Baaghi TV

Author: +9251

  • مریم نواز کو بھی ہسپتال داخل کر لیا گیا، کونسا کمرہ ملا؟

    مریم نواز کو بھی ہسپتال داخل کر لیا گیا، کونسا کمرہ ملا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی ہسپتال میں طبیعت ناساز ہو گئی جس پر انہیں ہسپتال میں داخل کر لیا گیا، مریم نواز کو نواز شریف کے ساتھ والے کمرے میں داخل کیا گیا ہے، نواز شریف کی چھوٹی بیٹی اسما کو بھی لاہور بلا لیا گیا ہے،

    میرے والد کو کچھ ہوا تو …. مریم نوازکی بھی ہسپتال میں طبیعت ناساز

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مریم نواز کو والد سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر مریم نواز نے طبیعت کی خرابی کا کہا جس پر انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور والد سے ملاقات بھی کروا دی گئی، مریم نواز اب ہسپتال میں رہیں گی ،انکی دوبارہ جیل منتقلی کا فیصلہ ڈاکٹرز کریں گے، مریم نواز کا علاج شروع کر دیا گیا ہے، مریم نواز کو وی آئی پی ٹو میں شفٹ کر دیا گیا ہے.

    سروسز اسپتال میں مریم نواز کےمختلف ٹیسٹ کیے جائیں گے،

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کو سخت سیکورٹی میں ہسپتال پہنچایا گیا، مریم نواز سروسز  میں والد سے ملنے پہنچیں تو والد کے گلے لگ گئیں اور رونا شروع کر دیا جس پر نواز شریف نے مریم نواز کو تسلی دی اور کہا کہ بیٹا میں ٹھیک ہوں،مریم نواز والد کے ملاقات کے دوران آبدیدہ رہیں، ابھی تک ملاقات جاری ہے،

    مریم نواز کی والد سے ملاقات کے لئے محکمہ داخلہ کو ن لیگ کی جانب سے خط لکھا گیا تھا، بعد ازاں وزیراعظم کی ہدایت پر مریم نواز کو نواز شریف سے ملنے کی اجازت دی گئی

    شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش……..ملکی سیاست میں کھلبلی مچ گئی

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

  • میرے والد کو کچھ ہوا تو …. مریم نوازکی بھی ہسپتال میں طبیعت ناساز

    مریم نواز نے کہا ہے کہ میرے والد کو کچھ ہوا تو مقدمہ حکومت پر درج ہو گا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ میرے والد کو کچھ ہوا تو حکومت پر مقدمہ درج ہو گا، مریم نواز اسوقت ہسپتال میں والد کے ساتھ موجود ہیں اور ملاقات جاری ہے،میڈیکل بورڈ کی جانب سے مریم نواز کو انکے والد کے بارے بریفنگ دی گئی ہے،

    وزیراعظم نے مریم کو نواز سے ملاقات کی اجازت کس کے دباؤ پر دی؟

    مریم نواز کو بتایا گیا کہ ڈاکٹرطاہر شمسی کراچی سےلاہور پہنچ گئے ، ڈاکٹرطاہرشمسی حکومت پنجاب کی درخواست پرلاہورآئے ہیں ،طاہرشمسی نےسروسزاسپتال میں نواز شریف کی رپورٹ کاجائزہ لیا ،نوازشریف کےمرض کی تشخیص کی جارہی ہے ،

    مریم نواز والد سے مل کر رو پڑیں،نواز شریف نے کیا کہا؟

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ مریم نواز کی اسپتال میں طبیعت ناساز ہو گئی ہے،مریم نواز کو سروسز اسپتال میں داخل کر لیا گیا، ڈاکٹر مریم نواز کا بھی چیک اپ کر رہے ہیں، ہسپتال میں نواز شریف کے ساتھ والا کمرہ تیار کرلیا گیا،مریم نواز کی جیل منتقلی کا فیصلہ اب ڈاکٹر کی مشاورت سے ہوگا

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کو سخت سیکورٹی میں ہسپتال پہنچایا گیا، مریم نواز سروسز  میں والد سے ملنے پہنچیں تو والد کے گلے لگ گئیں اور رونا شروع کر دیا جس پر نواز شریف نے مریم نواز کو تسلی دی اور کہا کہ بیٹا میں ٹھیک ہوں،مریم نواز والد کے ملاقات کے دوران آبدیدہ رہیں، ابھی تک ملاقات جاری ہے،

