Baaghi TV

Author: +9251

  • سیاسی شخصیات کا اعتراض، شاہ محمود قریشی کا حج کے بغیر واپسی کا فیصلہ

    سیاسی شخصیات کا اعتراض، شاہ محمود قریشی کا حج کے بغیر واپسی کا فیصلہ

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب سے پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ نے پاکستان واپسی کا فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر کیا ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے گزشتہ روز مکہ مکرمہ پہنچے تھے،

    واضح رہے کہ بھارت کی طرف سے جموں‌ کشمیر کی خصوصی حیثیت والی دفعات ختم کرنے کے بعد بعض‌ سیاسی شخصیات اور دیگر مختلف حلقوں کی طرف سے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے اعتراض اٹھایا جارہا تھا کہ اس حساس موقع پر وزیر خارجہ کو پاکستان ہونا چاہیے تھا وہ حج پر کیوں گئے ہیں، مختلف لوگوں کے اعتراض اور سوشل میڈیا پر مہم چلائے جانے کی وجہ سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی واپسی کو وزیر اعظم عمران خان کے حکم سے مشروط کیا اور کہا تھا کہ وہ پہلی مرتبہ حج پر آئے ہیں قسمت سے حج کیلئے بلاوا آتا ہے تاہم اگر ان حساس حالات میں انہیں واپس بلایا جاتا ہے تو وہ آ جائیں گے، رپورٹ کے مطابق شاہ محمود قریشی اب بغیر حج کئے واپس آر ہے ہیں،

  • افسوسناک خبر! مظفرگڑھ میں دو کمسن بچے غلطی سے کار میں بند ہونےپر دم گھٹنےسےجاں بحق

    مظفرگڑھ میں گاڑی میں بند ہوکر دم گھٹنے سے 2 بچے جاں بحق ہوگئے،دونوں بچوں کی عمریں 4 سے 5 سال کے درمیان ہیں.مظفرگڑھ کے علاقے محلہ کوتوال والا میں 4 سالہ عبداللہ اور 5 سالہ نعیم گلی میں کھڑی ہمسائے کی کار سے کھیلتے ہوئے غلطی سے کار کے دروازے اندر سے لاک کربیٹھے۔پولیس کیمطابق 2 گھنٹوں سے زائد کار میں بند رہنےکے سبب گرمی اور دم گھٹنے سےدونوں بچے کار میں ہی دم توڑ گئے.مختلف جگہوں پر2 گھنٹوں کی تلاش کے بعد اہلخانہ نے بچوں کو کار میں مردہ حالت میں دیکھا تو علاقہ میں کہرام مچ گیا۔بچوں کی لاشوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ منتقل کیاگیا جہاں ڈاکٹروں نے بچوں کی موت کی تصدیق کردی.پولیس کیمطابق واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں.

  • آزاد کشمیر کی طرح ہمسایہ ملک کا یہ علاقہ بھی جموں کشمیر کا حصہ ہے، ایک اور بھارتی شر انگیزی

    آزاد کشمیر کی طرح ہمسایہ ملک کا یہ علاقہ بھی جموں کشمیر کا حصہ ہے، ایک اور بھارتی شر انگیزی

    بھارتی وزیر داخلہ نے آزاد کشمیر کی طرح ہمسایہ ملک چین کے علاقے اکسائی چن کے بھی مقبوضہ کشمیر کا حصہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق بھارتی لوک سبھا میں آج بھی اپوزیشن جماعتوں نے کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلہ کیخلاف شدید احتجاج کیا، اس دوران ہندوستانی وزیر داخلہ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی طرح اکسانی چن بھی جموں‌کشمیر کا حصہ ہے،

    ہندوستانی پارلیمنٹ کے دوران کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ہندوستانی حکومت ایسے آئینی قرارداد اور بل لانے کی اہل ہے جبکہ حکومت وقتا فوقتا کہتی رہی ہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسئلہ ہے، اس سلسلہ میں انہوں نے اقوام متحدہ میں 1949 میں کشمیر پر ایک واقعہ کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے وضاحت چاہتی ہے۔ کانگریس پارٹی جاننا چاہتی ہے،

    بھارتی وزیر داخلہ نے کانگریس کے لیڈر کو کہا کہ وہ بتائیں کہ کیا ان کی پارٹی اس دلیل کی حمایت کرتی ہے کہ کشمیر تنازع کو اقوام متحدہ کے تحت حل کیا جانا چاہئے، اسی بحث کے دوران ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو نے کہا کہ جموں و کشمیر میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور ریاست کے ٹاپ رہنماؤں گرفتار کیا گیا ہے اور کوئی نہیں جانتا ہے کہ کون کہاں ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ ان کے دوست ڈاکٹر فاروق عبداللہ کہاں ہیں جو اس ایوان کے رکن ہیں تو بھارتی وزیر داخلہ نے کہاکہ وہ اپنی مرضی سے گھر پر ہیں انہیں نظربند نہیں‌ کیا گیا،

