Baaghi TV

Author: +9251

  • حج کی کار گزاری . پڑھیے حافظ احمد سعید جعفر کا بلاگ

    حج کی کار گزاری . پڑھیے حافظ احمد سعید جعفر کا بلاگ

    حج کی کار گزاری
    از حافظ احمد سعید جعفر

    "الحمدللہ حج 1440 ھ بمطابق 2019 ء کا حج ادا کرنے کی سعادت حاصل کرلی ہے.
    حج کے موقع پر انتظامات کے بارے میں ہر سال بہت سی خبریں گردش کرتی ہیں. اس سال چونکہ میں عینی شاہد ہوں تو سوچا دنیا کو حج کے انتظامات کے بارے میں تفصیل سے بتاؤں.
    ہماری فلائیٹ نےمدینہ شریف لینڈ کیا اور ہم نے 8 دن مدینہ منورہ گزارے. ایئرپورٹ سے ہوٹل لے جانے کا انتظام تسلی بخش تھا. آرام دہ بسوں میں حاجیوں کو انکے ہوٹلز تک پہنچایا گیا. لیکن ہوٹل پہنچتے ہو ئے2 عدد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا. ایک کمرے کی دستیابی تھا. چونکہ ہوٹل میں 4 اور 5 افراد کے لئے کمرے موجود تھے اس لئے 4 سے کم یا 5 سے زیادہ افراد پر مشتمل فیملیز کو دوسرے لوگوں کے ساتھ adjust کرنا پڑتا تھا اور لوگوں کی طرف سے اس سلسلے میں تعاون نہیں کیا گیا. جس سے حجاج کرام اور ہوٹل انتظامیہ کے درمیان بحث کا ماحول پیدا ہوا. دوسراہم پاکستانیوں کی روایتی بد نظمی تھی. قطار توڑ کر آگے بڑھنے کی کوششوں کی وجہ سے کمرے ملنے کا مرحلہ تاخیر کا شکار ہوا اور شور شرابہ اور بد مذگی بھی دیکھنے کو ملی. دوسری مشکل یہ پیش آئی کہ تمام حجاج کا سامان ہوٹل کی لابی میں لا کر رکھ دیا گیا. تمام حجاج نے اپنا سامان چن چن کر اکٹھا کیا اور لفٹس میں منتقل کر کے اپنے اپنے فلور تک پہنچایا. ہوٹل میں 3 عدد لفٹس موجود تھیں اور لفٹس کے دروازوں والی جگہ کافی تنگ تھی ایسے میں سینکڑوں حجاجِ کرام کا سامان سمیت آنا جانا کس قدر تکلیف دہ ہوگا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں. ایسے وقت میں تگڑے اور ہوشیار لوگ داؤ لگا جاتے ہیں اور سیدھے سادھے, اور کمزور لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں. خیر چند گھنٹوں میں ان دونوں مراحل سے فراغت حاصل ہوئی اور ہوٹل کے معاملات معمول پر آئے.
    اب آپکو ہوٹل کے معاملات کے بارے میں تفصیل سے بتاتا ہوں. ہمارے ہوٹل کا نام مختارہ غربی ہوٹل تھا. یہ فندق مسجدِ نبوی شریف سے تقریباً 7 منٹ کی واک پر واقع تھا اس لئے مسجد آنے جانے میں سہولت رہتی تھی. ہوٹل خوبصورت اور ہائی فائی تھا. کمرے بہت اچھے تھے. واش روم, نکاسیِ آب وغیرہ کا نظام بھی پرفیکٹ تھا. کھانے کی فراہمی کسی کیٹرنگ سروس کے پاس تھی اور کھانے کا معیار عموماً اچھا ہی ہوتا تھا. تین ٹائم روٹی سالن کے علاوہ مندرجہ ذیل آئٹمز بھی مہیاء کیے جاتے تھے.
    صبح کے ناشتے میں چائے
    دوپہر کو ایک پھل (سیب یا مالٹا) اور لسی (جسے عربی میں لبن کہا جاتا ہے) کی بوتل.
    رات کے کھانے میں قبطان نام کا ایک جوس اور سویٹ ڈش.
