اسرائیلی ایٹمی تنصیبات نشانہ پر
تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی
گذشتہ دنوں یمن کی متحدہ افواج نے سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد خطے کی صورتحال شدید متاثر ہوئی تھی۔ شروع شروع میں سعودی حکومتی ذرائع نے ان حملوں کا الزام ایران اور عراق پر عائد کیا تاہم بعد ازاں حقائق اور شواہد نے ثابت کیا کہ یہ حملہ یمن کے اندر سے ہی کیا گیا تھا اور اس کا مقصد سعودی حکومت کو یمن میں جارحیت کو روکنا تھا۔یمنی افواج کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کی افواج نے یہ کاروائی سعودی عرب کے اندر موجود کچھ خیر خواہوں اور سعودی حکومت کے قریبی ذرائع جو یمن پرامریکی و سعودی جارحیت کے خلاف ہیں، ان کی مدد سے انجام دیا ہے، انہوں نے مزید تفصیلات میں بتایا تھا کہ یمنی افواج نے اس کاروائی میں دس ڈرون طیارے استعمال کئے جو خود کش حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور ٹھیک ہدف پر کامیابی کے ساتھ نشانہ بنائے گئے تھے۔ان حملو ں کے نتیجہ میں سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل فیلڈ آرامکو کو شدید نقصان پہنچا او ر اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے تاحال امدادی ٹیمیں کاموں میں مصروف ہیں۔
یمنی افواج کے اس حملہ سے جہاں دنیا میں تیل کی آمد و رفت اور خرید و فروخت متاثر ہوئی وہا ں سب سے اہم بات امریکہ اور سعودی حکومتوں کی وہ مشترکہ سیکورٹی ہے جو اس حملہ کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
ماہرین سیاسیات جہاں ایک طرف معاشی اعتبار سے اس حملہ کے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں وہاں دنیا کے دفاعی تجزیہ نگاروں کے نزدیک حقیقت میں آرامکو پر ہونے والا حملہ امریکی سیکورٹی سسٹم کو ناکام بنا کر کیا گیا ہے۔یمنی افواج نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ کی جدید ترین سیکورٹی آلات اور اربوں ڈالر ک اسلحہ برائے نام ہے اور سعودی حکومت کی حفاظت نہیں کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ سعودی حکومت نے امریکہ کے ساتھ مل کر چار سال قبل یمن کے خلاف زمینی،، فضائی اور سمندری جنگ کا آغاز کر رکھا ہے جس کے نتیجہ میں دسیوں ہزار معصوم انسانی جانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے جبکہ یمن کے بعض علاقو ں میں وبائی امراض کے ساتھ ساتھ قحط کا مسئلہ بھی درپیش رہا ہے۔ اس اثنا میں امریکی حکومت نے نہ صرف سعودی اتحادیوں کی ہر طریقہ سے مدد کی ہے بلکہ سعودی عرب کو اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی دیا ہے جس کا بے دریغ استعمال تاحال یمن کے علاقوں میں کیا جا رہا ہے۔
آرامکو پر ہونے والے یمنی افواج کا حملہ جہاں سعودی حکومت کے لئے ایک بڑا اور واضح پیغام تھا وہاں ساتھ ساتھ دنیا کے ان تمام ممالک کیلئے بھی پیغام تھا کہ جو یمن کے خلاف جنگ میں امریکی و سعودی اتحاد کا حصہ ہیں۔اسی طرح ان حملوں نے امریکہ کے دفاعی نظام کی صلاحیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دئیے ہیں۔
اس تمام صورتحال کے بعد اب سیاسی ماہرین کاکہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ان تمام پیغامات کے ساتھ ساتھ یمنی افواج کی جانب سے اسرائیل کے لئے بھی ایک سخت پیغام ہو۔کیونکہ اگر سعودی تیل تنصیبات کی دفاعی صلاحیت کو ناکام بنا کر اتنا بڑا حملہ کیا جا سکتا ہے تو پھر اسرائیل پر بھی اس سے بڑے حملے ہو سکتے ہیں جو مقبوضہ فلسطین کے قریبی کسی بھی ممالک سے انجام دئیے جا سکتے ہیں یا پھر شاید یمنی افواج ہی اس صلاحیت کی حامل ہو ں کہ مستقبل قریب میں امریکہ کے ایک اور بڑے شیطان اتحاد ی اسرائیل کی ایٹمی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا ڈالیں۔