  • لیبیا ، خلیفہ حفتر کی فوج نے ترکی کا اسلحہ بردار طیارہ تباہ کر دیا

    لیبیا ، خلیفہ حفتر کی فوج نے ترکی کا اسلحہ بردار طیارہ تباہ کر دیا

    لیبیا میں خلیفہ حفتر کی حامی فوج نے مصراتہ کے ہوائی اڈے پر موجود ترکی کا ایک اسلحہ بردار جہاز تباہ کر دیا۔ترکی کا مال بردار فوجی طیارہ الیوشن IL76 مصراتہ کے ہوائی اڈے پر موجود تھا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ترکی فوجی جنگی طیارے کو انتہائی محتاط آپریشن میں تباہ کیا گیا۔ طیارے پر بمباری کے دوران شہری آبادی اور شہری املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا اور انسانی حقوق کے اصولوں کی مکمل پاسداری کی گئی۔

    خیال رہے کہ جنرل حفتر کی وفادار فوج کی طرف سے مصراتہ میں ترکی کے اسلحہ کو تباہ کرنے کی ایک ہفتے میں دوسری بڑی کارروائی ہے۔

  • وہاڑی: بچے پر تشدد کرنے پر گرفتاری

    وہاڑی (نمائندہ باغی ٹی وی) کے علاقے ٹبہ سلطانپور میں عمران الیکٹریشن پر کام کرنے والے بچے ارشاد عرف ڈھولا بعمر 14/15سال کو استاد سجاد نے کام نہ کرنے اور نقصان کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا
    اطلاع پر پولیس تھانہ ٹبہ سلطانپور موقع پر پہنچی. ملزم سجاد کو حراست میں لے لیا گیاہے. ملزم کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے.

  • سرگودہا،پل 111پہاڑی تودہ گرنے سے 5 مزدور جاں بخق

    سرگودہا،پل 111پہاڑی تودہ گرنے سے 5 مزدور جاں بخق

    سرگودہا،پل گیارہ(نمائندہ باغی ٹی وی )پہاڑی تودہ گرنے سے 5 مزدور جانبحق
    مزدور پہاڑی چک 126 بلاک نمبر 15 پر ڈرلنگ کر رہے تھے
    پریسکیو 1122نے مقامی افرادکی مددسے آپریشن کر کے پانچوں مزدوروں کی نعشیں نکال لی
    3مزدوروں کا تعلق 115 رسالہ سرگودہا سے جبکہ2 کا تعلق چناب نگر سے بتایا جا رہا ہے
    ریسکیو آپریشن جاری ہے

    یعقوب ولد نواز راشد مسیح ولد اللہ دتہ مسیح. ذوالفقار ولد مشتاق تینو کا تعلق 115 رسالہ جبکہ فریاد ہنی خان ولد عمر خان کا تعلق محمد یار چنیوٹ اور شیر زادہ ولدگل آغا کا تعلق چناب نگر سے تھا

  • لودھراں : ٹرک اور ٹرالر کے درمیان تصادم

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) میں نزد بلال پٹرول پمپ خانیوال روڈ لودھراں کے قریب تیر رفتار ٹرک کی ٹرالر کو ٹکر

    تفصیلات کے مطابق تیز رفتار ٹرک ٹرالر سے جا ٹکرایا جس کے نتیجے میں ٹرک ڈرائیور اگلا حصہ پوری طرح تباہ ہونے کی وجہ سے سیٹوں میں پھنس گیااطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں ، ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے ٹرک میں پھنسے ڈرائیور کو نکال کر ہسپتال منتقل کردیا –

  • چین: سیلاب کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک، 6 لاپتہ

    چین: سیلاب کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک، 6 لاپتہ

    چین کے وسطی حصے میں شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلاب کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے 19 افراد ہلاک اور 6 لاپتہ ہو گئے ہیں۔
    بارش اور سیلاب نے روس میں بھی تباہی مچادی، 29 ہزار افراد بے گھر
    شین خوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق صوبہ ہوبے کی ہیفنگ کاونٹی میں اتوار کے روز شدید بارشیں اچانک سیلابی ریلے کا سبب بن گئیں۔

    امدادی کاموں کے دوران 61 افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ صوبے کے شہر شیان کے علاقے ین یانگ میں سیلاب کی وجہ سے 6 افراد ہلاک اور 6 لاپتہ ہو گئے ہیں۔ علاقے میں امدادی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔

  • ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

    ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

    ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدالتی نظام انصاف اور پولیس میں بہت زیادہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔ جہاں پر ایک ملزم ۔! جی ہاں ایک ملزم جس پر صرف کوئی الزام ہوتا ہے جبکہ وہ الزام ابھی ثابت نہیں ہوا ہوتا ہے مگر اس انسان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انسان اور انسانیت کی تذلیل کی انتہا ہوتی ہے ۔ جس کو ذلیل رسوا خوار کر کر کے 1 سال سے 20 سال کے بعد بے گناہ لکھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے مگر اس کی وہ جو تذلیل ہوتی ہے جو اس کی عزت کا جنازہ اٹھتا ہے اس کے بعد تو جیسے وہ مر ہی جاتا ہے اور ایک زندہ لاش بن جاتا ہے ۔ پہلے پہل تو پولیس کسی بھی سچے یا جھوٹے الزام میں کسی کو بھی ایک سادہ سی درخواست پر دھر لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی تو درخواست کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے بس کسی کی فرمائش یا پولیس کی اپنی مرضی پر بھی منحصر ہوجاتا ہے اور اس انسان کو حوالات میں بند کردیا جاتا ہے ۔

    حوالاتوں میں جو ماحول ہے وہاں جانور بھی رہنا گوارہ نا کریں کوئی سہولت نہیں ہوتی ہے ہر طرف بدبو کا راج کہیں بجلی نہیں ہوتی تو کہیں مچھر جو بھی شریف النفس انسان صرف کسی الزام میں ہی حوالات میں چلا جائے تو ساری زندگی اس حوالات کے گندے ماحول کا خیال اس کے ذہن سے نہیں جاتا ہے۔ پھر اس کے اس کی جو چھترول اور گندی گندی گالیوں سے خدمت کی جاتی ہے وہ بھی اس کے اندر کے انسان اور انسانیت کو مار دیتی ہیں جبکہ قیدیوں کی تربیت پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے شائد کاغذوں میں ایسے منصوبے چلتے ہوں مگر عملی طور پر نظر نہیں آتے ہیں۔ تاکہ وہ اس جیل سے باہر نکلنے کے بعد اپنی اصلاح کرتے ہوئے اچھے شہری بن سکیں بلکہ وہاں پر ان کی شناسائی ایسے عادی مجرموں سے ہوجاتی ہے کہ پہلے مجرم نا ہونے یا چھوٹے موٹے ہونے کے بعد بڑے بڑے گروہوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

    اس کے بعد پولیس کا اس کو بے گناہ لکھنے کرنے کے لیے ( بے گناہ ہونے کے باوجود ) اس کو قرضے لے کر یا اپنی جمع پونجی لٹا کر ہی وہ عدالتی لمبے سسٹم سے گزر کر بے گناہ ہو پاتا ہے ۔ پھر اس کو جیل میں بھیج دیا جاتا ہے وہاں پر بھی اس کو ہر سہولت یا ضروریات زندگی کی چیزیں حاصل کرنے کے لیے جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے ۔

    پھر وکیلوں کی باری آتی ہے تو وہ بھی اس کے مال و دولت پر اپنے دونوں ہاتھ اچھے سے صاف کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں کئی مہینے سال بلکہ زندگی لگ جاتی ہے اپنے آپ کو بے گناہ ہونے کے باوجود بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ۔

    ہم نے اپنے نظام انصاف کو چھوڑ کر انگریزوں کے کالے قانون کو اپنے لیے نجات کا راستہ سمجھ لیا اور اپنے اسلامی نظام انصاف کو چھوڑ دیا اور آج ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اب اس نظام کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے پولیس سے عدالت وکیل اور ان کے ساتھ وابستہ افراد کا روزگار چل رہا ہے اور سیاستدانوں کی سیاست بھی کامیابی کے ساتھ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

    جو حقیقت حال احوال خود ملزم یا الزام علیہ خود جواب دے سکتا ہے وہ کوئی بھی نہیں دے سکتا ہے مگر ہزاروں لاکھوں کی فیس ادا کرکے وکیل رکھنا ضروری ہے کیوں کیونکہ یہ ہمارا فرسودہ قانون ہے ۔؟

    بے گناہ ہونے کے باوجود پولیس کا اس کو پکڑنا پھر کیس بنا کر عدالتوں میں اس مظلوم کا اتنا ذلیل و خوار ہونا کیوں ۔؟

