Baaghi TV

Author: +9251

  • 4 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیز کے قیام کا اعلان، تبدیلی آگئی

    4 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیز کے قیام کا اعلان، تبدیلی آگئی

    لاہور :صوبے کی عوام کو تعلیم کی تمام تر سہولتیں فراہم کریں گے ، یہ دور ٹیکنکل تعلیم کا ہے ، ہنر آتا ہو تو سب کچھ آجاتا ہے ، اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات میاں اسلم اقبال کا کہنا ہے کہ آئندہ کچھ ماہ میں مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں آئے گی۔

    اینٹی بایوٹک چائے،مشروب بھی علاج بھی،ایشیا،یورپ اورمغرب میں یکساں مقبول

    تفصیلات کے مطابق وزیراطلاعات پنجاب میاں اسلم اقبال نے کہا کہ پنجاب کے اندر 4 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیز قائم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں ساڑھے 10ارب ڈالر قرضہ واپس کیا ہے۔میاں اسلم اقبال نے کہا کہ مشکل ریفارمز کیے، ریونیو میں 30 فیصد بہتری آئی، عوام کو مالی مشکلات کا ہمیں اندازہ ہے۔

    181 گھروں میں ڈکیتی کتنے لوگ قتل اور زخمی ہوئے خبر نے ہلچل مچادی

    صوبائی وزیر نے کہا کہ آئندہ کچھ ماہ میں مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں آئے گی، کوئی وزیر وسائل کا ناجائز استعمال نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب نے پاکستان کے لے کام کرنا ہے۔میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر جلد سے جلد تعلیم کے میدان میں جدت لارہے ہیں،

    صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی اہلیہ محترمہ بھی ڈاکٹربن گئیں

  • سوشل میڈیا پر شق نمبر 6 کی وجہ سے کہرام کیوں ؟

    سوشل میڈیا پر شق نمبر 6 کی وجہ سے کہرام کیوں ؟

    سوشل میڈیا پر فیک یعنی جعلی نوٹس جاری کر کے مخالف گروپ کو میلائن کرنے کا سلسلہ جاری ہے.ایسے نوٹس کسی مخالف گروپ کے آفیشل لیٹر پیڈ کی ہو بہو کاپی ہوتے ہیں تا کہ عام آدمی اس کو سنجیدگی سے لے اور حقیقی سمجھ لے . حالیہ دنوں‌ایسا ہی ایک فیک نوٹس چل رہا ہے جس میں‌ جے یو آئی کے کارکنان کےلیے ہدایات جاری کی گئ ہیں کہ شرکا دھرنے میں ان باتوں کا خیال رکھیں. ان ہدایات میں‌ بظاہر تو ایسی باتیں‌تھیں‌جس کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ واقعی جے یو آئی کی طرف سے ہدایات جاری ہوئی ہیں . لیکن شق نبمر6 کو پڑھ کر فورا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب فیک ہیں‌ شک نمبر 6 میں‌کہا گیا تھا کہ دھرنے میں شریک افراد اپنے امیرکی اجازت کے بغیر لواطت کرنے سے مکمل طورپر اجتناب کریں ،

    اس بات کااتنا چرجا ہوااور یہ فیک نوٹس سوشل میڈیا پر اتنا عام ہوا کہ ہر ایک کے تبصرے کا محور رہا اس جعلی نوٹس کو جمیعت علما اسلام کی آٍفیشل اکاؤنٹ سے تردیدجاری کرنا پڑی اور کہا گیا آزادی مارچ کی عوامی حلقوں میں مقبولیت اور تمام شعبوں سے وابستہ افرادکی بھرپور حمایت پر چند عناصرجھوٹ اور فیک چیزیں چلا کر خود کو طفل تسلیاں دے رہے ہیںایسے عناصر سے ہوشیار رہیں، ہمارے اہداف متعین ہیں۔
    باوثوق خبر اور نوٹیفکیشن کیلئے جماعت کے مرکزی اکاؤنٹس سے وابستہ رہیں۔


    اس کے علاوہ اس کی عبدالغفور حیدری نے اپنے ویڈیو بیان میں تردید کی ہے


    ایک اور نوٹس سوشل میڈیا پر عام ہوا جو کہ مبینہ طور پر مجسٹریٹ اسلام آباد کی طرف سے تھا جس میں‌کہا گیا تھا کہ لواطت یعنی ہومو سیکسیالوجی کی شرعا اور قانونا اجازت نہیں‌ ہے . پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں‌ کو شہریوں کی طرف سے تحفظات موصول ہوئے ہیں‌. اس لیے ایسے کاموں‌کی سختی سے پابندی ہے . میجسٹریٹ کی طرف منسوب یہ نوٹس بھی فیک تھااوراس نوٹس کی تردید بھی مجسٹریٹ آفس کی طرف سے جاری کرنا پڑی