کچھ عرصہ قبل حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو متنبہ کیا تھا کہ اسرائیل لبنان کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ آزمائی کرنے سے پرہیز کرے ورننہ جوابی کاروائی میں اسرائیل کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنا یا جائے گا جس کے نتیجہ میں غاصب صہیونی ریاست میں بسنے والے صہیونی سب سے پہلے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔سید حسن نصر اللہ نے اس موقع پرصہیونی آباد کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا وزیراعظم نیتن یاہو ان کو جھوٹ بولتا ہے اور حقائق سے آگاہ نہیں کرتا ہے تاہم صہیونی آباد کاروں کو چاہئیے کہ اپنے اپنے وطن میں واپس لوٹ جائیں کیونکہ اگر اسرائیل نے لبنان یا حزب اللہ سمیت اسلامی مزاحمت کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کی تو جواب بہت سخت ہو گا اور پھر اسرائیلی قابض ریاست کا وزیر اعظم سب سے پہلے انہی صہیونی آباد کاروں کو جنگ کا چارہ بنا دے گا۔
حالیہ دنوں یمنی افواج کی جانب سے آرامکو پر ہونے والے کامیاب حملہ کے بعد غاصب صہیونی اور جعلی ریاست اسرائیل کے تجزیہ نگاروں نے اس بحث کا آغاز کر دیا ہے کہ اگر سعودی آرامکو کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو پھر اسرائیل کی اہم تنصیبات بشمول ایٹمی تنصیبات کی سیکورٹی کو بھی توڑا جا سکتا ہے۔صہیونی ذرائع ابلاغ پر اس طرح کے تجزیات گردش میں ہیں اور اندرون خانہ بھی یہ خطرہ محسوس کیا جا رہاہے کہ اسلامی مزاحمت کی تنظیموں کی جانب سے کسی بھی وقت اسرائیل کے حساس مقامات کو آرامکو طرز کے حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کے دفاعی ماہرین نے پہلے ہی گذشتہ دنوں حزب اللہ کی جانب سے مقبوضہ فلسطین میں سات کلو میٹر اندر داخل ہو کر کی جانے والی اسرائیل مخالف کاروائی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کا دفاعی نظام کمزور ترین ہو چکا ہے تاہم انہی ماہرین کا کہنا ہے کہ آرامکو پر ہونے والے حملوں کے بعد اب بعید نہیں ہے کہ اسی طرز کی کاروائی اسرائیل کے حساس مقامات کے خلاف بھی کی جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کی تمام ظالم و جابر قوتیں وقت کے ساتھ ساتھ اللہ کے وعدوں کے مطابق سر نگوں ہو رہی ہیں، دنیامیں جہاں کہیں بھی مظلوم ہیں اوت صبر و استقامت کا مظاہر کر رہے ہیں یقینا الہی وعدوں کے مطابق سرخرو ہو رہے ہیں۔کشمیر، یمن، عراق، افغانستان، عراق، لبنان، شام، فلسطین ہرسمت مظلوموں کا ایک اتحاد ابھرتا ہو نظر آ رہاہے جو دنیا کے سامراجی وشیطانی نظام و اتحاد کے بالمقابل سیننہ سپر ہے اور اسی پائیدار استقامت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج یمن کے پا برہنہ مجاہدین نے دشمن کے خلاف عظیم کامیابیاں حاصل کرنا شروع کر دی ہیں اور ان کامیابیوں کے دور رس نتائج یہ ہیں کہ صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کو اپنی بقاء کے لئے سوال اٹھا یا جا رہا ہے اور صہیونیوں کے دلوں میں خوف بیٹھ چکا ہے کہ اب آرامکو کے بعد اسرائیل کے حساس مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا، اور اس بات میں کسی کو کوئی شک بھی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ الہی وعدہ ہے کہ ظالمو ں کو نابود ہونا ہے اور مستضعفین کی حکومت قائم ہونی ہے چاہے یہ بات خدا کے دشمنوں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔
Author: +9251
-

