Baaghi TV

Author: +9251

  • وزیراعظم نے سعودی حکام کو بتایا کہ مودی کی سوچ آرایس ایس کا نظریہ ہے، قریشی

    وزیراعظم نے سعودی حکام کو بتایا کہ مودی کی سوچ آرایس ایس کا نظریہ ہے، قریشی

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کا دورہ اچھارہا،دورہ سعودی عرب میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرتبادلہ خیال ہوا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ پہنچنے پر شاہ محمود قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کےساتھ ہمارےبہترین تعلقات ہیں ،سعودی تیل تنصیبات پرحملے کے بعد ان کے تاثرات سمجھے ،سعودی عرب کےساتھ جوتعلقات آج ہیں ،کچھ عرصہ پہلےتک نہ تھے ،سعودی عرب کےساتھ تعلقات میں پرانی گرمجوشی اوراعتمادبحال ہوچکاہے ،

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیرسے متعلق پاکستان کاموَقف سامنے رکھا،وزیراعظم عمران خان نے سعودی حکومت کومودی سوچ سے آگاہ کیا ،وزیراعظم نے سعودی حکومت کوبتایاکہ مودی کی سوچ آرایس ایس نظریہ ہے ، گاندھی اورنہروکےسیکولربھارت کومودی اورآرایس ایس دفن کرچکےہیں،

    شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ سعودی حکومت نےوزیراعظم عمران خان کوخصوصی طیارہ فراہم کیا،سعودی حکام نے وزیراعظم کوکہاآپ ہمارےمہمان ہیں،خصوصی طیارےمیں جائیں،

     

    وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کا دوروزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد امریکا پہنچ گئے ہیں , وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، مشیرخزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ اورمعاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقارعباس بخاری بھی ہمراہ ہیں،ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ 27 ستمبرکو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے وزیر اعظم عمران خان خطاب کریں گے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سامنے رکھیں گے، وزیراعظم عمران خان مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کریں گے، اسی طرح وہ امریکی تھنک ٹینکس سے بھی خطاب کریں گے اور بین الاقوامی میڈیا سے بھی گفتگو کریں‌ گے،

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی جنرل اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم کے ہمراہ شرکت کریں گے، وزیراعظم عمران خان انٹرنیشنل میڈیا سے بھی اجلاس کریں گے اور کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کریں گے

    وزیراعظم عمران خان 21 سے 27 ستمبر تک امریکا میں رہیں گے، اس دوران وزیراعظم عمران خان امریکا میں کئی ممالک کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان مسئلہ کشمیر پرمضبوط پاکستانی موقف پیش کریں گے۔اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقبا کریں گے. پاکستانی وزیراعظم عمران خان 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سےخطاب کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سےآگاہ کریں گے ،جموں وکشمیرتنازع مجموعی طورپروزیراعظم عمران خان کی مصروفیات کامرکزرہےگا

    وزیراعظم عمران خان امریکا می ماحولیاتی تبدیلی اورپائیدارترقی کےاجلاسوں میں شرکت کریں گے ،ماحولیاتی تحفظ اورتخفیف غربت سےمتعلق سیمینارسےبھی خطاب کریں گے .وزیراعظم عمران خان نفرت انگیزتقاریرکے خاتمےسےمتعلق مباحثےسے بھی خطاب کریں گے

    پرنس محمدبن عبدالعزیزایئرپورٹ پرسعودی اعلیٰ حکام، پاکستان کے سفیر سمیت دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم عمران خان کورخصت کیا ،وزیراعظم سعودی ایئرلائن کےچارٹرڈ طیارےمیں مدینہ منورہ سےنیویارک روانہ ہوئے

     

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا،وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پرزور دیا ،وزیراعظم نےسعودی قیادت سےملاقاتوں میں مسئلہ کشمیربھرپورطریقےسے اجاگرکیا ،وزیراعظم نے سعودی شاہ سلمان اورولی عہد محمد بن سلمان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں،

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ سعودی قیادت نے دوطرفہ تعلقات کوحقیقی بھائیوں کاتعلق قراردیا، مختلف شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط بنانےکےعزم کا بھی اعادہ کیا گیا، پاکستان نے سعودی آئل تنصیبات پر حملےکی مذمت کی ،وزیراعظم نے پاکستان کو روڈ ٹو مکہ منصوبے میں شامل کرنے پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا.