    اس شق پر وفاقی وزیر نے بھی اپنی ٹویٹ میں‌وہ تبصرہ کیا جس پر سنجیدہ حلقوں کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے اورکہا جارہا ہے کہ ایسی باتیں‌کسی اہم شخصیت کو زیب نہیں دیتی.جس کے پاس قومی عہدہ بھی اسے کم از کم اپنے عہدے کا توخیال رکھنا چاہیے.


    https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1180902172709588992?s=20

  • ڈاکٹرزکی ہڑتال،فیروز پور بند،نئے مطالبات سامنےآگئے

    ڈاکٹرزکی ہڑتال،فیروز پور بند،نئے مطالبات سامنےآگئے

    لاہور: مسیحا پھر سڑکوں پر آگئے ، سال میں اکثروبیشتر ہڑتالیں کرنے والے ڈاکٹرز مریضوں کو کب وقت دیتے ہیں ، اطلاعات کے مطابق حسب روایت آج پھر سول سیکرٹریٹ کے باہر محکمہ صحت کے کنٹریکٹ ملازمین کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری، پنجاب بھر سے ماں، بچہ صحت اور غذائیت سے مربوط پروگرام محکمہ صحت کےکنٹرکٹ ملازمین ایل ایچ وی خواتین، مڈ وائفز اور گارڈز احتجاج میں شامل ہیں, ایل ایچ او خواتین اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی دھرنے میں موجود ہیں۔

    صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی اہلیہ محترمہ بھی ڈاکٹربن گئیں

    اطلاعات کے مطابق ایک کے پی میں بھی ڈاکٹرز نے ہڑتال کررکھی ہے تو دوسری طرف پنجاب کے مختلف اضلاع سے آئے ماں بچہ صحت اور غذائیت سے مربوط پروگرام کے کنٹریکٹ ملازمین اپنی مستقلی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا جو بعد میں دھرنے میں تبدیل ہوا گیا، لیڈی ہیلتھ ویزٹرز سمیت دیگر ملازمین کا احتجاج کل صبح 8 بچے شروع ہوا دن میں ڈی ہیلتھ کے ساتھ مطاہرین کے مذاکرات ہوئے جو ناکام ہو گئے اس پر ان کا اجتجاج دھرنے میں تبدیل ہو گیا جو ساری رات جاری رہا, مظاہرین کا کہناہے کہ مستقل کرنے کے مطالبہ پر ہر بار تسلیاں دی جاتی ہیں، مگر اب مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔

    لاہور فیروز پور روڈ کو بند کرنے والے محکمہ صحت کے ملازمین کا کہنا ہےکہ وہ اضلاع کی سطح پربچے کی ڈیلوری، اور بچہ ماں کی نگہداشت کرتی ہیں، پانچ سال سے مستقل کرنے کا مطالبہ کر رہے اب تین ماہ سے تنخواہ بند کر رکھی ہے، احتجاج پر ڈی جی ہیلتھ آفس سے برطرفی کی دھمکیاں مل رہی ہیں، جب تک تحریری طور پر ان کے تمام مطالبے تسلیم نہیں کرلئے جاتے وہ دھرنا جاری رکھیں گے۔

    181 گھروں میں ڈکیتی کتنے لوگ قتل اور زخمی ہوئے خبر نے ہلچل مچادی

    احتجاج کےباعث سول سیکرٹریٹ چوک ٹریفک کیلئےمکمل طورپربندہےجس سےشہریوں کوبھی شدیدمشکلات کا سامنا ہے جبکہ مظاہرین نے سیکرٹری ہیلتھ کیساتھ مذاکرات ناکام ہونےکےبعدرات کھلےآسمان تلےگزاری ۔دوسری طرف حکام اور مظاہرین کےدرمیان مذاکرت جاری ہیں‌اور کسی بھی وقت یہ بریک تھرو ہوسکتا ہے

    اینٹی بایوٹک چائے،مشروب بھی علاج بھی،ایشیا،یورپ اورمغرب میں یکساں مقبول

  • کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟      تحریر:جویریہ چوہدری

    کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟ تحریر:جویریہ چوہدری

    کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟ تحریر:جویریہ چوہدری
    قارئین!
    ایک بندہ مومن کے لیئے اللّٰہ تعالی نے ہر تکلیف،پریشانی اور بیماری پر اجر رکھا ہے یہاں تک کہ اسے کانٹا بھی چبھے تو اس پر بھی اجر ہے۔
    مگر یہ کیسی بیماری ہے کہ انسان اپنے آپ کو کھپا دے،گھلا دے مگر اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟
    کون سی ہے وہ بیماری؟
    جی وہ بیماری ہے حسد کی۔۔۔!!!!
    حسد کی بیماری ایک ایسی قدیم بیماری ہے جو جسم کو تیزاب کی طرح راکھ کر دیتی ہے،ڈیپریشن کا مریض بنا دیتی ہے،روگ لگا دیتی اور حسنات چھین لیتی ہے،
    سکون معدوم،
    خوشیاں مفقود کردیتی ہے۔۔۔
    حاسد ہمیشہ محسود سے زوالِ نعمت کا متمنی رہتا ہے اور پھر بے سکونی،عدم برداشت،رنج وکدورت،بے مقصد زندگی معمول بن جاتے ہیں۔
    کوئی فلاں کے پاس بیٹھا کیوں؟
    فلاں سے بولا کیوں؟
    فلاں کے ہاں کیوں گیا وغیرہ۔۔۔
    اور یوں حسد کرنے والا سب سے پہلے خود کو ہی مار دیتا ہے۔۔۔ !
    ڈاکٹر کارل مانینگز ایک نفسیاتی معالج کا کہنا ہے کہ:
    "ڈاکٹر مانینگز تمہیں اضطراب سے بچنے کے قواعد نہیں بتائے گا بلکہ ایک وحشت ناک رپورٹ دے گا کہ کیسے ہم اپنے جسموں اور عقلوں کو قلق و اضطراب،حسد،خوف اور تحقیر جیسی آفتوں سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
    حاسد کی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ وہ رب کے انصاف پر شک کرتا ہے،وہ خود کو عبث تھکاتا ہے،خون جلا کر،نیند اُڑا کر خود کو تباہ کرتا ہے،
    گھر ہو یا دفتر،
    سکول ہوں یا ہسپتال،
    جامعات ہوں یا مدارس،
    حسد سے بندہ تب ہی محفوظ رہ سکتا ہے جب وہ "جیسا اور جسطرح "ہر حال میں الحمدللہ کی کیفیت کو اپنا لیتا ہے۔۔۔
    اپنی صورت،لباس،گھر،روزگار،آسائشات کو من و عن تسلیم کر لینے پر آمادہ ہو،
    اللّٰہ کی تقسیم پر راضی اور مطمئن ہو۔
    کسی کے گھر،گاڑی،یا سہولیات پر نظر ہی نہ ہو۔۔۔۔
    کہ یہ دنیا بہت عارضی اور ناپائدار ہے۔۔۔تو غم کیسا؟
    یہاں بہت کچھ ادھورا رہ جاتا،اگر یہ سمٹ کر ایک انسان کے پاس بھی آ جائے تو بالآخر فنا ہی اس کا مقدر ہے۔
    یوں سوچئے کہ بس میرے پاس جو کچھ بھی ہے،اللّٰہ نے مجھے جس قابل سمجھا اور دیا بس پرفیکٹ ہے۔۔۔ !!!
    مجھے دنیا والوں سے کچھ نہیں لینا اور کچھ نہیں سوچنا۔۔۔۔
    ذرا دیکھیئے!
    صحابہ کرام کا دور بلاشبہ دنیا کا بہترین دور تھا اور قیامت تک کے لیئے ویسا دور دوبارہ نہیں لوٹنا،مگر ان کی زندگی کیسی تھی؟
    آسانی،
    سادگی،،
    عدم تکلف،،،
    بابرکت علم تھا اور عمل کی دولت تھی۔۔۔
    متاع دنیا کم سے کم اور نتیجتاً راحت و سعادت اور اطمینان کی دولت تھی۔
    انقلاب محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور میں علم وحی اور ہدایت ربانی کا عَلم جن لوگوں نے اٹھایا وہ فقیر ومحتاج تھے اور دعوت حق کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والے رئیس اور ثروت مند مگر رضوان کن کو ملی؟
    یہ حسد حق پرست فقیروں سے بھی ہوتا رہا ہے
    یہ دنیوی اسباب اللّٰہ کے ہاں مچھر کے پر جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے،
    چنانچہ ان چیزوں کی چاہ میں خود کو حسد میں دھکیلنے کی بجائے اپنی زندگی میں نظم و ضبط کی عادت ڈالیئے۔
    ولیم جیمس کہتا ہے:
    "ہم انسان ان چیزوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں جو ہماری ملکیت نہیں ہوتیں،اور جو پاس ہوں ان کی قدر نہیں کرتے۔۔۔؟
    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    آدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔(رواہ النسائی)
    کبھی فرمایا:”لوگوں میں افضل وہ ہے جس کے دل میں بغض و حسد نہ ہو۔(ابن ماجہ)
    تو سوچئے کہ اگر ہمیں حسد کا مرض لاحق ہو گیا تو پھر ایمان کی خیر منانی چاہیئے اور اگر ایمان کامل ہے تو پھر حسد کا جذبہ کبھی نہیں ابھرے گا،
    کسی کا دکھ ہمارا دکھ،
    کسی کی خوشی ہماری خوشی ہو گی۔۔۔
    آئیے عہد کریں کہ اس تکلیف میں خود کو کیوں تڑپائیں جو ممنوع ہے،
    اپنی زندگی میں جینے کا ہنر سیکھیں،
    محبت،خوشبو اور پھولوں کی سوداگری کریں،
    کانٹوں اور اذیتوں سے دامن چھڑا لیں اپنے حصے کا سفر طے کرتے جائیں کہ یہی سکونِ زندگی ہے۔۔۔ !اللّٰہ ہمیں اس بیماری سے بچائے جس کا کوئی اجر ہی نہیں۔۔۔۔ !!!
    بقلم:جویریہ چوہدری۔

