Baaghi TV

Author: +9251

  • لودھراں : رات کو سکیورٹی انتظامیہ کی چیکنگ

    لودہراں (نمائندہ باغی ٹی وی) ڈی پی او ملک جمیل ظفر ہمراہ ڈپٹی کمشنر راؤ امتیاز نے محرم الحرام کے سلسلہ میں مجالس ڈیوٹی کے سیکورٹی انتظامات کو چیک کیا.

    اس موقع پر ڈی پی او ملک جمیل ظفر نے سیکورٹی اور دیگر انتظامات کے بارے میں ڈپٹی کمشنر راؤ امتیاز کو بریف کیا. ڈپٹی کمشنر راؤ امتیاز نے سیکورٹی بارے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا.ترجمان پولیس

  • بورے والا : ماڈل تھانہ سٹی کا دورہ

    بورےوالا (نمائندہ باغی ٹی وی) ڈی سی وہاڑی عرفان علی کاٹھیا اور ڈی پی او وہاڑی ثاقب سلطان کا رات اچانک بورےوالا کا تھانہ ماڈل ٹاون کا دورہ

    تفصیلات کے مطابق اور ڈی سی او عرفان علی کاٹھیا ڈی پی او وہاڑی نے تھانہ میں فرنٹ ڈیسک اور حوالات میں موجود قیدی سے ملاقات کی اور اس کے مسائل کے حوالہ سے گفتگو کی اور تھانے میں پولیس ملازمین کی حاضری اور ڈیوٹیاں چیک کیں

  • وہاڑی : میجر محمد طفیل شہید کے مزار پر حاضری

    وہاڑی (نمائندہ باغی ٹی وی) سے نشان حیدر کا اعزاز پانے والے میجر محمد طفیل شہید کے مزار پر پاک فوج کے دستے کی حاضری

    تفصیلات کے مطابق میجر محمد طفیل شہید رحمتہ اللہ علیہ جن کا تعلق ضلع وہاڑی سے ہے اور وہ ان نوجوانوں شہداء میں سے ہیں جن نے ملک کا سب سے بڑا نشان نشان حیدر حاصل کیا ہے آج ان کے مزار پر پاک فوج کے دستے نے سلامی پیش کی اور قبر پر پھول کے گلدستے چڑھائے گئے

  • بورے والا : یکجہتی کشمیر اور یوم دفاع پر اہم تقریب

    بورےوالا (نمائندہ باغی ٹی وی) ڈی پی ایس سکول بوریوالا کے سبزہ زارمیں یوم دفاع پاکستان اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے خصو صی تقریب کا انعقاد کیا گیا

    تفصیلات کے مطابق ٹھیک 12 بجے سائرن بجا یا گیا. شہدائے وطن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک منٹ کی خاموشی اختیارکی گئی۔

    تقریب میں پاکستان کا قومی ترانہ اور آزاد کشمیر کا ترانہ چلا یا گیا۔پولیس کے چاک و چوبند دستے نے پرجوش سلامی پیش کی

    تقریب میں ڈپٹی کمشنر وہاڑی عرفان علی کاٹھیا ،ڈسٹرکٹ پو لیس آفیسر ثاقب سلطان المحمود ، ایم پی اے اعجاز سلطان بندیشہ ، خالد نثار ڈوگر،عائشہ نذیر جٹ ، چوہدری ارشاد احمد آرائیں نے خصوصی شر کت کی.