    الحمدللہ مدینہ میں رہائش کے دوران کوئی تنگی کوئی پریشانی محسوس نہیں کی.
    8 دن قیام کے بعد ہم مکہ مکرمہ روانہ ہوئے. اس مقصد کے لئے بھی بسوں کا انتظام اطمینان بخش تھا. لہٰذہ اس معاملے میں بھی راوی ok کی رپورٹ دیتا ہے.
    مکہ مکرمہ میں عزیزیہ نامی علاقے میں بلڈنگز کے اندر حجاجِ کرام کو ٹھرایا گیا. ہم نے عزیزیہ کے بارے میں کافی منفی باتیں سن رکھی تھیں لیکن یقین کیجئے وہاں کا ماحول مدینہ کے ہوٹلز سے بھی زیادہ اچھا تھا اور بلڈنگ کا عملہ یعنی معاون حجاج الباکستان کا رویہ بہت خوش اخلاقی پر مبنی تھا. یہاں تک کہ مدینہ کے ہوٹل کے برعکس ہمارا سامان بسوں سے اتارنے سے لے کر, کمروں تک پہنچانے میں معاونین نےخوب تعاون کیا. اور بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ سارا سامان حجاجِ کرام کے مطلوبہ فلورز تک پہنچ گیا.
    عزیزیہ کی ہماری بلڈنگ نمبر 702 سے مسجدالحرام کا سفر تقریباً 20 منٹ کی ڈرائیو کا ہے. ٹرانسپورٹ کا انتظام یوں ہے کہ 24 گھنٹے, چند منٹ کے وقفے سے بسیں چلتی ہیں ایک بس سات بلڈنگز کو cover کرتی ہے یعنی 7 بلڈنگز کے حجاج کی اپنی ایک بس ہوتی ہے جس میں وہ بلڈنگ کے باہر سے سوار ہوتے ہیں اور وہ بس حجاجِ کرام کو ایک بس اڈے تک چھوڑتی ہے. وہاں بہت سی بسیں حرم شریف جانے کے لئے تیار کھڑی ہوتی ہیں. حجاج کرام بلڈنگ کی بس سے نکل کر حرم جانے والی بسوں میں بیٹھتے ہیں اور وہ بسیں حرم سے کچھ فاصلے پر اتارتی ہیں. جہاں سے پیدل سفر 4 سے 5 منٹ کا ہوتا ہے. حرم شریف جانے کا عمل عموماً خوب اسلوبی سے طے ہوجاتا ہے لیکن واپسی پر بسوں میں سوار ہوتے ہوئے بھگ دڑ اور دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
    کھانے کا نظام عزیزیہ میں بھی مدینہ سے زیادہ مختلف نہیں تھا Menu دونوں جگہ ایک سا تھا. مدینہ میںcatering service دینے والی کمپنی کا نام میں نہیں دیکھ سکا. مکہ میں یہ خدمت مطبخ عرفات نامی کمپنی مہیا کرتی ہے. مکہ اور مدینہ میں کھانے کے ذائقے میں مجھے 19 ,20 کا فرق محسوس ہوا مدینہ میں کھانے کا ذائقہ نسبتاً بہتر تھا.
    اب کچھ مسجدِ نبوی شریف اور مسجد الحرام شریف کے انتظامات کی بات کر لی جائے. مسجدِ نبوی میں انتظامات اور سہولیات ہر لحاظ سے مسجد الحرام کی نسبت بہت بہتر لگے. صفائی, بیٹھنے جگہ کی فراہمی, واش رومز سب مسجد نبوی میں زیادہ بہتر ہیں. مسجد الحرام شریف میں بہت سے تعمیراتی کام جاری ہیں جنکی وجہ سے کچھ تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. دوسرا یہ کہ یہاں شرطے بار بار بہت سے راستے بلاک کردیتے ہیں, کبھی کہیں سے لوگوں کو اٹھا دیتے ہیں کبھی یہاں سے وہاں منتقل کر دیتے ہیں. اس لئے مسجد الحرام میں دیر تک سکون سے ایک جگہ بیٹھ کر عبادت کرنا بہت مشکل کام ہے. راستے بند کرنے میں یقیناً کوئی انتظامی حکمت عملی ہوگی لیکن سچی بات یہ ہے کہ اسکی وجہ سے حجاج کو بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے. مجھے خود اس وجہ سے بہت مشکل ہوئی تھی.
    خیر, مجموعی طور پر مکہ اور مدینہ دونوں میں رہائش, کھانے اور ٹرانسپورٹ کے انتظامات بہت اچھے تھے.
    اب بات کرتے ہیں حج کے ایام کی.
    پہلے آپ یہ سمجھ لیجئے کہ حج کا ایام میں حاجیوں کے انتظامات بہت سی چھوٹی چھوٹی کمپنوں کو دیے ہوتےہیں جنہیں مکتب کہا جاتا ہے. حجاجِ کرام کو تقریباً 125 مکاتب میں تقسیم کیا گیا ہے. ہر مکتب کا ایک معلم ہوتا ہے جس کے زمے ایامِ حج کے دوران منیٰ, عرفات, مزدلفہ میں اپنے اپنے حاجیوں کا انتظام کرنا ہوتا ہے. ہمارا مکتب نمبر 100 تھا. جس کا انتظام عبدالرحمٰن…… عبداللہ وھبی نامی معلم کے ذمے تھا. اور ان موصوف نے اپنی ذمے داریاں بڑے کمال برے طریقے سے سرانجام دیں. منیٰ میں ہمیں گندے پانی میںchlorine ڈال کر پلایا جاتا رہا. کھانا بہت دیر سے ملتا تھا اور 2 دفعہ کے علاوہ ہمیشہ چنے کی پتلی دال کھلائی گئی جوکہ بہت سخت تھی. یعنی ہمارے مکتب میں کھانا نہایت ناقص تھا. ٹرانسپورٹ کو دیکھا جائے تو شائد سب سے کم بسیں مکتب نمبر 100 کے پاس تھیں جسکی وجہ سے بسوں میں چڑھتے ہوئے دھکم پیل اور بد نظمی انتہا کو ہوتی تھی. 4130 حجاج کے لئے 11 بسوں کا انتظام تھا جبکہ سننے میں آیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے موصوف سے 40 بسوں کا معاہدہ کر رکھا تھا. یوم, عرفہ کے دن ہمارے مکتب والے بہت تنگ ہوئے. غروبِ آفتاب کے بعد جب بسیں نکلیں تو سینکڑوں حجاج بسوں میں سوار نہ ہو سکے جن میں میں اور میرے گھر والے بھی شامل تھے. تقریباً ڈھائی 3 گھنٹے بعد بسیں واپس آئیں پھر بقیہ حجاجِ کرام بسوں میں سوار ہو پائے. معذور اور بیمار افراد کے لئے ایسی صورت میں بسوں میں چڑھنا ناممکن تھا اس وجہ سے میرا ایک روم میٹ جسکی والدہ ضعیف ہیں, انہیں ویل چیئر پر پیدل مزدلفہ جانا پڑا. یاد رہے عرفات سے مذدلفہ تک کا سفر 7 کلومیٹر سے زیادہ ہے. یہاں قصور ہماری عوام کا بھی ہے. پاکستانوں کی طرف سے بدنظمی اور خود غرضی کی انتہا دیکھنے کو ملی. ہر شخص دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر خود آگے بڑھنے کو کوشش میں رہتا ہے. ہمیں کئی دفعہ دوسرے ممالک کے عہدیداروں سے طعنے سننے کو ملے کہ پاکستانیوں کا کوئی نظام نہیں, پاکستانیوں میں عقل سمجھ نہیں.
    قصہ مختصر, مکہ اور مدینہ دونوں مقدس شہروں میں حجاج کے لئے انتظامات کافی اچھے تھے جس پر میں پاکستان اور سعودی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں. البتہ حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ عبدالرحمٰن عبداللہ وھبی نامی معلم کو بلیک لسٹ کیا جائے اور مکتب 100 کی زمہ داری کسی آئندہ کسی ایماندار اور قابل معلم کے سپرد کی جائے.

  • کترینہ کیف نے اپنی شادی کے متعلق فیصلہ سنا دیا

    کترینہ کیف نے اپنی شادی کے متعلق فیصلہ سنا دیا

    بالی ووڈ کی باربی ڈول کترینہ کیف نے کہا ہے کہ شادی نہیں کرنا چاہتی ہوں، جہاں تک ممکن ہو سکا کنواری ہی رہنا پسند کروں گی. کترینہ کیف نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں ایک سوال کا جواب دیتے ہو ئے بتایا کہ در حقیقت وہ نہیں جانتی کہ وہ ہمیشہ تنہا رہ پائیں گی یا نہیں لیکن جہاں تک ممکن ہو سکا وہ کنواری ہی رہیں گی۔

    کترینہ کیف نے کہا کہ شاید ان کے لئے شادی ایک ایسا لفظ ہے جس کو وہ سمجھ نہیں سکتی اور ان کے خیال میں وہ ایک اچھی اہلیہ ثابت نہیں ہو سکتی.

    واضح رہے سلمان خان اور کترینہ اچھے دوست ہیں لیکن لوگ کافی عرصے تک ان میں تعلقات کا سمجھتے رہے. پھر رنبیر کپور کے ساتھ بھی قربتیں رہی اور یہ بھی سنا گیا تھا کہ دونوں شادی بھی کرنے والے ہیں. پھر بعد میں دونوں میں اختلافات پیدا ہو گئے. کترینہ نے بتایا کہ یہ وقت ان کے لیے نہایت مشکل تھا لیکن اسی وقت نے ان کو مضبوط بھی بنایا.

    کترینہ سلمان کے علاوہ کئی اداکاروں کے ساتھ سپر ہٹ فلمیں کر چکی ہیں. تاہم رنبیر کپور کے ساتھ ان کی فلم” اجب پریم کی غزب کہانی” میں ان کی جوڑی کو بہت پسند کیا گیا.

  • جموں و کشمیر:محبوبہ کی بیٹی بھی بھارت کے نشانے پر

    جموں و کشمیر:محبوبہ کی بیٹی بھی بھارت کے نشانے پر

    ریاست جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد سے وہاں کے کئی سیاستداں گرفتاریا نظر بند ہیں۔ انہی سیاست دانوں میں سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں۔ محبوبہ کی بیٹی التجا جاوید نے اپنا آڈیو پیغام جاری کیا ہے جس سے بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا راز فاش ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط بھی تحریر کیا ہے۔

    این ڈی ٹی وی کے مطابق التجا جاوید نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھے خط میں کہا ہے کہ ”آج بھارتی یوم آزادی پر بھی کشمیریوں کو جانوروں کی طرح پنجرے میں قید کیا ہوا ہے، انہیں بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے“۔

    انہوں نے خط میں مزید لکھا ہے کہ ’مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر میں دوبارہ بولی تو مجھے خطرناک نتائج بھگتنے پڑیں گے“۔

    دریں اثنا التجا جاوید نے اپنے آڈیو پیغام میں کہا کہ ”میرے ساتھ مجرموں جیسا برتاو کیا جا رہا ہے اور مجھ پر مستقل نظر رکھی جا رہی ہے۔ مجھے اپنی زندگی کے ساتھ ان کشمیریوں کے لئے بھی ڈر ستا رہا ہے جنہوں نے کشمیر کے لئے آواز اٹھائی ہے“۔

  • باغی ٹی وی نے پیمرا سے پابندی کا بھرپور تقاضا کر دیا، جانیےتفصیل میں

    باغی ٹی وی نے پیمرا سے پابندی کا بھرپور تقاضا کر دیا، جانیےتفصیل میں

    پیمرا کی طرف سے بھارتی اداکاروں والے اشتہار پر پابندی لگا دی گئی ہے جس کے بعد باغی ٹی وی پیمرا سے بھر پور تقاضا کرتا ہے کہ بھارتی ایڈور ٹائز ماہرین سے بنے اشتہارات ، ایڈورٹائزمنٹس اور ہندی ڈب بچوں کےکارٹون پربھی پابندی عائد کی جائے.

    باغی ٹی وی پورٹ کے مطابق پیمرا کی طرف سے بھارتی اداکاروں والے اشتہار پر پابندی لگا دی ہے جس کے بعد باغی ٹی وی پیمرا سے بھر پور تقاضا کرتا ہےکہ بھارت کہ اس اقدام کے بعد ان اشتہارات پر بھی پابندی عائد کی جائے جو بھارت کے اندر بنے ہیں اور ان کو بھارتیوں نے بنایا ہے . ان اشتہارات کے بنانے میں بھارتی ایڈورٹائزمنٹ کمپنیاں استعمال ہوئی ہیں.یا ان کی مہارات اور وسائل استعمال ہوئے ہیں. اس اقدام سے ایک تو پاکستان کے ٹیلنٹ کو موقع ملے گا اور دوسرا ملکی پراڈکٹس کو استعمال میں لا کر ملکی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے.

    اس کے ساتھ ساتھ ان کارٹونز پر بھی پابندی ہونی چاہیے جو بھارت کی طرف سے ہندی میں ڈب کیے گئے ہیں. ہندی میں ڈب کیے گئے کارٹوں سے سب زیادہ نقصان ہماری نسل نو کا ہو رہا ہے . ہمارے بچے بھارتی زبان اور تہزیب کو غیر دانستہ طور پر اپنا رہے ہیں اور ان کارٹونز میں استعمال ہونے والی زبان اور تہذیب سے ہماری اپنی قومی تہذیب اور زبان متاثر ہو رہی ہے اور ہمارے بچوں پر اس کا منفی اثر پڑ رہاہے.

    واضح رہے کہ پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ کشمیر میں بھارتی مظالم و تشدد اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر بھارت میں بننے والے اور بھارتی اداکاروں پر مبنی اشتہارات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

    کشمیر میں بھاری جارحیت کی وجہ سے پاکستان نے 14 اگست کو کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور 15 اگست بھارت کی آزادی کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن پاکستان میں بھارتی اشتہارات بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا.

    اس لیے پیمرا نے مختلف مصنوعات کے ایسے اشتہارات پر پابندی عائد کردی ہے جو بھارت میں بنائے گئے ہوں یا پھر ان میں بھارتی اداکار ہوں۔

  • لیبیا کے مرزق میں پرتشدد جھڑپیں، 90 شہری جاں بحق

    لیبیا کے مرزق میں پرتشدد جھڑپیں، 90 شہری جاں بحق

    لیبیا کے شہر مرزق میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 90 شہری جاں بحق ہو گئے جبکہ سینکڑوں دیگر زخمی ہو گئے۔
    لیبیا، حفتر قوتوں کے فضائی حملوں میں 41 شہری ہلاک
    اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق جنوبی لبیا کے مرزق شہر میں اس ماہ کے آغاز سے اب تک فضائی حملوں سمیت پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 90 شہری جاں بحق ہو گئے۔ جھڑپوں کا سلسلہ عیدالاضحی کے دوران بھی جاری رہا۔

    یاد رہے ان پر تشدد جھڑپوں کی وجہ سے مغربی افریقہ سے 6426 افراد اور 270 مہاجر بے گھر ہو گئے ہیں۔ مرزق شہر کے گھروں اور بازاروں کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔

  • بھارت، سیلاب نے تباہی مچا دی

    بھارت، سیلاب نے تباہی مچا دی

    بھارت میں بارشوں سے کئی علاقوں میں زبردست سیلاب کی کیفیت ہے جس سے بھاری جانی اور مالی نقصان ہو رہا ہے۔بارش، سیلاب اور تودہ گرنے کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد ر250ہو گئی ہے جبکہ 50لاپتہ ہیں۔ کئی لاکھ لوگ متاثر ہو ئے ہیں اور زیادہ تر لوگوں کوریلیف کیمپوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
    بھارت، کیرالہ میں سیلاب نے تباہی مچا دی، حالات سنگین
    کیرالہ اور کرناٹک کے کچھ حصوں میں سیلاب اور تودہ گرنے کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔اب تک کیرالہ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیںجن کی تعداد 108 ہے۔جبکہ کرناٹک میں 54، گجرات میں 35، مہاراشٹر میں 30، اتراکھنڈ اور اڈیشہ میں آٹھ آٹھ اور ہماچل پردیش میں دو لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال میں آسمانی بجلی گرنے سے کم سے کم آٹھ لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔

    علاوہ ازیں کیرالہ اور کرناٹک میں زبردست بارش اور سیلاب کی وجہ سے تودہ گرنے کے واقعات کے بعد سے 49لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔

  • مرکز اہلسنت والجماعت کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر ریلی

    مرکز اہلسنت والجماعت کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر ریلی

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )مرکز اھلسنت جامعہ مدنیہ غوثیہ کے زیر اھتمام جامع مسجد حامد علی شاہ سے علمائے کرام علامہ جاوید قادری پیر مشتاق شاہ قاضی نگاہ مصطفے قاضی احمد حسن مولااللہ بخش سیالوی کی زیر قیادت عوام اھلسنت کا ریلا مرکزی جامع مسجد حامد علی شاہ سے شروع ھو ا اور شہر کے مختلف چکر لگاکر واپس شاھین چوک پنچ کر اختتام پزیر ھو ا شرکاء ریلی نے بڑے بڑے کتبے اٹھارکھے تھے جن پر درج تھا کشمیر بنے گا پاکستان کشمیر ھمارا ھے انڈیا کا جویار ھے غدار ھے
    اخر میں مقررین نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ھوئے کہاھے اس وقت پورا
    ملک کشمیریوں کے ساتھ ھے پاک فوج حکومت وقت بچہ بچہ ایک ھی نعرہ لگارھاھے کشمیر بنے گا پاکستان مقررین نے کہاکہ ظلم کے بادل مٹنے والے ھیں اور کشمیر پاکستان کاحصہ بننے والا صرف اعلان باقی ہے مودی کاتکبر خاک میں مل چکا ھے اب اس کی چتا جلانی باقی ہے

  • قوم کا ایک اور سپوت وطن پر قربان ہوگیا.

    قوم کا ایک اور سپوت وطن پر قربان ہوگیا.

    پاک فوج کا ایک اور جوان دفاع وطن میں شہید ہوگیا، بٹل سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ سے سپاہی محمد شیراز نے جان جان آفرین کو پیش کی ۔ ایل او سی پر شہید فوجیوں کی تعداد 4 ہوگئی۔

    تفصیلات کے مطابق پاک دھرتی کے ایک اور بیٹے نے وطن کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لائن آف کنٹرول پر بٹل سیکٹر میں بھارتی فوج نے بلااشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سپاہی محمد شیراز نے جام شہادت نوش کیا۔

    واضح رہےکہ ایل او سی پر بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ جاری ہے. گذشتہ روز بھی بھارتی فوج کی جانب سے ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ سے 4 پاکستانی جوان شہید ہوگئے تھے، پاک فوج نے موثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے 5 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد کو زخمی کیا جبکہ کئی بھارتی بنکرز تباہ کئے۔

    شہید ہونے والے جوانوں میں نائیک تنویر، لانس نائیک تیمور اور سپاہی رمضان شامل ہیں۔ نائیک تنویر اور سپاہی رمضان کا تعلق خانیوال سے جبکہ لانس نائیک تیمور کا تعلق لاہور سے ہے۔

    پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی بھارتی اشتعال انگیزی کی مذمت کی اور شہدا کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔

  • ڈالر 41 پیسے مہنگا ہو گیا

    ڈالر 41 پیسے مہنگا ہو گیا

    انٹر بینک میں ڈالر 41 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 158.44 سے بڑھ کر 158.85 روپے کا ہو گیا ہے۔

    تفصیلات کے رپورٹ کے مطابق دیگر کرنسیوں کی ریٹ کی بات کریں تو فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں آسٹریلین ڈالر 107.69، یورو 176.12 روپے ، سعودی ریال 42.24 روپے ، یوکے پاؤنڈ 191.77 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

    یاد رہے گزشتہ ہفتے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 80 پیسے اضافے کے بعد 159.50 روپے ہو گئی تھی۔

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 158.50 روپے میں خریدا اور 159.50 روپے میں بیچا گیا۔

    ہفتہ کے اختتام پر انٹر بینک میں بھی ڈالر 19 پیسے مہنگا ہو گیا۔ انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 158 روپے 25 پیسے پر بڑھ کر 158 روپے 44 پیسے پر پہنچ گیا۔

  • چھٹیاں ختم،تعلیمی ادارے کھل گئے ،خاضری معمول سے کم

    چھٹیاں ختم،تعلیمی ادارے کھل گئے ،خاضری معمول سے کم

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )سرگودہا میں موسم گرما کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد تمام تعلیمی ادارے کھل گئے
    آج سے تمام تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل معمول کے مطابق شروع ہو جائے گا تمام تعلیمی اداروں کے ساتھ تعلیمی دفاتر میں بھی کام شروع ہو گیا ہے
    آج تمام تعلیمی اداروں میں حاضری معمول سے کم رہی جبکہ گرمی کے شدت بھی برقرار ہے کاروباری مراکز آج بھی زیادہ تر بند ہیں گرمیوں اور عید کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد آج پہلا دن ہے تاہم ابھی تک لوگ شہر سے باہر اور آبائی علاقوں میں ہیں تاجر خضرات کا کہنا ہے کہ سوموار سے معمولات زندگی اپنے معمول پر آئیں گے