Baaghi TV

Author: +9251

  • صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس استاد کے تشدد سے ہلاک ہونے والے طالب علم حافظ حنین کے گھر پہنچ گئے

    صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس استاد کے تشدد سے ہلاک ہونے والے طالب علم حافظ حنین کے گھر پہنچ گئے

    لاہور : قتل کے بعد وفا کی تو کیا کی ! صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس کی نجی سکول میں استاد کے تشدد سے ہلاک ہونے والے طالب علم حافظ حنین کے گھر پہنچ گئے ، مراد راس نے مرحوم کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا اور انھیں انصاف کیلئے ہرممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    تفصیلات کے مطابق گلشن راوی میں صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے امریکن لائسٹف سکول میں ٹیچر کے تشدد سے ہلاک ہونے والے طالبعلم حافظ حنین کے گھر کا دورہ کیا، اس موقع پر سی ای او ایجوکیشن پرویز اخترخان اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر مرزا غلام حسین بھی ہمراہ تھے۔ مرحوم طالبعلم کے والد محمد بلال نے انصاف میں حائل روکاٹوں سے وزیر تعلیم کو آگاہ کیا،

    ذرائع کے مطابق اس موقع پر حافظ حنین کے والد محمد بلال کا کہنا تھا کہ سبق یاد نہ کرنے پر طالبعلم کی جان لے لینا انصاف نہیں، صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس کی آمد پر مرحوم حافظ حنین کے دوستوں نے بھرپور احتجاج کیا اورٹیچر کے خلاف بھرپور نعرے بازی کی۔

    ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مراد راس نے مرحوم کے اہلخانہ کو یقین دلایا کہ قاتل کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، مراد راس کا کہنا تھا کہ بچے پر ظلم کر کے قتل کرنے والا شخص کوئی استاد نہیں سفاک درندہ ہے، ڈاکٹر مراد راس نے مرحوم کے اہلخانہ سے تعزیت کے بعد ساندہ تھانہ کا بھی دوہ کیا اور پولیس حکام کو ملزم کے خلاف قانون کے مطابق ہر ممکن کاروائی کرنے کی ہدایت کی

  • صلاح الدین  کی غلطی کی سزا،  پنجاب پولیس اپنے آپ کو جہنمی دروغے سمجھ بیٹھی ،  ظلم اتنا کہ زبان سے بیان کرنا مشکل

    صلاح الدین کی غلطی کی سزا، پنجاب پولیس اپنے آپ کو جہنمی دروغے سمجھ بیٹھی ، ظلم اتنا کہ زبان سے بیان کرنا مشکل

    لاہور :صلاح الدین نے اے ٹی ایم کیا توڑی کہ پولیس نے مار مار کر صلاح الدین کی ہڈیاں ہی توڑدیں ، پھر اتنا مارا کہ مار مار کر مار ہی دیا ، صلاح الدین نے اے ٹی ایم مشین توڑنے کی یہ پہلی کوشش نہیں کی بلکہ اس سے پہلے بھی وہ گاہے بگاہے کوششیں کرتا رہا ہے.

    کیا پولیس اور بینک انتظامیہ کو کیا پہلے پتہ نہیں تھا کہ کوئی شخص اے ٹی ایم کو توڑنے کی کوشش کررہا ہے، یقینا بینک انتظامیہ کو پتہ ہوگا اور پولیس کو بھی آگاہ کیا ہوگا ،ایسے ہی صلاح الدین نے ایک کوشش پہلے بھی کی جس کے بارے میں باغی ٹی وی تصویر کا دوسرا رخ پیش کررہا ہے.

    https://www.youtube.com/watch?v=Z798gsVigbc

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ ATM حبیب بنک وحدت روڈ لاہور کی ہے 7 :15 منٹ پر داخل ہونے والے شخص کی رہائش بھی ساتھ وارث کالونی میں ہے اور ساتھ کھڑا شخص صلاح الدین ہے جو پولیس تشدد سے ہلاک ہوچکا ہے یہ نا تو زھنی مریض تھا نا ہی گونگا یا اللہ لوک یہ گونگا بننے کی اور اشاروں سے بات کرنے کی اداکاری کر رہا تھا .

    باغی ٹی وی کو حاصل ہونے والی اس ویڈیو میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں اس کے مطابق صلاح الدین کا طریقہ واردات یہ تھا کہ سب سے پہلے اس نے جہاں سے پیسے نکالے جاتے ہیں وہاں پر سلپ کی پرچیاں گھسا دیتا ہے تاکہ پیسے باہر نا آسکیں اور اسکے اور پھر مشین کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اسکے اندر وائس ڈیوائس رکھے وہ نیں ٹوٹتی تو مشین کی بیک سائیڈ پر ایک ڈیوائس چھپا دیتا ہے اور اسکا ریموٹ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے

    وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صلاح الدین ایک کارنر میں کھڑا ہوجاتا ہے اور پاسورڈ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور ریموٹ دباتا ہے تو وائس ڈیوائس سے آواز آتی ہے "اپکا کارڈ کیپچر ہوگیا ہے برانچ سے رابطہ کریں اس وقت برانچ بھی بند ہوتی ہے وہ بندہ باہر جاتا ہے تو یہ فورا کارڈ نکالتا ہے اور باہر نکل جاتا ہے پاس ورڈ بھی اسکے پاس ہوتا ہے کارڈ بھی اسکے پاس ہوتا ہے کسی بھی دوسری برانچ سے جا کے پیسے نکلوالیتا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق اس ویڈیوسے ظاہر ہوتا ہےکہ یہ بندہ جو 7:15 پر داخل ہوتا ہے اسکے اکاونٹ سے اس بندے نے کریم بلاک برانچ الائیڈ بنک سے 7:35 منٹ پر 25000 ہزار کی 2ٹرانزکشن کیں اور 50 ہزار نکلوا کر لے گیا صرف 20 منٹ میں لیکن پولیس تشدد کی اجازت پھر بھی نیں دی جاسکتی یہ ویڈیو 2017 کی ہے


    یہ تو تھا صلاح الدین کے حوالے سے تصویر کا دوسرا رخ لیکن یہ قوم پوچھتی ہے کہ کیا اس جرم کی سزا یہ ہے کہ کسی مجرم پر اتنا جرم کرو کہ وہ تشدد ، تکلیف اور ظلم کی وجہ سے ہی دم توڑ جائے ، کیا آئین یہ اجازت دیتا ہےکہ انسانیت کو اس طرح ذلیل ورسوا کرکے ماردیا جائے ،

    کیا دنیا میں وحشت اور درندگی اس حدتک بڑھ گئی ہے کہ پولیس جسے چاہے مار دے ، جسے چاہے بیوہ کردے ، جسے چاہے یتیم کردے اورجسے چاہے اس کے لیے قیامت کا نظام تھانے اور کچہری میں قائم کردے . ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی دنیا کا کوئی گیا گزرا معاشرہ اس بات کی اجازت دے سکتا ہے جس کا لاسئنس پنجاب پولیس نے حاصل کررکھا ہے. صلاح الدین کے ساتھ ہونے والے ظلم نے تو پتھر دل انسان کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے.

    پولیس گردی میں جانبحق ہونےوالے صلاح الدین کے گھر والوں کو ابتدا میں محض شک تھا کہ ان کی موت تشدد کا نتیجہ ہے۔ وہ پولیس کی تحویل میں ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان میں اس نوعیت کی اموات کے بارے عام تاثر یہی پایا جاتا ہے۔

    صلاح الدین کے لواحقین کا یہ شک اس وقت یقین میں بدلا جب ان کی لاش کو گجرانوالہ میں ان کے آبائی علاقے لایا گیا اور تدفین سے قبل اسے غسل دینے کا وقت آیا۔ ان کے والد اور بڑے بھائی ظہیرالدین نے اس وقت پہلی بار صلاح الدین کے بدن پر تشدد کے نشانات دیکھے۔

    بڑے بھائی ظہیرالدین بتاتے ہیں کہ جب صلاح الدین کو غسل دیا جارہا تھا تو اس دوران بہت بھیانک صورت حال دیکھنے کو ملی وہ بتاتے ہیں کہ ‘ایک بازو پر بغل کے نیچے اس طرح سے ماس اکھڑا ہوا تھا کہ جیسے استری کے ساتھ جلایا گیا ہے یا کرنٹ لگایا گیا ہے۔ جلد اتری ہوئی تھی اس کی۔’