  • لودھراں : حکومت پنجاب کا ٹیکس وصولی کا نیا منصوبہ

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی)حکومت پنجاب نے شہریوں سے روڈ ٹیکس وصول کرنے کا نیا منصوبہ تیار کر لیا ۔ذرائع
    تفصیلات کے مطابق پنجاب کے گیارہ مقامات پر نئے ٹول پلازے تعمیر کرنے کی منظوری دے دی گئی ۔ پنجاب حکومت نے صوبے میں گیارہ نئے ٹول ٹیکس پوائنٹ پر روڈ ٹیکس وصول کرنے کی منظوری دے دی۔ حویلی لکھا سے قصور جانے والے شہری اب 3 مقامات پر ٹول ٹیکس دیں گے ۔ گجرانوالہ سے سیالکوٹ جانے والے سیالکوٹ بائی پاس پر ٹول ٹیکس دیں گے۔
    وزیرآباد بائی پاس استعمال کرنے والے اب ٹول ٹیکس دیں گے۔
    اوکاڑہ سے قصور دیپالپور روڈ پر کھڈیاں خاص کے مقام پر ٹول ٹیکس وصول ہوگا ۔
    مریدکے سے ناروال روڈ پر نئے ٹول پلازہ سے راہدری ٹیکس لیا جائے گا ۔
    برج اٹاری کے مقام پر لاہور جڑاں والا ، فیصل آباد روڈر استعمال کرنے والوں سے ٹیکس لیا جائے گا ۔
    اڈا کمیر والا کے مقام پر ساہیوال سے عارف والا جانے والوں سے روڈ ٹیکس لیا جائے گا ۔
    ساہیوال سے پاکپتن جانے والے پولیس چیک پوسٹ کے مقام ٹول ٹیکس دیں گے ۔
    قصور روڈ سے اوکاڑہ جانے والے کھڈیاں کے بعد راجووال کے مقام پر بھی ٹیکس دیں دے گے ۔
    چیچہ وطنی بورے والا روڈ پر بھی شہریوں سے روڈ ٹیکس وصول کی جائے گی ۔
    بہاولپور سے حاصل پور، چشتیاں روڈ پر پل اسلام نگر کے مقام پر بھی شہریوں سے ٹیکس وصول کیا جائے گا.
    پنجاب حکومت کی منظوری کے بعد محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس نے باقاعدہ نوٹفکشین جاری کردیا .
    صوبائی و وفاقی وزیر، فوج، پولیس، سرکاری گاڑیاں اور ایمبولینسز ٹیکس سے مستشنی ہوں گی.
    نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے.ٹول پلازے آج سے شروع ہو گئے ہیں۔

  • اسرائیل نے شام میں ایرانی اڈوں کی تصاویر جاری کر دیں

    اسرائیل نے شام میں ایرانی اڈوں کی تصاویر جاری کر دیں

    اسرائیلی حکومت نے بعض مقامات کی تصاویر جاری کی ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر شام میں عراق اور لبنان کی سرحدوں کے نزدیک ایران کی میزائل فیکٹریاں اور فوجی اڈے ہیں۔ تل ابیب میں ذرائع اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اِفشا کی جانے والی تصاویر کا مقصد دباؤ ڈالنا اور ان مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ایک قریبی ذریعے نے باور کرایا ہے کہ لبنان کے علاقے البقاع میں اسرائیلی فوج نے جن میزائلوں کے ڈپوؤں کا انکشاف کیا تھا ، ان کا رخ اسرائیل کے شمال میں خلیج حیفا کی جانب تھا۔ یہاں پٹرول اور کیمیکل صاف کرنے کے کارخانے اور امونیا کے ڈپو واقع ہیں۔

    اسی طرح اسرائیلی فوج نے دو خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں انکشاف کیا جہاں یہ میزائل اور انہیں جدید بنانے کے آلات ذخیرہ کیے جاتے ہیں۔ عربی روزنامے الشرق الاوسط کی رپورٹ کے مطابق ان میں ایک لبنان کے علاقے البقاع میں اور دوسرا شام عراق سرحد پر واقع ہے.