اسرائیلی ایٹمی تنصیبات نشانہ پر ، صابر ابو مریم کا بلاگ
-

ہانگ کانگ میں مظاہرے جاری ، چین کے لیے مشکلات میںاضافہ ، امریکہ کے لیے وارننگ جاری
ہانگ کانگ : چین کے زیر انتظام ہانگ کانگ کے معاملات بگڑنےلگے ، مظاہروں اور پرفتن تشدد سے ہانگ کانگ چین کے لیے پریشان کن ہے چین کے خصوصی انتظامی علاقے ہانگ کانگ میں جون سے لے کر اب تک جاری حکومت مخالف مظاہرےجاری و ساری ہیں

ایل ڈی اے کو سہارا دینے کے لیے عثان بزدار بھی میدان میں اتر پڑے ، لیگل ٹیم تشکیل دے دی
ذرائع کے مطابق چھتری انقلاب کی پانچویں سالانہ یاد کی تقریبات کے دائرہ کار میں بھی جاری ہیجمہوریہ چین کے قیام کی 70 ویں سالانہ یاد سے 2 روز قبل بھی ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔
ذرائع کےمطابق وارننگ کے باوجود بھی مظاہرین کے منتشر نہ ہونے پر پولیس نے آنسو گیس اور تیز دھار پانی کا استعمال کیا۔تاہم مظاہرین کچھ دیر کے لئے منتشر ہونے کے بعد دوبارہ جمع ہو گئے اور مارچ کی۔دوسری طرف چین نے امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ ہانگ کانگ میںمداخلت سے باز رہے
“وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا” لاک ہے
کثیر تعداد میں مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ہانگ کانگ پولیس کے مطابق ماہِ جون سے لے کر اب تک جاری ان مظاہروں میں ایک ہزار 600 طالبعلموں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
-

لیبیا: سول اسٹریٹجک اہداف پر بمباری متحدہ عرب امارات نے کی ہے
طرابلس: عرب امارات بھی پرمارنے لگا ، اطلاعات کےمطابق لیبیا کی قومی مفاہمتی حکومت نے متحدہ عرب امارات کو ملک کے مشرق میں حفتر فورسز کے ساتھ تعاون کے زیر مقصد سیرتہ شہر میں سول اسٹریٹجک اہداف پر بمباری کا قصور وار ٹھہرایا ہے۔
“دنیا والو سن لو! مقبوضہ کشمیر سے متعلق جدوجہد جاری رہے گی: وزیراعظم عمران خان کی وطن واپسی پر امریکی میڈیا سے گفتگو” لاک ہے
ذرائع کےمطابق قومی مفاہمتی حکومت کے برکان الغضب آپریشن کے ٹویٹر پیج سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق "جنگی مجرم حفتر کے ساتھ تعاون کے لئے متحدہ عرب امارات کے مسلح ڈرون طیاروں نے سیرتہ میں آٹے اور چارے کی چکّیوں پر بمباری کی جس کی وجہ سے شہر کے کلیدی شہری مرکز کے انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر مادی نقصان پہنچا ہے۔

سیرتہ کے قاردابیہ اسٹیشن پر "مویشی پروجیکٹ ” کے نام سے پہچانے جانے والے سرمایہ کاری زون پر بھی متحدہ عرب امارات کے ڈرون حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مادی نقصان ہوا ہے اورایک ملازم زخمی ہو گیا ہے۔قومی مفاہمتی حکومت کے بیان کے مطابق یہ حملہ "مذکورہ چکّیوں کے تعمیر و مرمت کے بعد دوبارہ سے کام شروع کرنے” کا اعلان کئے جانے سے 4 دن بعد کیا گیا ہے۔

ایل ڈی اے کو سہارا دینے کے لیے عثان بزدار بھی میدان میں اتر پڑے ، لیگل ٹیم تشکیل دے دی
واضح رہے کہ اس مویشی پروجیکٹ کے ساتھ سیرتہ اور ملک کے وسطی علاقے کے عوام کے لئے یومیہ 3 ہزار لیٹر دودھ پیدا کیا جاتا تھا۔اس سے پہلے بھی لیبیا عرب امارات کو خبردار کرچکا کہ وہ لیبیا کے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے
-

