Baaghi TV

Author: +9251

  • راولپنڈی میں ضلعی انتظامیہ کی کارروائی 1300 سے زائد سرکاری آٹے کے تھیلے برآمد

    راولپنڈی میں ضلعی انتظامیہ کی کارروائی 1300 سے زائد سرکاری آٹے کے تھیلے برآمد

    راولپنڈی میں ضلعی انتظامیہ کی کارروائی 1300 سے زائد سرکاری آٹے کے تھیلے برآمد

    راولپنڈی میں ضلعی انتظامیہ کی کارروائی 1300 سے زائد سرکاری آٹے کے تھیلے برآمد ہوئے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے ذخیرہ اندوزوں کےخلاف کارروائی کرتے ہوئے سرکاری آٹے کے تھیلے قبضے میں لے لیے ہیں انتظامیہ کےمطابق کارروائی میں 1356 آٹے کے تھیلے قبضے میں لیے گئے ہیں جب کہ گودام میں 13 فلورملزکے 20 ہزارخالی بیگ بھی نکلے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری آٹا راولپنڈی کے مختلف سیل پوائنٹس سے خریدا گیا تھا، اس معاملے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیاہے۔ یاد رہے کہ دوسری جانب اس سے قبل اگرچہ حکومت خیبرپختونخوا نے صوبے میں آٹے کے بحران کا ذمہ دار حکومت سندھ کو قرار دیا تھا لیکن مقامی تاجر اس الزام سے متفق نہیں تھے اور اصرار کرتے ہوئے کہا کہ بحران کا اصل ذمے دار پنجاب ہے اور جیسے ہی حکومت پنجاب گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی واپس لے گی تو آٹے کی قیمت معمول پر آ جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر

    ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 11 جنوری کو خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک محمد عاطف نے دعویٰ کیا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی سپورٹ پرائس، حکومت پنجاب کی جانب سے اعلان کردہ مقررہ رقم سے زیادہ مقرر کیے جانے کی وجہ سے صوبے میں آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ جبکہ خیبر پختونخوا میں آٹے کے ڈیلرز نے وزیر خوراک کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے میں آٹے کی قیمت میں اضافے کے معاملے کا سندھ کی جانب سے مقرر کردہ گندم کی امدادی قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

  • عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا

    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا

    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ پولیس نے ملزم عدنان آفریدی کو سخت سکیورٹی میں پشاور کی مقامی عدالت میں پیش کیا جہاں پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ بدر منیر سے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

    پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف جرم کرلیا ہے اور اس نے قتل کی وجہ ذاتی دشمن بتائی ہے، مزید تفتیش کے لیے ملزم کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔ عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم کو دو روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر لطیف آفریدی کو قتل کرنے والے ملزم نے پولیس کو دیے گئے بیان میں قتل کی وجہ بتادی تھی جبکہ پولیس کا کہنا تھا کہ لطیف آفریدی قتل کیس میں ملزم نے ابتدائی بیان ریکارڈ کروادیا، ملزم نے پولیس حکام کے سامنے اعتراف جرم کرلیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر

    پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم نے لطیف آفریدی کے قتل کی وجہ ذاتی دشمنی بتائی۔ ملزم نے اعترف کرتے ہوئے کہا کہ 30 بور پستول سے لطیف آفریدی کو قتل کیا، کئی دنوں سے لطیف آفریدی کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔ دوسری جانب لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کے قتل کا مقدمہ تھانا شرقی میں درج کیا گیا تھا، ایف آئی آر مقتول کے شاگرد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے جبکہ ایف آئی آر میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن لطیف آفریدی کیسز کی پیروی کے لیے پشاور ہائیکورٹ بار روم میں موجود تھے کہ ملزم عدنان سمیع نے ان پر اچانک اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔  لطیف آفریدی کو سینے میں چھ گولیاں لگیں تھیں

  • قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم

    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم

    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم

    پاکستان کرکٹ کی ایک ویب سائٹ کو دبئی میں خصوصی انٹرویو میں وسیم اکرم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہمیں کپتان کو سپورٹ کرنا چاہیے،بابر اعظم کا تجربہ ابھی کم ہے،ان کو ہٹانے سے ٹیم میں کچھ نہیں ہو گا البتہ سپورٹ کرنے سے فرق پڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک قوم کے طور پر ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی ہم اپنے لیے خود ہی کافی ہیں، جس طریقے سے بعض لوگ بابر اعظم کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں وہ بہت ہی پریشان کن بات ہے، اپنا مذاق اڑانا بند کردیں،اس سے میرا دل بھی دکھتا ہے۔

