Baaghi TV

Author: +9251

  • وزیراعظم نوازشریف کی صحت کےلیے دعاگواورعلاج کے لیے دواچاہتے ہیں ،چیف جسٹس

    اسلام آباد : نواز شریف کی ضمانت کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا، حکم نامے پر چیف جسٹس اور جسٹس محسن اخترکیانی کے دستخط موجود ہیں۔اس تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کے بیمارہونے پر پریشان ، صحت کےلیے دعا گو ہیں اورعلاج کے لیے دواچاہتے ہیں ،وزیراعظم کو نوازشریف کی رہائی پر کوئی اعتراض نہیں

    ایک کھرب دس ارب ڈالر کا مالک ،بیوی کو خوش نہ کرسکا

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ نیب کی جانب سے نیئر رضوی ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پیش ہوئے، نیب کے بیورو کو عدالتی احکامات سے آگاہ کرایا گیا ہے، نیب نے نوازشریف کی ضمانت پر رضامندی ظاہر کی۔ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ ادارے میاں نوازشریف کی صحت کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں

    10 لاکھ سے زائد افراد کا حکومت مخالف احتجاج، کابینہ برطرف

    عدالت کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے مطمئن کرایا گیا، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو نوازشریف کی ضمانت پراعتراض نہیں ہے۔نوازشریف کی درخواست ضمانت کو منظور کرنے کا حکم دیتےہیں، نوازشریف کو دو ملین روپے،دو شخصی ضمانت کے عوض ضمانت دی جاتی ہے، ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس نوازشریف کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے جائیں۔

    25 ہزارآنسوگیس شیل، 3 ہزار آنسو گیس بندوقیں، 40 ہزار ہیلمٹس، ایک لاکھ 5 ہزار ڈنڈے

    نوازشریف کی درخواست29اکتوبر کے لئے مقرر ہے، وزیراعلیٰ پنجاب29اکتوبرکو ذاتی طورپرپیش ہوں، وزیراعلیٰ پنجاب ڈیڑھ بجے ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ میں پیش ہوں۔ہائی کورٹ ذمہ داران سے اس سلسلے میں کچھ گزارشات کرناچاہتی ہے،

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے دوسرے تحریری حکم نامہ کے مطابق وفاقی، پنجاب حکومت سے قیدیوں سے متعلق پوچھا گیا تو انہیں معلوم نہیں تھا، یہ ساری چیزیں فیصلے میں موجود ہیں، وفاقی، پنجاب حکومت قیدیوں کی حدود سے متعلق رپورٹس دیں۔

    تمام قیدیوں کی بیماریوں اور دیگر مسائل سے عدالت کو آگاہ کیا جائے، حکومت اپنے آئینی اختیارات استعمال کرے، وفاقی وزیرداخلہ دو ہفتےمیں قیدیوں سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں، وزیرداخلہ رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرارکے پاس جمع کرائیں۔

  • ایک کھرب دس ارب ڈالر کا مالک ،بیوی کو خوش نہ کرسکا

    واشنگٹن:ایک کھرب دس ارب ڈالر کا مالک ،بیوی کو خوش نہ کرسکا اطلاعات کے مطابق دنیا کے 500 امیر ترین افراد کی نئی فہرست سامنے آگئی جس کے مطابق ایما زون کے مالک اہلیہ سے علیحدگی اور کمپنی کے نقصانات کے باوجود سرفہرست ہیں۔ ایمازون کے بانی کی مہنگی ترین طلاق میں اہلیہ کو 35ارب ڈالرکی خطیر رقم بھی دی گئی

    تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں مشہور شخصیات کی دولت اور اثاثوں پر نظر رکھنے والے میگزین بلوم برگ کی جانب سے امیر ترین شخصیات کی نئی فہرست جاری کی گئی۔فہرست کے مطابق مجموعی طور پر ایما زون کے مالک کے اثاثے کم ہوئے البتہ وہ ابھی بھی ایک کھرب دس ارب ڈالر کے مالک ہیں، فہرست میں مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس 1 ارب 80 کروڑ ڈالر کی مالیت کے اثاثوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایمازون کے مالک کے اثاثوں کی مالیت میں ایک ارب 120 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی جبکہ مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کے اثاثے 12 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بڑھ گئے۔یاد رہے کہ ایمازون کمپنی کے مالک کو رواں برس اہلیہ سے علیحدگی کے بعد انہیں 35ارب ڈالر کی خطیر رقم بشمول کمپنی حصص وغیرہ دینا پڑے تھے۔ برطانوی میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جیف بیزوس کی اہلیہ طلاق کے بعد ایمازون میں 4 فیصد حصحص (شیئرز) کی مالک بن گئیں جبکہ انہیں واشنگٹن پوسٹ اور جیف کی خلائی فرم بلیو اوریجن میں کوئی حصہ نہیں دیا گیا۔

