Baaghi TV

Author: +9251

  • مولانافضل الرحمن کوسخت دھچکہ جامعہ بنوریہ نےآزادی مارچ کی مخالفت کر دی

    مولانافضل الرحمن کوسخت دھچکہ جامعہ بنوریہ نےآزادی مارچ کی مخالفت کر دی

    اسلام آبادمولانا فضل الرحمن بتائیں کہ وہ اس آزادی مارچ سے ملک اور اسلام کی کیا خدمت کرناچاہتے ہیں ، یہ آزادی مارچ فتنے سے کم نہیں ،ان خیالات کااظہار جامعہ بنوریہ کے شیخ الحدیث مفتی نعیم نے قوم کے نام پیغام میں کیا ،

    اوکاڑہ میں بچوں پر ظلم ! ماوں کے نام پیغام

    اطلاعات کےمطابق : جامعہ بنوریہ نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی مخالفت کر دی، مفتی نعیم کا کہنا ہے کہ دینی طلبہ کو سیاست میں استعمال نہ کیا جائے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی اور پیر نورالحق قادری نے جامعہ بنوریہ کی طرف سے ملک و ملت کے حق میں بیان کو سراہااور کہا کہ جامعہ بنوریہ نے ہمیشہ ملک کے مفاد میں فیصلے دیئے

    جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی نعیم نے کہا دینی طلبہ کو سیاست میں استعمال نہ کیا جائے، اس سے دنیا میں اچھا تاثر نہیں جائے گا، مدارس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، دینی مدارس غیر سیاسی ہوتے ہیں۔

    اب استعفے دیے نہیں لیےجاتے ہیں ، نئ کہانی سامنے آگئی

    جامعہ بنوریہ کے مہتمم نے مزید کہا کہ تمام مدارس سے درخواست ہے کہ اپنے طلبہ کو مارچ یا دھرنے میں شریک نہ کریں، کسی طالب علم کو کچھ ہوا تو مدرسے کی بد نامی ہوگی۔

    جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی نعیم نے کہا جامعہ میں 53 ممالک کے طلبہ زیر تعلیم ہیں، اگر ان ممالک میں یہ پیغام جائے گا کہ یہاں طلبہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو وہ اپنے طلبہ نہیں بھیجیں گے۔

    MeToo# …کی تلوار پروفیسر افضل محمود پر چل گئی ، دردناک کہانی

  • اوکاڑہ میں بچوں پر ظلم ! ماوں کے نام پیغام

    اوکاڑہ میں بچوں پر ظلم ! ماوں کے نام پیغام

    اوکاڑہ:قبل اس کے کہ واقعہ کے متعلق بتایا جائے یہ بتانا ضروری ہےکہ وہ مائیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوکر میکے چلی جاتی ہیں اور بچوں سے دور رہتی ہیں ان کے بچوں کا یہی حال ہوتا ہے خداراعقل سے کام لیں ،

    ناجائز اثاثہ جات ریفرنس ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ حرکت میں آگئے

    اب آتے ہیں ہیں اس بھیانک واقعہ کی طرف اطلاعات کےمطابق اوکاڑہ میں بچوں کو الٹا لٹکا کر تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد انتظامیہ حرکت میں گئی۔ پولیس نے بچوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والا ملزم گرفتار کرلیا۔

    وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر تشدد کا نشانہ بننے والے بچوں سے ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ مریم خان نے گاؤں جا کر ملاقات کی۔ مریم خان نے بچوں کی دلجوئی کی اوران سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیراعلی نے واقع کا نوٹس لیکر انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے

    ہٹلر کے” آزادی مارچ "میں تذکرے شروع ہوگئے

    ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ مریم خان کے مطابق بچوں کا فوری طورپرطبی معائنہ کرایا جائے گا۔ تعلیم اورعلاج معالجے کیلئے بھی حکومت ہرممکن مدد کرے گی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تشدد کے ذمہ دار قانون کے تحت سزا سے نہیں بچ پائے گا۔ متاثرہ بچوں کی والدہ ناراض ہو کر میکے گئی ہوئی تھی اور بچے اپنی والدہ سے ملنے گئے تھے۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کے لیے بھی حکومت ہر ممکن مدد کرے گی، وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر بچوں کو اوکاڑہ کے اسکول میں بھی داخل کرائیں گے، اور ان کی بیمار والدہ کا علاج بھی کرایا جائے گا، والد کو بھی سرکاری ملازمت دی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تشدد کا ذمہ دار قانون کے تحت سزا سے نہیں بچ پائے گا۔ انھوں نے بچوں کو نئے کپڑے بھی دیے۔

