Baaghi TV

Author: +9251

  • کرپشن پر سزایافہ مگر اجازت بھی مل گئی؛کیا معاملہ ہے ؟

    لاہور:کرپشن جہاں ایک سابق وزیراعظم ، ایک سابق صدرکو جیل کی سلاخوں تک لے گئی ایسے کئی کھلاڑی بھی اپنے روشن مستقبل کو داو پرلگابیٹھے،دوسری طرف کرکٹ کرپشن میں سزا یافتہ ٹیسٹ اوپنر شرجیل خان پاکستانی ٹیم میں واپسی کیلئے مراحل طے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ کے ری ہیب پروگرام میں شرجیل خان نے دوسری کوشش میں ٹیسٹ پاس کیا جس کے بعد اب انہیں بہاولپور، شیخوپورہ اور کراچی میں کھلاڑیوں کو لیکچرز دینا ہوں گے۔

    یاد رہے کہ محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف کی طرح لیکچرز میں وہ کھلاڑیوں کے سامنے ندامت کا اظہار کریں گے اور انہیں بتائیں گے کرپشن انہیں نشان عبرت بناسکتی ہے، جس کی سب سے بڑی مثال میں ہوں۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تصدیق کی کہ شرجیل خان ری ہیب پروگرام کے بعد کلب کرکٹ کھیلنے کے اہل ہوگئے ہیں، لیکچرز ان کی زندگی کا سب سے تلخ تجربہ ہوگا جس میں وہ جونیئر کھلاڑیوں کو بتائیں گے میرا کرکٹ سے کتنا نقصان ہوا ہے اور اس گھناؤنے دھندے کے اثرات کس قدر بھیانک ہیں۔

  • دھرنے کو کیسے کنٹرول کرنا ہے وفاقی حکومت نے اہم فیصلے کرلیئے

    اسلام آباد:مولانا فضل الرحمن کو کڑکی میں‌پھنسانے میں حکومت کامیاب نظرآرہی ہے ،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی -ف) کے دھرنے سے متعلق حکمت عملی تیار کرلی۔ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے دھرنے کے معاملات پر فیوژن سیل تشکیل دے دیا جس میں چاروں صوبوں کے سینئر پولیس افسران سمیت انٹیلیجنس ایجنسیوں کے افسران بھی شامل ہیں۔

    اسلام ‌اباد سے ذرائع کے مطابق فیوژن سیل کے افسران سے وزیرداخلہ اعجازشاہ کی غیر رسمی ملاقات بھی ہوئی، فیوژن سیل دھرنے کے دوران کوآرڈینیشن کا کام کرے گا۔ذرائع نے بتایا کہ دھرنے کو روکنا ہے یا نہیں اس حوالے سے وزارت داخلہ کو تاحال واضع ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ کا آغاز کراچی سے ہوگیا ہے جبکہ ملک بھر سے بھی قافلے اسلام آباد کی جانب گامزن ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان معاملات طے پائے تھے جس کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اسلام آباد انتظامیہ کے درمیان معاہدہ ہوا تھا۔معاہدے کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) ایچ 9 کے اتوار بازار کے قریب گراؤنڈ میں جلسہ کرے گی اور حکومت کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کرے گی۔

  • آج ہی کے دن پاکستان کے نامور ماہر اقتصادیات اور علوم و فنون وفات پاگئے

    گوجرانوالا:ممتاز حسن چھ اگست 1907ءمیں‌ ضلع گوجرانوالہ کے ایک چھوٹے سے گائوں تلونڈی موسیٰ میں پیدا ہوئے تھے۔ جناب ممتاز حسن نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی جو ایک سول جج تھے اور علامہ اقبال کے قریبی دوست اور ہم جماعت تھے۔جناب ممتاز حسن نے اپنے والد کے تبادلوں کے باعث ابتدائی تعلیم مختلف شہروں میں حاصل کی اور 1927ء میں ایف سی کالج (لاہور) سے بی اے (آنرز) کا امتحان فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا

    ممتاز حسن نے ادیب فاضل کے امتحان میں بھی کامیابی حاصل کی۔ وہ ایل ایل بی کا پہلا سال مکمل کرچکے تھے کہ ان کا انتخاب انڈین آڈٹ اینڈ اکائونٹس سروس کے لیے ہوگیا یوں 6 مارچ 1930ء کو انہوں نے انڈر سیکریٹری کی حیثیت سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔

    پاکستانی مورخین کے مطابق کچھ عرصے بعد وہ ممبر فائنانس سرجیرمی ریزمن کے پرائیویٹ سیکریٹری ہوگئے اور جب 1946ء میں مسلم لیگ اور کانگریس کی عارضی حکومت قائم ہوئی تو نوابزادہ لیاقت علی خان نے جو اس حکومت میں وزیر خزانہ تھے‘ جناب ممتاز حسن کو اپنا پرائیویٹ سیکریٹری مقرر کرلیا ان کی یہ رفاقت نوابزادہ لیاقت علی خان کے پاکستان کے وزیر اعظم بننے تک جاری رہی۔28 اکتوبر 1974ء کولندن میں وفات پاگئے

    1952ء میں جناب ممتاز حسن اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر بنے اور اسی برس حکومت پاکستان کے فائنانس سیکریٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس عہدے پر وہ 1959ء تک فائز رہے۔ ان کی اگلی تعیناتی پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کے طور پر ہوئی جہاں وہ 1962ء تک رہے پھر وہ پانچ برس تک نیشنل بنک آف پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیشنل پے کمیشن کے چیئرمین اسپیشل آڈٹ کمیٹی مغربی پاکستان کے چیئرمین‘ براڈ کاسٹنگ کمیشن کے چیئرمین اور ڈیفنس سروسز پے کمیشن کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

    جناب ممتاز حسن‘ علوم و فنون کے دلدادہ تھے۔ وہ ایک وسیع المطالعہ شخص تھے اور انہی کی کوششوں سے نیشنل بنک آف پاکستان کی لائبریری قائم ہوئی جوملک کی چند اچھی لائبریریوں میں شمار کی جاسکتی ہے۔ انہی کی کوششوں سے بھنبھور کے کھنڈرات میں وہ مقام بھی دریافت ہوا جہاں محمد بن قاسم کی فوج اتری تھی۔

  • ہاتھی بھی قحط سالی کا شکار55 مرگئے

    ہرارے: انسان نہیں‌جانوربھی قحط سالی سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اورموت کی وادی میں پہنچ جاتے ہیں جیسے زمبابوے کے سب سے بڑے نیشنل پارک میں موجود 55 ہاتھی مر گئے جس کی وجہ خوراک اور پانی کی کمی بتائی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق قحط سالی کے نتیجے میں نیشنل پارک میں موجود شیر اور دیگر جانور بھی بیمار ہوگئے ہیں اور ان کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

    نیشنل پارک میں ہاتھیوں کے مرنے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے، نیشنل پارک کے ترجمان تناشی فراواؤ کے مطابق نیشنل پارک میں 50 ہزار جانور موجود ہیں جن میں ہاتھیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔تناشی فراواؤ کا کہنا تھا کہ پانی اورغذا کی وجہ سے ہاتھیوں کا مرنا تشویشناک امر ہے اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

    رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک میں برسوں سے جاری خشک سالی ہے اور ملک تباہ حال معیشت سے بھی دوچار ہے، خوراک اور پانی کی عدم فراہمی کے سبب جانوروں بڑی تعداد میں متاثر ہورہی ہے۔نیشنل پارک کے ترجمان فراواؤ کا کہنا تھا کہ جنگلی حیات بھوکے پیاسے ہونے کی وجہ سے پارکوں میں بھٹکتے ہیں، فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بعض اوقات لوگوں کو بھی ہلاک کردیتے ہیں۔

  • بیوی گھر سے کیوں بھاگ گئی؟

    لکھنؤ:بیویوں کے شوق بھی نرالے ، بھولے بھالے ، چھوٹی چھوٹی بات کا بتنگڑبناناچاہیں‌تو کوئی روک نہیں‌سکتا،جیسے بھارت میں‌ایک بیوی نے کردکھایا ، اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش میں کھانے میں انڈے نہ ملنے پر خاتون سسرال سے بھاگ گئی۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اترپردیش کے ضلع گورکھ پور میں افسوسناک واقعہ اُس وقت پیش آیا کہ جب شوہر نے اپنی بیوی کو انڈا لاکر نہیں دیا اور وہ گھر سے بھاگ گئی۔