  • 25 ہزارآنسوگیس شیل، 3 ہزار آنسو گیس بندوقیں، 40 ہزار ہیلمٹس، ایک لاکھ 5 ہزار ڈنڈے

    لاہور:آزادی مارچ کو کنٹرول کرنے اور مولانا فضل الرحمن کی تنظیم کی طرف سے کسی بھی فتنے اور انتشارسے نبٹنے کے لیے پنجاب پولیس بالکل تیاربیٹھی ہے ، اطلاعات کے مطابق پنجاب پولیس نے آزادی مارچ کے حوالے سے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی، لاہور سمیت پنجاب بھر سے دس ہزار سے زائد اضافی پولیس اہلکار متعلقہ اضلاع میں پہنچ گئے جبکہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں راستے بند کرنے کے لیے کنٹینرز بھی پکڑ لیے گئے اور افسران واہلکاروں کی چھٹیاں بھی بند کردی گئیں۔

    ٔپنجاب پولیس حکام کے مطابق جے یو آئی (ف ) کے امیر مولانا فضل الرحمن کی جانب سے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کی کال کے پیش نظر پنجاب پولیس نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ اس وقت پنجاب پولیس کے پاس 25 ہزار سے زائد آنسوگیس کے شیل، 3 ہزار آنسو گیس بندوقیں، 40 ہزار ہیلمٹس، ایک لاکھ 5 ہزار ڈنڈے اور 3 ہزار سے زائد انٹی رائٹس کٹس موجود ہیں جبکہ تمام اضلاع کی انٹی رائٹ فورس ڈیوٹی پر موجود ہوگی۔

    آئی جی پنجاب کے حکم پر لاہور سمیت پنجاب بھر میں ضلعی پولیس اور انٹی رائٹ پولیس کی سپورٹ کے لیے پنجاب کانسٹیبلری اور ٹریننگ سکولوں سے 503 ریزرویں اضافی نفری کے طور پر بھجوادی گئی ہیں۔ پنجاب پولیس نے 4 واٹر کیننز میں سے ایک لاہور، ایک ملتان اور 2 واٹرکیننز راولپنڈی بھجوادی ہیں تاکہ ایمرجنسی حالات میں مظاہرین سے نمٹاجاسکے۔

    صوبہ بھرمیں پولیس نے سینکڑوں کی تعداد میں کینٹنرز قبضے میں لے لیے ہیں، جن کی نقل وحمل کے لیے کرینیں بھی بھجوادی گئی ہیں۔ لاہور سمیت پنجاب بھر سے 60 سے زائد اضافی پریژن وینز مانگی گئی تھی جو کہ آئی جی پنجاب نے فوری بھجوانے کا حکم دیا تھا جبکہ حکومت کو رینجرز کو حساس اضلاع میں بیک اپ کے طور پر مہیا کرنے کا مراسلہ بھجوایا ہے۔

  • 10 لاکھ سے زائد افراد کا حکومت مخالف احتجاج، کابینہ برطرف

    چلی میں حکومتی اقدامات کے خلاف 10 لاکھ سے زائد افراد کے شدید احتجاج کے بعد صدر سباسٹین پنیرا نے اہم اقدامات کرتے ہوئے کابینہ کو برطرف کرنے کا اعلان کر دیا۔رپورٹ کے مطابق چلی کے صدر سباسٹین پنیرا نے کابینہ کی برطرفی کا اعلان گزشتہ روز لاکھوں افراد کے پرامن احتجاج کے بعد کیا ہے جن کا مطالبہ تھا کہ ملک کے معاشی نظام میں اصلاحات کی جائیں۔