    بچوں پر تشدد کرنے والے ملزم نے اعتراف جرم کر لیا، میڈیا کے سامنے بیان دیتے ہوئے ملزم نے کہا کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے، ایک بار معافی مل جائے تو پھر ساری زندگی ایسا دوبارہ نہیں کروں گا، بھتیجوں کو ماں کے پاس جانے کی ضد کرنے پر مارا تھا۔

    پولیس کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ملزم بچوں کا قریبی عزیز ہے، اس کے خلاف مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، ملزم نے پولیس کے سامنے بھی اعتراف جرم کر لیا ہے۔

    نئی میجنمنٹ نئے تقاضے” آپ "ٹی وی کے 400 سے زائد ورکر بےروزگار کردیئے

    یہ خبر پھران ماوں کے لیے ہے جو صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتی ہیں کہ اوکاڑہ میں سفاک ملزم کے تشدد سے بچے تڑپتے رہے اور زاروقطار روتے رہے لیکن ملزم کو ذرا بھر ترس نہ آیا۔واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا اور ظالم شخص کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • اب استعفے دیے نہیں لیےجاتے ہیں ، نئ کہانی سامنے آگئی

    اب استعفے دیے نہیں لیےجاتے ہیں ، نئ کہانی سامنے آگئی

    اسلام آباد: اب استعفے دیئے نہیں لیے جاتے ہیں ، پہلے ڈاکٹر شہباز کو استعفیٰ دینا پڑا تو اب بابر عطاکی باری آگئی ، پھر کس کی باری آئے گی اس کے بارے میں فی الحال کچھ کہا تو نہیں جاسکتامگر تازہ استعفے پر اطلاعات کی روشنی میں روشنی ضرور ڈالی جا سکتی ہے،

    ڈیم ٹوٹنے سے 15 افراد جانبحق، درجنوں لاپتہ

    اطلاعات یہ ہیں کہ انسداد پولیو مہم میں ہونے والی بے صابطگیوں پر وزیر اعظم نے فوکل پرسن کے خلاف قدم اٹھایا۔اطلاع کے مطابق بابر بن عطا نے عہدے کا غلط استعمال کیا اور وہ بڑی بے ضابطگیوں میں ملوث رہے، فوکل پرسن کے خلاف تیار کی جانے والی خفیہ رپورٹس وزیراعظم ہاؤس کو موصول ہوئی تھیں۔

    چیف سیکریٹری کے پی سمیت دیگر رپورٹس سامنے آنے کے بعد بابر بن عطا کو وزیر اعظم ہاؤس طلب کیا گیا اور انہیں 12گھنٹوں میں عہدہ چھوڑنے کی ہدایت گئی جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا کہ نہ چھوڑنے پر انہیں برطرف کردیا جائے گا۔

    ہٹلر کے” آزادی مارچ "میں تذکرے شروع ہوگئے

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ بابر بن عطا نے وزیراعظم آفس، حکومتی عہدے کا ناجائز استعمال کیا اور پولیو مہم کو مصنوعی طور پر طوالت بھی دی جبکہ انہوں نے پولیو کیسز سے متعلق غلط اور بے بنیاد رپورٹیں جاری کیں۔ پولیو مہم کے دوران 2 سے 25 لاکھ تک والدین نے اپنے بچوں کو قطرے پلوانے سے انکار کیا، اعداد و شمار کی رپورٹ میں سندھ، بلوچستان اور پنجاب کو نظر انداز کیا گیا۔

    اسی طرح بابر بن عطا نے پولیو پروگرام کو سیاسی رنگ دے کر فائدہ اٹھایا اور مرضی کےڈی ایچ اوز تعینات کیے، میڈیا اور سوشل میڈیا پر ذاتی تشہیر کی جبکہ میرٹ کے خلاف اور بلا اجازت سوشل میڈیا ٹیم تعینات کی جس میں دوستوں، رشتے داروں کو بھاری تنخواہوں پر بھرتی کیا گیا۔

