Baaghi TV

Author: +9251

  • کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟— از جویریہ چوہدری

    کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟— از جویریہ چوہدری

    قارئین!
    ایک بندہ مومن کے لیئے اللّٰہ تعالی نے ہر تکلیف،پریشانی اور بیماری پر اجر رکھا ہے یہاں تک کہ اسے کانٹا بھی چبھے تو اس پر بھی اجر ہے۔
    مگر یہ کیسی بیماری ہے کہ انسان اپنے آپ کو کھپا دے،گھلا دے مگر اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟
    کون سی ہے وہ بیماری؟
    جی وہ بیماری ہے حسد کی۔۔۔!!!!
    حسد کی بیماری ایک ایسی قدیم بیماری ہے جو جسم کو تیزاب کی طرح راکھ کر دیتی ہے،ڈیپریشن کا مریض بنا دیتی ہے،روگ لگا دیتی اور حسنات چھین لیتی ہے،

    پرائم منسٹر مرغی پال اسکیم کا باقاعدہ آغاز، قرعہ اندازی کی گئی

    سکون معدوم،
    خوشیاں مفقود کردیتی ہے۔۔۔
    حاسد ہمیشہ محسود سے زوالِ نعمت کا متمنی رہتا ہے اور پھر بے سکونی،عدم برداشت،رنج وکدورت،بے مقصد زندگی معمول بن جاتے ہیں۔
    کوئی فلاں کے پاس بیٹھا کیوں؟
    فلاں سے بولا کیوں؟
    فلاں کے ہاں کیوں گیا وغیرہ۔۔۔
    اور یوں حسد کرنے والا سب سے پہلے خود کو ہی مار دیتا ہے۔۔۔ !
    ڈاکٹر کارل مانینگز ایک نفسیاتی معالج کا کہنا ہے کہ:
    "ڈاکٹر مانینگز تمہیں اضطراب سے بچنے کے قواعد نہیں بتائے گا بلکہ ایک وحشت ناک رپورٹ دے گا کہ کیسے ہم اپنے جسموں اور عقلوں کو قلق و اضطراب،حسد،خوف اور تحقیر جیسی آفتوں سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
    حاسد کی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ وہ رب کے انصاف پر شک کرتا ہے،وہ خود کو عبث تھکاتا ہے،خون جلا کر،نیند اُڑا کر خود کو تباہ کرتا ہے،
    گھر ہو یا دفتر،
    سکول ہوں یا ہسپتال،
    جامعات ہوں یا مدارس،

    4 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیز کے قیام کا اعلان، تبدیلی آگئی

    حسد سے بندہ تب ہی محفوظ رہ سکتا ہے جب وہ "جیسا اور جسطرح "ہر حال میں الحمدللہ کی کیفیت کو اپنا لیتا ہے۔۔۔
    اپنی صورت،لباس،گھر،روزگار،آسائشات کو من و عن تسلیم کر لینے پر آمادہ ہو،
    اللّٰہ کی تقسیم پر راضی اور مطمئن ہو۔
    کسی کے گھر،گاڑی،یا سہولیات پر نظر ہی نہ ہو۔۔۔۔
    کہ یہ دنیا بہت عارضی اور ناپائدار ہے۔۔۔تو غم کیسا؟
    یہاں بہت کچھ ادھورا رہ جاتا،اگر یہ سمٹ کر ایک انسان کے پاس بھی آ جائے تو بالآخر فنا ہی اس کا مقدر ہے۔
    یوں سوچئے کہ بس میرے پاس جو کچھ بھی ہے،اللّٰہ نے مجھے جس قابل سمجھا اور دیا بس پرفیکٹ ہے۔۔۔ !!!
    مجھے دنیا والوں سے کچھ نہیں لینا اور کچھ نہیں سوچنا۔۔۔۔
    ذرا دیکھیئے!
    صحابہ کرام کا دور بلاشبہ دنیا کا بہترین دور تھا اور قیامت تک کے لیئے ویسا دور دوبارہ نہیں لوٹنا،مگر ان کی زندگی کیسی تھی؟
    آسانی،
    سادگی،،
    عدم تکلف،،،
    بابرکت علم تھا اور عمل کی دولت تھی۔۔۔
    متاع دنیا کم سے کم اور نتیجتاً راحت و سعادت اور اطمینان کی دولت تھی۔

    صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی اہلیہ محترمہ بھی ڈاکٹربن گئیں

    انقلاب محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور میں علم وحی اور ہدایت ربانی کا عَلم جن لوگوں نے اٹھایا وہ فقیر ومحتاج تھے اور دعوت حق کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والے رئیس اور ثروت مند مگر رضوان کن کو ملی؟
    یہ حسد حق پرست فقیروں سے بھی ہوتا رہا ہے
    یہ دنیوی اسباب اللّٰہ کے ہاں مچھر کے پر جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے،
    چنانچہ ان چیزوں کی چاہ میں خود کو حسد میں دھکیلنے کی بجائے اپنی زندگی میں نظم و ضبط کی عادت ڈالیئے۔
    ولیم جیمس کہتا ہے:
    "ہم انسان ان چیزوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں جو ہماری ملکیت نہیں ہوتیں،اور جو پاس ہوں ان کی قدر نہیں کرتے۔۔۔؟
    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    آدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔(رواہ النسائی)
    کبھی فرمایا:”لوگوں میں افضل وہ ہے جس کے دل میں بغض و حسد نہ ہو۔(ابن ماجہ)
    تو سوچئے کہ اگر ہمیں حسد کا مرض لاحق ہو گیا تو پھر ایمان کی خیر منانی چاہیئے اور اگر ایمان کامل ہے تو پھر حسد کا جذبہ کبھی نہیں ابھرے گا،
    کسی کا دکھ ہمارا دکھ،
    کسی کی خوشی ہماری خوشی ہو گی۔۔۔
    آئیے عہد کریں کہ اس تکلیف میں خود کو کیوں تڑپائیں جو ممنوع ہے،
    اپنی زندگی میں جینے کا ہنر سیکھیں،
    محبت،خوشبو اور پھولوں کی سوداگری کریں،
    کانٹوں اور اذیتوں سے دامن چھڑا لیں اپنے حصے کا سفر طے کرتے جائیں کہ یہی سکونِ زندگی ہے۔۔۔ !اللّٰہ ہمیں اس بیماری سے بچائے جس کا کوئی اجر ہی نہیں۔۔۔۔ !!!

    کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟
    بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

  • موسم کافی سرد تھا                                 تحریر :  جواد سعید

    موسم کافی سرد تھا تحریر : جواد سعید

    موسم کافی سرد تھا۔ : بقلم جواد سعید
    سردی سے تمام جاندار اپنے بلوں میں دبک چکے تھے۔ہر طرف ہو کا عالم تھا۔سناٹا ہلکی ہلکی آواز کو اونچا سنا رہا تھا۔سڑک پر ٹریفک ندارد۔
    لیکن پھر بھی وہ ان سب سے بے پرواہ آستین چڑھائے سڑک پر خورد بین جیسی نطریں مرکوز کیے آوارہ گردی کررہا تھا۔
    مشغلے کے طور پر بکھرے پتھر خالی بوتلوں کو وہ اپنی ٹھوکروں سے ہٹا رہا تھا۔
    اسکی حرکات اسکے مضطربانہ چال کو واضح کر رہی تھیں۔دیکھنے پر محسوس ہوتا جیسے سوچ وبچار کے سمندر میں غرق ہے۔
    حیرانگی تب ہوتی جب وہ خیالاتی سمندر سے منہ نکال کر اپنی دائیں بائیں طرف سلسلہ مکانات پر نظریں گھماتا۔
    پھانسی پر لٹکے بلبوں کی بجھتی بجھتی لائیٹیں انکے مکینوں پر دلالت کررہی تھیں۔
    اور میں تھا کہ مجھے یہ معمہ سمجھنے کا اشتیاق بڑھ رہا تھا۔
    اب وہ نظروں سے اوجھل ہونے لگا۔میں نے بھی پیچھا کرنے کی ٹھان لی۔
    انگلش فلموں کی طرح خود کو پروفیشنل جاسوس سمجھتے ہوئے مبالغہ آمیز احتیاط سے اسے فالو کرنے لگا۔
    جتنا میں خود کو چھپا رہا تھا اتنا ہی انجانا سا ڈر ذہن میں سما رہا تھا۔چلتے چلتے اگر کسی روشنی کی زد میں آ جاتا تو اپنا ہیولہ ہی جان نکال دیتا ۔
    اب وہ آخری مکانوں سے گزر رہا تھا۔اسکی چال قدرے سست ہو چکی تھی اور وہ مسلسل بے چین نظر آ رہا تھا۔اسکی بے چینی اسکی حرکتوں سے عیاں تھی کبھی سڑک پر نظریں گاڑ لیتا کبھی مکانوں کی روشنیوں کی سمت دیکھتا اور کبھی آگے پیچھ دیکھتا کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔
    یہ کیا۔۔۔
    وہ سڑک پر جھک چکا تھا اور اپنے ہاتھوں سے کوئی چیز ٹٹول رہا تھا۔
    میں مسلسل حیرانگی کو موجوں میں غرق تھا۔
    اب وہ ٹانگوں کے وزن پر بیٹھا نظر آیا۔اور اپنے ہاتھوں ٹانگوں کے بل چوپائے مانند آگے سرکتا دکھائ دیا۔اور اچانک اسنے کسی چیز کو چھوا ہی تھا کہ وہ اچھل کر کھڑا ہو گیا جیسے کسی معصوم کے بیٹھنے سے پہلے اسکی سیٹ پر نوک دار چیز رکھ دی جائے۔جیسے وہ اچھلتا بالکل اسی طرح۔لیکن وہ تو تکلیف کی شدت سے اٹھتا ہے اور یہ صاحب خوشی سے جھوم رہے تھے۔
    اسی دوران پون گھنٹہ گزر چکا تھا۔
    تھک ہار کر فلمی دنیا سے باہر آیا اور نارمل ہو کر تیزی سے اس کے قریب جانے لگا۔
    مجھے اپنے قریب پا کر وہ بوکھلا سا ہو گیا۔
    وہ قدرے سانولا ہٹا کٹا نوجوان تھا۔
    علیک سلیک کے بعد میں نے اسے کہا بھائ گھنٹے بھر سے آپ کو دیکھ رہا کیا ماجرا ہے۔کس پریشانی میں مبتلاء ہیں اور اس خوشی کی وجہ کیا ہے۔؟؟؟
    وہ یوں گویا ہوا
    میری آتے ہوئے موٹر سائیکل کی چابی گر گئ تھی۔
    اس سے تھوڑا آگے میں نے چابی موٹر سائیکل کو لگی دیکھی تھی۔
    اسلیے میں اسے ڈھونڈ رہا تھا۔😲۔

    گھنٹہ خوار ہونے کے بعد اب میں واپسی نکل پڑا۔
    مجھے اپنے حساس اور ویلے ہونے کا بخوبی اندازہ ہو رہا تھا۔
    اور سوچ رہا تھا بیوی کا ڈنڈا کتنی عظیم نعمت ہے بندے کو ٹائم سے گھر تو پہنچا دیتا۔ چاہے راستے میں لاکھوں لڑائیاں حادثات نظر انداز کر کے ہی کیوں نہ پہنچنا پڑے۔
    لیکن کیونکہ انگور کھٹے ہیں۔اسلیے کنوارہ پن عظیم نعمت ہے۔

  • تصویر ایک زاویے مختلف —-از— فردوس جمال

    تصویر ایک زاویے مختلف —-از— فردوس جمال

    گلاس آدھا خالی ہے،گلاس میں آدھا پانی ہے،بات ایک ہی ہے
    لیکن تعبیریں دو مختلف،چیزوں کو مثبت منفی کس ذاویے
    سے ہم دیکھتے ہیں یہ اس کا فارمولا ہے.