    یاد رہے کہ چند روز پہلے اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں دعوی کیا گیا تھا کہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ میزائلوں کے ایسے وار ہیڈز تیار کرنے کے کمپاؤنڈ رکھتی ہے جو 10 میٹر کے دائرے میں درست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کمپاؤنڈ لبنان میں شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے "نبی شیت” میں واقع ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا یہ بھی دعوی ہے کہ حزب اللہ نے محسوس کر لیا کہ اسرائیل نے اس کے خفیہ مقام کا پتہ چلا لیا ہے جس پر حزب اللہ نے اس مقام پر موجود مہنگے ساز و سامان کو ہٹانے پر تیزی سے کام شروع کر دیا۔ کچھ عرصہ قبل اس ساز و سامان کو لبنان میں شہری مقامات منتقل کر دیا گیا جن میں دارالحکومت بیروت شامل ہے۔

  • یمن میں ایک اسکول کے تمام طلباء کے فیل وجہ جان کر ہوجائیں حیران

    یمن میں ایک اسکول کے تمام طلباء کے فیل وجہ جان کر ہوجائیں حیران

    یمن کے جنوب مشرقی علاقے حضرت موت میں ایک اسکینڈری اسکول میں میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتائج نے طلباء اور انتظامیہ کو اس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب تمام طلباءو طالبات کو فیل قرار دیا گیا۔

    بدھ کے روز جاری کردہ امتحانی نتائج میں محکمہ تعلیم کے دفترکی طرف سے بتایا گیا کہ رخیہ ڈاریکٹوریٹ کے ایک اسکول میں آرٹس کے سیکشن کے طلباء امتحان کے وقت ریاضی کے پرچے اور سائنس سیکشن کے فزکس کے پرچے میں غیرحاضر رہے جس بنا پران سب کو فیل کردیا گیا ہے۔

    طلباء کے غیر امتحانی پرچے میں غیر حاضر رہنے کی حیران کن وجہ سامنے آئی ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ طلباء نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں ریاض اور فزکس کے پرچوں میں نقل کرنے کی اجازت دی جائے مگر انتظامیہ کی طرف سے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی
    طلباء کا کہنا ہے کہ انہیں امتحان سے قبل حساب اور فزکس کے کورسز مکمل طورپر نہیں پڑھائے گئے جس پرانہوں نے امتحان سے قبل ایک ماہ تک احتجاج بھی کیا تھا مگر اسکول کے اساتذہ نے طلباء کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ انتظامیہ اور تدریسی عملے کا کہنا ہے کہ تمام طلباء کو امتحان شروع ہونے سے قبل پورا نصاب پڑھایا گیا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے طلباء نے احتجاج کیا اور دو پرچوں کا بائیکاٹ کرکے اپنا قیمتی وقت خود ہی ضائع کیا ہے

  • 6ستمبر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بطور ایک قومی دن

    6ستمبر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بطور ایک قومی دن

    *”یومِ دفاع ہر سال 6 ستمبر کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بطور ایک قومی دن منایا جاتا ہے۔”*
    یہ دن پاک بھارت جنگ 1965ء میں افواج کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

    یوم دِفاع کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

    *”تقریبات”*
    جس میں پرچم کشائی، پیریڈ، فوجی نمائشیں، انعامی تقریبات، ملی نغمے گانے، فوجی تقریبات، مختلف پروگرامز اور تقاریریں۔ وغیرہ

    اس کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دفاع اور عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کی یاددہانی ہے، تاکہ ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے سے بطریق ءاحسن نمٹا جا سکے۔

    *’ اس دن اسکول، کالجز اور جامعات کے علاوہ سرکاری دفاتر میں بھی 6 ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور بھارت کے اس حملے کی پسپائی کا تذکرہ کیا جاتا ہے جس میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔*

    ‘ہر پاکستانی اپنی فوج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے۔

    _*”6 ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخر دن ہے جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔”*_

    _*’ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے، بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی، جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔*_

    1965ء کی ہندوستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔

    پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اورجانثاری کے جرأت مندانہ جذبے نے ملکر نا ممکن کو ممکن بنا کر دکھایا۔

