Baaghi TV

Author: +9251

  • شریف خاندان مشورے دینے کی بجائے اپنے بچے لندن سے واپس بلاکر کشمیر بھیجے

    شریف خاندان مشورے دینے کی بجائے اپنے بچے لندن سے واپس بلاکر کشمیر بھیجے

    ہم انتظار کر رہے ہیں کہ شہباز شریف اپنے بیٹوں، دامادوں اور پوتوں کو حکم دیں کہ وہ سب مصروفیات کو چھوڑ کر وطن واپس آجائیں جہاں سے وہ براہ راست لائن آف کنٹرول کی طرف لیڈ کریں، تمام رکاوٹیں توڑ دیں اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوجائیں اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے بہادر آزادی پسندوں سے بھارتی قابض افواج کے خلاف لڑائی میں شامل ہوں اور بھارتی فوج کیخلاف لڑیں۔

    ہم انتظار کر رہے ہیں کہ شہباز شریف اپنے بیٹوں ، دامادوں اور پوتوں کو سیدھا نئی دہلی جانے کا حکم دیں ، ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو تلاش کریں ، (جسے وہ ‘انکل مودی’ کہتے تھے) اور مودی کے دونوں بازو توڑ دیں.

    ہم منتظر ہیں کہ مس مریم صفدر اپنے بھائیوں اور بیٹے (بچوں) کو فوری پاکستان واپس آنے کا حکم دے رہی ہیں اور انہیں مجاہد فورس بنانے کے لئے کہہ رہی ہیں۔ ساتھ ہی ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے خلاف جنگ کی راہنمائی کررہی ہیں.

  • الحمرا ہال میں جشن آزادی شو منعقد کیاگیا،معروف اداکارہ لائبہ خان کی بطور مہمان خصوصی شرکت

    الحمرا ہال میں جشن آزادی شو منعقد کیاگیا،معروف اداکارہ لائبہ خان کی بطور مہمان خصوصی شرکت

    لاہور(شوبز)الحمرا ہال لاہور میں "جشن آزادی شو ” پنجاب لینگوئج انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ کلچر کے تعاون سے منعقد کیا گیا جس میں نامور فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا شو کی مہمان خصوصی معرروف اداکارہ لائبہ خان تھیں جنہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا اس موقع پر لائبہ خان کا کہنا تھا کہ آزادی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اور پاکستان ہمارے لیے اللہ کا خصوصی انعام ہے ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے اور اپنے ملک کی عزت و وقار کی سربلندی کیلیے کام کرنا چاہیے اداکارہ لائبہ خان کی سالگرہ 3 اگست کو تھی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مصروفیت کی بنا پر یہ سالگرہ کسی اور دن منانے کا فیصلہ کیا ہے یاد رہے کہ لائبہ خان اپنی سالگرہ دھوم دھام سے مناتی ہیں اور اس میں بہت سے اداکار اور سماجی خلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شریک ہوتے ہیں

  • میری سیاست مختلف، سندھ اب نفرتیں نہیں محبتیں بانٹ رہا ہے، مصطفیٰ کمال

    میری سیاست مختلف، سندھ اب نفرتیں نہیں محبتیں بانٹ رہا ہے، مصطفیٰ کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہھے کہ کراچی سے لیکر کشموراور کشمیر تک لوگ جانتے ہیں میری سیاست سب سےمختلف ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملیر ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مراعات والی سیاست کو ٹھکرا کر سیاست میں آیا، سیٹیں حاصل کرنا سب کا خواب ہوتا ہے، میں دنیا کے بڑے شہرکا میئر رہا، سینیٹر بنا، ساڑے پانچ سال باقی تھے پھر بھی ٹھکرادیا سب کچھ لات ماردی، کراچی کے لوگ جانتے ہیں سچ بولنے کی سزا موت ہوا کرتی تھی ہم نے ہمت کی، پاکستان کے لوگ دیکھ لیں ہم نے کتنی بڑی قربانی دی، آج بہت آسان ہے بات کرنا اس وقت مشکل تھا، لوگ الیکشن نتائج سے ہمیں ناکام قرار دیتے ہیں، میں کہتا ہوں میں کامیاب ہوگیا ہوں کیوں کہ شہداء قبرستان میں لاشیں دفن ہونا بند ہوگئیں، اب کورنگی اورلیاری میں مورچہ بند فائرنگ نہیں ہوتی، اب سندھ کی علحد گی کی کوئی بات بھی کرے تولوگ اب ان کو سنجیدہ نہیں لیتے سندھ میں اب نفرتیں پیدا نہیں ہورہیں،