    مریم نواز کی والد سے ملاقات کے لئے محکمہ داخلہ کو ن لیگ کی جانب سے خط لکھا گیا تھا، بعد ازاں وزیراعظم کی ہدایت پر مریم نواز کو نواز شریف سے ملنے کی اجازت دی گئی

    شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش……..ملکی سیاست میں کھلبلی مچ گئی

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

  • نواز شریف بیرون ملک "اڑان” بھرنے کے لئے تیار

    نواز شریف بیرون ملک "اڑان” بھرنے کے لئے تیار

    نواز شریف علاج کے لئے جائیں گے بیرون ملک، حکومت بھی تیار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک بھجوانے کے لئے تیار ہو گئی ہے، پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ میں نواز شریف کے پاس حکومت کا پیغام لے کر گئی تھی کہ وہ جہاں سے چاہیں علاج کرا سکتے ہیں لیکن انہوں نے باہر جانے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

    وزیراعظم نے مریم کو نواز سے ملاقات کی اجازت کس کے دباؤ پر دی؟

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر عدنان سے بھی مشاورت ہوئی، کراچی سے خون سپیشلسٹ ڈاکٹر شمسی کو بلا لیا گیا ہے وہ نواز شریف کے ٹیسٹ کی رپورٹس چیک کر رہے ہیں، کل تک تشخیص ہو جائے گی، کسی بھی ڈاکٹر کو کہیں سے بلانا پڑے وزیراعلیٰ کا ہیلی کاپٹر تیار کھڑا ہے ہم ڈاکٹر لے کر آئیں گے اور نواز شریف کا علاج کروائیں گے.

    مریم نواز والد سے مل کر رو پڑیں،نواز شریف نے کیا کہا؟

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں کسی کی بیماری پر سیاست نہیں کرونگی۔ ہم کیوں کسی کا برا چاہیں گے۔ سیاست کا مقصد یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف بیرون ملک کا کہیں گے تو پھر ہمیں اور کم از کم میری طرف سے کوئی انکار نہیں ہوگا تاہم جو بھی ہوگا قانون کے مطابق ہوگا۔ میری نواز شریف کیساتھ پندرہ منٹ تک ملاقات ہوئی۔ میاں صاحب نے کہا ڈاکٹرز نے بہت محنت کی۔ نواز شریف سہولیات کے حوالے سے مطئمن ہیں۔

    واضح رہے کہ نواز شریف کی طبیعت ایک مرتبہ پھر بگڑ گئی ہے اور ان کے خون میں پلیٹلیٹس کی تعداد جو 29 ہزار تک پہنچ گئی تھی اب ایک مرتبہ پھر کم ہو کر سات ہزار تک رہ گئی ہے،

    مریم نواز کی نواز شریف سے ملاقات کے حوالہ سے مسلم لیگ ن کی رکن سعدیہ تیمور نے پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع کرا ئی ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ مریم نواز کو نواز شریف سے ملاقات کیلئے پیرول پر رہا کیا جائے، دوسری طرف محکمہ داخلہ پنجاب نے نیب کی درخواست پر سابق وزیر اعظم کی سکیورٹی بڑھا دی ہے اور وی وی آئی پی وارڈ میں سی سی ٹی وی کیمرے لگا دئیے گئے ہیں،

    شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش……..ملکی سیاست میں کھلبلی مچ گئی

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کو سخت سیکورٹی میں ہسپتال پہنچایا گیا، مریم نواز سروسز  میں والد سے ملنے پہنچیں تو والد کے گلے لگ گئیں اور رونا شروع کر دیا جس پر نواز شریف نے مریم نواز کو تسلی دی اور کہا کہ بیٹا میں ٹھیک ہوں،مریم نواز والد کے ملاقات کے دوران آبدیدہ رہیں، ابھی تک ملاقات جاری ہے،

    مریم نواز کی والد سے ملاقات کے لئے محکمہ داخلہ کو ن لیگ کی جانب سے خط لکھا گیا تھا، بعد ازاں وزیراعظم کی ہدایت پر مریم نواز کو نواز شریف سے ملنے کی اجازت دی گئی