    اسلامی جمہوریہ پاکستان پر 1965ء میں ہندوستان کی طرف سے جنگ کا تھوپا جانا پاکستانی قوم کے ریاستی نصب العین دوقومی نظریہ، قومی اتحاد اور حب الوطنی کو بہت بڑا چیلنج تھا۔
    جسے جری قوم نے کمال و قار اور بے مثال جذبہ حریت سے قبول کیا اور لازوال قربانیوں کی مثال پیش کر کے زندہ قوم ہونے کاثبوت دیا۔
    دوران جنگ ہر پاکستانی کو ایک ہی فکر تھی کہ اُسے دشمن کا سامنا کرنا اور کامیابی پانا ہے۔

    جنگ کے دوران نہ تو جوانوں کی نظریں دشمن کی نفری اور عسکریت طاقت پر تھی اور نہ پاکستانی عوام کا دشمن کو شکت دینے کے سوا کوئی اور مقصد تھا۔
    تمام پاکستانی میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔
    اساتذہ، صحافی، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضا کار، مزدور، کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ *’’اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘‘* ستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائزہ لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹے سے *اسلامی جمہوری پاکستان* نے وہ کون سا عنصر اور جذبہ تھا، جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی نا قابل عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔
    مثلاً ہندوستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مشترکہ سرحد *’’رن آف کچھ‘‘* پر طے شدہ قضیہ کو ہندوستان نے بلا جواز زندہ کیا فوجی تصادم کے نتیجہ میں ہزیمت اٹھائی تو یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ ہندوستان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ جنگ کے لیے اپنی پسند کا محاذ منتخب کرے گا اس کے باوجود اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ہندوستان سے ملحقہ سرحدوں پر کوئی جارحانہ اقدام نہ کیے تھے۔
    صرف اپنی مسلح افواج کومعمول سے زیادہ الرٹ کررکھا تھا۔
    یہی وجہ ہے کہ *6 ستمبر* کی صبح جب ہندوستان نے حملہ کیا تو آناً فاناً ساری قوم، فوجی جوان اور افسر سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف گئے۔
    صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ایمان فروز اور جذبۂ مرد جہاد سے لبریز قوم سے خطاب کی وجہ سے ملک اللہ اکبر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔
    فیلڈ مارشل ایوب خان کے اس جملے *’’پاکستانیو! اٹھو لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اوردشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا‘‘* ان کے اس خطاب نے قوم کے اندر گویا بجلیاں بھردی تھیں۔

    پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اور پیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انہیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔

    ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ میں شام کو شراب کی محفل سجائیں گے۔

    ہماری مسلح افواج نے جواب میں کمانڈر انچیف کے منہ پر وہ طمانچے جڑے کہ وہ مرتے دم تک منہ چھپاتا پھرا۔

    *’لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے سنبھالا، جان دے دی مگر وطن کی زمین پر دشمن کا ناپاک قدم قبول نہ کیا۔*

    _*’چونڈہ کے سیکٹر پر (ہندوستان کا پسندیدہ اور اہم محاذ تھا) کو پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ وبارود سے نہیں اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر ہندوستان فوج اور ٹینکوں کا قبرستان بنادیا۔ ہندوستان کی اس سطح پر نقصان اور تباہی کو دیکھ کر بیرون ممالک سے آئے ہوئے صحافی بھی حیران اور پریشان ہوئے پاکستانی مسلح افواج کو دلیری دی۔*_