    مصطفیٰ‌ کمال نے کہاکہ ہم نے اپنی جانوں کانظرانہ پیش کیا ہے یہ کانٹوں بھراسفر تھا ہم سرخرو ہوئے، تیس سال تک لوگ لڑتے رہے نفرتیں رہی آج سندھ ایک ہے لیکن سندھ کے لوگوں کی زندگیاں بدتر ہیں، خاموشی پر اللہ ہم سے پوچھے گا ظالم وہ ہے جوظلم پر خاموش ہے، میں نے اپنی خاموشی توڑی ہے، آدھے سے زیادہ سندھ ہیپاٹائیٹس بی اورسی کا مریض ہے بچےغذا کی کمی کاشکار ہیں،
    پاکستان میں ایک کروڑ بچے عمرکے حساب سے پرورش نہیں پاتے، عوام سے زیادہ طاقتورکوئی نہیں ہم ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوگئے صحیح سمت میں نہیں سوچیں گے تو نقصان کریں گے، ایم کیوایم اپنی ناکامی کاملبہ سندھ حکومت پر ڈالتی ہے اورجاگ مہاجر جاگ کا نعرہ لگاتے ہیں
    صاف پانی نہیں دے سکے، کچرہ نہیں اٹھاسکے صوبہ بنائیں گے، گیارہ سال سے ایم کیوایم طاقت میں رہے پانی مانگو کہتے ہیں اختیارنہیں ہے، ان کولنڈن کا میئر بنائو تواس کو لالوکھیت بنا دیں گے، انہوں نے کہاکہ سندھ میں سات لاکھ سرکاری ملازمین ہیں، کیا سرکاری ملازمتوں سے مسائل حل ہوجائیں گے، سب سیاست چل رہی ہے، اس راج کو اب ختم ہونا ہوگا مجھے سیاست کرنی ہوتی تو کہتا یہ سندھیوں کی حکومت ہے، کچرااٹھانے والا محکمہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے، رشوت لینے والا کسی کا نہیں ہوتا لوگوں نے سب کو آزما لیا تین دفعہ ایم کیوایم کو پیپلزپارٹی کے خلاف استعمال کیا گیا،
    کیا اس وقت اکثریتی جماعت ایم کیوایم کا وزیراعلی نہیں بنایا جاسکتا تھا،

    انہوں نے کہاکہ مجھے جہاں مہاجر ہونے پر فخر ہے اتنا سندھ پر بھی ہے میں سندھیوں کوانصارکا درجہ دیتا ہوں، سندھیوں کے بڑوں نے ہمارے آباو اجداد کو گلے لگایا سندھ پورے ملک کو چلا رہا ہے، سندھ کا 95 فیصد روینیو کراچی پیدا کرتا ہے میں نے بابابھٹ کو پینے کا پانی دیا وہاں کوئی اردو بولنے والا نہیں رہتا۔ اکیس بچے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے دومعصوم بچوں کی وڈیو پر افسوس تک کا اظہار نہیں کیا گیا، عمران خان نے بائیس انسانی جانوں کے نقصان پر ایک فون تک نہ کیا کے الیکٹرک کو، صفائی مہم کا نام ہی غلط ہے ہم نہیں کہتے کہ حکومت کیسے بنی جیسے تیسے بن گئی ہے، پر کچھ تو کام کریں، کیا سندھ میں پی ٹی آئی حکومت بننے تک کام نہیں کیا جائیگا، حکمران احساس کریں، بشرہ زیدی کیس کی وجہ سے شہر 35سال تک آگ میں جھلستا رہا، کرنٹ سے بچہ جاں بحق ہوتا ہے ماں بات دیکھتے رہ جاتے ہیں حکمران عوام کے غضب سے ڈریں بے حسی ختم کریں،

  • کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑینگے،  بھائی عبدالرحمن

    کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑینگے، بھائی عبدالرحمن

    سرگودھا۔07اگست(اے پی پی)کشمیر کی تقسیم قابل قبو ل نہیں کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں ان خیالات کا اظہار تاجر راہنما بھائی عبدالرحمن نے کیا انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں دہشت گردی کا اعتراف کرنے والا بھارت اب کشمیر میں کھلی دہشت گردی پر اتر آیا ہے، کشمیر کے شہداء کا لہو رنگ لائے گا بھائی عبدالرحمن نے کہا کہ استعماری قوتیں اپنا جبرواستبداد مسلط کررہی ہیں لیکن شہداء کشمیر کا مقدس خون آزادی کی جنگ جیت کررہے

