Baaghi TV

Author: +9251

  • سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملے، پاکستان کو تیل کی فراہمی سے متعلق اہم خبر آ گئی

    سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملے، پاکستان کو تیل کی فراہمی سے متعلق اہم خبر آ گئی

    سعودی عرب میں تیل تنصیبات حملوں سے پاکستان کو تیل کی فراہمی متاثرنہیں ہوئی،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پٹرولیم ڈویژن کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کوتیل فراہمی متاثرہونےکاکوئی عندیہ نہیں دیاگیا، پاکستان میں تمام پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معمول کے مطابق ہے، پاکستان نے آئل سپلائی متاثر ہونے کے خدشے پر یو اے ای سے تیل خریدنے کی بات کرلی تھی،

    واضح‌ رہے کہ سعودی عرب میں آرامکو کمپنی کی تیل تنصیبات پر حملوں سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ تھا تاہم برادر اسلامی ملک نے چار دن کی محنت کے بعد سپلائی کی بحالی پر قابو پالیا ہے،

  • شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے حکومت کی طرف سے ایک اچھا اقدام

    حکومت پنجاب نے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے آب پاک اتھارٹی قائم کر دی ہے،ضلعی سطح پر صاف پانی کے منصوبوں کی نشاندہی اور جامع حکمت عملی کی تشکیل کے سلسلہ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)انجم ریاض سیٹھی کی زیر صدارت ضلعی آب پاک کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومتی ہدایات کی روشنی میں آب پاک اتھارٹی کے اغراض و مقاصد اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اجلاس میں حکومتی جماعت کے نمائندوں (رانا نذیر احمد خاں،رضوان اسلم بٹ، ظفر اللہ چیمہ،خالد پرویز ورک)،ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سجاد منیر،ایکسیئن پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ ناصر اقبال اور دیگر شریک تھے۔
    اجلاس کے شرکاء نے آب پاک اتھارٹی کے حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کا اقدام قابل ستائش ہے جس سے شہری اور دیہی علاقوں کے عوام کو صاف پانی میسر آ سکے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلے سے چلنے والے واٹر فلٹریشن پلانٹس کو بھی مکمل طور پر آپریشنل کیا جائے اور جہاں فلٹر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے وہاں فلٹر تبدیل کیا جائے اور جہاں بجلی کے بلز کی عدم ادائیگی اور دیگر وجوہات کے باعث فلٹریشن پلانٹس بند ہیں انہیں بھی مکمل طور پر آپریشنل کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام علاقوں میں یکساں طور پراس منصوبے کے تحت واٹر فلٹریشن اور آر او پلانٹس لگائے جائیں تا کہ مضر صحت پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس میں مشترکہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ایکسیئن پبلک ہیلتھ 10روز میں صاف پانی کے منصوبوں کے لیے تمام تحصیلوں،یونین کونسلز اور دیہاتوں میں مناسب جگہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر دفتر کو رپورٹ ارسال کریں گے جس کے بعد دوبارہ اجلاس طلب کیا جائے گا تا کہ حکومتی ہدایات اور پالیسی کے تناظر میں سکیمیں منظور کرتے ہوئے حکومت پنجاب کو بھجوائی جا سکیں۔

  • نام نہاد نعت خواں عبدالرزاق جامی اور بیٹے کی  لوٹ مار ، انکشافات  ہی انکشافات ، کارروائی کا مطالبہ

    نام نہاد نعت خواں عبدالرزاق جامی اور بیٹے کی لوٹ مار ، انکشافات ہی انکشافات ، کارروائی کا مطالبہ

    چکوال: آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مختلف ناموں پر جائیداد کی منتقلی اور ہر دور حکومت میں سرکار سے پرکشش مراعات، پلاٹ،گھر اور سرکاری عہدے حاصل کرنے والے نام نہاد نعت خواں عبدالرزاق جامی اور اس کے بیٹے سابق چیئرمین ڈسٹرکٹ زکوٰۃ وعشر کمیٹی چکوال سلطان رضا جامی کے بارے میں معلومات اور ضابطہ کی کارروائی کرنے کی استدعاکی گئی ہے

