Baaghi TV

Author: +9251

  • عزت اللہ دیتا ہے، جو پیغام دینے آئے تھے قوم کی دعاؤں سے کامیابی سے دے دیا، وزیراعظم عمران خان

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم جو پیغام دینے آئے تھے وہ کامیابی سے دے دیا ہے،

    بھارت میں وزیراعظم عمران خان کیخلاف مقدمہ درج، مگر کیوں؟ اہم خبر آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان وطن واپسی سے قبل نیو یارک ایئر پورٹ پرمیڈیا سے گفتگو کر رہے تھے، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ہماری جدوجہد جاری رہے گی، دنیا کوپیغام چلا گیا کہ 80 لاکھ کشمیریوں پر ظلم ہورہا ہے، عزت اللہ دیتاہے،پوری قوم نےدعائیں کیں، جدوجہدجاری رہےگی،لوگوں نےمایوس نہیں ہونا، جدوجہدمیں اونچ نیچ آتی رہتی ہے، یواین،امریکا،روس اوربڑی طاقتوں کوپتہ ہےکہ مقبوضہ کشمیرمیں کیاہورہاہے،

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    واضح‌ رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم عمران خان کی وطن واپسی پر فقید المثال استقبال کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلہ میں چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی نے کارکنان کو شاندار تیاریوں کی ہدایت کی ہے، انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی میں وزیراعظم کے ولولہ انگیز تاریخی خطاب نے پوری قوم کا سرفخر سے بلند کردیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی شکل میں امت مسلہ خصوصاً اہل کشمیر کو ایک توانا آواز میسر آئی ہے، سیف اللہ خان نیازی کے مطابق کل اسلام آباد عمران خان کے تاریخی خیر مقدم کے لیے نکلے گا اور دنیا کو ٹھوس پیغام بھجوائے گا، یہ بات بھی واضع رہے کہ وزیراعظم عمران خان کل 29 ستمبر کو امریکہ سے واپس پہنچیں گے، عمران خان آج سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کےخصوصی طیارے پر پاکستان آ رہے تھے تاہم تکنیکی خرابی کے سبب تاخیر ہوئی اور اب وہ نیویارک ایئرپورٹ سے وطن واپسی کیلئے روانہ ہوئے ہیں،

  • میونسپل کارپوریشن ڈیرہ غازی خان کو نئی مشینری فراہم کر دی گئی تفصیلات اس رپورٹ میں..

    ڈیرہ غازیخان(تنویر احمد)کمشنر ڈیرہ غازیخان ڈویژن مدثر ر یاض ملک اور وفاقی وزیر مملکت زرتاج گل وزیر کی زیر قیادت میونسپل کارپوریشن کیلئے فراہم کی گئی ٹریکٹر ٹرالی، رکشے اور دیگر مشینری کا فلیگ مارچ کیاگیا. جو سرکٹ ہاوس سے ریلوے پلی، ہسپتال چوک، ٹریفک چوک اور شہر کے مختلف راستوں سے ہوتا ہوا بلدیہ ہال پر اختتام پذیر ہوا.

  • عنوان: دہشتگردی کا دوسرا نام RSS—————آرزوئے سحر——–از–انشال راؤ

    عنوان: دہشتگردی کا دوسرا نام RSS—————آرزوئے سحر——–از–انشال راؤ

    دہشتگردی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ، دہشتگردی کی ابتک کوئی متفقہ تعریف یا تشریح سامنے نہیں آسکی، اس کے پیچھے کوئی سوچ یا نظریہ ہوسکتا ہے میرے نزدیک دہشتگردی کا دوسرا نام راشٹریہ سویم سیوک سٙنگھ RSS ہے، ابتک RSS کے دہشتگردانہ نظریات اس کی پرتشدد سرگرمیوں پہ کتابوں کی کتابیں لکھی جاچکی ہیں، راشٹریہ سویم سیوک سٙنگھ 1925 میں ناگپور میں قائم کی گئی جس کی بنیاد نظریہ ہندوتوا پر رکھی گئی,

    ہندوتوا کا لفظ اور نظریہ سب سے پہلے ساورکر نے استعمال کیا اور اسے ایک خاص معنی پہنائے، یہ اتنا مبہم نظریہ تھا کہ مصنف بھی اس سے مطمئن نہیں تھا اسی لیے اس کا پہلا ایڈیشن مصنف کے نام کے بغیر شایع ہوا اور پھر 1923 میں ساورکر کے نام سے شایع ہوا، سنگھ اسی سے بھرپور استفادہ کرتا ہے اسی نظریہ کی بنیاد پہ گلواکر جوکہ مہاراشٹرین برہمن تھے ایک تنظیم بنائی جسکے لیے تین نام پیش ہوے مگر زیادہ ووٹ راشٹریہ سویم سیوک سٙنگھ کو پڑے تو متفقہ طور پر یہ نام قرار پایا، دنیا آگے بڑھنے کے لیے جدیدیت کو اپناتی ہے اور ترقی و معاشرے کے استحکام کے لیے روایات و اداروں تک کی قربانی دیتی آئی ہے جیسا کہ یورپ، جاپان وغیرہ کیونکہ ترقی ہمیشہ آگے کی جانب دیکھتی ہے جبکہ نظریہ ہندوتوا وہ واحد نظریہ ہے جو آگے کی بجائے پیچھے کی جانب دھکیلتا ہے،