    اعلامیہ کے مطابق سعودی قیادت نے واضح کیا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات حقیقی بھائی چارے پرمبنی ہیں ، سعودی قیادت نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پرتشویش کا اظہار کیا،سعودی قیادت نے کشمیر کاز کےلیے مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا ،سعودی قیادت نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کےلیے پاکستان کے ساتھ مل کرکام کرنے پراتفاق کیا،

    اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کی سلامتی اورعلاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے بھرپورساتھ دینے کاعزم کیا،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کی جارہی ہے،مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اورلاک ڈاوَن فوری طورپرختم کیا جائے ،مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے،

    وزیراعظم عمران خان نے خانہ کعبہ کے اندر نوافل ادا کئے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطا بق وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کے دورے پر ہیں، وزیراعظم عمران خان کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ خصوصی طورپرکھولا گیا، وزیراعظم عمران خان اور ان کے ہمراہ وفد نے بیت اللہ کے اندر نوافل ادا کئے اور پاکستان کی سلامتی کے لئے دعا کی.

    بیت اللہ شریف پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان کا خانہ کعبہ کےکلید برداراورحرم انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے استقبال کیا، اس موقع پر سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ،وزیراعظم عمران خان نے عمرہ بھی ادا کیا،

    وزیراعظم عمران خان کی سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے سعودی فرمانرواشاہ سلمان بن عبدالعزیزسےملاقات کی ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سعودی فرماں روز شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے، جدہ میں ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی اوردوطرفہ تعلقات پرتبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعظم عمران خان نے سعودی آرامکوکی تنصیبات پر حملےکی مذمت کی،وزیراعظم نےسعودی فرمانرواکومقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم سےبھی آگاہ کیا،ملاقات میں وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی،مشیرخزانہ حفیظ شیخ بھی موجودتھے

    وزیراعظم عمران خان نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کے تقدس اور سلامتی کو خطرہ ہونے کی صورت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی دیرینہ حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی تھی، وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب پہنچنے پر گورنر مکہ نے انکا استقبال کیا تھا،

    اگلے پانچ برس بھی عمران خان ہوں گے وزیراعظم، پیشنگوئی ہو گئی

  • کیابلدیاتی الیکشنوں کا طبل جنگ حکومت کے گلے کی ہڈی بن جائے گا —– از آصف شاہ

    کیابلدیاتی الیکشنوں کا طبل جنگ حکومت کے گلے کی ہڈی بن جائے گا —– از آصف شاہ

    بلدیاتی اداروں کا قیام برصغیر پاک و ہند میں 1885کو انگریز سرکار نے رکھا اورمیونسپل کارپوریشن کے نظام کا آغاز کیا جس کے کل 27 ممبران تھے جن میں 26 ممبران میونسپل کمیشنر اور 27 واں میئر کہلایا۔ اس نظام کی مْدت 10 سال مقرر کی گئی قیام پاکستان کے بعد ایوب خان نے 1962 ء میں اسی نظام کو بی ڈی (DemocraticBasic) ممبر کے نام سے متعارف کروایا بعدازاں ذوالفقار علی بھٹو دَور میں دوبارہ کونسلرز سسٹم رائج ہوا لیکن ضیاء دَور میں بھی 1979ء اور 1980 ء میں یہ نظام نافذ کردیا گیا اسکے بعد 1998 میں بلدیاتی انتخابات کروائے گئے۔