    ظہیر الدین بتاتے ہیں‌ کہ دوسری طرف کندھے کے اوپر، کوہنی اور ہاتھ پر بھی کٹ لگے ہوئے تھے اور انھیں بعد میں سیا ہوا تھا۔ کمر پر بھی نشان تھے اور اس کے علاوہ جسم کی نازک جگہ پر تشدد کے نشانات تھے۔ وہ اس قدر سوجی ہوئی تھی کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔’

    صلاح الدین پر ہونے والے ظلم وتشدد کی داستان بیان کرتے ہوئے بڑے بھائی ظہیرالدین نے بتایا کہ صلاح الدین کے چہرے کا آدھا حصہ سیاہ ہو چکا تھا اور اس پر سوزش تھی۔ یہ سب دیکھنے کے بعد ان کے خاندان والوں کا مؤقف ہے کہ انھیں یقین ہے صلاح الدین کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔

    دوسری طرف صلاح الدین کے والد کا کہنا تھا کہ بیٹا ذہنی مریض تھا، وہ اکثر اوقات ادھر ادھر نکل جاتا تھا اور ہم نے اس کے ہاتھ پر گھر کا پتا اور نام لکھوایا تھا تاکہ وہ گم ہوجائے تو کوئی اسے گھر پہنچادے

    ذہنی معذور صلاح الدین کے قتل سے آج ریاست اور شہریوں کے مابین یہ میثاق ننگ دھڑنگ سرِ بازار جھومر ڈال رہا ہے۔ لکھ رکھیے، کسی کے خلاف کچھ نہیں ہوگا، کوئی ذمہ دار انجام کو نہیں پہنچے گا۔ معمول کی محکمانہ کارروائی ہوگی اور فائل بند کر دی جائے گی۔

    پولیس میں اس طور کا تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایسے سینکڑوں واقعات سالانہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس کام کے لیے باقاعدہ ٹارچر سیل بنے ہوئے ہیں۔ پولیس کا یہ وطیرہ بھی نیا نہیں ہے

    صلاح الدین ایسے کئی بےگناہ، سرکاری کارندوں کے تشدد سے جان سے جاتے رہیں گے۔ ریاست محض تماشا دیکھے گی۔ وزیر اعظم سے لے کر وزراء تک عمل سے تہی داماں البتہ جملے بازی میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔

    حکومت کا دامن صدچاک ہے، جنہوں نے بخیہ گری کا خواب دکھایا تھا وہ خود اسے تار تار کرنے کے درپہ ہیں تو پھر ریاست کے دامن صد چاک کی بخیہ گری کون کرے گا؟؟

  • ملائیشیا کے عوام نے مودی کے حوالے سے بڑا مطالبہ کر دیا

    ملائیشیا کے عوام نے مودی کے حوالے سے بڑا مطالبہ کر دیا

    بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے خلاف ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں نماز جمعہ کے بعد دو مظاہرے ہوئے۔

    ملائیشیا کے میڈیا کے مطابق مسجد نگرا میں نماز جمعہ کے بعد ایک مظاہرہ ہوا جس میں نے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ مظاہرین نے کشمیر زندہ باد کا نعرہ لگایا اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ہٹانے کابھی مطالبہ کیا۔

    احتجاجی رہنما اور مسلم یوتھ موومنٹ (ابیم) کے صدر محمد ریمی نے پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھائے۔

    انہوں نے میڈیا کو بتایا ،”ہمارے اراکین پارلیمنٹ کیوں خاموش ہیں؟ یہاں تک کہ برطانیہ کے ممبران پارلیمنٹ بھی کشمیر میں ہونے والے واقعات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔“

    بعدازاں، ابیم نے 40 غیر سرکاری تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمیشن کو ایک احتجاجی نوٹ پیش کیا۔

    شہرمیں دوسرا مظاہرہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے بھارتی وزیراعظم مودی کو ایوارڈ دینے کے خلاف سفارت خانے کے سامنے ہوا۔

    احتجاجی رہنما اور اکاanن رقیعت مسلم ملائیشیا (آئیریم) کے صدر امیر امساءاللہ نے کہا کہ ملائیشیا کے عوام کو کشمیر کے "دوسرا فلسطین” بننے کے امکان پر شدید تشویش ہے۔

    یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کو دی جانے والی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ بھارتی حکام نے اس وقت سے کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔

  • سیوریج مین ہول کی صفائی کرتے ہوئے باپ،بیٹا سمیت تین افراد جاں بحق

    سیوریج مین ہول کی صفائی کرتے ہوئے باپ،بیٹا سمیت تین افراد جاں بحق

    ڈیرہ غازیخان میں جامعہ ہائی سکول کے سامنے موجود سیوریج مین ہول کی صفائی کرتے ہوئے باپ،بیٹا سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے ، ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کی موت مین ہول میں دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی، اور دم گھٹنے کی بنیادی وجہ حفاظتی اقدامات سے غفلت بتائی جا رہی ہے
    جاں بحق ہونے والے تینوں خاکروب کا تعلق فیصل آباد سے تھا ،ریسکیو کے عملے کی مدد سے تینوں لاشوں کو مین ہول سے نکالا گیا تینوں کی لاشیں ان کے آبائی علاقے فیصل آباد روانہ کر دی گئی ہیں

  • یوم دفاع کی مناسبت سے مظفرگڑھ میں اسلحہ کی نمائش!

    یوم دفاع کی مناسبت سے مظفرگڑھ کی پولیس لائن میں اسلحہ نمائش کا اہتمام کیاگیا،نمائش میں رکھے گئے اسلحہ کو دیکھنے کے لئے شہریوں اور بچوں کی کثیر تعداد نے پولیس لائن کا رخ کیا۔ملک بھر کی طرح مظفرگڑھ میں بھی یوم دفاع جوش وجذبے سے منایا گیا. اس حوالے سے پنجاب پولیس کی جانب سے پولیس لائن مظفر گڑھ میں اسلحہ کی نمائش کا اہتمام کیا گیا. نمائش میں رکھے گئے اسلحہ کو دیکھنے کے لئے شہریوں اور بچوں کی کثیر تعداد نے پولیس لائن کا رخ کیا. نمائش میں شہریوں کی دلچسپی کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے زیر استعمال جدید اسلحہ، پولیس کی مختلف اقسام کی وردیاں، فضائی نگرانی والے ڈرون کیمرے ودیگر اشیاء رکھی گئیں تھیں. شہریوں اور مختلف سکولز کے بچوں سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد نے نمائش میں رکھے اسلحہ ودیگر سامان کو دیکھنے کے ساتھ سلفیاں بھی لیں.

  • معروف پاکستانی شاعر” حسنؔ عابدی صاحب “ کا یومِ وفات…

    معروف پاکستانی شاعر” حسنؔ عابدی صاحب “ کا یومِ وفات…

    آج – ۶؍ستمبر ۲۰۰۵ء

    معروف پاکستانی شاعر” حسنؔ عابدی صاحب “ کا یومِ وفات…

    نام سیّد حسن عسکری عابدی اور تخلص حسن تھا۔۷؍جولائی ۱۹۲۹ء کو قصبہ ظفرآباد، ضلع جون پور(بھارت) میں پیدا ہوئے۔ انٹر میڈیٹ شبلی کالج اور بی اے الہ آباد یونیورسٹی سے کیا۔۱۹۴۸ء کے اواخر میں روزگار کی تلاش میں حسن عابدی کراچی آگئے۔دو دفعہ جیل بھی گئے۔ رہائی کے بعد روزنامہ’’آفاق‘‘، ’’لیل ونہار‘‘، ہفت روزہ’اخبار خواتین‘ میں کام کیا۔ آخر میں روزنامہ ’’ڈان ‘‘ سے منسلک تھے۔ ۶؍ستمبر ۲۰۰۵ء کو کراچی میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ حسن عابدی کی شاعری کا آغاز دور طالب علمی ہی سے ہوگیا تھا۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’نوشت نے‘، ’جریدہ‘(شعری مجموعے)، ’کاغد کی کشتی‘، ’شریر کہیں کے‘ (بچوں کے لیے نظموں کا مجموعہ)، ’بھارت کا بحران‘(ترجمہ)، ’پاکستانی معاشرہ اور عدم رواداری‘، ’فرار ہونا حروف کا‘۔
    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:236

    🍂 معروف شاعر حسن عابدی کے یومِ وفات پر ان کے چند منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت… 🍂