    نیشنل سلیکشن کمیٹی کوآرڈینیٹر کی تلاش ، مصباح الحق نیا آئیڈیا لے آئے

    ہندوتوا کا ٹارگٹ بھارت کو ہندو راشٹر دیس بنانا ہے جسکے لیے وہ ہندو ماضی کے مخصوص زمانے کی مثال پیش کرتے ہیں ساتھ ساتھ کچھ کتب اور شخصیات کو شامل کرتے ہیں، بھنڈارکر کے مطابق تقریباً 400 تا 200 ق۔م تک بھارت میں بدھ مت کا دور دورہ تھا چنانچہ سٙنگھ لٹریچر کے مطابق اس کے بعد برہمنوں اور سنسکرت کو پذیرائی ملنا شروع ہوئی اور یہ سلسلہ مسلمانوں کی آمد سے قبل تک چلتا رہا اسی کو سٙنگھ گروہ شاندار ہندو ماضی قرار دیتے ہیں, ہندوتوا آئیڈیولوجی کے اہم اجزاء ریاست، نسل پرستی اور ہندو راشٹر ہیں، سٙنگھ اس گروہ کو کہا جاتا ہے جو نظریہ ہندوتوا پر یقین رکھتے ہیں سنگھ پریوار کے جھنڈے تلے تقریباً 52 تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جن کا نیوکلیئس RSS ہے،

    سنگھ پریوار کے جھنڈے تلے چند اہم تنظیموں میں بجرنگ دل، شیو سینا، راشٹریہ سیوکا سمیتی، ون بندھو پریشد، ویشوا ہندو پریشد، سیوا بھارتی، ونیاسی کلیان آشرم، بھارتیہ مزدور سٙنگھ، خواتین ونگ، تاجر ونگ وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ ودیا بھارتی ان کی تعلیمی ونگ ہے اور حکمران جماعت BJP سٙنگھ پریوار کی سیاسی ونگ ہے, سنگھ پریوار کی ماں کا درجہ رکھنے والی RSS ایک شدت پسند مسلح تنظیم ہے جس کی بنا پر متعدد بار پابندیوں کا سامنا بھی رہا اور مقامی سطح سے لیکر عالمی سطح تک زیر تنقید رہتی آرہی ہے

    گاندھی جی کے قتل کے بعد RSS پر بھارت سرکار کی جانب سے پابندی لگائی گئی اور اعلان کیا کہ ” آر ایس ایس کے کارکنان ملک کے 19 حصوں میں آگ زنی، لوٹ مار، ڈاکے، قتل اور پوشیدہ طور پر گولا بارود و اسلحہ یکجا کرنے میں ملوث ہیں اور دہشتگردانہ سوچ و فکر پہ مبنی لٹریچر کے زریعے انتشار و منافرت پھیلانے میں پیش پیش ہے” اس کے علاوہ سردار پٹیل نے پارلیمینٹیرینز کو کانفیڈینشیل بریفنگ دی جوکہ "انڈین نیشنل آرکائیو میں مائیکروفلم کی صورت موجود ہے” اس میں بتایا گیا کہ "راشٹریہ سیم سیوک سنگھ ناگپور میں بوائے اسکاوٹ موومنٹ کے طور پر قائم ہوئی جو کچھ عرصے بعد پیراملٹری گروہ میں تبدیل ہوگئی، یہ خالصتاً مہاراشٹرین برہمن تنظیم ہے جس کا مقصد فقط و فقط پیشوا راج کا بھارت میں نفاذ کرنا ہے ان کا جھنڈا بھگوا پرچم ہے جوکہ آخری مہاراشٹرین برہمن بادشاہ کا جھنڈا تھا جسے برطانیہ نے شکست دیکر مہاراشٹر پر قبضہ کیا،

     

    عمران خان سچے،ایماندار اور حقیقی لیڈر ہیں ،اسلام،مسلمان اورکشمیر پرواضح موقف پیش کرنے پر سلام، شوبز کی دنیا کا وزیراعظم کو خراج تحسین

    آر ایس ایس کے نظریات فاشزم پہ مبنی ہیں، یہ گروہ خفیہ، مشکوک اور پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے جن کے زریعے فسطائیت کو پروموٹ کرتے ہیں”، RSS اپنے وجود کیساتھ ہی ہندو مسلم فسادات کا باعث بنی اور 1930 کے پرتشدد واقعات میں پیش پیش رہی جس سے ہندو مسلم میں فاصلے بڑھے، 1937 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کو ووٹ دینے پر ہندوتوا مائنڈسیٹ نے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جسکے نتیجے میں متعدد شہادتیں اور زخمی ہوے، بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا، پیرپور رپورٹ اور شریف رپورٹ آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں، دنیا بھر میں نازیوں کے ظلم کا شکار ہونے والے یہودیوں کو لیکر ہمدردیاں پائی جاتی ہیں یہودیوں نے اپنے قتل عام کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ساٹھ لاکھ یہودی کے قتل ہونے کا دعوہ کیا جوکہ ہولوکاسٹ کے نام سے مشہور ہے جبکہ RSS جوکہ نازی طریقے کے ہی پیرو ہیں ان کے ہاتھوں مسلمان یہودی ہولوکاسٹ سے زیادہ متاثر ہوے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے،

    تقسیم ہند کے وقت ہندوتوا مائنڈسیٹ نے مسلمانوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا جس میں بیس لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہوے، لاکھوں مسلمان خواتین کی عصمت دری کی گئی، لاکھوں افراد لاپتہ ہوے، کروڑوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوے، یہ تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی تھی، جانی نقصان کے علاوہ اربوں نہیں کھربوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا، اسی کے ساتھ ساتھ RSS کے دہشتگردوں نے ڈوگرا فوج کے ساتھ مل کر جموں کے علاقے میں مسلمانوں کی نسل کشی شروع کردی جوکہ اکتوبر کے وسط سے نومبر کے اوائل تک جاری رہی جسکے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زائد مسلمان قتل کیے گئے اور ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی، ہزارہا افراد لاپتہ ہوے، سات لاکھ سے زائد مسلمانوں کو مجبوراً ہجرت کرکے پاکستان آنا پڑا، جموں جو کبھی مسلم اکثریتی علاقہ تھا صرف تین ہفتوں بعد ہندو اکثریتی علاقے میں بدل گیا، بالکل ایسا ہی ایجنڈا BJP نے کشمیر کے لیے سیٹ کررکھا ہے جہاں کرفیو کو پچاس روز سے زیادہ ہوگئے ہیں اور مکمل مواصلات کو معطل کررکھا ہے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں جن پر بھارتی میڈیا پردہ پوشی کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے،