    چلی کے صدر نے کہا کہ ‘تمام وزرا کو نوٹس بھیج دیا ہے کہ کابینہ کو ازسرنو ترتیب دیا جائے تاکہ نئے مطالبات کو پورا کیا جائے’۔جنوبی امریکی ملک میں حکومت کے عدم مساوات کے نظام کے خلاف احتجاج ایک ہفتے سے جاری ہے جو کرایوں میں اضافے پر شروع ہوا تھا۔مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات بھی پیش آئے جس کے نتیجے میں کم ازکم 17 افراد ہلاک جبکہ 7 ہزار سے زائد افراد کر گرفتار کیا گیا اور ملک کے کاروبار میں 14 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان بھی ہوا۔

    چلی کے صدر نے ہفتے کے آغاز میں ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی اور اہم شہروں میں سیکیورٹی کے لیے فوج تعینات کردیا تھا،مظاہرین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ملک اس وقت ‘وحشیوں کے خلاف حالت جنگ میں ہے’۔صدر کے ان الفاظ کے بعد حالات مزید خراب ہوئے اور شہریوں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ ان یہ الفاظ اور کارروائیوں نے ڈکٹیٹر آگسٹو پنوشے کے فوجی حکمرانی کے دور کی طرف دھکیل دیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو کا 84 واں دن،کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں‌،آزادی کی جنگ جاری

    سری نگر: مقبوضہ وادی میں بھارتی لاک ڈاؤن 84 ویں روز میں داخل ہوگیا،دوسری طرف کشمیری آج یوم سیاہ بھی منارہے ہیں ، کشمیری روز مرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔ وادی میں لاک ڈاؤن کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔قابض انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو مظاہرے سے روکنے کیلئے وادی میں سخت پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں اور ہر طرف فوج ہی فوج نظر آرہی ہے،کشمیرکا ہر چوک ہر بازار اور ہر موڑ اس وقت بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کرتا نظرآرہا ہے ،

    تفصیلات کے مطابق جنت نظیروادی کشمیر کو بھارتی فورسز نے قیدخانے میں تبدیل کردیا ہے، مسلسل بیاسی روز سے 80 لاکھ افراد کرفیو تلے زندگی گزارنے پر مجبورہیں، قابض بھارتی فورسزکی کشمیریوں پر ہر گزرتے دن کیساتھ سختیاں اور مظالم بڑھتے جارہے ہیں، نہ بچے اسکول جاسکتے ہیں اور نہ ہی مریض اسپتال۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے خوف اور غیر یقینیت کا ماحول اور رات گئے چھاپوں، ظلم و تشدد اور گرفتاریوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، دفعہ 144کے تحت سخت پابندیوں کا نفاذ اورانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائیل فون سروسز بھی بدستور معطل ہیں۔

    مقبوضہ علاقے میں صورتحال کو معمول پر لانے کی قابض انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود کشمیری بھارتی تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے مودی حکومت کے 5اگست کے غیر قانونی اقدام کیخلاف سول نافرمانی کی پر امن تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    دکانیں اور کاروباری مراکز دن بھر بیشتر وقت بند رہتی ہیں جبکہ سڑکوں پرکوئی پبلک ٹرانسپورٹ مشکل ہی نظر آتی ہے، آبادیوں میں جعلی آپریشن ہورہے ہیں، رہنماؤں سمیت گیارہ ہزار کشمیری جیلوں میں قید ہیں، ڈھائی ماہ سے کشمیریوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے، بھارتی مظالم کیخلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا جائے گا۔

    امریکی سینیٹرکرس وان ہولین نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیرمیں کرفیو ہٹا کر انسانی حقو ق کے نمائندے بھیجے جائیں۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی جانے والے امریکی سینیٹر کو وادی کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔

  • ہمارے تمام ہندو شہریوں کو دیوالی کی خوشیاں مبارک۔وزہراعظم عمران خان

    اسلام آباد:اس ملک میں رہنے والی اقلیتیں‌بھی پاکستان کے دیگر شہریوں کی طرح اپنے بنیادی حقوق کی حقدارہیں ، وزیراعظم نے اپنے پیغام کو سچ کردکھایا ، اطلاعات کے مطابق آج 27 اکتوبرکو ہندووں کے مذہبی تہوارکے موقع پروزیراعظم نے کہا ہے کہ "ہمارے تمام ہندو شہریوں کو دیوالی کی خوشیاں مبارک”ہوں