    ملکی سیاست میں بلدیاتی نظام کا جو سب سے کامیاب دَور گزرا وہ مشرف کا تھا جس نے 2001 ء اور 2005ء میں یہ نظام مضبوط بنیادوں پر نہ صرف استوار کیا بلکہ ناظمین کو مفاد عامہ اور انتظامی امور کے میدان میں لامحدود اِختیارات سونپے گئے۔ بلدیاتی نظام میں نمائندوں کا اپنے علاقہ سے منتخب ہونے کی وجہ سے وہ نہ صرف چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت پر مامور رہتے ہیں۔ اس نظام کی ایک اور اہم خوبی خواتین کی انتخابات میں شمولیت ہے اہلِ علاقہ سے ہونے کی بناء پر وہ ان خواتین اْمیدواروں کا چناؤ کر سکتی ہیں جن پر وہ نہ صرف بھروسہ کرتی ہیں بلکہ اْنہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے مسائل کو اْجاگر کرنے اور حل کرنے کی بھر پور سعی کریں گی۔ یہ عوام کو ریلیف دینے کا فوری اور مضبوط ذریعہ ہے۔

    موجودہ دَور حکومت نے ایک بارپھر بلدیاتی انتخابات منعقد کروانے اور اس کو نئے انداز میں لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بننے سے پہلے ان کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ بلدیات کو مضبوط بنا کر عوام کو ریلیف دیا جائے گا اگر اس پر بھی یوٹرن کی روایات کو نہ اپنایا گیا تو اْمید کی جاتی ہے کہ یہ نظام اپنی اَصل شکل میں رائج ہوگیا توجس سے نہ صرف ملکی سطح پر عوامی نمائندگی ہوسکے گی بلکہ عام لوگوں کی فلاح وبہبود کیلئے بھی خاطر خواہ کام کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں جو باری باری کی سیاست کرتی رہی ہیں وہ ایک مرتبہ بھی بلدیاتی نظام کو مضبوط نہ بنا سکی یا اس سے مخلص نہ تھی ن لیگ کے گزشتہ دور میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت کی واضع کامیابی کے باوجودبھی تقریبا تین سال تک ضلع راولپنڈی کے ضلعی چیئرمین کا انتخاب نہ کیا جا سکا جس کا سہرا ن لیگ کے اس وقت کے چہیتے چوہدری نثار علی خان کے سر جاتا ہے کیونکہ منتخب نمائندوں کی موجودگی میں ان کے ترقیاتی فنڈز کو ہڑپ کرنا کسی صورت بھی ممکن نہ تھا لیکن جب منتخب نمائندے خود ہی مخلص نہ ہوں تو عوام کی حالت کیسے بدل سکتی ہے،اب ایک بار پھر تحریک انصاف نے بلدیاتی انتخابات کو ڈھول پیٹنا شروع کر دیا ہے اور ایک جامع پروگرام کے دعوے کے ساتھ اس کو عملی جامہ پہنانے کا دعوی بھی شروع کیا گیا ہے لیکن اس کے اصلی خدوخال اس وقت واضع ہونگے جب اس پر عمل درآمد ہوگا

    اب سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کی موجودہ حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ بلدیاتی انتخاب کا نہ صرف انعقاد کر واسکے بلکہ اس میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر سکے یقینا اب تک کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آتا بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے لیے ہمیشہ سے حکومتی پارٹی عوامی مسائل کے زریعہ سے گراونڈ تیار کرتی لیکن موجودہ حکومت نے اس کے برعکس ایک فیصلہ کیا ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں سامنے آسکتے ہیں،این اے57اور این اے59ضلع راولپنڈی کے بڑے اہم حلقے ہیں ہمیشہ الیکشنوں میں ان حلقوں پر پورے پاکستان کی نظریں لگی ہوتی ہیں