    تینوں فارمیٹ میں قیادت کا بوجھ بانٹنے کیلیے بابر اعظم کو ہٹانے کے سوال پرسابق اسٹار نے کہا کہ یا تو آپ کے پاس کوئی عمران خان، جاوید میانداد یا مائیک بریرلی بیٹھا ہو تو بات سمجھ میں بھی آئے، اب اگر بابر اعظم کا تقرر کیا ہے تو اسے 2،3سال موقع دیں، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ بہترین کپتان ثابت ہوں گے۔ وسیم اکرم نے کہا کہ قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا، وقت کے ساتھ بہتر فیصلوں کی صلاحیت آتی جاتی ہے، ہم کوچز پر اٹیک کرتے ہیں، اسے تو بتانا ہوتا ہے میدان میں کھیلنا تو کرکٹر کا ہی کام ہے،دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے تو تنقید کریں مگر ہم کیوں کرتے ہیں، مجھے تو یہ دیکھ کرہی شرم آتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مجھے کوئی ایسا بیٹر کپتان بتائیں جس نے بیٹنگ پچز نہ بنوائی ہوں، ہم بابر پر تنقید کیوں کررہے ہیں، پیسر شاہین آفریدی میں قائدانہ صلاحیتیں ہیں، انھوں نے لاہور قلندرز کو پی ایس ایل کا چیمپئن بنوایا مگر ابھی انھیں قومی ٹیم کی قیادت سونپنے کی بات کرنا جلد بازی ہوگی،وہ حال ہی میں انجری سے واپس آئے ہیں، تھوڑا پرفارم کریں اور 5سال بعد کپتانی کے بارے میں سوچیں، فی الحال ایک قائد کو مکمل سپورٹ کرنے کی بات کرنا چاہیے۔

    وسیم اکرم نے کہا کہ اگر مجھ سے ہی پوچھ لیا جاتا تو بتا دیتا کہ غیر ملکی کوچز کو نہیں آنا،انھیں ڈر ہے کہ بورڈ تبدیل ہوا تو معاہدہ بھی ختم ہوجائے گا،2یا 3سال کیلیے کوئی آئے تو خود کو محفوظ خیال کرے گا، ثقلین مشتاق اور محمد یوسف نے بھی اچھا کام کیا مگر مزید بہتری کیلیے ان کو بھی وقت درکار ہوگا، اگر کوئی غیر ملکی کوچ نہیں مل رہا تو پاکستانی کی خدمات حاصل کریں اور اسے بھرپور سپورٹ بھی کریں۔

    فاسٹ بولرز کی کارکردگی کا گراف گرنے کے سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ پچز مسئلہ نہیں، ہمارے دور میں بھی ایسی ہی پچز تھیں، وجہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ہے، صرف 4اوور کرنے پر پیسے بھی زیادہ ملیں تو یہی آسان فیصلہ ہوگا، نسیم شاہ، حارث رؤف اور وسیم جونیئر کو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا چاہیے،سال میں پی ایس ایل کے سوا بھی 1،2 لیگز ضرور کھیلیں مگر طویل فارمیٹ کے میچز پر بھی توجہ دیں، ہمیں وقت ملتا تو 4ڈے میچز ضرور کھیلتے تھے۔

    ہوم گراؤنڈ پر مسلسل شکستوں کے سوال پر انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ ہارنے کا خوف ہے، ہار جیت تو ہونی ہے مگر ڈر نہیں ہونا چاہیے،میں یہ نہیں کہتا کہ گرین ٹاپ پچ ہو مگر تھوڑا باؤنس ضرور ہونا چاہیے،2دن بیٹنگ ہو، تیسرے چوتھے روز ٹرن کرے، ٹیم چاہے 3 دن میں بھی میچ ہارجائے مگر پچ اچھی ہونی چاہیے، ڈیڈ پچز پر اسی طرح کی صورتحال ہوتی ہے،ہوم سیریز کو شائقین کی توجہ حاصل نہ ہوئی، میچز بھی ہم ہارگئے۔

  • پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم

    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم

    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم

    وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی، پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ العربیہ ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ( یو اے ای ) سمیت دیگر دوست ممالک نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، ہم اس تعاون کو سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔
    https://twitter.com/AlArabiya_shows/status/1615018100260278278
    وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرح پاکستان کا دیرینہ دوست ملک ہے، دورہ متحدہ عرب امارات انتہائی کامیاب رہا ہے، متحدہ عرب امارات میرا اور لاکھوں پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہے۔ یو اے ای کی قیادت بالخصوص صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے مشکور ہیں،شیخ زید پاکستان کے ایک بڑے خیرخواہ اور دوست تھے،سرمایہ کاری کا فروغ چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے ساتھ صدیوں پرانے برادرانہ تعلقات ہیں، باہمی احترام، مفادات، مذہب، ثقافت اور تاریخی تعلقات پر مبنی ہیں۔

    پاکستان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میری حکومت میں کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں، میرا یہ وژن نہیں کہ ہر وقت دوسرے ممالک سے ہی مدد مانگی جائے، پاکستانی قوم ایک بہادر اور محنتی قوم ہے، میرا یہ ایمان ہے پاکستانی قوم ایک دن ضرور اپنے پاﺅں پر کھڑی ہو گی۔
    https://twitter.com/AlArabiya_shows/status/1615018100260278278
    پڑوسی ممالک بلخصوص بھارت سے تعلقات پر وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے بھارت کو پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کیلئے بات چیت کیلئے تیار ہیں، بھارتی قیادت ہمارے ساتھ مل بیٹھ کر تمام دیرینہ تنازعات حل کرے، ہتھیاروں کی دوڑ کی بجائے اپنے وسائل غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے خرچ کر سکیں۔ برصغیر میں کروڑوں مسلمان رہائش پذیر ہیں۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت 5 اگست 2019 کا یکطرفہ غیر قانونی اقدام واپس لے، پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں، ان جنگوں کے نتائج مزید غربت، بے روزگاری اور لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں ابتری کے طور پر سامنے آئے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کے درمیان پاکستان ایک پل ہے۔

  • رابعہ بٹ کی بہن کی شادی ، ماڈل کا جذباتی نوٹ

    رابعہ بٹ کی بہن کی شادی ، ماڈل کا جذباتی نوٹ

    ماڈل و اداکارہ رابعہ بٹ کی بہن کی حال ہی میں شادی ہو گئی ہے ، رابعہ بٹ نے شادی کی تیاریاں بہت شوق سے کیں . رابعہ بٹ نے چھوٹی عمر میں ہی اپنی بہنوں کی ذمہ داری اٹھا لی تھی. انہوں نے اپنی بہنوں کو ماں بن کر پالا . رابعہ کی والدہ کا انتقال ہو چکا ہے. اور رابعہ نے ان کی زندگی میں ہی اپنی بہنوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا ہوا تھا اور یوں اپنی ماں کی ذمہ داریوں کو بانٹ لیا تھا. ماں کے انتقال کے بعد تمام تر ذمہ داریاں اکیلی رابعہ بٹ پر تھیں جن کو انہوں نے بخوبی نبھایا. رابعہ کی ایک بہن کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے. اس حوالے سے انہوں نے سوشل مٰیڈیا پر ایک جذباتی نوٹ لکھا انہوں نے لکھاکہ میں نے ان کو جنم نہیں دیا لیکن ان کو بیٹیاں بنا کر بہت سارے تجربات سے گزری ہوں. کل کی بات لگتی ہےکہ

    ان کو ہاتھوں میں کھلایا آج ان کو رخصت کر رہی ہوں میری ماں یقینا جنت میں بیٹھی ان کو دیکھ کرخوش ہو رہی ہوں گی. یاد رہے کہ رابعہ بٹ نے ماڈلنگ کے بعد اداکاری میں بھی قدم رکھا اور یہاں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا . رابعہ کی اداکاری کو بھی خاصا سراہا جاتاہے. وہ کم کم اداکاری کے پراجیکٹس کرتی ہیں .