    یاد رہے کہ دنیا بھر میں تمام مذاہب سے وابستہ کچھ ایام ایسے ہوتے ہیں جنہیں خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے اوران تہواروں کو مذہبی عقیدت اور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔آج کل ہندو مذہب کے تہوار دیوالی کے دن ہیں جو کہ ہندوبرادری کے مذہبی تہواروں میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔آئیے یہ جانتے ہیں کہ دیوالی کے تہوار کاتاریخی اور مذہبی پس منظر کیا ہے ۔

    دیوالی جو دیپاولی اور عید چراغاں کے ناموں سے بھی معروف ہے ایک قدیم ہندو تہوار(کہیں کہیں تیوہار بھی کہا جاتا ہے) ہے، جسے ہر سال موسم بہار میں منایا جاتاہے۔یہ تہوار یا عید چراغاں روحانی اعتبار سے اندھیرے پر روشنی کی، نادانی پر عقل کی، برائی پر اچھائی کی اور مایوسی پر امید کی فتح کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

    اس تہوار کی تیاریاں 9 دن پہلے سے شروع ہوجاتی ہوتی ہیں اور دیگر رسومات مزید 5 دن تک جاری رہتے ہیں۔ اصل تہوار اماوس کی رات یا نئے چاند کی رات کو منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار شمسی-قمری ہندو تقویم کے مہینے کاتک میں منایا جاتا ہے۔ گریگورین تقویم کے مطابق یہ تہوار وسط اکتوبر اور وسط نومبر میں واقع ہوتا ہے۔

    دیوالی کی رات سے پہلے ہندو پیروکار گھروں کی مرمت، تزئین و آرائش، رنگ و روغن کرتے ہیں۔ دیوالی کی رات کو ہندو پیروکار نئے کپڑے پہنتے ہیں، دیے جلاتے ہیں، کہیں روشن دان، شمع اور کہیں مختلف شکلوں کے چراغ جلائے جاتے ہیں، یہ دیے گھروں کے اندر اور باہر، گلیوں میں بھی رکھے ہوتے ہیں۔

    دولت اور خوشحالی کی دیوی لکشمی کی پوجا کی جاتی ہے اورپٹاخے داغے جاتے ہیں۔ بعد میں سارے خاندان والے اجتماعی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ دوست احباب کو مدعو کیا جاتا ہے، تحفے تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں۔ جہاں دیوالی منائی جاتی ہے وہاں دیوالی کو ایک بہتریں تجارتی موسم بھی کہا جاتا ہے۔

    دیوالی ہندووں کا اہم تہوار ہی نہیں بلکہ اہم رسم یا رواج بھی ہے، اس کا دارومدار بھارت کے علاقوں کی بنیاد پر ہے۔ بھارت کے کئی علاقوں میں،یہ تہوار دھنتیراس سے شروع ہوتا ہے، ناراکا چتردسی دوسرے دن منائی جاتی ہے، تیسرے دن دیوالی، چوتھے دن دیوالی پاڑوا،جو کہ شوہر بیوی کے رشتوں کے لیے وقف ہے، اور پانچواں دن بھاوبیج، بھائی بہن کے رشتوں لیئے مخصوص ہے، اس طرح یہ تہواراپنے انجام کو پہنچتا ہے۔

    جس رات کو ہندو دیوالی مناتے ہیں، اسی رات کو جین پیروکار مہاویر کے موکش (نجات) پانے کی خوشی میں جشنِ چراغاں دیوالی مناتے ہیں، سکھ پیروکار اس تہوار کو بندی چھوڑ دیوس کے نام سے مناتے ہیں۔بھارت میں، دیوالی کے ایام ایک سرکاری تعطیل ہے۔بھارت کے ساتھ ساتھ نیپال، ماریشس، سری لنکا، میانمار، گیانا، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، سرینام، ملیشیا، سنگاپور اور فجی میں بھی دیوالی سرکاری تہوار ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر کو عملا ایک جیل میں تبدیل کردیا گیاہے، شاہ محمودقریشی.

    اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 72 سال قبل آج کے دن عالمی قانون اور اقدار کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی افواج سری نگر پرقبضے اور جموں وکشمیر کے معصوم وبے گناہ عوام پر جبر واستبداد کی سیاہ رات مسلط کرنے کے لئے اتری تھیں۔

    وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت نے اس ظلم کو جاری رکھتے ہوئے اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے عوام کی آزادی کی تڑپ اور امیدپر ڈاکہ مارنے کی ایک اورکوشش کی، ان کی آزادی و خودمختاری کے حق کو جعلی، غیرقانونی اور دھوکہ دہی کے ہتھکنڈوں سے چھیننے اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے غاصبانہ اقدامات کئے۔

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تقریبا تین ماہ ہونے کو آئے ہیں کہ کشمیری اپنے گھروں میں قیدی اور اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بنادئیے گئے ہیں۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپنی ہی شاہراہوں اورراستوں پر انہیں آنے جانے کی اجازت نہیں۔ بھارت کے زیرقبضہ پورے کشمیر کو عملا ایک جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کے جھوٹ گھڑنے کے ماہرین کے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود دنیا نے مقبوضہ جموں وکشمیر میںاس ظالمانہ صورتحال کا نوٹس لیا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کے دوست اور دشمن اس سے تقاضا کررہے ہیں، تنقید وملامت اوراس کی مذمت کررہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پورا عالمی میڈیامقبوضہ جموں وکشمیر میں درپیش صورتحال سامنے لاکر بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کررہا ہے کہ اس کی جمہوریت جعلی اورمساوی کثیرالشراکتی نظام کے دعوے سراسر جھوٹ ہیں۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ دہشت گردی کے اپنے ہمیشہ دہرائے جانے والے گھسے پٹے الزامات سے دنیا کومزیدگمراہ نہیں سکتا اور اس طرح کے عالمی سطح پر مسترد ہونے والے اس کے واویلا سے اس کے جرائم چھپ نہیں سکتے کہ اس کے ہاتھ معصوم اور بے گناہ لوگوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں ۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم کشمیریوں کے عظیم جذبے کو بھی سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے بھارت کے بہیمانہ اور انسانیت سوز مظالم، جبروتشدد اور عالمی برادری کی انہیں انصاف دلانے میں بے عملی کے باوجود جس عظیم صبرواستقلال کامظاہرہ کیا ہے وہ دنیا میں ایک مثال ہے۔

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نہ صرف ان کی تاریخی جرات وبہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلکہ اس یوم سیاہ کو مناتے ہوئے اس پختہ عزم کا اعادہ بھی کرتے ہیں کہ کشمیریوں کی بھرپور سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق انہیں ان کا حق خودارادایت مل نہیں جاتا۔

  • 27-اکتوبرپاکستان ایک اہم شخصیت سے محروم ہوگیا

    اسلام آباد:تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور 27 اکتوبرکا دن بھی تاریخ کے پاکستان کی تاریخ کا اہم دن پھر دہرا دیا دیا . اسی دن پاکستان کے ایک سابق صدرغلام اسحاق خان قضائے الٰہی سے وفات پاگئے ، غلام اسحاق خان 20 جنوری 1915ء کو اسماعیل خیل بنوں میں پیدا ہوئے تھے۔

    پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی کرنے کے بعد 1940ء میں انہوں نے صوبہ سرحد کی سول سروس سے اپنے شاندار کیریئر کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ صوبہ سرحد کے ہوم سیکریٹری، سیکریٹری محکمہ خوراک، صوبائی ترقیات کے سیکریٹری اور کمشنر ترقیات رہے۔ ایسے ہی کئی اور عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد یکم فروری 1961ء کو انہیں واپڈا کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔

    وہ اس عہدے پر 11 اپریل 1966ء تک فائز رہے۔ انہوں نے وفاقی سیکریٹری مالیات، گورنر اسٹیٹ بنک اور سیکریٹری دفاع کے عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے انہیں سیکریٹری جنرل انچیف مقرر کیا۔ یہ عہدہ وفاقی وزیر کے عہدے کے برابر تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور ہی میں وہ وزیر خزانہ بھی رہے۔

    مارچ 1985ء میں وہ سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 17 اگست 1988ء کو فضائی حادثہ میں جنرل ضیاء الحق کی ناگہانی موت کے بعد انہوں نے پاکستان کے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا۔ 12 / دسمبر 1988ء کو وہ پاکستان کے مستقل صدر منتخب ہوئے، وہ اپنے اس عہدے پر 19 جولائی 1993ء تک فائز رہے۔ انہوں نے اگست 1990ء اور اپریل 1993ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی حکومتوں کو رخصت کیا اور یوں اپنے کیریئر کے آخری زمانے میں وہ ایک متنازع شخصیت کی شکل میں سامنے آئے۔

