Baaghi TV

Author: +9251

  • 15 ملکی و غیر ملکی  پروازیں متاثر، فنی خرابی یا کوئی اور مسئلہ ، مسافر پریشان

    15 ملکی و غیر ملکی پروازیں متاثر، فنی خرابی یا کوئی اور مسئلہ ، مسافر پریشان

    لاہور : مسافرپریشان ، علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر آنے اور جانے والی ملکی و غیر ملکی 27 پروازیں متاثر، طیاروں کی کمی اور فنی خرابیوں کے باعث 15 پروازیں منسوخ جبکہ 12 تاخیر کا شکار رہیں۔اس قدر زیادہ تعداد میں پروازوں کی تاخیر بھی ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے کہ فنی خرابی سب پروازوں کو ہوئی ہے ،

    ائیرپورٹ فلائیٹ انکوائری کے مطابق گلف ائرکی بحرین جانیوالی پرواز8765 اور آنے والی پرواز 8764 ، پی آئی اے کی لندن جانے والی پرواز 757 اور آنیوالی پرواز 758 ، پی آئی اے کی کراچی جانیوالی پرواز 303 ، پی آئی اے کی ملتان جانے والی پرواز 683 اور آنیوالی پرواز 684 ،

    مصنوعی مہنگائی کرنیوالے سزا کے لیے ہوجائیں‌ تیار

    ائیر پورٹ فلائیٹ انکوائری ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی ابوظہبی جانیوالی پرواز 295اور آنے والی پرواز 296، پی آئی اے کی کراچی جانیوالی پرواز 307 اور آنے والی پرواز 306 ، پی آئی اے کی جدہ سے آنیوالی پرواز 760، پی آئی اے کی کراچی سے آنیوالی پرواز 302،ائر بلیو کی جدہ سے آنیوالی پرواز 471 ، پی آئی اے کی کراچی سے آنیوالی پرواز 789 کو منسوخ کر دیا گیا۔

    جبکہ دوسری جانب متعدد پروازیں گھنٹوں تاخیر کا شکار رہیں جن میں پی آئی اے کی ٹوکیو سے آنیوالی پرواز 853 اور پی آئی اے کی ہی مدینہ سے آنیوالی پرواز748 ایک گھنٹہ، دمام سے آنیوالی پرواز157تین گھنٹے، دمام جانیوالی پرواز 158 تین گھنٹے، اومان ائر کی مسقط سے آنیوالی پرواز 341ایک گھنٹہ، سعودی ائر کی مدینہ سے آنیوالی پرواز 734دوگھنٹے تاخیر کا شکار رہی۔

  • ایرانی صدر نے امریکا کےساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا

    ایرانی صدر نے امریکا کےساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا

    ایرن کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کاامکان نہیں ہے ۔

    تفصیلات کے مطابق ایرانی صدرحسن روحانی نے پارلیمان میں خطاب میں کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا، مذاکرات کے لیے بہت سی پیشکش ہیں ایران کا جواب ہمیشہ نہیں میں ہوگا
    ایرانی صدرحسن روحانی کا کہنا تھا کہ اگر امریکا ایران پر عائد پابندیاں اٹھا لے تو جوہری ڈیل کےفریقین کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوسکتا ہے۔

    انہوں نےمزید کہا کہ جوہری ڈیل کے دیگر فریقین کےساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

    جمعرات تک نیتجہ نہ نکلا تو ڈیل کی مزید شقوں پر عملدرآمد میں کمی کا اعلان کر دیں گے۔۔

  • پاکستان کا ہر طبقہ خصوصا نوجوان کشمیر کی آزادی کیلئے بے تاب ہیں ،گجرات میں کشمیر کانفرنس

    پاکستان کا ہر طبقہ خصوصا نوجوان کشمیر کی آزادی کیلئے بے تاب ہیں ،گجرات میں کشمیر کانفرنس

    گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی ) اپیکس کالج گجرات میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے بوائز اور گرلز کیمپسز میں سیمینارز منعقد کیے گئے، کشمیر یوتھ الائنس کے تعاون سے منعقدہ سیمینار میں صدر کشمیر یوتھ الائنس ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی، نوجوان سکالر تابش قیوم اور یوتھ ایکٹیوسٹ رضی طاہر نے اظہار خیال کیا۔ مقررین نے کہا ہے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کی پرزور مذمت کرتے ہوئے، عالمی ادارے سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا، پاکستان کا ہر طبقہ خصوصا نوجوان کشمیر کیلئے بے تاب ہیں۔ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کے بھانجے ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر  میں ہندوستان کی بدترین ریاستی دہشتگردی کے باوجود کشمیر ی مردو خواتین ، نوجوان اور طلبہ ثابت قدمی ، جرأت اور دلیری کے ساتھ آزادی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں یہ آزادی کے لیے تاریخ ساز جدوجہد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے حریت پسند عوام کی قربانیاں بے مثال، مبنی بر حق اور لائق تحسین ہیں ۔ ہندو برہمن کی اندھی اور وحشیانہ طاقت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو مغلوب کرنے میں ناکام ہے ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تابش قیوم نے کہا کہ ہندوستانی ناجائز قابض فوج کو فورسز پاور ایکٹ کے تحت تشدد ، قتل و غارتگری ، پیلٹ گنوں کے ذریعے انسانوں کی بینائی چھیننا ، طاقت کے وحشیانہ اور بلاامتیاز استعمال اور اسرائیل کے طرز ، بی جے پی اور آر ایس ایس کے تعاون سے دہشتگردی کے نت نئے طریقے استعمال کیے جارہے ہیں یہ انتہائی قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا المیہ ہے کہ جس پر عالمی برادری کی جانبداری اور عالم اسلام کی بے حسی سے انسانی المیوں کی المناک داستانیں رقم ہورہی ہیں ۔ خواتین کی عزتیں غیر محفوظ اور عورت ہر بنیادی حق سے محروم ہے۔ آخر میں نوجوان طلبہ نے کشمیری عوام کی جدوجہد کے حق میں نعرے لگائے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم کشمیر کاز کیلئے اپنے تہیں کوششیں جاری رکھیں گے۔

  • سکھ لڑکی کی شادی کے معاملے پر کمیٹی تشکیل ، کون کون اہم لوگ اس کمیٹی میں‌ شامل ہیں ، رپورٹ سامنے آگئی

    سکھ لڑکی کی شادی کے معاملے پر کمیٹی تشکیل ، کون کون اہم لوگ اس کمیٹی میں‌ شامل ہیں ، رپورٹ سامنے آگئی

    لاہور : سکھ لڑکی کے مسلمان ہونے اور مسلمان لڑکے سے شادی کا مسئلہ حل کرنے کے لیئے صوبائی وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی۔کمیٹی ان محرکات کا تعین کرے گی جو ننکانہ صاحب کے اس واقعہ کا سبب بنے اور مسئلہ کا حل تجویز کرے گی جبکہ کمیٹی بین المذاہب تعلقات کا جائزہ لے کر مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کے تدارک کیلئےاقدامات بھی تجویز کرے گی

    ذرائع کے مطابق ایوان وزیر اعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی وزیر قانون و سوشل ویلفیئر راجہ بشارت کمیٹی کے سربراہ مقرر کیے گئے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں صوبائی وزیر اوقاف، صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور، بشپ آف لاہور، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر میمپال سنگھ، صدر ہندو کونسل آف پاکستان منور چاند، ایم پی اے مسرت جمشید چیمہ اور ایم پی اے محمد عاطف شامل ہیں۔

    متشدد اور بے وفا شخص کی بیوی نہیں رہ سکتی ، محسن عباس کی اہلیہ نے خلع کا دعویٰ دائر کردیا

    وزیراعلیٰ کی طرف سے قائم کمیٹی صوبہ میں مقیم اقلیتوں کے اندر احساس تحفظ مستحکم کرنے کیلئےاقدامات تجویز کرے گی، کمیٹی مستقبل میں اس طرح کے واقعات کے دیر پا حل کیلئے میکنزم بھی تجویز کرے گی۔یاد رہے کہ کچھ دنوں سے ننکانہ کی ایک سکھ لڑکی کے مسلمان ہونے کے بعد مسلمان لڑکے سے شادی کا مسئلہ زیر بحث ہے

  • وہ مرے دل کی روشنی وہ مرے داغ لے گئی ،ایسی چلی ہوائے شام سارے چراغ لے گئی

    وہ مرے دل کی روشنی وہ مرے داغ لے گئی ،ایسی چلی ہوائے شام سارے چراغ لے گئی

    ستمبر ١٩٨٣ ؁

    *پاکستان کے ممتاز ترین نقادوں میں نمایاں۔ اینٹی غزل رجحان اور جدیدیت مخالف روپے کے لئے مشہور شاعر” سلیمؔ احمد صاحب “ کا یومِ وفات…*

    نام سلیم احمد اور تخلص سلیمؔ تھا۔ یکم دسمبر۱۹۲۷ء کو بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔میرٹھ میں حسن عسکری سے ملاقات ہوئی اور ان کے نظریات کا انھوں نے گہرا اثر قبول کیا۔ نومبر۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے۔وفاقی حکومت کی وزارت اطلاعات میں بطور مشیر ریڈیو اور ٹی وی مامور رہے۔ریڈیو اور ٹی وی کے لیے متعدد ڈرامے لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔فلموں کی کہانیاں، مکالمے اورسکرین پلے لکھے۔یہ شاعر ،ڈراما نگارکے علاوہ ایک اچھے نقاد تھے۔ یہ ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے۔ سلیم احمد ستمبر۱۹۸۳ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں :
    ‘اکائی‘، چراغ نیم شب‘، ’مشرق‘، ’ادبی اقدار‘، ’بیاض‘، ’ادھوری جدیدیت‘، ’اقبال ایک شاعر‘، ’محمد حسن عسکری۔آدمی یا انسان‘، ’غالب کون‘، ’اسلامی نظام۔ مسائل اور تجزیے‘۔
    *بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:214*

    🌸 *ممتاز شاعر سلیم احمد کے یومِ وفات پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت…* 🌸

    نکل گئے ہیں جو بادل برسنے والے تھے
    یہ شہر آب کو ترسے گا چشمِ تر کے بغیر

    اس ایک چہرے میں آباد تھے کئی چہرے
    اس ایک شخص میں کس کس کو دیکھتا تھا میں

    گھاس میں جذب ہوئے ہوں گے زمیں کے آنسو
    پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے

    اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لیے
    تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے

    سچ تو کہہ دوں مگر اس دور کے انسانوں کو
    بات جو دل سے نکلتی ہے بری لگتی ہے

    منزل کا پتا ہے نہ کسی راہ گزر کا
    بس ایک تھکن ہے کہ جو حاصل ہے سفر کا

    مجھ سے کہتا ہے کہ سائے کی طرح ساتھ ہیں ہم
    یوں نہ ملنے کا نکالا ہے بہانہ کیسا

    نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا
    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    وہ بے خودی تھی محبت کی بے رخی تو نہ تھی
    پہ اس کو ترک تعلق کو اک بہانہ ہوا

    نہیں رہا میں ترے راستے کا پتھر بھی
    وہ دن بھی تھے ترے احساس میں خدا تھا میں

    گھر میں کچھ کم ہے یہ احساس بھی ہوتا ہے سلیمؔ
    یہ بھی کھلتا نہیں کس شے کی کمی لگتی ہے

    رسمِ جہاں نہ چھوٹ سکی ترکِ عشق سے
    جب مل گئے تو پرسشِ حالات ہو گئی

    برا لگا مرے ساقی کو ذکر تشنہ لبی
    کہ یہ سوال مری بزم میں کہاں سے اٹھا

    قربِ بدن سے کم نہ ہوئے دل کے فاصلے
    اک عمر کٹ گئی کسی نا آشنا کے ساتھ

    آنسوؤں سے تو ہے خالی درد سے عاری ہوں میں
    تیری آنکھیں کانچ کی ہیں میرا دل پتھر کا ہے

    ان کو جلوت کی ہوس محفل میں تنہا کر گئی
    جو کبھی ہوتے تھے اپنی ذات سے اک انجمن

    وہ مرے دل کی روشنی وہ مرے داغ لے گئی
    ایسی چلی ہوائے شام سارے چراغ لے گئی

  • ’’مصنوعی مہنگائی کرنیوالے سزا کے لیے ہوجائیں‌تیار

    ’’مصنوعی مہنگائی کرنیوالے سزا کے لیے ہوجائیں‌تیار

    لاہور: حکومت نے مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف اہم فیصلہ کرلیا ، ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کا عاقل پورہ ڈھولنوال کا دورہ، علاقے میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائزے کے دوران کیا ،

    متشدد اور بے وفا شخص کی بیوی نہیں رہ سکتی ، محسن عباس کی اہلیہ نے خلع کا دعویٰ دائر کردیا

    صوبائی وزیرمیاں اسلم اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں‌کہ حکومتی اقدامات سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے لیکن اتنا نہیں ہوا جتنا کچھ شرپسند عناصر حکومت کو بدنام کرنے کے لیے کررہے ہیں، میاں اسلم اقبال نے کہا کہ حکومت نے مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلف سخت ایکشن کا فیصلہ کرلیا ہے، انہوں نے کہا کہ مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے لگے ہیں۔

  • برطانیہ ،قبل از انتخابات کا عندیہ

    برطانیہ ،قبل از انتخابات کا عندیہ

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ملک میں 14 اکتوبر کوعام انتخابات کرانے کا عندیہ دے دیا ہے۔
    برطانوی وزیراعظم نے ملکہ برطانیہ کو بریگزٹ ڈیل سے چند ہفتے پہلے پارلیمنٹ معطل کرنے کا کہہ دیا
    بورس جانسن نے ممبران پارلیمنٹ کو خبرداد کیا کہ اگرممبران نے بریگزٹ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی تو وہ قبل از وقت انتخابات کراسکتے ہیں۔ ممبران پارلیمان بریگزٹ میں تعطل پیدا نہ کریں اور میں نہیں چاہتا کہ برطانیہ میں نئے انتخابات ہوں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ملکہ ایلزبتھ دوئم نے وزیراعظم کی درخواست پر پارلیمان معطل کرنے کی منظوری دے دی تھی۔
    یاد رہے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد بورس جانسن نے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ یورپی یونین بریگزٹ معاہدے پر نظر ثانی کرے۔

    تین سال قبل 2016 میں ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

  • احمد راہی کو ہم سے بچھڑے 17 برس بیت گئے

    احمد راہی کو ہم سے بچھڑے 17 برس بیت گئے

    احمد راہی کمال کے شاعر تھے

    اردو اور پنجابی کے نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار احمد راہی کمال کے شاعر تھے ان کو ہم سے بچھڑے 17 برس بیت گئے
    ۔
    12 نومبر 1923ء اردو اور پنجابی کے نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار احمد راہی کی تاریخ پیدائش ہے۔احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا اور وہ امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔
    1946ء میں ان کی ایک اردو نظم آخری ملاقات افکار میں شائع ہوئی جو ان کی پہچان بن گئی۔ اس کے بعد ان کا کلام برصغیر کے مختلف ادبی جرائد کی زینت بننے لگے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور میں قیام پذیر ہوئے اور ماہنامہ سویرا کے مدیر مقرر کئے گئے۔ 1953ء میں پنجابی زبان میں ان کا شعری مجموعہ ترنجن شائع ہوا جس نے ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی حاصل کی
    ترنجن کی نظموں میں تقسیم ہند کے وقت ہونے والے ہندومسلم فسادات میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو بڑے شاعرانہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے:
    ناں کوئی سہریاں والا آیا
    تے ناں ویراں ڈولی ٹوری
    جس دے ہتھ جد ی بانہہ آئی
    لے گیا زور و زوری
    (نہ کوئی سہرے والا آیا، نہ بھائیوں نے ڈولی اٹھائی، جس کے ہاتھ جو لگی وہ اسے زبردستی لے گیا)
    اس مجموعے کا فلیپ سعادت حسن منٹو نے احمد راہی کی فرمائیش پر پنجابی میں لکھا اور یہی سعادت حسن منٹو کی اکلوتی پنجابی تحریر بھی ثابت ہوئی ۔

    اور احمد راہی کا شمار جدید پنجابی نظم کے بانیوں میں ہونے لگا۔ کم و بیش اسی زمانے میں انہوں نے پنجابی فلموں میں نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ ان کی پہلی فلم بیلی تھی جس میں انہوں چار گیت لکھے تھے اور چاروں کے چاروں بہت خاصے مقبول ہوئے تھے اس کے بعد انہوں نے لاتعداد پنجابی فلموں کے لئے نغمات تحریر کئے جن میں شہری بابو، ماہی منڈا، پینگاں، چھومنتر، یکے والی ، پلکاں، گڈو، سہتی ، یار بیلی ، مفت بر، رشتہ، مہندی والے ہتھ، بھرجائی، اک پردیسی اک مٹیار، وچھوڑا، باڈی گارڈ، قسمت، ہیر رانجھا، مرزا جٹ، سسی پنوں، نکے ہوندیاں دا پیار، ناجو اور دل دیاں لگیاںکے نام سرفہرست تھے، اس کے علاوہ انہوں نے کئی اردو فلموں کے لئے بھی کئی نغمات تحریر کئے جن میں فلم آزاد، کلرک اور باجی کے نام شامل ہیں۔
    احمد راہی کی دیگر تصانیف میں ان کے شعری مجموعے رت آئے رت جائے، رگ جاں اور فلمی نغمات کا مجموعہ نمی نمی وا شامل ہیں۔
    احمد راہی نے متعدد ایوارڈز بھی حاصل کئے تھے جن میں سب سے بڑا ایوارڈ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی تھا جو انہیں 1997ء میں حکومت پاکستان نے عطا کیا تھا۔ احمد راہی کا انتقال 2 ستمبر بروز سوموار 2002ء کو لاہور میں ہوا اور وہ لاہور میانی صاحب قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    زخم کھانا تو اپنی عادت ہے
    مسکرانا تو اپنی عادت ہے

    روشنی ہو کہ گھپ اندھیرا ہو
    دل جلانا تو اپنی عادت ہے

    آپ کب تک سنبھالیے گا ہمیں
    لڑکھڑانا تو اپنی عادت ہے

    دوستوں کے دیے ہوئے طعنے
    بھول جانا تو اپنی عادت ہے

    اُن کی آنکھوں سے کیا گلہ راہی
    ڈوب جانا تو اپنی عادت ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل پہ جب درد کی افتاد پڑی ہوتی ہے
    دوستو! وہ تو قیامت کی گھڑی ہوتی ہے

    جس طرف جائیں ، جہاں جائیں بھری دنیا میں
    راستہ روکے تری یاد کھڑی ہوتی ہے

    جس نے مَر مَر کے گزاری ہو ، یہ اس سے پوچھو
    ہجر کی رات بھلا کتنی کڑی ہوتی ہے

    ہنستے ہونٹوں سے بھی جھڑتے ہیں فسانے غم کے
    خشک آنکھوں میں بھی ساون کی جھڑی ہوتی ہے

    جب کوئی شخص ، کہیں ذکرِ وفا کرتا ہے
    دل کو اے دوستو! تکلیف بڑی ہوتی ہے

    اس طرح بیٹھے ہیں وہ آج مری محفل میں
    جس طرح شیشے میں تصویر جڑی ہوتی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا
    درد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گا

    کون ہوتا ہے کسی کا شبِ تنہائی میں
    غمِ فرقت ہی غمِ عشق کو بہلائے گا

    چاند کے پہلو میں دَم سادھ کے روتی ہے کرن
    آج تاروں کا فسوں خاک نظر آئے گا

    راکھ میں آگ بھی ہے غمِ محرومی کی
    راکھ ہو کر بھی یہ شعلہ ہمیں سلگائے گا

    وقت خاموش ہے روٹھے ہوئے یاروں کی طرح
    کون لَو دیتے ہوئے زخموں کو سہلائے گا

    دھوپ کو دیکھ کے اس جسم پہ پڑتی ہے چمک
    چھاؤں دیکھیں گے تو اس زلف کا دھیان آئے گا