  • ساجد خان اور عبداللہ نے بگ باس چھوڑ دیا

    ساجد خان اور عبداللہ نے بگ باس چھوڑ دیا

    بالی وڈ کے معروف فلم میکر ساجد خان نے بگ باس کا گھر چھوڑ دیا ہے ان کے ساتھ عبداللہ نے بھی گھر سے رخصت لے لی ہے. ان دونوں کے اچانک جانے سے دونوں کے مداح کافی اداس ہو گئے ہیں. کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ دونوں اس طرح‌گھر چھوڑ کر چلے جائیں گے، دراصل کسی کو یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس بار بگ باس چار ہفتوں کے لئے ایکسٹینڈ کر دیا جائیگا. ساجد خان اور عبداللہ نے بگ باس کے ساتھ یہیں تک کا کنٹریکٹ کیا تھا ، اس سے آگے انہوں نے شوٹنگ کی تاریخیں دے رکھی تھیں جس کی وجہ سے دونوں کو بگ باس کا گھر چھوڑنا پڑا. لہذا دونوں نے بگ باس کا گھر چھوڑ دیا.ساجد خان اور عبداللہ دونوں ہی بگ باس کے فنالے کے بہت مضبوط امیدوار تھے اگر یہ رہتے تو شاید انہی

    دونوں میں سے ہی کوئی ایک ونر ہوتا لیکن یہ دونوں جا چکے ہیں اب دیکھنا ہے کہ بگ باس کا ونر کون ہوگا دوسری طرف سلمان خان بھی میزبانی کا کنٹریکٹ ختم ہونے پر جا چکے ہیں ان کی جگہ کرن جوہر اب چار ہفتوں کے لئے میزبانی کریں گے. یوں اس بار کا بگ باس بہت سے حوالوں سے مختلف لیا اور شائقین نے پہلے سے بھی زیادہ دلچپسی سے دیکھا.

  • سلمان خان بگ باس سے رخصت لیکن کیوں؟

    سلمان خان بگ باس سے رخصت لیکن کیوں؟

    انڈیا کا رئیلٹی شو بگ باس بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی بہت مقبول ہے. اس شو نے بہت سارے لوگوں کو سلبیرٹی بنا دیا. اس بار کے بگ باس کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں معروف فلم میکر ساجد خان نے شرکت کی اور ان کی شرکت بہت زیادہ کنٹرورشل رہی. سلمان خان کی میزبانی نے اس بار بھی شو کو چار چاند لگا دئیے. تاہم سلمان خان اس شو سے الگ ہو گئے ہیں ایسا نہیں ہے کہ سلمان خان کی بگ باس انتظامیہ کے ساتھ ان بن ہو گئی ہے. بگ باس سے الگ ہونے کی وجہ یہ ہےکہ سلمان خان کا بگ باس سے کنٹریکٹ‌ختم ہو گیا ہے کیونکہ اس بار بگ باس کا دورانیہ چار ہفتے بڑھا دیا گیا ہے. اس لئے سلمان خان نے اپنے کنٹریکٹ‌کے حساب سے شو کی ہوسٹنگ ختم کر دی ہے. اطلاعات یہ ہیں کہ اب

    چار ہفتوں کے اس شو کی ہوسٹنگ کرن جوہر کریں گے کرن جوہر ایک بار پہلے بھی شو کی ہوسٹنگ کر چکے ہیں. سلمان خان تو شو سے چلے گئے ہیں لیکن یقینا ان کے چاہنے والے ان کو بہت زیادہ مس کریں گے. دیکھنا یہ ہے کہ اس بار بگ باس کا ونر کون ہوگا. کس کی قسمت کا ستارہ جگمگاتا ہے.

  • عادل نے کس کے کہنے پر شادی کا اعتراف کیا؟‌

    عادل نے کس کے کہنے پر شادی کا اعتراف کیا؟‌

    راکھی کی شادی اس وقت کنٹرورشل بنی جب عادل نے شادی کے حوالے سے مبہم باتیں کہیں . کبھی شادی کی وڈیوز کو فیک کہا تو کبھی تصاویر کو. لیکن آخر کار عادل کو راکھی کے ساتھ اپنی شادی کا اعتراف کرنا پڑا. راکھی اور عادل سے میڈیا نے انٹرویو کیا. عادل سے مختلف سوالات ہوئے انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ راکھی کیسے رو رہی تھی جیسے میں بھاگ گیاہوں. راکھی نے کہا کہ میں سب بھول گئی ہوں عادل نے اپنی شادی کا اعتراف کر لیا ہے میرے لئے اتنا ہی کافی ہے.ہم میاں بیوی ہیں ہم میں کوئی جھگڑا نہیں ہے ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش ہیں. ایک میڈیا پرسن نے راکھی اور عادل دونوں سے سوال کیا کہ کیا سلمان خان نے فون کیا تھا؟ عادل نے کہا کہ سلمان خان مجھے بہت عزت دیتے ہیں بہت پیار

