Baaghi TV

Author: +9251

  • پاک بحریہ اور انڈونیشین بحریہ کی مشترکہ بحری مشق سی تھنڈر IV- کا اختتام

    پاک بحریہ اور انڈونیشین بحریہ کی مشترکہ بحری مشق سی تھنڈر IV- کا اختتام

    کراچی (19 اکتوبر 2019): پاکستان نیوی اسپیشل سروس گروپ اور انڈونیشین نیوی اسپیشل آپریشن فورسزکے مابین مشترکہ مشق سی تھنڈر IV- 2019 کا اختتام ہوگیا ہے۔

    پاکستان اور انڈونیشیا کی بحریہ کے مابین ہونے والی مشترکہ مشق سی تھنڈر ہر سا ل منعقد کی جاتی ہے۔ مسلسل سات روز تک جاری رہنے والی حالیہ مشق اسی سلسلے کی چوتھی بحری مشق تھی۔

    مشق کے اہم مقاصد میں مضبوط عسکری تعلقات ، اسپیشل آپریشن فورسز کے مابین روابط اورباہمی آپریشنل تیاری میں بہتری، پیشہ ورانہ مہارت کا تبادلہ اور شریک فورسز کے مابین انسداد دہشت گردی آپریشنز کے تجربات کا تبادلہ شامل تھا۔مشق کے دوران میری ٹائم انسداد دہشت گردی آپریشنزکے تحت بحیرہ عرب میں میری ٹائم انٹرڈکشن آپریشن کیے گئے۔

    مشقوں کا اختتام بحیرہ عرب میں مشتر کہ وِزٹ بورڈ سرچ اور سیزر آپریشنز کے شاندار مظاہرے سے ہوا جس میں پاک بحریہ کے بحری جہازوں ، سی کنگ ہیلی کاپٹرز، اسپیشل فورسز بوٹس اور شریک پاک بحریہ اورانڈونیشین بحریہ کی ایس او ایف ٹیموں نے حصہ لیا۔

    بحری مشق سی تھنڈرپاک بحریہ اور انڈونیشین بحریہ کے درمیان مضبوط عسکری تعاون کی عکاس ہے۔ مشترکہ مشق کے دوران حاصل کیا گیا پیشہ ورانہ تجربہ باہمی طور پر سود مند رہا اور دو برادرانہ بحری افواج کے مابین دو طرفہ تعاون میں فروغ کا باعث ہوگا۔

  • حسن علی دورہ آسٹریلیا سے باہر ہو گئے ، زرائع

    حسن علی دورہ آسٹریلیا سے باہر ہو گئے ، زرائع

    فٹنس مسائل سے دوچار فاسٹ بولر حسن علی آسٹریلیا کیخلاف سیریز سے باہر ہو گئے

    سری لنکا کے خلاف سیریز سے پہلے کمر درد کا شکار ہونے والے بائیں ہاتھ کے پیسر کو ڈاکٹرز نے مزید تین ہفتے آرام کی ہدایت کی ہے، وہ فیصل آباد میں جاری نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں سینٹرل پنجاب کی جانب سے صرف ایک میچ سدرن پنجاب کیخلاف کھیلے ہیں جس میں انہوں نے تین کھلاڑیوں کو آوٹ کیا تھا
    حسن علی کا نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پی سی بی میڈیکل سٹاف کی زیر نگرانی ری ہیب پراسس جاری رہے گا تاہم وہ آسٹریلیا کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز سے باہر ہو گئے ہیں اور ٹیسٹ میچوں میں بھی فاسٹ بولر کی شمولیت کے امکانات بھی معدوم دکھائی دے رہے ہیں،

    زرائع کیمطابق حسن علی کی فٹنس رپورٹ کیلئر نہ ہونے کے پر سلیکٹرز نے ٹی ٹوئنٹی کے مجوزہ کھلاڑیوں کی فہرست سے نکال دیا ہے، تین ہفتوں بعد پیسر کا ایک بار پھر ٹیسٹ لیا جائے گا، اس کی رپورٹس آنے کے بعد حسن علی کے مستقبل کا فیصلہ ہو سکے گا، قومی ٹیم کا اعلان 21 اکتوبر کو ہو رہا ہے جس میں حسن علی کی جگہ کسی نوجوان بالر کا سکواڈ میں شامل کیا جا سکتا ہے،

