قائداعظم ٹرافی کے ابتدائی راؤنڈ میں قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے میچ میں سدرن پنجاب نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ کپتان شان مسعود 26 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوگئے۔ سدرن پنجاب کی دوسری وکٹ 50، تیسری 70 اور چوتھی 74 رنز پر گری۔ تاہم اوپنر سمیع اسلم کی دوسرے اینڈ سے مزاحمت جاری رہی۔ سمیع اسلم نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں عدنان اکمل کے ساتھ مل کر 217 رنز جوڑے۔ دن کے اختتام پر سمیع اسلم نے 19 چوکوں کی مدد سے 151اور عدنان اکمل نے 14 چوکوں کی مدد سے 106 رنز بنائے ۔ دونوں کھلاڑی میچ کے دوسرے روز سدرن پنجاب کی جانب سے 291 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ سے کھیل کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ شان مسعود 12، عمران رفیق 5، صہیب مقصود 6 اور عمر صدیق 4 اسکور بنا کر آؤٹ ہوئے۔ سنٹرل پنجاب کی جانب سے وقاص مقصود نے 3 اور حسن علی نے 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
Author: +9251
-

بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی، کنٹرول لائن فائرنگ پر شدید احتجاج
بھارتی فوج کی طرف سے کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں ایک خاتون کی شہادت اور چھ افراد کے زخمی ہونے پر پاکستان کی طرف سے انڈیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی ڈپٹی ہائی کمشنر کو ڈی جی ساؤتھ ایشیا و سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے طلب کیا اور ہندوستانی ڈپٹی ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ تھماتے ہوئے سخت احتجاج کیا گیا، ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ بھارتی فوج کی مسلسل فائرنگ کے نتیجہ میں فاطمہ نامی ایک خاتون شہید ہوئی ہے جس کی عمر چالیس سال بتائی جاتی ہے، مذکورہ خاتون کا تعلق بالا کوٹ سے تھا،
ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج مسلسل لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کر کے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو کہ دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے،
-

کالج اساتذہ کی قابلیت بہتر بنانے کے لیے ٹریننگ ، ٹیچرز نے ہڑتال کی دھمکی دے دی
لاہور : محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے لاہور سمیت پنجاب بھر کے سرکاری کالجز میں گریڈ 17 کے اساتذہ کی گریڈ 18 میں ترقی کے لیے ٹریننگ لازمی قرار دی گئی ہے، محکمہ ہائر ایجوکیشن نے 3000 اساتذہ کی ٹریننگ کے لئے شیڈول جاری کر دیا ہے جس میں لاہور کے 400 اساتذہ کو بھی ٹریننگ دی جائے گی۔
ہائیر ایجوکیشن کی طرف سے اس ٹریننگ کے خلاف پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق محکمہ ہائر ایجوکیشن نےلاہور میں اساتذہ کی بروقت ٹریننگ کے لیےناقص پلاننگ کی ہے، لاہور میں اساتذہ کے لیے صرف 2 سنٹرز بنائےگئے ہیں، جن میں ایک وقت میں صرف 44 اساتذہ ٹریننگ حاصل کر سکیں گے۔
پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق اساتذہ کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث تمام بیچز کی ٹریننگ مکمل ہونے میں 3 سے 4 ماہ لگ جائیں گے جبکہ باقی اضلاع میں ٹریننگ بروقت مکمل ہو جائے گی جس کے باعث لاہور کے اساتذہ کی ترقی میں تاخیر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے
-

شہریوں کو ذلیل کرتے ہو ، بار بار دفاتر کے چکر لگواتے ہو شرم آنی چاہیے ، ڈی جی ایل ڈی افسران پر برس پڑے
لاہور : سائلین کو بار بار دفاتر کے چکر لگواتے ہو ، شرم آنے چاہیے ، لوگوں کو ذلیل کرنا چھوڑ دو میں کسی کی بھی توہین اور تذلیل برداشت نہیں کروں گا ، اطلاعات کےمطابق ڈی جی ایل ڈی اے عثمان معظم ماتحت افسران پر برس پڑے ،
ڈی جی ایل ڈی اے عثمان معظم نے افسران کی کارکردگی سے نالاں، میٹنگ میں افسران کو کھری کھری سنادیں۔ ایل ڈی اے افسران کی کارکردگی صفر آپ کی آنیاں جانیاں لگی رہتی ہیں یہ ہرگز برداشت نہیں،ڈی جی عثمان معظم نے اسٹیٹ مینجمنٹ، ٹاؤن پلاننگ، ایڈمنسٹریشن اور ون ونڈو سیل سب کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا۔
ذرائع کے مطابق آج ایک اہم اجلاس میں عثمان معظم نے دوران اجلاس تمام سینئر افسران کی کھینچائی کردی، گزشتہ روز اجلاس میں افسران کی جانب سے کارکردگی کے حیلے بہانوں پر ڈی جی خوب برہم ہوئے، چیف میٹرو پولٹین پلانر ندیم اختر زیدی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ رہائشی سکیموں پر غیر قانونی تعمیرات عروج پر ہیں جبکہ افسران فیلڈ وزٹ کرنا گوارا نہیں کرتے۔
-

کوئی ایڈیٹ ہی ہوتا ہے جو یوٹرن نہیں لیتا، وزیراعظم عمران خان
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے خوشی ہے کہ میں یو ٹرن کا وزیراعظم ہوں، کوئی ایڈیٹ ہی ہوتاہے جو یوٹرن نہیں لیتا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الجزیرہ ٹی وی کو اپنے تفصیلی انٹرویو کے دوران انہوں نے کہاکہ پاگل دیوار سے سر ٹکراتارہتاہےاور دانشمند راستہ بدل لیتاہے، کرپٹ لیڈر ز کرپشن کرنے کے بجائے یو ٹرن لے لیتے تو آج جیل میں نہ ہوتے، وزارت عظمی ٰسنبھالی تو پاکستان پر 90.5ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا،
انہوں نے کہاکہ میری حکومت کے 5سال مکمل ہوجائیں تو تب ملک کی معیشت پر سوال کیا جائے ، آئی ایم ایف سے پاکستان کایہ آخری پیکیج ہوگا، وعدہ کرتاہوں 5سال بعد حکومت چھوڑیں گے تو سرپلس اکانومی ہوگی ،
-

لاہور سے پی ٹی آئی کی وکٹ گرگئی ، چوہدری شبیر نے ن لیگ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا
لاہور : پی ٹی آئی کی 2019 کی پہلی وکٹ گرگئی یہ وکٹ خواجہ عمران نذیر نے گرائی ، اطلاعات کےمطابق چودھری شبیر نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کردیا، خواجہ عمران نذیر کہتے ہیں تحریک انصاف کے جھوٹے دعوؤں کی حقیقت عوام کے سامنے آچکی ہے۔
ذرائع کے مطابق چودھری شبیر نے تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے ن لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ لیگی رہنما خواجہ عمران نذیر نے چودھری شبیر کو مسلم لیگ (ن) میں آنے پر خوش آمدید کہا۔
چوہدری شبیر نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت کے پہلے سال ہی عوام کے سامنے ان کی حقیقت آچکی ہے۔ لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف محض جھوٹ بولنے اور سیاسی انتقامی کارروائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتی، عوام آج میاں نوازشریف کے دور کو یاد کر رہے ہیں۔
-

مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ تسلیم کر لیا، اہم خبر
آزادکشمیر کی سیاسی جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کا فیصلہ تسلیم کر لیا، وزیر اعظم کے اقوام متحدہ سے خطاب تک ایل او سی کی طرف کوئی مارچ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے یہ متفقہ فیصلہ کیا ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتجاجی تحریک کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیراطلاعات کی زیر نگرانی کمیٹی قائم کی گئی ہے، بھارتی مظالم کے خلاف شہر شہر مشترکہ پرامن احتجاج کیا جائے گا ، وزیراعظم آزادکشمیر کی زیر صدارت ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے،
وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز آیندہ اعلان تک ایل او سی کی جانب مارچ نہ کرنے کی اپیل کی تھی،
-

کشمیرمیں حالات کی سنگینی کے باوجود وزیراعظم نے سیاسی قیادت کو مظفر آباد نہیں بلایا، سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ کشمیرمیں 15 لاکھ سے زائد بھارتی فوج مظالم ڈھا رہی ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قبائلی رہنماؤں اورکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ بھارتی حکومت پاکستان کی تباہی کے بچگانہ خواب دیکھ رہی ہے، کشمیرمیں حالات کی سنگینی کے باوجود وزیراعظم نے سیاسی قیادت کو نہیں بلایا، وزیراعظم دعوت دیتے تو سیاسی قیادت مظفرآباد جلسے میں جاتی،
انہوں نے کہاکہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی جلد ان شاء اللہ کامیابی سے ہمکنار ہو گی،
-

بریکنگ: اسامہ بن لادن کے بیٹے کو ماردیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کردی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے.
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق القاعدہ کے سرگرم کارکن اور اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کی ہلاکت ہوچکی، اب ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات کی باقاعدہ تصدیق کردی ہے. صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے تصدیق کی کہ حمزہ بن لادن امریکہ کے آپریشن میں مارا جاچکا ہے، حمزہ بن لادن کو پاکستان اور افغانستان کی سرزمین پر فضائی آپریشن کے دوران مارا گیا ہے. دوسری جانب جب جولائی میں حمزہ بن لادن کی ہلاکت کے حوالےسے خبریں آرہیں تھیں، اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے کوئی بھی تصدیق نہیں کی تھی بلکہ انہوں نے کہا کہ جس دہشتگرد کو مارا گیا ہے وہ امریکہ کو دھمکیاں دیتا تھا.
واضح رہے کہ جولائی 2019 میں امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کی سرزمین پر فضائی آپریشن کیا تھا، جس میں حمزہ بن لادن کی ہلاکت کی خبریں زیر گردش تھیں.
-

باغی ٹی وی انویسٹی گیشن سیل، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان احمد بزدار کے خلاف بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے لے آیا۔ سی ایم پنجاب کی اہلیت خطرے میں پڑگئی۔
لاہور۔شہباز اکمل جندران
باغی ٹی وی انویسٹی گیشن سیل، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان احمد بزدار کے خلاف بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے لے آیا۔ سی ایم پنجاب کی اہلیت خطرے میں پڑگئی۔

پی ٹی آئی کی قیادت وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ایمان دار اور شریف النفس قرار دیتی ہے۔لیکن ان کے اپنے ہی جمع کروائے جانے والے کاغذات نامزدگی کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔
باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان احمد بزدار نے 25جولائی 2018کے عام انتخابات سے قبل ریٹرننگ افسر کو جو کاغذات نامزدگی جمع کروائے ان میں آٹھ بڑے تضاد پائے جاتے ہیں۔

پہلا تضاد۔
عثمان احمد بزدار نے کاغذات نامزدگی کے پہلے ہی صفحے پر اپنے جملہ اثاثہ جات کی مالیت اڑھائی کروڑ روپے تحریر کی۔جبکہ انہی کاغذات نامزدگی کے ہمراہ اشٹام پیپر پر لف بیان حلفی پر اپنے کل اثاثہ جات کی مالیت محض 7لاکھ 61ہزار 893روپے تحریر کی۔
دوسرا تضاد۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے کاغذات نامزدگی میں 258کنال یا 32یاایکڑ زرعی اراضی، زرعی مقاصد کے لیے دو بیلارس اور ایک میسی ٹریکٹر تحریر کیا۔اور کاغذات نامزدگی کے ہمراہ لف بیان حلفی کے کالم(K) میں اپنا ذریعہ آمدن زراعت بیان کیا لیکن اسی بیان حلفی کے کالم نمبر (M)میں بیان کیا کہ ان کے پاس زرعی اراضی نہیں ہے۔
تیسراتضاد۔
عثمان بزدار نے خود کاغذات نامزدگی میں زرعی اراضی بیان کرنے کے بعد بیان حلفی میں زرعی اراضی کے وجود سے ہی انکار کردیا۔چوتھا تضاد۔
عثمان بزدار نے 258کنال زرعی اراضی رکھنے اور زراعت سے پیسہ کمانے کے باوجود زرعی کبھی بھی زرعی انکم ٹیکس ادا نہ کیا۔
پانچواں تضاد۔
عثمان بزدار نے کاغذات نامزدگی کے ہمراہ لف بیان حلفی میں 2017کے دوران اپنی کل آمدن 4لاکھ 68ہزار 500روپے بیان کی لیکن ایف بی آر کی طرف سے الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسر کو جمع کروائی جانے والی دستاویزات کے مطابق 2017میں عثمان بزدار کی مجموعی آمدن 3لاکھ 88ہزار900روپے تھی۔
چھٹا تضاد۔
عثمان بزدار نے کاغذات نامزدگی میں جو موبائل نمبر خود سے منصوب کیا ہے۔ وہ سم کسی عبدالغفار کے نام رجسٹرڈ ہے۔
ساتواں تضاد۔
عثمان بزدار نے اپنے کاغذات نامزدگی اور بعد ازاں الیکشن کمیشن کے روبرو اپنے اثاثہ جات کے سالانہ گوشواروں کے آخر میں بیان کیا کہ انہوں نے ایک پلاٹ خرید کر بیچ ڈالا۔یہ پلاٹ کب خریدا۔کتنے میں خریدا۔اور کن پیسوں سے خریدا رقم کہاں سے آئی۔کون سے پراپرٹی یا جائیداد بیچ کر پلاٹ خریدا اس کا ذکر نہیں ہے۔اسی طرح خرید کردہ پلاٹ کتنے میں بیچا۔کب بیچا اور فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن کہاں استعمال یا ڈیپازٹ کی۔نیز 2017کے اپنے کاغذات نامزدگی اور 2018کے اپنے اثاثہ جات کے سالانہ گوشواروں میں پلاٹ خرید کر بیچنے کا ذکر ہے یہ پلاٹ الگ الگ ہیں یا ایک ہی پلاٹ کی بات کی گئی ہے۔اگر الگ الگ پلاٹ ہیں تو 2018میں پلاٹ کس رقم سے خریدا گیا۔وہ رقم کہاں سے آئی۔اور اگر ایک ہی پلاٹ کا ذکر ہے تو 2017کے کاغذات نامزدگی میں بیان کیا جانے والا پلاٹ 2018کے اثاثہ جات کے گوشواروں میں کیسے بیان کیا جاسکتا ہے۔
آٹھواں تضاد۔
عثمان بزدار نے اپنے کاغذات نامزدگی میں یوبی ایل تونسہ کے اکاونٹ میں محض 5ہزار 9سو93روپے کی رقم بیان کی ہے۔لیکن الیکشن کمیشن کے روبرو 2018کے اپنے اثاثہ جات کے سالانہ گوشواروں میں تونسہ یو بی ایل کے اکاونٹ میں 15لاکھ 90ہزار روپے کی رقم بیان کی ہے یہ رقم کہاں سے آئی ہے بیان نہیں کیا گیا کیونکہ ان کے دیگر اکاونٹس کی رقم کم ہوئی ہے نہ ہی انہوں نے کوئی جائیداد بیچی ہے۔جبکہ بینک آف پنجاب میں ان کی اہلیہ کے اکاونٹ کی رقم میں بھی اضافہ ہی ہوا ہے کمی واقع نہیں ہوئی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کاغذات نامزدگی کے مطابق عثمان بزدار ایم اے ایل ایل بی اور ایڈووکیٹ ہیں تو کیا ان کے کاغذات نامزدگی کسی دوسرے نے بھرے اور عثمان بزدار نے ان کاغذات میں پائے جانے والے تضادات کو دیکھے بنا ان پر دستخط کئے اور ریٹرننگ افسر کے روبرو جمع کروا دیئے یا ایم اے ایل ایل بی ہونے کے باوجود وہ کاغذات نامزدگی میں پائے جانے والے تضادات کو سمجھ ہی نہیں سکے۔اگر وہ ان تضادات کو سمجھ نہیں پائے تو ان کی اہلیت پر الیکشن سے پہلے ہی سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔اور پی ٹی آئی کی قیادت ایک ایسے شخص کو کیسے صوبے کی باگ ڈور دے سکتی ہے جو اپنا فارم بھی فل نہیں کرسکتا۔

باغی انویسٹی گیشن سیل کی طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے اثاثہ جات اور کاغذات نامزدگی میں پائے جانے والے تضادات خود الیکشن کمیشن اور اس کے پولیٹیکل فنانس ونگ کے لیے چیلنج بن گئے ہیں۔اب بال الیکشن کمیشن کی کورٹ میں ہے اور عوام کی نظریں بھی الیکشن کمیشن پر ہیں۔