    ناجائز اثاثہ جات ریفرنس ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ حرکت میں آگئے

    رپورٹ کے مطابق سابق فوکل پرسن نے مشہور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کے بھائی کو بھی اپنی ٹیم کا حصہ بنایا، عالمی ڈونرز کے اداروں میں ذاتی فائدے کے لئے لابنگ کی اور پرنٹنگ آؤٹ لیٹس کے لیے دباؤ بھی ڈالا جبکہ پولیو مہم کی ناکامی کا ملبہ انہوں نے عالمی ڈونرز پر ڈالا۔

  • کپتانی سے برطرفی کے بعد سرفراز کو ماہانہ کتنے پیسے ملیں گے ؟

    کپتانی سے برطرفی کے بعد سرفراز کو ماہانہ کتنے پیسے ملیں گے ؟

    کپتانی چھن جانے کے بعد مشکلات میں گھرے سرفراز احمد کیلئے اچھی خبر یہ ہے کہ عہدے سے الگ کیے جانے کے بعد سابق کپتان کے سینٹرل کنٹریکٹ کی اے کیٹیگری کو برقرار رکھا گیا ہے اور اے کیٹیگری میں موجود ہر کھلاڑی کو ماہانہ دس لاکھ روپے تنحواہ ملتی ہے

    پی سی بی حکام کے مطابق سابق کپتان کی سینٹرل کنٹریکٹ کیٹیگری تبدیل نہیں کی جا رہی وہ بابر اعظم اور یاسر شاہ کے ساتھ اے کیٹیگری میں ہی شامل رہیں گے، سابق کپتان ٹیسٹ، ون ڈے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی کرکٹ میں حصہ لے رہے ہیں اور وہ قومی ٹیم کیلئے انتحاب کیلئے بھی دستیاب ہیں، اس لیے ان کی کیٹیگری میں تبدیلی کا معاملہ زیر بحث نہیں،

    ریڈ بال کرکٹ فارمیٹ سے ریسٹ لینے والے وہاب ریاض بی کیٹیکگری کا حصہ ہیں جبکہ ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے والے محمد عامر کو سی کیٹیگری دی گئی ہے ،

    3 دولہوں کی سلاخوں پیچھے، دلچسپ کہانی

  • سابق بھارتی فوجی مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے کیوں پریشان ہوئے؟

    سابق بھارتی فوجی مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے کیوں پریشان ہوئے؟

    سابق بھارتی فوجی میجر (ر) گوراو آریا جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں پریشان نظر آ رہے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمن اورخادم رضوی کے درمیان کیا تعلق ، اہم انکشاف

    سابق بھارتی فو جی نے ایک ٹویٹ میں اپنی پریشانی کی وجہ بھی بیان کر دی ہے۔ میجر (ر) آریا نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ اگر پاکستانی ریاست پسند نہیں کرتی تو پاکستان کی معمول کی ٹی وی نشریات درمیان میں روک دی گئیں۔

    میجر نے مزید لکھا کہ فضل الرحمن کی براہ راست پریس کانفرنس کو درمیان میں روک دیا گیا۔ یہی چیز مریم نواز اور زرداری کے لیے بھی ہے۔

    مولانا فضل الرحمن کا ملین مارچ ، اربوں روپے کہاں سے آئے ، باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

    واضح رہے کہ پاکستان کے معروف صحافی اور ٹی وی پروگرام کھرا سچ کے اینکر مبشر لقمان نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے محتاط تخمینے لگا کر جو حقائق قوم کے سامنے پیش کیئے تھے وہ اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔پاکستانی عوام سب جان چکی ہے۔

    نواز شریف نےخط میں مولانا فضل الرحمن کے لیا خاص باتیں لکھیں‌ ؟

    اپنی تحقیقاتی رپورٹ میںمبشر لقمان نے انکشافات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق مولانا کے اس مارچ پر مجموعی طور پر 10 ارب روپے خرچ آئیںگے ، ان اعدادوشمار کے بعد اب ہر ذی شعور یہ تو ضرور سوچنے پر مجبور ہوگا کہ آخر اتنی خطیر رقم مولانا کو کون دے رہا ہے ۔