    کپتانی سے برطرفی کے بعد سرفراز کو ماہانہ کتنے پیسے ملیں گے ؟

  • گرفتار بھارتی شخص اے ٹی ایم ڈکیتی کی کتنی وارداتوں میں ملوث تھا؟

    گرفتار بھارتی شخص اے ٹی ایم ڈکیتی کی کتنی وارداتوں میں ملوث تھا؟

    بھارتی پولیس نے بھارت بھر میں اے ٹی ایم وارداتوں میں مطلوب 27 سالہ بھارتی شخص کودہلی کے وسنت کنج علاقے سے گرفتار کر لیا ہے۔

    مندر میں ڈکیتی کی واردات، سیکورٹی گارڈ کے ساتھ ڈاکووں نے کیا سلوک کیا؟

    بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے آج بتایا کہ گرفتار شخص کا تعلق ہریانہ کے ضلع میوات سے ہے، زاہد اے ٹی ایم ڈکیتی کی 33 وارداتوں میں مطلوب تھا۔

    پولیس کے مطابق ملزم اے ٹی ایم توڑنے کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھا اور وہ راجستھان ، ہریانہ ، پنجاب اور دہلی میں اکثر اپنے ٹھکانے تبدیل کرتا رہا۔

    کینڈین شہری کے ساتھ ڈکیتی، بھارتی شہری گرفتار

    بھارتی پولیس اہلکار نے بتایا کہ گذشتہ بدھ کو پولیس کو اطلاع ملی کہ زاہد پاور سب اسٹیشن ، نیلسن منڈیلا مارگ ، وسنت کنج ، سے رابطہ کرنے کے لئے آئے گا ، جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

    بھارتی پارلیمنٹ میں چالیس فیصد سے زائد مجرم اراکین پارلیمنٹ

    واضح رہے کہ قبل ازیں گیتا کالونی کے علاقے میں اے ٹی ایم کیش چوری کے معاملے میں 2012 میں زاہد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    پولیس کے مطابق ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ، وہ اور اس کا ساتھی دہلی ، مہاراشٹر ، اڈیشہ ، چنئی اور ہریانہ میں اے ٹی ایم ڈکیتی کے معاملات میں مصروف ہو گئے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ ملزمان اسپرے پینٹ سے چہروں کو ڈھانپنے کے بعد گیس کٹر کی مدد سے مشین کاٹتے تھے۔

  • اپوزیشن مطلب صرف اپوزیشن کرنا—از— انشال راؤ

    اپوزیشن مطلب صرف اپوزیشن کرنا—از— انشال راؤ

    انسانی تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ انسان خود ہی الجھنیں پیدا کرتا ہے پھر خود ہی بےچین ہوجاتا ہے یہ بےچینی بڑھتی ہے تو انسان کو انقلابی بنادیتی ہے جو آخرکار ایک نئی کشاکش کو جنم دے دیتی ہے پاکستانی تاریخ ایسے تناو سے بھری پڑی ہے اس سلسلے کی کڑیاں آج بھی دیکھنے میں آرہی ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ لپٹی ہوئی ہیں

    گو آج کا پاکستان ماضی کے پاکستان سے بہت آگے آچکا ہے مگر تسلسل کے لحاظ جو کچھ آج ہورہا ہے جو ماضی بعید اور ماضی قریب میں ہوچکا اسی راہ کا حصہ ہے نہ کسی پر کیچڑ اچھالنا مقصد ہے نہ ہی کسی کے قصیدے پڑھنا مگر اس سلسلے کی ایک جھلک پیش کرنے کی کوشش ضرور کررہا ہوں، ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ جب جب کسی ایک گروہ کے ذاتی مفادات کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو اس گروہ نے قومی مفادات کی بھی پرواہ نہ کی اور تمام حدیں پار کرکے انقلاب لانے میدان میں آگیا،

