوچکی ہے۔

    واضح‌رہے کہ یکم نومبر کو ڈالر کی قیمت 1556.10 تھی اور 30 دسمبر تک 20 پیسے کمی کے ساتھ 155.90 پر آگئی تھی۔واضح رہےگزشتہ چار ماہ کے دوران 155.50 روپے ڈالر کی نچلی ترین سطح ہے۔2019 میں بھی ڈالر کی قیمت میں روپے کے مقابلے میں پیش رفت جاری رہی۔ جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے پر ٹریڈ کررہا تھا۔
    اپریل 2019 میں ڈالر چھلانگ لگا کر 141 روپے 50پیسے پر آگیا۔ مئی میں 151 روپے اور جون میں تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا. اب تسلسل کے ساتھ روپیہ مستحکم ہو رہا ہے

  • پنجاب یونیورسٹی میں آرمی پبلک سکول کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے سیمینار

    پنجاب یونیورسٹی میں آرمی پبلک سکول کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے سیمینار

    پنجاب یونیورسٹی میں آرمی پبلک سکول کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے سیمینار کا انعقاد ہوا.
    باغی ٹی وی رپورٹ پنجاب یونیورسٹی میں آرمی پبلک سکول کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے سیمینار منعقد ہوا -سیمینار میں کالج آف ارتھ اینڈ اینوائرمینٹل سائنسز کے پرنسپل ڈاکٹر ساجد رشید کی شرکت نے شرکت کی.
    سیمینار میں دفاعی تجزیہ کار بریگیڈئیر ریٹائرڈ غضنفر علی، کالم نگار سلمان عابد، مبشر بخاری نے بھی شرکت کی

    اس موقع پر ڈاکٹر ساجد رشید نے کہا کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ تھا،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے بچوں تک نے قربانیاں دیں.پاک فوج کی بہادری اور قربانیوں کے باعث دہشت گردوں کو شکست ہوئی،ننھے شہیدوں کی قربانی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی،

  • بھارت 27 فروری  کو مت بھولے، وزیرخارجہ

    بھارت 27 فروری کو مت بھولے، وزیرخارجہ

    بھارت 27 فروری کو مت بھولے، وزیر خارجہ

    باغی ٹی وی رپورٹ :بھارتی ممکنہ جارحیت پر شاہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہندوستان کے فوجی سربراہ کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، ہماری انٹیلیجنس نے غیر معمولی نقل و حرکت کو محسوس کیا ہے جو اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ ہندوستان کے ارادے درست نہیں ہیں۔

    اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستانی قوم کی طرف سے نریندر مودی سرکار کو باور کروانا چاہتا ہوں کہ ہم پر امن لوگ ہیں لیکن 27 فروری کو مت بھولیے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اگربھارت نے پاکستان پر جارحیت کی یا فالس فلیگ آپریشن کیا گیا یا کسی بہانے کی آڑ میں پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو پاکستانی افواج تیار ہیں بروقت اور مناسب جواب دیا جائے گا ۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ ہے اور ملکی نظریئے، جغرافیے اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دے گی۔
    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا بھارتی عزائم بھانپتے ہوئے صدر سلامتی کونسل کو ایک اور خط لکھا، ساتویں خط میں بھارت کے ناپاک عزائم کی نشاندہی کی، 4 اقدامات پر صدر سلامتی کونسل کی توجہ دلائی، ایل اوسی پر 5 جگہ سے باڑ کاٹنے کے پیچھے بھارت کے کیاعزائم ہیں ؟ کیا کوئی نیا مس ایڈونچر ہونے جا رہا ہے ؟ اس پر بھی ہمیں تشویش ہے۔

    وزیر خارجہ نے مزید کہا بھارت نے جنوری 2019 سے اب تک 3 ہزار مرتبہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی، 300 کے قریب نہتے انسانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ہمارے خط کی بنیاد پر اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں چین نے اس مسئلے کو دوسری مرتبہ اٹھایا۔

  • پاک فوج کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گی: ترجمان پاک فوج