    مولانا فضل الرحمنٰ نے ’’دھرنا‘‘ اور’’ اسلام آباد لاک ‘‘ کا پرو گرام موخر کردیا

    آخر کوئی تو ہے جو مولانافضل الرحمن کو سپورٹ کررہاہے ، قوم ضرور پوچھے گی کی اتنی خطیر رقم کی منی ٹریل دی جائے ، قوم حساب مانگے گی اور ادارے حساب کتاب لگا کر حقیقت قوم کے سامنے رکھیںگے پھر سب حقیقتیں کھل جائیںگی کہ پاکستان میں آزادی مارچ کے نام پر مذہبی انتہا پسندوںکو اربوں روپے جہاں جہاں سے آتی ہیں۔

  • می ٹو:کی تلوار پروفیسر افضل محمود پر چل گئی ، دردناک کہانی

    می ٹو:کی تلوار پروفیسر افضل محمود پر چل گئی ، دردناک کہانی

    لاہور:“می ٹو” مہم کچھ عرصہ قبل شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مقبول ہوتی گئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہو رہا ہیکہ “می ٹو” مطلب میں بھی ، یہ میں بھی سے مراد وہ عورت ہے جو کہہ رہی ہیکہ ‘میں بھی’ کسی مرد کی حوس کا کسی نا کسی طرح کبھی نشانہ بنی ہوں۔

    اپنے اوپر ہونے والی کسی بھی ہراسگی کے خلاف آواز اٹھانے کیلیے ایک مہم کا جنم نہ جانے کتنے بے گناہوں کی زندگیوں کو بھی کچل گیا۔ اس مہم میں خواتین کو اس بات پر ترغیب دی گئی کہ آپ بنا سوچے سمجھے اور بغیر کسی ثبوت کے کسی بھی مرد پر جنسی ہراسگی کا الزام عائد کر دیں پھر وہ مرد جانے اور اس کی باقی کی زندگی اور کیرئیر۔

    ایسے بہت سے واقعات ہیں جن میں خواتین کی جانب سے بلاجواز الزامات مرد حضرات پر لگائے گئے اور ان مرد حضرات کی زندگیاں ، نوکریاں اور گھر پتا نہیں کیا کیا چھن کر رہ گیا۔ ممکن ہے یہ مہم بہتری کیلیے شروع کی گئی ہو لیکن اس کا خطرناک حد تک غلط استعمال معاشروں کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔

    آپ حضرات نے بھی بہت سے واقعات سنے اور دیکھے ہوں گے کیونکہ میڈیا کا دور ہے اور اس دور میں ہر کسی تک خبر پہنچنا معمول کی بات ہے۔میں یہاں ذکر کرنا چاہوں گا لاہور کے معروف کالج “ایم اے او” کالج کا ، کچھ عرصہ قبل ایک استاد پر طالبہ کی جانب سے جنسی ہراسگی کے الزام کا!

    ایم اے او کالج لاہور میں انگلش پروفیسر افضل محمود نے خاتون طالب علم کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزام پر اور انکوائری کے بعد اس کے غلط ثابت ہونے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے تصدیقی خط جاری نہ کرنے پر خودکشی کر لی ہے۔

    ایم اے او کالج میں انگریزی کے استاد افضل محمود نے نو اکتوبر کو زہر کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ استاد کو انکوائری کمیٹی نے کلئیر قراردیا تھا لیکن کالج انتظامیہ تصدیقی لیٹر نہیں دے رہی تھی اور استاد مسلسل بدنامی سے دلبرداشتہ ہوگیا تھا۔

    استاد نے خط میں لکھا کہ میری بیوی بھی آج مجھے بدکردار قرار دے کر گھر چھوڑکر جا چکی ہے۔ میرے پاس زندگی میں کچھ نہیں بچا۔ میں کالج اور گھر میں ایک بدکردار آدمی کے طور پر جانا جاتا ہوں۔ اس وجہ سے میرے دل اور دماغ میں ہر وقت تکلیف ہوتی ہے۔ اگر کسی وقت ان کی موت ہو جائے تو ان کی تنخواہ اور اس الزام سے بریت کا خط ان کی والدہ کو دے دیا جائے۔

