Baaghi TV

Author: +9251

  • ایمی ایوارڈز 2019 میں 10 بہترین لباس پہنے ہوئے اداکار

    ایمی ایوارڈز 2019 میں 10 بہترین لباس پہنے ہوئے اداکار

    ڈرامہ سیریز میں عمدہ اداکار کے اس کی یادگار ایمی کے جیتنے سے پہلے ، پوز اسٹار اور نو آموز فیشن فیشن سپرنووا بلی پورٹر نے 71 ویں ایمی ایوارڈز میں ریڈ کارپٹ پر فتح کی گود لیا۔ یہ ان کے 2019 کے ہالی ووڈ ایوارڈ سیزن "ٹور” کا آخری اسٹاپ تھا جو گذشتہ جنوری میں گولڈن گلوبز میں سلوی کڑھائی والی شام کیپ کے ساتھ فوچیا ریشم میں لکھا ہوا شروع ہوا تھا اور ریڈ کارپیٹ کبھی بھی ایسا نہیں ہوگا۔

    اتوار کی شام ، وہ ایک بار پھر چاندی کے لئے گیا ، مائیکل کورس کے ڈیزائن کردہ ایک جشن کے مطابق کسٹم ڈسکو میں ، جس میں 130،000 منی کرسٹل سجے تھے۔ اس نے آسکر ہییمن سے 55000 ڈالر مالیت کے ہیرے کے زیورات حاصل کیے اور مناسب طور پر شاہی ملینیئر اسٹیفن جونز کے جھنڈے والی چاؤ کے ساتھ اس کی شکل کا تاج پہنایا۔

    بلی پورٹر (Billy Porter)

    ماہرشالہ علی (Mahershala Ali)

    سٹرلنگ کے براؤن (Sterling K Brown)

    نکولاج (Nikolaj)

    ملو وینٹیمگلا (Milo Ventimiglia)

    اسنتے بلیک (Asente Black)

    جیمز کورڈن (James Corden)

    سٹیون کنالز (Steven Canals)

    چارلی برنیٹ (Charlie Barnett)

    جیمز وین ڈیر بیک (James Van Der Beek)

  • بھارت: بس اور ٹرک میں زوردار تصادم، 10ہلاک

    بھارت: بس اور ٹرک میں زوردار تصادم، 10ہلاک

    بھارتی ریاست آسام کے ضلع شیو ساگر میں نیشنل ہائی وے پر زبردست روڈ ایکسیڈنٹ ہوا۔

    بھارت، بس اور ٹرک کنٹینر کے درمیان زبردست ٹکر

    بھارتی میڈیا کے مطابق بس ٹرک سے ٹکرا گئی جس سے 10لوگ ہلاک ہو گئے۔ متعدد مسافر زخمی بھی ہوئے جنھیں قریبی ہسپتال میں شفٹ کیا گیا ہے۔

    یہ حادثہ پیر کی صبح اس وقت ہواجب گولہ گھاٹ سے آنے والی بس سامنے سے آ رہے ٹرک سے ٹکرا گئی۔ تصادم کے نتیجے میں دونوں گاڑیاں سڑک سے نیچے جا گریں۔

  • مودی حکومت اب مقبوضہ کشمیر میں کرے گی یہ کام…. اہم خبر آ گئی

    مودی حکومت اب مقبوضہ کشمیر میں کرے گی یہ کام…. اہم خبر آ گئی

    مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370کو ہٹانے کے بعد، مودی حکومت کشمیر میں 50ہزار مندروں کو آباد کرے گی۔

    آرٹیکل 370کا خاتمہ، جموں کشمیر کے پنڈت بھی پریشان

    بھارتی وزیرمملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تقریباً 50 ہزار مندربند پڑے ہیں اور ان میں پوجانہیں ہوتی۔ مرکزی حکومت اس سلسلے میں ایک سروے کے بعد ان مندروں کا تالا کھولنے اور انھیں آباد کرنے پر غور کر رہی ہے۔

    بھارتی وزیرمملکت نے مزید کہا کہ ان مندروں میں سے کچھ کا ڈھانچہ توڑ دیا گیا اور مورتیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیاتھا۔بھارتی حکومت ایسے مندروں کا سروے کروائے گی اور بعد ازاں ان کو دوبارہ سے کھولنے پر کام شروع کیا جائے گا۔

    کشن ریڈی نے مقبوضہ کشمیر میں پڑے بند اسکولوں کے متعلق کہا کہ انہیں بھی جلد پھر سے کھولنے پر کام شروع کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ سے کرفیو نافذ ہے۔ کشمیریوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ جبکہ جان بچانے والی ادویات بھی ناپید ہو گئی ہیں۔ ان تمام حالات کے باوجود کشمیری بھارتی ریاستی دہشت گردی کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہیں ہیں۔

  • چین، سعودی عرب اور یو اے ای نے معیشت بہتر بنانے میں مدد کی، عمران خان

    چین، سعودی عرب اور یو اے ای نے معیشت بہتر بنانے میں مدد کی، عمران خان

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی تمام پالیسیوں میں پاک فوج ساتھ ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اپنے دورہ امریکہ دوران کونسل آن فارن ریلیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ چین ، سعودی عرب اور یو اے ای نے معاشی حالات بہتر کرنے میں مدد کی، چین نے ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے پاکستان کی مدد کی ، بھارت نےکرفیولگا کر 80لاکھ کشمیریوں کو گھروں میں نظر بند کررکھاہے، بھارت میں انتخابی مہم پاکستان مخالفت کو بنیاد بنا کر چلائی گئی ، عالمی برادری بھارت کو کشمیر سے کرفیو اٹھانے کا کہے، ہمیں اندازہ ہواکہ بھارت ہمیں ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی سازش کر رہاہے، پھر میں نے کہا کہ بھارت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کر رہاہے،

    وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کے الزام پر اس سے ثبوت مانگے ، بھارت نے ثبوت دینے کے بجائے بمباری کردی ،

  • درد کشمیر اور ہمارا ضمیر ، تحریر مغیرہ حیدر

    درد کشمیر اور ہمارا ضمیر ، تحریر مغیرہ حیدر

    وادی کشمیر اور اس میں رہنے والے مظلوم کشمیری عوام جو گزشتہ پچاس دن سے بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کر رہے ہیں، سکول و کالج، مارکیٹیں، دوکانیں، اخبارات، موبائل-فون، انٹرنیٹ، مساجد اور سبھی راستے بند کر دیئے گئے..!
    کیا ہمارے دل میں احساس کی کوئی کرن باقی نہیں جو کشمیر کی آزادی کے لیے عملی طور پہ کوئی کردار ادا کر سکے، کیا ہم روزانہ اپنے گھربار اور معمولاتِ زندگی میں یونہی مشغول و مگن رہیں گے.؟ کیوں ان کشمیریوں کی محبت ہمارے دلوں کو نہیں گرماتی.؟ آخر ہم کیوں بےحسی کی چادر اوڑھے غفلت کی نیند سو رہے ہیں.؟ کیا ہماری صلاحیتیں کشمیر کے لیے کام نہیں آ سکتی.؟ ہم تہہِ دل سے کشمیریوں کے لیے دعا کیوں نہیں کرتے.؟ ہم ان کے درد کو اپنا درد سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں.؟

    وہ کشمیری جو ہر قدم پہ پاکستان کے لیے اپنی جان ہتھیلی پہ لیے نکلتے ہیں، وہ کشمیری جو پاکستانیوں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں کیا ہم ان کی امیدوں پہ پورا اترنے کی کوشش کر رہے ہیں.؟ آپ خود سے سوال کیجیے اپنے گریبان میں جھانکیے کہ ہم نے کشمیری مظلوم مسلمانوں کے لیے کس حد تک کوشش کی، کیا ہمارے دل کو دنیا کا آسائش و آرام تو نہیں بھا گیا، جی ہاں! ہمیں امت مسلمہ اور اسلام سے محبت برائے نام ہے، ہم اس احساس سے محروم ہو چکے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ہمارے اسلاف نے محسوس کیا، اگر آپ کشمیر کی حالتِ زار کو خود اپنی ذات پہ محسوس کریں تو شاید آپ کا ضمیر آپ کو جھنجوڑے اور چیخ کر کہے کہ اب بھی دعا ہی کرو گے.؟ کیا اپنے دفاع کے لیے اپنا ہاتھ، قدم، قلم، آواز، کیمرہ، ہنر، فن استعمال نہیں کرو گے.؟

    ضرور استعمال کرو گے بلکہ آخری سانس تک جدوجہد اور لڑائی کرو گے، اپنی چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لیے ہر شے کو بروئے کار لاؤ گے،
    لیکن کشمیر تو اپنا نہیں، ہے ناں.؟
    خدا کے لیے اپنے آپ کو جگائیے، کشمیری اور کتنے جنازے اٹھتے دیکھیں گے، کتنے بچے یتیم ہوں گے، کب تک وہ مائیں بیٹوں کا سوگ مناتی رہیں گی.؟

    اگر احساس ہو تو اٹھائیے کشمیر کے لیے اپنی آواز، قلم اور قدم تا کہ کل کشمیری اللہ کے دربار میں حاضر ہو کے تمہارا گریبان نہ پکڑ سکیں..!

  • نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    وزیراعظم کی کونسل آن فارن ریلیشنز میں آمد ہوئی ہے، اس دوران انہوں نے مسئلہ کشمیراورپاکستان کی خارجہ پالیسی پراظہارخیال کیا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپنے خطاب میں انہوں نے کہاکہ کھیل میں بہت کچھ سیکھنےکا موقع ملتاہے، کھیل آپ کو زندگی کااہم سبق سکھاتے ہیں ، 22سال کی جدوجہدکےبعد اس مقام پرپہنچا، گھروں کوچلانے کیلئےاخراجات کم اور آمدن بڑھاناپڑتی ہے ، ماضی کی حکومتیں معیشت کودرست سمت پرگامزن کرنے میں ناکام رہیں ، ماضی کی حکومتوں کی ناکامی کی وجہ سےآئی ایم ایف جانا پڑا، ماضی کی حکومتیں خسارہ چھوڑکرگئیں، گزشتہ حکومتیں معیشت کی سمت درست کرنے میں ناکام رہیں، کھیلوں سے آپ اپنے ہدف کو پانے کی جدوجہد کرنا سیکھتے ہیں، چین ، سعودی عرب اور یو اے ای نے معاشی حالات بہتر کرنے میں مدد کی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، گھر کو چلانے کے لیے بھی اخراجات کم اورآمدن بڑھانا ہوتی ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ چین نے ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے پاکستان کی مدد کی ، ماضی کی حکومتوں کی معاشی ناکامی کے باعث آئی ایم ایف جانا پڑا، نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکا کی جنگ میں شامل ہوکر بہت بڑی غلطی کی، 2008 میں امریکا آیاتو ڈیموکریٹس کو بتایا تھا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار لوگوں نے جانیں قربان کیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 200 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا، سوویت فوج نےافغانستان میں جنگ کے دوران 10لاکھ شہریوں کو ہلاک کیا، پاکستان میں 27لاکھ افغان پناہ گزین رہ رہے ہیں،

  • بورے والا: تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران تصادم

    بورےوالا (نمائندہ باغی ٹی وی) محکمہ مال اور پولیس کا تجاوزات کے خلاف آپریشن. دوران آپریشن دوفریقین کے مابین تصادم. ڈندوں اور پتھراؤ سے ایک ہی فریق کی خاتون سمیت چار افراد زخمی. خاتون کی حالت نازک، زخمی فریق نے پولیس اور انتظامی افسران کی گاڑیوں کا گھیراؤ کر لیا.
    بورے والا کے نواحی گاؤں417/ای بی کے دوفریقین نے چوک میں سرکاری جگہ پر تجاوزات کے خلاف درخواستیں دے رکھی تھیں ان درخواستوں کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر بورے والا اور تحصیلدار کی قیادت میں محکمہ مال کے عملہ نے پولیس کی مدد سے گاؤں میں جاکر ایک فریق کی تجاوزات گرانا شروع کیں تو انکا دوسرے فریق سے تصادم شروع ہوگیا جس میں پتھراؤ اور ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال شروع ہوگیا

    جسکے نتیجہ میں ایک ہی فریق کی خاتون سمیت چار افراد شدید زخمی ہوگئے اور زخمی فریق کے ساتھ ملکر اہل دیہہ نے پولیس اور انتظامی افسران کی گاڑیوں کا گھیراؤ کیا جس پر پولیس کی مزید نفری طلب کر لی گئی اس موقع پر متاثرہ زخمی فریق اور اہل دیہہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی موجودگی میں دوسرے فریق نے ہم پر حملہ کیا لیکن پولیس نے انہیں روکنے کی بجائے زخمیوں کو پکڑ کر گاڑی مین بند کردیا پولیس نے یکطرفہ آپریشن کروایا اور حملہ آور فریق سے ہم پر حملہ کروایا

    جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں فریق سرکاری جگہ پر قابض تھے پہلے ایک فریق سے کاروائی شروع کی تو انکے مابین تصادم ہوگیا جس میں پولیس نے مداخلت کر کے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے.

  • ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی ، تحریر جویریہ رزاق

    ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی ، تحریر جویریہ رزاق

    "کشمیر ”
    وہ خطہء جس کا نام لکھتے ہوئے دل غم سے پھٹنے لگے
    لکھتے ہوئے الفاظ بھی ساتھ نہ دیں
    کہنے کو میری جنتِ ارضی لیکن حقیقت میں شعلوں کی لپیٹ میں جلتی ہوئی جہنم بن چکی ہے بلکہ بنا دی بھارت کی سفاک درندہ فوج نے
    چناروں کی وادی کوہساروں کی وادی جہنم بنا دی گئی
    ظلم و بربریت کی ایسی المناک دردناک داستانیں کہ اللہ کا عرش بھی ہل گیا ہوگا
    جہاں کے چنار رو رہے ہیں
    جہاں آبشاروں اور جھیلوں میں پانی نہیں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے
    ظلم و ستم کا یہ قصہ کب سے چلتا آ رہا ہے
    جہاں معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا جاتا ہے
    ماؤں کی گودیں اجاڑیں جاتی ہیں
    سہاگنوں سے سہاگ چھین لئے جاتے ہیں
    لیکن قربان جاؤں اسلام کی ان شہزادیوں پر جن کے حوصلے گودیں اجاڑ کر جگر کے ٹکڑے قربان کر کے
    سہاگ لٹا کر بھی حوصلے پست نہیں ہوتے
    مسلمان غلامی کبھی بھی قبول نہیں کرتا
    تبھی تو
    ہاں تبھی تو
    آزادی کے یہ پروانے اسلام کے بیٹے کشمیر کے بیٹے ماؤں کے گھبرو جوان لختِ جگر دیوانہ وار نثار ہوتے چلے جا رہے ہیں
    آگ اگلتی بندوقوں کے سامنے کشمیر کے دلیر بیٹے نہتے ہی پاکستان کا پرچم سینوں پہ لپیٹے ہوئے آتے ہیں
    اس شعر کی مصداق

    "ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں”