  • دو قومی نظریہ اور آزادی کی قدر و قیمت ۔۔۔ تحریر : سلیم اللہ صفدر

    دو قومی نظریہ اور آزادی کی قدر و قیمت ۔۔۔ تحریر : سلیم اللہ صفدر

    تاریخ شاہد ہے کہ ملکوں کی جنگ ہفتوں نہیں مہینوں نہیں…. سالوں تک چلتی ہے. اور ہمارے وہ اسلاف جن کی کہانیاں ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں چاہے وہ محمد الفاتح ہوں، محمود غزنوی یا سلطان ایوبی … یہ تمام فاتحین جب بھی جنگ شروع کرتے تھے تو عمریں گزر جاتیں تھیں تب جا کر قسطنطنیہ، سومنات کے مندر، یروشلم( مسجد اقصی) جیسی فتوحات حاصل ہوتیں تھیں .

    اگر یہی فاتحین ایک وقت میں زیادہ دشمنوں سے لڑائی کریں تو کسی مخصوص علاقے کی فتح اور زیادہ دور چلی جائے.

    چلیں چھوڑیں میں ان کی بات نہیں کرتا جو پانچ وقت کی بجائے سات وقت (تہجد، اشراق ) کے نمازی تھے اور ان کا ایمان بہت ہی زیادہ… ہماری سوچ سے زیادہ مضبوط تھا. میں تو پاکستان اور پاک فوج کی بات کرتا ہوں جن میں پانچ وقت کے نمازی بھی مشکل سے ہوں گے . واللہ اعلم

    پاکستان نائن الیون سے لیکر گزشتہ سال تک حالت جنگ میں رہا. کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ تو کبھی تکفیریوں، خارجیوں کے خلاف. اس سال اسے کچھ سانس ملا تو اس نے چوروں کو اکٹھا کر کے احتساب شروع کر کے معیشت مضبوط کرنے کی کوشش کی …اور ساتھ ہی عالمی برادری سے تعلق مضبوط بنانے کے لیے اور اپنے آپ کو امن پسند و شریف ثابت کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری مجاہدین کے ہاتھ روک دئیے.

    اسی دوران بھارت میں انتخابات ہوئے تو مودی نے یہ وعدہ دے کر ووٹ حاصل کیے کہ دوبارہ وزیر اعظم بن گیا تو میں کشمیر کے معاملے کو حل کر کے چھوڑوں گا. ایک طرف مجاہد محصور… دوسری طرف بھارتی حکومت آزاد….! اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کشمیر میں جارحانہ اقدام اٹھا لیا. جو لوگ بصیرت رکھتے تھے وہ پہلے ہی کہتے تھے کہ مودی نے کشمیر کے معاملے پر کوئی نہ کوئی فیصلہ کن کارنامہ سرانجام دے ہی دینا ہے. اور ایسے کارنامے مسلمانوں کے حق میں بہتر ہوا کرتے ہیں. (اگر مجاہدین کے ہاتھ بندھے ہوئے نہ ہوتے تو بھی مودی حکومت یہی فیصلہ کرتی بھارتی عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق )

    اب جب بھارتی حکومت نے کام کر ہی دیا تو پاکستان بھلا کیا کر سکتا تھا. ایک حل یہ تھا جس کا مطالبہ کیا جاتا رہا کہ مجاہدین آزاد کر دو کشمیر بھی آزاد ہو جائے گا لیکن اس صورت میں بات صرف کشمیر کی نہیں ایف اے ٹی ایف کی بھی تھی. مجاہدین آزاد کرنے کی صورت میں پاکستان عالمی برادری میں تنہا رہ جاتا. اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ فی الحال اتنا ایمان نہیں کہ صرف اللہ کی ذات پر یقین کر کے دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے لیے مجاہدین کو دوڑا دیا جاتا. اور اگر دوڑا دیا جاتا تو اس ایمان اور وسائل کے ساتھ مجاہدین جا کر مودی کی گردن تو اتار لیتے شاید… لیکن مودی کے تخت پر بیٹھ کر فیصلہ تبدیل کروانا ممکن نہیں تھا.