    *پاکستان نیوی:-*
    ستمبر 1965ء میں نیوی کی جنگی سرگرمیاں بھی دیگر دفاعی اداروں کی طرح قابل فخر رہیں۔
    اعلان جنگ ہونے کے ساتھ بحری یونٹس کو متحرک و فنکشنل کر کے اپنے اپنے اہداف کی طرف روانہ کیا گیا۔
    کراچی بندرگاہ کے دفاع کے ساتھ ساتھ ساحلی پٹی پر پٹرولنگ شروع کرائی گئی۔
    پاکستان کے بحری، تجارتی روٹس کی حفاظت بھی پاکستان بحریہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
    اس لیے سمندری تجارت کو بحال رکھنے کے لیے گہرے سمندروں میں بھی یونٹس بھجوائے گئے۔
    یہ امر تسلی بخش ہے کہ پوری جنگ کے دورن پاکستان کا سامان تجارت لانے لے جانے والے بحری جہاز بلا روک ٹوک اپنا سفر کرتے رہے۔
    اس کے علاوہ ہندوستانی بحریہ کو بندرگاہوں سے باہر تک نہ آنے دیا۔
    پاکستان نیوی کی کامیابی کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ ہندوستان کے تجارتی *جہاز’’سرسوتی‘‘ اور دیگر تو کتنے عرصہ تک پاکستان میں زیر حراست و حفاظت کراچی کی بندرگاہ میں رہے۔*

    *7ستمبر کا دن پاکستان کی فتح اور کامیابیوں کا دن تھا۔* پاکستان نیوی کا بحری بیڑا، جس میں پاکستان کی واحد آبدوزپی این ایس غازی بھی شامل تھی۔
    ہندوستان کے ساحلی مستقر ’’دوارکا‘‘ پرحملہ کے لیے روانہ ہوئی۔
    اس قلعہ پر نصب ریڈار ہمارے پاک فضائیہ کے آپریشنز میں ایک رکاوٹ تھی۔
    مذکورہ فلیٹ صرف 20منٹ تک اس دوار کا پر حملہ آور رہا۔ توپوں کے دھانے کھلے اور چند منٹ میں دوار کا تباہ ہو چکا تھا۔
    (پی این ایس غازی) کا خوف ہندوستان کی نیوی پر اس طرح غالب تھا کہ ہندوستانی فلیٹ بندرگاہ سے باہر آنے کی جرأت نہ کرسکا۔
    *’ہندوستانی جہاز’’تلوار‘‘کو پاکستانی بیڑے کا سراغ لگانے کے لیے بھیجا گیا مگر وہ بھی’’غازی‘‘ کے خوف سے کسی اور طرف نکل گیا۔*

    *پاک فضائیہ:-*
    ائیر مارشل اصغر خان اور ائیر مارشل نور خان جیسے قابل فخرسپوتوں اور کمانڈروں کی جنگی حکمت عملی اور فوجی ضرورتوں کے پیش نظر تجویز کردہ نصاب کے مطابق پاک فضائیہ نے اپنے دشمن کے خلاف *’’ہوا باز گھوڑوں کو تیار کر رکھا تھا‘‘* جیسا کہ مسلمانوں کو اپنے دشمن کے خلاف تیاررہنے کا حکم ہے۔
    یہ ہمارے ہوا باز 7 ستمبر کو اپنے اپنے مجوزہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دشمن پر جھپٹ پڑے۔
    *ایک طرف سکوارڈرن لیڈر ایم ایم عالم جیسے سپوت نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جہازوں کومار گرایا، تو دوسری طرف سکوارڈرن لیڈر سر فراز رفیقی اور سکوارڈرن لیڈر منیر الدین اور علاؤالدین جیسے شہیدوں نے بھی ثابت کر دیا کہ حرمت وطن کی خاطر ان کی جانوں کا نذرانہ کوئی مہنگا سودا نہیں۔*

    پاکستان کے غازی اور مجاہد ہوا بازوں نے ہندوستان کے جنگی ہوائی اڈوں کو اس طرح نقصان پہنچایا کہ ’’ہلواڑا‘‘ بنادیا۔
    پاک فضائیہ نے میدان جنگ میں اپنی کارکردگی سے ثابت کر دیا کہ وہ فرمان قائد اعظم کے مطابق Second to None ہے۔