    اور پھر سفاک بھیڑیوں کی گولی اسلام کے بیٹوں کے جگر چھلنی کرتی چلی جاتی ہے
    لیکن پاکستان کی محبت پاکستان کا پرچم شہادت کے بعد بھی ان کے سینے سے جڑا رہتا ہے
    جنازوں پہ پاکستان کے پرچم اور پھر قبروں پر بھی پاکستان کے پرچم اس بات کی گواہی ہیں کہ ہمیں شہید تو کیا جا سکتا ہے لیکن ارض پاکستان سے کبھی بھی الگ نہیں کیا جا سکتا
    ایک بیٹا ابھی ماں دلہا بنا کر جنت کی طرف بھیجنے کو تیاری کر رہی ہوتی ہے کہ دوسرے جوان بیٹے کی میت سبز ہلالی پرچم میں لپٹی گھر آ جاتی ہے
    ایک ہی وقت میں ایک ایک گھر سے کئی کئی جنازے اُٹھ رہے ہیں
    اللہ اکبر
    جنکی صبح بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے رات بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے
    پاکستانیوں کیا کبھی سوچا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟
    کیا ہم اپنی ہی دنیا میں مست تو نہیں؟؟
    کیا ہم بھی ان کے لئے اتنی ہی محبت رکھتے ہیں ؟؟
    کیا ہمارے دل بھی ان کے لئے یوں ہی ڈھڑک رہے ہیں ؟؟
    اگر نہیں تو خدارا سنبھل جائیے کہ یہ وقت سونے کا نہیں ہے
    خدا نہ کرے غفلت کی نیند میں سوتے رہنے سے ظلم و بربریت کا یہ سیلاب ہمارے دروازوں تک آ جائے
    اللہ نہ کرے ایسا ہو تو اس پہلے جاگ جائیے
    کہ کلمہ کی بنیاد پر اسلام کی نسبت سے وہ کوئی غیر نہیں ہمارے ہی بیٹے بچے جوان قربان ہو رہے ہیں
    ہماری ہی مائیں بہنیں بیٹیاں عصمتیں لٹا رہی ہیں
    کیا جرم ہے انکا صرف لا الہ الا اللہ
    کلمہ انکا جرم بن گیا
    اسلام کی نسبت سے پاکستان سے محبت انکا جرم بن گئی
    یوں اسلام پورا ہی کفر کی نظر میں مجرم ہے
    آج نہ ہم جاگے تو یہ آگ کے شعلے ہمیں بھی لپیٹ سکتے ہیں
    خدرا جاگ جائیے
    اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے لئے آواز تو بلند کر سکتے ہیں
    ہر جگہ ہر محفل میں نہتے کشمیریوں پر بھارت کی سفاکیت کا پول تو کھول سکتے ہیں
    ہم انکی آواز تو بن سکتے ہیں نا
    کہ جہاں سے اب انکی دلدوز چیخیں بھی سنائی نہیں دے سکتیں
    موبائل سروس, انٹر نیٹ سب بند کئیے ہوئے نہ جانے ان پہ کیا قیامت بیت رہی ہوگی
    الغرض کشمیر کا چپہ چپہ لہو رنگ ہے کہ بھارت کی درندگی بیان سے باہر ہے
    آخر میں سوال ہے میرا
    عالمی حقوق کی کھوکھلی تنظیموں سے
    "ہاں تم ہی بتاؤ
    انسانوں سے ان کے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے کیا عدل و انصاف کے یہ پیمانے ہیں ؟؟”

  • وہاڑی : پولیس لائنز میں جنرل پریڈ

    وہاڑی (نمائندہ انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کی ہدایات پرپولیس ملازمان کے ڈسپلن اورٹرن آؤٹ کو بہتر بنانے کے لئے پولیس لائنز وہاڑی میں ایس ڈی پی او بوریوالا آصف رضاکی زیر نگرانی علی الصبح جنرل پریڈ کا انعقاد.
    پولیس ملازمان کے ڈسپلن اورٹرن آؤٹ کو بہتر بنانے کے لئے پولیس لائنز وہاڑی میں ایس ڈی پی او بوریوالا آصف رضا کی زیر نگرانی علی الصبح جنرل پریڈ کا انعقاد کیا گیا. جنرل پریڈ کے دوران وہاڑی پولیس کے ساتھ ساتھ ، ٹریفک پولیس, ایلیٹ فورس اور لیڈیز پولیس کے دستے بھی شامل تھے-

