Baaghi TV

Author: +9251

  • سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کیوں عدالت میں پیشن نہیں ہو رہے ، اضافی فیسوں کے متعلق جواب دیں ، عدالت برہم

    سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کیوں عدالت میں پیشن نہیں ہو رہے ، اضافی فیسوں کے متعلق جواب دیں ، عدالت برہم

    لاہور : لوگ بیچارے مصیبت میں پڑے ہیں اور سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو پرواہ تک نہیں ، نجی سکول بچوں سے زیادہ فیسیں لے رہے ہیں ، اس زیادتی کو کس نے ختم کرنا ہے ، عدالت کو بتایا جاءے کہ ابھی تک سیکرٹری سکولز نے کیا اقدامات کیے ، لوگ نجی سکولوں کی زیادتیوں کا شکار ہورہے ہیں اور سیکرٹری سکولز کو احساس تک نہیں ،

    اطلاعات کے مطابق نجی سکولز میں اضافی فیسوں کی وصولی کیخلاف درخواست پر سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کی عدم پیشی پر عدالت نے اظہار برہمی ہوتے ہوئے سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا عدالتیں آپ کے دفاتر ہیں جہاں آپ چکر دیتے ہیں،اگر کام ہو رہے ہوتے تو یہاں لوگوں کونہ آنا پڑتا۔عدالت نے کل پھر سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو طلب کیا ہے

  • پروٹو کول نہ ملنے پر افسر کی سرزنش ، سوشل میڈیا میں وزیر داخلہ پر شدید تنقید جاری

    پروٹو کول نہ ملنے پر افسر کی سرزنش ، سوشل میڈیا میں وزیر داخلہ پر شدید تنقید جاری

    پروٹو کول نہ ملنے پر افسر کی سرزنش سوشل میڈیا پر وزیر داخلہ پر شدید تنقید جاری

    سوشل میڈیا پر وزیر داخلہ بریگیڈئر ریٹائرد اعجاز شاہ کی پر اس بات پر شیدید تنقید کی جار رہی ہے جب وہ اپنے آبائی علاقے ننکانہ صاحب آمد پر آئے تو ان کو سیدے رستے کی بجائے دوسرے رستے سے لے جایا گیا. اس بات پر انہوں نے ڈی پی او ننکانہ کی سرزنش کردی ، گاڑی سے اترتے وقت انہوں نے گالی نکالتے ہوئے کہا کہ مجھ سے تو ایسے معاملہ برتا جارہا ہے جیسے میں سپاہی ہوتا ہوں.
    وزیر داخلہ کی اس بات سے یہ بھی تنقید جاری ہے کہ جو حکومت پروٹوکول پر شدید تنقید کرتی تھی اس کے وزیر کو تھوڑا پروٹوکول نہ ملنے پر اہم افسران کی اتنی سرزنش کی جارہی ہے.

  • شوگراور چھوٹے قد کے درمیان تعلق نے پریشان کردیا

    شوگراور چھوٹے قد کے درمیان تعلق نے پریشان کردیا

    برلن: طبی ماہرین بھی روز کوئی نہ کوئی ایسی پشین گوئی یا تحقیق پیش کردیتے ہیں‌کہ جو مریض نہیں بھی ہوتا اسے مریض کردیتے ہیں‌، ایسے ہی جرمنی میں کی گئی ایک دلچسپ طبّی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ چھوٹے قد والے لوگوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ، طویل قامت افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

    جرمی میں کی گئی تحقیق کے اعدادوشمار کے مطابق27,500 افراد پر کیا گیا تھا جبکہ اس میں شریک افراد کی عمریں 35 سال سے 65 سال کے درمیان تھیں۔صحت سے متعلق مختلف عوامل مدنظر رکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ مردوں کے قد میں ہر 10 سینٹی میٹر (تقریباً 4 انچ) اضافے کے ساتھ ان کے ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات 33 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں جبکہ خواتین میں یہی شرح 41 فیصد تک دیکھی گئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق صرف ذیابیطس اور قد کے مابین تعلق واضح کرنے کےلیے کی گئی تھی، جس سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چھوٹے قد والوں کےلیے ذیابیطس میں مبتلا ہونا لازم ہے۔ اس لیے چھوٹے قد والوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ بھی تسلی دی گئی کہ ایسی تحقیقات سے پریشان نہیں‌ہونا کیونکہ طبی ماہرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ آنے والے حالات کے بارے میں تحقیق کرتے رہتے ہیں

  • پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک سیزن 2019-20 کے لیے میڈیا پاسز تیار کر لیے

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک سیزن 2019-20 کے لیے میڈیا پاسز تیار کر لیے

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک سیزن 2019-20 کے لیے میڈیا پاسز تیار کر لیے

    لاہور، 11ستمبر2019 ء:

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی میڈیا سروسز میں بہتری اور میڈیا نمائندگان کو احسن انداز میں ذمہ داریاں نبھانے کے لیے سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں ڈومیسٹک سیزن 2019-20 کے لیے پاسز تیار کرلیے ہیں۔ میڈیا پاسز کا اجراء رواں سال 26 جولائی سے 16 اگست تک جاری رہنے والے میڈیا رجسٹریشن عمل سمیت متعلقہ اداروں کے عہدیداران کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے بعد کیا گیا ہے۔

    لاہور، کراچی، ملتان اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے صحافی اپنے میڈیا پاسز پی سی بی کے نمائندگان سے وصول کرسکتے ہیں جبکہ دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو میڈیا پاسز ان کی جانب سے فراہم کیے گئے پتے پر بذریعہ ڈاک بھجوائے جارہے ہیں۔

    معزز صحافی اپنے پاسز دکھا کر میڈیا ورکنگ ایریاز میں جانے کے ساتھ ساتھ پی سی بی کے زیراہتمام پریس کانفرسز سمیت دیگر تقاریب میں شرکت کرسکتے ہیں۔

    یہ پاسز بین الاقوامی مقابلوں اور ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے لیے استعمال نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ ان ایونٹس کے لیے ایکریڈیشن کا عمل جلد شروع کردیا جائے گا۔

    میڈیا پاسز کی وصولی کے لیے تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

    لاہور:

    11 سے 12 ستمبر: دوپہر 12 سے شام 4 بجے تک، فار اینڈ بلڈنگ قذافی اسٹیڈیم لاہور، برائے رابطہ: شکیل خان
    13 ستمبر: صبح 11 سے شام 4 بجے تک، فار اینڈ بلڈنگ قذافی اسٹیڈیم لاہور، برائے رابطہ : شکیل خان

    کراچی:

    11 سے 12 ستمبر: دوپہر 12 سے شام 4 بجے تک، نیشنل اسٹیڈیم، برائے رابطہ: عماد حمید
    13 ستمبر: صبح 11 سےشام 4 بجے تک، یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس، برائے رابطہ: عماد حمید

    ملتان:

    16 سے 20 ستمبر: صبح 11 سے شام 4 بجے تک، ملتان کرکٹ اسٹیڈیم، برائے رابطہ: مدثر تارڑ

    راولپنڈی:

    11 سے 18 ستمبر: صبح 11 سے شام 4 بجے تک ، پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم، برائے رابطہ: نثار احم

  • اور پشین گوئی سچ ثابت ہوگئی ، یہ پشین گوئی کس نے کی اور کس کے بارے میں کی ، جانیئے اس خبر میں‌

    اور پشین گوئی سچ ثابت ہوگئی ، یہ پشین گوئی کس نے کی اور کس کے بارے میں کی ، جانیئے اس خبر میں‌

    لاہور : تاریخ میں ایسےواقعات اکثر ملتےہیں‌ جن میں بڑی بڑی پشین گوئیوں کی صداقت کے بارے میں انکشافات کیے گئے تھے ، پھر دنیا نے دیکھا وہ پشین گوئیاں سچ ثابت ہوئی ایسے ہی ایک پشین گوئی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں کی گئی ، سوانح حیات جناح کری ایٹر آف پاکستان کے مصنف ’ہیکٹر بولیتھو‘ کے مطابق محمد علی جناح کے دائیں پاﺅں پر پیدائشی نشان دیکھ کر ایک بزرگ نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ لڑکا بڑا ہوکر برصغیر کا بےتاج بادشاہ ہوگا،

    پاکستان کے ایک معروف قومی روزنامے کے مطابق یہ پیشگوئی درست ثابت ہوئی اور انہوں نے انگریزوں سے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ ملک پاکستان حاصل کیا ۔قائد اعظم محمد علی جناح کا پہلے پہل داخلہ ایک پرائمری اسکول میں کروایا گیا لیکن ننھے جناح کا زیادہ وقت کھیل میں گزرتا تھا۔یہ سلسلہ بھی دو ماہ سے زیادہ نہ چل سکا۔

    شیلا ریڈی لکھتی ہیں قائد اعظم کی والدہ نے شرط رکھی کہ لندن جانے سے قبل محمد علی جناح کو شادی کرنا ہوگی۔ فاطمہ جناح اپنی کتاب’مائی برادر‘ میں لکھتی ہیں کہ اپنے فیصلے خود کرنے والے جناح نے شاید یہ پہلا اور آخری فیصلہ کسی اور کی مرضی سے کیاتھا۔

    وہ اپنی ماں کا کہا نہیں ٹالتے تھے۔کاروباری رموز سیکھنے کی غرض سے لندن جانے والے جناح نے قانون پڑھ کر آگیا اور پھر وہ محمد علی جناح واقعی برصغیر کے بے تاج بادشاہ بن گئے ، اس ایک مرد مجاہد نے کئی محاذوں پر سکھوں ، ہندووں اور انگریزوں کا مقابلہ کرکے ہمارے لیے پاکستان حاصل کیا

  • قائد اعظم ! بغاوت،           فرحان منہاج کا بلاگ

    قائد اعظم ! بغاوت، فرحان منہاج کا بلاگ

    قائد اعظم ! بغاوت ،،،، ،تحریر فرحان منہاج

    غلامی کا تصور جب جاگتا ہے جب کسی طبقے ، کسی گروہ یا کسی قوم کے بنیادی حقوق کی پامالی ہورہی ہے .
    ان کو تفریق کا احساس دلایا جائے ـ ان سے امتیازی سلوک روا رکھا جائے .
    وہ طبقہ، گروہ اور قوم پھر یہ نہیں دیکھتی کہ وہ اکثریت میں ہے یا اقلیت میں ان کی محرومیاں ان کو بغاوت پر مجبور کر دیتیں ہیں .
    بر ضغیر پاک و ہند میں جب مسلمانوں کا استحصال ہوا . جب بنیادی حقوق کو سلب کیا گیا . امتیازی سلوک روا رکھا گیا تب بغاوت نے جنم لیا یہ بغاوت پہلے حق مانگنے کے لیے اٹھی ، سر اٹھانے کے اٹھی جب دیکھا یہ حق مانگنے پر نہیں دے رہے تو یہ بغاوت آزادی کا نعرہ بن کر سیسہ پلائی دیواروں کو بھی اکھاڑ کر منزل مقصود تک پہنچ گئی .
    اس پوری تگ و دو کے سرغنہ بظاہر جسمانی طور پر کمزور نظر آنے والے مگر مضبوط عصابوں کے مالک محمد علی جناح تھے . قائد اعظم نے اس بغاوت کو اسی رہنمائی دی کہ وہ سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر دنیا کے نقشے پر ابھر گئی .
    اس بغاوت کو اسلام کا لبادہ دیا ، اس بغاوت کی مصطفٰی کریم کا ترانہ دیا . اس بغاوت کو اللہ اور اس کے بنائے ہوئے نظام کا خواب دیا .
    آج وہ بغاوت پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر پھر ایک بغاوت کی منتظر ہے .
    کہ کوئی اٹھے اس کے مجبوروں ، مظلوموں کی آواز بنے ، کوئی اٹھے اسے امن او آشتی کا گہوارہ بنائے ، کوئی آئے اسے مصطفٰی کریم کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے ،
    روز چیختی چلاتی آہیں ، انصاف کے لیے تڑپتی مائیں اس میں پھر بغاوت کو جنم دے رہی ہیں .
    اور اگر بغاوت نے جنم لیا اور اسے کسی قائد اعظم کی رہنمائی نہ ملی تو خون ہی خون ہوگا اور تباہی ہی تباہی ہوگی .

  • اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان ،                                  محمد نعیم شہزادکا بلاگ

    اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان ، محمد نعیم شہزادکا بلاگ

    اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان محمد نعیم شہزاد

    زندہ اور باضمیر قومیں اپنے محسنین کو ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور ان کے احسان کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ مسلمان قوم نے برصغیر پاک و ہند پر ایک طویل عرصہ حکومت کے بعد محکومانہ زندگی بھی بسر کی۔ اس سارے عرصے میں مسلمانان نے کبھی بھی غاصب و قابض اقوام کو اپنا سردار تسلیم نہ کیا اور جہد مسلسل میں لگے رہے۔ غلامی کا یہ دور 90 برس پر محیط ہوا۔ مگر اس دور سے ایک اہم سبق جو حاصل ہوا اسے حرز جاں بنانا چاہیے۔ اس دور غلامی کا سب سے اہم سبق یہی تھا کہ مخالف قوتوں اور استعمار کے مقابل کامیاب ہونے کے لیے جہاں جدوجہد کی اہمیت ہے اس سے کہیں بڑھ کر اچھی اور باصلاحیت قیادت کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا کہ ہمیں محمد علی جناح کی صورت میں ایک عظیم قائد ملا جسے بجا طور پر قائداعظم کا لقب دیا گیا۔ یہ ان کی ذہانت، دور اندیشی اور معاملہ فہمی و تدبر کا ہی نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے الگ وطن کی جدو جہد زور پکڑ گئی اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک اہم اسلامی ریاست کے طور پر وجود میں آگیا۔

    قائداعظم کی قیادت میں مسلمانوں نے بیک وقت برطانوی سامراج اور ہندو چانکیائی ذہن سے مقابلہ کیا اور دونوں کو چاروں شانے چت کر کے اپنے نظریے اور سوچ کو منوایا۔ آج ملک پاکستان نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ اقوام عالم میں ایک نمایاں حیثیت اور مقام رکھتا ہے۔ اس سب کا سہرا پاکستان کے اداروں اور حکمرانوں کو تو جاتا ہی ہے مگر سب سے بڑھ کر قابل تحسین وہی ذات ہے جس نے پاکستان کو وجود بخشنے میں اپنا دن رات ایک کر دیا۔

    آج ہم ایک آزاد وطن کے باسی ہیں مگر بہت سے معاملات میں ہم دیکھتے ہیں کہ حکومتیں مصلحت اختیار کرتی ہیں کہیں بیک فٹ پر آ جاتی ہیں اس سب کو دیکھتے ہوئے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب ریاست اپنے ہی عوام سے بہت سی باتیں براہ راست نہیں منوا سکتی تو کس قدر منصوبہ بندی اور فطانت سے ہمارے عظیم قائد نے بغیر کسی جنگ کے برطانوی سامراج کو پاکستان کو آزاد وجود دینے پر مجبور کر دیا۔

    ان کی منصوبہ بندی قابل غور اور قابل تقلید ہے۔ مقصد کے حصول کی لگن، خود اعتمادی، غیر مبہم طریقہ کار اور عمل پیہم چند بنیادی اوصاف ہیں جو کسی بھی فرد یا قوم کو اس کے مقصد میں کامیاب کرتے ہیں۔ اس سب سے پیشتر دور بینی و دور اندیشی ایک ایسی خداداد صلاحیت ہے جس کی بنیاد پر مزید لائحہ عمل تیار ہو گا۔ گویا اسے قائد کی بنیادی صفت کہا جا سکتا ہے۔ محمد علی جناح کو یہ وصف خاص ودیعت کیا گیا تھا۔ آپ نے جب کارِ سیاست میں دلچسپی ظاہر کی تو فطری تقاضوں کے تحت ہندو، مسلم اتحاد کی کوشش کی۔ مگر آپ کی دور اندیشی جلد ہی آپ کو اس نتیجے پر لے آئی کہ ہندو، مسلم اتحاد ہندوؤں کی تنگ نظری اور تعصب کے باعث ناممکن ہے۔ اور آپ نے ایک بھی لحظہ ضائع کیے بغیر اپنا راستہ ہندوؤں سے الگ کر لیا۔ اور یہی طرز عمل دو قومی نظریہ کو تقویت دینے والا اور پاکستان کے قیام کی راہ میں ایک سنگ میل کی حیثیت پا گیا۔

    قائد اعظم کی سوچ و افکار کی بلندی کا اندازہ اس بات سے کریں کہ ان کی کاوشوں کا حاصل محض ایک قطعہ ارض نہ تھا بلکہ آپ نے ان الفاظ سے اپنے مقصد کی طرف اشارہ کیا کہ ہم اسلام کے آفاقی اصولوں کو اپنے کے لیے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے ہیں ۔ اسی بات کے تواتر میں آپ نے اسلامی تعلیمات کو پاکستان کا آئین قرار دیا۔

    میرے نزدیک قائداعظم کے تین بڑے فیصلے جو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف کی صورت زندہ رہیں گے وہ ان کا دو قومی نظریہ پر ڈٹ جانا، کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دینا اور اسرائیل کا وجود تسلیم نہ کرنا ہیں ۔ یہ تینوں ہی وہ بڑے اصولی فیصلے ہیں جو قائداعظم کی دور اندیشی، معاملہ فہمی اور سوچ کی درست عکاسی کرتے ہیں۔ موجودہ حالات قائداعظم کے ان فیصلوں کی صداقت اور اہمیت پر واضح دلیل ہیں۔ حتی کہ وہ لوگ جو دو قومی نظریہ اور اس کی بنیاد پر تقسیم کی مخالفت کرتے تھے آج اپنی غلطی کا اعلانیہ اعتراف کرتے ہیں ۔ کشمیر کی پاکستان کے لیے اہمیت و افادیت بھی موجودہ حالات میں کافی واضح ہے۔

    وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہمارے حکمران داخلی و خارجی معاملات میں قائداعظم کے عمل سے راہنمائی حاصل کریں اور وطن کو عظیم سے عظیم تر بنا دیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے عظیم قائد، بانی پاکستان کی بشری لغزشوں سے صرف نظر فرمائے اور دین اسلام اور مسلمانوں کی اس عظیم خدمت کا بھرپور اچھا صلہ عطا فرمائے اور ہمارے حکمرانوں کو ان جیسی سیاسی بصیرت سے نوازے ۔ آمین یا رب العالمین

  • مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ قرار دیے جانے پر سعودی عرب نے  شدید مزمت کر دی

    مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ قرار دیے جانے پر سعودی عرب نے شدید مزمت کر دی

    مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ قرار دیے جانے پر سعودی عرب کی شدید مزمت .او آئی سی کا اجلاس بلانے کی تجویز
    تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی طرف سے اسرائیل کے اس علان کی شدید مزمت کی گئی ہے جسمیں اسرائیلی وزیر اعظم نے اعادہ کیا کہ وہ الیکشن جیتنے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کو اپنا باقاعدہ حصہ بنانے کا اعلان کریں گے جس پر 1967ء پر قبض کیا تھا.

    سعودی عرب نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس جیسے اور دیگر ایشوز پر او آئی سی کا اجلاس بلانا چاہیے . عرب اقوام اور اسلامی ممالک فلسطینی کاز کی حیثیت کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ سعودیہ سمیت تمام عرب ایسے کسی قسم کے اقدام کی حوصلہ شکنی کریں جس میں عرب کے مقبوضہ علاقوں کو غصب کرنے کی کوشش کی جائےگی،

    سعودی عرب نے اس معاملے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا وزرائے خارجہ کی سطح پر ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو کے منصوبے کا مقابلہ کرنے، اس سے نمٹنے اور تنازع فلسطین کے حل کی کوششیں تیز کرنے کے ساتھ اسرائیل کے رویوں اور اقدامات پر گہری نظر رکھی جائے گی۔

  • مہلت مل گئی ، اور اساتذہ کی جان میں جان آگئی

    مہلت مل گئی ، اور اساتذہ کی جان میں جان آگئی

    لاہور: اساتذہ کے لیے کبھی اچھی خبرین تو کبھی تکلیف دہ خبریں مگر جس خبر کی بات میں کررہا ہوں وہ تو اچھی اور سکون دینے والی خبر ہے ، اطلاعات کےمطابق سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اساتذہ کے کوائف کے اندراج کیلئے تاریخ میں 16 ستمبر تک توسیع کر دی، 5 ہزار اساتذہ کے کوائف جمع ہونا ابھی بھی باقی ہیں۔

    سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم کے ذرائع کے مطابق اس رعایت کا فائدہ فی الحال صرف ہیڈ ٹیچرز اور سپروائزر اساتذہ اٹھا سکیں‌گے ، ہیڈ ٹیچرز اور اساتذہ سپروائزرز ہی اندراج کیے گئے کوائف میں تبدیلی کر سکیں گے، تاریخ گزرنے کے بعد بھی سینکڑوں اساتذہ کے کوائف ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم میں درج نہیں ہوسکے۔

    محکمہ تعلیم سکول ایجوکیشن کے ذرائع کا کہنا ہےکہ ابھی تک 3 لاکھ 43 ہزار اساتذہ نے کوائف جمع کرائے، جبکہ 5 ہزار سے زائد اساتذہ کے کوائف جمع کرانا باقی ہیں، سکول ایجوکیشن کے مطابق 16 ستمبر تک کوائف کا اندراج نہ کرنے والے اساتذہ خلاف محکمہ تعلیم حرکت میں آجائے گا اور حکم عدولی کرنے والوں کو سزا چکھنی پڑے گی

  • ملتان حادثہ : بیل گاڑی پر لداسریا نوجوان کی گردن میں‌ پھنس گیا

    ملتان حادثہ : بیل گاڑی پر لداسریا نوجوان کی گردن میں‌ پھنس گیا

    ملتان:اللہ تعالیٰ سب کو آزمائش سے بچائے اور حادثات ،سانحات اور غموں سے بھے محفوظ رکھے ، میاں چنوں کے مجاہد کا بیل گاڑی سے حادثہ جس کے نتیجے میں‌ میاں چنوں کےرہائشی مجاہدکی گردن میں حادثہ کےدوران سریاپھنس گیا،جس کی وجہ سے نوجوان سخت تکلیف میں مبتلا ہوگیا
    ·
    ذرائع کے مطابق حادثے کے بعد نوجوان کو ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بڑی مہارت سے نوجوان کی گردن مین پھنسا بیل گاڑی کا8 انچ کا سریا نکال دیا ، اطلاعات کے مطابق نوجوان مجاہد کی حالت اب قدرے بہتر ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چند دن تک زخم ٹھیک ہوجائے گا، فی الحال آرام کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز کی طرف سے تجویز کردہ ادویات کا استعمال جاری رکھیں جائیں‌