    کالج لیکچرار نے اپنی بے گناہی کے ثبوت کے باوجود تصدیقی لیٹر جاری نہ ہونے پر خود کشی کی، انکوائری افسر نے رپورٹ میں لیکچرار افضل کو الزامات سے بری قرار دیا تھا۔

    تفصیلات کے مطابق ایم اے او کالج کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرار افضل محمود کی خود کشی کے معاملہ پر قائم کی گئی کالج ہراسمنٹ کمیٹی نے لیکچرار افضل کو بے قصور قرار دیا تھا تاہم انکوائری رپورٹ کے باوجود پرنسپل کی جانب سے لیکچرار کی بےگناہی کا باظابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

    اس استاد کے آخری الفاظ ایک خط کی صورت میں جو اس تحریر کیے ، ملاحظہ کیجیے
    “I leave this matter in the court of Allah, The Police are requested not to investigate and other anybody”
    “میں اپنا یہ کیس یہ معاملہ اللہّٰ کی عدالت کے سپرد کرتا ہوں، پولیس سے درخواست ہیکہ اس معاملے میں کسی سے تفتیش اور کسی کو تنگ نہ کیا جائے”

    خودکشی سے ایک دن قبل کے اس خط کی جانب جس میں استاد محترم نے اپنے کالج کی ساتھی پروفیسر اور تفتیشی افسر ڈاکٹر عالیہ رحمان کو واضح طور پر یہ کہا کہ آپ (ڈاکٹر عالیہ رحمان ، تفتیشی افسر) نے مجھے بتایا کہ میں اس الزام سے باعزت بری ہو گیا ہوں ، میں ابھی تک کالج میں اسی الزام کو سر پر لیے چل رہا ہوں ،

    ہر طرف میرے کردار پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ آپ (ڈاکٹر عالیہ) میری دوست اور سینئر پروفیسر ہیں، آپ کالج انتظامیہ پر زور دیں کہ میرے اس معاملے میں مجھے اور کالج کو صاف الفاظ میں بتایا جائے کہ مجھ پر لگنے والا الزام جھوٹا اور من گھڑت تھا۔

    لیکن کالج انتظامیہ کی بے بسی دیکھیں کہ موت کے چار دن بعد تیرہ اکتوبر کو نوٹیفیکیشن جاری ہوا کہ استاد محترم “پروفیسر افضل محمود” بے گنا تھے، ان پر لگائے گئے طالبہ کی جانب سے تمام الزامات جھوٹے اور من گھڑت تھے۔

    اب تفتیش میں طالبہ کیا کہتی ہیں ملاحظہ کیجیے
    “ مجھے ٹیچر نے پیپر میں نمبر تھوڑے دیے، مجھے ان سے شکایت تھی کہ وہ ہمیشہ کم نمبر ہی دیتے تھے، میں نے ان سے بدلہ لینے کیلیے ان پر جنسی ہراسگی کا جھوٹا الزام لگایا تا کہ میں ان کو سبق سکھا سکوں”

    اب مسئلہ یہ ہے کہ اس بےچارے استادکی بے گناہی کے کالج کے پروفیسر فرحان کو توفیق کیوں نہ ہوئی کہ وہ اپنے کلرک کو بلاکرچند الفاظ پر مبنی تحریر ہی لکھوا کر دے دے تاکہ پروفیسر افضل محمود پر لگے بھتان کے داغوں کو دھویا جاسکے ، اسی ہٹ دھرمی اور پرنسپل کی نااہلی کی وجہ سے انگریزی کے پروفیسر افضل کو بے قصور ہونے کے باوجود انتظامیہ نے تین ماہ تک کلیئرنس لیٹر نہ دیا، افضل نے تھک ہار کر خودکشی کرلی۔

    ایم اے او کالج کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرار کی خودکشی کے بعد کالج انتظامیہ اور پرنسپل کی نااہلی پرسوالات اٹھ گئے، لیکچرار افضل محمود نے ایک طالبہ کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزام اور تحقیقات کے بعد اس کے غلط ثابت ہونے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے تصدیقی خط جاری نہ کرنے پر خودکشی کرلی تھی۔