بریکنگ : ترکی نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ڈرون مار گرایا
انقرہ : ترکی نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے نامعلوم ڈرون کو شامی سرحد پر مار گرایا۔ذرائع کے مطابق ترکی وزارت دفاع نے بتایا کہ نامعلوم ڈرون نے 6 مرتبہ ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی‘۔انہوں نے بتایا کہ ’شامی سرحد کے نزدیک ترک صوبے کیلس میں مار گرائے ڈرون کا ملبہ ملا‘۔
Turkey downed a drone coming from Syria. It violated several times Turkish air space. The drone flew near Azez. pic.twitter.com/Iua1QrFTXt
— Dennis Kurt | Defense Observer (@byz_observer) September 29, 2019
ترک وزارت دفاع نے مزید بتایا گیا کہ ’ہمارے دو ایف 16 جنگی طیاروں نے انسیرلیک ایئر بیس سے پرواز بھری اور ڈرون کو مارگرایا‘۔وزارت دفاع کی جانب سے بتایا گیا کہ ’ڈرون کی ملکیت کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے اور ڈرون کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈیڑھ بجے نشانہ بنایا گیا‘۔

ترقی اور تحقیق کے میدان میں ایران ایک قدم اور آگے،6 نئی دواؤں کی رونمائی
واضح رہے کہ نومبر 2015 میں ترکی نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر شامی سرحد کے قریب روس کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا تھا۔ترکی کئی بار وارننگ بھی دے چکا ہے کہ اس کی حدود کی خلاف ورزی نہ کی جائے
“دنیا والو سن لو! مقبوضہ کشمیر سے متعلق جدوجہد جاری رہے گی: وزیراعظم عمران خان کی وطن واپسی پر امریکی میڈیا سے گفتگو” لاک ہے
یاد رہےکہ مذکورہ واقعہ کے بعد روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے شامی سرحد پر ترکی کی جانب سے روسی لڑاکا طیارہ گرانے کو ’ پیٹھ میں خنجر گھونپنے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ واقعہ کے ماسکو-انقرہ تعلقات پر ’سنگین نتائج‘ مرتب ہوں گے۔
-