    سنگھ پریوار اپنے آپ کو غیرسیاسی تنظیم کے طور پر پیش کرتے ہیں RSS کو ثقافتی و سماجی تنظیم قرار دیتے ہیں، کھلے عام RSS کے دہشتگردوں کی فوجی ٹریننگز اور خنجر پر حلف کو یوگا و معمول کی ورزش قرار دیتے ہیں جسکی نفی RSS سربراہ موہن راو بھاگوت کے بیان سے ہی ہوجاتی ہے جس نے حال ہی میں بیان دیا ہے کہ "بھارتی فوج کو بارڈر پر پہنچنے میں وقت درکار ہوگا مگر RSS کے تربیت یافتہ کئی ملین کمانڈوز تین دن کے مختصر ترین وقت میں بارڈرز پر پہنچ کر ڈیوٹیاں سنبھال سکتے ہیں” بھارتی میڈیا ڈھٹائی کیساتھ ہندوتوا کی دہشتگردانہ سوچ و سرگرمیوں پہ پردہ پوشی کرنے کیساتھ ساتھ ثقافتی و سماجی تنظیم کے طور پر پیش کرنے میں مصروف عمل ہے بھارتی میڈیا اپنے مذموم مقاصد کے لیے کسی اخلاقی ضابطے کو نہیں مانتے اور نہ ہی بروئے کار لانا چاہتے ہیں، بھارت میں ہندوتوا دہشتگردوں کے ہاتھوں اقلیتوں پر بالعموم مسلمانوں پر بالخصوص تشدد و ناروا سلوک پر مبنی امریکہ و اقوام متحدہ کے اداروں کی رپورٹ کوئی نئی بات نہیں، RSS کی تاریخ فسادات و مسلم نسل کشی سے بھری پڑی ہے،

     

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے کشمیریوں کے سفیر وزیراعظم عمران خان کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر گفتگو

    تقسیم ہند کی مسلم نسل کشی کے بعد 1948 میں حیدرآباد دکن پر بھارتی سرکار نے چڑھائی کردی آپریشن پولو میں فوج کیساتھ ساتھ ہندوتوا دہشتگرد بھی پیش پیش تھے سندر لعل رپورٹ کے مطابق صرف دو دن میں ہی چالیس ہزار سے زائد نہتے مسلمانوں کو بیدردی سے شہید کردیا گیا، سرکاری رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی شہادتوں کی تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ آزاد زرائع سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کی شہادتوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، گاندھی کے قتل کے بعد RSS پر پابندی لگی تو کچھ عرصے کے لیے اقلیتوں کو سکھ کا سانس ملا لیکن اس پابندی کے کوئی خاطر خواہ اثرات اس جماعت پر نہیں پڑے، پابندی کے دوران ہی سنگھ پریوار نے اپنے سیاسی ونگ کا بھارتیہ جن سنگھ کے نام سے آغاز کیا جس کا نام 1980 میں بھارتیہ جنتا پارٹی رکھ دیا گیا اور اندرون خانہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، 1964 میں وشنو ہندو پریشد کی بنیاد رکھی جسے ورلڈ ہندو کونسل بھی کہا جاتا ہے یہی وہ ونگ ہے جو RSS کی پروپیگنڈہ بریگیڈ ہے اور میڈیا و سنگھ لٹریچر کو یہی ونگ کنٹرول کرتی ہے، 1998 میں BJP نے اقتدار میں آکر ہزاروں کی تعداد میں VHP ورکرز کو ٹیکسٹ بک بورڈ اور اطلاعات و نشریات میں بھرتی کیا جس کے بعد سے بھارتی میڈیا BJP کی پروپیگنڈہ مشین بن کر رہ گیا ہے، سنگھ پریوار کے ہاتھ بلکہ سنگھ پریوار پورا کے پورا مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے خون میں دھنسا ہوا ہے، جنوری 1964 میں مغربی بنگال، بہار اور اڑیسہ میں شدید فسادات گرم ہوے جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان قتل و زخمی ہوے، لاکھوں گھرانوں کی ساری جمع پونجی لوٹ لی گئی،