    مسئلہ تب بن جاتا ہے جب آپ کسی چیز کو ایک ہی زاویے سے دیکھ کر رائے قائم کرتے ہیں،زیر نظر تصویر سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے آئیں اسے ہم مختلف زاویوں سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کرتے ہیں.

    پرائم منسٹر مرغی پال اسکیم کا باقاعدہ آغاز، قرعہ اندازی کی گئی

    میاں نواز شریف اور مریم بی بی جیل میں قید ہیں،جلسوں
    دھرنوں اور پبلک پروگرامات کا انعقاد نہیں ہو رہا ہے نتیجتا
    کارکنان بریانی سے محروم ہیں،مایوس لیگی کارکنوں کا "احساس ” کرتے ہوئے عمران خان نے جگہ جگہ لنگر کھولنا
    شروع کر دیا چونکہ رشتے میں وہ سب کے وزیر اعظم لگتے ہیں اس لئے سب کا احساس کرنا ان پر لازم ہے.

    ہمارا ملک جتنی بھی ترقی کرے اگلے دس پندرہ سال تک مفت خوری کی عادت سے چھٹکارہ پانا مشکل ہے لہذا ایسے لوگ تب تک خوش نہیں ہوں گے جب تک انہیں مفت کا کھانا
    میسر نہیں لہذا اس طبقے کا "احساس” کرنا بھی وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے چونکہ رشتے میں وہ سب کے…الخ

    ڈاکٹرزکی ہڑتال،فیروز پور بند،نئے مطالبات سامنےآگئے

    ستر سالہ پاکستانی تاریخ میں نا اہل حکمرانوں نے ملک کو
    دو طبقوں میں تقسیم کئے رکھا،ایک طبقہ وہ جسے دو وقت
    کی روٹی تک میسر نہیں دوسرا طبقہ ایلیٹ کلاس جن کے کتے اور گھوڑے بھی مکھن اور مربعے کھاتے ہیں،عمران خان
    ان سرمایہ داروں کی انسانیت کو جھنجھوڑ رہے ہیں کہ کم از کم فٹ پاتھوں پر بھوکے مرنے والے انسانوں کو اپنے کتوں برابر اہمیت تو دو،چنانچہ ان سرمایہ داروں کی جیبوں سے
    پیسہ نکال کر یہ مفت کے لنگر چلائے جا رہے ہیں،تمہارے امیروں پر تمہارے غریبوں کا حق ہے.

    ہمارے ملک کو ہزاروں مسائل کا سامنا ہے وزیر اعظم اگر کسی ایک مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوشاں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ دیگر سیکٹرز پر کام نہیں ہو رہا لہذا مفت لنگر کھولنے کی تصویر اٹھا کر یہ سوال کرنا کہ مفت لنگر کھولنے سے ملکی معیشت ٹھیک ہوگی؟انتہائی بچگانہ اپروچ اور سطحی ذہنیت ہے.

    4 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیز کے قیام کا اعلان، تبدیلی آگئی

    رسول خدا سے پوچھا گیا کہ بہترین اسلام کون سے آپ نے فرمایا بھوکے کو کھانا کھلانا،پوچھا گیا اللہ پاک کے نزدیک
    پسندیدہ عمل کون سا ہے آپ نے فرمایا بھوکے کو کھانا کھلانا،ایک بدوی آکر پوچھا ایسا کوئی عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کرے فرمایا بھوکے کو کھانا کھلانا اور پیاسے کو پانی پلانا.اللہ کے رسول ہم میں سے بہتر کون ہے؟”خياركم من أطعم الطعام ” جو دوسروں کو کھانا کھلائے،قیامت کی ہولناکیوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
    جو مسکینوں،یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلائے.!!!

    وہ یہودی ایجنٹ فٹ پاتھوں میں گھوم پھیر کر بھوکوں کو کھانا کھلا رہا ہے اور آپ فیس بک پر بیٹھ کر جس زرداری کے گھوڑے مربعے کھاتے ہیں اس کا دفاع کر رہے ہیں.