سیاسی لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم۔۔۔شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑگیا،ذمہ دار کون؟ از–عرفان قیوم
پاکستان میں دیگر شعبہ جات کی طرح میدان سیاست بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس میں عوام کی طاقت بھرپور اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ اس لیے اس محاذ کے سپاہی اپنا ووٹ بنک بنانے کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کرتے ہیں، جس میں جلسے اور ریلیاں منعقد اور پوسٹرز آویزاں کیے جاتے ہیں۔ اپنی پہچان کروانے کے لیے ہر دوکان اور گھر میں پمفلٹ تقسیم کیے جاتے ہیں۔
مزید تسلی کے لیے لوگوں کے سینوں پر سٹیکر اور بیج سجا دیے جاتےہیں۔ گویا کہ ایک بڑی رقم ایوان تک پہنچنے کے لیے صرف ہو جاتی ہےتاکہ کسی طرح کامیابی مقدر بن جائے۔ چونکہ اس میدان کے اُمیدوار ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں اس لیے ہر کوئی اپنی اپنی ہمت کے مطابق عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر عوام آزادی رائے کے فلسفہ کے تحت اپنےاپنے پسندیدہ اُمیدوارکی بھر پورحمایت کرتے ہیں اور جس کے ایجنڈے سےاتفاق نہ ہو اسے ووٹ نہ دے کر ریجیکٹ کرتے ہیں۔ اس طرح مسترد امیدوار کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔لیکن یہ ہارنے والے امیدواربھی کچھ نہ کچھ عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اگرچہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ شاعر کےالفاظ میں
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیااس کارواں میں امیر، غریب ، چھوٹے اور بڑے سب شامل ہیں کیونکہ قوموں کا مستقبل سیاستدانوں کے فیصلوں سے وابستہ ہوتا ہے ۔اس لیےزمانہ قدیم سے ہی سیاست عموماًزیادہ زیربحث رہنے والا موضوع رہا ہےمگر اب اس بحث میں کچھ تیزی سی آگئی ہے سبب کیاہے؟ وہ دن گئے جب لوگ اکھٹے ہونے پر ہی سیاست پر بات کرتے تھے۔ اب فاصلے ختم ہوچکے ہر کوئی ہر وقت رابطے میں رہتا ہے۔ موجودہ دور گلوبل ویلیج کے نام سے پہچانا جانے لگا ہے ۔
انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد ڈویلپرز کی بھرپور جدوجہد سے فیس بک ، ٹوئیٹر، واٹس ایپ، انسٹاگرام، ایمو اور یوٹیوب جیسی دیگر رابطے کی ویب سائیٹس اور اپلیکشنز بن چکی ہیں ۔جو کہ پیغام رسانی کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ جن کے استعمال نے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں کی زندگی کو سہل بنا دیا ہے۔ جس سے روپے اور وقت دونوں کی بچت ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے میدان سیاست کے شہسوار بھی ان کے استعمال سے کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے کہا تھا
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلاتمگر بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ میدان سیاست میں سوشل میڈیا کا استعمال اخلاقیات کے لیے ایک ناسور ثابت ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی اُمیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کے نام سے ایسے پیج اور لنکس ملتے ہیں جن پرسیاسی مخالفین پر بھرپور کیچڑ اُچھالا جاتا ہے۔ اُچھالے جانے والے کیچڑ میں شکلوں کا بگاڑنا، جھوٹ کا بولنا، لعن طعن ،گالیاں دینا، اور اُلٹے اُلٹے ناموں سے پکارا جانا جیسی ناپاک حرکات ملتی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً روایت ہے
"مومن لعن طعن کرنے والا بدخلق اور فحش گو نہیں ہوتا”۔امام ترمذی نےاسے حسن قراردیاہے( بلوغ المرام:حدیث نمبر۱۲۹۹) ۔میں خود بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہوں ۔فیس بُک کو چلایا تو ایک صاحب نے ایسی پوسٹ شیئر کی ہوئی تھی جس میں جماعت اسلامی کے صدر سراج الحق صاحب کو "سراجو” اور جمعیت علمائے سلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمن صاحب کو "فضلو ” اور ڈیزل کے نام سے پکارا گیا تھا۔ ماضی قریب میں وزیر ریلوے شیخ رشید صاحب کو شیدا ٹلّی کے نام سے پکارا جاتا رہا اور یہ نام آج تک سوشل میڈیا پر بھی پوری دھوم دھام سے چلتا آرہا ہے۔
مسلم لیگ ن کے ہم خیالوں کو "پٹواری” اور پاکستان تحریک انصاف سے محبت کرنے والوں کو "یوتھیے ” جیسے القاب دیےجاتےہیں۔ قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی میاں شہباز شریف صاحب کو "شوباز شریف ” کے نام سے نوازا گیا ہے اور حال ہی میں ایک حکومتی نمائندے کے گلے میں "ڈبو” کاہار پہنایا گیا ہے۔ دیگر بد عنوانیوں جھوٹ ، لعن طعن ، گالیوں اور شکلوں کا بگاڑنا وغیرہ کی بھی ایک لمبی چوڑی فہرست ہے جن کو تحریر کا حصہ بنانا تو دور کی بات، زبان پر لانا بھی زیب نہیں دیتا ہے۔ اسی لیےصرف ان مثالوں پر ہی اکتفا کرتاہوں ۔ظاہر ہے یہ سب کچھ سیاسی مخالفین کو اذیت اور تکلیف پہنچانے اور پریشان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے مگر اپنی عزت تو ہرکسی کو محبوب ہوتی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا
"دو بُرابھلا کہنے والے جوکچھ کہتے ہیں اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہےتا وقتیکہ مظلوم زیادتی نہ کرے” [مسلم( بلوغ المرام :۱۲۹۶ حدیث)]
