Baaghi TV

Author: +9251

  • آرمی چیف سے ایرانی سفیر کی الوداعی ملاقات

    آرمی چیف سے ایرانی سفیر کی الوداعی ملاقات، جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک ایران تعلقات میں بہتری کے حوالے سے ان کی خدمات کو سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے الوداعی ملاقات کی۔ آرمی چیف نے پاک ایران تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے ایرانی سفیر کی خدمات کو سراہا۔

    ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے بھی خطہ میں امن کے لیے پاک فوج کے کردار اور پاک ایران سرحد پر امن کے قیام کے کوششوں کو بھی سراہا۔
    آرمی چیف نے پاکستان میں خدمات کے لئے سفیر کا شکریہ ادا کیا اور پاک ایران تعلقات کو بہتر بنانے میں ان کی شراکت کا اعتراف کیا۔

  • پنجاب کے شہری کون سا ٹیکس ادا کرنے سے کتراتے ہیں

     

    شہباز اکمل جندران۔۔۔۔

    باغی انویسٹی گیشن سیل۔۔۔۔

     

    پنجاب کے شہری کون سا ٹیکس ادا کرنے سے کتراتے ہیں

    ایکسائز، ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ صوبے میں 1958 کےقانون کے تحت پراپرٹی ٹیکس وصول کرتا ہے۔پراپرٹی ٹیکس ،رہائشی، کمرشل، صنعتی اور دیگر جائیداداوں پر وصول کیا جاتا ہے۔پراپرٹی ٹیکس ذاتی رہائشی، رینٹل رہائشی ، ذاتی کمرشل ،رینٹل کمرشل ،صنعتوں، این جی اوز اور سکولوں وغیرہ سے مختلف ریٹس پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب قانون کے تحت صوبے میں ہر پانچ سال کے بعد پراپرٹی ٹیکس کا سروے کروانے کا پابند ہے تاکہ نئی تعمیرات کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ پراپرٹی ٹیکس کے ریٹس میں ترمیم بھی عمل میں لائی جاسکے۔پنجاب میں سن 2000کے بعد 2014میں سروے ممکن ہوسکا۔جیسے ہی نیا سروے مکمل ہوا اور نئے ریٹس کے تحت پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کے نوٹسز ارسا کئے گئے ویسے ہی شہریوں کی بڑی تعداد نے زیادہ ٹیکس لگنے کی شکایات کرتے ہوئے ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ ڈائریکٹوریٹس میں ٹیکس کے خلاف اپیلیں دائر کردیں۔

     

    جس سے ٹیکس کی بڑی اماونٹ کی ادائیگی رک گئی۔تاہم محکمے کے ڈائریکٹروں نے ان اپیلوں کو تیزی کےساتھ نمٹانا شروع کردیا راولپنڈی میں ڈائریکٹر سہیل ارشد نے 2016-17میں دائر ہونے والی 483اپیلوں کے جواب میں 360نمٹا ڈالیں۔2017-18میں دائر ہونے والی 641اپیلوں کے جواب میں 578اپیلیں نمٹائیں۔2018-19میں دائر ہونے والی 554اپیلوں کے جواب میں 1032اپیلیں نمٹا ڈالیں ، ان میں وہ اپیلیں بھی شامل تھیں جو گزشتہ برسوں سے زیر التوا تھیں۔اسی طرح انہوں نے 2019-20میں پہلے تین ماہ کے دوران دائر ہونے والی 84اپیلوں اکے جواب میں 51اپیلیں ڈسپوز ۤآف کردیں۔

    اسی طرح فیصل آباد میں ڈائریکٹر احمد سعید اور ان کی پیش رومس فضہ شاہ نے 2016-17میں دائر ہونے والی 753 اپیلوں کے جواب میں 751اپیلیں نمٹائیں۔2017-18میں دائر ہونے والی 1285اپیلوں کے جواب میں 1135 اپیلیں نمٹائیں۔2018-19میں دائر ہونے والی 298اپیلوں کے جواب میں 208اپیلیں نمٹا ڈالیں۔اور 2019-20کے پہلے تین ماہ کے دوران دائر ہونے والی 36اپیلوں کے جواب میں 24اپیلیں نمٹائیں۔

    یوںڈائریکٹر ایکسائز راولپنڈی اور فیصل آباد نے بڑی تعداد میں اپیلیں نمٹاتے ہوئے قومی خزانے کو بھاری نقصان سے بچایا

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں  آج زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی آج زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے اور ابتدائی تین گھنٹوں میں چار سو سے زائد پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے۔