  • کراچی میں پچھلے ماہ کتنے جرائم ر پورٹ ہوئے  ، اعداد و شمار آگئے

    کراچی میں پچھلے ماہ کتنے جرائم ر پورٹ ہوئے ، اعداد و شمار آگئے

    کراچی میں پچھلے ماہ کتنے جرائم رپورٹ ہوئے ، اعداد و شمار آگئے
    سی پی ایل سی نے ستمبر 2019 میں کراچی میں جرائم کے اعداد وشمار جاری کردئیے.گزشتہ ماہ 18 افراد فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں جاں بحق ہوئے،کراچی میں گزشتہ ماہ بھتہ خوری کے 3واقعات رپورٹ ہوئے
    ستمبر2019میں اغوابرائے تاوان کا ایک واقعہ رونماہوا ،
    شہریوں کے 200 موبائل فونز برآمد بھی کرلیےگئے،1735موبائل اسلحے کے زور پر چھینے گئے،2542چوری ہوئے،
    147موٹرسائیکلیں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں اور 2806 چوری ہوئیں، کراچی میں 26 گاڑیاں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں اور 163 چوری ہوئیں،
    شہر قائد میں جرائم میں اضافہ، بارہ سالہ بچے کی لاش کہاں سے ملی
    اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوا. رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اسلام آباد میں 7ماہ میں مختلف کیسز کی 2ہزار516شکایات درج ہوئیں،2ہزار403 شکایات پر عمل درآمد کیا گیا ،116پر تحقیقات جاری ہے،اسلام آباد ٹریفک پولیس کےخلاف 61شکایات موصول ہوئیں، 59پر عمل کیا گیا،

  • پشاور میں کتنی  بے نامی  جائیدادیں ؟ جانچ پڑتال آگئی

    پشاور میں کتنی بے نامی جائیدادیں ؟ جانچ پڑتال آگئی

    خیبرپختونخوا میں بے نامی جائیدادوں کی تلاش جاری ہے اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے بے نامی جائیدادوں کی تفصیلات مانگی تھیں،
    دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے ابھی معلومات فراہم نہیں کیں، خیبرپختونخوا میں بے نامی جائیدادوں کی کھوج کا عمل جاری ہے،

    بے نامی جائیدادوں کی تفصیلات ایف بی آر کو ارسال کردگئی،بے نامی جائیداوں کی نشاندہی کاغذات کی جانچ پڑتال اور معلومات کی بنیاد پر ہوئی ، بے نامی جائیدادوں کی مالیت کروڑوں روپے ہے، پشاور میں بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی ضلعی انتظامیہ نے کی،پشاور میں 27 بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کردی گئی،
    اس سے پہلے دیگر شہروں کی بے نامی جائیدادیں بھی سامنے آئی ہی. ان میں سرگودھا اور فیصل آباد شامل ہیں.فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق 165 ر ب میں ایک مل مالک کی 714 کینال 18 مرلے زرعی اراضی 3 افراد سلیم بھٹی، یاسین خان اور محمد اکبر کے نام تھی جو 1992 میں خریدی گئی اور معاملہ عدالت میں پہنچا تو بھید کھل گیا۔

    بے نامی جائیداد ، ایک ارب 24 کروڑ کی جائیداد پکڑی گئی


    ذرائع کےمطابق ضلعی حکومت نےایف بی آر کو مزید تفتیش اور تحقیق کےلیے خط لکھ دیا ہے اور ضلعی انتظامیہ کی حمایت کا بھر پور یقین بھی دلایا ہے، یا د ہے کہ ایف بی آر نے بے نامی جائیدادوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے اور فیصل آباد میں پہلی کامیابی ملی ہے

    ۔https://login.baaghitv.com/benami-jaidad-say-raqam-ehsas-program-mein-shirkat-karen-gay-khan/
    ر