    1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد ہندوتوا دہشتگردوں نے مسلمانوں کے گاوں کے گاوں کو آگ لگادی، 1967 کے انتخابات کے موقع پر رانچی بہار میں اردو کیخلاف مظاہرے شروع ہوے جو جلد ہی مسلم مخالف فسادات میں تبدیل ہوکر پورے بہار میں پھیل گئے نتیجتاً ہزاروں مسلمان گھرانے اجڑ گئے، ستمبر 1969 میں RSS نے منصوبہ بندی کے ساتھ احمدآباد میں مسلم کش فسادات شروع کردئیے جس نے پورے گجرات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اس بار بھی نتیجہ مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی نکلا، 1971 میں ریاستی سرپرستی میں ہندوتوا دہشتگرد مشرقی پاکستان میں دہشتگردی میں براہ راست ملوث رہے جس کا اعتراف مودی خود کرچکے ہیں اس کے علاوہ بھارتی صحافی سدھیر چودھری جذبات میں متعدد بار اس کا اعتراف کرچکے ہیں کہ مکتی باہنی میں ہندوتوا دہشتگرد پیش پیش تھے، 1979 میں منظم طریقے سے ہندوتوا تخریبکاروں نے جھاڑکھنڈ میں مسلم کش فسادات کو ہوا دی جس میں ہزارہا مسلمان شہید و زخمی ہوے اور ہندوتوا کے روز روز کے دنگوں کی وجہ سے علاقہ پسماندگی کا شکار ہوتا گیا، لوٹ مار و فسادات سے تنگ آکر صنعتیں مسلم علاقوں سے دوسرے علاقوں کی طرف شفٹ ہوگئیں، اگست نومبر 1980 میں مرادآباد اترپردیش میں ایک دلت لڑکی کے قبول اسلام کے بعد مسلم نوجوان سے شادی کرلینے کو ہندوتوا دہشتگرد ہضم نہ کرپائے اور پروپیگنڈہ کرکے پولیس کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر چڑھائی کردی جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان مرد و خواتین کو سرکاری سرپرستی میں قتل کردیا گیا،

    فروری 1983 الیکشن کے دوران نیلی آسام کے علاقے میں منظم طریقے سے ہندوتوا دہشتگردوں نے مسلمانوں کی نسل کشی شروع کردی جسکے نتیجے میں کئی ہزار مسلمان لقمہ اجل بنے لاکھوں گھرانوں کو لوٹ لیا گیا، موجودی عدم شناخت کرنے کا بل ان ہی کیخلاف لایا گیا ہے آسام کے مسلمان ایک عرصے سے ہندوتوا دہشتگردوں کے ظلم کا نشانہ بنتے آرہے ہیں اور اب آکر نریندر مودی نے تقریباً ستر لاکھ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کردیا ہے، ہندوتوا دہشتگردوں کی بربریت سے سکھ بھی محفوظ نہ رہ سکے اندرا گاندھی قتل کو جواز بناکر ہندوتوا دہشتگردوں نے سکھوں کا قتل عام شروع کردیا بہت سے گوردواروں کو تباہ کردیا مشہور گوردوارہ اکالی تخت بھی مسمار کردیا اس لہر میں بیسیوں ہزار سکھ قتل ہوے جبکہ سرکاری رپورٹ میں تعداد کو بالکل ہی چھپا لیا گیا اور محض چند سو ظاہر کی گئیں اس کے علاوہ آپریشن گولڈن ٹیمپل میں بھارتی فوج کے ساتھ ساتھ ہندوتوا دہشتگرد بھی پیش پیش تھے سکھ زرائع کے مطابق چھ لاکھ سے زائد سکھ اس آپریشن کی بھینٹ چڑھے،

    مئی 1984 میں سٙنگھ دہشتگردوں نے بھوانڈی اور بمبئی میں مسلمانوں کیخلاف منظم اشتعال انگیز مہم شروع کی جو پورے مہاراشٹر میں پھیل گئی مسلمان آبادیوں کو چن چن کر نشانہ بنایا، مسلح دہشتگردوں نے حملے کیے، گھروں اور املاک کو نذر آتش کردیا نتیجتاً ہزاروں مسلمان شہید ہوے، مارچ سے جون 1985 تک احمدآباد گجرات کے پسے ہوے مسلمانوں کو ایک بار پھر ہندوتوا کے ظلم کی چکی میں پسنا پڑا، پولیس نے بھی ہندوتوا دہشتگردوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملے کیے اور فائرنگز کیں جسکے نتیجے میں کئی ہزار مسلمان شہید و زخمی ہوے، مئی 1987 میرٹھ UP میں ایک ہندو برہمن اور مسلمان کے زمین کے تنازعہ کو ہندوتوا پروپیگنڈہ بازوں نے ہندو مسلم فسادات میں بدل دیا، پولیس نے بھی ہندوتوا دہشتگردوں کا ساتھ دیا جس کی سرپرستی میں مسلمان آبادیوں کو جلایا جاتا رہا، املاک کو لوٹا جاتا رہا، مرادآباد پولیس نے فائرنگ کرکے سو سے زائد مسلمانوں کو ایک ہی دن میں شہید کردیا کئی سو افراد زخمی ہوے، ریاست نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہندوتوا کے ظلم پر پردہ پوشی کی اور پولیس کو بجائے سزا دینے کے مزید تھپکی دی،

    بھاگلپور فسادات اکتوبر 1989 میں اس وقت پھوٹ پڑے جب ہندوتوا دہشتگردوں نے تیاری کے ساتھ بہانہ بناکر نہتے مسلمانوں پر مسلح حملے شروع کردئیے یہ فسادات آگ کی طرح پھیلے اور بھاگلپور سے نکل کر دور دور تک پھیل گئے جسکے نتیجے میں آزاد زرائع کے مطابق کئی ہزار مسلمان شہید ہوے، ان واقعات میں پولیس براہ راست شامل رہی، پولیس کے ملوث ہونے کے جرم میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا مگر وزیراعظم راجیو گاندھی نے اسے بحال کردیا، اپریل 1990 میں VHP نے بابری مسجد کیخلاف اشتعال انگیز مہم لانچ کی جوکہ دسمبر تک جاری رہی اس مہم کے نتیجے میں پورا بھارت متاثر ہوا، کئی ہزار مسلمان شہید کیے گئے کئی ہزار زخمی ہوے، ویشوا ہندو پریشد نے 1992 میں وسیع پیمانے پر رام جنم بھومی کے نام پر ہندو موبیلائزیشن کی مہم چلائی اور ماہ دسمبر میں ایل کے ایڈوانی و دیگر سٙنگھ لیڈروں کی قیادت میں ہندوتوا دہشتگردوں نے تاریخی ورثہ و عظیم بابری مسجد کو شہید کردیا جسکے ردعمل میں پورے بھارت میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے نتیجتاً بیسیوں ہزار افراد لقمہ اجل بنے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، ہزاروں خواتین کی عزتیں پامال ہوئیں، اربوں کھربوں کا مالی نقصان ہوا،