  • وزیراعظم نے مریم کو نواز سے ملاقات کی اجازت کس کے دباؤ پر دی؟

    وزیراعظم نے مریم کو نواز سے ملاقات کی اجازت کس کے دباؤ پر دی؟

    وزیراعظم نے کس کے دباؤ پر مریم نواز کو والد سے ملاقات کی اجازت کی ہدایت کی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مریم نواز کو ملاقات کی اجازت دی،نوازشریف کو اسپتال میں تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں،ملاقات کے لیے وزیراعظم عمران خان پر کوئی دباوَ نہیں تھا،نوازشریف کی تمام بیماریوں کا علاج پاکستان میں موجود ہے،

    مریم نواز والد سے مل کر رو پڑیں،نواز شریف نے کیا کہا؟

    غلام سرور نے مزید کہا کہ آصف زرداری کو بھی پمز اسپتال میں ان کی پسند کا کمرہ دیا گیا ہے،آزادی مارچ کے حوالہ سے وفاقی وزیر نے کہا کہ پرامن احتجاج کے لیے پریڈ گراوَنڈ حاضر ہے،مولانا فضل الرحمان اگر ایل او سی پر آزادی مارچ کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا،

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کو سخت سیکورٹی میں ہسپتال پہنچایا گیا، مریم نواز سروسز  میں والد سے ملنے پہنچیں تو والد کے گلے لگ گئیں اور رونا شروع کر دیا جس پر نواز شریف نے مریم نواز کو تسلی دی اور کہا کہ بیٹا میں ٹھیک ہوں،مریم نواز والد کے ملاقات کے دوران آبدیدہ رہیں، ابھی تک ملاقات جاری ہے،

    مریم نواز کی والد سے ملاقات کے لئے محکمہ داخلہ کو ن لیگ کی جانب سے خط لکھا گیا تھا، بعد ازاں وزیراعظم کی ہدایت پر مریم نواز کو نواز شریف سے ملنے کی اجازت دی گئی

    شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش……..ملکی سیاست میں کھلبلی مچ گئی

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

  • مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے پیچھے مودی کا بیانیہ ہے ،یہ دعویٰ کس نے کر دیا

    مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے پیچھے مودی کا بیانیہ ہے ،یہ دعویٰ کس نے کر دیا

    مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے پیچھے مودی کا بیانیہ ہے، موجودہ سیاسی ماحول میں مولانا فضل الرحمان ،مریم نواز اور بلاول بھٹو کی قابل دید جوڑی بنی ہے جو مختلف زاویوں سے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں

    اسلام آباد ۔ 23 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے پیچھے مودی کا بیانیہ ہے ہم ماضی کے دھرنے سے پہلے چار حلقے نہ کھولنے کے خلاف نکلے تھے جبکہ مولانا کس لیے آ رہے ہیں ۔انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو واضح اکثریت نہیں ملی جس کی وجہ سے مخلوط حکومت بنانا پڑی۔حکومت کے 13ماہ کے دوران معیشت میں استحکام آیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد عوام کی شکایات کے حل کے لیے وزیراعظم شکایات سیل کا اجراء کیا جس میں اب تک 13 لاکھ 60 ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 12لاکھ شکایات کا ازالہ کیا جا چکا ہے۔

    شہباز شریف نے آزادی مارچ کے غبارے سے ہوا نکال دی

    آزادی مارچ، 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں جلسہ کریں گے، شہباز شریف کی مولانا کی حمایت

    بدھ کو وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور کے ہمراہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ وزارت پارلیمانی امور دونوں ایوانوں کے اندر سپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینیٹ کی معاونت کر رہی ہے۔ پارلیمان کی کمیٹیوں میں وزارت کا اہم کردار ہے وزیراعظم تمام وزارتوں کے ڈویژنل سربراہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 93 کے تحت وزیر اعظم کے پانچ مشیر پارلیمنٹ میں بیٹھ سکتے ہیں جبکہ معاون خصوصی حکومت کی پارلیمنٹ کے باہر معاونت کر تے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے 13 اگست کو اقتدار میں قدم رکھتے ہی عوام کی شکایات کے ازالہ کے لیے پاکستان سیٹیزن پورٹل (وزیراعظم شکایات سیل) کا اجراء کیا جو بہت کامیاب رہا ہے سمارٹ موبائل فون اور ڈیجیٹل طریقے سے ملک بھر سے شکایات براہ راست وزیراعظم کوپہنچاتے ہیں اور ان کے حل کے لیے پورا سسٹم موجود ہے اور شکایات کا ازالہ محکموں کے ذریعے کیا جاتاہے۔