  • بی جے پی مقبوضہ کشمیر کا وزیراعلیٰ کیسا چاہتی ہے؟ ریاستی صدر نے بتادیا

    بی جے پی مقبوضہ کشمیر کا وزیراعلیٰ کیسا چاہتی ہے؟ ریاستی صدر نے بتادیا

    ریاست جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی اوراسے دو خطوں میں تقسیم کرنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی صدر نے مقبوضہ کشمیرکے وزیراعلیٰ کے بارے میں بھی بتادیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر: بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 65 واں دن ، بھارتی فوج کے مظالم جاری وساری

    بی جے پی کشمیرکے صدر رویندر رائنا ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے اور اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے بعد بی جے پی کو جموں وکشمیر میں اپنا ‘پہلا وزیر اعلی’ ملنے کی امید ہے۔

    رائنا کے مطابق جموں و کشمیر ایک اکائی ہے اور بی جے پی مقبوضہ کشمیر کے صدر کی حیثیت سے ، مجھے یقین ہے کہ بہت جلد جموں وکشمیر میں بی جے پی کا وزیر اعلی ہوگا۔

    مقبوضہ کشمیرپابندیاں، بھارتی دانشوروں نے مودی اور کووند سے بڑا مطالبہ کر دیا

    ایک سوال کے جواب میں رائنا نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہاں کے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کو ختم کرنے کے بارے میں حتمی مطالبہ کرے گا۔

    مقبوضہ کشمیر، سیاسی لیڈروں کی گرفتاری، بھارتی وزارت داخلہ نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

    بی جے پی رہنما کے مطابق حد بندی کے عمل کے لئے جو کمیشن تشکیل دیا جائے گا وہ تمام معیاری طریقہ کار پر عمل کرے گا۔

  • ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری    ، تحریر  محمد نعیم شہزاد

    ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری ، تحریر محمد نعیم شہزاد

    ریاست پاکستان اور سیاسی بازی گری
    محمد نعیم شہزاد

    ریاست پاکستان انعام خداوندی ہے اور صحیح معنوں میں اسلام کا قلعہ مانی جاتی ہے۔ اس میں کمال یقیناً اس ایقان و یقین کا ہے جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اسی جذبہ ایمانی کی بدولت پاکستانی قوم دنیا میں اپنا ایک خاص تعارف رکھتی ہے۔ اور یہی قوت ہماری صلاحیتوں کو چار چاند لگاتی ہے اور کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے سیاسی نظام کی بات کی جائے تو پاکستان ایک ایسا جمہوری ملک ہے جہاں جمہوری نظریات پنپتے دکھائی نہیں دیتے ہیں اور ہر کوئی اپنی دوکان چمکاتا نظر آتا ہے۔ ہر صاحب اقتدار جمہوریت کا منتخب ہونے کا دعویدار ہے اور ہر مخالف منتخب حکومت میں سقم ثابت کرنے پر تلا نظر آتا ہے۔ اپنے مختصر عرصہ حیات میں میں نے ایک بھی ایسی حکومت نہیں دیکھی جس کو اپوزیشن نے جائز حکومت تسلیم کیا ہو۔ دھاندلی، سلیکٹڈ حکومت، پری پلان حکومت وغیرہ کے نعرے ہی بار بار سننے کو ملتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجائے اس کے کہ سیاسی جماعتیں بالغ نظری کا مظاہرہ کرتیں، ان نعروں اور اعتراضات میں بھی جدت آئی ہے۔ انہی جدتوں میں ایک مخالف پارٹی پر مذہب کے نام پر الزام تراشی اور بہتان بازی بھی ہے۔

    میری گزارشات کا مطمع نظر بعض ناپسندیدہ پہلوؤں کی نشاندہی اور اصلاح احوال کی کوشش ہے۔ اس امید پر کہ

    شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

    سابقہ تاریخ کو دہرانے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ہم موجودہ حکومت اور اس کے مخالفین کے طرز عمل سے چند مثالیں بیان کرنے پر اکتفا کریں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان پر جہاں اور بہت سے اعتراضات کیے گئے وہیں ایک اعتراض "یہودی ایجنٹ” اور "قادیانی نواز” بھی ہے۔ عمران خان اپنے سیاسی کیریئر کے 22 سال بعد وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب تک انھیں یہ وزارت نہ ملی تھی یا ان کی پارٹی ایک مضبوط عوامی طاقت کے طور پر سامنے نہ آئی تھی، یہ الزامی سیاست کہاں تھی؟ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ان ہتھکنڈوں کا مقصد محض کسی کی عوامی مقبولیت کو کم کرنا اور شخصیت کو متنازع و داغدار بنانا ہے۔ اور اس کی ضرورت تب ہی ہو گی جب کوئی کسی اہم منصب پر پہنچ جائے۔ ورنہ سابقہ 22 برس کی سیاست میں یہ الزامات لگے ہوتے تو یہ شخص اس مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی عوامی حلقوں میں تنقید کا شکار ہوتا۔ پھر وزیراعظم کی کارکردگی اور پالیسیوں کو دیکھا جائے تو بھی یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا وزیر اعظم جو ایک شخص کو محض قادیانی ہونے کی بنا پر علی الاعلان مالی مشیر مقرر نہ کرے اور بین الاقوامی فورم پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسلام اور پیغمبر اسلام کا دفاع کرے اس کے ایمان اور اسلام سے وفاداری پر حرف اٹھانا بعید از قیاس ہے۔ دین اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ دوسروں سے حسن ظن رکھا جائے تو یہ کیسا کمال ہے کہ ہم زبردستی خود ساختہ گستاخی کے فتوے اور اسلام دشمنی کے منصوبے کسی سے منسوب کر دیں۔ اسی دورہ امریکہ کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی تبدیلی سامنے آئی تو ایک بار پھر پورے زور سے منیر احمد شیخ کو قادیانی اور حکومت کو قادیانی نواز قرار دینے کی بھرپور کیمپین چلی مگر موثر ثابت نہ ہو سکی۔

    آنے والے دنوں میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن صاحب اسلام آباد میں دھرنے کا پلان رکھتے ہیں۔ دھرنے کے مقاصد کو اسلام سے جوڑا جا رہا ہے اور یہ اعتراض سامنے آ رہا ہے کہ مولانا مذہب کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ان کو دھرنے سے روکنے کی کوششوں میں جن طریقوں توہین مذہب کو روا رکھا جا رہا ہے شاید وہ خان صاحب کے جنرل اسمبلی میں کیے گئے خطاب کا منہ چڑا رہے ہیں۔ سیاسی مقاصد یا کسی بھی طرح کے مفاد کے لیے مذہب کا استعمال قابل مذمت ہے تو سیاسی مخاصمت کی آڑ میں مذہب دشمنی اور توہین مذہب بھی قابل مذمت ہے۔ جس طرح سے مولانا کے دھرنے کے حوالے سے مبینہ ہدایت نامہ، شرائط نامہ اور پھر اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر دکھا کر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور دھرنے کے ممکنہ غیر اخلاقی مضمرات بیان کیے جا رہے ہیں کیا حکومتی جماعت کو ان مضمرات سے آگاہی اب حاصل ہوئی ہے؟

    بہرحال کوشش کی جائے کہ معاملات کو باہم افہام و تفہیم سے حل کیا جائے اور اگر فریق مخالف پر تنقید و تنقیح کے بغیر چارہ کار نہ ہو تو بہر صورت اخلاقی حدود قیود کا خیال رکھا جائے اور معاشرے میں مثبت رویوں کو رجحان دیا جائے۔ الزامی سیاست، مذہب کارڈ اور مذہب مخالف سوچ سے گریز کیا جائے اور اپنی جماعت کو کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے سامنے پیش کیا جائے نہ کہ دوسروں پر کیچڑ اچھال کر خود کو صاف ستھرا دکھانے کی کوشش کی جائے۔