    کرتے ہیں ، جبکہ راکھی بولی کہ سلمان خان نے فون کیا ہے تو عادل نے اعتراف کیا ہے. راکھی نے پھر کہا کہ میں خدا کے بعد سلمان خان کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں‌نے میرا گھر بسایا ہے. آج اگر مجھے خوشیاں ملی ہیں تو وہ سلمان خان کی بدولت ہے. عادل نے کہا کہ میں نے شادی سے انکار نہیں کیا تھا لیکن بس خاموش اسلئے تھا کیونکہ گھر والوں کو منا رہا تھا.

  • بچوں اورنوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے طریقے

    بچوں اورنوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے طریقے

    بچوں اورنوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے طریقے

    تمباکو نوشی صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے، اور یہ وہ مسئلہ ہے جو عام طور پر جوانی میں شروع ہوتا ہے۔ 10 میں سے تقریباً 9 سگریٹ نوشی 18 سال کے ہونے سے پہلے شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنا بہت ضروری ہے۔
    نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے بہت سے کام کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں تمباکو پر ٹیکس بڑھانا، عوامی تعلیمی مہم چلانا، اور نابالغوں کے لیے تمباکو کی مصنوعات خریدنا مزید مشکل بنانا شامل ہیں۔
    تمباکو کا استعمال ایک قابل روک صحت کا مسئلہ ہے، اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

    1. تمباکو کا استعمال دنیا بھر میں قابل روک موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

    تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ دنیا بھر میں قابل روک موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، تمباکو کا استعمال ہر سال 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت کا ذمہ دار ہے اور کینسر، دل کی بیماری، اور دائمی سانس کی بیماری سمیت متعدد غیر متعدی بیماریوں کا ایک بڑا حصہ ہے۔ انسانی صحت پر ہونے والے نقصانات کے علاوہ، تمباکو کے استعمال کے اہم معاشی اخراجات بھی ہوتے ہیں، بشمول تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔

    تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لیے متعدد موثر حکمت عملییں ہیں، جن میں تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافہ، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ان حکمت عملیوں کو نافذ کرنے سے، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں اور موت کے بوجھ کو کم کرنا اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنانا ممکن ہے۔

    2. ہر سال تقریباً 6 ملین اموات سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

    ہاں، تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور دنیا بھر میں بڑی تعداد میں اموات کا ذمہ دار ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تمباکو کا استعمال ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد کی موت کا ذمہ دار ہے۔ اس میں تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے ہونے والی براہ راست اموات، جیسے کینسر اور قلبی بیماری، اور دوسرے ہاتھ کے دھوئیں سے ہونے والی بالواسطہ اموات دونوں شامل ہیں۔

    انسانی نقصان کے علاوہ، تمباکو کے استعمال کے اہم معاشی اخراجات بھی ہوتے ہیں، بشمول تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔ تمباکو پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو نافذ کرنا، جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور موت اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنائیں۔

    3. تمباکو نوشی 20 گنا سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہے جتنی تمام غیر قانونی منشیات کو ملا کر

    ہاں، تمباکو کا استعمال صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور غیر قانونی ادویات کے مقابلے میں بڑی تعداد میں اموات کا ذمہ دار ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تمباکو کا استعمال ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد کی موت کا ذمہ دار ہے، جب کہ غیر قانونی ادویات کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر، ڈبلیو ایچ او کا اندازہ ہے کہ منشیات کا غیر قانونی استعمال ہر سال تقریباً 187,000 افراد کی موت کا ذمہ دار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمباکو نوشی 20 گنا سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہے جتنی تمام غیر قانونی منشیات کو ملا کر۔

    تمباکو کا استعمال متعدد غیر متعدی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے، جن میں کینسر، دل کی بیماری اور سانس کی دائمی بیماری شامل ہیں۔ انسانی نقصان کے علاوہ، تمباکو کے استعمال کے اہم معاشی اخراجات بھی ہوتے ہیں، بشمول تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔ تمباکو پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو نافذ کرنا، جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور موت اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنائیں۔