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے۔ حضرت ابوصرمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
"جوشخص کسی مسلمان کو تکلیف پہنچائے تواللہ اسے تکلیف پہنچائے گااور جو کسی مسلمان کومشقت میں مبتلا کر دے تو اللہ اسے مشقت میں مبتلا کرے گا”۔ [(ابودائود ، ترمذی) اور اسے حسن قراردیا ہے( بلوغ المرام:۱۲۹۷حدیث)]
ہاں ہاں نظریے سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن نظریے کو آڑ بنا کر کسی کی شخصیت پر حملہ آور ہونا کہاں کی دانائی ہے؟ اس تحریر سے قبل میں”پٹواری اور یوتھیے تک کا سفر” کے نام سے بھی تحریر لکھ چکاہوں جسے پڑھ لینا مناسب ہوگا ۔مگر اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں یا آزاد اُمیدواروں سےاتفاق کرنے والے ان نازیبا پوسٹوں کوپورے جوش و خروش سے شئیر ، لائک اور محبت بھرے کمنٹ کرتے نظر آتے ہیں۔ بلکہ پھر اپنے کیے پر فخر بھی کیا جاتاہے۔ شاعر بشیر بدر نے اسی لیے کہا تھا۔
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوںڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی نے اپنی کتاب” اسلام کا نظام حیات ” میں لکھا کہ علامہ سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ اور علامہ شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ سیرت النبیﷺجلد ششم کے صفحہ ۶ پر رقمطراز ہیں : ــ
"اقوام کی ترقی و تہذیب میں اخلاق کی بڑی اہمیت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملت کی تعمیر کا اہم جزواخلاق کی صحیح تربیت ہے”۔
اور اسی طرح ڈاکٹرلیاقت علی خان نیازی نے لکھا
محمد عربی ﷺ نے اخلاق پر درس دیتے ہوئے فرما یا ہے” کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق بہتر ہے (رواہ البخاری و مسلم) "۔
مگر سچی بات ہے یہاں تو معاملہ ہی بالکل اُلٹ ہو چکاہے۔آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ہر کوئی دوسرے سے بدلا لینے پر تُلاّ ہواہے۔ خالد ملک ساحل نے کہاتھا۔
ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحلؔ
ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھےبہر حال سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تعلیم ناپید ہوگئی یا جہالت پروان چڑھ گئی ہے؟ ریاست پاکستان میں تعلیم و تربیت پر ہر سال ایک بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ دکھ سے کہتا ہوں کہ یہ رقم ڈوبتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔مزید کہوں تو لگتا ہے کہ شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑ گیاہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کےلیےاخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔
اگر کیچڑ اچھالنےوالے صاحبان کی تعلیم و تربیت پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتاہے کہ نفرت انگیز ،اشتعال سے لبریزاور شر کے لباس میں ملبوس پوسٹ کولائک ، محبت بھرے کمنٹ اور شیئر کرنے والےاعلٰی سے اعلٰی تعلیم یافتہ جن میں ڈاکٹرز، پروفیسرز،نامور یونیورسٹیوں کے طالبعلم،مدرسوں کے فاضل حفاظ کرام یا کسی اعلٰی عہدے پر فائزشخصیات ہیں۔بھلے مانس نہیں جانتے کہ سوشل میڈیا پرلگائی جانے والی ان اخلاقیات سے گری پوسٹوں سےگناہ کا ارتکاب تو ہو ہی رہاہے مگر اس سے عوام میں نفرت، بغض، عداوت، دشمنی جنم لے رہی ہے جو کہ نحوست کا باعث ہے۔جبکہ اس امت محمدکو اتحاد کی ضرورت ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایانحوست ‘ بدخلقی (کی وجہ سے ) ہے۔ [( بلوغ المرام ،حدیث:۱۳۰۸)
ایک طرف اعلٰی سے اعلٰی نصاب اور تعلیمی ادارے جبکہ دوسری طرف نئی نسل کو اخلاقیات سے گر ا ہوا درس دیا جارہاہے۔کون ہے ذمہ دار؟کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا کہ اس ناسور کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جائے ۔اگر آج ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ ایسے نتائج بھگتنےپڑیں جو شرمندگی کا باعث ہوں۔ شاعر کے الفاظ میں
دھواں جو کچھ گھروں سے اٹھ رہا ہے
نہ پورے شہر پر چھائے تو کہنایہ بات ایک اٹل حقیقت ہے کہ عوام ریاست کےلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتےہیں۔ جن کے جان و مال اور عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کرنا حکمران وقت کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہےاوریہ فلسفہ روز اوّل سے تا حال ببانگ دہل اور ڈنکے کی چوٹ کہا جاتاہے۔اگرریاست کے اہم عہدوں پر فائز لوگ اپنی ذمہ داریاں نبھانےسے ناکام رہتے ہیں تو عوام کا حق بنتا ہے کہ ان سےاخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف کریں۔اگر مسئلہ حل نہیں ہوتاتو اُن سے جان چھڑائیں اور آئندہ کےلیے مستردکردیں۔ مشہور شاعر رانا نے کہاتھا
ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے
تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونامگر تما م تر ذمہ داریاں حکمرانوں پر تھونپ کرعوام کااپنے فرائض سے بری الذمہ ہوجانا بھی درست نہیں ہے۔
بقلم: عرفان قیوم

