فیصل آباد(نمائندہ باغی ٹی وی)وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلویز میاں فرخ حبیب نے سمندری روڈ پر آبادی روشن والی میں سوئی گیس کی فراہمی کا افتتاح کیا ۔میاں اسلم ، میاں نبیل ارشد ،چاچا روشن ، بلال گجر ، شہزاد رحمانی و دیگر کارکن اور عمائدین علاقہ بڑی تعداد میں موجود تھے ۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دیہی عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے ساتھ لوگوں کے مسائل کرنا ہی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور سوئی گیس سے محروم آبادیوں کو میگا پراجیکٹ کے تحت یہ سہولت فراہم کی جارہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ وہ حلقہ کے عوام کے مسائل سے پوری طرح باخبر ہیں اور انہیں جدید سہولیات کی فراہمی کے لئے ہمہ قت کوشاں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کا سفر آئندہ بھی جاری رہے گا ۔ قبل ازیں وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے میاں فرخ حبیب جب روشن والی آبادی پہنچے تو حلقہ کارکنوں اور عمائدین علاقہ نے ان کا پر جوش استقبال کیا اور سوئی گیس کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا
Author: +9251
-

کشمیر پاکستان کی شہ رگ، اس کیلئے ہم کسی بھی حد تک جائیں گے، میاں اسلم اقبال
صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہم اس کے لئے کسی بھی حد تک جائیں گے، کشمیر کے ایک کروڑ اور پاکستان کے 22کروڑ عوام نے کشمیری بن کر اپنا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میاں اسلم اقبال نے کہاکہ اگر دنیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی روک تھام اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا نہ کیا تو پھر نتائج کی ذمہ دار بھی دنیا ہی ہو گی، مودی کی ہٹ دھرمی خطے کے امن کے لئے خطرہ بن چکی ہے، صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار آج الحمرا آرٹ گیلری میں لاہور آرٹس کونسل الحمرا کے زیر اہتمام کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مقابلہ مصوری ”کشمیر ہے لہولہو“ اور پنجاب یونین آف جرنلسٹس آفیشل کے زیر اہتمام الحمرا ہال میں منعقدہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ایگزیکٹو ڈائریکٹراطہر علی خان بھی اس موقع پر موجود تھے، صوبائی وزیر نے نوجوان آرٹسٹوں کا کشمیر کے موضوع پر کام کو دیکھا اور ان کے فن پاروں کو سراہا، صوبائی وزیر نے اطہر علی خان کے ہمراہ اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے والے آرٹسٹوں میں انعامات اور سرٹیفکیٹس تقسیم کئے،
صوبائی وزیر نے کہا کہ خوشی ہے کہ نوجوان آرٹسٹ کشمیریوں کی آواز بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور بربریت کے خلاف عالمی ضمیر کو جھنجوڑا ہے اور وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھی پاکستان اور کشمیر کے عوام کی آواز بنیں گے اور اپنے خطاب میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو بھرپور طریقے سے اجاگر کریں گے، انہوں نے کہا کہ مودی نے ہندوذہنیت کے ساتھ مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں اس کی دنیا کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ پورے جذبے کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے، بھارت نے فروری میں پاکستان پر جارحیت کر کے نتائج بھگت لئے ہیں اور اسے اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ قوم جذبہ ایمانی کے ساتھ لڑتی ہے اور دشمن کے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر انہیں اسے نیست و نابود کر دیتی ہے،