    پاکستانی تاریخ کے تمام انقلابات کا جائزہ لیا جائے تو دو بات مشترک ملیں گی ایک مذہب کارڈ دوسری طفیلیت یعنی کسی نادیدہ قوت کے آلہ کار ہونا خواہ وہ اندرونی ہو یا بیرونی طاقت، ہماری روایت یہی رہی کہ جو بھی حکومت آئی اس نے ملکی و قومی استحکام پر اپنی پارٹی و شخصیات کے مفادات کو ترجیح دی اور سب سے المناک پہلو یہ کہ ملک و قوم کو جتنا نقصان حکومت کی غلط پالیسیوں یا ذاتی مفادات سے پہنچا اس سے کئی گنا زیادہ نقصان اپوزیشن کی ریشہ دوانیوں و سازشوں سے پہنچا خواہ وہ ماضی بعید کی اپوزیشن ہوں یا پھر پچھلے دو ادوار کی میڈ ان لندن فرینڈلی اپوزیشن، ماضی میں جب کبھی کسی حکومت نے بہترین پالیسی یا منصوبہ تیار کیا تو اپوزیشن نے حکومتی پارٹی کو عوام میں غیرمقبول و ناقص کارکردگی دکھانے کے لیے قومی مفاد کے ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کے زور لگائے اس کے علاوہ فرینڈلی اپوزیشن کا حال تو کسی سے ڈھکا چھپا ہی نہیں الغرض کہ پاکستان کسی نظام کے بغیر ہی چلتا رہا اور چند سیاسی پارٹیوں کی مطلق العنانیت کے ہاتھوں یرغمال رہا،

    ان کی اس صفت کا عالمی قوتوں کے ساتھ ساتھ سرمایہ داروں نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور ایک وقت پر آکر ہمارے تقریباً سیاستدان خود بھی سرمایہ دار بن بیٹھے اور مشرکہ نشانہ عوام بنی رہی، کیا یہ سرمایہ داروں کا ہی کھیل نہیں تھا کہ پورے پاکستان کا منرل واٹر سے بہتر گراونڈ واٹر دیکھتے ہی دیکھتے خراب ہوگیا پھر ساتھ ہی ساتھ RO پلانٹ کمپنیوں، ادویہ ساز کمپنیوں، پانی کی کمپنیوں کے وارے نیارے ہوگئے، جو جو ہالی ووڈ کی فلموں میں ہوتا ہے وہ سب ہم نے اپنی آنکھوں سے پاکستان میں ہوتے دیکھ لیا کہ کسی بھی فصل میں پراسرار بیماری آتی ہے تو ساتھ ساتھ مارکیٹ میں اس کی دوا بھی اتار دی جاتی ہے،

    ساری زندگی جن لوگوں نے جوائنڈس یعنی پیلیا کا مرض دیکھا وہ لوگ اس کی جدید ترین شکل ہیپاٹائٹس بی سی کا شکار ہوکر فوت ہوے اور لاکھوں خاندان اس کا شکار ہوکر اپنی ساری جمع پونجی اس کی دوا ساز کمپنی کو دینے پہ مجبور ہوے، کس طرح سے کوئی بھی چیز رات ہی رات میں مہنگی ہوجاتی ہے اور کس طرح ڈرامائی انداز میں غریب کسانوں کی ساری محنت رائیگاں چلی جاتی ہے، یہ سارا کھیل کیا ہے صرف چند سرمایہ داروں کی حرص اور خون چوسنے کی عادت سے زیادہ کچھ نہیں،