    تصویر ایک زاویے مختلف

    بقلم فردوس جمال!!!

  • اورر لوڈنگ کا شکار معصوم بچہ جاں بحق

    اورر لوڈنگ کا شکار معصوم بچہ جاں بحق

    ٹھٹھہ صادق آباد (نمائندہ باغی ٹی وی) میں معصوم بچہ رکشہ سے گر کر جان کی بازی ہار گیا۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹھٹھہ صادق آباد کے نواحی علاقہ اڈہ پل 132 پہ لیڈر شپ سائنس سکول کا معصوم طالب علم محمد حمیر اوور لوڈنگ کی وجہ سے رکشہ سے گر کر جان کی بازی ہار گیا۔بچے کو ابتدائی طبی امداد کے لئے رورل ہیلتھ سنٹر ٹھٹھہ صادق آباد میں منتقل کیا گیا جہاں معصوم محمد حمیر جانبر نہ ہوسکا اور جان کی بازی ہارگیا۔

  • عمران خان سوشلستان کے بھی خان بن گئے، ٹویٹر کے میدان میں کیا مقام حاصل کر لیا ؟ جانیے خاص رپورٹ

    عمران خان سوشلستان کے بھی خان بن گئے، ٹویٹر کے میدان میں کیا مقام حاصل کر لیا ؟ جانیے خاص رپورٹ

    عمران خان سوشلستان کے بھی خان بن گئے، تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے کیا مقام حاصل کر لیا جانیے خاص رپورٹ

    باغی ٹی وی رپورٹ : پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم پر 10.5 ملین فالوورز حاصل کرنے کے بعد ٹویٹر پر دنیا کے چھٹے مقبول رہنما بن گئے ہیں۔

    عمران خان کی برتری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 27 ستمبر کی ان کی تقریر کے بعد ہوئی ہے۔عمران خان کی ٹویٹر کی فالوونگ پچھلے کچھ مہینوں میں تیز رفتاری سے بڑھ چکی ہے۔

    اس سال اپریل میں ، سابق کرکٹر سیاستدان سیاستدان 9.4 ملین فالورز کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نویں نمبر پرآنے والے عالمی رہنما تھے۔
    ابھی تک ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 65.3 ملین فالوورز کے ساتھ پہلے پوزیشن پر کھڑے ہیں ، مودی دوسرے نمبر پر 50.6 ملین کے ساتھ ، پوپ فرانسس 18.1 ملین پیروکاروں کے ساتھ ہیں۔
    ترکی کے صدر رجب طیب اردگان 14.1 ملین فالوورز کے ساتھ چوتھے اور انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدوڈو 12.2 ملین میں پانچویں نمبر پر ہیں۔

  • خاتون پولیس وارڈن قتل

    کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے حب کی سنٹرل جیل گڈانی میں خاتون پولیس وارڈن کو قتل کردیا گیا۔
    پولیس کے مطابق سینٹرل جیل گڈانی میں 3 روسی خواتین قیدیوں نے لیڈی کانسٹیبل کو دورانِ ڈیوٹی تشدد کا نشانہ بنایا اور سر پر وزنی لوہے سے مہلک ضرب لگائی۔ قیدیوں نے تشدد کے بعد خاتون پولیس اہلکار کو گلے میں رسی ڈال کر قتل کردیا۔ 23 سالہ لیڈی کانسٹیبل زویا بنت یحییٰ گڈانی کی رہائشی تھی ایس ایچ او گڈانی کے مطابق یہ واقعہ رات گئے پیش آیا، لیڈی کانسٹیبل کے قتل کا مقدمہ روسی خواتین کے خلاف درج کیا جائے گا اور تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