    آزادی مارچ کا قصہ ہوا تمام، مولانا فضل الرحمان 27 اکتوبرکو ہوں گے پاکستان سے فرار

    مولانا وزیراعظم کی خواہش پر اسلام آباد آ رہے ہیں، خبر نے کھلبلی مچا دی

    وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شکایات سیل کو اب تک 13 لاکھ 60 ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 12 لاکھ کا ازالہ کیا جاچکا ہے۔وزیر مملکت علی محمد خان وزیراعظم شکایات سیل کی نگرانی کررہے ہیں انسانی ہمدردی کے کاموں پر فخر ہے ۔انہوں نے کہا کہ علی محمد خان دور دراز کے مختلف اضلاع میں کھلی کچہری کا انعقاد کرکے عوام کے مسائل حل کر رہے ہیں۔ وزیراعظم شکایات سیل کا ہر ہفتہ میں اجلاس کرکے عوام کے مسائل اور حل کے لیے غور کیا جاتا ہے وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس میں وزراء سے کہا ہے کہ وہ اپنی وزارت سے ہٹ کرعوام کی فلاح کے لیے کوئی پروگرام بتائیں جس سے عوام کو ریلیف ملے۔

    نواز اور شہباز میں ختم نہ ہونے والی جنگ چھڑ گئی

    آزادی مارچ کی ابھی تیاریاں جاری اور حکومت کےاستعفے آنا شروع ہو گئے، کس نے استعفیٰ دیا؟ اہم خبر

    وفاقی وزیر نے کہا کہ روزمرہ کی استعمال ہونے والی اشیاء کے لیے ایپلیکیشن بنا رہے ہیں جس سے مہنگائی اور خود ساختہ قیمتوں میں اضافے کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی اور فلور ملز مالکان کے ناجائز منافع کا سد باب کیا جاسکے گا جو تین سوسے لیکر چار سو روپے تک منافع کما رہے ہیں ۔

    اعظم سواتی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینیٹ غیر جانبدار ہیں کیونکہ ان کو ملکی مسائل کا گہرا تجربہ ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو انتخابات میں واضح اکثریت نہیں ملی جس کی وجہ سے مخلوط حکومت بنانا پڑی ۔حکومت کو اتحادی جماعتوں کی رائے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں سینیٹ کے اندر پاکستان تحریک انصاف اکثریت حاصل کر لے گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں مولانا فضل الرحمان ،مریم نواز اور بلاول بھٹو کی قابل دید جوڑی بنی ہے جو مختلف زاویوں سے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں ۔مولانا فضل الرحمان کو مہنگائی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے دراصل اپوزیشن جماعتیں اور مولانا خود احتساب کے خلاف ہیں لیکن ملک میں احتساب کا نظام چلنے والا ہے جس سے یہ خوفزدہ ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ 13 ماہ میں ملکی معیشت اور ملکی حالات میں استحکام آیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے پیچھے مودی کا بیانیہ ہے تاریخ گوا ہ ہے کہ ہم نے ماضی میں چار حلقے نہ کھولنے کے خلاف دھرنا دیا جبکہ مولانا فضل الرحمان کا کیا مقصد ہے انہوں نے کہا کہ نیب حکومت کے ماتحت نہیں ہے ان کے مقدمات سے بھی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے اگر کسی جرنیل کو گالی دے کر یہ سمجتھے ہیں کہ ان کو کیا اخلاقی عزت ملے گی ہم اپنے اداروں کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔

    ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ میڈیا ورکر کے ساتھ ہمدردی ہے ماضی میں 51 ارب روپے میڈیا مالکان کو دئیے گئے ہیں۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان اس مسئلہ کو دیکھ رہی ہیں ۔عمران خان کی حکومت احتساب کو روکنے کے لیے کسی کے ساتھ ڈیل نہیں کرے گی اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔حکومت کو بل پاس کرانے میں دشواری کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریض ایڑھیاں رگڑ کر مر رہے ہیں یہ مافیا جو مسلط کیا ہوا ہے وہ ایک گھنٹہ کام کر کے چلے جاتے ہیں باہر اپنے کلینک پر اور فارما سوٹیکل میں اس حوالے سے آرڈیننس لائیں گے عمران خان کی حکومت مافیا کو توڑ دے گی ۔