    مجھے یہاں کسی ریفرینس کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ہر ذیشعور اس پُراسرایت کو محسوس کررہا ہے مگر مجبور ہے دنیا کی بہت سی قوموں نے اس لعنت سے خود کو آزاد کرنے کا تہیہ کیا اور ترکی، روس، چین وغیرہ ان کی پہنچ سے بہت آگے نکل آئے، چین تو اعلانیہ طور پر اس کا اظہار کررہا ہے چینی صدر نے تو بارہا کہا ہے کہ ہاں ہم نے چند گاڈفادرز کے مفادات کا تحفظ کرنے والوں کو نہیں چھوڑنا، بہتوں کو گرفت میں لیا، ترکی کل تک سک مین آف یورپ تھا مگر طیب اردگان کا ترکی آج امریکہ جیسی طاقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے،

    اسی راہ پر پاکستان بھی ہو لیا تو اس وقت سب کے نشانے پہ عمران خان ہے کیونکہ عالمی طاغوتی نظام سے بغاوت کا علم اسی کے ہاتھ میں ہے، حکومت سنبھالنے سے لیکر ابتک تمام اپوزیشن جماعتیں اس کے خلاف متحد ہیں اس کی راہ میں رکاوٹیں در رکاوٹیں کھڑی کرتی آرہی ہیں ان کے بقول دنیا کا سب سے برا اور ان کی زبانی عوام کا سب سے بڑا دشمن بھی کپتان ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتک اپوزیشن کوئی ایک کام یا پالیسی بھی ایسی پیش نہیں کرسکی جس سے عمران خان نے ملک و قوم کو نقصان دیا ہو یا دے سکتا ہے،

    مولانا فضل الرحمان آجکل صف اول کا کردار ادا کررہے ہیں مولانا صاحب نے بغیر ثبوت کے بہت سے الزام عمران خان کی ذات پہ لگائے ہیں جن میں سر فہرست اسلام دشمنی کا الزام ہے مگر بطور دلیل کے ان کے پاس کچھ بھی نہیں جبکہ عمران خان کا سلوگین تو صرف ملک و قوم کی بہتری کا ہے، مولانا صاحب بات دین کی کرتے ہیں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ وہ عوامی فلاح کے لیے بجائے حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے حکومت کا ساتھ دیں، انکے پاس بہتر منصوبے ہیں تو پیش کریں، بہترین پالیسی ہیں تو پیش کریں، قانون کو اس کی رو کے مطابق نافذ کروانے میں حکومت کا ساتھ دیں اور کرپٹ اشرافیہ کے احتساب کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں نہ کہ احتساب کو انتقام کا نام دیکر اس عمل میں رکاوٹ بنیں

    مگر ماضی کی طرح مولانا صاحب صرف اپوزیشن ہی نظر آتے ہیں جس کا ہمیشہ سے ایک ہی کام رہا کہ اپنے مفاد کو ترجیح دی، حکومت کی جائز بات و ملکی مفاد کی پالیسی یا منصوبے کو بھی صرف اس لیے ہدف تنقید بنایا جاتا ہے کہ کہیں وہ پارٹی عوام میں مقبول نہ ہوجائے لہٰذا عوام مرتی ہے تو مرے لیکن اپوزیشن کا مفاد پورا ہو بس یہی ہماری روایت ہے پاکستان میں اپوزیشن کا مطلب صرف اپوزیشن کرنا ہوتا ہے سو وہ جائز و مفید اقدام کی بھی اپوزیشن کرتے ہیں اور بات بے بات اپوزیشن ہونے کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔

    آرزوئے سحر
    اپوزیشن مطلب صرف اپوزیشن کرنا—از— انشال راؤ

  • مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

    مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

    تقسیم ہند کے فوراً بعد جموں میں لاکھوں کشمیری مسلمانوں کا منظم قتل عام تاریخ کے ان واقعات میں سے ہے جس کے تحریری و زندہ ثبوت ہونے کے باوجود اس ہواقعے کے زکر کو دباکر ہندوتوائی ظلم کی اس بھیانک تصویر سے دنیا کو لاعلم رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے،