    آج جب مارکیٹ کھلی تو100 انڈیکس 36 ہزار 8 سو پر تھا جس کے بعد بتدریج تیزی کا رجحان دیکھا گیا۔اسٹاک مارکیٹ سے آخری خبریں آنے تک انڈیکس 37 ہزار کی نقسیاتی حد عبور کر چکا تھا اور تا دم تحریر89,818,470 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت 4,696,961,879 پاکستانی روپے رہی۔

    پچھلے دنوں سے اسٹاک مارکیٹ مسلسل مثبت رجحان کی طرف گامزن تھی . گزشتہ روز مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 34 ہزار 432 پر ہوا اور 100 انڈیکس میں 46 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔کے ایس ای 100 انڈیکس کا آغاز 34 ہزار 83 پوائنٹس پر ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 130 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 100 انڈیکس 34 ہزار 213 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھانظر آ رہی ہے

  • ڈالر کی قیمت مزید کم ہو گئی

    ڈالر کی قیمت مزید کم ہو گئی

    ڈالر کی قیمت مزید کم ہو گئی

    تفصیلات کے مطابق : کاروباری ہفتے کے تیسرے روز ڈالر کی قیمت مزید پانچ پیسے کم ہوگئی جس کے بعد ڈالر گزشتہ کئی ماہ کی نچلی ترین سطح پر آگیا۔ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر آج 155.40 روپے میں فروخت ہورہا ہے جو کہ گزشتہ روز 155.45 روپے میں دستیاب تھا۔اسی طرح انٹر بینک میں ڈالر 155.50 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ گزشتہ روز بھی اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں پانچ پیسے کمی ہوئی تھی۔ رواں سال جون سے لیکر اب تک ڈالر کی قیمت آٹھ روپے 60 پیسے کم ہوچکی ہے۔

    واضح رہےگزشتہ چار ماہ کے دوران 155.50 روپے ڈالر کی نچلی ترین سطح ہے۔2019 میں بھی ڈالر کی قیمت میں روپے کے مقابلے میں پیش رفت جاری رہی۔ جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے پر ٹریڈ کررہا تھا۔
    اپریل 2019 میں ڈالر چھلانگ لگا کر 141 روپے 50پیسے پر آگیا۔ مئی میں 151 روپے اور جون میں تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا. اب تسلسل کے ساتھ روپیہ مستحکم ہو رہا ہے

  • ممتاز سکالر و کالم نگار اوریا مقبول جان کی گجرات آمد۔۔۔

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے)ممتاز سکالر و کالم نگار اوریا مقبول جان کل 14 نومبر کو دن ساڑھے 10 بجے گجرات بار کا دورہ کرینگے وہ گجرات بار ھال میں منعقدہ سالانہ محفل میلاد سے خصوصی خطاب فرمائیں گے صدر گجرات بار چوھدری شمشاد اللہ ملھی ایڈووکیٹ اور انکی ٹیم نے محفل میلاد کی تیاریاں مکمل کر لی گئی۔۔

  • پنجاب میں ہزاروں سرکاری گاڑیاں خلاف ضابطہ استعمال کئے جانے کا انکشاف

    شہباز اکمل جندران۔۔۔

    باغی انویسٹی گیشن سیل۔۔۔۔

     

    پنجاب میں ہزاروں سرکاری گاڑیاں خلاف ضابطہ استعمال کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے

    پنجاب میں سول سیکرٹریٹ اور ،ایس اینڈ جی اے ڈی، پولیس ،سی اینڈڈبلیو،ایکسائز ،ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ، ضلعی حکومتوں ، ایل ڈی اے اورواسا سمیت دیگر سرکاری محکموں میں سرکاری گاڑیوں کا غلط استعمال معمول بن چکا ہے۔ ٹرانسپورٹ پالیسی کے تحت گریڈ 17کے افسر کو گھر سے دفتر تک پک اینڈ ڈراپ کے لیے سرکاری کار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ایسے افسرصرف ہنگامی حالات میں سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے گاڑی استعمال کرسکتے ہیں۔

    البتہ گریڈ 18اور 19کے افسروں کو اجازت دی گئی ہے۔وہ پک اینڈڈراپ کے لیے سرکاری گاڑی استعمال کرسکتے ہیں ۔تاہم وہ بھی سرکاری گاڑی کو سرکاری فرائض منصبی سے ہٹ کر ذاتی استعمال میں نہیں لاسکتے۔تاہم صوبے کے اکثر سرکاری اداروں میں گریڈ 17کے افسروں کو گاڑیاں دی گئی ہیں۔اور صرف گاڑیاں ہی نہیں بلکہ ڈرائیور اور بعض کو گن مین بھی فراہم کئے گئے ہیں۔

     