    پنجاب میں بلدیاتی الیکشنوں کے حوالہ سے کہیں سے آواز بلند ہوئی یا نہ ہوئی لیکن اس حلقہ سے دو آوازیں سامنے آگئی ہیں ان میں اگر یوسی لیول کے الیکشن کے لیے ن لیگ کے سینئر رہنماء زبیر کیانی کے بھائی فرحت زمان کیانی نے لنگوٹ کس لیاہے وہ گزشتہ ادوار میں بھی اسی یوسی سے کونسلر رہے ہیں اور انہوں نے عوامی خدمت کی سیاست کی ہے لیکن تاحال حکومتی پارٹی اور ان کے سیاسی مخالفین نے چپ سادھ رکھی ہے یقینا ان کے سامنے کسی نہ کسی امیدوار نے آنا ہے لیکن مقابلہ کرنے والوں کو ان کے بھائی اور سابق چیئرمین یوسی بشندوٹ زبیر کیانی کے تحصیل ٹاپر ہونے اور عوامی خدمات کو بھی سامنے رکھنا ہو گاجبکہ چند ماہ قبل یوسی گف سے تعلق رکھنے والے سابق چیئرمین یوسی گف فیصل منورنے بھی تحصیل سطح پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا

    جواب میں تاحال کسی کی جانب سے اعلان نہ کیا گیا تھا اس کی بڑی وجہ شائید یہ بھی تھی کہ اس وقت حکومت کی جانب کوئی اعلان نہ کیا گیا تھا اب جب ڈھول بجنے کا اعلان کیا گیا ہے تو اس کا ری ایکشن سامنے آسکتا ہے اور ن لیگ کا ایک دھڑا موجود ہے جو سابق ایم پی اے قمرالسلام راجہ جو کہ فیصل منور کے قریبی عزیز ہیں کی مخالفت کر سکتا ہے اس کے علاوہ ن لیگ سے ہی کچھ بااثر اور قد آورسیاسی شخصیات بھی سامنے آسکتی ہیں اگر بلدیاتی انتخابات موجودہ حالات میں ہوتے ہیں تو اس کا زیادہ نقصان حکومتی پارٹی کا ہی متوقع ہے اور اس کے زیادہ دھڑے بن سکتے ہیں بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ بنے گے عوام کو کچھ دیے بغیربلدیاتی الیکشن موجودہ حکومت کے گے کی ہڈی بن سکتے ہیں جو نہ نگلی جا سکے گی اور نہ اگلی جاسکے گی۔

    تحریر از آصف شاہ

  • شوبز میں بہت پیسہ کمایا لیکن خود کو کھو دیا: شائستہ لودھی

    شوبز میں بہت پیسہ کمایا لیکن خود کو کھو دیا: شائستہ لودھی

    پاکستانی ماڈل اور مارننگ شو کی سابقہ ​​میزبان شائستہ لودھی نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ انہوں نے شوبز میں بہت پیسہ کمایا لیکن خود سے محروم ہوگئی۔

    سابقہ مارننگ شو میں ​​سابقہ ​​میزبان "ریوائنڈ ود ثمینہ پیرزادہ” پر نمودار کیا اور پہلی بار اس وجہ کے بارے میں بات کی کہ اس نے شوبز کی دنیا کو چھوڑ دیا۔

    شائستہ لودھی نے بتایا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں شوبز کی دنیا میں کہیں کھو گئی تھی۔ یہ ایک مخصوص طرز زندگی کی وجہ سے تھا جو میں کر رہا تھی۔ اپنے بچوں کو اچھے اسکولوں میں بھیجنا اور طرز زندگی برقرار رکھنا چاہتا تھی۔ تاہم شائستہ نے کہا کہ اس نے اپنے گھر والوں کے ساتھ ہونے والی بہت سی چیزوں کو یاد کیا۔

    شائستہ کا کہنا تھا کہ میرے بچے اسکول جاتے ہیں اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہت زیادہ وقت دیتے ہیں۔ میں نے یہ سب یاد کیا۔ "اب جب میں اس کے بارے میں سوچتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ مجھے وہاں ہونا چاہئے تھا۔”

    ایک سوال کے جواب میں شائستہ نے کہا کہ ایک وقت ایسا آیا جب مجھے اپنی نوکری اچھی نہیں لگنے لگی. ایک وقت میں میری ملازمت کا اطمینان 20 یا 30 فیصد تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم وہ نہیں کر رہے تھے جو ہم کر سکتے تھے۔ یہ اتنا طاقتور ذریعہ تھا.