    ایس ڈی پی او بوریوالا نے پریڈ اور جوانوں کے ٹرن آوٹ کا معائنہ کیا. اس موقع پر انہوں نے پریڈ سے خطاب کے دوران نظم وضبط اور وقت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تھانہ جات میں آنے والے شہریوں کی بات اچھے انداز میں سن لی جائے تو ان کی آدھی پریشانی ویسے ہی دور ہو جاتی ہے

    لہذا تمام پولیس ملازمان اپنے رویہ میں بہتری لا کر عوام کو زیادہ سے زیادہ میرٹ پر ریلیف دیں. آخر میں ایم ٹی سیکشن پر موجود پولیس کی گاڑیوں انسپکشن کی گئی اور ضروری ہدایات بھی دی. جبکہ جنرل پریڈ کے شرکاء کو ایلیٹ کے کوالیفائیڈ انسٹرکٹرز نے وپین ہینڈلنگ اور ریڈ سے متعلق لیکچرز دئیے اور پریکٹس بھی کروائی.

  • بورے والا : بلیک میل کرنے والے گروہ کے خلاف مقدمے کا مطالبہ

    بورےوالا (نمائندہ باغی ٹی وی) کم عمر لڑکوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد انکی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے والا گروہ بے نقاب.
    میٹرک کے طالب علم کو نشہ آور مشروپ پلا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناکر ویڈیو سے بلیک میل کرنے والے بااثر گروہ کے خلاف کاروائی کے لئے والدین دس روز سے دھکے کھانے پر مجبور، میڈیکل رپورٹ میں طالبعلم سے زیادتی ثابت ہونے اور درخواست کے باوجود کاروائی کے لئے پولیس کے تاخیری حربے، متاثرہ نوجوان کے والدین کی انصاف کے حصول کے لئے اعلیٰ حکام سے اپیل

    تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں 327/ ای بی کے میٹرک کے طالبعلم غلام مجتبیٰ کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ملزمان ارسلان، محسن ذیشان، تیمور، محمد اسد اور باؤ وغیرہ نے اسکے بیٹے کو ورغلا کر کسی مکان میں لے جاکر نشہ آور مشروپ پلایا اور اسکے ساتھ بدفعلی کرنے کی ویڈیو بھی بنا لی جسکے بعد اسے ویڈہو دکھا کر بلیک میل اور زیادتی کا نشانہ بناتے رہے مختلف اوقات میں اس سے رقم بھی وصول کرتے رہےحتیٰ کہ اس سے اسکی موٹر سائیکل بھی بلیک میل کر کے لی جب اس موٹر سائیکل کے بارے میں اپنے بیٹے سے پوچھا تو اس نے سارے گروہ کے کالے کرتوتوں سے پردہ اٹھا دیا جس پر مجتبیٰ کا ہسپتال سے میڈیکل کروایا تو زیادتی ثابت ہونے پر ملزمان کے خلاف تھانہ ماڈل ٹاؤن کو کاروائی کے لئے درخواست دے دی

    لیکن ملزمان کا تعلق بااثر گھرانوں سے ہے اور یہ ایک منظم گروہ ہے جو کئی اور شریف گھرانوں کے بچوں کو بھی ایسے ہی بلیک میل کرچکا ہے پولیس نےانکے دباؤ میں آکر دس روز گزرنے کے باوجود تاحال مقدمہ درج نہیں کیا انہوں نے ڈی پی او وہاڑی سے اس گروہ کی فوری گرفتاری اور مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے