Baaghi TV

Author: +9251

  • 22 برس گزر جانے کے باوجود نصرت فتح علی خان آج بھی دلوں پر راج کرتے ہیں

    22 برس گزر جانے کے باوجود نصرت فتح علی خان آج بھی دلوں پر راج کرتے ہیں

    شہنشاہ قوال اور موسیقی کے بے تاج بادشاہ استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 22 برس بیت گئے لیکن ان کی خوبصورت آواز کا جادو آج بھی دلوں پر راج کرتا ہے۔
    نصرت فتح علی خان نے 16 سال کی عمر میں صوفی قوالی کا رنگ اپنایا اور قوالی کے ساتھ غزلیں،کلاسیکل اور صوفی گیت بھی گائے۔ وہ ہارمونیم، طبلہ اور دیگر آلات بجانے کے فن سے بھی خوب آشنا تھے۔
    پاکستان، بھارت، برطانیہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے منفرد صوفی انداز سے سب کو اپنا گرویدہ بنانے والے استاد نصرت فتح علی خان نے اردو، پنجابی اور فارسی زبان میں قوالیاں اور غزلیں گائیں جنہیں بے حد سراہا گیا۔
    انہوں نے قوالیوں اور غزلوں سمیت ملی نغمے بھی گائے جن میں ’میرا پیغام پاکستان‘ سب سے زیادہ مقبول ہے۔
    نصرت فتح علی خان نے متعدد قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کیے۔
    قوال کی حیثیت سے ایک سو پچیس آڈیو البم ان کا ایک ایسا ریکارڈ ہے، جسے توڑنے والا شاید دوردورتک کوئی نہیں، ان کی شہرت نے انہیں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ دلوائی، دم مست قلندر مست ، علی مولا علی ، یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے، میرا پیاگھر آیا، اللہ ہو اللہ ہو اور کینا سوہنا تینوں رب نے بنایا، جیسے البم ان کے کریڈٹ پر ہیں، ان کے نام کے ساتھ کئی یادگار قوالیاں اور گیت بھی جڑے ہیں۔انہوں نے متعدد بھارتی فلموں کے گانوں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا، خاص کر بالی وڈ کی مشہور فلم دھڑکن کا گانا ‘دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے’ کو تو بے حد پزیرائی ملی۔
    ٹائم میگزین نے دوہزار چھ میں ایشین ہیروز کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل کیا، بطور قوال ا اس عظیم فنکار کو کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ن کی کئی قوالیوں اور گیتوں کو پاکستان اوربھارت کے گلوکاروں نے اپنے اپنے انداز میں گایا ہے۔
    شہنشاہ قوال نصرت فتح علی خان جگر اور گردے کی تکلیف کے باعث 16 اگست 1997 کو دنیائے فانی سے کوچ کرگئے لیکن ان کے گائے گئے گیت امر ہوگئے آج ان کی بائیسویں برسی منائی جا رہی ہے

  • شجاع آباد بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ میں تبدیل

    شجاع آباد بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ میں تبدیل

    شجاع آباد (نمائندہ باغی ٹی وی ) ملک کے دیگر چھوٹے اور بڑے شہروں کی طرح شجاعباد میں بھی آج 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر یوم سیاہ منایا گیا اس موقع پر ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا اس ریلی کا انعقاد راؤ عمر نے کروایا ریلی میں موجود شرکاء نے بھارت مردہ باد مودی مردہ باد کے نعرے لگائے مقررین نے اپنے خطاب میں کہا بھارت کا کشمیر پر ناجائز قبضہ ناقابل برداشت ہے ایک عرصہ دراز سے مظلوم کشمیریوں پر بھارت نے اپنے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ دیے ہیں ہماری ماؤں بہنوں کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں عورتوں بچوں بوڑھوں اور نوجوانوں کو قتل کیا جا رہا ہے ۔بڑے افسوس کی بات ہے عالمی طاقتیں اب بھی اتنا ظلم و جبر دیکھنے کے بعد خاموش ہیں ۔مقررین نے مزید کہا کہ کشمیری بھائی خود کو اکیلا نہ سمجھیں پاکستانی پوری قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔آج بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی قوم اور کشمیری عوام نے اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منا کر ثابت کردیا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور انشاءاللہ بہت جلد کشمیر پاکستان بنے گا ۔کشمیر کشمیریوں کا ہے اب ہم بھارت کو کشمیر سے باہر نکال کر ہی دم لیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوجاتا اس وقت تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی رانا اظہر منیر نمائندہ باغی ٹی وی ملتان شجاع آباد

  • شامی فوج کی شاندار پیشقدمی ، کس سے مقابلہ جاری ہے. ضرور جانیئے

    شامی فوج کی شاندار پیشقدمی ، کس سے مقابلہ جاری ہے. ضرور جانیئے

    ادلب : اسد انتظامیہ کی طرف سے یہ اطلاعات گردش کررہی ہیں کہ شامی فوج نے ادلب کے مغرب اور لاذقیہ کے مضافات میں واقع اسٹریٹیجک شہر کبانی کی جانب شاندار پیشقدمی کی ہے۔شام میں عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے کبانی شہر کے قریب واقع پہاڑیوں پر اپنا کنٹرول کرکے لاذقیہ کے مضافات میں موجود دہشت گردوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔

    ادلب ، صوبے حماہ سے شامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کبانی شہر اور اس کے اطراف کی پہاڑیوں پر شامی فوج کا کنٹرول ہوجانے کی صورت میں، داما، السرمانیہ، الناجیہ اور جسر الشغور شہروں پر بھی شامی فوج کا کنٹرول ہوجائے گا۔

    ذرائع کے مطابق شامی فوج نے صوبہ ادلب کے جنوبی علاقے کے شہروں کفرعین، تل عاس او الہبیط کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرالیا تھا۔ شام کے صوبے حماہ اور ادلب دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے رہ گئے ہیں جبکہ شامی فوج نے ملک کے بیشتر علاقوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرالیا ہے۔

  • جیرمی کوربن نے بورس جانس کو گرانے کا منصوبہ بنا لیا ،

    جیرمی کوربن نے بورس جانس کو گرانے کا منصوبہ بنا لیا ،

    لندن : برطانیہ کے نومنتخب وزیراعظم بورس جانسن کو آتے ہی مشکلات کا سامنا، برطانیہ میں حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن نے وزیراعظم بورس جانسن کے مواخذے کا مطالبہ کردیا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم بورس جانسن نے بریگزٹ کے معاملے میں حزب اختلاف پر یورپی یونین کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق لیبر پارٹی کے رہنما اور قائد حزب اختلاف جیرمی کوربن نے ایوان نمائندگان کے نام ایک خط میں اپیل کی ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن کا مواخذہ کیا جائے۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ایوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بغیر معاہدے کے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے منصوبے کی مخالفت کریں۔جیرمی کوربن نے کہا کہ وہ جلد ہی ایوان میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دیں گے۔

  • اردو کے معروف ادیب اور محقق کا آج یوم پیدائش ہے

    اردو کے معروف ادیب اور محقق کا آج یوم پیدائش ہے

    سید وقار عظیم کی پیدائش *

    17 نومبر 1976ء کو اردو کے معروف ادیب، نقاد،مترجم، محقق اور ماہر تعلیم پروفیسر سید وقار عظیم وفات پاگئے۔

    سید وقار عظیم 15 اگست 1910ء کو الٰہ آباد (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی ٹی کیا۔ الٰہ آباد یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ دہلی سے تدریس کا آغاز کیا۔ اسی دوران حکومت ہند کے سرکاری ادبی جریدے آج کل کے مدیر ہوگئے۔ قیام پاکستان کے بعد محکمہ ٔ مطبوعات و فلم ماہ نو کے بانی مدیر مقرر ہوئے۔ 1949ء میں لاہور چلے آئے اورنقوش کی ادارت سنبھالی۔ 1950ء میں اورینٹل کالج لاہور میں اردو کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ اور 1970ء تک اسی کالج سے وابستہ رہے۔ اسی دوران اقبال اکیڈمی، مرکزی اردو بورڈ مجلس ترقی ادب، مجلس زبان، دفتری اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ و تصنیف و تالیف میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ غالب کی صد سالہ تقریبات پر 1969ء میں انہیں پہلا غالب پروفیسر مقرر کیا گیا۔ سید وقار عظیم، اردو کے افسانوی ادب کے اولین نقاد شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اٹھارہ کتابیں تصنیف کیں جن میں افسانہ نگار، داستان سے افسانے تک، نیا افسانہ، ہماری داستانیں، فن اور فن کار، ہمارے افسانے، شرح اندر سبھا، اقبال بطور شاعر، فلسفی اور اقبالیات کا تنقیدی جائزہ کے نام سرفہرست ہیں۔ سید وقار عظیم نے 17 نومبر 1976ء کو لاہور میں وفات پائی اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔۔!!!

  • شیخ امام بخش ناسخ کون تھے اور ان کی خدمات کیا ہیں

    شیخ امام بخش ناسخ کون تھے اور ان کی خدمات کیا ہیں

    *آج – ١٥ ؍ اگست ١٩٣٨*

    *لکھنؤ کے ممتاز اور رجحان ساز کلاسیکی شاعر, غالبؔ کے ہم عصر، بانی زبان دان دبستانِ لکھنؤ اور زبان شناس مقبول استاد شاعر” شیخ امام بخش ناسخ ؔ صاحب “ کا یومِ وفات…*

    نام *شیخ امام بخش، ناسخ* تخلص۔ *۱۰ ؍اپریل ۱۷۷۲ء* کو *فیض آباد* میں پیدا ہوئے۔ کہاجاتا ہے کہ ایک شخص مسمیٰ خدا بخش خیمہ دوزنے، جو لاہور کا ایک دولت مند سوداگر تھا اور اس کی کوئی اولاد نہ تھی، ان کو متبنّٰی کرلیا تھا۔ ناسخ سے اسے اولاد کی طرح محبت تھی اور ان کی تعلیم وتربیت کا خاص خیال رکھا ۔ *محمد عیسیٰ* جو *مصحفیؔ* کے شاگرد تھے ان سے مشورہ سخن کرتے تھے۔ ناسخ کو ورزش کا بہت شوق تھا۔بڑ ے تن وتوش اور قوی ہیکل آدمی تھے۔ خوراک بہت تھی۔ تمام عمر مجرد رہے۔بہت وضع دار آدمی تھے۔ *غازی الدین حیدر* کے زمانے میں لکھنؤ گئے۔ بادشاہ موصوف ان کو دربار سے متعلق کرنا چاہتے تھے اور *ملک الشعرا* کا خطاب دینا چاہتے تھے۔ ناسخ نے خطاب قبول نہیں کیا۔ بادشاہ کو غصہ آگیا اور *ناسخ* کو لکھنؤ چھوڑنا پڑا۔ *١٥ ؍اگست ۱۸۳۸ء* کو انتقال کرگئے۔ دو دیوان ان کی یادگار ہیں۔
    *وزیرؔ،بحرؔ،برقؔ ، رشکؔ، منیرؔ* ان کے شاگرد تھے۔ *ناسخؔ* کو *دبستان لکھنؤ کا بانی زبان دان* اور *زباں شناس* کہا گیا ہے۔تاریخ گوئی میں ان کو خاص ملکہ تھا۔

    *ممتاز شاعر امام بخش ناسخ ؔ کے یومِ وفات پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ عقیدت…*

    *آنے میں سدا دیر لگاتے ہی رہے تم*
    *جاتے رہے ہم جان سے آتے ہی رہے تم*

    اے اجل ایک دن آخر تجھے آنا ہے ولے
    آج آتی شبِ فرقت میں تو احساں ہوتا

    دریائے حسن اور بھی دو ہاتھ بڑھ گیا
    انگڑائی اس نے نشے میں لی جب اٹھا کے ہاتھ

    *دیکھ کر تجھ کو قدم اٹھ نہیں سکتا اپنا*
    *بن گئے صورتِ دیوار ترے کوچے میں*

    فُرقتِ یار میں انسان ہوں میں یا کہ سحاب
    ہر برس آ کے رلا جاتی ہے برسات مجھے

    ہم مے کشوں کو ڈر نہیں مرنے کا محتسب
    فردوس میں بھی سنتے ہیں نہرِ شراب ہے

    گیا وہ چھوڑ کر رستے میں مجھ کو
    اب اس کا نقشِ پا ہے اور میں ہوں

    *فرقت قبولِ رشک کے صدمے نہیں قبول*
    *کیا آئیں ہم رقیب تیری انجمن میں ہے*

    جس قدر ہم سے تم ہوئے نزدیک
    اس قدر دور کر دیا ہم کو

    *جستجو کرنی ہر اک امر میں نادانی ہے*
    *جو کہ پیشانی پہ لکھی ہے وہ پیش آنی ہے*

    کام اوروں کے جاری رہیں ناکام رہیں ہم
    اب آپ کی سرکار میں کیا کام ہمارا

    *رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیں*
    *جس سر زمیں کے ہم ہیں وہاں آسماں نہیں*

    کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی تلوار
    تلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتار

    *کس طرح چھوڑوں یکایک تیری زلفوں کا خیال*
    *ایک مدت کے یہ کالے ناگ ہیں پالے ہوئے*

    لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں
    نام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میں

    *معشوقوں سے امیدِ وفا رکھتے ہو ناسخؔ*
    *ناداں کوئی دنیا میں نہیں تم سے زیادہ*

    منہ آپ کو دکھا نہیں سکتا ہے شرم سے
    اس واسطے ہے پیٹھ ادھر آفتاب کی

    *خواب ہی میں نظر آ جائے شبِ ہجر کہیں*
    *سو مجھے حسرتِ دیدار نے سونے نہ دیا*

    سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے
    کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا رہتا ہے انساں سے

    جسم ایسا گھل گیا ہے مجھ مریض عشق کا
    دیکھ کر کہتے ہیں سب تعویذ ہے بازو نہیں

    تمام عمر یوں ہی ہو گئی بسر اپنی
    شبِ فراق گئی روزِ انتظار آیا

    تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت
    ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں

    تازگی ہے سخن کہنہ میں یہ بعد وفات
    لوگ اکثر مرے جینے کا گماں رکھتے ہیں

    وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں
    ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں

    *زندگی زندہ دلی کا ہے نام*
    *مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں*

    زلفوں میں کیا قید نہ ابرو سے کیا قتل
    تو نے تو کوئی بات نہ مانی مرے دل کی

    *ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہ*
    *ہیں داغ مرے سینے میں انجم سے زیادہ*

    ●•●┄─┅━━━★✰★━━━┅─●•●

    *امام بخش ناسخؔ*

  • پاک افغان سرحد پر 104 فٹ بلند سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا

    پاک افغان سرحد پر 104 فٹ بلند سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا

    کوئٹہ‌:یوم آزادی کےدن پہلی مرتبہ چمن میں پاک افغان سرحد پر واقع باب دوستی پر بلوچستان کی حدود میں سب سے بڑا پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔فرنٹیئر کور چمن اسکاؤٹس کی جانب سے پاک افغان سرحد پر باب دوستی پر پہلی بار بلوچستان کی تاریخ میں سب سے بڑا پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔ سبز ہلالی پرچم 104 فٹ اونچا جب کہ 60 فٹ لمبا اور 40 فٹ چوڑا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستانی پرچم لہرانے کی تقریب گزشتہ روز منعقد ہوئی جس میں سیکٹر کمانڈر نارتھ فرنٹیئر کور بلوچستان بریگیڈیئر لیاقت علی اور کمانڈنٹ چمن اسکاؤٹس کرنل خرم جاوید نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے دوران قومی ترانہ بھی بجایا گیا اور ایف سی کے خصوصی دستے نے سلامی بھی پیش کی۔

    باب دوستی کی خاص طور پر تزہین و آرائش بھی کی گئی تھی اور باب دوستی کے ڈبل روڈ کے دونوں جانب شجرکاری بھی کی گئی تھی۔یوم پاکستان کے دن سے باب دوستی کو نئے رنگ میں رنگ دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ یہ بھی طئے ہوا ہے کہ پاکستانی پرچم اب روزانہ باب دوستی کو صبح کھولتے وقت لہرایا اور شام کو دوستی دروازہ بند ہونے پر اتارا جائے گا، پرچم اتارنے اور اٹھانے کے لیے خاص الیکٹرک مشین نصب کی گئی ہے۔پاکستانی پرچم چمن میں اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں 15 کلو میٹر دور سے دیکھا جا سکے گا۔

  • اگلے کوچ سابق کپتان مصباح الحق ہی ہوں گے؟

    اگلے کوچ سابق کپتان مصباح الحق ہی ہوں گے؟

    لاہور : اطلاعات یہی ہیں کہ سابق کپتان مصباح الحق کا نام مکی آرتھر کی جگہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے متوقع ہیڈ کوچ کی فہرست میں میں شامل ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق کپتان مصباح الحق کو کیمپ کمانڈنٹ مقرر کرکے ان کے کوچ بننے کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دے دی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق کمیٹی اراکین کی سفارش سے مکی آرتھر کے معاہدے میں توسیع نہیں دی گئی۔اب مصباح الحق کو قومی کرکٹ ٹیم کے کیمپ کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ مصباح کوالیفائیڈ کوچ ہیں، گذشتہ سال تک وہ فرسٹ کلاس کرکٹ اور پی ایس ایل کھیلتے رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو بین الاقوامی کرکٹ کے آئندہ 42 میں سے 30 روز ٹیسٹ کرکٹ کھیلنی ہے۔ پی سی بی کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکرخان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کی تیاری کیلئے پاکستان کے کامیاب ترین کپتان مصباح الحق کا تجربہ کھلاڑیوں کیلئے مفید ثابت ہوگا۔

  • ڈیڈ سی نامی جھیل میں پانی کے بدلتے رنگ کا پراسرار راز ، دنیا نہ سمجھ سکی

    ڈیڈ سی نامی جھیل میں پانی کے بدلتے رنگ کا پراسرار راز ، دنیا نہ سمجھ سکی

    بیجنگ : رنگ بدلتی دنیا تو شاید کسی نے اس سے پہلے دیکھی ہوگی لیکن کسی جھیل کو پانی کا رنگ بدلتے نہیں دیکھا ہوگا، اطلاعات کے مطابق چین کی ڈیڈ سی نامی جھیل کا پانی اچانک سبز، سرخ، کتھئی رنگ میں بدل گیا، جھیل کے بدلتے رنگ نے دیکھنے والوں کو حیران کردیا۔بعض اوقات قدرت ایسے حیرت انگیز مناظر سامنے لاتی ہے کہ انسانی عقل بھی دنگ رہ جائے۔چین میں قدرت کا ایسا ہی ایک حیرت انگیز لیکن حسین منظر اُس وقت دیکھنے کو ملا جب جھیل کا پانی اچانک مختلف رنگوں میں بدل گیا۔

    ذرائع کے مطابق صوبے شانشی کے شہر ین چینگ میں واقع ڈیڈسی کے نام سے مشہور جھیل کاپانی پر اسرار طور پر ایک حصے سے سبز تو کسی دوسرے حصے سے سرخ اور کہیں کسی حصے سے پیلے، کتھئی اور سیاہ رنگ میں تبدیل ہوگیا۔اس منظر نے دیکھنے والوں کو حیران کردیا۔ سائنسدانوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جھیل کے پانی کا رنگ بدلنے کی اصل وجہ کیمیائی رد عمل، تیز درجہ حرارت اور سورج کی روشنی ہے۔