    پھر یہی فیصلہ کیا گیا کہ آخری حد تک جانا چاہیے اور آخری ممکنہ حد یہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ساری دنیا کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر پیش کیا جائے… ساری دنیا سے پوچھا جائے کہ اگر کشمیر واقعی بھارت میں شامل ہونا چاہتا ہے تو دو دن سے نیٹ سروس کیوں بند ہے…. ساری دنیا کو دکھایا جائے کہ کشمیر کی گلیوں میں بھارت کا حصہ بن جانے کے بعد سبز ہلالی پرچم لہرائے جاتے ہیں کہ ترنگے… اور اس کے بعد ساری دنیا کے سامنے کشمیر پر ہونے والے ظلم کی کہانی بیان کی جائے تا کہ دنیا کو پتہ چل جائے کہ پہلے جو بھارت الزام لگاتا تھا کہ پاکستان نے آزاد کشمیر میں فریڈم فائیٹر بٹھا رکھے ہیں وہ الزام غلط ہے اور فریڈم فائیٹر نہ ہونے کے باوجود کشمیری پھر بھی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں.

    کشمیر یقیناً پاکستان کی شاہ رگ ہے… اور اس کی سلامتی یقیناً پاکستان کی سلامتی ہے. بات یہ نہیں کہ شہہ رگ دشمن کے حوالے کر دی گئی… وہ تو پہلے ہی دشمن کے ہاتھوں میں تھی. بات یہ ہے کہ پہلے دشمن نے شہہ رگ دبوچی ہوئی تھی اب دشمن کہتا ہے کہ یہ شاہ رگ میری ہے تمہاری نہیں. اور اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم عالمی برادری کو سمجھائیں کہ یہ شہہ رگ ہماری ہے بھارت کی نہیں.

    اب صورتحال یہ ہے کہ بھارت کی انتہائی کوشش کے باوجود عالمی عدالت میں پاکستان پر کوئی الزام نہیں کہ وہ فریڈم فائٹر کو آگے لا رہا ہے. پاکستان عالمی برادری میں تنہا نہیں ہونا چاہتا اور ہر حد تک جانے کے لیے تیار بھی ہے. یعنی پاکستان اپنا سافٹ ایمیج سب کے سامنے رکھ کر دنیا کو بتا رہا ہے کہ کشمیر میری خواہش ضرور ہے(دو قومی نظریہ کی وجہ سے ) لیکن میں زبردستی نہیں چھین رہا بلکہ شہہ رگ خود زور لگائے گی.

    جو احباب افغان مجاہدین کا موازنہ پاکستانی فوج یا پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ کر رہے ہیں ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ علاقائی و جغرافیائی موازنہ بھی کر لیں. افغانستان میں بیس کیمپس ، افغانیوں کے گھر اور میدان جنگ ایک ہی جگہ پر ہیں … اور بات مجاہدین کے لیے فائدہ مند ہے. کشمیر میں مجاہدین کے بیس کیمپ پہلےتو تھے نہیں اور اگر چند ایک تھے تو وہ بھی میدان جنگ سے انتہائی فاصلے پر. جو لوگ تحریک آزادی کے ساتھ تھوڑا بہت لگاؤ رکھتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کشمیر میں بیس کیمپ سے میدان جنگ تک کا سفر کتنا طویل اور کتنا پرکٹھن ہے.

    اس کے علاوہ افغانیوں کا بچہ بچہ راکٹ لانچر، کلاشنکوف چلانے میں ماہر ہے لیکن کشمیری بھائیوں میں جرات و شجاعت کی اتنی اور ایسی زبردست لہر برہان وانی کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی جس نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیاتھا . بہر حال بیس کیمپ جو پہلے تھے اب نہیں رہے… تمام کشمیری قیادت جیل میں ہے. تو ایسی صورت میں افغانیوں سے کشمیریوں یا پاکستان کا موازنہ کرنا سراسر ناانصافی ہے

    اب آخری بات کہ پاکستان نے اس معاملے کو ستر سال تک کیوں لٹکائے رکھا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اس لیے دنیا کے سامنے سٹینڈ نہیں لے سکا کیونکہ 1947 میں کشمیری مسلمان قیادت نے دوقومی نظریہ کو سائیڈ پر رکھ بھارت کا ساتھ دے دیا اور اسی وجہ سے اس وقت سے اب تک پاکستان دفاعی پوزیشن پر رہا . جب کشمیری حکومت خود انڈیا کے ساتھ ہو گئی تھی تو بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان کی پوزیشن کمزور ہو گئی.

    لیکن دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اس نے کشمیریوں کا ساتھ پھر بھی نہیں چھوڑا. اور کیسا اور کہاں کہاں ساتھ دیا اس کا جواب میں نہیں دے سکتا کشمیر کی گلیوں میں لہراتے پاکستان پرچم بتا سکتے ہیں. اب جب کہ تمام حریت قیادت(سب اس وقت جیل میں ہیں یعنی بھارت کے پے رول پر نہیں ) کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی بھی سمجھ چکی ہیں کہ عافیت دو قومی نظریہ میں ہی تھی تو پاکستان بھی اب مکمل طور پر سامنے آئے گا اور انہیں عافیت دینے کی مکمل کوشش کرے گا. اور اس بار اس کی لڑائی صرف بھارت سے ہو گی… نام نہاد مسلمانوں یا غداروں سے نہیں. اور دو قومی نظریہ ہی ان شا اللہ اس بار کشمیر کی آزادی کا فیصلہ کرے گا.

    پاکستان اپنی شہہ رگ بچانے کے لیے محدود وسائل اور محدود ایمان کے ساتھ زور لگا رہا ہے اور لگاتا رہے گا لیکن شاہ رگ کس کی ہے اس کا فیصلہ شہہ رگ اب خود کرے گی… شاہ رگ سے بہتا ہوا خون کرے گا اور یہ فیصلہ کیا ہو گا یہ وقت بتائے گا. باقی جہاں تک بات ہے بھارت سے جنگ کر کے کشمیر فتح کرنے کی تو جتنی بار کوشش اور جتنا وقت ہمارے اسلاف نے کسی ایک ملک کو فتح کرنے میں لگایا… اتنا تو لگ ہی سکتا ہے. بس ذرا کشمیریوں کو سنبھلنے کا موقع دے دیں…. کہ یہ شہہ رگ اپنے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے.

    فی الحال تو اس شہہ رگ کی طرف سے( چند بناوٹی وڈیوز اور پکچرز کے علاوہ) صرف ایک ہی کنفرم ٹویٹ سامنے آئی ہے.

    جب انٹرنیٹ سروس بحال ہو گی تب پتہ چلے گا کشمیر کی گلیوں اور شہداء کی قبروں پر کون سا پرچم لہرا رہا ہے. دور سے اور سالوں سے آزادی کے سبز باغ دکھانے والے پاکستان کا پرچم یا ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو قتل کرنے کے بعد انہیں گھر، سہولیات اور وسائل مہیا کرنے کے وعدے دینے والا ہندوستانی ترنگا…. !

  • سری لنکن بورڈ کا چار رکنی وفد کراچی پہنچ گیا، کیا ہوئے نئے فیصلے؟ اہم خبر

    سری لنکن بورڈ کا چار رکنی وفد کراچی پہنچ گیا، کیا ہوئے نئے فیصلے؟ اہم خبر

    سری لنکن کرکٹ بورڈ کا چار رکنی وفد نیشنل اسٹیڈیم کراچی پہنچ گیا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفد نے نیشنل اسٹیڈیم میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا، پی سی بی حکام بھی سری لنکن وفد کے ہمراہ ہیں، وفد کی سربراہی سری لنکن بورڈ کے سیکریٹری موہن ڈی سلوا کر رہے ہیں،

    پی سی بی کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل ذاکر خان بھی وفد کے ساتھ ہیں ، پی سی بی حکام انتظامات کےحوالےسےآفیشلرزکو بریفنگ دےرہےہیں، موہن ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ وہ کراچی کے بعد لاہور جائیں گے، اس دوران کرکٹ میچز سے متعلق اہم فیصلوں کی توقع ہے،

  • راجہ پرویز اشرف کی بات پر مراد سعید نے ایسا جواب دیا کہ پوری اپوزیشن کو چپ لگ گئی

    راجہ پرویز اشرف کی بات پر مراد سعید نے ایسا جواب دیا کہ پوری اپوزیشن کو چپ لگ گئی

    وفاقی وزیر مراد سعید کی طرف سے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران کشمیر سے متعلق تقریر کی گئی اور اس دوران انہوں نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بھی نشانہ بنایا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے سخت احتجاج کیا گیا، پیپلز پارٹی لیڈر راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ مراد سعید صاحب کی اتنی عمر نہیں جتنا ہمارا تجربہ ہے جس پر انہوں نے کہاکہ شکر ہے کہ میری اتنی عمرنہیں جتنا آپ کا تجربہ ہے،

    اسی طرح مسلم لیگ ن کی طرف سے احتجاج پر بھی انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کےقاتل مودی کوشادی کی تقریب میں آپ نےہی بلایاتھا، ان کا کہنا تھا کہ ہم نےسفارتی چینلزکو استعمال کرناہے،

  • بھارت، ایک اور مسلمان کو شہید کر کے چہرے پر تیزاب ڈال دیا گیا

    بھارت، ایک اور مسلمان کو شہید کر کے چہرے پر تیزاب ڈال دیا گیا

    بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف جرائم کسی طور پر تھم نہیں رہے ۔ تازہ ترین واقعہ میں بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع پریاگ راج کے دھومن گنج علاقے میں بدھ کو نامعلوم افراد نے 27سالہ عمران کو شہید کر دیا ۔ بعد ازاں اس کی شناخت چھپانے کے لیے اس کے چہرے پر تیزاب ڈال دیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق دھومن گنج تھانہ علاقہ کے فوجی کالونی میں عمران (27) کی لاش صبح کے وقت لوگوں نے دیکھا۔ اس کو اینٹ اور پتھروں سے مار مار کرشہید کر دیا گیا۔ اس کی شناخت چھپانے کے لئے ملزموں نے اس کا چہرہ تیزاب سے جلا دیا تھا۔ مقتول کی جیب سے ملے موبائل کی بنیاد پر اس کی شناخت ہوئی اور پتہ چلا کہ وہ پرتاپ گڑھ کا رہنے والا عمران ہے۔

    پولیس نے عمران کے اہل خانہ کو اس حادثہ کی خبر دے دی ہے۔

  • علاقہ کی تعمیروترقی کیلئے34کروڑ75 لاکھ روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں، عبدالغفار

    علاقہ کی تعمیروترقی کیلئے34کروڑ75 لاکھ روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں، عبدالغفار

    سرگودھا۔07اگست(اے پی پی)کنٹونمنٹ ایگزیکٹو آفیسر سرگودھا عبدالغفار نے بتایا ہے کہ مالی سال2019-20ء کے لئے کینٹ علاقہ کی تعمیروترقی کیلئے34کروڑ75 لاکھ روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں،گزشتہ روز اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیرومرمت کیلئے دس کروڑ روپے سیوریج لائن بچھائے جانے ومرمت کیلئے ایک کروڑ75 لاکھ روپے واٹر سپلائی لائنوں کی مرمت کے لئے50 لاکھ روپے کنٹونمنٹ بورڈ کی سرکاری عمارات کی تعمیرومرمت کیلئے اٹھارہ کروڑ روپے جبکہ کینٹ علاقہ میں پارکس سٹریٹ لائٹس فٹ پاتھوں کی تعمیر اور خوبصورتی کے لئے کئے جانے والے دیگر اقدامات کیلئے چار کروڑ پچاس لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔کنٹونمنٹ ایگزیکٹو آفیسر نے مزید نے کہا کہ کینٹ بورڈ سرگودھا اپنے مکینوں کوبنیادی سہولیات کی فراہمی اورعلاقہ کی خوبصورتی کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہا ہے اہلیان کینٹ کو چاہیے کہ وہ حلقہ میں ان ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے لئے اپنے ٹیکس بروقت ادا کریں تجاوزات اور گلیوں میں کوڑا وغیرہ پھینکنے سے اجتناب کریں عوام کے تعاون اور بروقت ٹیکسوں کی ادائیگی سے کنٹونمنٹ بورڈ سرگودھا اہلیان کینٹ کو ہر قسم کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہے گا۔

  • پاکستان کوایشیائی ترقیاتی بینک نے 50 کروڑ ڈالرز قرض دینے کا اعلان کردیا

    پاکستان کوایشیائی ترقیاتی بینک نے 50 کروڑ ڈالرز قرض دینے کا اعلان کردیا

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالرز کا قرض دینے کی منظوری دے دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالرز کا قرض دینے کی منظوری دے دی ہے۔اعلامیہ کے مطابق قرض کے ذریعے کاروبار آسان بنانے اور برآمدات بڑھانے کے لیے مدد (سپورٹ) فراہم کی گئی ہے۔ جاری اعلامیہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرض سے پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

    واضح رہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان کے ساتھ 53 سال کی شراکت داری ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی معیشت میں بہتری اور مالیاتی مسائل کے حل کے لیے تمام ممکنہ مدد اور تعاون فراہم کرتے رہیں گے۔یاد رہے کہ دو ماہ قبل مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے عوام کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کو 3.4 ارب ڈالر دے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ رقم بجٹ سپورٹ کے لیے ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ 2.2 بلین ڈالر اس مالی سال میں منتقل کیے جائیں گے۔