    *پاکستانی شہری:-*
    1965ء کی جنگ کا غیر جانبداری سے اور غیر جذباتی جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بڑے سرکش اورخونخوار شکار کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چھوٹے سے جال میں آسانی سے قید کر لیا۔
    *سب کچھ قائد اعظم کے بتائے اصول( ایمان، اتحاد، نظم) پر عمل کرنے سے حاصل ہوا۔*
    کسی بھی زاویۂ نگاہ سے دیکھیں تو یہی اصول 1965ء کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی کامرکز اور محور تھے۔
    پاکستانی قوم کی طرف سے ملی یکجہتی، نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کا فرق مٹا کر اختلاف بھلا کرمتحد ہو کر دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کا بے مثال عملی مظاہرہ تھا۔
    نوٹ”- اس سال حکومت پاکستان نے یہ دن یوم دفاع اور یکجہتی کشمیر کے نام سے منایا ہے تاکہ بھارت کے سفاک چہرے کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے اور کشمیوریوں سے اظہار یکجہتی کیا جا سکے
    *”پاکستان زندہ باد پاک فوج پائندہ باد”*

  • PSL کے دوران مصباح کو بورڈ معاوضہ نہیں دیگا

    PSL کے دوران مصباح کو بورڈ معاوضہ نہیں دیگا

    پاکستان کرکٹ بورڈ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کو پی ایس ایل کے دنوں میں کسی قسم کو کوئی معاوضہ نہیں دے گا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے دو روز قبل مصباح الحق کو ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں سونپیں ، پی سی بی نے مفادات سے متصادم کی پالیسی بنانے کی بجائے یہ فیصلہ کیا کہ مصباح الحق کو ایکسپوژر دینے کے لیےپی ایس ایل کے لیے کام کرنے دیا جائے۔

    ذرائع کے مطابق پی سی بی میں تقری سے قبل مصباح الحق کا ایک فرنچائز کے ساتھ معاہدہ ہوچکا تھا، پی سی بی نے مصباح الحق کو اگرچہ پی ایس ایل میں کام کی اجازت دی ہے لیکن اس دوران بورڈ مصباح الحق کو معاہدے کے مطابق معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔

    پی سی بی کے مطابق مصباح الحق لیگ کو 5 دن پہلے سے لے کر لیگ سے 2 دن بعد تک کا معاوضہ نہیں ملے گا، سابق کوچ مکی آرتھر بھی ایک فرنچائز کے ساتھ وابستہ تھے انہیں بھی معاوضہ نہیں ملتا تھا ۔

  • ملک کے بیشتر حصوں میں بارش کا امکان

    ملک کے بیشتر حصوں میں بارش کا امکان

    موسم کا حال بتانے والوں نے بارش کی پیشگوئی کردی۔ راولپنڈی،گوجرانوالہ، لاہور، سرگودھا، فیصل آباد، مالاکنڈ، ہزارہ، مردان، پشاور،کوہاٹ، بنوں ڈویژن، اسلام آباد اور کشمیر میں کہیں کہیں جبکہ گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواوٗں اور گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے۔ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہیگا

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا۔ تاہم راولپنڈی،گوجرانوالہ،میرپورخاص، حیدرآباد ڈویژن اور اسلام آباد میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔سب سے زیادہ بارش پنجاب: منڈی بہاوٰالدین 75، جہلم 39، راولپنڈی(چکلالہ 38، شمس آباد 13)،حافظہ آباد 29، اسلام آباد(سیدپور 11، ائیر پورٹ 09، زیروپوائینٹ 06، بوکر ہ 03)، چکوال10، مری 09، منگلہ 02، سندھ: ڈپلو17،چھاچرو 08، مٹھی 07، نگرپارکر 05 اور اسلام کوٹ میں 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ درجہ حرارت بھکر، ڈی آئی خان، سکھر، تربت میں 43 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