صوبائی وزیر نے اظہاریکجہتی کشمیر کی تقریب میں صحافیوں میں ایوارڈ بھی تقسیم کئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اطہرعلی خان نے کہا کہ ”کشمیر ہے لہولہو“ میں نوجوانوں کا کام مثالی ہے اور حقائق کو قریب سے پینٹ کیا گیا ہے،
-

چونیاں :بچوں کا اغوا ، قتل اور زیادتی کی تحقیقات جاری، متعدد گرفتار،کسی بھی وقت بریک تھرو ہوسکتا ہے، ڈی پی او قصور
چونیاں: کسی بھی چونیاں میںبچوںکے اغوا، قتل اور پھر زیادتی کے حوالے سے بریک تھرو ہوسکتا ہے ، چونیاں میں بچوں کے اغواء اور قتل کی تحقیقات ڈی پی او زاہد نواز مروت کی سربراہی میں جاری ہیں۔ کیس میں متعدد افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ جبکہ علاقے کے مشکوک افراد کے ڈی این اے سیمپل بھی اکٹھے کئیے جا رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ڈی پی او قصور نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا
مشتبہ افراد کی ڈی این اے سمپلنگ کرلی گئی اس حوالے سے ڈی پی او قصور نے کچھ معلومات دے دی ہیں، تفتیشی حکام کے مطابق تین بچوں کا اغواء ایک کلومیٹر کی حدود میں ہوا۔ شبہ ہے کہ مغویان ملزم سے واقفیت رکھتے تھے۔ دوسری جانب پولیس نے نو مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے
پولیس حکام کا کہنا ہے واقعے کے بعد روپوش ہونے والے افراد کی نشاندی بھی کی جا رہی ہے جبکہ علاقہ کے مشکوک افراد کے ڈی این اے سیمپل بھی اکٹھے کرکے فرانزک لیب کو بھیج دیئے ہیں۔ جس کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔مشکوک افراد کے انٹریوکیے جارہے ہیں،
-
فیصل آباد میں بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایات
فیصل آباد (نمائندہ باغی ٹی وی ) ڈپٹی کمشنر طارق خان نیازی نے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ ضلع میں بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کے لئے اقدامات مزید تیز کئے جائیں۔ اس سلسلے میں تمام تر ذرائع بروئے کار لا کر آئندہ دو دنوں میں رپورٹ فراہم کریں۔ انہوں نے یہ ہدایت ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی جس میں ایڈیشنل کمشنر رائے واجد علی‘ ڈی جی ایف ڈی اے عامر عزیز و دیگر افسران کے علاوہ ایف بی آر کی نمائندہ آفیسر بھی موجود تھیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومتی ہدایات کی روشنی میں بے نامی جائیدادوں کے سراغ لگانے کے ٹاسک کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں متعلقہ محکموں کا فعال اور مخلصانہ کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے لہذا ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے علاوہ فرضی و جعلی ناموں پر رجسٹرڈ اور مشکوک جائیدادوں کے بارے میں معلومات و تفصیلات جمع کریں۔ انہوں نے کہا کہ بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کے لئے وسیع تشہیری مہم کے ذریعے شہریوں کا تعاون حاصل کیا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لئے ایف بی آر ‘ محکمہ ایکسائز سے موثر رابطہ یقینی بنائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ڈیڈ لائن کے بعد بے نامی جائیداد سامنے آنے پر متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر ذمہ دار ہو گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بے نامی جائیداد کو قانونا جرم قرار دیا گیا ہے جس پر ایک سے سات سال تک قید ہو سکتی ہے۔ منقولہ و غیر منقولہ جائیداد وہ لین دین جو فرضی نام پر ہو جس کے مالک کو علم نہ ہو یا وہ ملکیت سے انکار کرے ،رقم ادا کرنے والے اصل شخص کی شناخت نہ ہو اور منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کے مالک نے اس کی خرید کے لئے پیسے خود فراہم نہ کئے ہوں بے نامی جائیداد کے زمرے میں آئےگی جبکہ ٹرسٹیز ‘ ماں باپ ‘ بیوی ‘ خاوند ‘ بہن یا بچوں کے نام جائز و قانونی ذرائع سے منتقل کی گئی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد بے نامی تصور نہیں ہو گی۔ اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے بے نامی جائیدادوں کی اب تک حاصل کی گئی رپورٹس سے بھی آگاہ کیا۔
-

خورشید شاہ کو کل اسلام آباد سے سکھر منتقل کیا جائے گا
پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کو کل اسلام آباد سے سکھرمنتقل کیا جائے گا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سکھرکی احتساب عدالت سے سید خورشید شاہ کا جسمانی ریمانڈ لیا جائے گا، خورشیدشاہ کوہفتہ کوسکھرکی احتساب عدالت میں پیش کیاجائےگا، واضح رہے کہ نیب کی ٹیم نے آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور تلاشی کے دوران اہم دستاویزات قبضہ میں لے لی گئی ہیں، نیب ٹیم تین گھنٹے تک ان کی رہائش گاہ پر موجود رہی اور پھر مکمل تلاشی لینے کے بعد واپس روانہ ہو گئی، نیب کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ خورشید شاہ نے مبینہ طور پر بے نامی جائیدادیں اور اثاثے بنائے، اسی طرح ہوٹل، پٹرول پمپ بنائے جبکہ وہ عالی شان گھروں کے مالک ہیں، میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ نیب کے مطابق خورشید شاہ نے شکار پور روڈ سکھر میں 25 کروڑ لاگت کا تاج محل ہوٹل اعجاز بلوچ کے نام پر جبکہ روہی روڈ پر کروڑوں کی مالیت کا پیٹرول پمپ فرنٹ مین قاسم شاہ کے نام پر بنایا، ایک اور فرنٹ مین پپو مہر کے نام پر سرکاری اراضی پر بنگلہ اور روہڑی میں بے نامی گلگ ہوٹل تعمیر کیا گیا، پروفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوساٹی سکھر میں بھی محل نما گھر بنایا اور اس کے لیے ظاہر شدہ اثاثوں میں سے رقم استعمال نہیں ہوئی، یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی رہنما نے عمر جان اینڈ کو اور نواب اینڈ کمپنی کو ٹھیکے دے کر بھی مالی فوائد حاصل کیے،
پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جانب سے احتجاج کیا گیا ہے، سندھ میں پی پی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے ہیں، نیب کی درخواست پر عدالت نے 21 ستمبر تک خورشید شاہ کا راہداری ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے،
-

گورنرپنجاب سے جاپانی سفیر اورکینیڈین ہائی کمشنرکی ملاقات، کشمیر و دیگر امور پر تبادلہ خیال
گورنرپنجاب چوہدری سرور سے جاپانی سفیر اورکینیڈین ہائی کمشنرکی ملاقات ہوئی ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسئلہ کشمیر، خطے کی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف جنگ سمیت دیگرمسائل پرتبادلہ خیال کیا گیا، چوہدری سرورکی جانب سے سفارتکاروں سے بھارت کے جنگی جنون، کشمیرکی صورتحال کانوٹس لینےکا مطالبہ کیا گیا، چوہدری سرور نے کہاکہ کشمیریوں پرمظالم کی وجہ سےخطےمیں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے،
چوہدری سرور نے کہاکہ دنیاکی ذمہ داری ہےکہ وہ جارحانہ اقدامات کےخاتمےکےلیےکرداراداکرے، ہماری ترجیح امن اورمسائل کوحل کرناہے،
-

پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا زمہ دار کون ؟ تحریر فرحان شبیر
اقلیتوں کے ساتھ افسوسناک واقعات کے بعد نیپال سے دانشوڑوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ ماضی کے مسلم حکمرانوں کو ایک کوسنے اور عربی تہذیب کو لعن طعن زوروں سے جاری ہے ۔ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کو اسلام سے جوڑ کر پوری پاکستانی قوم کو شرمندہ کیا جارہا ہے ۔ ابدالی ، محمد بن قاسم اور غزنوی کی اولاد ہونے کے طعنے دئیے جارہے ہیں ۔ ہندوستان میں تو یہ سلسلہ ہندو توا کے پرچارکوں کی طرف سے صدیوں سے جاری ہے ۔ سلطان ٹیپو کے خلاف مراٹھوں کی لڑائی سے لیکر تحریک پاکستان اور پاکستان بننے کے بعد سے لیکر اب تک ۔ ہندو توا کے اسیر کٹر ہندو ہوں یا بھارت کے سیکولر سب ہی یک زبان ہو کر برصغیر پر حکمران رہنے والوں کو عرب ، افغان حملہ آور لٹیرے گردانتے ہیں جنہوں نے یہاں کے باسیوں پر ایک غیر ملکی تہذیب ایک غیر ملکی زبان اور غیر ملکی مذہب نافذ کیا ۔
ہمارے لبرل سیکولر احباب کے نزدیک باہر سے آنے والے مسلم حکمران تو یہاں کے لوگوں کے بادشاہ بن بیٹھے لیکن جو راجے مہاراجے جو یہاں راجے بنے بیٹھے تھے وہ شاید کسی انتخاب میں الیکشن جیت کر آئے تھےاور یہاں پر کوئی بڑا ہی برابری اور احترام آدمیت پر مبنی نظام تھا جسے مسلمانوں نے عربی تہذیب لاد کر الٹ پلٹ کر دیا ۔ ارے بھائی وہ بھی تو طاقت کے زور پر راجے مہاراجے بنے بیٹھے تھے کیا انکے دور میں راجہ بھوج اور گنگو تیلی ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھاتے تھے ۔ یہاں پر تو عوام ہندو برہمنوں کے خود ساختہ Cast سسٹم کا شکار تھے ۔ انسان انسانیت کے مقام سے گر کر گائے ماتا کا پیشاب پیتا تھا اور آج بھی پیتا ہے ۔
میں تو شکر ادا کرتا ہوں کہ اسلام یہاں آیا اور آج خدا نے کسی گائے کا موتر پینے والے گھر میں پیدا نہیں کیا ۔ یہ کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ایک حقیقت کا بیان ہے ۔ یہاں بیوہ کو مرنے والے کے ساتھ جلا کر مار دیا جاتا تھا ۔ یہاں شودر کے گھر پیدا ہونے والا ساری زندگی ناپاک ، ملیچھ اور کمتر سمجھا جاتا تھا ۔ اسلام نے یہاں کے لوگوں کو ایک متبادل فراہم کیا ۔ کہ جو اس کمیونٹی میں شامل ہوگیا وہ ابن آدم ہونے کی جہت سے واجب التکریم ہے اور سب ابن آدم ایک برابر ہیں ۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ۔ دانشوڑ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے یہاں اپنا مذہب ٹھونسا جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ میرے دین نے یہاں کے اچھوتوں کو کاسٹ سسٹم کے گرداب سے نکال کر ایک ہی جھٹکے میں سب کے برابر کھڑا کردیا ۔
یاروں سے التماس ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ ہمدردی کی آڑ میں پورے پاکستانیوں اور اسلام پر شدت پسندی کا لیبل نہ لگائیں ۔ اس خطے کے اندر پاکستان میں موجود ہندوں کے مندر ، سکھوں کے گردوارے ، عیسائیوں کے چرچ ، بدھا کے مجسمے اور دیگر مذہبی مقامات کوئی آج سے نہیں سینکڑوں ہزاروں سال سے ہیں ۔ بلوچستان میں دور پہاڑوں میں واقع تین ہزار سال پہلے کا ہنگلاج دیوی کا مندر ہو یا چکوال میں کٹاس راج ، سکھر کا سادھو بیلہ ہو یا کراچی کا شیو نرائن صدیوں پرانے ہیں ۔ سکھوں کے گردوارے اور عیسائیوں کے چرچ پانچ سو سال سے تین سو سالوں تک کی ہسٹری رکھتے ہیں ۔ مسلم حکمرانوں کو تو چھوڑئیے جنہوں نے یاروں کے بقول یہاں لوٹ مار کی لیکن خود پاکستان کی ستر سال کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ہاں آج تک اقلیتوں کے مذہبی مقامات کو کوئی بڑے پیمانے پر ، ریاستی سطح پر طویل عرصے تک نہ کوئی نقصان پہنچایا گیا نہ ایسی سوچ کی کبھی کسی نے پذیرائی کی بلکہ ہمیشہ رد کیا گیا ہے
بحیثیت مجموعی پاکستانی قوم کے ہاتھوں اقلیتوں یا انکی عبادت گاہوں کو بحیثیت مجموعی نقصان نہیں پہنچا ۔ ننکانہ صاحب میں گرو نانک کی جنم بھومی چلے جائیں یا بلوچستان کے پہاڑوں میں ہنگلاج دیوی کے مندر کے ساتھ مقیم دو ڈھائی سو لوگوں پر مشتمل ہندو اکثریتی ٹاون کے باسیوں کے پاس بیٹھیں خدا کا شکر ہے کہ کہیں بھی اقلیتوں کے سر پر ہر وقت کے خوف کا عالم کبھی طاری نہیں ہوا اور نہ اب ہے ۔ لاہور شہر میں بیسیوں اداروں میں کرسچین اور کراچی میں صدر اور آس پاس کی دفاتر میں کئی ہندو برادری کے افراد ملسمانوں کے ساتھ ہی کام کرتے ہیں کھاتے پیتے بھی ہیں ۔ میرے دوست کے دفتر میں پیون ہندو لڑکا مکیش تھا ہم سب اسکے ہاتھ کا لگایا ہوا کھانا اور بنائی ہوئی چھائے مزے سے کھاتے پیتے تھے اور وہ بھی ساتھ ٹیبل پر ہی بیٹھا ہوتا تھا ۔ ایسی کئی مثالیں آپ سب کے سامنے بھی ہونگی ۔
بھارت کی میجورٹی اگر اسی پر یقین رکھتی ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب سے نفرت کرتے ہیں تو اس میں حیرت نہیں انکی معاشرت اور سیاست کا تقاضہ ہی یہی ہے لیکن یہ ہمارے نیپال کے دانشوڑوں کی سمجھ داری سمجھ نہیں آتی ۔ مثلا گھوٹکی میں ہندو برادری کے مندر پر توڑ پھوڑ کے بعد جس طرح پورے علاقے نے پہرہ دیا اور اقلیتوں کو تسلی دی اسے ایک ایسے عمل سے بھی تشبیہ دی جیسے کوئی پہلی دفعہ پاکستان میں کسی نے گلے لگایا ہے اور اس سے پہلے پاکستانی مندروں کے باہر سوٹے اور ڈنڈے لیکر کھڑے ہوتے تھے کہ سب کو زبردستی کلمہ پڑھواکر چھوڑیں گے ۔ پھر کبھی یہ بھی سوچنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ کچھ واقعات کی ٹائمنگ بڑی عجیب ہوتی ہے ۔
کشمیر میں مسلم بچیوں کے ریپ کے واقعات جب شروع ہوئے پاکستان میں قصور میں بچوں کی ویڈیو اسکینڈل کا معاملہ آگیا ۔ ادھر پاکستان دنیا بھر میں اقلیتوں کے ساتھ بھارتی مظالم کا رونا رو رہا ہے ادھر خود پاکستان میں گھوٹکی کا واقعہ ہوجاتا ہے ۔ قصور میں پھر بچوں کے ریپ کی خبریں اور لاڑکانہ سے ہندو لڑکی کا پراسرار قتل سارے دنیا کے میڈیا کی اٹینشن لے جاتا ہے ۔ اب جہاں آپکا وزیر کشمیر سمیت پورے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہندو توا کے علمبردار نریندر مودی اور امیت کا ظلم گنوائے گا وہیں وہیں مودی پاکستان سے آنے والی ان خبروں کو بنیاد بنا کر پاکستان کا مقدمہ کمزور کریگا ۔
ہمیں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ مسلم حکمرانوں نے برصغیر کو لوٹا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ مسلم حکمران یہ لوٹا ہے ہوا مال لیکر کہاں گئے ۔ مکہ ؟ مدینہ ؟ ایران ؟ یا بابر کے آبائی وطن فرغانہ ؟ تاریخ تو یہی بتاتی ہے مسلم حکمرانوں کی اکثریت یہیں کی ہورہی اور یہاں کا پیسہ بھی یہیں رہا اور یہاں کے انفراسکٹچر پر لگا ۔ لیکن جو حال نیشن شیمنگ کے پراپیگنڈہ نے جاپانیوں کا اور جرمنز کا کیا وہی حال اس نیشن شیمنگ نے پوری مسلم ورلڈ کا اور برصغیر کے مسلمانوں کا بھی کیا اور اس میں غیروں کے ساتھ ساتھ ہمارے سو کالڈ لبرل سیکولر اور ماضی کے کمیونزم و سوشلزم کے پرچار دانشوڑوں کا بھی بڑا گہرا کردار ہے ۔ جیسے کسی انسان کو مایوس کرنا ہو تو اسے Body shaming میں ڈال دو ویسے ہی ان مہربانوں نے ہماری پوری قوم کو ہی Nation shaming میں ڈالا ہوا ہے
یار لوگ یہ تو بتاتے ہیں کہ مسلم حکمرانوں نے برصغیر کو لوٹا مگر یہ نہیں بتاتا کہ پھر اس لوٹ کھسوٹ میں خود ہندو کیسے شامل ہوگئے ۔ مثلا بابر سے اورنگ زیب عالمگیر تک کے 6 Great Mughals حکمرانوں میں تیسرے نمبر والے جس اکبر اعظم کے دور میں برصغیر پھلا پھولا ، اسی اکبر اعظم کے 9 رتنوں( یہ اکبر کے خاص مشیر تھے ۔ Nine jewels ) میں سے 4 ہندو تھے ۔ راجہ مان اسکا آرمی چیف ، راجہ ٹوڈرمل فنانس کا منتظم تھا جبکہ تان سین اور ۔۔۔ بھی ہندو تھے ۔ یعنی لوٹنے والے مسلمان اکبر کا چیف آف آرمی بھی ہندو اور معیشت کا انتظام یعنی عوام سے لگان یا ٹیکس لینے کا منتظم بھی ہندو ۔ دانشوڑوں سے سوال ہے کہ یہ کیسی لوٹ مار تھی بھائی ؟
"مسلمان” بابر آیا تو ” ہندو "رانا سانگا ساتھ ملکر لڑا "مسلمان” ابراہیم لودھی کے خلاف ۔ مسلمان کو ہرا کر ہندو کو ساتھ ملا کر مسلمان بابر نے یہاں کے باسیوں پر حکومت کی ۔ بابر کے بعد ہمایوں ، ہمایوں کے بعد اکبر ، اکبر کے بعد جہانگیر، جہانگیر کے بعد شاہ جہاں اور شاہ جہاں کے بعد اورنگ زیب عالمگیر نے تو 49 سال حکومت کی ۔ 49 سال کوئی کم عرصہ نہیں ہوتا ، یعنی آدھی صدی ۔ اورنگ زیب عالمگیر کی اسلام پسندانہ طبیعت تو ہمارے دانشوڑوں کو بہت چبھتی ہے لیکن دانشوڑ یہ نہیں بتاتے کہ اورنگ زیب عالمگیر کا آرمی چیف بھی ایک ہندو ہی تھا ۔ راجہ جے سنگھ ۔ تو یہ کیسی لوٹ مار تھی بھائی ؟
مغل سلسلہ کے بانی ظہیر الدین بابر اگر فرغانہ سے اٹھ کر دہلی میں آبسا تو اسی کے پوتے جلال الدین اکبر نے اس برصغیر کو دنیا کی تیسری بڑی دفاعی اور معاشی طاقت بنا دیا ۔ اسی اکبر کے بیٹے جہانگیر اور پوتے شاہ جہاں نے برصغیر کو آرٹ اور کلچر دیا ۔ دنیا کو سول اینجینئرنگ اور آرکیٹیکٹ کا ایک شاہکار ، ایک عجوبہ ” تاج محل ” دیا ۔ ہمارے مختلف شہروں اور پہاڑوں میں بنے قلعہ روہتاس ، لاہور کا قلعہ ، قلعہ بالا حصار ، سندھ کے بے شمار قلعے باہر سے آنے والوں کی اولادوں نے اسی سرزمین پر بنائے اور یہ آج بھی یہیں ہیں ۔ایک اور شخصیت محمود غزنوی کی ہے کہ جی غزنی سے آیا سومنات کا مندر لوٹا ۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ محمود غزنوی ، غزنی سے بامیان ، بامیان سے پنجاب میں ملتان اور پھر یہاں سے سومنات گیا ۔ یہ پورا راستہ پانچ ہزار کلومیٹر بنتا ہے ۔ اس میں دو ہزار کلومیٹر تو ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت پر مشتمل علاقہ تھا ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ محمود نے پانچ ہزار کلومیٹر میں آنے والے بامیان میں بدھا کے مجسموں کو بھی نہیں چھیڑا بیچ میں دو ہزار کلومیٹر کی ہندو بیلٹ پر کسی اور مندر کو نہیں توڑا سوائے سومنات کے ۔ اگر محمود کا مقصد ہندو یا دیگر مذاہب کو نیچا دکھانا تھا تو بامیان میں بدھا کے مجسمے بھی نہیں بچتے اور بیچ کے راستے میں آنے والے مندر ۔ سومنات کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا جیسا دیگر راجوں مہاراجوں کے درمیان لگان اور ٹیکس وصولی کا تھا ۔ مثلا اورنگ زیب کے دور میں ایک مسلمان راجہ عبدالحسن تانہ شاہ نے لگان کا پیسہ دینے میں تین سال تک ٹال مول کی ۔ اورنگزیب نے بھائی کو بھیجا ۔ پتہ چلا فصلیں تو بہت ہوئیں پر تانہ شاہ بہانے کرتا آرہا تھا اور لوگوں سے ٹیکس لینے کے باوجود مرکز کو بھیجنے کے بجائے ایک مسجد میں چھپائے بیٹھا تھا ۔ اورنگ زیب کے بھائی نے اس مسجد کو منہدم کرکے چھپا ہو پیسہ نکالا اور مرکز کو دیا ۔
اس کوئی دو رائے نہیں کہ جس طرح گھوٹکی کے واقعے کے بعد اہل علاقہ کا مندر کی حفاظت کے لئیے جمع ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم پاکستانی اور مسلمان بحیثیت مجموعی اقلیتوں کے ساتھ غلط سلوک رکھنے کو اچھا نہیں سمجھتے ، اور ہمارے ہاں کی میجورٹی کسی اقلیتی برادری کے فرد کو مسلمان بنانے کے لئیے شمشیر بکف نہیں پھرتی ( پہلے میجورٹی خود تو ڈھنگ سے مسلمان ہوجائے ) بالکل اسی طرح اس طرح کے افسوسناک واقعات کا رو نما ہونا یہ ثابت کرتا ہے چاہے تعداد میں کم کیوں نہ ہوں ایسے لوگ موجود ہیں جو اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی بات کا بتنگڑ بنا کر اقلیتوں کو نقصان پہنچانے اور پوری قوم کا چہرہ داغدار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔
اس کا کوئی انکار نہیں کہ دین کے ضمن میں متشدد نظریات رکھنے والے بھی اسی معاشرے میں پائے جاتے ہیں اور یہ ہمارے علما اور پڑھے لکھے طبقے کا کام ہے وہ اپنے اپنے حلقوں میں قرآن کے اس حکم کی شد و مد سے ترویج کریں کہ دین کے معاملے میں کسی بھی جبر اور اکراہ سے کا لینا احکام خداوندی کا انکار ہے نہ کہ ثواب کا ۔ اور پھر قرآن کریم میں تو اقلیتوں کے مندر ، گرجے، صعوموں اور عبادت گاہوں کی حفاظت کے لئیے جان تک دے دینے کے واضح احکامات ہیں ۔ مومنین کا فریضہ ہے کہ کسی بھی خبر کی پہلے تصدیق کریں پھر اس پر یقین کریں جو تصدیق کے بغیر یقین کر لے وہ مومن نہیں ہے خدا کی نظر میں ۔ مولوی صاحبان سے التماس ہے کہ اس طرح کسی کو کلمہ پڑھوانا دین کی خدمت نہیں دشمنی ہے اور دانشوڑوں سے التماس ہے تاریخ کا مطالعہ بالغ نظری سے کریں نہ کہ دوسری کی لگائی ہوئی عینکیں لگا کر ۔ کیوں کہ پھر وہی بات آجاتی ہے کہ
بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے
تیرے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہئیے -

تبدیلی کے مرکز خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم میں سیاسی مداخلت کا انکشاف
پشاور:تبدیلی کے مرکز، جسے وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ تبدیلی کا محور کہتے رہے اسی خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم میں سیاسی مداخلت کا انکشاف ہوا ہے جس نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سیاسی مداخلت کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں بٹگرام کے سرکاری اسکول ٹیچر کے تبادلے کے خلاف دائر رٹ پر سماعت کے دوران محکمہ تعلیم میں سیاسی مداخلت کی تصدیق ہو گئی ہے۔
عدالت میںایجوکیشن ڈسٹرکٹ افسر (ای ڈی او) نے مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش کے کہنے پر میرا تبادلہ کرایا، عدالت میں ای ڈی او بٹگرام نے بھی فیصلے میں سیاسی مداخلت کا اعتراف کر لیا۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس قیصر رشید نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ای او سے استفسار کیا کہ آپ وزیر کے کہنے پر احکامات جاری کرتے ہیں؟ڈی ای او نے اس پر جواب یا کہ غلطی ہو گئی ہے آئندہ ایسے نہیں کروں گا۔
-

سرجری کے بعد وینا پھر ریکارڈنگز کے لیے تیار
گزشتہ دنوں سرجری کے مرحلے سے گزرنے والی اداکارہ وینا ملک نے اپنے مداحوں کو خوشخبری سنائی کہ اب وہ بالکل ٹھیک ہیں اور ریکارڈنگز کے لیے تیار ہیں.

اداکارہ ان دنوں نجی ٹی وی چینل سے ایک ٹیلنٹ ہنٹ رئیلٹی شو "پاکستان سٹار” کی میزبانی کر رہی ہیں.
تقریبا ایک ہفتہ قبل وینا ملک کی فیبروڈینوما سرجری ہوئی تھی جس کی اطلاع انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں کو تصویر وائرل ہونے کے بعد دی تھی.
اب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وینا ملک نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وینا کا کہنا تھا کہ وہ اب بالکل ٹھیک ہیں اور اپنے شو کی ریکارڈنگ کیلئے پوری طرح سے تیارہیں.
Thank You Guys for all the Good wishes n Prayers🙏❤️😇…!!! pic.twitter.com/t7YAKiwFR2
— VEENA MALIK (@iVeenaKhan) September 18, 2019
وینا ملک نے اپنے پیغام میں نیک خواہشات اور دعاؤں پر مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ابھی مجھے کچھ ہفتوں کے آرام کی تاقید کی تھی لیکن اس شو میں شریک افراد دور دراز سے سفر کر کے آتے ہیں، اس لیے میں جلدی واپس آ گئی ہوں
-

کمال قابلیت ، اپنی ہی طالبات کے ساتھ ڈانس ، نہ شرم نہ حیا ، وائس چانسلر بنوں یونیورسٹی عہدے سے فارغ
پشاور: کمال قابلیت ، شرم و حیاکو تار تار کرنے والے وائس چانسلر کی حرکتیں بھی کمال کی ، اطلاعات کے مطابق بنوں یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپنی ہی طالبہ کے ساتھ ڈانس کرنے میں جھجھک محسوس نہ کی اور نہ ہی اسے برا جانا ،
ذرائع کے مطابق بنون یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اس کی ان بھونڈی حرکات کی وجہ سے گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے بنوں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو عہدے سے ہٹا دیا۔
ذرائع کے مطابق بنوں یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر سلطان محمود کو عارضی طور پر وائس چانسلر کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں اور وائس چانسلر کی تعینات تک وہ وائس چانسلر کی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔
بنوں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی طالبہ کے ساتھ ڈانس کے معاملے پر گورنر خیبر پختونخوا نے معاملہ کی باقاعدہ تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جو معاملے کی مکمل تحقیقات کرنے کے بعد 10 روز میں اپنی حتمی رپورٹ تیار کر کے گورنر خیبر پختونخوا کو ارسال کرے گی۔