    2002 میں گجرات میں مودی سرکار کی سرپرستی میں منظم مسلم کش فسادات شروع ہوے جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان شہید ہوئے بیسیوں ہزار زخمی ہوے، ہزاروں مسلم خواتین کی عصمت دری کی گئی، ہزاروں لاپتہ ہوے، لاکھوں مسلمان نقل مکانی پہ مجبور ہوے جسکے بعد اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے بیان دیا کہ "یہ آبادی بڑھانے والے طبقے کو سبق سکھانے کے لیے کافی ہے” اشارہ مسلمانوں کی طرف تھا، اگست 2008 اڑیسہ میں عیسائیوں کو منظم طریقے سے ٹارگٹ کیا گیا جس میں ہزارہا عیسائی گھرانے اجڑ گئے، ستمبر 2013 میں مظفر نگر و شاملی میں پروپیگنڈہ گھڑ کر ہندوتوا دہشتگردوں نے مسلمان آبادیوں پر حملے شروع کردئیے نتیجتاً سینکڑوں مسلمان شہید ہوے ہزاروں زخمی ہوے لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے، ہزاروں خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی، ہندوتوا دہشتگردوں کو سرکار نے مکمل تحفظ فراہم کیا،

    BJP کے اقتدار میں آنے کے بعد سینکڑوں افراد کو ہندوتوا دہشتگرد گائے ذبیحہ کا الزام لگاکر نشانہ بناچکے ہیں جبکہ ہندوتوا کے نزدیک مستند مفکر سوامی وویکانند کے مطابق "وہ اچھا ہندو نہیں بن سکتا جو گوشت نہیں کھاتا اور اہم موقع پر اسے بیل کی قربانی دینا چاہئے اور اسے کھانا چاہئے (لیکچر شیکسپئیر کلب پساڈینا، کیلیفورنیا)، ہندوتوا کے نزدیک ہندومت کا شاندار دور ویدک دور ہے جبکہ ویدک دور کے ماہر محقق سی کنہن راجا کی تحقیق کے مطابق "ویدک دور میں ہندو مچھلی، گوشت حتیٰ کہ بیف بھی کھاتے تھے، مہمان نوازی کے طور پر بیف پیش کیا جاتا تھا البتہ دودھ دینے والی گائے ذبیحہ معیوب تھا جبکہ بیل، بانجھ گائے، بچھڑے وغیرہ ذبح کیے جاتے تھے”، ہندوتوا دہشتگرد ایک نمبر کے جھوٹے ہیں اور اب ان کی دہشتگردی کی وجہ سے نہ صرف خطے کے امن کو خطرہ ہے بلکہ پوری دنیا اس کی زد میں آئیگی۔

    عنوان: دہشتگردی کا دوسرا نام RSS—————آرزوئے سحر——–از–انشال راؤ

  • جنرل اسمبلی میں شیم شیم بھارت کے نعرے گونجے، ایسا پہلے کبھی نہیں‌ ہوا، شاہ محمود قریشی

    جنرل اسمبلی میں شیم شیم بھارت کے نعرے گونجے، ایسا پہلے کبھی نہیں‌ ہوا، شاہ محمود قریشی

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی تقریرسے پہلے4 نکات کے بارے میں طےکیا گیا تھا،

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہال میں’’شیم شیم بھارت‘‘کےنعرےگونجے،ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اللہ نے کسی کوعزت دی ہےتو وہ عمران خان ہیں، ہماری خواہش ہےکہ طالبان اورامریکاکےدرمیان مذاکرات بحال ہوں، ہم چاہتےہیں کہ افغانستان میں مذاکرات سےمعاملات حل ہوں، ایران کےصدراوروزیرخارجہ سےبات چیت ہوئی ہے، پاکستان کئی محاذوں پرلڑرہاہے،

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ افغان امن عمل کےلیےپاکستان نےاپناکرداراداکیا، امریکااورطالبان کےدرمیان معاہدہ طے ہوگیاتھا، بھارتی فوج نےآج بھی6کشمیریوں کوشہیدکیا، اسلام کااصل چہرہ متعارف کرانےکےلیےمشترکہ چینل لانچ کرنےکافیصلہ کیاہے، ترکی اورملائیشیاکےساتھ مل کرٹی وی چینل لانچ کرنےکافیصلہ کیاہے،

  • عنوان: جنگ دستک دے رہی ہے——— از — تحریر: انشال راؤ

    عنوان: جنگ دستک دے رہی ہے——— از — تحریر: انشال راؤ

    شاید ہی کوئی ادیب یا قلم کار ہو جس کے پاس وہ الفاظ ہوں جو غزوہ ہند کی عظمت و فضیلت کا احاطہ کرسکیں کیونکہ غزوہ ہند کی فضیلت کا اعلان مدینہ سے ہوا تھا اور اس انداز سے ہوا کہ اہلیان مدینہ جان و مال نچھاور کرنے کی تمنا میں بے تاب رہتے تھے یہ سلسلہ اگلی سے اگلی نسلوں کو منتقل ہوتا ہوتا ہم تک پہنچا ہے آج کل خطہ ہند کی صورتحال بتارہی ہے کہ غزوہ ہند کی آمد آمد ہے، ٹرمپ کے تازہ ترین بیان "انڈیا یعنی ہندوتوا کے ساتھ مل کر اسلامی دہشتگردی کو دنیا سے ختم کرینگے” نے تو ممکنہ جنگ کی تصدیق کردی ہے،