  • مولانا کو سو ارب کی فنڈنگ کون کرے گا؟ معروف اینکر مبشر لقمان نے سوال ٹھا دیا

    مولانا کو سو ارب کی فنڈنگ کون کرے گا؟ معروف اینکر مبشر لقمان نے سوال ٹھا دیا

    باغی ٹی وی رپورٹ
    معروف اینکر مبشر لقمان نے اپنے یو ٹیوب چینل https://www.youtube.com/mubasherlucmanofficial پر مولانا فضل الرحمان کے ملین مارچ پر اعداد و شمار پر مبنی تحزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اتنے لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے توان کی آمد و رفت اور قیام و طعام کے لیے وسیع پیمانے پر سرمائے اور انتظامات کی ضرورت ہے. انہوں‌نے کہا کہ اگر محتاط اندازے کے مطابق مولانا صرف 10 لاکھ لوگ اسلام آباد لے کر آئیں تو اس کے لیے 25 ہزار بسوں کی اشد ضرورت ہے ان میں پرائیویٹ گاڑیاں شامل نہیں ہیں. اگر 25 ہزار گاڑیاں جائیں اور ہر ایک گاڑی کا کم از کم کرایا 15 ہزار لگایا جائے جو کہ انتہائی قلیل اندازہ لگایا ہے تو کرائے کی مد میں رقم ملین ڈالرز میں بن جاتی ہے.اندازے کے مطابق اڑھائی ملین ڈالر رقم بن جاتی ہے . انہوں نے کہا کہ اس وسیع پیمانے پر بسوں کی بکنگ کا کہیں آرڈر موصول نہیں‌ہوا میں نے ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے فون کال کر کے بھی پوچھا ہے.کیونکہ جب اتنے بڑے پیمانے پر بسیں ویگنین اور گاڑیاں بک ہوں تو ہر شہر میں گاڑیوں کی کمی پیدا ہو جاتی ہے.جبکہ ایسا نہیں ہوا ہے.
    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ جو شرکاء وہاں‌جمع ہوں‌ گے ان کو کھانے کی بھی ضرورت ہے اور اگر ایک فرد کےلیے سادہ سا اور سستا ترین کھانا بھی دیا جائے تو کم از کم 60 روپے بنتے ہیں.اور ایک ملین افراد کے لیے 60 کروڑ روپیہ ایک دن کے کھانے کے لیے خرچ ہوگا اور اگر وہ ایک مہینہ رہیں گے تو ان کے کھانے کے لیے صرف 18 ارب روپے چاہیے اور یہ اندازہ صرف بنیادی اور سادہ ترین کھانے کا ہے.پھر اس کھانے کی تیاری اور ترسیل کے لیے کتنے لاکھ دیگچے ، دیگیں ، چمچ ، پلیٹس اور برتنوں کی ضرورت ہو گی. اسی طرح کتنے باورچی ، چولہے ، گیس سلنڈر کی ضرورت ہوگی جس کے ایک وسیع پیمانے پر انتظام و انصرام کی ضرورت ہوگی جس انداز تو لگایا جا سکتا ہے لیکن پریکٹیکلی کرنا انتہائی مشکل امور میں‌ سے ہے.
    پھر جب دھرنے کے شیریک لوگ کھانا کھائیں گے تو رفع حاجت ایک انسانی فطری ضرورت ہے اتنے زیادہ لوگ بیت الخلا یعنی ٹوائلٹ جائیں گے . کتنے ہزار ٹوائلٹ بنانے کی ضرورت ہے اور ایک ٹوائلٹ پر اگر بیس یا پچیس ہزار کا ٹوائلٹ بھی بنے تو کتنی زیادہ رقم درکار ہو گی. پھر اتنےلوگ جب رفع حاجت کریں گے تو اس ویسٹ کو ڈسپوز کرنے میں کتنے انتظامات کی ضرورت ہو گی.اتنےلوگوں کے فضلے کی مقدار پانچ ہزار من ہوگی اور یہ مقدار بہت کم بتا رہا ہوں.یہ جبھی ہے اگر لوگ چوبیس گھنٹے میں ایک دفعہ ٹوائلٹ جائیں گے.ایسا سمجھیں کہ اتنے لوگوں کو قبض کی شکایت ہے . پھر جب اتنے کنٹینرز ہوں گے . چولہے ہوں گے اور باقی سامان وغیر ہ جو ایک ملین لوگوں کے لیے ہے تو اس وقت کتنا زیادہ پانی درکار ہو گا یہ صرف طہارت کےلیے ہے اس میں‌وضو شامل نہیں‌ہے .
    ان اعدادو شمار کے بعد مبشر لقمان نے سوال اٹھایا کہ اتنے وسیع پیمانے پر انتظام کے لیے اربوں روپے کہا ں سے آئے ہیں.اس پر سوال اٹھ سکتا ہے . کہ منی ٹریل کیا ہے . چلو ہم یہ سوال نہیں‌اٹھاتے کہ اعترض ہو جائے گا ، یہ سیاسی انتقام ہے.اگر کوئی ادارہ جو اس کا مجاز ہے پوچھ لیتا ہے جیسے ایف بی آر ہے یا کوئی اور ٹیکس لینے والا اداراہ ہے.تو اس قدر رقم کا کیا حساب ہوگا. یہ ساری رقم سو دوسو کی پرچی پر تو نہیں اکٹھی کی جاسکتی، آخر کہاں سے آئی
    انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی نے یہ دھرنا کیا تو میں‌اس کا گواہ ہوں کہ وہ شام کو اپنے گھر چلے جاتے تھے.کیونکہ یہ اسد عمر کا حلقہ تھا اور انہوں نے اس پر بہت کام کیا ہوا تھا.لوگ روز جاتے تھے اور روز شام کو واپس آتے تھے .اس وجہ سے چند ہزار لوگ تھے جو سٹیج کے گرد جمع ہو پاتے تھے.
    اب مولانا کے ساتھ دھرنے میں‌آنے والے لوگ تو روز نہیں آئیں گے.اور کیا 25 ہزار گاڑیاں روز ان کو ڈیرہ اسمعیل خان بنوں ، کوہات اور دیگر دور دراز کے علاقوں‌میں‌لے کر جائیں‌گے اور واپس لے کر آئیں گی.؟ ایسا ممکن نہیں‌ہے.
    اب مولانا کے پاس اتنے زیادہ فنڈز کہاں سے آئے ہیں. انہوں نے پہلے سے جمع کیے ہیں‌. یا کسی نے ملک کے اندر سے دیے ہیں‌اگر ملک کے اندر سے دیے ہوتے تو پتا چل جانا تھا شور اٹھ جاتا ہے کہ پاکستان میں اتنے زیادہ فنڈز خرچ ہو رہے ہیںِ. کہیں اربوں روپے کی بیرون ملک سے کسی نے فنڈنگ تو نہیں کی؟ یہ سب سوال ہیں جن کا جواب ہر کوئی مانگے گا.
    پھر جب اتنے زیادہ لوگ اگرایک جگہ رہیں گے گو ان وہاں صفائی کون کرے گا. اور اگراتنی مقدار میں سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کو ٹھکانے نہییں لگایا گیا تو وہاں لوگ کیسے رہیں گے، بیماریاں پھیلیں گی. اگر ان سوالات کا جواب نہیں‌ہے تو پھر دوسری بات یہ ہے کہ یہ ملین مارچ نہیں ہے یہ چند ہزار لوگوں کی دھرنا ہو گا
    یا تو یہ فگر اعداد و شمار غلط ہے جس کا مولانا دعوی کر رہے ہیں . اور اگر اتنے لوگ ہی ہیں‌جس کا آپ دعویٰ کر رہے ہیں تو پھر اس پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ. اڑتالیس ملین کی خطیر رقم کہاں سے آئی ہے .

  • صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی اہلیہ محترمہ بھی ڈاکٹربن گئیں

    صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی اہلیہ محترمہ بھی ڈاکٹربن گئیں

    کراچی : صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی اہلیہ محترمہ بھی ڈاکٹربن گئیں ، اطلاعات کے مطابق خاتون اول ثمینہ علوی نے کہا بریسٹ کینسر کا علاج دنیا میں موجود ہے تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور تشخیص پر فوری علاج شروع کرنا چاہیے اور خواتین کو علاج کرانے میں شرم نہیں کرنی چاہیے۔

    کشمیر میں بھارتی پابندیاں مارشل لاء سے کم نہیں‌، بھارتی ماہر معیشت امرتاسین

    ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاتون اول نے کہا گاؤں دیہاتوں میں بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی دی جارہی ہے، خواتین کسی بھی قسم کی تکلیف ہو تو فوری علاج کیا جائے۔ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ محترمہ بتاتی ہیں کہ میڈیا ، ریڈیو کے ذریعے خواتین کو آگاہی فراہم کرناہوگی، خواتین کو علاج کرانے میں شرم نہیں کرنی چاہیے، حکومت بریسٹ کینسر سے آگاہی کیلئے اقدامات کررہی ہے۔

    ثمینہ علوی نے کہا کہ بریسٹ کینسر کا علاج دنیا میں موجود ہے تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور تشخیص پر فوری علاج شروع کرنا چاہیے، سوشل میڈیا اور چینلز پربھی خواتین کو آگاہی دینا ہوگی۔خاتون اول کا کہنا تھا کہ کراچی میں بریسٹ کینسر پر آگاہی کی مہم چلائی جارہی ہے، کم ازکم ایک سال تک بریسٹ کینسر سے آگاہی دینا ہوگی، خواتین کو بریسٹ کینسر سے بچنے کیلئے احتیاط سے آگاہ کرنا ہوگا۔

    ثانیہ مرزا کی بہن اور سابق کرکٹر اظہرالدین کے بیٹے اسد الدین کے چرچے

    خاتون اول نے نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ خدانخواستہ کسی کو ایسی بیماری ہوتو پورا گھر ختم ہوجاتاہے، ملک بھر میں عورت کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہوگا ، سرکاری اسپتالوں میں میمو گرام کی مفت سہولت موجود ہے، کوشش کریں گے پرائیوٹ اسپتالوں میں بھی میموگرام کا علاج مفت ہو، جناح اسپتال میں بھی پورے سال میموگرام مفت ہوتا ہے، اسپتالوں اور ڈاکٹرز سے درخواست ہے کہ ایک یا دو ماہ مفت میمو گرام کریں۔

    زیابطس (شوگر) کے لیے انسولین سے بہت جلد جان چھوٹ جائے گی ،امریکی ماہرین

    ذرائع کے مطابق خاتون اول نے اس خطرناک بیماری سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بریسٹ کینسر سے بچاؤ کیلئے آگاہی کو اس ماہ زیادہ اہمیت دے رہے ہیں ، غیرملکی سفارتکاروں کو بھی حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا ہے، لاہور، کے پی اور کراچی میں بریسٹ کینسر آگاہی مہم شروع کررہے ہیں، لاہور میں کل، کے پی میں 14اکتوبر اور کراچی میں 16 اکتوبر کو تقریب ہوگی۔