    پاک فوج کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گی: ترجمان پاک فوج

    پاک فوج کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گی: ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہےکہ بھارتی آرمی چیف کی طرف سے اشتعال انگیز بیانات،ایل او سی پر تیاریاں دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش لگتی ہیں،پاکستان کی مسلح افواج بھارت کی جارحیت کابھرپور جواب دیں گی.،مسلح افواج بھارت کی کسی بھی مہم جوئی اور جارحیت کا بھرپور جواب دیں گی


    واضح‌رہےکہ مسلم مخالف شہریتی بل کے خلاف بھارت اس وقت مشکل ترین حالات سے دو چار ہے.پورا بھارت اس آگ کی لپیٹ میں ہے . ڈھاکہ میں بھی لاکھوں افراد کے احتجاجی مظاہرے، بھارت کے خلاف نعرے،اطلاعات کےمطابق چمپارن کی تاریخ میں پہلی بار ڈھاکہ کی سرزمین پر شہریتی ترمیمی بل کے خلاف اور دستور ہند کے تحفظ کے لئے ایک بے نظیر احتجاجی جلوس نکالا گیا

    ڈھاکہ سے ذرائع کے مطابق اس جلوس میں ڈھاکہ کا وہ قرب و جوار کے تقریباً ایک لاکھ لوگوں نے شرکت کرتے ہوئے حکومت ہند سے اس نے قانون پر غور و فکر کرنے کی اپیل کی ۔ نیز ان لوگوں نے ایس ڈی او آفس کا بھی مارچ کیا اور صدر جمہوریۂ ہند و ملک کے وزیراعلی نیز وزیرداخلہ کے نام سکرہنہ سب ڈویژنل آفیسر گیان پرکاش کے ذریعہ ایک میمورینڈم ارسال کیا۔

  • امریکی صدر کے خلاف ایوان نمائندگان میں مواخذے کی قرارداد منظور، آگے گیا ہوگاٹرمپ مشکلات میں

    امریکی صدر کے خلاف ایوان نمائندگان میں مواخذے کی قرارداد منظور، آگے گیا ہوگاٹرمپ مشکلات میں

    امریکی صدر کے خلاف ایوان نمائندگان میں مواخذے کی قرارداد منظور، آگے گیا ہوگا.ٹرمپ مشکلات میں

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد منظور ہو گئی ہے، امریکی صدر کے خلاف مواخذے کا معاملہ اب سینیٹ میں جائے گا جہاں قرارداد پر رائے شماری ہوگی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ پر اختیارات سے تجاوز اور کانگریس کی تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات ہیں، ایوان نمائندگان میں دونوں الزامات پر مواخذے کی قرارداد پیش کی گئی تھی، ڈیموکریٹس نے ووٹنگ میں دونوں الزامات پر موخذے کے لیے درکار ووٹ حاصل کر لیے۔

    مواخذے کا معاملہ سینیٹ میں چلا گیا ہے، امریکی سینیٹ میں حکمراں جماعت ری پبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے، ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے تیسرے صدر ہیں جن کا مواخذہ کیا جا رہا ہے، پہلے آرٹیکل پر مواخذے کے حق میں 230 اور مخالفت میں 197 ووٹ ڈالے گئے، جب کہ دوسرے آرٹیکل پر مواخذے کے حق میں 229، مخالفت میں 198 ووٹ ڈالے گئے۔ووٹنگ کی کارروائی کے بعد ہاؤس کا اجلاس کل صبح 9 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

    ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے مواخذے کی کارروائی کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ہے، انھوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس کو مواخذے کی کارروائی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
    واضح‌رہے کہ امریکی انٹیلی جینس کے اہلکارنے کچھ عرصہ قبل انکشاف کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچیس جولائی کو یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے، دو ہزار بیس کے صدارتی انتخابات میں اپنے ممکنہ ڈیموکریٹ حریف جوبائیڈن کے بیٹے ہنٹربائیڈ سے متعلق کیس کی تحقیقات میں دباؤ ڈالنے پر زوردیا تھا۔

    ٹیلی فون پر ہونے والی اس گفتگو کے متن کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے چارسو ملین ڈالر کی امریکی فوجی امداد کو بائیڈن کیس میں صدر زیلینسکی کے تعاون سے مشروط کیا تھا۔

    یوکرینی صدرکے ساتھ ٹیلی فون پرہونے والی گفتگو کا راز فاش ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ شدت اختیارکرگیا ہے۔