    لیکچرار کی خود کشی کا ذمہ دار کون ہے؟ اےآر وائی نیوز تفصیلات منظر عام پر لے آیا، ذرائع کے مطابق لیکچرار پر لگے الزامات کی انکوائری کیلئے کالج ہراسمنٹ کمیٹی قائم کی گئی، کمیٹی کی انکوائری افسر ڈاکٹر عالیہ نے اپنی رپورٹ میں لیکچرار افضل کو الزامات سے بری قراردے دیا تھا۔

    انکوائری افسرڈاکٹر عالیہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ رپورٹ تین ماہ پہلے ہی پرنسپل ڈاکٹر فرحان کو جمع کرادی گئی تھی اور رپورٹ میں پرنسپل کو طالبہ کیخلاف کارروائی کرنے کا بھی کہا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ لیکچرار افضل کی خودکشی نے کالج انتظامیہ اور پرنسپل کی نااہلی پرسوالات اٹھادیئے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انکوائری رپورٹ کے باوجود لیکچرار کو کیوں بے قصور نہیں ٹھہرایا گیاْ، انکوائری رپورٹ کے باوجود پرنسپل نے طالبہ کیخلاف ایکشن کیوں نہیں لیا؟

    یاد رہے کہ ایم اے او کالج میں انگریزی کے استاد افضل محمود نے نو اکتوبر کو زہر کھا کر خودکشی کر لی تھی، افضل محمود کی لاش کے ساتھ ان کی اپنی تحریر میں ایک نوٹ موجود تھا۔

    جس پر تحریر تھا کہ وہ اپنا معاملہ اب اللہ کے سپرد کر رہے ہیں اور ان کی موت کے بارے میں کسی کی نہ تفتیش کریں اور نہ ہی زحمت دیں، پولیس اور میڈیکل رپورٹ سے ان کی خودکشی اور نوٹ لکھنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

  • اسلام آباد ملین مارچ کی تیاریاں مکمل, ڈی سی اسلام آباد نے اہل اسلام آباد کے نام پیغام جاری کردیا

    اسلام آباد ملین مارچ کی تیاریاں مکمل, ڈی سی اسلام آباد نے اہل اسلام آباد کے نام پیغام جاری کردیا

    اسلام آباد :تاریخی ملین مارچ کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں .دنیا کا طویل ترین پانچ کلومیٹر لمبا پرچم لہرایا جائے گا، جس کا وزن 80 من، چوڑائی 12 میٹر ہوگی،ملین مارچ کو پانچ حصوں میں تقسیم کررہے ہیں، جناح ایوینیو پر ڈی چوک سے ایف 8 کے اشارے تک مارچ پھیلے گا۔ جموں کشمیر سالیڈیرٹی موومنٹ کے بینر تلے پہلا سٹیج خواتین کا ہوگا، دوسرا سٹیج چیمبر آف کامرس، بلیو ایریا، مزدور یونینز کا ہوگا، تیسرا سٹیج اساتذہ، طلبہ کا ہوگا، چوتھاا سٹیج کشمیری لیڈر شپ کا ہوگا، پانچواں اور آخری سٹیج کشمیر یوتھ الائنس،سول سوسائٹی،اقلیتی برادری کا ہوگا،اس کے علاوہ پورے جلسہ گاہ کو پاکستان اور کشمیری پرچموں سے مزین کردیا گیا ہے. باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر محمد علی خان, چئیرمین کشمیر کمیٹی فخر امام سٹیج نمبر 5 اور معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان خطاب کریں گی. دوسری طرف ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے اہل اسلام آباد سے طویل ترین پرچم لہرانے کے پروگرام میں شریک ہونے کی درخواست کی ہے.

  • مہاراشٹر میں بی جے پی دورمیں کتنے کسانوں نے خود کشی کی، خبر نے ہوش اڑا دیے

    مہاراشٹر میں بی جے پی دورمیں کتنے کسانوں نے خود کشی کی، خبر نے ہوش اڑا دیے

    مہاراشٹر اسمبلی انتخاب کے لیے ووٹنگ میں صرف 2 دن رہ گئے ہیں۔تمام پارٹیز لوگوں کے لیے پرکشش پیکج متعارف کروا رہی ہیں۔ بی جے پی اورشیوسینا اس الیکشن میں پھر بڑے وعدے کر رہی ہیں۔جس میں کسانوں کے لیے بھی پرکشش باتیں ہیں۔ لیکن بی جے پی دور میں کسانوں کی روزانہ خودکشیوں کی تعداد نے سب کے ہوش اڑا دیے ہیں۔

    بھارت میں خودکشی کا رحجان بڑھ گیا، تازہ ترین رپورٹ سامنے آگئی

    بھارتی میڈیا کے مطابق بی جے پی حکومت میں مہاراشٹر میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات دوگنا سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ گزشتہ سال روزانہ 7 کسانوں نے خودکشی کی۔

    نیوز پورٹل’جن ستا‘ کے مطابق آر ٹی آئی کارکن شکیل احمد کے جواب میں مہاراشٹر حکومت نے گذشتہ سالوں میں خودکشیوں کے اعدادوشمار بتائے ہیں۔ حکومت کے مطابق 2015 سے 2018 تک چار سالوں میں 12021 کسانوں نے خودکشی کی۔ 2013 میں 1296 کسانوں نے موت کو گلے لگایا جب کہ 2018 میں یہی تعداد2761 ہو گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق 2013 کے مقابلے میں 2018 میں کسانوں کی خودکشی کی تعداد دوگنا سے بھی زیادہ ہو گئی۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر، بھارتی بارڈرپولیس کے افسرکی خودکشی

    صرف گذشتہ سال کے دوران ریاست میں روزانہ 7 کسانوں نے اپنی جان دی۔اگر گذشتہ چارسالوں میں خودکشی کی بات کی جائے تو 2015 میں کسانوں کی خودکشی کی تعداد3263 تھی۔ 2016ءمیں یہ تعداد 3080 ہو گئی جبکہ 2017 میں کل 2917 کسانوں اور 2018 میں 2761 کسانوں نے موت کو گلے لگا یا۔ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں پچھلے 4 سال میں روزانہ 8 کسانوں نے خودکشی کی ۔

    بھارتی کسان نے کس پارٹی کی ٹی شرٹ پہن کر خودکشی کی؟

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سالوں کے دوران ریاستی حکومت نے کسانوں کو دیے جانے والے معاوضے کی تعداد کو گھٹا دیا ہے۔ سال 2014 میں حکومت کی جانب سے 1358 کسانوں جبکہ 2018 میں محض 1316 کسانوں کو معاوضے جاری کیے گئے۔

    بھارتی فوجی نے کتنے فوجیوں کو قتل کر کے خودکشی کی، مقبوضہ کشمیر سے بڑی خبر آگئی

    حکومتی اعدادوشمار کے مطابق رواں سال 2019 کے ابتدائی دو مہینوںمیں مہاراشٹر میں کل 396 کسانوں نے خودکشی کی۔ اس سال کے ابتدائی دو ماہ میں روزانہ 6 کسانوں نے موت کو گلے لگا لیا۔

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    واضح رہے کہ ایک کسان نے درخت سے لٹک کر خودکشی کر لی۔ کسان نے بی جے پی کی ٹی شرٹ پہنی ہو ئی تھی۔ 38 سالہ راجو تلوڑے نامی کسان کی لاش درخت سے لٹکی ملی۔ راجو کی ٹی شرٹ پر بی جے پی کا کمل نشان چھپا ہوا تھا اور مراٹھی زبان میں لکھا ہوا تھا ’پنہا آنیو آپلے سرکار‘ یعنی ’پھر سے ہماری سرکار بنائیں‘۔

    یاد رہے کہ بھارتی طلبہ میں خودکشی کا رحجان بڑھ گیا، 26 ہزار سے زائد طلبہ نے موت کو گلے لگا لیا.