     

    اقوام متحدہ میں‌ عظیم الشان خطاب ، وزیراعظم عمران خان پاکستان کی خوش قسمتی ہے ، صحافی اور علماء بھی واہ واہ کراٹھے ، خراج تحسین پیش کیا

    ٹرمپ کا تازہ ترین بیان صدر بش کے بیان ہی کا تسلسل ہے، صدر بش نے افغانستان پر چڑھائی سے قبل صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا اور اسے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا نام دیا تھا، اس کے بعد سے پوری امت مسلمہ مشکلات سے دو چار ہے، ٹرمپ کے حالیہ بیان سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ دہشتگردی یا دہشتگرد صرف اسلام اور مسلمان کی حد تک ہی محدود ہے وگرنہ برما میں جو ظلم و ستم کے پہاڑ مسلمانوں پہ ڈھائے گئے کیا کبھی کسی طرف سے انہیں دہشتگرد کہا گیا، بھارت میں کھلے عام سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و بربریت کا سلوک کیا جارہا ہے وہ ساری دنیا کے سامنے ہے، کیا کسی نے ہندوتوا دہشتگردی کا نام لیا؟ رپورٹیں تک جاری ہونے کے باوجود کہیں سے کوئی صدا بلند نہیں ہوئی،

     

    عمران خان سچے،ایماندار اور حقیقی لیڈر ہیں ،اسلام،مسلمان اورکشمیر پرواضح موقف پیش کرنے پر سلام، شوبز کی دنیا کا وزیراعظم کو خراج تحسین

    کشمیر میں پچاس دن سے زائد ہوگئے کرفیو جاری ہے مگر ٹرمپ صاحب کہتے ہیں کہ اسلامی دہشتگردی کو ختم کرنا ہے وہ بھی بھارت کے ساتھ مل کر جوکہ درحقیقت عالمی جنگ کی پیش خبر ہے، اس ضمن میں نامور امریکی تجزیہ نگار و مصنف جیرالڈ فلری اپنے کتابچہ میں کہہ چکے ہیں کہ "Nuclear Armageddon is at the door” جیسا کہ امریکہ فروری میں روس کے ساتھ INF ٹریٹی ختم کرنے کا اعلان بھی کرچکے اور روس و امریکہ مہلک ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافہ کرچکے ہیں، صورتحال کے پیش نظر جرمنی کی سپرمیسی میں یورپ بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگیا ہے، سابق جرمن وائس چانسلر و وزیرخارجہ Sigmar Gabriel نے اپنے آرٹیکل بعنوان "Europe & New Nuclear Arms Race” میں لکھتے ہیں کہ "Europe is now entering in potential dangerous period & must play a much more active role in nuclear arms debate” بات یہیں تک محدود نہیں ایران، کوریا و دیگر بہت سے ممالک اس دوڑ میں شامل نظر آرہے ہیں،

     

     

    چین جس کی توجہ کا مرکز و محور زیادہ تر تجارت معیشت ہی رہی اب پہلی بار طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہا ہے اور یکم اکتوبر کو اپنا بند تھیلا کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے، ایٹمی جنگ سر پر کھڑی ہے جس کا آغاز ممکنہ طور پر جنوبی ایشیا سے ہوتا نظر آرہا ہے بھارت تو پہلے ہی ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں پہل کا اعلان کرچکا ہے جسکے جواب میں پاکستان کا موقف بھی آچکا ہے کہ پہل کے بعد دوج بھی ہوتی ہے، اگر تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جتنی بھی بڑی طاقتیں گزری ہیں ان سب کے زوال کا سبب جنگی پھیلاو ثابت ہوا ہے، قدیمی عظیم سلطنت یورپ کا شیرازہ بکھرنے سے پہلے اس نے جنگوں کا دائرہ وسیع کردیا تھا، اس کے علاوہ سوویت یونین کی مثال سب کے سامنے ہے جس کے خاتمے کا سبب جنگی پھیلاو ہی بنا، امریکہ بھی اسی نقش قدم پہ چل رہا ہے اور جنگوں کو آگے سے آگے پھیلاتا جارہا ہے جو اس کے خاتمے کا عندیہ ہے،

     

     

    خطہ کشمیر اور اسکے نہتے عوام ہندوتوا دہشتگردوں کی بدترین جارحیت کی زد پہ ہیں وہ بظاہر تھکے ہوے، مٹتے ہوے، مغلوب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن حقیقتاً وہ ایک درجہ اوپر آگئے ہیں اور یہی اصول ہے کہ پستی سے بلندی کا سفر کرکے تھوڑی تھکاوٹ تو ضرور ہوتی ہی ہے جب یہ سکوت ٹوٹے گا تو کشمیر کا نظارہ بدلا ہوا ملے گا ہر گھر سے مسلح تحریک کشمیر جلوہ گر ہوگی بچہ بچہ برہان وانی بن کر سامنے آئیگا اور اس بات سے مکار ہندوتوا دہشتگرد بخوبی واقف ہے اسی لیے کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا ملٹری بیس بنا رکھا ہے، جس طرح نازی جرمنوں نے شوق وسعت میں جارحانہ حکمت اپنی اپنائی اور آخر میں خود ہی اس آگ کا شکار ہوگئے بعینہ بھارتی جارحیت بھی "پونیا بھومی بھارت” بنانے کے لیے وسعت دینے کا پلان ہے اور "شکاری خود یہاں شکار ہوگیا” کے مصداق بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا ہے اور شاہ ولی کی پیشین گوئی ہے کہ برہمن شکست کھا کر دائرہ اسلام میں داخل ہوجائینگے مگر یہ بات بھی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے کہ عالمی جنگ کا نقطہ آغاز یہی خطہ ہے جو شروع پاک بھارت جنگ سے ہوگی اور اختتام ساری دنیا کی تباہی پہ ہوگا،