    شائستہ نے کہا کہ وہ مزید کام کرنا چاہتی ہیں اور ان کی ٹیم بھی کھیلنا چاہتی ہے۔ تاہم ، سابق مارننگ شو کے میزبان کا کہنا تھا کہ درجہ بندی کی جستجو اس کی ایسا کرنے کی خواہش میں رکاوٹ ہے۔

    انہوں نے کہا ، ہم نے بھی کچھ مثبت کام کیے۔ جہاں میں اپنے شوز میں شادیوں کا انعقاد کر رہا تھا ، میں لوگوں کو یہ بھی کہا کرتا تھا کہ شادیوں پر اتنی بڑی رقم خرچ نہ کرو اور سیدھے سادے سے کرو۔”

    شائستہ نے کہا کہ جب سے ان کے ‘شوہر نے اقتدار سنبھال لیا’ تب سے اس نے صنعت چھوڑنے اور طب کی مشق کرنے پر واپس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انہوں نے شوبز کی دنیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا ، "میں کبھی بھی یہ سب نہیں بھول سکتی”

  • آصف زرداری بلاول سے ناراض، کہا فوری یہ کام کرو………بلاول متحرک

    آصف زرداری بلاول سے ناراض، کہا فوری یہ کام کرو………بلاول متحرک

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لئے وقت مانگ لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول زرداری مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کریں گے، اس سلسلہ میں پیپلز پارٹی نے جمعیت علماء اسلام سے رابطہ کیا ہے، جے یو آئی کے رہنماؤں نے جواب دیا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد آئیں گے تو ملاقات کروا دی جائے گی

    ذرائع کے مطابق بلاول زرداری نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے حوالہ سے جو بیان دیا تھا کہ ہم دھرنے میں شریک نہیں ہون گے اس پر سابق صدر آصف زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے ملنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مولانا کی حمایت کا اعلان کیا جائے،

    بلاول کی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی حمایت کا اعلان، کہا وفد مولانا کے پاس بھیج رہا ہوں

    مولانا فضل الرحمان نے شہباز شریف سے ملاقات میں کہا تھا کہ پیپلز پارٹی سے بات کی جائے اگر بلاول دھرنے میں نہیں آتے تو کم از کم افرادی قوت دھرنے میں بھیجی جائے. شہباز شریف نے کہا تھا کہ میں بات کروں گا.

    اب بلاول خود مولانا فضل الرحمان سے ملیں گے اور یقین دہانی کروائیں گے کہ ہم حکومت کے خلاف دھرنے میں آپ کے ساتھ ہیں، خورشید شاہ کی گرفتاری کے بعد پیپلز پارٹئ بھی مولانا کے دھرنے کا حصہ بن سکتی ہے.

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کے لیے بنائی گئی کمیٹیاں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں ،آزادی مارچ ہر حال میں اکتوبر میں اور 16 سے 31 اکتوبر کے درمیان ہو گا تا ہم حتمی فیصلہ مسلم لیگ ن کی قیادت سے مشاورت کے بعد ہو گا.

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ آزادی مارچ کے لئے ہمارا ارادہ یکم تا 15 اکتوبر کا تھا، تاہم دوسری جماعتوں سے مشاورت کی وجہ سے 16 سے 31 اکتوبر تک مارچ کرینگے،خورشید شاہ کی گرفتاری سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ادارے نااہل حکومت کی پشت پناہی نہ کریں، خورشید شاہ کی گرفتاری بھی سیاسی ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ احتساب نہیں ہے۔ اگر ہمارا راستہ روکا گیا تو پاکستان جام کر دیں گے، ناجائز حکومت کے خلاف ہمارا احتجاج جائز ہے.