    اعظم سواتی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل نہیں ہوگی۔ اگر کسی نے قانون کو ہاتھ میں لیا تو حکومت ان کو معاف نہیں کرے گی ۔عوام کی حفاظت کرنا اور ان کے کاروبار کی حفاظت کرنا حکومت پر فرض ہے ۔انہوں نے کہا کہ اداروں میں کام کرنے والے ڈیلی ویجز اور دیگر ملازمین کی مستقلی اور اداروں میں اصلاحات کے لیے ڈاکٹر عشرت حسین کام کر رہے ہیں۔ اس موقع پر وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ وزیراعظم شکایات سیل کئی سالوں سے کا م کر رہا ہے اس میں ملک سے اور بیرون ملک کام کرنے والے لوگ شکایات بھیجتے ہیں میں خود ان شکایات کے ازالہ کے لیے چاروں صوبوں میں کھلی کچہری لگا کر مسائل حل کر رہا ہوں جب ذمہ داری ملی تو اس وقت پنجاب سے 66فیصد سندھ میں 83 فیصد کے پی کے سے 53 فیصد اور بلوچستان سے 75 فیصد شکایات موصول ہو رہی تھیں ان تمام شکایات کو قانون کے مطابق حل کیا جارہا ہے۔

    وزیر مملکت نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو عوام نے پانچ سال حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے ۔تبدیلی کی ابتداء اس دن سے شروع ہوئی جب عمران خان نے اقتدار میں قدم رکھا اور کابینہ کے اجلاس میں بیٹھ کر کہا کہ کرپشن زدہ کو کابینہ میں نہیں رہنے دوں گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اب کشمیر کے ایشو کو بجائے اٹھانے کے مولانا کے آزادی مارچ کی وجہ سے توجہ ہٹائی گئی ہے اس سے کس کو فائدہ ملا ہے۔

  • مریم نواز والد سے مل کر رو پڑیں،نواز شریف نے کیا کہا؟

    مریم نواز اپنے والد سے مل کر رو پڑیں،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کو سخت سیکورٹی میں ہسپتال پہنچایا گیا، مریم نواز سروسز  میں والد سے ملنے پہنچیں تو والد کے گلے لگ گئیں اور رونا شروع کر دیا جس پر نواز شریف نے مریم نواز کو تسلی دی اور کہا کہ بیٹا میں ٹھیک ہوں،مریم نواز والد کے ملاقات کے دوران آبدیدہ رہیں، ابھی تک ملاقات جاری ہے،

    مریم نواز کی والد سے ملاقات کے لئے محکمہ داخلہ کو ن لیگ کی جانب سے خط لکھا گیا تھا، بعد ازاں وزیراعظم کی ہدایت پر مریم نواز کو نواز شریف سے ملنے کی اجازت دی گئی

    شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش……..ملکی سیاست میں کھلبلی مچ گئی

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    واضح رہے کہ مریم نواز کو آج عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے مریم نواز کے جوڈیشل ریمانڈ میں دو روز کی توسیع کر دی،

    عدالت نے نیب تفتیشی افسر سے ریفرنس سے متعلق استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنس کب دائر کیا جائے گا، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ریفرنس تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے،رہفرنس چئر مین نیب کی منظوری کے بعد دائر کر دیا جائے گا،

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالت سے اپنے والد میاں نواز شریف سے ملاقات کی اجازت مانگی تا ہم عدالت نے مریم نواز کی درخواست مسترد کر دی

     

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی جانب سے نوازشریف کی عیادت کی، نوازشریف کے پاس حکومت کا پیغام لے کر گئی تھی، نوازشریف جس سے بھی معائنہ کرواناچاہیں، ہم تیار ہیں، نوازشریف نےعلاج معالجے پر اطمینان کا اظہار کیا، ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی طبیعت اب بہتر ہے، بہترین ڈاکٹرز نوازشریف کا علاج کر رہے ہیں،

  • ٹی ٹین لیگ ، پاکستان کرکٹ بورڈ کا اچھا فیصلہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی 01 لیگ پر بیان جاری کردیا۔ ٹی 01 لیگ متحدہ عرب امارات میں 01 سے 42 نومبر تک جاری رہے گی۔

    کھلاڑیوں کا ورک لوڈ اور پاکستان کے پریمیر کرکٹ ٹورنامنٹ، قائداعظم ٹرافی، میں ان کی شرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے پی سی بی نے کھلاڑیوں کو جاری کیے گئےمشروط این او سی منسوخ کردئیے ہیں۔ کھلاڑیوں کی فٹنس اور میڈیکل صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کیمپ 01 سے 41 نومبر تک نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں جاری رہے گا جبکہ قائداعظم ٹرافی کے ساتویں اور دسویں راؤنڈ کے میچز 00 نومبر سے 1 دسمبر کے درمیان میں جاری رہیں گے۔ ایونٹ کا فائنل میچ 9 سے 01 دسمبر تک کراچی میں کھیلا جائے گا۔
    پی سی بی نے یہ فیصلہ کھلاڑیوں اور ڈومیسٹک کرکٹ کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے جس کی کوریج تمام میڈیا میں کی گئی ہے۔

  • کالعدم تنظیموں کے خلاف کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ حماد اظہر نے بتا دیا

    کالعدم تنظیموں کے خلاف کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ حماد اظہر نے بتا دیا

    پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے کب تک باہر نکلے گا؟ وفاقی وزیر نے بتا دیا,ممنوعہ تنظیموں کے حوالہ سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حوالہ سے تمام اقدامات ملکی قوانین کے مطابق کئے جا رہے ہیں۔

    اسلام آباد ۔ 23 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہرنے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایکشن پلان سے متعلق نکات پر پاکستان نے پیشرفت کی ہے اور امید ہے کہ جون 2020ء تک پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکل آئے گا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایکشن پلان بارے حکومت کے تمام اداروں نے مربوط انداز میں کام کیا ہے، ایف اے ٹی ایف سے متعلق علیحدہ سیکرٹریٹ قائم کر رہے ہیں، ستمبر کی رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے پیشرفت کو سراہا گیا ہے۔

    یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں فنانشنل مینجمنٹ یونٹ کے ڈائریکٹر منصور صدیقی، کائونٹر ٹیررازم شعبہ کے ڈائریکٹر احمد فاروق اور نیکٹا کے ڈائریکٹر شہزاد سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو فروری 2018ء میں گرے لسٹ میں شامل کیا گیا، جون 2018ء میں ایکشن پلان دیا گیا، پاکستان اس وقت ایف اے ٹی ایف کی نگرانی کے دو مراحل سے گزر رہا ہے، ایک ایشیاء پیسفک گروپ ہے جبکہ دوسرا آئی سی آر جی ہے، ایک لابی یہ چاہتی تھی کہ پاکستان کے حوالہ سے دونوں نگران گروپوں کو یکجا کیا جائے تاہم ہم نے ہدف کے مطابق اس کوشش کو ناکام بنا دیا ہے جس کے نتیجہ میں پاکستان کو اکتوبر 2020ء تک کا وقت ملا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی سی آر جی کے ایکشن پلان میں پاکستان کو 27 ایکشن آئٹم دیئے گئے تھے، اس کی نگرانی کا وقت 15 ماہ ہے، ہماری حکومت نے ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد کے حوالہ سے مؤثر انداز میں کام کیا، ستمبر 2019ء تک پاکستان نے 27 ایکشن پلان میں سے 25 پر نمایاں پیشرفت کی ہے یہ ایک اہم پیشرفت ہے اور ستمبر کی رپورٹ میں اس کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے پلانری اجلاس میں بھی اچھی پیشرفت ہوئی ہے، کئی ممالک نے پاکستان کی حمایت کی اور پاکستان کی جانب سے گذشتہ 10 ماہ میں اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا چونکہ ایف اے ٹی ایف کی کارروائی مخفی رکھی جاتی ہے اس لئے ہم وہ تفصیلات نہیں دے سکتے تاہم اجلاس کے بعد جو بیان جاری ہوا ان میں تین جگہوں پر پاکستان کی تعریف کی گئی ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ 2020ء تک آئی سی آر جی کے ایکشن پلان سے متعلق نکات کو مکمل کیا جائے گا اور ہمیں یہ بھی توقع ہے کہ جون 2020ء تک پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایشیاء پیسفک گروپ کی نگرانی کا عرصہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے اس میں پاکستان کیلئے 40 نکات دیئے گئے تھے جس میں 10 مکمل اور 26 جزوی طور پر مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 4 نامکمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح آئی سی آر جی ایکشن پلان ہے اور اس پر مؤثر انداز میں کام ہو رہا ہے، یہ ایک چیلنجنگ عمل ہے جس میں ہمیں کامیابی ملے گی۔