     

    نیشنل سلیکشن کمیٹی کوآرڈینیٹر کی تلاش ، مصباح الحق نیا آئیڈیا لے آئے

     

    حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ جنگ کے بادل ہر طرف سے پاکستان کے سر پہ منڈلا رہے ہیں جبکہ اندرونی دشمن پاکستان کا دفاعی بجٹ کم کروا کر خوشیاں مناتے پھر رہے ہیں، SIPRI کی رپورٹ کے مطابق دنیا کا کل دفاعی اخراجات 2017 کے مقابلے میں 2.6 فیصد اضافے کیساتھ 2018 میں 1822 ارب ڈالر ہیں جسکے پانچ سب سے بڑے حصہ داروں میں امریکا، چین، سعودی عرب، بھارت اور فرانس ہیں، بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے جوکہ تقریباً ستر ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جبکہ پاکستانی افواج کو اندرونی دشمنوں نے ہدف تنقید بنا بنا کر دفاعی اخراجات کم کرنے پہ مجبور کردیا جس سے دشمن قوتوں کے کیمپ میں جشن منانے کا جواز پیدا ہوا، افواج پاکستان تو پوری طرح چوکنا ہے اب وقت ہے عوام کو حقیقی صورتحال اور دشمن کے ناپاک عزائم کو سمجھ کر ان کے آلہ کاروں کو پہچان کر رسوا کرنے کا جوکہ ہر پاکستانی کا فریضہ ہے

     

    عنوان: جنگ دستک دے رہی ہے——— از — تحریر: انشال راؤ

     

  • سرگودہا ریاض ہسپتال کے ڈاکٹرز اور عملہ کا میڈیا کے نمائندوں پر تشدد

    سرگودہا ریاض ہسپتال کے ڈاکٹرز اور عملہ کا میڈیا کے نمائندوں پر تشدد

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی) سرگودہا 49 ٹیل پر واقع ریاض ہسپتال کے عملہ اور ڈاکٹرز کا میڈیا کے نمائندوں پر تشدد تفصیلات کے مطابق آج دن کو ریاض ہسپتال میں مریض کا پرس کسی نے تیز دھار آلے سے کاٹ کر پیسے نکال لیے جس پر مریض نے انتظامیہ سے رابطہ کیا کہ اسے سی سی ٹی وی فوٹیج دکھا دیں جس پر ٹنتظامیہ نے ٹال مٹول سے کام لیا میڈیا کے نمائندوں سے رابطہ کرنے پر ٹیم وہاں پہنچی کوریج کرنے پر ریاض ہسپتال کے عملہ اور ڈاکٹرز نے میڈیا کے نمائندوں کے کیمرے توڑ دیے اور انہیں یر غمال بنا لیا جس پر میڈیا کے نمائندوں نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کی پولیس بغیر کاروائی کیے وہاں سے واپس چلی گئی میڈیا کے نمائندے چینل 5 اور ایکسپریس نیوز سے تعلق رکھتے ہیں صحافتی اداروں نے اس کی شدید مزمت کی ہے اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف فوری ایکشن لینے کی درخواست کی ہے ہسپتال سے ڈکیٹی کی سی سی ٹی وی فوٹیج فوری طور پر میڈیا کو فراہم کی جائے تاکہ ملزمان کی نشاندہی ہو سکے

  • صداقت عباسی کے وعدوں پہ وعدے کارکن مایوس ———— از -آصف شاہ

    صداقت عباسی کے وعدوں پہ وعدے کارکن مایوس ———— از -آصف شاہ

    پاکستان خالصتاً جمہوری عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا، مگر افسوس کہ قیام کے بعد سب سے زیادہ غیر جمہوری صدموں سے دوچار رہا، ستر برس گزرنے کے بعد بھی پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری ادارے ایک سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں، گوکہ آدھے سے زیادہ عرصہ آمریت کی نذر ہو چکا ہے لیکن بقیہ رہ جانے والے عرصے میں جمہوریت کے نام پر جمہوری بادشاہ ملک پر مسلط رہے ہیںاور انہوں نے بھی عوام کو لولی پاپ کے سواکچھ نہ دیا

    اقوام متحدہ میں‌ عظیم الشان خطاب ، وزیراعظم عمران خان پاکستان کی خوش قسمتی ہے ، صحافی اور علماء بھی واہ واہ کراٹھے ، خراج تحسین پیش کیا

    موجودہ حکومت کی بات کی جائے تواقتدار میں آنے سے پہلے ان کا منشور جو عوام کے سامنے رکھا گیاوہ کچھ اور تھا جبکہ محاورةہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے کے اور مصداق حلقوں سے منتخب نمائندے وعدوں کی بارات کے ساتھ اپنی لیڈر شپ سے کوسوں فاصلہ طے کر چکے ہیںحلقہ این اے57اور59پر اگر نظر ڈالی جائے تو تاحال لولی پاپ کی مصنوعی بارش جاری ہے این اے59میں غلام سرور خان نے ایم پی اے حاجی امجدکے ساتھ مل کر عوام کو کچھ ریلیف دینے کی اپنے تہی کوشش کی ہے لیکن اس کے ساتھ واثق قیوم عباسی تاحال سیاسی اننگز میں ترقیاتی کاموںکا کھاتہ نہ کھول سکے ہیں،لیکن وہ سیلفیوں سے اپنی کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ پی پی 10اور این اے57کی قیادت تاحال قانو گو ساگری کی عوام کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں

    سابق وفاقی وزیر داخلہ تاحال حلف نہ اٹھانے کی اکڑ کے ساتھ موجود ہیں،اور ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ تحریک انصاف کی قیادت عوام کو بخوبی چکر دینے میں کامیاب نظر آتی ہے اگر چوہدری نثار اپنی سیاست کو اس حلقہ میں ایکٹیو کریں تو دونوں حلقوں کی عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل سکتا ہے،دوسری جانب ان کے حلف نہ اٹھانے کے خلاف حلقہ کے شہری فرخ عارف بھٹی ہائیکورٹ پہنچ گے ہیں اللہ کرے عدالت ان کو اس کٹہرے میں لائے کہ حلف اٹھائیں یا گھر جائیں کہ پوزیشن سامنے آجائے سیاست میں جہاں اپوزیشن موجود نہ ہو وہاں پر عوام کی حالت فٹبال کی سی ہو تی ہے اور اس وقت اس حلقہ میں قانو گو ساگری کی عوام کے ساتھ صداقت عباسی اینڈ کمپنی کرنے میں مصروف ہے ،ایک سال اور تقریبا تین ماہ ہونے کو ہیں لیکن ایک روپے تک کی گرانٹ نہ دی جا سکی

     

    عمران خان سچے،ایماندار اور حقیقی لیڈر ہیں ،اسلام،مسلمان اورکشمیر پرواضح موقف پیش کرنے پر سلام، شوبز کی دنیا کا وزیراعظم کو خراج تحسین

    اعلانات کے حوالہ سے اگر دیکھا جائے تو ہر یوسی کے لیے اٹھائیس لاکھ کی ایک گرانٹ اس کے بعد چالیس لاکھ فی یوسی اور پھر ایک ایک کروڑ کی گرانٹوں کے اعلانات کیے گے لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے،،ترقیاتی کاموں کو تو ایک طرف رکھ دیں انہوں نے ایک سال قبل یہ اعلان کیا تھا کہ ہر مہینے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے گا لیکن تاحال کون سی عوام اور کون سی کھلی یا بندکچہری کچھ نہ کیا جا سکا موصوف نے دو ہفتے قبل قانو گو ساگری کا دورہ کیا اور جلسے میں بھر پور شرکت پر صرف شاباش پر ٹرخاتے ہوئے ہوئے کلر سیداں اور حلقہ کے متعدد علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا بالمشافہ افتتاح کیا ،

    یاد رہے کہ ہاس سے پہلے انہوں نے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے جانا تھا تو اسی سے ملتے جلتے اعلانات کیے تھے لیکن اس قانو گو کی عوام کی کوش قسمتی دیکھے جہاں پر کھلی کچہری کا انعقاد نہ کیا جا سکا اپنی الیکشن کمپین کے دوران پچیس تاریخ تک عوام کا ساتھ مانگنے والے تاحال عوام کو کچھ نہ دے سکے دوسری طرف ان کی جانب سے بنائی جانے والی کمیٹیاں اور ان کے نمائندگان بھی اب اپنے ہی عوام کے سامنے شرمشار سے نظر آتے ہیں اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ قانو گو ساگری کے دورے کلرسیداں کے وہ سیاسی کھڑپینچ کرنے لگے ہیں

    جن کو اپنی یوسی میں کوئی مکمل طور پر نہیں جانتا لیکن ان کے اشارے پر قانو گو ساگری کے سیاسی قیادت عضو معطل نظر آتی ہے اور موصوف کے کان میں شائید انہی کھڑپینچوں نے ہی یہ بات ڈال رکھی ہے کہ اس قانو گو کو چھوڑ دیں اگلے الیکشنوں میں قانو گو ساگری ہمارے حلقہ کا حصہ نہیں ہو گااسی سیاسی چھپن چھپائی میں تاحال اس قانو گو کی عوام کی قسمت کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا اگر ملکی خزانے کی جانب نظر ڈالی جائے تو اس وقت ہر زی شعور پاکستانی یہ بات جانتا ہے

     

    اقوام متحدہ میں‌ عظیم الشان خطاب ، وزیراعظم عمران خان پاکستان کی خوش قسمتی ہے ، صحافی اور علماء بھی واہ واہ کراٹھے ، خراج تحسین پیش کیا

    خزانے کی حالت مخدوش ہے تو پھر منتخب نمائندوں کو حلقہ کی عوام کو حقائق سے اگاہ کرنا چاہیے لیکن ہر ماہ کے بعد ایک نیاءشوشا چھوڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کیا تک ہے ان کی اسی روش پر گزشتہ روز کہوٹہ میں ہونے والے گیس کی افتتاحی تقریب میں اپنی ہی پارٹی کے ایک رہنماءکے ہاتھوں جہاں پر گزشتہ دور حکومت کے منصوبوں پر اپنے افتتاح کی تختی لگانے پر ان کی جو درگت بنی اس سے ان کو سبق حاصل کرنا چاہیے دوسری طرف ان کے اپنی ہی پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرمرتضی ستی بھی اب ان کے سیاسی بلنڈروں کو نجی اور عوامی محافل میں آڑھے ہاتھوں لینے لگے ہیں،اگر یہی حالت رہی تو جلد یا بدیرقانو گو ساگری میں ،،کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو کے مصداق ،،کہوٹہ جیسی عزت افزائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    صداقت عباسی کے وعدوں پہ وعدے کارکن مایوس ———— از -آصف شاہ