    درخواست گذار نے کہا کہ بندہ جناب کے ادارہ کو معاشرے کے ایک ایسے بلیک میلر اور بہروپیے،خوشآمدی کے بارے میں معلومات فراہم کررہا ہے جس نے ہر دور حکومت میں سرکاری وسائل کو بے دریغ استعمال کیا،سرکاری خرچ پر حج اور عمرے ادا کیے اور سرکار سے ذاتی فائدے حاصل کرتا رہا،اس طرح سے مذکور نے قومی خزانے کو مختلف حیلوں،بہانوں اور ہتھکنڈوں سے لوٹا،اس کے بارے میں درج ذیل گزارشات پیش خدمت ہیں کہ ایسے لوگوں کے بارے میں مکمل تحقیقات کرکے معاشرے کو ایسے ناسوروں سے نہ صرف نجات دلائی جائے بلکہ قومی خزانے سے خرچ کی جانیوالی بیش بہا قومی دولت کو واپس لیکر قومی مفادات پر خرچ کیا جائے،

    درخواست گزار نے انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ بالا نعت خواں نے 1972ء کے دوران جب شہید ذوالفقار علی بھٹو دور حکومت تھا محکمہ اوقاف پنجاب میں اس دور کے صوبائی وزیر اوقاف ملک حاکمین خان سے محکمہ اوقاف میں ایک گھوسٹ پوسٹ جس کا نام مبلغین دین رکھوا کر راولپنڈی ڈویژن میں اپنی سرکاری تعیناتی کروائی اور 2002ء تک اسی پوسٹ کی ماہانہ تنخواہیں، مراعات اور بوگس سفری الاؤنس حاصل کرتا رہا اور 2002ء سے اب تک باقاعدہ طور پر پنشن وصول کررہا ہے،

    عبدالرزاق جامی سے متعلق درخواست گذار نے کہا کہ محکمہ اوقاف میں یہ واحد مبلغ کی پوسٹ ہے جس کا محکمہ ہذا میں آج تک کوئی سرکاری وجود یا نام نہیں ہے،مذکورہ پوسٹ کی آڑ میں دربار”شاہ دی ٹاہلیاں“واقع مری روڈ راولپنڈی کے مقام پر محکمہ اوقاف پنجاب سے سرکاری جگہ پر ایک عالی شان ڈبل سٹوری بلڈنگ تعمیر کروائی اور خود ہی اس پر قابض ہوگیا اور اس کی مرمت کی مد میں لاکھوں روپےسالانہ سرکاری خزانے سے وصول کرتا رہا،

    ذرائع کے مطابق درخواست گزار نے کاہ کہ عبدالرزاق جامی نے صدر پاکستان ضیاء الحق مرحوم کے دور حکومت میں قومی خزانے سے سرکاری خرچ پر حج بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل کی،یہ کہ علاوہ ازیں مذکورہ بالا نے صدر پاکستان فاروق لغاری کے دور میں بھی صدارتی کوٹہ اور سرکاری خرچ پر دوبارہ حج ادا کیا،مذکورہ بالا نے محترمہ بے نظیر بھٹو دور میں سرکاری خرچ پر عمرہ ادا کیا،یہ کہ معزول سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت اور جلاوطنی کے دور میں متعدد مرتبہ نہ صرف خیراتی عمرے ادا کیے بلکہ موصوف کے دور میں متعدد مرتبہ لندن تک کا سفر بھی سرکاری خرچ پرکیااورمذکورکاپاسپورٹ ریکارڈ حاصل کرکے تمام بیرون ملک کے دورے چیک کیے جائیں،