    دوسری طرف جس کے ساتھ واقعی کوئی ظلم زیادتی ہوتی ہے اس کو حصول انصاف کے لیے پہلے ایف آئی آر کروانا بہت مشکل ہے جب آیف آئی آر کے موجودہ کیس کی نوعیت کے مطابق وہ تفتیشی افسر کو رشوت نا دے یا کسی سیاسی بااثر شخصیت کا حکم یا اجازت نامہ لے کر نا آئے اس کی شنوائی نہیں ہوتی ہے ۔ پھر وکیل جج عدالتیں پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں مگر انصاف حاصل کرنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے

    بلکہ یہ کہنا بھی غلط نا ہوگا کہ انصاف خریدنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے کیونکہ جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے تو ایسے گھٹیا نظام انصاف کو آخر کیوں تبدیل نہیں کیا جاتا ہے ۔؟

    آخر کب تک اس ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کو فوری اور سستا انصاف مل پائے گا آخر ستر سالوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس نظام کو بہتر کرنے میں کون رکاوٹ ہے ۔آخر انسانوں کو کب تک ذلیل و خوار کیا جاتا رہے گا ۔؟
    آخر وہ کون ہوگا جو عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کی مخلصانہ کوشش و عمل کرے گا اس قوم کو اب بھی کسی مسیحا کی تلاش ہے ۔ موجودہ سیاستدان تو صرف اپنے پروٹوکول اور ذاتی مفادات کے لیے گرداں نظر آتے ہیں چھوٹے چھوٹے کام کرکے بس عوام کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں مگر اس ملک اور قوم کو آج تک شائد کوئی مسیحا نہیں مل سکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • عید الاضحی پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کیلئے شہریوں اور بیوپاریوں کو جامع اور محفوظ سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت

    فیصل آباد (اے پی پی):عید الاضحی کے سلسلہ میں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کیلئے شہریوں اور بیوپاریوں کو انتظامی لحاظ سے جامع و منظم اور محفوظ سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ اس ضمن میں ماڈل مویشی منڈی میں مویشیوں کے رش کے پیش نظر تمام ترانتظامات ضروری تقاضوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ یہ بات کمشنر فیصل آباد ڈویژن محمود جاوید بھٹی نے کمشنر آفس میں ایک اجلاس کے دوران قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کے حوالے سے ضروری انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے کہی۔اس موقع پر تمام متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔انہوں نے ماڈل کیٹل مارکیٹ میں عید الاضحی کے حوالے سے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ نیاموآنہ ماڈل مارکیٹ جانوروں کی خرید و فروخت کے سلسلے میں بڑا مرکز ہے لہٰذ ا تمام تر ضروری انتظامات عیدالاضحی تک برقرار رہنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ مویشی منڈی نیاموآنہ میں بڑے چھوٹے جانوروں کیلئے جگہ کی مناسب ترتیب ہونی چاہئے تاکہ خریداروں کیلئے آسانی اور نظم و ضبط برقرار رہے۔ انہوں نے صفائی ستھرائی‘ لائٹنگ‘ سکیورٹی کے انتظامات‘ ڈسپنسری‘ بیوپاریوں کیلئے قیام گاہوں‘ کینٹین سمیت دیگر ضروری انتظامات کے بارے میں بریفنگ لی۔ انہوں نے کہا کہ جدید مویشی منڈیوں کا قیام شعبہ لائیو سٹاک کی ترقی و استحکام کیلئے خوش آئند اقدام ہے جس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے تمام تر انتظامی ڈھانچے کو مضبوط ہونا چاہئے۔ انہوں نے ڈویژن کی دیگر ماڈل مویشی منڈیوں کو بھی جلد جدید خطوط سے استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عیدالاضحی کے سلسلے میں ماڈل مویشی منڈی نیاموآنہ میں انتظامات کو تسلسل کے ساتھ چیک کیا جارہا ہے اور اس اہم آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بھر پور معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈویژن میں عیدالاضحی کے حوالے سے مویشی منڈی نیاموآنہ کے علاوہ دیگر عارضی سیل پوائنٹس کی بھی مکمل مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک کی طرف سے شہر کے داخلی راستوں پر عارضی چوکیاں قائم کی گئی ہیں جہاں جانوروں کی چیچڑوں سے بچاؤ کیلئے ویکسی نیشن کی جارہی ہے تاکہ چیچڑ سے پاک جانور ہی مویشی منڈیوں میں فروخت ہوں۔ جی ایم ایڈمن نے بریفنگ کے دوران پارکنگ ایریاز‘ پینے کے پانی‘ فوڈ پوائنٹس‘ واش رومز‘ لائٹس‘ ٹریفک پلان‘ صفائی ستھرائی اور دیگر اقدامات سے آگاہ کیا جبکہ اجلاس کے دوران ماڈل مویشی منڈی ملوآنہ جھنگ اور تاندلیانوالہ کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