  • پرائم منسٹر مرغی پال اسکیم کا باقاعدہ آغاز، قرعہ اندازی کی گئی

    پرائم منسٹر مرغی پال اسکیم کا باقاعدہ آغاز، قرعہ اندازی کی گئی

    لاہور :وزیراعظم مرغی پال اسکیم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا، محکمہ لائیو سٹاک نے درخواست گزاروں کو 100 یونٹ بذریعہ قرعہ اندازی دے دیئے۔اطلاعات کےمطابق وزیرلائیو سٹاک کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر یہ منصوبہ مستحق افراد کے لیے شروع کیا گیا، انہوں نےکہا کہ محکمہ لائیو سٹاک پر اگر توجہ دی جائے تو قوم کی قسمت بدلی جاسکتی ہے۔

    صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی اہلیہ محترمہ بھی ڈاکٹربن گئیں

    یاد ہے کہ کچھ ماہ قبل پاکستان میں گوشت کی کمی کو پوراکرنے اور ملکی معشیت میں بہتری کے لیے وزیراعظم عمران خان نے مرغی پال سکیم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت درخواست گزارو‍ں میں یونٹ کی تقسیم کے حوالے سے تقریب کا اہتمام ٹاؤن ہال میں کیا گیا، وزیر لائیو سٹاک حسنین بہادر دریشک نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، درخواست گزاروں میں 100 یونٹ بذریعہ قرعہ اندازی تقسیم کیے گئے۔

    علی ظفر اور میشا شفیع کی لڑائی :عدالت نے نے بڑاحکم دے دیا

    تقریب میں آنے والے اور مرغیاں حاصل کرنے والےشہریوں کا کہنا تھا کہ وہ ان کی پرورش کریں گے اور انڈے فروخت کرکے آمدنی کا ذریعہ بنائیں گے۔ڈائریکٹر پولٹری ڈاکٹر عمران کا کہنا تھاکہ یونٹ کی تمام ویسکیسنیشن مکمل ہیں، مر غیوں کو زیادہ گرمی اور شدید ٹھنڈ سے محفوظ رکھنا ہوگا۔

    اینٹی بایوٹک چائے،مشروب بھی علاج بھی،ایشیا،یورپ اورمغرب میں یکساں مقبول

  • شیخ جاوید اقبال المعروف جاوید شیخ کی 65 ویں سالگرہ ، 1975 میں دھماکہ کیا

    شیخ جاوید اقبال المعروف جاوید شیخ کی 65 ویں سالگرہ ، 1975 میں دھماکہ کیا

    اسلام آباد :فلم انڈسٹری کے ہیرو اور معروف پاکستانی اداکار جاوید شیخ آج اپنی 65ویں سالگرہ منارہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پاکستان کے معروف اداکار جاوید شیخ8 اکتوبر 1954کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور ان کا اصل نام شیخ جاوید اقبال ہے۔

    4 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیز کے قیام کا اعلان، تبدیلی آگئی

    ذرائع کے مطابق جاوید شیخ نےپاکستان ٹیلی ویژن سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور پہلے ڈرامہ سیریل”شمع“ کی کامیابی کے بعد پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ٹیلی ویڑن انڈسٹری میں اپنی مہارت کا لوہا منوانے کے بعد جاوید شیخ نے لولی ووڈ کے طرف چل نکلے اور 1975میں ریلیز ہونے والی فلم ’دھماکا‘سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔

    ڈاکٹرزکی ہڑتال،فیروز پور بند،نئے مطالبات سامنےآگئے

    ذرائع کےمطابق اپنے کیریئر کے دوران جاوید شیخ نے کئی مشہور ڈراموں اور فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جبکہ بطور ہدایتکار ان کی پہلی فلم’مشکل‘تھی۔جاوید شیخ اس وقت بھی پاکستانی شوبز انڈسٹری سے منسلک ہیں اور مختلف فلموں اور ڈراموں میں کردارنبھا رہے ہیں۔

    صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی اہلیہ محترمہ بھی ڈاکٹربن گئیں