    ایف اے ٹی ایف کا ایک بار پھر ڈومور، کالعدم تنظیموں کیخلاف کیا کیا؟ رپورٹ طلب

    ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کی کوششوں کا اعتراف، ڈومور بھی کہہ دیا

    انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران گذشتہ 6 ماہ میں ایکشن پلان سے متعلق اقدامات کا تفصیل سے ذکر کیا اور کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالہ سے علیحدہ سیکرٹریٹ بنایا جا رہا ہے جو صرف ایف اے ٹی ایف سے متعلق امور دیکھے گا۔ اس کے علاوہ مختلف حکومتی اداروں میں بھی ایف اے ٹی ایف کے سیل قائم کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایکشن پلان سے متعلق فنانشنل مینجمنٹ یونٹ، سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، فارن آفس، وزارت داخلہ، مسلح افواج اور دیگر اداروں نے مربوط انداز میں کام کیا ہے جس کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔

    ایف اے ٹی ایف …پاکستان کونسی لسٹ میں رہے گا؟ فیصلہ آ گیا

    ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جو ایکشن پلان دیا گیا ہے وہ قابل حصول ہے اور اس پر عملدرآمد پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے، جنوری کے پہلے ہفتہ میں ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ آ جائے گی، ہم اپنے اقدامات جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے 40 ممبران ہیں اور اس میں فیصلہ سازی اتفاق رائے سے تکنیکی رپورٹس کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انسداد منی لانڈرنگ، دہشت گردی کیلئے مالی معاونت کے خاتمہ اور مشکوک لین دین کے حوالہ سے کافی تحقیقات ہوئی ہیں اس پر کام ہو رہا ہے، اب بیشتر کیسز پراسیکیوشن اور عدلیہ کے مراحل میں ہیں۔

    ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے حوالہ سے صوبوں سے قابل اطمینان ردعمل ملا ہے، ایف اے ٹی ایف سیکرٹریٹ بنانے کا مقصد بھی رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔ ایف اے ٹی ایف میں بھارت کے کردار کے حوالہ سے سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت کے حوالہ سے ہم نے رکن ممالک کو آگاہ کر دیا تھا، بھارت کو اس طرح کے تکنیکی فورمز پر ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہئے۔ ممنوعہ تنظیموں کے حوالہ سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حوالہ سے تمام اقدامات ملکی قوانین کے مطابق کئے جا رہے ہیں۔

  • آزاد کشمیر میں احتجاج کرنےوالے علیحدگی پسند کون لوگ ہیں ؟

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں نام نہاد قوم پرست جماعتوں کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری ہے اس احتجاج میں آزاد جموں و کشمیر کی چھوٹی بڑی 20 سے زائد جماعتوں کے اتحاد نے شرکت کر رکھی ہے، اس کا اتحاد کے احتجاج کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کشمیر کو کلی طور پر تمام اکائیوں کے سمیت مکمل آزاد کیا جائے اور اسے ایک خود محتار ریاست بننا چاہیے ،

    آزاد کشمیر کی بیشترعلیحدگی پسند تنظیمیں جو کہ حالیہ احتجاج کا حصہ ہیں کشمیر متعلق پوری پاکستانی قوم سے محتلف نظریات رکھتی ہیں، ان علیحدگی پسند تنظیموں کےمطابق 21 اکتوبر 1947 کو قبائلی مجاہدین کشمیری عوام کی مدد کیلئے کشمیر آئے تھے اور ان کے آنے کے بعد بھارت نے کشمیر میں اپنی افواج اتاری تھیں، اور انہی قبائلیوں کی وجہ سے کشمیر تقسیم ہوا اور انہی کی وجہ سے آج کشمیری ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں اور یہ بڑے مجرم ہیں، اور یہ تمام علیحدگی پسند لوگ 21 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کیلئے راولا کوٹ سے مظفرآباد کیلئے نکلے ہوئے تھے

    مظفر آبد میں اپر اڈا کے مقام پر ان لوگوں نے جلسے کا اعلان کر رکھا تھا جہاں انہوں نے اپنی تقریب کرنی تھی وہاں پر جب یہ لوگ اکٹھا ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے مظفر آباد قانون ساز اسمبلی کی طرف مارچ کرنا ہے، ابھی انتظامیہ کیساتھ مذاکرات ہو رہے تھے تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا ، حالات کو قابو کرنے اور نارمل حالت میں لانے کیلئے پولیس نے ان مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کیا ، اس ہنگامی صورت حال کے نتیجے میں ایک بزرگ شہری جا بحق ہوئے جن کا ان مظاہرین کیساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ، اس کے بعد مظفر آباد پریس کلب کے سامنے بھی احتجاج کیا گیا تھا جہاں پولیس کی بھاری نفری نے حالات کو قابو میں کیا گیا تھا

    اس سارے معاملے میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ان لوگوں کے مطالبے پہ دفتر خارجہ کو خط لکھا تھا کہ یوا ین کی ہیومن رائٹس کونسل کا وفد مظفرآباد آئے اور ان لوگوں سے ملاقات کرے، اس بعد راجہ فاروق حیدر ان علیحدگی پسند جماعتوں کو لیکر مظفرآباد میں یو این کے دفتر گئے جہاں انہوں نے اپنی یادادشت جمع کروائی جسے یہ کہتے ہیں کہ ان کے یو این کیساتھ مذاکرات ہوئے ،

    اور ان علیحدگی پسند جماعتوں کے احتجاج کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ 21 اکتوبر جس دن یہ احتجاج شروع ہوا اس دن ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان میں موجود تمام ممالک کے سفیروں کو کنٹرول لائن کا دورہ کروایا ہے اور بھارت کا جھوٹ کا پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور کشمیر ایشو پر پاکستان فرنٹ فٹ پر کھیل رہا ہے ، ایسے میں بھارت سے یہ ٹویٹس آنا شروع ہو گئی ہیں کہ مظفر آباد میں پاکستانی فوج کیخلاف احتجاج کرنے پولیس نے کشمیریوں پر لاٹھی چارج کیا ہے،

    کچھ انڈین ٹی وی چینلز نے تو اس ہنگامی صورتحال کو براہ راست بھی بھارت میں دکھایا جو کہ پاکستان کے امیج اور سالمیت کیلئے بالکل اچھا نہیں ہے ، اور یہ احتجاج مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے بھی جا ملتا ہے جو کہ وقت اور جگہ کے لحاظ سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ،

    مولانا فضل الرحمن بیرونی ایجنڈے پرپاکستان کوبدنام کرنے پرتلے ہوئے ہیں،سنی اتحاد کونسل

  • مریم نواز کو اچانک ہسپتال پہنچا دیا گیا، خبر نے کھلبلی مچا دی

    مریم نواز کو اچانک ہسپتال پہنچا دیا گیا، خبر نے کھلبلی مچا دی

    مریم نواز کو اچانک ہسپتال پہنچا دیا گیا، خبر نے کھلبلی مچا دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے مریم نواز کو اپنے بیمار والد سے ملاقات کی اجازت دے دی، مریم نواز کو جیل حکام کوٹ لکھپت جیل سے لے کر سروسز ہسپتال روانہ ہوئی اب مریم نواز سروسز ہسپتال پہنچ چکی ہیں، سخت سیکورٹی میں مریم نواز کو ہسپتال لایا گیا، مریم نواز کو والد سے ملاقات کے لئے ایک گھنٹہ وقت دیا جائے گا، بعد ازاں مریم نواز کو دوبارہ جیل منتقل کر دیا جائے گا.

    مریم نواز کی والد سے ملاقات کے لئے محکمہ داخلہ کو ن لیگ کی جانب سے خط لکھا گیا تھا، بعد ازاں وزیراعظم کی ہدایت پر مریم نواز کو نواز شریف سے ملنے کی اجازت دی گئی

    شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش……..ملکی سیاست میں کھلبلی مچ گئی

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    واضح رہے کہ مریم نواز کو آج عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے مریم نواز کے جوڈیشل ریمانڈ میں دو روز کی توسیع کر دی،

    عدالت نے نیب تفتیشی افسر سے ریفرنس سے متعلق استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنس کب دائر کیا جائے گا، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ریفرنس تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے،رہفرنس چئر مین نیب کی منظوری کے بعد دائر کر دیا جائے گا،

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالت سے اپنے والد میاں نواز شریف سے ملاقات کی اجازت مانگی تا ہم عدالت نے مریم نواز کی درخواست مسترد کر دی