    اشکوں میں پرو کے اس کی یادیں
    پانی پہ کتاب لکھ رہا ہوں

    تشنہ کاموں کو یہاں کون سبو دیتا ہے
    گل کو بھی ہاتھ لگاؤ تو لہو دیتا ہے

    اے خدا انسان کی تقسیم در تقسیم دیکھ
    پارساؤں دیوتاؤں قاتلوں کے درمیاں

    کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہے اک ترے نہ ہونے سے
    ورنہ ایسی باتوں پر کون ہاتھ ملتا ہے

    دل کی دہلیز پہ جب شام کا سایہ اترا
    افق درد سے سینے میں اجالا اترا

    یاد یاراں دل میں آئی ہوک بن کر رہ گئی
    جیسے اک زخمی پرندہ جس کے پر ٹوٹے ہوئے

    سب امیدیں مرے آشوبِ تمنا تک تھیں
    بستیاں ہو گئیں غرقاب تو دریا اترا

    شہر نا پرساں میں کچھ اپنا پتہ ملتا نہیں
    بام و در روشن ہیں لیکن راستہ ملتا نہیں

    دنیا کہاں تھی پاس وراثت کے ضمن میں
    اک دین تھا سو اس پہ لٹائے ہوئے تو ہیں

    کچھ عجب بوئے نفس آتی ہے دیواروں سے
    ہائے زنداں میں بھی کیا لوگ تھے ہم سے پہلے

  • ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا تھا ۔ پاکستان بنانے کا مقصد ایک الگ اسلامی معاشرے کی تشکیل تھا جہاں مسلمان اسلامی قوانین پر آزادی کےساتھ عمل کر سکیں ۔ لیکن بھارت کو کبھی بھی یہ بات گوارا نہیں ہوٸی کہ مسلمان پر امن طریقےسے زندگی گزاریں ۔ بھارت نے پاکستان کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کی الگ پہچان ختم کرنے کے لیے 6 ستمبر 1965 کو پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ پاکستانی افواج نے اپنی غیور اور بہادر عوام کے ساتھ مل کر دشمن کے ناپاک عزاٸم کو خاک میں ملا دیا اور اپنے دشمن کو ایسی ذلت سے دوچار کیا جس کا داغ اگر دشمن دھونا بھی چاہے تو بھی صدیوں میں بھی نا دھو پاٸے گا ۔ پاکستان میں یہ دن یعنی 6 ستمبر کا دن یوم دفاع پاکستان کہلاتا ہے اور تمام پاکستانی ہر سال یوم دفاع پاکستان پورے جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں اور اس دن بھارت کو دوبارہ باور کرواتے ہیں کہ اگر تم نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم تمہارا وہی حال کریں گے جو 1965 کی جنگ میں کیا تھا ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے 6 ستمبر 1965 کی جنگ میں ثابت کردیا کہ ہم بدر و حنین والوں کے وارث ہیں جو نہ تو ڈرتے ہیں نہ بزدلی دیکھاتے اور نہ ہی اپنے کسی دشمن سے خوف زدہ ہوتے ہیں ۔ اس جنگ میں بھی پاکستانیوں نے مسلمانوں کی تاریخ دہراتے ہوٸے دشمن کا تکبر خاک میں ملا دیا اور اپنے سے کٸی گنا بڑے دشمن کو سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا ۔

    اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم دشمن ہر واضع کر دیں کہ ہم اپنے دشمن کا نام و نشان مٹانا جانتے ہیں ، اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اپنے وطن کی طرف میلی نگاہ ڈالنے والے کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔ یوم دفاع پاکستان پاکستان کی غیور ، بہادر اور پر عزم افواج اور عوام کا دن ہے جس دن سب پاکستانی چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے وطن پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور پاکستان کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے ۔ یوم دفاع پاکستان شجاعت و بہادری کا دن ہے وہ دن جس دن پاکستانی افواج نے اپنی عوام سے مل کر اپنے سے کٸی گنا دشمن کا غرور و تکبر نیست و نابود کر دیا ۔ یوم دفاع پاکستان وہ دن ہے جس دن کی ذلت کا داغ دشمن کبھی نہیں دھو سکتا ۔ یہ دن ناقابل تسخیر جذبوں کا دن ہے ، یہ دن ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کرنے کا دن ہے ، یہ دن ہماری آن ، بان ، شان اور وطن سے محبت کے ثبوت کا دن ہے ۔ یہ میرے شہیدوں غازیوں ان کے گھر والوں کے زندہ و جاوید جذبوں اور بہادری و جرات کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ مسلمان ماٸیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو میدان جنگ میں بھیجتے ہوٸے ذرا بھی خوف نہیں کھاتیں ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک بہن اپنے بھاٸی کو وطن کی محبت میں کیسے وطن پر لٹا دیتی ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک باپ اپنا جوان خون اور ایک بھاٸی اپنا بازو ( بھاٸی ) کیسے وطن پر قربان کرتا ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں لڑکیاں جوانی میں بیوہ تو ہوسکتی ہیں لیکن کبھی شوہر کو جہاد سے غافل نہیں ہونے دیتی ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں بچے یتیم تو ہو سکتے ہیں لیکن اپنے پیارے وطن پاکستان پر کوٸی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ماتم کر کے اپنے بچوں کے لاشے وصول نہیں ہوتے بلکہ ایک جوان کی شہادت باپ اور بھاٸی کا سینہ فخرسے اور بھی چوڑا کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیاکہ یہاں ایک جوان کی شہادت بوڑھی ماں کو جوانی کی طاقت ، اور یتیموں کو وقت سے پہلے جوان کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ایک گھر میں اگر ایک جوان شہیدہو کر آٸے تو اس پر ایسا فخر ہوتا ہے کہ اسی گھر سے دو تین مرد اور رتبہ شہادت پانے کو نکلیں گے ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے اس دن دنیا کو ثابت کر دیکھایا کہ ہاں ہم زندہ قوم ہیں ، پاٸیندہ قوم ہیں ۔

    اس دن پاکستانیوں نے ثابت کر دیا کہ دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں ہرا نہیں سکتی ، دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں بزدل نہیں بنا سکتی ۔

    پاکستان نے اس سال اپنایوم دفاع پاکستان اپنی شہہ رگ کشمیر کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا علان کیا ہے ۔ بھارت جب پاکستان سے منہ کی کھاتا ہے تو وہ پاکستان کا غصہ مجبور اور بے بس کشمیریوں پر نکالتا ہے ۔ نہ صرف کشمیریوں بلکہ انڈیا میں بسنے والی اقلیتوں کا بھی جینا حرام کر دیا جاتا ہے ۔ اب بھی ایک ماہ ہونے کو ہے بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہوا ہے کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ۔ ادویات اور غذا کی انتہاٸی شدید قلت ہے ۔ عالمی میڈیا چیخ چیخ کر مودی کی ظلم و بربریت دنیا والوں کو دیکھا رہا ہے کہ کیسے بھارتی افواج کشمیری جوانوں ، بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ۔ پاکستان نے یوم دفاع پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان اس وجہ سے کیا ہے تاکہ دنیا بھر کی نظریں کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی طرف دلاٸی جاسکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پر یہ بھی واضح کیا جاٸے گا کہ ہم نے جس طرح تمہارا غرور 1965 میں خاک میں ملایا تھا اب بھی ہم تم سے اپنہ شہہ رگ چھڑوا کر تمہیں خاک میں ملاٸیں گے ۔ ابھی ہم پر امن اس لیے ہیں تاکہ یہ مسلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل ہوجاٸے لیکن اگر بھارت نے ہماری امن کی زبان نہ سمجھی تو پھر اسے اسی زبان میں سمجھاٸیں گے جو ہم ان 1965 کی جنگ میں استعمال کی تھی ۔

    اللہ پاک میرے وطن کے تمام شہیدوں اور ان کے گھر والوں کے درجات بلند فرماٸے ۔ ہمیں وطن پر مر مٹنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ ہمارے پیارے پاکستان کو شاد و آباد رکھے اور ہمیں ملی غیرت عطا فرماٸے ۔ کشمیر کو آزاد فضاٸیں نصیب فرماٸے ۔ آمین

  • 1200 خالی آسامیوں پر بھرتی کرنے کا فیصلہ ، بے روزگاروں کے لیے اچھی خبر آگئی

    1200 خالی آسامیوں پر بھرتی کرنے کا فیصلہ ، بے روزگاروں کے لیے اچھی خبر آگئی

    لاہور : پنجاب حکومت نے 14 سال بعد بلدیاتی اداروں میں تمام خالی اسامیوں پر بھرتی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔بلدیاتی اداروں میں گریڈ چودہ سے گریڈ اٹھارہ تک کی 1200 اسامیاں خالی ہیں

    تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے نئے بلدیاتی نظام کے تحت اختیارات اور اثاثہ جات کی منتقلی پر کام جاری ہے، تاہم بلدیاتی اداروں میں 2005 سے بھرتی نہ ہونے کے باعث لاہور سمیت پنجاب بھر کے بلدیاتی اداروں میں گریڈ چودہ سے گریڈ اٹھارہ تک کی 1200 اسامیاں خالی ہیں جن میں ٹاون پلاننگ ، فنانس ، ایڈمن اور انجیئرنگ ونگ شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل اسامیوں کی کمی کے باعث کئی اضلاع میں افسران کو تین سے چار عارضی چارج دے کر کام چلایا جارہا ہے جس پر سیکرٹری بلدیات نے 1200 اسامیوں پر بھرتی کی ریکوزیشن پنجاب پبلک سروس کمیشن کو بھجوا دی ہے

  • کمشنر سرگودہا کی قیادت میں یوم دفاع پاکستان اور یکجہتی کشمیر ریلی

    کمشنر سرگودہا کی قیادت میں یوم دفاع پاکستان اور یکجہتی کشمیر ریلی

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی) ڈپٹی کمشنر آسیہ گل اور کمشنر شیخ ظفر اقبال DPO حسن مشتاق سکھیرا نے یوم دفاع و شہداء پاکستان کے موقع پر شہیدوں سے یکجہتی کے لئے سکولوں کے بچوں کے ساتھ ریلی نکالی پاک فوج کے حق میں نعرہ بازی کی اور کشمیر بنے گا پاکستان کے بھی نعرے لگائے ۔ یکجہتی کشمیر اور یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے تقریب کا انعقاد بورڈ آف سیکینڈری ایجوکیشن سرگودہا میں کیا گیا جس میں طلباء کے علاوہ سول سوسائٹی صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی

  • مقبوضہ کشمیر میں کرفیو، مساجد میں جمعہ کی نماز مسلسل 5 ویں ہفتے بھی ادا نہ ہو سکی

    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو، مساجد میں جمعہ کی نماز مسلسل 5 ویں ہفتے بھی ادا نہ ہو سکی

    مقبوضہ کشمیر میں سیکڑوں افراد نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف نماز جمعہ کے بعد مظاہرے کیے۔
    ایمنسٹی انڈیا کی مقبوضہ کشمیر میں بلیک آوٹ کےخلاف مہم
    نماز جمعہ کے فوراً بعد کشمیری سرینگر ، سوپور ، حاجن ، اسلام آباد ، پلوامہ ، شوپیان اور مقبوضہ وادی کے دیگر علاقوں میں کرفیو اور دیگر پابندیوں کو توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے آزادی کے حق اور بھارت مخالف نعرے بلند کیے۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مظاہرین پر کئی مقامات پر آنسو گیس کے گولے اور چھرے فائر کیے ، جس میں متعدد کشمیری زخمی ہوگئے۔

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کو بھارتی حکومت کی طرف سے کرفیو کے نفاذ کے بعد سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور علاقے کی دیگر اہم مساجد میں جمعہ کی نماز مسلسل 5 ویں ہفتے بھی نہیں ہو سکی۔
    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ 33 روز سے کرفیو نافذ ہے اور شدید ناکہ بندی کے باعث کشمیر باقی دنیا سے منقطع ہے۔ لوگ اپنے گھروں تک ہی محدود ہیں ، شدید بیماریوں میں مبتلا مریضوں کوہسپتال تک جانے کی اجازت نہیں ہے۔ میڈیکل اسٹورز پر ادویات کا اسٹاک ختم ہوچکا ہے۔ بچوں کے لیے کھانے کی اشیاءکی شدید قلت کے باعث کشمیریوں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بازار، پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرینیں 5 اگست سے بند ہیں۔
    دریں اثنا بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو محرم کے جلوس نکالنے سے روکنے کے لیے کرفیو اور دیگر پابندیوں کو مزید سخت کردیا ہے

    دوسری طرف ، ہندواڑہ قصبے میں بھارتی پولیس نے ایک کشمیری ، ریاض احمد تھیکری کو زیر حراست شہید کردیا۔ ریاض کو بدھ کے روز گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس نے قصبہ میں واقع قلعہ آباد پولیس اسٹیشن کے لاک اپ میں اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