    خاتون کے شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ میں یومیہ اجرت پر مزدوری کرتا ہوں اس لیے روزانہ انڈے نہیں خرید سکتا، معاشی تنگ دستی کا معلوم ہونے کے باوجود بیوی میری کمزوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتی اور روزانہ کھانے میں انڈا مانگتی ہے۔ خاوند نے مزید بتایا کہ وہ روزانہ انڈا ضرور کھاتی ہے اور میری یہی کوشش ہوتی ہے دیہاڑی کے پیسوں سے ایک انڈا ضرور خرید لوں۔

    ہفتے کے روز میاں بیوی کا ایک بار پھر انڈے کے معاملے پر جھگڑا ہوا اور وہ گھر سے بھاگ گئی۔ دوسری جانب یہ شبہ ہے کہ خاتون اپنے کسی دوست کے ساتھ فرار ہوئیں کیونکہ وہ لڑکا بھی اپنے گھر سے غائب ہے۔ اس سے قبل خاتون نے اپنے گھر جاکر مؤقف اختیار کیا تھا کہ مجھے انڈے کھانا پسند ہیں مگر شوہر زبردستی کھانے سے روکتا ہے۔

  • 28-اکتوبرکرکٹ کی تاریخ کا اہم دن

    لاہور:28 اکتوبرپاکستان کرکٹ کی تاریخ‌میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جس دن پاکستان کے ممتاز کھلاڑی امتیاز احمد پاکستان ہی نہیں، ایشیا کے پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ڈبل سنچری اسکور کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

    کرکٹ کے مورخین کا کہنا ہے کہ امتیاز احمد نے اپنی یہ ڈبل سنچری 26 سے 31 – اکتوبر 1955ء کے درمیان نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں 28 – اکتوبر 1955ء کواسکور کی تھی۔ امتیاز احمد نے اپنی اس یادگار اننگ میں 28 چوکوں کی مدد سے 209 رنز اسکور کئے تھے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی اس یادگار اننگ کی اگلی اننگ میں وہ کوئی رن بنائے بغیر صفر کے اسکور پر آئوٹ ہوئے اور یوں وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی قرار پائے جس نے کسی ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگ میں ڈبل سنچری اسکور کی اور دوسری اننگ میں صفر کے اسکور پر آئوٹ ھوئے۔

  • مشکلات سے دو چار تاجروں کو "کنٹینر بحران ” کا سامنا

    آزادی مارچ کی بازگشت کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی تعداد میں کنٹینر طلب کر لیے ہیں جس کے پیش نظر برآمدات کو بندرگاہوں تک پہنچانے میں بڑی مشکل درپیش ہے اور تاجر برادری کی پریشانیوں میں بھی شدید اضافہ ہو گیا ہے ،

    موجودہ صورتحال میں برآمدات کی ترسیل بندرگاہوں تک نہیں پہنچ رہی ہے اور جہاز بغیر سامان سامان کے سفر کر رہے ہیں۔ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ، بین الاقوامی وعدوں کی عدم تکمیل تنازعات ، صارفین کا نقصان اور مارکیٹ شیئر کے ساتھ ساتھ پاکستان کے امیج کو نقصان پہنچائے گی۔پی ٹی ای اے کے چیئرمین سہیل پاشا نے ہفتے کو ایک پریس ریلیز میں کہا

    "یہ صنعت کے لئے پریشانی کی بات ہے کیونکہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے مختلف شہروں میں مرکزی سڑکوں کو روکنے کے لئے بڑے پیمانے پر برآمدی سامان سے لدے کنٹینرز کو حراست میں لیا ہے۔ واقعی یہ انتہائی افسوسناک ہے ، ” برآمدات کیلئے تیار بڑی تعداد میں کنٹینروں کو سڑکیں بلاک کرنے کے لئے ضبط کرلیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ، ٹرک اور کنٹینر کمپنیاں ضبطی سے بچنے کیلئے اب اپنے باقی کنٹینرز اور ٹریلرز اپنے اسٹیشنوں پر رکھ رہے ہیں ،