    نامور امریکی انسانی حقوق و سول رائٹس ایکٹیوسٹ میلکم ایکس کا کہنا ہے کہ "The Media is the most powerful entity of earth, have power to make the innocent guilty & the guilty look innocent” کے تحت ایسا ہی مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کیا گیا، بھارتی ظلم و جبر کو جائز قرار دینے کے لیے ہمیشہ سے مظلوم کشمیریوں کو دہشتگرد بنا کر دکھانے کی کوشش کی گئی،

    تقسیم ہند کے بعد 1947 میں ماہ اکتوبر کے وسط سے نومبر تک منظم طریقے سے جموں کے علاقے میں لاکھوں نہتے مسلمانوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا جسے بھارت کیساتھ ساتھ اہلیان مغرب نے بھی دبانے کی کوشش کی جبکہ چند پنڈت خاندانوں کا زکر اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ دنیا سمجھتی ہے ظلم ان کے ساتھ ہوا جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ظالم مظلوم بنادئیے گئے اور مظلوم کو ظالم بنادیا گیا، بلا جواز انسانیت کا قتل کیا گیا جس کا مقصد مسلمانوں کو ختم کرنا تھا،

    ادریس کانتھ کی تحقیق کے مطابق اکتوبر 1947 کے وسط میں ڈوگرا مہاراجہ نے RSS کی مدد سے جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا جس کے نتیجے میں تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار کشمیری مسلمانوں کو قتل کردیا گیا اور سات سے آٹھ لاکھ افراد کو جان بچا کر بھاگنا پڑا نتیجتاً تین ہفتے بعد مسلم اکثریتی جموں میں مسلمان اقلیت میں رہ گئے، اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن نے اس واقعے کو دبانے کے لیے میڈیا کو پابند کیا کہ وہ اس کی کوریج نہ کرے،

    ادریس کانٹھ کے مطابق یہ قتل عام قبائلیوں کے حملے سے پانچ روز پہلے شروع کیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ قبائلی پشتونوں نے ردعمل کے طور پر کشمیر کا رخ کیا، جواہر لعل نہرو نے اس واقعے کا ذمہ دار ڈوگرا مہاراجہ اور RSS کو قرار دیا انہوں نے 17 اپریل 1949 کو ولبھ بھائی پٹیل کو لکھے گئے خط میں اس کا زکر کیا جسے فرنٹ لائن میگزین نے شایع کیا اس کے علاوہ Horace Alexander نے اپنے آرٹیکل میں انسانی تاریخ کے اس المناک سانحے کو تفصیلی ڈسکس کیا جوکہ 16 جنوری 1948 کو The Spectator میں شایع ہوا،

    اس سانحہ سے قبل جموں کی 61% آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی معروف بھارتی دانشور و قانون دان AG Noorani نے اپنی کتاب Kashmir Dispute Vol-1 میں لکھا ہے کہ جموں کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے ایک منظم پلاننگ مرتب کی گئی جسکے لیے RSS کی مدد لی گئی جس نے باہر سے ہزاروں کی تعداد میں ہندوتوا دہشتگردوں کو جموں بھیجا اس کے علاوہ سنگھ پریوار کی ایک شاخ جموں پرجا پریشد بھی اس میں پیش پیش رہی جو بعد میں RSS کی سیاسی ونگ بھارتیہ جن سنگھ سے منسلک ہوگئی اور BJP بننے کے بعد اس کی اہم ونگ ہے،

    آرٹیکل 370 ختم کرکے جموں کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا مطالبہ اسی جماعت کا تھا جوکہ گولولکر کی آئیڈیولوجی "ایک ودھان، ایک نشان، ایک پردھان” پہ مشتمل تھا جسے گذشتہ بھارتی یوم آزادی کے موقع پر نریندر مودی نے اپنی اعلانیہ پالیسی و منزل ہونے کا اظہار کردیا ہے”، دس اگست 1948 میں The Times لندن نے تاریخی کمینہ پن اور سفاکیت کے اس المناک واقعہ پر رپورٹ شایع کی جس میں واضح کیا گیا کہ اس سے بڑھ کر دہشتگردی، حیوانیت، ظلم کی نظیر نہیں ملتی،