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور سعودی عرب کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں،

     

    حکومت کے گھیراؤ کے لئے مولانا فضل الرحمان نے پھیلائی جھولی

    مولانا کا آزادی مارچ، مولانا متحرک، رابطے، ملاقاتیں شروع

    آزادی مارچ مزید تاخیر کا شکار، مولانا نے شہباز شریف کو کر لیا راضی

    مولانا فضل الرحمن نے رابطہ کمیٹیوں کو رابطہ مہم تیز کرنے کی ہدایت کر دی،اجلاس میں آزادی مارچ کے لئے جاری فنڈز ریزنگ مہم کا بھی جائزہ لیا جائے گا، اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبر پختون خواہ تنظیم کی جانب سے 5 کروڑ روپے جمع کروا دیئے گئے، تمام صوبوں سے چندہ وصولی کا عمل جاری ہے

    مولانا فضل الرحمن نے صوبائی رہنماوں کو کارکنوں کو متحرک کرنے کی ہدایت کی.مجلس عاملہ آزادی مارچ کی ممکنہ تاریخ اور انتظامات کو حتمی شکل دے گی

     

    مولانا کا آزادی مارچ،ملک کے بڑے سجادہ نشین نے کی حمایت

    مولانا فضل الرحمان کا لانگ مارچ، ن لیگ اختلافات کا شکار، اراکین اسمبلی کا نواز شریف کی بات ماننے سے انکار

    لانگ مارچ، اپوزیش کا جواب، مولانا نے سجادہ نشینوں سے مانگی مدد

    آزادی مارچ، مولانا فضل الرحمان گرفتار ہوئے تو قیادت کون کرے گا؟ اہم خبر

    بلاول نے دیا مولانا فضل الرحمان کو دھوکہ

    مولانا فضل الرحمان سے پہلے دے گی پیپلز پارٹی دھرنا.اعلان کر دیا

    آزادی مارچ سے قبل گرفتاریاں ہوئیں تو لائحہ عمل کیا ہو گا؟ اکرم درانی نے بتا دیا

  • ایمن منیب کی بیٹی عمل منیب کے عقیقہ کی خوبصورت تصاویر

    ایمن خان اور منیب بٹ کی بیٹی کا گزشتہ روز عقیقہ کیا گیا جس کی خوصورت تصاویر انہوں نے شیئر کی ہیں.

    واضح رہے منیب بٹ کی بیٹی 30 اگست کو پیدا ہوئی تھی جس کی خوشخبری خوف منیب بٹ نے اپنی بیٹی کے ساتھ تصویر شیئر کر کے دی تھی.

  • امریکی صدر کی ثالثی پر اعتماد نہیں ہے، سراج الحق

    امریکی صدر کی ثالثی پر اعتماد نہیں ہے، سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ امریکی صدرکی ثالثی پراعتماد نہیں ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌کے مطابق لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ ٹرمپ نےمودی سےملاقات میں مسئلہ کشمیرکوبھارت کااندرونی معاملہ قراردیا، حکمران مسئلہ کشمیرکےحل میں غیرسنجیدگی کامظاہرہ کررہےہیں، حکمران جن کو ثالث سمجھ رہے ہیں ، وہ کشمیر کو ٹکڑوں میں بانٹنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ ان کا فیصلہ یہ ہوگا کہ جس حصے پر بھارت کا قبضہ ہے ، وہ بھارت کا اور جس پر پاکستان کا قبضہ ہے وہ پاکستان کا حصہ ہے،

    سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم کسی قیمت پر ٹرمپ کی ثالثی قبول کریں گے نہ کشمیر کو ٹکڑوں میں بٹنے دیں گے ۔ کشمیر پاکستان کی نظریاتی ، جغرافیائی اور معاشی شہ رگ ہے، انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی جلد کامیابی سے ہمکنار ہو گی،

  • "بگ بوس 13” میں سلمان خان نے کتنا معاوضہ مانگ لیا؟

    "بگ بوس 13” میں سلمان خان نے کتنا معاوضہ مانگ لیا؟

    سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا ٹیلی ویژن ریئیلٹی شو میں سے ایک ، بگ بوس کچھ ہی دنوں میں واپس آرہا ہے۔