    بھارت میں اعلٰی تعلیمی اداروں میں داخلے کی دوڑ اور بہتر تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بوجھ تلے دب کر طلبہ کی خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ طلبہ کی خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات 2016ء میں پیش آئے۔ اس کے دوران 9474 طلبہ، یعنی تقریباً ہر ایک گھنٹے میں ایک طالب علم نے اپنی زندگی کا خود اپنے ہاتھوں خاتمہ کر لیا۔ نریندر مودی حکومت نے چند ماہ قبل پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ 2014ء سے 2016ء کے درمیان 26.5ہزار سے زائد طلبہ نے خودکشی کرلی۔ 2016ء میں 9474، 2015ء میں 8934 اور 2014ء میں 8068 طلبہ نے پڑھائی اور بہتر کارکردگی کے بوجھ تلے دب کر خودکشی کی۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ طلبہ میں خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

  • گجرات میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کو نئی یونیفارم مل گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔

    گجرات میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کو نئی یونیفارم مل گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔

    گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے) میونسپل کارپوریشن کی ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر رانی حفصہ کنول نے اپنے ملازمین کو نئی یونیفارم دے دئے گئے ہیں اور تمام ملازمین اپنی اپنی ڈیوٹیاں احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں ۔ میونسپل کارپوریشن کی ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر رانی حفصہ کنول کا کہنا کہ ہم گجرات شہر کو پاک صاف شہر بنائیں گے۔ جو بھی لوگوں کی شکایات ان کا فوری حل کیا جائے گا ۔۔۔۔

  • رنویر سنگھ کا فیشن سمجھ سے باہر ہے، صارفین کے مزاحیہ تبصرے

    رنویر سنگھ کا فیشن سمجھ سے باہر ہے، صارفین کے مزاحیہ تبصرے

    بالی عوڈ اداکار رنویر سنگھ نے ہفتہ کے روز انسٹاگرام پر نئی ​ تصاویر شیئر کیں اور انہیں جو ردعمل مل رہا ہے وہ مضحکہ خیز ہیں۔ اگرچہ کچھ نے اس کا مقابلہ جوکن فینکس کے جوکر سے کیا، دوسروں نے اسے مور کہا۔ "کہاں جارہے ہو؟” بیوی کی دپیکا پڈوکون نے پوچھا۔

    مزاح نگار اداکارہ تنما بھٹ نے تبصرے کے حصے میں لکھا، "میں اپنے پہلے پیدا ہونے والے بچے کو آپ کے چہرے پر ملانا چاہتا ہوں۔” اداکار جتن سرنا ، جو سیکرڈ گیمز میں نظر آئے، نے ان کا موازنہ سلوواڈور ڈالی سے کیا ، جبکہ سدھانتھ کپور نے مائیکل جیکسن کی پرورش کی۔ ایک شخص نے لکھا ، "عزیز جوکین فینکس ، آپ کا جوکر کا کردار خطرے میں ہے۔

    https://www.instagram.com/p/B3zC5t9hggT/?igshid=iriqoqu39asd

    واہ مور لگ رہے ہو، "ایک مداح نے لکھا۔ رنویر نے اپنی شکل کی تین نئی تصاویر شائع کیں، جس میں گھوبگھرالی مونچھیں، نیین سبز کھائی کوٹ اور اس کے نیچے ایک سرمئی پنسٹریپ سوٹ شامل ہے۔ رنویر نے اورینج شیڈز کے ساتھ اپنی شکل کو حاصل کیا۔

    https://www.instagram.com/p/B3zDAH3BuCz/?igshid=l88rcjgoo4ve

    دیپیکا کے سوال کے جواب کے لیے، رنویر نے ممبئی میں ہونے والے ایک پروگرام کے لئے پہناؤ پہنا ہوا تھا۔ اداکار اپنے اونچی آواز میں ذاتی انداز کے لئے جانا جاتا ہے لیکن دیپیکا نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اپنی نجی زندگی میں ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے ایک حالیہ پروگرام میں کہا، "اس کے پاس ایک انتہائی پرسکون، کمزور اور ذہین پہلو ہے جو مجھے لگتا ہے کہ لوگ اکثر دیکھنے کو نہیں مل پاتے ہیں۔ وہ بہت ہی معنی خیز ہے، بہت سارے ہدایت کاروں کو بھی اس کی پہلو دیکھنے کو ملتا ہے۔