    RSS اور ڈوگرا مہاراجہ جیسے انسان نما حیوانوں نے وہ سفاکیت دکھائی کہ اگر کتّوں اور بھیڑیوں پر اس کا الزام تھونپا جائے تو وہ بھی اسے اپنی توہین سمجھیں گے یہ محض چند بدمعاشوں کا کام نہیں تھا بلکہ RSS کے ہزاروں بیرونی درندوں، جموں پرجا پریشد کے حیوانوں اور ڈوگرا کی فوج کے زریعے اسے منظم طریقے سے کیا گیا، اس رپورٹ میں The Times نے شایع کیا کہ "Over 237000 Muslims were systematically exterminated unless they escaped to Pakistan along the border by Dogra forces & Hindu extremists, this happened in the mid October, five days before the pathan invasion & nine days before Maharaja’s accession to India” یہ تاریخ کی وہ سفاکیت تھی کہ گاندھی بھی اسے دہشتگردی کہنے پہ مجبور ہوگئے گاندھی نے 25 دسمبر 1947 کو ریمارکس دئیے کہ "جموں کے ہندو، مہاراجہ ڈوگرا اور وہ ہندو جو باہر سے گئے

    جموں میں مسلمانوں کے قتل عام اور مسلمان عورتوں کی عصمت دری کے کے ذمہ دار ہیں” (Vol-90 of Gandhi’s work) یہ محض اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ منظم اور سرکاری سرپرستی میں ظلم و جبر کا عظیم واقعہ ہے، امریکہ میں ہولوکاسٹ میموریل میوزیم میں ایک نقشہ عیاں کیا گیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ مختلف علاقوں سے

    یہودیوں کو مشرق میں نئی آبادکاری کے نام پر اپنے مقبوضہ جات سے یہودیوں کو پولینڈ میں لا لا کر قتل کیا، بالکل اسی طرح نومبر میں ہزاروں مسلمانوں کو پاکستان شفٹ کرنے کے بہانے RSS کے دہشتگردوں نے اجتماعی طور پر ایک جگہ جمع کر کر کے شہید کیا، افسوس کہ ہولوکاسٹ کی طرح تاریخ کے اس بڑے قتل عام پر بات نہیں کی گئی نہ ہی اس پر زیادہ لکھا گیا، جموں کی 61 فیصد مسلمان آباد محض تین ہفتوں میں اقلیت بلکہ ختم ہوکر رہ گئی حتمی تعداد تو شاید کہیں زیادہ ہو البتہ اس وقت کے مغربی اخبارات، محققین اور تاریخ دانوں نے شہید ہونے والوں کی تعداد 237000 دو لاکھ سینتیس ہزار جبکہ ہجرت کرنے پہ مجبور ہونے ہوالوں کی تعداد ایک ملین کے قریب لکھی ہے،

    اگرچہ AG Noorani, Khalid Bashir, Arundhati Roy سمیت دیگر بہت سے رائٹرز نے اس پہ بہت کچھ لکھا مگر میڈیا و دیگر ڈبیٹس میں اس واقعہ کو وہ توجہ نہ ملی جو ملنی چاہئے تھی چنانچہ دنیا کی اکثریت اس سے لا علم ہے لہٰذا انسانی حقوق کی تنظیمیں ان سے وابستہ افراد، تمام کشمیری اور پاکستانیوں کو چاہئے کہ اکتوبر و نومبر میں اس سانحے پر زیادہ سے زیادہ سیمینارز، ڈبیٹس کروائیں، آرٹیکلز لکھیں تاکہ دنیا ہندوتوا دہشتگردوں کے ظلم اور کشمیریوں کی مظلومیت سے آگاہ ہوسکے۔

    آرزوئے سحر
    مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

  • دنیاپور : امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سرچ آپریشن

    دنیاپور(نمائندہ باغی ٹی وی)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ملک جمیل ظفر کی ہدایت پر ایس ڈی پی او دنیاپور جواد سخا کی زیر نگرانی ایس ایچ او تھانہ سٹی دنیاپور رئیس علی انصر کی سربراہی میں امام بارگاہ حیدریہ کے اردگرد جرائم پیشہ افراد، سماج دشمن عناصر، ناجائز اسلحہ اور منشیات فروشوں کی گرفتاری اور عوام الناس کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر سرچ آپریشن کیا گیا.

    سرچ آپریشن میں 01 ایس ایچ او ، 01 ایس آئی، 01 اے ایس آئی ، 01 ہیڈ کانسٹیبل اور 19 کانسٹیبلان و لیڈی کانسٹیبلان، ایلیٹ ٹیم اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے شرکت کی. سرچ آپریشن میں ٹوٹل 29 گھروں کی تلاشی لی گئی

    اور 29 افراد کو بائیو میٹرک کے ذریعے چیک کیا گیا. سرچ آپریشن کے دوران ایک شخص امین مسیح سے 220 گرام چرس برآمد کی جس کا مقدمہ نمبر 381/19 مورخہ 19/9/19 بجرم 9B/ CNSA درج رجسٹر کیا گیا. ڈی پی او ملک جمیل ظفر نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کے خاتمے تک سرچ آپریشن جاری رہیں گے.

    عوام کی جان و مال کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنائے گے. آخر میں ڈی پی او ملک جمیل ظفر نے کہا کہ جرائم کا خاتمہ عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں.

  • آرٹیکل 370نہیں تو کشمیر کے بھارت سے رشتے بھی ختم، بھارت نواز کشمیری کا بڑا اعلان

    آرٹیکل 370نہیں تو کشمیر کے بھارت سے رشتے بھی ختم، بھارت نواز کشمیری کا بڑا اعلان

    بھارت نواز کشمیری رہنما نے کہا ہے کہ بھارت سے کشمیر کا الحاق مشروط تھا، اگر آرٹیکل 370 نہیں ہوگا توکشمیرکے بھارت سے رشتے بھی ختم۔

    مقبوضہ کشمیر، خواتین مظاہرہ کے حوالے سے اہم خبر آگئی

    ان خیالات کا اظہار مقبوضہ کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ اور بھارت نواز سیاستدان فاروق عبداللہ کی بہن عالیہ شاہ مبارک نے دہلی میں احتجاجی مظاہرے سے خًطاب کرتے ہوئے کیا۔ عالیہ شاہ نے تحریری پیغام پڑھتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370کے ہٹائے جانے کو آئین ہند اور آئین جموں و کشمیر کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔

    عالیہ شاہ کے مطابق پہلے کانگریس نے کشمیر اور وہاں کے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا اور اب وہی غلطی بی جے پی دوہرا رہی ہے۔
    کشمیری رہنما کے بقول ‘مودی حکومت آئین ہند اور آئین جموں و کشمیرکے خلاف گئی ہے اورسپریم کورٹ کے خلاف بھی کیونکہ بھارتی اعلی عدلیہ 370 کے معاملہ میں صاف کہہ چکی ہے اسے ہٹایا نہیں کیا جا سکتا ہے۔’

    مقبوضہ کشمیر، احتجاج کے دوران کتنی خواتین کو گرفتار کیا گیا؟

    عالیہ شاہ نے مزید کہا کہ ہمیں ہر بار بتایا گیا کہ کشمیری غدارہیں، لیکن میں کہناچاہتی ہوں کہ ہم غدار نہیں بلکہ ہم سے غداری ہوئی ہے۔ہمیں مرکز سے دھوکہ ملا ہے،پہلے کانگریس سے اور اب بی جے پی سے۔ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ صرف جموں و کشمیرکے عوام ہی کرسکتے ہیں،نہ بھارت اور نہ پاکستان’۔

    مقبوضہ کشمیر، موبائل فون سروس کی بحالی کے بعد ہی اہم سروس بند

    عالیہ شاہ نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370کی منسوخی کوواپس لیاجائے،گرفتار کشمیریوں خصوصاً بچوں کو رہا کیا جائے اور مواصلات کے تمام ذرائع بحال کئے جائیں۔

  • بلوچستان میں کتوں کے کتنے کے واقعات بڑھ گئے

    بلوچستان میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے اور ایک سال کے دوران 19 ہزار سے زائد مریضوں کو سول ہسپتال لایا گیا بیشتر مریضوں کا تعلق کوئٹہ جبکہ باقی صوبے کے مختلف علاقوں سے ہیں جس پر محکمہ بلدیات حکام نے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے کتا مار مہم نہیں چلائی جاسکی لیکن واقعات کی روک تھام کیلئے کتا مار مہم ضروری ہے جب کے انتظامیہ کی طرف سے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

  • ایف اے ٹی ایف کی کمزوریاں دور کرنے میں مزید کتنے سال لگیں گے ؟

    ایف اے ٹی ایف کی کمزوریاں دور کرنے میں مزید کتنے سال لگیں گے ؟

    اسلام آباد: سابق وزیر تجارت ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف جن کمزوریوں کی نشاندہی کر رہی ہے اسے درست کرنے میں تو 2 سال لگ جائیں گے۔پاکستانی حکام کو ایف اے ٹی ایف کی باریکیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ،

    اوکاڑہ میں بچوں پر ظلم ! ماوں کے نام پیغام

    ذرائع کےمطابق ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق بتاتے ہوئے سابق وزیر تجارت ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی تفصیلی رپورٹ 230 صفحات پر مشتمل ہے اور اراکین اسمبلی اسے غور سے پڑھیں۔ اس میں جو کمزوریاں سامنے لائی گئی ہیں جس میں ہمارے اداروں کی کمزوریاں اور وہاں کام کرنے والے افراد کی نالائقیوں کے بارے میں ذکر ہے۔

    اب استعفے دیے نہیں لیےجاتے ہیں ، نئ کہانی سامنے آگئی

    انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف 35 ممالک کی آرگنائزیشن ہے جو چاہتا ہے ان کی بینکاری میں بلیک منی آ کر چھپ نہ جائے اسے وہ بے نقاب کرتے ہیں اور ان ممالک نے فنانشل نظام کو صاف کرنے کے اس میں شامل ممالک کو بھی درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب پوری دنیا کی بینکاری آپس میں جڑ چکی ہے۔

    MeToo# …کی تلوار پروفیسر افضل محمود پر چل گئی ، دردناک کہانی

    ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا کہ اگر ایف اے ٹی ایف پابندی لگاتی ہے تو پھر پاکستان کی تجارت پر فرق پڑے گا اور نگرانی سخت ہو جائے گی، جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو دھچکا لگے گا۔

    سابق وزیرتجارت ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا کہ یہاں جن کمزوریوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے اس کو تو بہتر کرنے میں ڈیڑھ سے 2 سال لگ جائیں گے۔ ہمارے اداروں کو تو ابھی تک منی لانڈرنگ کی سمجھ ہی نہیں ہے۔

  • کوئٹہ ڈیزل پیٹرول پر لگی پابندی

    کوئٹہ چیف سیکرٹری بلوچستان نے ایرانی ڈیزل پیٹرول کی اوپن اسمگلنک پر پابندی لگادی جس پر
    بلوچستان کے غریب عوام نے ایرانی پیٹرولیم کی سمگلنگ پر پابندی کی مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پابندی کے بجائے سنگل روڈوں کودوریہ کیا جائے ایکسیڈنٹ کی آڑ میں بلوچستان کی پسماندہ صوبے کی غریب عوام پر روزگار کی دروازے بند کرنا زندہ لوگوں کا معاشی قتل ہے روز روز کی ایکسڈنٹ سے بچنے کیلیے حکومت کویٹہ کراچی شہراہ کو دوریہ کرنے پر توجہ دی جائے ،،،،
    اور چیف سیکرٹری بلوچستان ڈیزل پر پابندی پر نظر ثانی کی جائے ،،،