    جبکہ ایسی گاڑیوں کی مرمت ،فیول اور آئل چینج کے اخراجات بھی قومی خزانے سے ہی ادا کئے جاتے ہیں۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بعض بیوروکریٹ ٹرانسفر یاکسی دوسرے صوبے یا وفاق میں جانے یا ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سرکاری گاڑیاں اور ڈرائیور واپس نہیں کررہے۔

  • میونسپل کارپوریشن کے ورکز کی اینٹی کرپشن۔۔

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے)میو نسپل کا ر پو ر یشن کے ملا ز مین کو ا اینٹی کر پشن پولیس کی طرف سے ایک جھوٹا اور من گھڑ ت مقد مہ درج کر کے گر فتا ر کر نے پر mcg کے حال میں ا حتجا جی اجلاس ھوا جس میں ملا ز مین نے بھر پور ا حتجاج کیا اور مز مت کی گی اور ڈی سی گجرات سے ملا قا ت کر کے سارے معملات ڈس کس کر نے کا پرو گرام بنایا گیا ھے

  • پلان بی پر عمل شروع کردیا گیا۔

    بلوچستان کے علاقہ چمن میں جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ میں پلان بی کے اعلان کے بعد اس پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے جمعیت علماء اسلام اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے سید حمید کراس کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کر کے کوئٹہ چمن شاہراہ بند کر دی ہے جس کی وجہ سے شاہراہ پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ھے اور نیٹو سپلائی اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سپلائی بھی معطل ھوگئی ھے جس کے بعد قطاریں لگ گئیں ہیں۔

  • بھیرہ میں نالہ کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سےنمازیوں کو مشکلات کا سامنا ہے ے

  • آزادی صحافت پر حملہ, دارالحکومت میں صحافی سے پریس کارڈ چھین لیا گیا

    اسلام آباد :پارلیمنٹری رپورٹر ایسوسی ایشن کے صدر بہزاد سلیمی بدمعاشی پر اترآئے پی آئی ڈی کے ملازم سے زبردستی سینٹ کے رپورٹرز کےپریس گیلری کارڈ چھین لئے اور کہا کہ آپ ان لوگوں کے کارڈ کیوں جاری کرتے ہو جب متعلقہ رپورٹر پی آئی ڈی ملازمین کے پاس پہنچے تو ان نے کہا کہ آپ کےکارڈ مجھ سے بہزاد سلیمی نےزبردستی چھین لئے ہیں جس پر نمائندگان بہزاد سلیمی جو کہ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کے صدر ہیں کے پاس گئے اور کہا کہ سر آپ کے پاس ہمارے کارڈ ہیں اور آپ نے کیوں ایک سرکاری ملازم سے ہمارے کارڈ چھینے جس پر وہ غصے سے لال پیلے ہو گئے اور کہا کہ آپ متعلقہ فورم پہ جاکر بات کریں مجھ سے بحث نہ کریں جو کرنا ہےکر لیں آپ لوگ یہاں کیوں آئے ہو جبکہ تک آپ پارلیمنٹری رپورٹر ایسویسی ایشن کے ممبر نہیں بنتے آپ سینٹ اور پارلیمان میں رپورٹنگ نہیں کر سکتے اور نہ میں نے آپ کو کارڈ دینے ہیں نمائندگان کے اسرار کے باوجود بہزاد سلیمی اپنی ضد پر قائم رہے متاثرہ نمائندگان نے بہزاد سلیمی کی سرکارکے کام میں مداخلت اور کارڈ زبردستی چھیننے کے واقعے پر اسپیکر نیشنل اسمبلی اور چئرمین سینٹ کو درخواست جمع کروا دی جس میں کہا گیا ہے کہ مزکورہ شخص نے سرکار کے کام میں بے جا مداخلت کرتے ہوئے آزادی صحافت کا گلہ گھوٹنے کی مزموم حرکت کی ہےجس پر بہزاد سلیمی کے خلاف کاروائی عمل میں لا کر متعلقہ رپورٹر کے کارڈ واپس کروائے جائیں اور انہیں آزاد رپورٹنگ کا جو آئین نے حق دیا ہے اسکے کے مطابق وہ اپنا فریضہ سرانجام دے سکیں
    ادھر میڈیا ڈائریکٹر پارلیمنٹ نے مزکورہ واقعہ کی مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سرا سر غلط اقدام ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے پارلیمنٹ اور سینٹ میں رپورٹنگ ہر صحافی کا بنیادی حق ہےجسے کوئی سلب نہیں کر سکتا کارڈ پی آئی ڈی جاری کرتا ہے اس میں مزکورہ شخص کی بے جا مداخلت غلط عمل ہے اس واقعہ کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاھم بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا