Baaghi TV

Author: +9251

  • امریکی سینیٹرز کے وفد کی جدہ میں سعودی ولی عہد سے ملاقات، اہم امور پر بات چیت

    امریکی سینیٹرز کے وفد کی جدہ میں سعودی ولی عہد سے ملاقات، اہم امور پر بات چیت

    امریکی سینیٹ کے ارکان پرمشتمل ایک وفد نے اتوار کےروز سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز سے جدہ میں ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وفد میں سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن ، ٹوڈ ینگ ، اور انٹلیجنس کمیٹی اور سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ممبر سینیٹر انگوس کنگ شامل تھے

    سعودی پریس ایجنسی ‘ایس پی اے’ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں دوست ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پرتبادلہ خیال کیا۔

    اس ملاقات میں امریکا میں سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان بن عبد العزیز نائب وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبد العزیز ، ، وزیر مملکت برائے امور خارجہ اور کابینہ کے ممبر عادل الجبیر ،انٹیلی جنس چیف خالد الحمیدان اور سعودی عرب میں امریکی سفیر نے شرکت کی جان ابی زید بھی موجود تھے۔

  • طالبان پردباؤ برقرار رکھیں گے اور افغان فوج کی مدد جاری رکھی جائے گی: امریکی وزیر خارجہ

    طالبان پردباؤ برقرار رکھیں گے اور افغان فوج کی مدد جاری رکھی جائے گی: امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان پر اپنے وعدوں پر عمل پیرا ہونے کے لئے دباؤ ڈالتا رہے گا۔ ان کا کہناہے کہ فی الحال امریکا افغان فورسز کے لئے فوجی مدد کم نہیں کرے گا۔

    اتوار کے روز ‘سی این این’ کو دیے گئے کو انٹرویو میں مائیک پومپیو نے کہا کہ اگر طالبان ہم سے کیے ہفتوں پہلے کے اپنے وعدوں کی تعمیل نہیں کرتے ہیں ۔ افغان صدر پردبائو کم نہیں کرتے تو ہم افغان سیکیورٹی فورسز کے لٓیے اپنی مدد جاری رکھیں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا تھا کہ انہوں نے جمعرات کے روز کابل میں حملے کا اعتراف کرنے کے بعد طالبان رہ نماؤں کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کردیئے ہیں۔

    ٹرمپ نے "ٹویٹر” پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں کہاکہ اگر طالبان امن مذاکرات کے دوران فائر بندی نہیں کرسکتے ہیں تو بامقصد معاہدے کے لیے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔

  • ٹرمپ کی جانب سے افغانستان پر مذاکرات معطل ، طالبان نے سو سال تک جنگ لڑنے کا اعلان کر دیا

    ٹرمپ کی جانب سے افغانستان پر مذاکرات معطل ، طالبان نے سو سال تک جنگ لڑنے کا اعلان کر دیا

    ٹرمپ کی جانب سے افغانستان پر مذاکرات معطل ، طالبان نے سو سال تک جنگ لڑنے کا اعلان کر دیا
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق طالبان اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات پر اچانک معطل کر دیے گئے جب طالبان کی امریکی صدر سے امریکا میں خفیہ ملاقات ہونے جا رہی تھی اور مذاکرات حتمی شکل اختیار کر چکے تھے. کہ اچانگ امریکی صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کر کے مذاکرات منسوخ کر دیے، بہانہ یہ بنایا کہ کابل حملے کو طالبان نے قبول کیا تھا

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر نے اپنے پیغام میں لکھا کہ آج رات طالبان رہنماؤں اورافغان صدر کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں ہونی تھیں، جب کہ کیمپ ڈیوڈ میں افغان طالبان رہنماؤں کیساتھ خفیہ ملاقات بھی طے تھی جس کو منسوخ کرتا ہوں،

    افغان طالبان باتوں باتوں میں‌ بہت مارتے ہیں‌، ٹرمپ نے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان ، باغی ٹی وی کا دعویٰ سچ نکلا
    ٹرمپ نے "ٹویٹر” پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں کہاکہ اگر طالبان امن مذاکرات کے دوران فائر بندی نہیں کرسکتے ہیں تو بامقصد معاہدے کے لیے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔

    امریکی صدر نےکہا کہ انہوں نے میری لینڈ کے کیمپ ڈیوڈ میں واقع ایک صدارتی احاطے میں اتوار کے روز طالبان کے "اعلی رہ نماؤں” کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ انہوں نے افغان صدر سے ملنے کا بھی پروگرام بنایا تھا ، لیکن جب اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی تو انہوں نے فوری طور پر بات چیت منسوخ کردی۔

    جمعرات کے روز کابل کےنواحی علاقے میں کار بم دھماکہ ہوا جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوئے تھے۔ اسی علاقے میں امریکی سفارت خانہ ، نیٹو مشن اور دیگر سفارتی مشن قائم ہیں۔

  • لبنانی ملیشیا کی اسرائیلی تنصیبات پر بمباری اور ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

    لبنانی ملیشیا کی اسرائیلی تنصیبات پر بمباری اور ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

    لبنانی میلشیا نے دعویٰ کیا ہے کہا انہوں نے اسرائیل کا ڈرون طیارہ مار گرایا ہے اور یہ طیارہ اب ہمارے ہاتھوں میں ہے

    تفصیلات کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل کا ڈرون طیارہ مارگرانے کا دعوی کیا ہے .اس کےعلاوہ لبنان کے عسکریت پسند گروہ حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی علاقے میں متعدد ٹینک شکن راکٹ داغے ہیں جس میں اسرائیلی فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم اسرائیل نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے اس کارروائی کو گزشتہ ہفتے بیروت میں اسرائیلی ڈرون حملے کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیل کے فوجی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے ایک فوجی اڈے اور فوجی گاڑیوں کی جانب راکٹ داغے گئے ہیں اور سرحدی علاقے میں واقع فوجی اڈے پر دو سے تین ٹینک شکن میزائل گرے ہیں۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں اس کے دو کارکنوں کی ہلاکت کے جواب میں اس حملے میں متعدد اسرائیلی فوجی زخمی اور ہلاک ہوئے ہیں حزب اللہ کے حملے کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائی میں جنوبی لبنان میں گولہ باری کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے 100 کے قریب گولے داغے ہیں اور اس کارروائی میں حزب اللہ کی عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  • امریکا کو مطلوب ایران کا آئل ٹینکر منزلِ مقصود پر پہنچ گیا، لدا تیل فروخت

    امریکا کو مطلوب ایران کا آئل ٹینکر منزلِ مقصود پر پہنچ گیا، لدا تیل فروخت

    امریکا کو مطلوب ایران کا تیل بردار جہاز بحرمتوسطہ میں سفر کرتا ہوا شام میں اپنی منزل مقصود پر پہنچ گیا ہے اور اس پر لدا ہوا تیل فروخت کردیا گیا ہے۔

    ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نےاتوار کو یہ اطلاع دی ہے لیکن یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ کہاں پہنچا ہے اور اس پر لدے ہوئے خام تیل کو کس ملک یا ادارے کو فروخت کیا گیا ہے۔آیا وہ اس کے حوالے کردیا گیا ہے یا ابھی تک ٹینکر پر ہی لدا ہو اہے؟

    البتہ ترجمان نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آبنائے ہُرمز میں تحویل میں لیے گئے برطانوی ٹینکر کو قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد جلد چھوڑ دیا جائے گا۔

    ایرانی تیل بردار جہاز ادریان داریا1گذشتہ ہفتے شام کے ساحلی علاقے میں غائب ہو گیا تھا اور پھر اس کی شام کی بندرگاہ طرطوس میں لنگرانداز ہونے کی سیٹلائٹ تصاویر منظرعام پر آئی تھیں۔

    جہازرانی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خرید وفروخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد اس ٹینکر پر لدے تیل کو کسی اور بحری جہاز پر منتقل کردیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکا کے محکمہ خزانہ نے گذشتہ سے ہیوستہ جمعہ کو ادریان داریا کو بلیک لسٹ کردیا تھا اور اس نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس کو قبول کرنے سے گریز کریں۔اس جہاز پر اکیس لاکھ بیرل خام تیل لدا ہوا ہےاور اس کی مالیت تیرہ کروڑ ڈالر بتائی گئی تھی۔

  • خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی واک

    خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی واک

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی) پیپلز سوشل ویلفیئر سوسائٹی رجسٹرڈ کے زیر اہتمام خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر واک کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر محکمہ سوشل ویلفیئر صدر پیپلز سوشل ویلفیئر سوسائٹی عبدالمنان چوہدری،صدر مدینہ سوشل ویلفیئر سوسائٹی سمیرا عبدالخالق،محمدمعظم،محمد شفیق کے علا وہ اساتذہ اور بچوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔واک کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر عاصمہ منظور نے کہا خواندگی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں شامل ہے جہاں شرح خواندگی 58فی صد سے بھی کم ہے ہم سب کا فرض ہے کہ تعلیم کی روشنی کو پورے ملک میں پھیلائیں۔پیپلر سوشل ویلفیئر سوسائٹی کے صدر عبدالمنان چوہدری نے کہا پاکستان خواندگی کے لحاظ سے 113ویں نمبر پر ہے پاکستان میں 10سے 3بچے سکول میں داخلہ ہی نہیں لے سکتے،سکول میں نہ جانے والوں میں زیادہ تعداد بچیوں کہ ہے۔ خواندگی کا عالمی دن منانے کا مقصد دنیا بھر کے اُن کروڑوں مرد، خواتین اور بچوں کو امید دلائی جا سکے جو اپنا نام تک نہیں لکھ سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو علم کی روشنی سے منور کرنے کا عہد کرنا ہوگا تاکہ پاکستان سے جہالت کا خاتمہ ہو سکے اور پاکستان ترقی کے مناظر طے کر سکے واک کے شرکا سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

  • شکاری پرندوں کو گن رہا ہوں ، ایم ایم عالم کے یادگار الفاظ

    شکاری پرندوں کو گن رہا ہوں ، ایم ایم عالم کے یادگار الفاظ

    ایک ۔۔ دو ۔۔ تین ۔۔ چار ۔۔۔۔۔۔ پانچ”
    سرگودھا ایئر بیس کے کنٹرول روم میں لگے وائر لیس سیٹ پر وقفے وقفے سے گنتی کی یہ آواز اُبھر رہی تھی ۔۔
    آپریٹر اس اچانگ گنتی کا سگنل کچھ سمجھ نہ پایا اور پائیلٹ سے مخاطب ہوا "کیا تم کوئی گانا گنگنا رہے ہو ۔۔؟”
    "نہیں ۔۔۔ شکاری پرندوں کو گِن رہا ہوں ۔۔” پائیلٹ نے اطمینان سے جواب دیا ۔۔
    آپریٹر دوبارہ الجھن کا شکار ہو گیا "پرندے ۔۔؟؟ کیا تم دشمن کے ہنٹرز طیاروں کی بات کر رہے ہو۔۔؟”
    "ہاں ۔۔۔۔ میرے لیئے یہ پرندوں کی مانند ہی ہیں ۔۔”
    نوجوان پائیلٹ کے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ اُبھری ۔۔
    یہ 7ستمبر 1965 کی صبح تھی جب دشمن کے طیاروں نے سرگودھا ایئر بیس پر دھاوا بول دیا ۔۔ اور اپنے ملک کے دفاع کیلئے یہ نوجوان اپنے سکاڈ کے ساتھ نکلا تھا ۔۔ لیکن اُس وقت وہ نہیں جانتا تھا کہ آنے والی دنیا کی تاریخ اسے پاک فضائیہ کے ایک "فائٹر پائیلٹ” کے بجائے "قومی ہیرو” کے نام سے لکھے گی ۔۔
    اس صبح کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس اکیلے نوجوان پائیلٹ نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے 5 جنگی طیارے مار گرائے تھے ۔۔ جن میں سے چار طیارے پہلے تیس سیکنڈ میں ہی مار گرانے کا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا تھا ۔۔ اور اب اپنے جنگی طیارے سبیئر 86 کے کاک پٹ میں بیٹھا شکار ہونے والے دشمن طیاروں کو گنتی کر رہا تھا ۔۔
    اس نوجوان ہوا باز کا نام محمد محمود عالم تھا ۔۔ جو 1965 کی پاک بھارت جنگ کا ہیرو کہلایا ۔۔
    ایم ایم عالم کا خاندان تقسیمِ ہند کے بعد کراچی میں مقیم ہوا تھا ۔۔ ایم ایم عالم نے ابتدائی تعلیم کے بعد پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی اور 1965 میں بطور سکارڈن لیڈر سرگودھا ایئر بیس پر تعینات تھے جب دشمن نے پاکستان پر حملہ کیا ۔۔ لیکن اس جنگی کارنامہ نے جہاں افواجِ پاکستان کے حوصلے بلند کیئے وہاں پاکستان کی عسکری تاریخ میں جرات و شجاعت کی ایک نئی داستان رقم کی ۔۔
    انہیں حکومتِ پاکستان کی طرف کی سے ستارہءِ جرآت اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔۔ اس عظیم کارنامے پر ان کا کہنا تھا کہ "ایک منٹ میں پانچ طیارے گرانا صرف ایک معجزہ ہے ۔۔ اور شاید اللہ تعالٰی نے میرے حب الوطنی کے جذبے کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ موقع عطا کیا” ۔۔
    انہوں نے پاک فضائیہ میں ایئر کموڈور کے عہدے تک ترقی پائی اور بعد ازاں ریٹائر منٹ لے کر اپنے اہل و عیال میں زندگی بسر کی ۔۔ 18 مارچ 2013 کی صبح پاکستانی تاریخ کا یہ عظیم ہیرو اس دنیا سے رخصت ہو گیا اور ان کے جسدِ خاکی کو جناح بیس کراچی میں فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا ۔۔
    پاکستان کیلئے ان کی گراں قدر خدمات اور عظیم تاریخی کارنامے کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے لاہور میں ایک مصروف شاہراہ اور میانوالی ایئر بیس کو سر ایم ایم عالم کے نام سے منسوب کیا ۔۔ جو رہتی دنیا تک "سر ایم ایم عالم” کے عظیم کارنامے کی یاد تازہ کرتے رہیں گے۔۔
    اللہ تعالٰی ان کو جوارِ رحمت میں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین

    پاک فوج زندہ باد
    پاک فضائیہ زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

  • 1983ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا

    1983ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا

    عرش منیر کی وفات *

    عرش منیر کا تعلق لکھنؤ سے تھا جہاں وہ برطانوی ہند کے دور میں پیدا ہوئیں۔
    ان کے شوہر شوکت تھانوی اردو کے معروف ادیب تھے اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ تھے۔
    انہی کی تحریک پر عرش منیر نے آل انڈیا ریڈیو سے صداکاری کا آغاز کیا۔
    قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئیں اور ریڈیو پاکستان سے بطور اسٹاف آرٹسٹ وابستہ ہوگئیں۔
    ٹیلی وژن کے آغاز کے بعد انہوں نے متعدد ٹی وی ڈراموں میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
    1983ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
    8 ستمبر 1998ء کو ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کی مشہور صداکارہ اور اداکارہ عرش منیر کراچی میں وفات پاگئیں اور سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔۔!!!

  • ایوب کی آمریت کے خلاف تن تنہا لڑنے والا شخص آخر کون تھا

    ایوب کی آمریت کے خلاف تن تنہا لڑنے والا شخص آخر کون تھا

    حسین شہید سہروردی کی پیدائش
    حسین شہید سہروردی 8 ستمبر 1893ءکو بنگال کے شہر مدنا پور میں پیدا ہوئے تھے۔
    قیام پاکستان سے قبل وہ سیاست میں ایک نمایاں مقام حاصل کرچکے تھے۔
    قیام پاکستان کے بعد 1949ءمیں انہوں نے جناح عوامی لیگ کی بنیاد ڈالی جو بعد میں عوامی لیگ کے نام سے معروف ہوئی۔
    1950ءکی دہائی میں شروع شروع میں وہ قائد حزب اختلاف کے فرائض انجام دیتے رہے۔
    1956ءمیں جب پاکستان کا آئین منظور ہوا تو وہ ان چند افراد میں شامل تھے جنہوں نے بعض اصولوں کی بنیاد پر اس آئین پر دستخط نہیں کیے تھے لیکن بعد ازاں وہ اسی آئین کے تحت 12ستمبر 1956ء کو ملک کے وزیر اعظم مقرر کیے گئے اور انہوں نے اس آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا۔
    1958ءمیں جب ایوب خان نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا تو سہروردی تن تنہا حزب اختلاف کی آواز بن گئے۔
    حکومت نے ایبڈو کے کالے قانون کے تحت انہیں سیاسی طور پر نااہل قرار دینے کا مقدمہ چلایا مگر انہوں نے عدالت میں اپنے اوپر لگائے گئے ہر الزام کا بھرپور دفاع کیا اور حکومت کو اپنی فصاحت‘ بلاغت اور ذہانت و قابلیت سے زچ کیے رکھا۔
    حکومت نے سہروردی کو ایبڈو کے قانون کے تحت سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا لیکن سہروردی نے اس چیلنج کو قبول کیا اور سیاسی طور پر مسلسل متحرک رہے۔
    انہوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان‘ دونوں صوبوں کے طوفانی دورے کیے اور عوام کو مارشل لاءحکام کے عزائم سے آگاہ کیا۔
    انہوں نے ایوب آمریت کے خلاف یہ جنگ تن تنہا لڑی۔
    انہیں اس کا دکھ نہیں تھا کہ حکومت ان پر حملے کرکے ان سے ایبڈو کی پابندیاں منوانا چاہتی ہے بلکہ وہ دل گرفتہ اس بات سے تھے کہ سیاست دانوں کی اکثریت نے سیاسی جنگ میں ان کا ساتھ دینے سے پہلو تہی کرلیا تھا۔
    1963ءکے اوائل میں ان پر دل کا دورہ پڑا۔ وہ علاج کروانے کے لیے یورپ گئے اور پھر آرام کرنے کی غرض سے بیروت کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے۔
    5 دسمبر 1963ءکو نصف شب کے قریب ان کی حالت اچانک خراب ہوگئی۔
    اس سے پہلے کہ انہیں کوئی طبی امداد پہنچائی جاسکتی وہ حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوٹل ہی میں دم توڑ گئے۔
    سہروردی کی میت وطن واپس لائی گئی جہاں 8 دسمبر 1963ءکو انہیں شیر بنگال مولوی فضل الحق کے پہلو میں دفن کیا گیا۔۔!!!

  • کشمیر کی موجودہ صورتحال ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے ،سراج الحق

    کشمیر کی موجودہ صورتحال ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے ،سراج الحق

    سرگودہا،بھلوال(نمائندہ باغی ٹی وی)امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی 3چک بھلوال میں آمد
    صوبائی نائب امیر ڈاکٹر مبشر احمد،ضلعی صدرسیاسی کمیٹی میسراحمد گجر کے بھانجے حافظ محمد عرفان ادریس کی وفات پر فاتحہ خوانی و اظہار تعزیت
    کشمیر ایک کربلا ہے لوگ گھروں میں محصور ہیں کرفیو لگا ہوا جو پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔
    حکومت پاکستان سے ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ عملی اقدامات کریں نہ کہ اُنکی موت کا انتظارکریں
    ہماراتعلق کشمیریوں کے ساتھ ایک جان کا ہے ہماری شہہ رگ ان کے ہاتھ میں ہے جوکٹ رہی ہے
    ہمارے سامنے مائیں،بیٹیاں دم توڑ رہی ہیں ہم اُن کے ساتھ عملی تعاون کریں کشمیر کے حوالہ سے جماعت اسلامی نے مہم شروع کی ہے ہم لوگوں کو اس مسئلہ پر بیدارکررہے ہیں بھارت کے عزائم نہ صر ف پاکستان ،کشمیر کیلئے خطرناک ہیں بلکہ بھارت کے 22کروڑ مسلمانوں کیلئے بھی خطرناک ہیں ،بھارت میں مساجد ،مسلمان ،ماﺅں ،بہنوں ،بیٹیوں کی عزت وعصمتیں داﺅ پر ہیں بھارت میں اقلیت سکھ برادری ،ہندولت برادری بھی خطرہ میں ہے یہ امتحان ہمارا ہے ہماری صلاحیت کا ہے کہ ہم صرف تماشہ کرینگے یا عملی اقدام بھی کرینگے