    4. تمباکو کے استعمال سے عالمی معیشت کو سالانہ $1 ٹریلین سے زیادہ کا نقصان ہوتا ہے۔

    ہاں، تمباکو کے استعمال کے اہم معاشی اخراجات ہوتے ہیں، بشمول تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تمباکو کے استعمال کی عالمی اقتصادی لاگت $1 ٹریلین سالانہ سے زیادہ ہے۔ اس میں براہ راست اخراجات شامل ہیں، جیسے تمباکو سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کی لاگت، اور بالواسطہ اخراجات، جیسے قبل از وقت موت اور معذوری کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں کمی۔

    5. دنیا کے 1.1 بلین تمباکو نوشی کرنے والوں میں سے 80 فیصد سے زیادہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں

    ہاں، یہ سچ ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی ایک غیر متناسب تعداد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، دنیا کے 1.1 بلین تمباکو نوشی کرنے والوں میں سے 80 فیصد سے زیادہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں۔ یہ اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ ان ممالک میں تمباکو کا استعمال زیادہ ہوتا ہے، لیکن یہ اس حقیقت کی وجہ سے بھی ہے کہ تمباکو پر قابو پانے کے اقدامات، جیسے کہ تمباکو کی مصنوعات کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین اور ضوابط، ان میں اکثر کمزور ہوتے ہیں۔ ممالک

    تمباکو کا استعمال متعدد غیر متعدی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے، جن میں کینسر، دل کی بیماری اور سانس کی دائمی بیماری شامل ہیں۔ یہ بیماری کے عالمی بوجھ میں ایک بڑا معاون ہے اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود پر اس کے اہم منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تمباکو پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو نافذ کرنا، جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور موت اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنائیں۔

    6. پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں تمباکو نوشی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

    ہاں، یہ سچ ہے کہ پاکستان میں تمباکو کے استعمال کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ تمباکو نوشی کی شرحوں میں سے ایک ہے۔ 2017 میں، ڈبلیو ایچ او نے اندازہ لگایا کہ پاکستان میں تقریباً 25 فیصد بالغ آبادی کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال کرتی ہے۔ اس میں تمباکو نوشی اور دھوئیں کے بغیر تمباکو دونوں شامل ہیں۔

    7. تقریباً 60% پاکستانی مرد اور 10% پاکستانی خواتین سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق پاکستان میں تمباکو کا استعمال عام ہے، تقریباً 60 فیصد پاکستانی مرد اور 10 فیصد پاکستانی خواتین کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال کرتی ہیں۔ اس میں تمباکو نوشی اور دھوئیں کے بغیر تمباکو دونوں شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں تقریباً 25 فیصد بالغ آبادی تمباکو کا استعمال کرتی ہے، جو کہ دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔

    تمباکو کا استعمال متعدد غیر متعدی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے، جن میں کینسر، دل کی بیماری اور سانس کی دائمی بیماری شامل ہیں۔ یہ بیماری کے عالمی بوجھ میں ایک بڑا معاون ہے اور دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود پر اس کے اہم منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تمباکو پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو نافذ کرنا، جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا، تمباکو کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرنے والے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ، اور ایسے افراد کو تعلیم اور مدد فراہم کرنا جو تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں، تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اور موت اور پاکستان میں افراد اور کمیونٹیز کی صحت اور بہبود کو بہتر بنانا۔

    8. پاکستانی نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی شرح

    پاکستانی نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی شرح کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ اس موضوع پر محدود ڈیٹا دستیاب ہے۔ تاہم، یہ امکان ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی شرح بالغوں کے مقابلے میں کم ہے، کیونکہ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی شروع کرنے کا امکان کم ہے اور وہ سگریٹ نوشی مخالف پیغامات کو زیادہ قبول کرتے ہیں۔

    9- نتیجہ

    نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ تعلیم ایک اہم روک تھام کی حکمت عملی ہے۔ نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے سے انہیں سگریٹ نوشی کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسکولوں اور کام کی جگہوں پر تمباکو نوشی کی پالیسیاں بنانا نوجوانوں کی تمباکو نوشی سے حوصلہ شکنی میں بھی مدد کر سکتا ہے۔

    نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے طریقوں کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات یہ ہیں:

    1- نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے سب سے مؤثر حکمت عملی کیا ہیں؟

    نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے کچھ موثر ترین حکمت عملیوں میں شامل ہیں:

    1. تمباکو نوشی کے خطرات اور تمباکو سے پاک زندگی گزارنے کے فوائد کے بارے میں تعلیم فراہم کرنا

    2.ایسے قوانین کا نفاذ اور ان کا نفاذ جو نوجوانوں تک تمباکو کی مصنوعات کی فروخت اور مارکیٹنگ کو محدود کرتے ہیں۔

    3. تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافہ کرنا تاکہ وہ نوجوانوں کے لیے کم سستی ہوں۔

    4. اسکول اور کمیونٹی پر مبنی پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو مدد اور وسائل فراہم کرنا

    5. والدین کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا اور نوجوانوں کے لیے ایک اچھی مثال قائم کرنا

    2- والدین اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

    والدین اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے میں ایک اچھی مثال قائم کر کے، سگریٹ نوشی کے خطرات کے بارے میں اپنے بچوں کے ساتھ کھلی اور دیانتدارانہ گفتگو کر کے، اور اپنے بچوں کو جو چھوڑنا چاہتے ہیں انہیں مدد فراہم کر کے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو تمباکو نوشی یا ایسے ماحول میں جانے سے بچنے کے لیے بھی اقدامات کر سکتے ہیں جہاں تمباکو نوشی عام ہے۔

    3- اسکول اور کمیونٹیز نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

    اسکول اور کمیونٹیز نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے خطرات اور تمباکو سے پاک زندگی گزارنے کے فوائد کے بارے میں تعلیم اور وسائل فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ اس میں تمباکو سے پاک پالیسیوں کا نفاذ، تمباکو نوشی چھوڑنے کے خواہشمند طلباء کو مدد فراہم کرنا، اور نوجوانوں کو وسائل اور مدد فراہم کرنے کے لیے کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ کام کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

    4- میڈیا مہمات اور عوامی خدمت کے اعلانات نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

    میڈیا مہمات اور عوامی خدمت کے اعلانات تمباکو نوشی کے خطرات اور تمباکو سے پاک رہنے کے فوائد کے بارے میں بیداری پیدا کر سکتے ہیں۔ ان مہمات کو مخصوص گروہوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جیسے کہ نوجوان یا افراد جو تمباکو نوشی چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں اور تمباکو نوشی سے متعلق رویوں اور طرز عمل کو تبدیل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جیسے فیس بک اور انسٹاگرام، کو بھی معلومات کا اشتراک کرنے اور نوجوانوں کے ساتھ سگریٹ نوشی کے خطرات اور تمباکو سے پاک زندگی گزارنے کے فوائد کے بارے میں مشغول کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

  • جج آفتاب آفریدی قتل کیس کا مرکزی ملزم صوابی سے گرفتار

    جج آفتاب آفریدی قتل کیس کا مرکزی ملزم صوابی سے گرفتار

    انسداد دہشت گردی جج آفتاب آفریدی قتل کیس کا مرکزی ملزم صوابی سے گرفتار کر لیا گیا

    ڈی پی او صوابی کا کہنا ہے کہ سابق صدر سپریم کورٹ بار عبدالطیف آفریدی کے صاحبزادے دانش آفریدی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، ملزم دانش آفریدی کو ضمانت قبل از گرفتاری کی منسوخی کے بعد پولیس نے احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا، ملزم دانش آفریدی انسداد دہشت گردی عدالت سوات کے جج آفتاب آفریدی کی قتل میں پولیس کو مطلوب تھےجج آفتاب آفریدی کو خاندان کے دیگر افراد سمیت 4 اپریل 2021 کو صوابی کے حدود میں موٹروے پر قتل کیا گیا تھا

    واقعہ میں جج آفتاب آفریدی کو بیوی، بہو اور نومولود بچے سمیت قتل کیا گیا تھا جج آفتاب آفریدی کے صاحبزادے ماجد آفریدی نے عبدالطیف آفریدی، انکے بیٹے سمیت 6 ملزمان کو ایف آئی آر میں نامزد کیا تھا

    جج قتل کیس، لطیف آفریدی کی درخواست ضمانت پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    جج آفتاب آفریدی قتل کیس، پولیس کا ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ، کیا برآمد کر لیاِ؟