    غیر ملکی خریداروں کی دی گئی ڈیڈ لائن کے مطابق بھیجنے کے لئے تیار بڑی مقدار میں برآمدی جہاز وقت پر بندرگاہوں تک نہیں پہنچ پائے گی اور اس سے نہ صرف برآمد کنندگان کو بہت زیادہ نقصان ہوگا ، بلکہ قومی خزانے کو بھی۔ "پاکستان کی معیشت ایک خراب حالت میں ہے اور ملک کو محصولات میں اضافے کے لئے برآمدات میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ، کاروباری سرگرمیوں میں اس طرح کی رکاوٹیں اقوام عالم میں پاکستان کی منفی شبیہہ پیدا کرسکتی ہیں جو ملک سے سامان درآمد کرتی ہیں۔

    لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے روڈ ناکہ بندی کے لئے کارگو کنٹینر لگائے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے زور دیا ہے کہ ضروری ناکہ بندی کے لئے صرف خالی کنٹینرز ہی استعمال کریں کیونکہ قابل تجارت سامان رکھنے والے کنٹینرز کو عام طور پر تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اور خاص طور پر برآمد کنندگان کا زیادہ نقصان ہوتا ہے ،
    انہوں نے کہا ، "ایل سی سی آئی کو تاجروں کی طرف سے متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں کہ کافی جگہوں پر حکام نے مواد سے بھرا ہوا کنٹینر استعمال کر رہے ہیں جو اچھی بات نہیں ہے کیونکہ بڑی تعداد میں صنعتی کیمیکل بہت خطرناک ہیں”۔

    پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پنجاب کے مختلف شہروں میں سامان سے لدے کنٹینرز کو غیر قانونی طور پر امپینڈ کرنے پر احتجاج کیا ہے۔ پولیس کے ذریعہ جے یو آئی-ایف کے آزادی مارچ کی وجہ سے سڑکیں بند کرنے کے بہانے "برآمدی سامان” کے کنٹینرز میں اضافہ نے لاکھوں ڈالر کے برآمدی احکامات کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ پی ایچ ایم اے کے وائس چیئرمین شفیق بٹ نے وزیر اعظم کو مشیر برائے تجارت و ٹیکسٹائل عبد الرزاق داؤد ، تجارت اور ٹیکسٹائل کے سکریٹری ، وزیر اعلی پنجاب اور چیف سکریٹری کو خط میں کہا کہ حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے کو اٹھانا چاہئے۔ ،

  • خبردار! چینی کا زیادہ استعمال جلد بوڑھا کرنے کا سبب بننے لگا، تحقیق

    واشنگٹن: امریکی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چینی کا زیادہ استعمال بڑھاپے کے عمل کو تیز کردیتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چینی کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ فوری طور پر جسم کو توانائی مہیا کرتی ہے اور دماغ زیادہ فعال ہوجاتا ہے وہیں اس کا نقصان بھی سامنے آیا ہے کہ طویل عرصے تک چینی کا زیادہ استعمال انسان کو کئی طرح کی بیماریوں میں مبتلا کردیتا ہے جس میں ذیابیطس سرفہرست ہے۔

    حال ہی میں امریکا میں سوسائٹی فارنیوروسائنس کی سالانہ کانفرنس میں پیش کی جانے والی ایک ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ چینی دماغ کے مرکزی حصے کو اسی طرح دفعال کردیتی ہے جیسا کہ کوکین اور ہیروئن، اگر چینی کا استعمال مسلسل جاری رکھا جائے تو دماغ کو ایک طرح کا نشہ لگ جاتا ہے اور اسے چینی کی طلب ہونے لگتی ہے۔

    امریکی میڈیکل جرنل کے مطابق چینی کے زیادہ استعمال سے ہمارا اندرونی نظام متاثر ہوتا ہے اور اس میں سوزش پیدا ہوجاتی ہے، اگر طویل عرصے تک چینی کا زیادہ استعمال جاری رکھا جائے تو اس سے ہمارے جسم پر عمر بڑھنے کے اثرات کا عمل تیز ہوجاتا ہے اور انسان اپنی عمر سے بڑا دکھائی دینے لگتا ہے۔

    ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ چینی کے استعمال میں احتیاط کرتے ہیں، وہ بھی انجانے میں چینی کی زیادہ مقدار استعمال کررہے ہوتے ہیں، کیونکہ بازار سے ملنے والی کھانے پینے کی زیادہ تر اشیاءمیں تھوڑی بہت چینی موجود ہوتی ہے، چاہے اس کا ذائقہ کچھ بھی ہو، مثال کے طور پر کیچ اپ میں چینی ہوتی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں شوگر کے مریضوں کی تعداد 42 کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے، اگر پاکستان کے اعدادوشمار پر نظر ڈالی جائے تو ایک رپورٹ کے مطابق 2018 میں 17 سے 19 فیصد پاکستانی شوگر کے مرض میں مبتلا تھے جن کی تعداد ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ تھی۔

  • 28-اکتوبرلاہور میں فوڈ اسٹریٹ کا افتتاح

    لاہور:تاریخ‌اپنے آپ کو دہراتی ہے ، اوریہ ہے بھی حقیقت، جیسے کہ لاہور کی ایک اہم تاریخ ہر سال بار بارلاہوریوں‌کو یاد کرائی جاتی ہے اور وہ ہے لاہورمیں فوڈ اسٹریٹ کا افتتاح پاکستان کی پہلی فوڈ اسٹریٹ کا افتتاح28 کتوبر2000ء کو ہواتھا۔

    یہ فوڈ اسٹریٹ لاہورکے مشہورمحلے گوالمنڈی میں چیمبر لین روڈ پر قائم کی گئی تھی۔ اس سڑک پر کھانے پینے کے مختلف چھوٹے بڑے ریسٹورنٹ مدتوں سے قائم تھے جنہیں نیشنل کالج آف آرٹس کے طلبہ اور اساتذہ نے مل کرباہمی طور پر ہم آہنگ کیا اوراسے ایک فوڈ اسٹریٹ کی شکل دے دی۔

    لاہور کی یہ فوڈ اسٹریٹ نہ صرف اہل لاہور میں بے حد مقبول ہوئی بلکہ پاکستان بھر کے عوام اب جب بھی لاہور جاتے ہیں وہ اس اسٹریٹ کا دورہ ضرور کرتے ہیں۔ لاہور کی اس فوڈ اسٹریٹ کے کامیاب تجربے کے بعد نہ صرف لاہور میں بلکہ پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی اس قسم کی مزید فوڈ اسٹریٹس قائم ہوچکی ہیں۔

  • پاکستان دوڑ سے باہر ہوگیا

    ایمسٹلوین :پاکستان ہاکی ماضی کا حصہ بن گئی ، سالوں ہاکی کی دنیا کے ہیرورہنے والی پاکستان ہاکی ٹیم اب زیرو ہوکر رہ گئی ہے ، اطلاعات کے مطابق ٹوکیو اولمپکس تک رسائی کے لیے پاکستان ہاکی ٹیم کی آخری امید بھی دم توڑ گئی۔اولمپک کوالیفائرز کے دوسرے میچ میں نیدرلینڈ نے گرین شرٹس پر گولز کی برسات کر دی اور مقابلہ 1-6 سے جیت کر ٹوکیو اولمپکس سے پاکستان کو باہر اور خود رسائی حاصل کر لی۔

    اولمپکس کوالیفائیرز کا دوسرا میچ بھی ایمسٹلوین میں پاکستان اور ہالینڈ کے درمیان کھیلا گیا اور پہلے میچ کی نسبت دوسرے میچ میں پاکستان ٹیم کا کھیل انتہائی مایوس کن رہا۔قومی ٹیم کی دفاعی لائن نہ تو گول روک سکی نہ ہی فارورڈز گول کرسکے جب کہ نیدرلینڈ کے کھلاڑی ایک کے بعد ایک گول کرتے چلے گئے اور پاکستانی کھلاڑی منہ دیکھتے رہ گئے۔

    پہلے کوارٹر میں ہالینڈ کو 0-2، ہاف ٹائم میں چار صفر اور تیسرے کوارٹر میں 0-6 کی برتری تھی جب کہ پاکستان کی جانب سے واحد گول آخری کوارٹر میں رضوان علی نے کیا۔واضح رہے کہ تین مرتبہ کی چیمپئن پاکستان ہاکی ٹیم مسلسل دوسری بار اولمپکس گیمز سے باہر ہوئی ہے، 2016 کے ریو اولمپکس میں بھی پاکستان ہاکی ٹیم کوالیفائی نہیں کر سکی تھی۔پاکستان ہاکی ٹیم مجموعی طور پر تین مرتبہ اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیت چکی ہے۔

    x