Baaghi TV

Author: +9251

  • رابی پیرزادہ اژدھے کی بجائے اینا کونڈا رکھتی تو مقدمہ درج نہ ہوتا۔

    رابی پیرزادہ اژدھے کی بجائے اینا کونڈا رکھتی تو مقدمہ درج نہ ہوتا۔

    شہباز اکمل جندران۔

    باغی انویسٹی گیشن سیل۔

    رابی پیرزادہ اژدھے کی بجائے اینا کونڈا رکھتی تو مقدمہ درج نہ ہوتا۔پاکستان میں ببر شیر اور اینا کونڈا پالنے کے لیے لائسنس یا اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

    گلوکارہ رابی پیرزادہ کے خلاف محکمہ جنگلی حیات نے اژدھے اور مگر مچھ رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج کررکھا ہے۔جس کی آج (27ستمبر(کوعدالت میں پیشی ہے۔رابی پیرزادہ کے خلاف مقدمہ پاکستان میں پائے جانے والے مگر مچھ اور راک پائتھون نامی اژدھے پالنے کے الزام میں درج کیا گیا۔راک پائتھون پاکستان میں نارروال، سیالکوٹ اور دیگر علاقوں میں پایا جاتا ہے۔اور اس کی لمبائی بعض اوقات 12فٹ تک ہوسکتی ہے۔راک پائتھون کو انڈین راک پائتھون بھی کہا جاتا ہے۔اور یہ بھارت میں بھی پایا جاتا ہے۔

    وائلڈ لائف ایکٹ 1974کے ترمیمی ایکٹ 2007کے مطا بق اژدھے اور مگر مچھ پروٹیکٹیڈ جانوروں اور ریپٹائلز میں شمار ہوتے ہیں۔اور انہیں پالنے یا ان کی بریڈنگ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔البتہ جو وائلڈ اینیمل پروٹیکٹیڈ نہیں اور پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔انہیں پالنے کے لیے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے لائسنس حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    اسی طرح جو وائلڈ اینیمل پاکستان میں پائے ہی نہیں جاتے جیسا کہ ببر شیر، ٹائیگر، سنو ٹائیگر، بڑے مگر مچھوں کی بعض اقسام اور اینا کونڈا جیسے بڑے سانپ یا اژدھے، پاکستان میں کسی لائسنس کے بغیر رکھے جاسکتے ہیں۔اور ایسے وائلڈ اینیمل وائلڈ لائف ایکٹ 1974کے ترمیمی ایکٹ 2007کے سیکشن 12کی زد میں نہیں آتے۔البتہ محکمہ جنگلی حیات ایسے اینیمل کی پرورش کرنے والے شہریوں کو تحریری گائیڈ لائن فراہم کرتا ہے۔اور ضلعی حکومت ایسے شہری سے بیان حلفی لیتا ہے کہ اس کے پالتو وائلڈ اینیمل سے پڑوسیوں کو پریشانی نہیں ہوگی۔

  • ٹرمپ سے ملاقات کےلیے ایرانی صدر کی کون کون سی سخصیات منتیں کرتی رہیں

    ٹرمپ سے ملاقات کےلیے ایرانی صدر کی کون کون سی سخصیات منتیں کرتی رہیں

    ٹرمپ سے ملاقات کےلیے ایرانی صدر کی کون کون سی سخصیات منتیں کرتی رہیں.

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور فرانسیسی صدر امانول ماکرون ایرانی صدر حسن روحانی کی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کرنے کےلیے منتیں کرتے رہے لیکن صدر روحانی نے انکار کر دیا ، امریکا نے حال ہی میں ایران پر پابندیا ں لگائی ہیں.واضح رہے کہ امریکی صدر کئی بار ایرانی صدر سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں لیکن ایرانی صدر نے اس سے انکار ہی کیا ہے. ایران اور امریکا کے درمیان سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملوں کی وجہ سے بھی کشیدگی پائی جاتی ہے امریکا آئے روز ایران کے ساتھ جنگ کی باتیں کرتا ہے.

  • کبوتر بازی کے تنازعہ پر تصادم، کتنے افراد زخمی ہو گئے؟ جان کر ہوں حیران

    کبوتر بازی کے تنازعہ پر تصادم، کتنے افراد زخمی ہو گئے؟ جان کر ہوں حیران

    حجرہ شاہ مقیم کے علاقہ میں کبوتر بازی کے تنازعہ پر دوگروپوں میں زبردست تصادم ہوا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کبوتر بازی کرنے والوں کے مابین اکثر لڑائی جھگڑوں کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں، حجرہ شاہ مقیم میں بھی آج ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے جب کبوتر بازی کے معمولی تنازعہ پر دو گروہ آپس میں دست و گریبان ہو گئے اور پھر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے ایک دوسرے پر ھلہ بول دیا، یہ لڑائی اس قدر شدت اختیار کر گئی کہ اس میں دو خواتین سمیت 9 افراد بری طرح زخمی ہو گئے،

    حجرہ شاہ مقیم میں‌ ہونے والے اس تصادم کے دوران ڈنڈوں، سوٹوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا جبکہ فائرنگ بھی کی گئی، بعد ازاں پولیس بھی علاقہ میں پہنچ گئی اور واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں،

  • حمزہ علی عباسی اور نیمل کی دوستوں کے ساتھ ڈنر کی تصاویر

    حمزہ علی عباسی اور نیمل کی دوستوں کے ساتھ ڈنر کی تصاویر

    حمزہ علی عباسی اور نیمل خان شادی کے بعد سے ہی اس قصبے کا چرچا بن چکے ہیں۔ وہ پاکستانی شوبز کے واحد جوڑے ہیں جن میں صفر فیصد نفرت ہے۔ ہر ایک قریبی دوستوں کے ساتھ سادہ شادی میں ان سے پیار کرتا ہے۔

    حمزہ اور نیمل ایک ساتھ کامل نظر آتے ہیں۔ ایک خاتون نے خود کو حمزہ کی پہلی بیوی ہونے کا دعویٰ کیا ہے لیکن اس نے ایسی خبروں پر رد عمل نہیں دیا۔ شاید وہ جانتا ہے کہ یہ سب جعلی ہے۔

    حمزہ اور نیمل خوشی خوشی شادی شدہ ہیں اور اپنی زندگی کے نئے مرحلے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ انہیں اسلام آباد میں اپنے دوستوں کے ساتھ رات کے کھانے اور ان کے ساتھ معیاری وقت گزارنے کے موقع پر دیکھا گیا ہے۔

    وہ اپنی کہانیوں کو اپنے مداحوں کے ساتھ بانٹنے کے لئے انسٹاگرام پر پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ حمزہ اور نیمل کی کچھ ایسی تصاویر ہیں جو اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے کنبہ کے ساتھ یادگار وقت گزار رہی ہیں۔

  • وہ کام ہی کیوں‌ کیا جائے جس پر بعد میں معافی مانگنا پڑے،

    وہ کام ہی کیوں‌ کیا جائے جس پر بعد میں معافی مانگنا پڑے،

    وہ کام ہی کیوں‌ کیا جائے جس پر بعد میں معافی مانگنا پڑے،
    پاکستانی وزیرا عظم اس وقت اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ، کشمیر ایک ایسا ایشو ہےجو سب کا مشترک اور سانجھا ہے اس پر کسی کو اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح نہیں‌دینی چاہیے . میڈیا اس مسئلہ کو اجاگر کر رہا ہے اور قومی اور ریاستی موقف و بیانیے کو نبھا رہا ہے . بھارت کے کشمیر پر ظالمانہ قبضے پر اپنا کردار ادا کررہے ہیں . لیکن چند ایک میڈیا گروپ ایسے بھی ہیں جن کو ایسے حساس مسئلہ پر بھی کوئی خیال نہیں ہے. ان کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے لگتا ہے جیسے وہ بھارت کی زبان بولتے نظر آتے ہیں .روزنامہ دی نیشن نے ایک ایسا کارٹون اپنے اخبار میں چھاپا ہے جس کی مہذب معاشرہ اجازت نہیں دیتا اپنے ملک کے وزیرا عظم کے لیے توہین ہی تصور کیا جائے گا. اس کارٹون پر اگرچہ ادارے کی معذرت آ گئی ہے لیکن ان کی ذمہ دارانہ صحافت کا اندازہ اس بات سے لگتا ہے کہ ایسے ادارے کس طرح خاص مقصد کے لیے اور مخصوص لوگوں کو خوش کرنے کےلیے صحافت کرتے ہیں چاہے اس کے بدلے ریاستی مفادات کوہی داؤ پر لگانا پڑے . قوم نے اس کارٹون کی اشاعت کے بعد شدید رد عمل دیا ہے جس پر ادارے کو اپنے کیے پر معافی مانگنا پڑی ہے ، اور پہلے ہی ذمہ داری کا اظہار کرتےہوئے ایسے بے ہودہ کام سے خود کو روکا جاتا تو کتنا ہی اچھا تھا.