    عبدالرزاق جامی اس قدر تیزآدمی پایا گیا کہ اس نے معزول سابق وزیراعظم نواز شریف جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے اس دور میں سرکاری کوٹے میں سے مختلف ہاؤسنگ سکیموں سے پلاٹ حاصل کرتا رہا، جن میں ایک سبزہ زار ہاؤسنگ سکیم لاہور میں ایک پلاٹ کا حصول،تلہ گنگ ہاؤسنگ سکیم سے اپنی بیوی کے نام پر پلاٹ الاٹ کروایا،اٹک ہاؤسنگ سکیم سے اپنے برادرم غلام مصطفی ولد غلام محمد کے نام پرایک قیمتی پلاٹ الاٹ کروایا،علاوہ ازیں کئی مختلف لوگوں کے نام پر اور بھی بوگس اور خفیہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ کرواتا رہا،یہ کہ مذکورہ نے بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں ملک ریاض کی آڑ میں محکمہ جنگلات کی سرکاری زمین پر ایک عالیشان گھر(جامی ہاؤس)تعمیرکیاہواہےجہاں پر پرتعیش زندگی گزارنے میں مصروف ہے،اس گھر کی محکمہ مال کے ریکارڈ میں نہ رجسٹری ہے اور نہ انتقال ہے،محکمہ جنگلات کی سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ ہے،

    درخواست میں‌کہا ہے یہ کہ مذکورہ بالا شخص نے 1988ء سے شریف فیملی کے گھر کی رکنیت حاصل کی ہوئی ہے، 1998ء میں شہباز شریف سے سرکاری فنڈ حاصل کر کے اپنے آبائی گاؤں موضع بھرپور تحصیل کلرکہار ضلع چکوال میں”بیت النعت“ کے نام سے اکیڈمی تعمیر کروائی اور جسے بعد میں اپنے ذاتی مصرف میں لا کر اس کی حیثیت ایک گیسٹ ہاؤس میں تبدیل کردی،جس کا واضح ثبوت شہباز شریف کے نام سے اس کی افتتاحی تختی اب بھی تاحال نصب شدہ ہے، یہ کہ علاوہ ازیں مذکورہ بالا نعت خواں نے ضلع چکوال کی تحصیل کلرکہار کے مواضعات بھرپور کلاں، بھرپور تلہ گنگ،کلرکہار، موضع چھنبی،موضع رتہ، موضع کلو،موضع حطار،تلہ گنگ بائی پاس،دودیال روڈ تلہ گنگ اور راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ اور مختلف جگہوں پر مختلف ناموں سے سرکاری فنڈ سے جو کہ شریف فیملی کی طرف سے اسے بے نامی جائیدادیں بنانے کیلئے دیا جاتا تھا

    ذرائع کے مطابق اس شخص کی کرپشن اور چال بازی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ تقریباً پانچ سو کنال کمرشل اور زرعی زمینیں 2013ء کے بعد خریدی گئی اور مندرجہ ذیل ناموں پر منتقل کرائی محکمہ مال سے جس کی تصدیق کروائی جاسکتی ہے نام مندرجہ ذیل ہیں، عبدالرزاق جامی ولد غلام محمد37405-08564420-9،سلطان رضا جامی ولد عبدالرزاق37201-8073125-1،ارسلان رزاق ولد عبدالرزاق،محمد سلیم رضا ولد عبدالرزاق،محمودہ دختر عبدالرزاق،نگہت سلطانہ دختر عبدالرزاق، محمود سلطانہ ولد عبدالرزاق،عاشق رسول ولد فیاض حسین 37204- 7339246-3، فیاض حسین ولد فیروز خان 37201-1584176-3ندیم حیدر قریشی ولد منصف خان37201-6681074-9، صائمہ نورین جامی زوجہ سلطان رضا 37204- 0101529-4، شبانہ شال زوجہ ندیم حیدر 37204- 0173244-8، ملک آصف مقصود ولد ملک سجاد حسین37201-1598050-3مذکورہ بالا کے شناختی کارڈ نمبر کی روشنی میں بینک اکاؤنٹس بھی چیک کراکر حسب ضابطہ کارروائی کی جائے،

    عبدالرزاق جامی نے 2014ء میں اپنے بیٹے سلطان رضا جامی کو چیئر مین ضلعی زکوٰۃ کمیٹی چکوال تعینات کرایا اور 2018ء تک محکمہ زکوٰہ چکوال کا سارا بجٹ بوگس نام ڈال کر اپنے کھاتہ میں استعمال کیا جس کے ثبوت کے طور پر چکوال زکوٰۃ آفس کا ریکارڈ حاصل کرکے اسپیشل آڈٹ کراکر تحقیقات کی جاسکتی ہیں کہ کتنی زکوٰۃ کی رقوم خرد برد ہوئیں،یہ کہ اپنے بیٹے سلطان رضا جامی کو DHA-1ہاؤسنگ سکیم میں آئیڈیل گولڈ سنٹر کے نام سے جیولری کی ایک اربوں روپے کی لاگت سے دکان جعلی اور فرضی ناموں پر کھلوا کر دی ہوئی ہے

    بحریہ ٹاؤن میں بھی دو جیولری کی دکانیں اور ایک پراپرٹی دفتر بھی کھولا ہوا ہے چار عالیشان اپ ماڈل گاڑیاں بھی ان کی ملکیت میں ہیں،یہ کہ شبہاز شریف کے پچھلے دور حکومت میں تلہ گنگ، کلر کہار روڈ کی مرمت کیلئے خصوصی طو رپر وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ سے ایک ڈائریکٹو2016ءمیں مالیتی 5کروڑ 77لاکھ اور دوسرا 2017-18کے بجٹ سے9 کروڑ 20لاکھ حاصل کیے اور سڑک پر تارکول ڈالنے کیلئے دو کروڑ کی علیحدہ منظوری حاصل کی گئی اور محکمہ ہائی وے چکوال کے مندرجہ ذیل سٹاف،مجتبیٰ سب انجنیئر خالد سب انجنیر،عدیل ایس ڈی او، نوید بھٹی ایکسین کے ساتھ ساز باز کرکے ممتاز اینڈ کمپنی کے نام پر مصری خان ٹھیکیدار کو مذکورہ بالا سڑک تلہ گنگ، کلر کہار روڈ کی مرمت کا ٹھیکہ دیا گیا،موقع پر 17 کروڑ فنڈ کی بجائے دو کروڑ کا کام بھی نہیں ہوا، سڑک کی اسپیشل انسپکشن کروا کر بذریعہ لیبارٹری تحقیقات کرائی جائیں،

    درخواست میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہےکہ2016ء میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، عبدالرزاق جامی کی بیوی کی وفات پر تعزیت کیلئے اس کے گھر جامی ہاؤس موضع بھرپور تحصیل کلر کہار ضلع چکوال تشریف لائے اور سرکاری فنڈ کا بے دریغ استعمال کیاگیا، مذکورہ گھر کی تمام تزئین وآرائش جواب بھی موجود ہے، سرکاری فنڈ سے کی گئی اس سرکاری فنڈ کی تحقیقات بھی ضروری ہیں، جناب عالی! پاکستان کا ایک وفادار شہری ہونے کے ناطہ سے مندرجہ بالا حقائق جو کہ اس ملک کے ساتھ، اس قوم کے ساتھ ایسے معاشرہ کے گھٹیا کرداروں نے ادا کیے ہیں،

    حکومت زور پر اور یہ تمام اثاثہ جات سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی فیملی کی کرپشن سے حاصل کردہ رقوم کو چھپانے کیلئے ان ناموں پر یہ اثاثہ جات بنائے گئے ہیں چونکہ عبدالرزاق جامی کی اپنی 2000ء سے پہلے کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے یہ اپنے موضع میں اپنے خاندان چند کنال کا مالک ہے اور اب ان مندرجہ بالا دیہات کا کل رقبہ جو کہ 2013ء کے بعد سرکاری رقوم سے خرید کیا گیا ہے تقریباً پچاس کنال سے اوپر بنتا ہے،اس میں شہری پلاٹ ہیں،کمرشل جگہیں ہیں تمام ریکارڈ چیک کرکے ان جائیدادوں کو نیلام کرکے سرکاری فنڈز میں جمع کرائی جائیں،جناب عالی!سائل ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے مذکورہ نعت خواں عبدالرزاق جامی اور اس کا بیٹا سلطان رضا جامی اب بھی ہر لحاظ سے بااثر ہیں ایک تو سائل کو تحفظ فراہم کیا جائے اور سائل کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے

  • معروف کاروباری شخصیت چوہدری محمداسلم مہاندرہ مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے مقامی میرج ہال میں قرآن خوانی کاانعقادکیاگیا

    معروف کاروباری شخصیت چوہدری محمداسلم مہاندرہ مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے مقامی میرج ہال میں قرآن خوانی کاانعقادکیاگیا

    رحیم یارخان( )معروف کاروباری شخصیت چوہدری محمداسلم مہاندرہ مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے مقامی میرج ہال میں قرآن خوانی کاانعقادکیاگیاجس میں حافظ امتیازمہاندرہ نے خصوصی خطاب کیا‘ قرآن خوانی میں چوہدری فقیرحسین‘ چوہدری ریاض احمد‘ واجداسلم مہاندرہ‘ افضل مہاندرہ‘ عدنان اسلم مہاندرہ‘ عمران شوکت مہاندرہ‘ ارسلان شوکت مہاندرہ سمیت سیاسی‘سماجی‘ مذہبی ودینی شخصیات‘ صحافی برادری سمیت عمائدین علاقہ کی کثیرتعدادنے شرکت کی اورمرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے دعائے مغفرت کی اورپسماندگان کوصبرجمیل کی تلقین کی۔

  • ہم حیدرآباد کےمسائل اورکرپشن پر خاموش نہیں بیٹھیں گے، صدر پاک سرزمین پارٹی انیس قائم خانی

    ہم حیدرآباد کےمسائل اورکرپشن پر خاموش نہیں بیٹھیں گے، صدر پاک سرزمین پارٹی انیس قائم خانی

    کراچی : کراچی اور حیدرآباد کے مسائل کے حل کے لیے پاک سرزمین پارٹی بھی حرکت میں‌آگئی ، ان مسائل کو حل کرنے کے لیے صدر پاک سرزمین پارٹی انیس احمد قائمخانی کی پکا قلعہ گراونڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کی عوام کو تنہا نہیں‌چھوڑ سکتے

    صدر پاک سرزمین پارٹی انیس احمد قائمخانی کی پکا قلعہ گراونڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کی سڑکیں تباہ حال ہیں بجلی ناپید ہے پکا قلعہ میں بجلی نہیں ہوتی ، مئیر حیدرآباد چیئرمینز حکومت کے لوگوں کی کرپشن پر خاموش نہیں بیٹھیں گے

    صدر پاک سرزمین پارٹی انیس احمد قائمخانی کی پکا قلعہ گراونڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ہم نے دورہ کیا وہاں کے لوگ ظلم کی وجہ سے بے چین ہیں

    انیس قائم خانی نے کہا کہ کل ہم حیدرآباد میں جنرل ورکرز کنونشن کر رہے ہیں سید مصطفی کمال کل واضع لائحہ عمل کا اعلان کرینگے ، صدر پاک سرزمین پارٹی نے کہا کہ ہم حیدرآباد کے مسائل کرپشن پر خاموش نہیں بیٹھیں گے

    صدر پاک سرزمین پارٹی انیس احمد قائمخانی کی پکا قلعہ گراونڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نے کہا کہ سندھ میں دیہی شہری عوام مسائل کا شکار ہیں مسائل کا حل سید مصطفی کمال و پی ایس پی کے پاس ہی ہے ، انہوں نے کہا تبدیلی کے نام پر عوام کو مہنگائی ملی

    انیس قائم خانی نے کہا کہ صوبہ سندھ کے لئے ہم آئینی ماہرین سے ترمیم تیار کروا رہے ہیں جو عوامی مسائل کے حل میں آسانی پیدا کریگی اس پر اتفاق کے لئے ہر سیاسی و حکومتی جماعت کے پاس جائینگے ،حیدرآباد کی صورتحال کراچی سے بدتر ہے میڈیا سے درخواست ہے کہ یہاں کے مسائل کراچی کی طرز پر اٹھائے

  • فیصل آباد میں انسداد ڈینگی سیمینار کا انعقاد

    فیصل آباد( نمائندہ باغی ٹی وی) ضلع میں انسداد ڈینگی کی جاری مہم کے سلسلے میں صنعت زار سوشل ویلفیئر کمپلیکس میں انسداد ڈینگی سیمینار منعقد ہوا جس میں ہیلتھ ایجوکیشن آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی شفیق احمد آصف نے ڈینگی سے بچاﺅ کے احتیاطی وانسدادی اقدامات سے آگاہ کےا۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی ایک سماجی مسئلہ ہے اور مشترکہ کاوشوں سے اس سے بچاﺅ ممکن ہے۔انہوں نے طالبات سے کہا کہ وہ گھروں میں صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھیں کیونکہ موسمی درجہ حرارت میں تبدیلی کے باعث ڈینگی لاروا اب ان ڈور میں پرورش پاسکتا ہے جس کی روک تھام کے لئے ماحول کا صاف ستھرا ہونا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر ڈینگی لاروا کے انسداد کے لئے سرویلنس سرگرمیاں متواتر جاری ہیں تاہم شہریوں کو بھی اس مہم میں اپنا جاندار کردار ادا کرنا ہوگا۔مینجر صنعت زار محمد نے انسداد ڈینگی سیمینار کے انعقاد کو سراہا اور کہا کہ ادارہ میں صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ انسداد ڈینگی مہم کے سلسلے میں سےمےنارز،واکس اور دےگر پروگرامز باقاعدگی سے منعقد کئے جاتے ہیں جن کا مقصد طالبات میں ڈینگی کے نقصانات اور اس سے بچاﺅ کا احساس برقرار رہے۔اینٹامالوجسٹس خرم اعظم اور ساجد تبسم نے ڈینگی لاروا کی افزائش گاہوں کے مقامات اور ان کے صفایا کے طریقوں اور سرویلنس کے بارے میں آگاہ کیا ۔اس موقع پر طالبات نے ڈےنگی لاروا کے انسداداور احتیاطی تدابیر عمل پیرا ہونے کے حوالے سے بعض سوالات بھی کئے جن کے ماہرین نے مفصل جوابات دئیے

  • حکم عدولی کیوں کی !مشیر خاص وزیراعلی پنجاب نےڈاکٹرکو نوکری سے برطرف کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کو خط لکھ دیا

    وزیراعلی پنجاب کے مشیر خاص برائے فوڈ سردار خرم لغاری کی جانب سے مظفرگڑھ میں اختیارات کے ناجائز استعمال کا معاملہ پیش آیا ہے،مبینہ طور پر من پسند میڈیکل رپورٹ نہ بنانےپروزیراعلی پنجاب کے مشیرنے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کو خط لکھا اور سرکاری ڈاکٹر کو نوکری سے برطرفی کرنے کا کہاہے.مظفرگڑھ میں مبینہ طور پر من پسند میڈیکل رپورٹ نہ بنانے پر وزیراعلی پنجاب کے مشیر خاص برائے فوڈ سردار خرم لغاری نے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ ڈاکٹر احتشام انور کو خط لکھا اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال جتوئی کے ایڈہاک ڈاکٹر محمد علی کو نوکری سے برطرفی کرنے کا کہا.مشیروزیراعلی پنجاب کے خط پر ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کو انکوائری کا حکم دیدیا.ٹی ایچ کیو ہسپتال جتوئی کے ڈاکٹر محمد علی کیمطابق یکم ستمبر کو انھوں نے مشیر وزیراعلی پنجاب کے حمایتیوں کی من پسند میڈیکل رپورٹ بنانے سے انکار کیا تھا،انھیں پیغامات ملتے رہے کہ مشیروزیراعلی پنجاب کے ڈیرے پر جاکر معافی مانگ لوں.دوسری جانب مشیر وزیراعلی پنجاب سردار خرم لغاری کا موقف ہے کہ ڈاکٹر علی نے دوران علاج مریضوں سے برا سلوک کیا،مریضوں سے بدسلوکی پر ڈپٹی کمشنر کو خط لکھ کر کاروائی کا کہاگیا.انکی حکومت کسی کیساتھ زیادتی برداشت نہیں کرے گی.محکمہ صحت کی شکایات کمیٹی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کیخلاف درخواست دینے والے شخص اعظم اور ڈاکٹر علی کو 24 ستمبر کو انکوائری کے لئے طلب کرلیاگیا ہے،انکوائری کے بعد ہی حقائق معلوم ہونگے اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہوگی.جبکہ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ درخواست کوئی بھی دے سکتا ہے،مشیروزیراعلی پنجاب سردار خرم لغاری کی درخواست بھی انکوائری کے لیے متعلقہ محکمے کو بھجوائی گئی ہے.

    ڈاکٹرمحمد علی

  • بغیر رجسٹرڈ افراد کو کپاس فروخت کرنے پر پابندی، ایف بی آر نے کیا نوٹیفکیشن جاری

    بغیر رجسٹرڈ افراد کو کپاس فروخت کرنے پر پابندی، ایف بی آر نے کیا نوٹیفکیشن جاری

    ایف بی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بغیر رجسٹرڈافراد کو کپاس فروخت کرنے پر پابندی لگا دی گئی،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس کے غیر رجسٹرڈ فرد کو کاٹن سپلائی نہیں کی جا سکے گی، نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کپاس کی سپلائی پر ٹیکس انوائس جاری کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے، ایف بی آر کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جینر ماہانہ ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں گے،

    نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ کپاس کی سپلائی کے روز ٹیکس انوائس جاری کی جائے گی، خرید کنندہ کو مقررہ تاریخ کے اندر سیلز ٹیکس جمع کرانا ہو گا،

  • "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    حالیا الیکشن کے دوران حکمران جماعت نے جو نعرہ سب سے ذیادہ لگایا وہ تھا دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام نے پچھلے 70 سالوں میں صرف اور صرف نعرے ہی سنیں ہیں ۔ وہی سیاسی جماعتیں ، وہی چہرے ، وہی نعرے ہاں اگر ان میں کچھ نیا تھا تو وہ تھا یہ نعرہ کہ دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام یہ نعرہ سن کر یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شاید اب کی بار ہی ہماری قسمت بدل جاٸے ، شاید اب کی بار ہی ہمیں وہ حقوق مل جاٸیں جن پر برسوں سے ہمارا حق تھا ، شاید اب ہماری دعاٸیں رنگ لے آٸیں جو ہم برسوں سے اپنی غریبی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مانگ رہے تھے ۔ عوام تو سمجھ رہے تھے کہ شاید اب ہمارے وزیر اور مشیر ہمارے ساتھ عوامی گاڑیوں میں سفر کریں گے ، ان وزیروں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ ایک ہی جگہ ، ایک ہی سکول ، ایک ہی نصاب ، ایک ہی طریقہ تدریس ، ایک ہی استاد سے تعلیم حاصل کریں گے ۔ لیکن کیا فرق آیا ابھی تک ۔ وہی جو کچھ پرانی حکومتوں میں حکمران اور وزیر مشیر کرتے تھے ۔ آج بھی غریب کا بچہ فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو فرش بھی میسر نہیں ۔ استاد کا دل کرے پڑھاٸے دل کرے تو نہ پڑھاٸے ۔ جبکہ امیر کا بچہ دنیا کا مہنگا ترین نصاب ، سکول اور جدید ترین طریقہ تدریس کے مطابق قابل اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کر رہا ۔ امیر تو آج بھی اپنے علاج مہنگے ترین پراٸیویٹ اسپتالوں سے کرواتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ آج بھی کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے کمشنر آفس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے ۔ کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے آج بھی کسی سکول یا کالج کا دورہ کرنا ہو تو غریب کی بیٹیاں اب بھی گھنٹوں روڈز پر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ ان عوامی نماٸیندوں کا استقبال بہترین طریقے سے کیا جاسکے۔ آج بھی بڑے بڑے چور ڈاکو مقدمات ہونے کے باوجود پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی میں آتے ہیں ، آج بھی سرکاری خرچ پر علاج کروا رہے ہیں ، قوم کے پیسے سے عیاشیاں کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف صلاح الدین جیسے غریب کو تفتیش کے دوران ایسی اذیت ناک موت دی جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ 500 روپے چوری کرنے والے کو تو مار مار کر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ قوم کا خون تک نچوڑ کر اپنی اولاد پر لٹا دینے والے کو جیلوں میں بھی عیاشیاں کرواٸی جا رہی ہیں ۔

    قصور کی زینب کو انصاف نہ مل سکا کیونکہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام تھے لیکن قصور کے بچے تو اب بھی زینب کی طرح دردناک موت کا سامنا کر رہے ہیں جن کا کوٸی پرسان حال نہیں ۔ ساہیوال جیسے واقعات جہاں فیڈر ہاتھوں میں پکڑے بچے دہشت گرد قرار دے دٸیے جاتے ہیں جن کے سامنے ان کے والدین کو شہید کر دیا جاتا ہے کیا انہیں انصاف مل پایا ؟ کیا صلاح الدین جیسے لوگوں کو انصاف مل پایا ؟ کیا اب عدالتی نظام ، سکول کا نظام ، پولیس کا نظام امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہے ؟ کیا اب عام وزیر سے لے کر وزیر اعظم تک مدینہ کے سربراہ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ کیا اب عوامی نماٸیندے عوام کے ساتھ سفر کرتے ہیں ؟ کیا وزیر اعظم پاکستان اب ایک مزدور کے برابر تنخواہ لیتا ہے ؟ کیا امیر اور غریب کے بچے کا معیار تعلیم ، معیار خوراک ، معیار ادویات ایک جیسا ہوگیا ہے ؟ کیا اب گستاخوں کو اسلامی شریعت کے مطابق سزاٸیں دی جاری ہیں یا پھر تحفظ دیا جارہا ہے ؟ کیا اب حکمرانوں کے بچے پاکستان میں ہی رہ کر یہی کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ کیا یہ عوامی نماٸیندے اب عوام کی طرح سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھا کر ہی اپنا علاج کرواتے ہیں ؟ قصور وار کون ؟ ہم ہیں قصور وار ۔ ہاں ہم عوام ہی قصور وار ہیں کیونکہ ہم شخصیت پرست ہے دو دو چار چار سو میں پرچی بیچ دینے والی عوام ، دو دو چار چار سو کے لیے اپنا ضمیر بیچ دینی والی قوم ، اپنی زبان ، اپنی ٹویٹ ، اپنی پوسٹ بیچ دینے والی عوام ۔ جنہوں نے کبھی ان عوامی نماٸیندوں ، ان وزیروں مشیروں کا گریبان نہیں پکڑا ، ان سے سوال پوچھنا تو دور جو سوال پوچھے اسے ہم بیچ چوراہے ایسا ذلیل و رسوا کرتے ہیں کہ وہ انسان دوبارہ کسی حکمران سے سوال پوچھنے کی غلطی نہیں کرتا ۔

    اللہ کرے کہ کبھی ان شہدا کا پاکیزہ خون رنگ لے آٸے جنہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر اب تک اس پاک دھرتی کے لیے قربانیاں دی ہیں ، جانیں لٹاٸی ہیں تاکہ یہ پاک وطن حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بن سکے ۔ آمین

  • 25سالہ مہرالنساء کو بازیاب کروا کر ورثا کے سپرد کر دیا گیا

    25سالہ مہرالنساء کو بازیاب کروا کر ورثا کے سپرد کر دیا گیا

    لاہور : خاوند سے جھگڑ کر گھر سے جانے والی خاتون کسی اور کے ہتھے چڑھ گئی ، مبینہ طور پر مغوی خاتون کو لاہور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بازیاب کروا لیا ہے،

    لاہور پولیس ذرائع کےمطابق اس مغوی خاتون سے متعلق درخواست دائر کرنے پر لاہورانویسٹی گیشن پولیس سبزہ زارنے بروقت کارروائی کی ، ذرائع کے مطابق پولیس نے 25سالہ مہرالنساء کو بازیاب کروا کر ورثا کے سپرد کر دیا گیا۔

    پولیس حکام نے اس حوالےسے بتایا ہے کہ 25 سالہ مہرالنساء کے شوہر رضوان انور نے تھانہ سبزہ زار میں اپنی بیوی کے اغواء کا مقدمہ درج کروا رکھا تھا۔ایس پی صدر انویسٹی گیشن راشد ہدایت کی طرف سے مغویہ کی بازیابی پر پولیس ٹیم کوشاباش دی