-

پابندی کے باوجود پتنگ بازی ، بچہ پتنگ لوٹتے ہوئے ریل گاڑی کی زد میںآکر جانبحق ہوگیا
لاہور: پابندی کے باوجود پتنگ بازی ، بچہ پتنگ لوٹتے ہوئے ریل گاڑی کی زد میںآکر جانبحق ہوگیا ، والدین پر غشی کے دورے ، لوگ پوچھتے رہےکہ کہاں ہے وہ پابندی جس کا حکومت تو ذکر کرتی ہے ، لیکن وہ نظر نہیں آتی

ذرائع کے مطابق آج لاہور میں ایک 18 سالہ نوجوان اس وقت جان کی بازی ہار گیا جب وہ ایک پتنگ کولوٹتے لوٹتے ایک ریل گاڑی کے نیچے آکر موقع پر ہی جان بحق ہوگیا ، بچے کے والد کا کہنا تھا کہ اس نے بچے کو منع بھی کیا تھا کہ وہ دور نہ جائے اور خیال کرنا
“افغانستان کا نیا صدر ، اشرف غنی ، عبداللہ عبداللہ یا پھر کوئی اور فیصلہ 17 کو متوقع” لاک ہے
افغانستان کا نیا صدر ، اشرف غنی ، عبداللہ عبداللہ یا پھر کوئی اور فیصلہ 17 کو متوقع
یاد رہے کہ ایک طرف پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی ہے تو دوسری طرف جب پتنگیں اڑتی ہیں تو وہ حکومتی پابندیوں کو بھی ہواوں میں اڑا دیتی ہیں، جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بزدار حکومت کو عوامی مسائل کا ادراک نہیں

ترقی اور تحقیق کے میدان میں ایران ایک قدم اور آگے،6 نئی دواؤں کی رونمائی
-

فرانس: ییلو جیکٹ 46 ویںہفتے میں داخل ، مظاہرین پھر سڑکوں پر نکل آئے
فرانس:فرانس بھی عدم استحکام کی طرف چل نکلا ، اطلاعات کےمطابق ییلو جیکٹ مظاہرین پھر سڑکوں پر نکل آئے ییلو جیکٹ مظاہرین نے مظاہروں کے 46 ویں ہفتے میں صدر امانوئیل ماکرون کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔
مظاہرین نے دارالحکومت پیرس کی مختلف شاہراہوں پر مارچ کی اور ماکرون انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے۔سخت حفاظتی اقدامات کے تحت کئے گئے مظاہروں میں کسی قسم کا منفی واقعہ پیش نہیں آیا۔پولیس نے شانزے لیزے شاہراہ پر ماہ اپریل میں آتشزدگی کی وجہ سے نقصان اٹھانے والے کلیسا نوٹر ڈیم کتھیڈرل کے اطراف میں مظاہروں کی اجازت نہیں دی۔

تاہم تولوس میں کئے گئے مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔مظاہرین نے کیپیٹل اسکوائر میں ایک ریسٹورنٹ کے ٹیرس پر موجود بڑی چھتری کو آگ لگا دی اور پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور تیز دھار پانی کا استعمال کیا۔مظاہرے میں 5 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
“وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا” لاک ہے
ملک کے مختلف شہروں میں منعقدہ احتجاجی مظاہروں میں شریک مظاہرین کی تعداد کے بارے میں وزارت داخلہ کی طرف سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔مظاہروں میں اس وقت تک 11 افراد ہلاک اور 4 ہزار 245 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 12 ہزار 107 سے زائد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ فرانس میں 17 نومبر 2018 میں پیٹرول کی قیمتوں اور خراب اقتصادی حالات کے خلاف ردعمل کے طور پر مظاہرے شروع ہوئے جو بعد ازاں ماکرون انتظامیہ کے خلاف مظاہروں میں تبدیل ہو گئے اور کئی ماہ سے جاری ہیں۔
-

55 مسافروں پر مشتمل فیری بوٹ لاپتہ ہو گئی ، یمنی باغیوں نے یہ کشتی لوٹی
صنعاء:حوثی باغی بپھر گئے ، یمن کے شہر سکوٹرا کے جوار میں 55 مسافروں پر مشتمل فیری بوٹ کھلے سمندر میں لاپتہ ہو گئی ہے۔یمن حکومت کے مطابق المہرہ سے اسکوٹرا کے لئے عازم سفر اور 55 مسافروں پر مشتمل فیری بوٹ سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
“وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا” لاک ہے
“وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا” لاک ہے
ذرائع کےمطابق سکوٹرا کے نائب گورنرراعد الجریبی نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ فیری بوٹ سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد ہم نے سعودی زیر قیادت کولیشن فورسز اور مہرہ اور سکوٹرا بندرگاہوں کے حکام کے ساتھ مل کر تلاش و بچاو کا کام شروع کروا دیا ہے۔

جریبی نے کہا ہے کہ بدھ کے روز عازم سفر ہونے والی فیری بوٹ پر سیٹلائٹ انٹینا نہ ہونے کے وجہ سے عملے کے ساتھ رابطہ نہیں ہو پا رہا۔دوسری طرف یہ خدشہ ظاہر کیاجارہا ہےکہ یہ کشتی حوثی باغیوں نے لوٹی ہے
-

جڑانوالا : تین بچے پتنگ لوٹتے ہوئے زخمی ہوگئے
جڑانوالا: پتنگ پر پابندی کا نام ونشان غائب ، اطلاعات کےمطابق منچلے نوجوانوں سمیت بچوں نے بھی پتنگ بازی پر پابندی کو ہوا میں اڑا دیا ، یہی وجہ ہےکہ جڑانوالامیں تین بچے پتنگ لوٹتے ہوئے شدید زخمی ہوگئے

جڑانوالا سے ذرائع کےمطابق آج جڑانوالا میں تین بچے اس وقت زخمی ہوگئے جب وہ ایک پتنگ کو لوٹنے کی کوشش کرتے کرتے ایک بجلی کے پول کو چھو بیٹھے ، ذرائع کےمطابق پتنگ کی ڈور دھاتی تھی ، جس کی وجہ سے بچے بجلی کا کرنٹ لگنے سے شدید زخمی ہوگئے
“وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا” لاک ہے
جڑانوالا پولیس ذرائع کے مطابق ان بچوںکو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے، پولیس پتنگ بازوں کے خلاف آپریشن کےسلسلے میں فیصلہ کرچکی ہے اور حالیہ واقعہ میںملوث افراد کی نشاندہی کرنے کی کوشش کررہی ہے،
-
بیوی کا نان نفقہ کا دعویٰ، سنگدل شوہر نے کم سن بیٹے کو مبینہ طور پر زہردے دیا،
ڈیرہ غازیخان(تنویر احمد)بیوی کا نان نفقہ کا دعویٰ، سنگدل شوہر نے کم سن بیٹے کو مبینہ طور پر زہردے دیا، مبینہ طور پربروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے بچہ جاں بحق،ورثاء کا ٹیچنگ ہسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرہ، بیٹے کی نعش دیکھ کرماں پر غشی کے دورے،نعش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے،صدر پولیس نے ملزم گرفتار کرکے کاروائی شروع کردی،تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر کے علاقے شمس آباد کالونی کی رہائشی سحرش فاطمہ نے پولیس کو بیان دیا کہ 2 سال قبل میری شادی زوہیب حُسین آرائیں سے ہوئی،گھریلو ناچاقی کی وجہ سے میرے خاوند نے مجھے گھر سے نکال دیا اور بچے کا خرچہ بھی نہ دیتا تھاجس کا میں نے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کر رکھا تھا،جس کا زوہیب کو رنج تھا، گزشتہ روز میرا شوہر راشد آرائیں کے ہمراہ میرے گھر آیا اور کہا کہ حجت حُسین کا چچا جمشید سعودی عرب جارہا ہے اس نے اپنے بھتیجے کو ملنا ہے اس کو پھر گھر چھوڑ جائیں گے وہ بچے کو لیکر چلے گئے اور کچھ دیر کے بعد اسے بے ہوشی کی حالت میں گھر میں پھینک کر چلے گئے بچے کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی جسے فوری طور پر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا ڈاکٹروں کی مبینہ طور پر عدم توجہ اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ڈیڑھ سالہ حجت حُسین دم توڑ گیا،جس کے خلاف ٹیچنگ ہسپتال کے گیٹ پر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا،تھانہ صدرپولیس نے مقدمہ نمبر 590/19 کے تحت درج کرکے ملزم زوہیب کو گرفتار کرلیا جبکہ نعش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردی۔