    صدارت کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد انہوں نے اپنی عمر کا بقیہ حصہ پشاور میں بسر کیا۔27 اکتوبر 2006ء کو پشاور ان کا انتقال ہوگیا اور وہ پشاور ہی میں یونیورسٹی ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔حکومت پاکستان نے انہیں ہلال پاکستان اور ستارۂ پاکستان کے اعزازات سے نوازا تھا

  • کشمیر، یوم سیاہ، وزیراعظم عمران خان کا دنیا کے نام اہم پیغام

    کشمیر، یوم سیاہ، وزیراعظم عمران خان کا دنیا کے نام اہم پیغام

    کشمیر، یوم سیاہ، وزیراعظم عمران خان کا دنیا کے نام اہم پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کشمیر کے حوالہ سے یوم سیاہ پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یوم سیاہ کشمیر اورپاکستان سمیت دنیا بھرمیں منایا جارہا ہے، 27 اکتوبر 1947کوبھارت نے کشمیرپرقبضہ کیا، 5 اگست 2019کو بھارت نے متنازعہ علاقے کی حیثیت میں ترامیم کیں،

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    کشمیر کے لیے ‏‎آخری گولی،آخری سپاہی،آخری حد تک جائیں گے،ترجمان پاک فوج

    بھارت سن لے، جنگیں اسلحہ سے نہیں جذبہ حب الوطنی سے لڑی جاتی ہیں، ترجمان پاک فوج

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان،کشمیریوں اورمسلم امہ نے بھارتی اقدام کومستردکیا، مقبوضہ کشمیرمیں گزشتہ 3ماہ سے ذرائع ابلاغ کا مکمل بلیک آؤٹ کیا گیا،مقبوضہ کشمیردنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکا ہے، ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پرمنتقل کیا گیا، عالمی برادری،انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی مظالم کانوٹس لیں،

    بھارت بھول جائے کہ طاقت کے نشے میں کشمیر پر قبضہ کر لے گا،سابق ایئر چیف

    کشمیریو ہم تمہارے ساتھ ہیں،پاکستان کا بچہ بچہ بول پڑا، چوتھے جمعہ کو ملک گیر یکجہتی

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نام نہاد بڑی جمہوریت کے دعویداربھارت کااصل چہرہ بے نقاب ہوچکا،پاکستان مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے.

    کشمیرمیں بھارتی مظالم کیخلاف آج اتوار کو ملک بھرمیں یوم سیاہ منایا جائےگا ،کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیلئے ریلیاں نکالی جائیں گی ملک بھرمیں بھارتی مظالم کےخلاف مظاہرے کیےجائیں گے

    اسلام آباد ۔ 26 اکتوبر (اے پی پی) حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے 27 اکتوبر کوقومی اور بین الاقوامی سطح پر یوم سیاہ بھرپور طریقے سے منانے کیلئے تمام انتظامات اور تیاریاں مکمل کرلی ہیں، 27اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج مقبوضہ وادی میں داخل ہوگئی تھیں جبکہ 5 اگست کے بھارتی اقدام کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو نافذ ہے ۔

  • سوات، شانگلہ، دیربالا، ملاکنڈ ، بٹگرام اور اس کے گرد ونواح میں زلزلے

    اسلام آباد : سوات، شانگلہ، دیربالا، ملاکنڈ ، بٹگرام اور اس کے گرد ونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، جس سے لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔رات گئے زلزلے کے جھٹکوں نے سب کی نیندیں اڑادی ہیں

    تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں سوات، شانگلہ دیربالا، ملاکنڈ ، بٹگرام کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں جبکہ زلزلے کے جھٹکوں سے شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔

    لوگ گھروں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.3 جبکہ گہرائی 222 کلو میٹر تھی اس کا مرکز کوہہ دوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔زلزلہ پیما مرکز سے اب تک زلزلے سے کسی بھی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ زلزلے کی وجہ سے ہر طرف خوف کا عالم پھیل گیا۔