    زندگی! چل کہ ذرا موت کا دم خم دیکھیں
    ورنہ یہ جذبہ لحَد تک ہمیں لے جائے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عام ھے کوچہ و بازار میں سرکار کی بات
    اب سر راہ بھی ھوتی ھے ، سردار کی بات

    ھم جو کرتے ھیں کہیں مصر کے بازار کی بات
    لوگ پا لیتے ھیں یوسف کے خریدار کی بات

    مدتوں لب پہ رھی نرگس بیمار کی بات
    کیجیئے اہل چمن ، اب خلش خار کی بات

    غنچے دل تنگ ،ھوا بند ، نشیمن ویراں
    باعث مرگ ھے مرے لیے غم خوار کی بات

    بوئے گل لے کے صبا کنج قفس تک پہنچی
    لاکھ پردوں میں بھی پھیلی شب گلزار کی بات

    زندگی درد میں ڈوبی ھوئی لے ھے راہی
    ایسے عالم میں کسے یاد رھے پیار کی بات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گردش جام نہیں ، گردش ایام تو ھے
    سعی ناکام سہی ، پھر بھی کوئی کام تو ھے

    دل کی بے تابی کا آخر کہیں انجام تو ھے
    میری قسمت میں نہیں ، دہر میں آرام تو ھے

    مائل لطف و کرم حسن دلآرام تو ھے
    میری خاطر نہ سہی ، کوئی سر بام تو ھے

    تو نہیں میرا مسیحا ، میرا قاتل ھی سہی
    مجھ سے وابستہ کسی طور ترا نام تو ھے

    حلقہ موج میں ایک اور سفینہ آیا
    ساحل بحر پر کہرام کا ہنگام تو ھے
    تنگ دستو ، تہی دامانو ، کرو شکر خدا
    مئے گلفام نہیں ھے ، شفق شام تو ھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طویل راتوں کی خامشی میں مری فغاں تھک کے سو گئ ھے
    تمہاری آنکھوں نے جو کہی تھی وہ داستاں تھک کے سو گئ ھے

    مرے خیالوں میں آج بھی خوب عہد رفتہ کے جاگتے ھیں
    تمہارے پہلو میں خواہش یاد پاستاں تھک کے سو گئ ھے

    گلہ نہیں تجھ سے زندگی کے وہ نظریے ھی بدل گئے ھیں
    مری وفا ، وہ ترے تغافل کی نوحہ خواں تھک سو گئ ھے

    سحر کی امید اب کسے ھے ،سحر کی امید ھو بھی کیسے
    کہ زیست امید و نا امیدی کے درمیاں تھک کے سو گئ ھے

    نہ جانے کس ادھیڑ بن میں الجھ گیا ھوں کہ مجھ کو راہی
    خبر نہیں کچھ ، وہ آرزوئے سکوں کہاں تھک کے سو گئ ھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کوئی بتلائے کہ کیا ھیں یارو
    ھم بگولے کہ ھوا ھیں یارو

    تنگ ھے وسعت صحرائے جنوں
    ولولے دل کے سوا ھیں یارو

    سرد و بے رنگ ھے ذرہ ذرہ
    گرمئ رنگ صدا ھیں یارو

    شبنمستان گل نغمہ میں
    نکہت صبح وفا ھیں یارو

    جلنے والوں کے جگر ھیں دل ھیں
    کھلنے والوں کی ادا ھیں یارو

    جن کے قدموں سے ھیں گلزار یہ دشت
    ھم وھی آبلہ پا ھیں یارو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی حیات کا غم ھے ، کبھی ترا غم ھے
    ھر ایک رنگ میں ناکامیوں کا ماتم ھے

    خیال تھا ترے پہلو میں کچھ سکون ھو گا
    مگر یہاں بھی وہی اضطراب پیہم ھے

    مرے حبیب مری مسکراہٹوں پہ نہ جا
    خدا گواہ ، مجھے آج بھی ترا غم ھے

    سحر سے رشتہء امید باندھنے والے
    چراغ زیست کی لو شام ھی سے مدھم ھے

    یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی راہی
    قدم قدم پہ جہاں بے بسی کا عالم ھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کوئی حسرت بھی نہیں ، کوئی تمنا بھی نہیں
    دل وہ آنسو جو کسی آنکھ سے چھلکا بھی نہیں

    روٹھ کر بیٹھ گئ ہمت دشوار پسند
    راہ میں اب کوئی جلتا ھوا صحرا بھی نہیں

    آگے کچھ لوگ ھمیں دیکھ کے ھنس دیتے تھے
    اب یہ عالم ھے کہ کوئی دیکھنے والا بھی نہیں

    درد وہ آگ کہ بجھتی نہیں جلتی بھی نہیں
    یاد وہ زخم کہ بھرتا نہیں ، رستا بھی نہیں

    باد باں کھول کے بیٹھے ھیں سفینوں والے
    پار اترنے کے لیے ہلکا سا جھونکا بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند مشہور گیت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سن ونجلی دی مٹھڑی تان وے –
    فلم: ہیر رانجھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نِمّی نِمّی وا وگدی

    رُکھ ڈول دے تے اکھ نئیں لگ دی
    نِمّی نِمّی وا وگدی
    ساہنوں ٹھگ گئی یاد اِک ٹھگ دی
    نِمّی نِمّی وا وگدی

    راہواں تَک تَک تَک تَک تھک دیاں نہ
    اکھاں اَک دیاں نہ
    ہُن بِناں دیکھنے دے رہ سَک دیاں نہ
    اوہدی تاہنگ تے نالے ڈری جَگ دی
    نِمّی نِمّی وا وگدی
    ساہنوں ٹھگ گئی یاد اِک ٹھگ دی
    نِمّی نِمّی وا وگدی

    لوکاں کولوں تے لُکا لواں گی ہَس ہَس کے
    جھوٹ سچ دَس کے
    پَر دل کولوں میں جاواں گی کتھے نَس کے
    لاٹ پیار والی لَٹ لَٹ جگ دی
    نِمّی نِمّی وا وگدی
    ساہنوں ٹھگ گئی یاد اِک ٹھگ دی
    نِمّی نِمّی وا وگدی

    جاواں پانی بھَرنے نوں تَڑکے تَڑکے
    میرا دل دھڑکے
    جے بُلا لیا اوہنے کِتے بانہہ پھَڑ کے
    ڈھیری بھَخ پئو دَبی ہوئی اَگ دی
    نِمّی نِمّی وا وگدی
    ساہنوں ٹھگ گئی یاد اِک ٹھگ دی
    نِمّی نِمّی وا وگدی
    رُکھ ڈول دے تے اکھ نئیں لگ دی
    نِمّی نِمّی وا وگدی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک نظم
    ونج کرن ونجارے-ترنجن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نی مٹیارے

    پہلاں ہس ہس لاندے
    گوہڑیاں پاندے
    ہس دیاں رَس دیاں مٹیاراں نوں
    ہنجوآں دے وس پا کے
    مڑ ٹُر جاندے
    بدلاں دے پرچھانویں
    نی ایہ بجلی دے لشکارے
    نی مٹیارے
    ونج کرن ونجارے

    لیہندیوں سورج کدی نا چڑھیا دنیا جانے
    بِنا ڈور نا چڑھی کدی گڈی اسمانے
    ڈوہنگھے دریا ویری چھلاں
    سوچ سمجھ لے ساریاں گلاں
    کچے گھڑے دغا دے جاندے
    پہنچ کے ادھ وچکارے

    نی مٹیارے
    ونج کرن ونجارے

    جے کر توں جگراتے کٹنے
    جے کر توں ہیرے نے چٹنے
    جے کر توں راتاں نوں سورج
    دن نوں لبھنے تارے
    تاں تیری مڑضی مٹیارے

    نی مٹیارے
    ونج کرن ونجارے

  • متشدد اور بے وفا شخص کی بیوی نہیں رہ سکتی ، محسن عباس کی اہلیہ نے خلع کا دعویٰ دائر کردیا

    متشدد اور بے وفا شخص کی بیوی نہیں رہ سکتی ، محسن عباس کی اہلیہ نے خلع کا دعویٰ دائر کردیا

    لاہور : بے وفا شوہراور پھر بے رحم متشدد شخص ، ایسے ظالم شخص کی بیوی رہنے کا کوئی فائدہ نہیں، اطلاعات کے مطابق محبت شادی اور اب علیحدگی، لائم لائٹ کی دنیا سے ایک اور بری خبر،معروف اداکار محسن عباس کی اہلیہ نے فیملی کورٹ میں خلع کا دعویٰ دائر کردیا۔

    ذرائع کے مطابق معروف اداکار محسن عباس کی بیوی فاطمہ سہیل نے فیملی کورٹ میں خلع کا دعویٰ دائر کردیا، فاطمہ سہیل نے درخواست میں اپنے شوہر پر تشدد اور بے وفائی کا الزام عائد کردیا، فاطمہ سہیل نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ عدالت خلع کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ڈگری جاری کرے۔

    یاد رہے کہ محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے 20 جولائی کو اپنے شوہر پر گھریلو تشدد اور شادی شدہ ہونے کے باوجود افیئرز چلانے کا الزام عائد کیا تھا، فاطمہ سہیل نےاس کیخلاف تھانہ ڈیفنس میں درخواست دی تھی جس میں فاطمہ سہیل نے کہا کہ محسن عباس نے کھلے عام نازش جہانگیر نامی خاتون سے ناجائز تعلقات استوار کیے اور سرعام اس کو گھر لے کر آتا رہا۔

    محسن عباس کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس سے قبل فاطمہ سہیل نے محسن عباس پر پیسوں کی ہیرا پھیری کا بھی الزام لگایا تھا، 29 اگست کو تفتیشی رپورٹ میں معروف اداکار محسن عباس کو اہلیہ فاطمہ سہیل کو دھمکیاں دینے کا قصور وار قرار دیا گیا تھا۔

  • چارسدہ کالج میں ایک ہفتے سے بجلی غائب طلبہ پسینے سے شرابور پانی کی قلت۔

    چارسدہ کالج میں ایک ہفتے سے بجلی غائب طلبہ پسینے سے شرابور پانی کی قلت۔

    چارسدہ (نمائندہ باغی ٹی وی)
    تفصیلات کے مطابق چارسدہ کالج کا ٹرانسفارمر ایک ہفتے سے خراب ہے جس کی وجہ سے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، گرمی کی وجہ سے سینکڑوں طلبہ و طالبات کلاسوں میں پسینے سے شرابور ہورہے ہیں، واش رومز اور پینے کا پانی ناپیدہے۔ہاسٹل کے طلباء ساری رات مچھروں کے ساتھ کبڈی میں گزارتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحت پر برا اثر پڑرہا ہے
    بجلی کی وجہ سے کمپیوٹرز اور الیکٹرانک لیبز بند جس کی وجہ سے طلباء کو ریسرچ میں مشکلات کا سامناہے۔
    ان خیالات کا اظہار اسلامی جمعیت طلبہ  علاقہ کالجز کے ناظم نسیم الرحمان اور ناظم کالج پیر عامر نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کیا۔۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے سے بجلی منقطع ہے لیکن کالج انتظامیہ اور محکمہ واپڈا کے کانوں پر جو تک نہیں رینگی۔ انتظامیہ جلد از جلد اس مسئلے کا حل نکالے بصورت دیگر تمام طلباء احتجاج پر مجبور ہوکر فاروق اعظم چوک چارسدہ  میں ڈیرہ ڈالینگے چارسدہ کالج کے چھتیس سو طلباء و طالبات اگر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے تو انتظامیہ کے ساتھ پھر کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ دور دراز سے آنے والے غریب طلبہ پڑھنے آتے ہیں جبکہ یہاں سہولیات کی عدم دستیابی سے ان کو  مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