  • مولانا فضل الرحمن سے بطور پاکستانی کچھ سوالات؟        تحریر:  جوادسعید

    مولانا فضل الرحمن سے بطور پاکستانی کچھ سوالات؟ تحریر: جوادسعید

    مولانا فضل الرحمن سے بطور پاکستانی کچھ سوالات؟

    (1)آپ کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے مفاد بقاء کیلئے دھرنا دیں گے۔
    آپکو یاد ہو گا۔دوسال قبل جمیعت علمائے اسلام ہند کے قائم ہوئے سو سال گزرنے پر آپ نے ایک جشن منایا تھا۔؟؟؟؟
    یاد رہے یہ وہی جمیعت ہے جس نے پاکستان بننے کی پرزور مخالفت کی تھی۔
    اور انھوں نے ہی گیارہ ستمبر کو قراردادیں منظور کروائیں تھیں۔ایک کشمیر کی صورتحال بہتر کی جائے۔دوسری کشمیر معاملے میں مداخلت کسی کی بھی قبول نہیں۔چاہے پاکستان ہو۔کیونکہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔
    اور یہی 1951 1963. 2009 میں بھی کہا گیا اور اب بھی انکا اقرار یہی ہے کہ بھارت جیسا چاہے کرے پاکستان کو مداخلت کا حق نہیں ۔
    تو ایسی جماعت کا جشن آپ کیوں مناتے جو بغض پاکستان مسلمان میں اندھی ہو چکی۔؟؟
    آپ تو کشمیر کمیٹی کے چئیرمین بھی رہے پھر بھی ان سے اتنی محبت۔؟؟
    دوغلا پالیسی یا ہم سے منافقت. ایک مطلب تو ہے
    ان سب کے بعد بھی آپکو کب سے پاکستان کا مفاد دکھنے لگا؟؟؟؟

    (2) جب نواز شریف نے قادیانیوں کا بھائ بہن کہا اور خدا تعالی اور بت بھگوان کو ایک کہا ۔تب آپ کدھر تھے آپکا علم کدھر تھا۔؟؟؟؟

    (3)نواز حکومت نے جب ختم نبوت ترمیم کو چھیڑا تب آپکے بیان کدھر تھے۔؟؟؟

    (4)کارگل جیسے فیصلے پر کیوں چپ رہے؟؟

    (5)ن لیگی پرویز رشید نے جب مدارس کو جہالت کی فیکٹریاں کہا تب آپ کیوں نہ نکلے؟؟

    (6)باجوڑ مدرسے شہادتیں ہوئیں تب آپکے بیانات اقدامات کیا تھے؟؟؟

    (7)ٹی ٹی پی۔خوارج۔طالبان۔سب معصوم ۔فوج ظالم۔ ضرب عضب کے شہداء کو کبھی شہید کہہ سکتے ہیں؟؟ من پسند حکومت کے ہوتے ہوئے بھی دھماکوں سے شہید افراد پر آپکی کیا رائے تھی۔؟؟؟؟؟صرف ایک بیان خوارج ٹی ٹی پی کیخلاف دے دیجئے ہم آپکو مولانا مان لیں گے؟؟؟؟؟

    ایسا نہیں ہے کہ عمران خان بڑا چنگا ہے اسکا دھرنا ٹھیک تھا برحق تھا وغیرہ وغیرہ ہمیں کسی سیاسی سے اندھی محبت نہیں۔
    جو بھی اچھے عمل کرے گا ہم اسے سراہیں گے۔
    اور جو بھی غلط عمل۔غلط قدم اٹھائے گا اسے ہم ٹوکے گیں روکے گیں۔

    بابا جی جواد کہا کرتے ہیں۔
    جب ماضی سب کا ایک جیسا ہو تو ماضی کا طعنہ دینا اور دوسرے کے غلط قدم کو دلیل بنا کر دوبارہ دہرانا بھی منافقت پاگل پن سے کم نہیں۔
    (8)اگر عمران نے دھرنا دیا تھا تو وہ بقول آپکے چول غداری تھی تو آپ کے دھرنے کو کیا حج عمرے کا ثواب ملناہے۔؟؟؟؟؟؟

    جوادسعید