  • بھارتی ٹریبونل نے کشمیری سیاسی تنظیم پر پابندی کی تصدیق کر دی

    بھارتی ٹریبونل نے کشمیری سیاسی تنظیم پر پابندی کی تصدیق کر دی

    بھارت میں نام نہاد غیرقانونی سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ ٹریبونل نے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند کشمیری لیڈر محمد یٰسین ملک کی جماعت جموں‌ کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی کی تصدیق کر دی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی ہائی کورٹ کے جج چندر شیکھر کی سربراہی میں کام کرنے والے ٹریبونل نے اس سلسلہ میں جاری کردہ نوٹفکیشن میں کہا ہے کہ جموں‌ کشمیر لبریشن فرنٹ کی سرگرمیاں بھارت مخالف ہیں اور یہ انڈیا کی خود مختاری اور سا لمیت کے لئے خطرہ ہے، بھارتی جسٹس نے کہاکہ جے کے ایل ایف جموں کشمیر میں مبینہ طور پر امن اور ہم آہنگی خراب کرنے والی دیگر تنظیموں کے ساتھ سرگرم ہوکر کام کررہی ہے،

    بھارتی ٹریبونل نے کہاکہ انڈیا کی مرکزی حکومت کے پاس اس تنظیم کے غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا کافی ثبوت ہیں، واضح رہے کہ مودی سرکار کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جے کے ایل ایف پر چند ماہ قبل پابندی لگا دی گئی تھی اور یسین ملک کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید کر دیا گیا جہاں ان کی حالت انتہائی خراب ہے اور انہیں علاج کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں،

  • فلوریڈا کے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جب اس نے باسکٹ بال میچ میں جھگڑے کے دوران ایک نوعمر لڑکی کو مکے مارے

    فلوریڈا کے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جب اس نے باسکٹ بال میچ میں جھگڑے کے دوران ایک نوعمر لڑکی کو مکے مارے

    گزشتہ ہفتے باسکٹ بال میں کھیلے جانے والے میچ می جھگڑے کے دوران فلوریڈا کے ایک 43 سالہ شخص کو ایک نوعمر لڑکی کو کیمرے میں گھونسے مارتے ہوئے پکڑنے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

    "بینیٹ جے وِچے” جو اسکول ڈسٹرکٹ میں سیکیورٹی کے ماہر کی حیثیت سے ملازم ہیں ، کو بدھ کے روز بیٹری چارج پر حراست میں لیا گیا اور 1،000 بانڈ پر بروورڈ کاؤنٹی جیل منتقل کیا گیا۔

    بروورڈ کاؤنٹی پبلک اسکولوں کے ترجمان نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ اس واقعے کے بعد اب ایک ملازم کو دوبارہ ملازمت سونپی گئی تھی ، جو ہالی وڈ کے پیمبروک روڈ پر واقع واشنگٹن پارک کمیونٹی سنٹر میں 18 ستمبر کو پیش آیا تھا۔

    ملزم کی ملازمت کی پوزیشن 17 سالہ متاثرہ گواہ کے بیانات سے منسلک ہے ، جس نے گذشتہ ہفتے ڈبلیو ایس وی این کو بتایا تھا کہ اس کا حملہ آور بروورڈ کاؤنٹی ملازم کی قمیض پہنے ہوئے دکھائی دیا تھا۔

    اسکول کے ضلعی عہدیداروں نے بتایا کہ تفتیش جاری رہنے کے ساتھ ہی وہ پولیس کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔

    فوٹیج میں ، جسے مقامی میڈیا کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے ، دیکھا گیا ہے کہ اس نوجوان کو بالوں سے پکڑ لیا گیا تھا اور ایک شخص نے اسے بے دردی سے باسکٹ بال کورٹ کے گراؤنڈ میں کھٹکھٹایا تھا۔ مبینہ طور پر لڑائی کا مقابلہ مخالف ٹریول ٹیموں کے کھلاڑیوں کے مابین ایک کھیل کے بعد ہوا تھا جو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب جلدی ختم ہوا تھا۔ متاثرہ شخص میرامار ہائی اسکول میں داخل ہے۔

    وہاں لڑکیوں کا ایک گروہ تھا جو مجھے اپنے بالوں سے کھینچتا تھا لہذا ایک بار جب میں ڈھیلے ہو گیا تو میں نے ایک لڑکی کو مارا جس نے مجھے مارا ، "17 سالہ نے کہا۔” اچانک ہی ، میرے پیچھے سے ، یہ بڑا آدمی جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ، اس نے مجھے اپنے سر سے پکڑ لیا اور پورے راستے میں اس کا بازو پکڑ لیا اور وہ مجھے مارتا ہے۔ ”

    فلوریڈا کی قانونی فرم حسین اینڈ ویبر ، پی ایل کی ویب سائٹ کے مطابق ، ریاست میں ، بیٹری چارج ، جرم ثابت ہونے پر ، ایک سال تک کی قید یا 12 ماہ کے مقدمے کی سماعت ، اور ایک ہزار ڈالر جرمانہ عائد کرتی ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ، "دوسرے بدانتظامیوں کے برعکس ، فلوریڈا میں پراسیکیوٹر اکثر بیٹری کے مجرموں کے لئے بھی اکثر جیل کی سزا یا مقدمے کی سماعت کی سزایں ڈھونڈتے ہیں۔

  • متعلقہ ایس ایچ او کو درخواست دینے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں

    متعلقہ ایس ایچ او کو درخواست دینے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی) سرگودہا کے نواحی گاؤں چک نمبر 42 جنوبی میں بچیوں کے ہائر سکینڈری سکول کی دیوار گرانے پر سکول ہذا کی پرنسپل نے متعلقہ تھانہ کڑانہ کے ایس ایچ او کو ملزمان کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کی درخواست دے رکھی ہے جس پر تا حال ایس ایچ او نے کوئی کاروائی نہیں کی اور ملزمان دندناتے پھر رہے ہیں سکول کی بے پردگی ہونے سے والدین اور اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے سکول سے ملحقہ کالونی کے اوباش محمد رمضان کی شہہ پر نوجوان بچیوں اور سٹاف کو تنگ کرتے ہیں سکول کی پرنسپل اور والدین نے ڈی سی سرگودہا سے فوری واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • اجیت ڈووال مقبوضہ کشمیر پہنچ گئے

    اجیت ڈووال مقبوضہ کشمیر پہنچ گئے

    بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر پہنچ گئے۔

    چور مچائےشور ، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی

    واضح رہے کہ اجیت کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور ریاست کو بھارتی زیرانتظام علاقوںمیں تقسیم کرنے کے منصوبے میں اہم کردار بتایا جاتا ہے۔اجیت کی ہدایت پر ہی مقبوضہ کشمیر میں سخت ترین کرفیو نافذ کیا گیا تاکہ مودی حکومت کے فیصلوں کےخلاف وادی میں احتجاج نہ ہو سکے۔ تاہم کشمیریوں نے بھارتی پابندیوں کو ٹھکراتے ہوئے اکثر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔

    یہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد اجیت کا دوسرا دورہ ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ اجیت مقبوضہ کشمیر میں سیکورٹی کی تازہ ترین صورتحال دیکھیں گے اور بھارت نواز سیاسی رہنماﺅں کی نظربندی کا بھی جائزہ لیں گے۔

    یاد رہے کہ اجیت نے 5اگست کے بعد بھی مقبوضہ وادی میں کئی دن تک قیام کیا تھا۔

    واضح رہے کہ 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد 53دن سے کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج ہو گئے ہیں۔

    کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے بھی اپنے 4روزہ دورہ کشمیر سے واپسی پر کہا تھا کہ وادی میں حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں۔