    اس سال 29 ستمبر کو رات 9 بجے پریمیئر پرکرن دیکھیں گے۔ شو ہفتے کے دن کے لئے 10.30 بجے نشر ہوگا اور ہفتے کے آخر میں ہونے والے واقعات کے بارے میں ابھی تک انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔

    سلمان خان تقریبا 10 سالوں سے اس شو کی میزبانی کر رہے ہیں۔ سلمان اب اس شو کا چہرہ بن چکے ہیں اور وہ اس سال بھی شو کی میزبانی جاری رکھیں گے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ اس سال شو کے لئے کتنا معاوضہ لے رہے ہیں؟ ہفتے کے آخر میں ہونے والی اقساط کے لئے ، مبینہ طور پر سلمان کو 31 کروڑ روپئے کی اجرت دی جائے گی۔ اب وہ اقساط کی تعداد پر منحصر ہے جس میں وہ 100 کروڑ سے زیادہ کی شوٹنگ کر رہا ہے۔

    شو کے اس سیزن میں بہت سارے بڑے ناموں سے رابطہ کیا گیا ہے۔ ان میں زرین خان ، کرن پٹیل اور وویک دہیہ دیگر شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چنکی پانڈے ، راج پال یادو ، وارینہ حسین ، دیوولینا بھٹاچارجی ، انکیتا لوکھنڈے ، وجیندر سنگھ ، ماہیما چودھری ، دیانند شیٹی ، سونل چوہان ، فضل پوریا اور سدھارتھ شکلا اس شو کا حصہ ہوں گے۔

  • کینیڈا میں شہریوں کے اسلحہ خریدنے پر پابندی عائد کریں گے، کینیڈین وزیراعظم

    کینیڈا میں شہریوں کے اسلحہ خریدنے پر پابندی عائد کریں گے، کینیڈین وزیراعظم

    کینیڈا کے موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ لبرل پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئے گی اور کینیڈا میں سرعام ہونے بکنے والے بھاری اسلحےپر مکمل پابندی عائد کرے گی ،
    کینیڈا میں 21 اکتوبر 2019 سے الیکشن کا آغاز ہو رہا ہے جو کہ مختلف مرحلوں میں پورے ملک میں کروایا جائے گا ، جسٹن ٹروڈو نے اپنی انتخابی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبرل پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی میں صرف اتنا فرق ہے کہ ہم چاہتے ہیں کینیڈا میں اسلحہ خریدنے کے قوانین سخت ترین ہوں اور وہ چاہتے ہیں ہر کینیڈین اسلحہ لیکر گھومے ،
    جسٹن ٹروڈو کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام قسم کی اسالٹ رائفلز پر پابندی لگائیں گے اور جن لوگوں کے پاس پہلے سے موجود ہیں ان سے واپس خریدنے کا پلان بھی بنائیں گے ،

  • تجزیہ نگار مبشر زیدی کی اخلاق سے گری حرکت

    تجزیہ نگار مبشر زیدی کی اخلاق سے گری حرکت

    سینئر تجزیہ نگار مبشر زیدی نے اخلاق سے گری ہوئی حرکت کردی. انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ جب تک عثمان بزدار سیکھ رہے ہیں ان کے پیچھے بڑا سا ایل لکھوادیں.

    تفصیلات کے مطابق مبشر زیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انتہائی غیر اخلاقی حرکت کردی ہے. انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ جب تک عثمان بزدار سیکھ رہے ہیں ان کے پیچھے بڑا سا ایل لکھوادیں. ان کی اس شرمناک حرکت پر ٹویٹر صارفین نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے. صارفین کا کہنا ہے کہ اس شرمناک حرکت پر مبشر زیدی کو فوری طور پر معافی مانگنی چاہیئے اور یہ ٹویٹ فوری طور پر ڈیلیٹ کردینی چاہیئے، یہ حرکت انتہائی شرمناک ہے اور ایسی کوئی بھی حرکت مستقبل میں نہیں ہونی چاہیئے.

    لبرلز سمجھتے ہیں کہ خود جو مرضی بات کریں، قبول کرلی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوگا. کچھ عرصہ پہلے حسن زیدی کو جب کسی نے بات کی تھی تو یہ لوگ اکٹھے ہوگئے تھے اور اس بندے کو نوکری سے بھی نکال دیا تھا، لیکن خود ان لبرلز کی زبان اور حرکات اخلاق سے گری ہوئی ہیں. گل بخاری کی تو زبان ہی اخلاق سے گری ہوئی ہے جو انہتائی گندی زبان استعمال کرتی ہیں. جب دیکھو یہ لبرلز دوسروں کو اخلاقی لیکچرز دیتے رہتے ہیں، لیکن خود ان کی زبان اور حرکات شرمناک ہیں.

  • ہالی ووڈ اب "رپرٹ گرنٹ” کو کاسٹ کیوں نہیں کرے گا؟

    ہالی ووڈ اب "رپرٹ گرنٹ” کو کاسٹ کیوں نہیں کرے گا؟

    جب وہ صرف 11 سال کے تھے تو روپرٹ گرنٹ کو تفریحی صنعت میں ایک بڑا وقفہ ملا۔ چونکہ سن 2000 کی دہائی میں پلے بڑھے ہوئے افراد کو یاد آسکتا ہے ، سرخ بالوں والی اداکار نے ہیری پوٹر فلم سیریز میں وزرڈ رون واسلی کو پیش کیا۔ ایک دہائی کے دوران چلنے والی اس ٹمٹم نے فلمی دنیا میں اپنا مقام محفوظ رکھنے میں مدد کی ، اور اسے تاریخ کے سب سے مشہور چائلڈ اداکاروں میں سے ایک قرار دیا۔ اور جب 2011 میں آٹھویں اور آخری پوٹر فلم کی شروعات ہوئی تو ، گرینٹ اپنے گری فائنڈر لباس کو کاسٹ کرنے کے لئے تیار نظر آئے اور ہالی ووڈ پر راج کرنے کی کوشش میں روانہ ہوگئے۔ لیکن ان کا کیریئر بالکل ترقی نہیں کرسکا ہے اور ساتھ ہی شائقین کی توقع ہوگی۔

    کام کی پریشانیوں اور عجیب و غریب ملازمتوں سے لے کر ذاتی پریشانیوں اور آف اسکرین مواقع تک ، بہت ساری باتیں ہیں جو لوگ ممکنہ طور پر گرینٹ کے بعد ہاگ وارٹس میں سست طالب علم کی حیثیت سے کھو چکے ہیں۔ تو ، آئیے سب کے ذہنوں پر اس سوال کا جواب دیں: اب ہالی ووڈ روپرٹ گرنٹ کو کاسٹ کیوں نہیں کرے گا؟

    شریک ستاروں ڈینئیل ریڈکلف اور ایما واٹسن کے مقابلے میں ، گرینٹ نے ہیری پوٹر فلموں کے مابین کافی ہلکے کام کا بوجھ اٹھایا۔ سیریز کے اختتام تک صرف تین انڈی پروجیکٹس میں نمودار ہونے پر ، جب وہ ساری نگاہیں اس پر ڈال رہے تھے تو وہ واقعی اپنی اداکاری کی مہارت کا مظاہرہ کرنے سے محروم رہے۔

    ڈرامائی ڈرائیونگ اسباق کی آمد نے 2006 میں مخلوط جائزے حاصل کیے ، جبکہ چیریبوم نے تقسیم کار تلاش کرنے کے لئے جدوجہد کی اور اسے 2009 میں بڑے پیمانے پر نقادوں نے نظرانداز کیا۔ اگلے سال ، اگر نقادوں نے وائلڈ ٹارگٹ کے بلیک کامیڈی ریمیک کو نظرانداز کیا ہوتا۔ . روٹن ٹماٹر کے مطابق ، یہ فلم ایک "غیرجانبدار طور پر نکالی گئی مناظر ہے جو اصل فلم کی بے عزتی کرتی ہے اور اس کے عمدہ اداکاروں کی مزاح نگاری کی صلاحیت کو ضائع کرتی ہے۔”