Baaghi TV

Author: +9251

  • موجودہ دورمیں لاہور کی بجائےکراچی فلم انڈسٹری کاحب بن چکا ہے،صائمہ اظہر

    موجودہ دورمیں لاہور کی بجائےکراچی فلم انڈسٹری کاحب بن چکا ہے،صائمہ اظہر

    اداکارہ صائمہ اظہر نے کہا ہے کہ نئے موضوعات پر بننے والی فلمیں زیادہ کامیابی سے ہمکنارہورہی ہیں،موجودہ دور میں لاہور کی بجائے کراچی فلم انڈسٹری کا حب بن چکا ہے-
    اداکارہ صائمہ کا کہنا ہے کہ جو اقدام لاہور کی فلم انڈسٹری کواُِ ٹھانا چاہیے تھا اس کی ذمہ داری کراچی کے فلمسازوں نے اُٹھا لی ہے.یہ آثارنظر آرہے ہیں کہ دو سے تین سال میں فلم انڈسٹری بحرانی کیفیت سے نکل کر دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑی ہوجائے گی-

    انہوں نے کہا کہ کراچی میں بننے والی فلمیں زیادہ کا میابی سے ہمکنار ہو رہی ہیں جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے فلموں میں نیا رجحان فروغ پا رہا ہے-اداکارہ نے کہا کہ میں دھڑادھڑفلمیں کرنے کی قائل نہیں ہوں صرف سلیکٹڈ فلموں میں کام کرتی ہوں-

  • ایران نے 300 کلو گرام کے بجائے 24 ٹن یورینیم افزودہ کر لیا

    ایران نے 300 کلو گرام کے بجائے 24 ٹن یورینیم افزودہ کر لیا

    ایران نے 300 کلو گرام نہیں بلکہ 24 میٹرک ٹن یورینیم افزودہ کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ایرانی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی کے مطابق ان کا ملک بھاری پانی کے آراك ری ایکٹرز میں دوبارہ کام کا آغاز کرے گا۔

    رپورٹوں کے مطابق بھاری پانی کے آراک ری ایکٹرز کو پلوٹونیم تیار کرنے کے واسطے ڈیزائن کیا گیا جو جوہری ہتھیار سازی میں کام آ سکتا ہے۔ یہ ایران کی سب سے بڑی ایٹمی تنصیب ہے جو ملک کے شمال مغرب میں آراک شہر سے 75 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ آراک ری ایکٹرز کی تعمیر 1998 میں شروع ہوا تھا۔ اسی مقام پر 2004 میں ایک اور ری ایکٹر قائم کیا گیا۔
    یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ رپورٹ تھی کہ ایرانی ایٹمی توانائی ادارے کے ترجمان بہروز کمال وندی نے 26 جون کو ایک اعلان کرتے ہوئے یورپی فریقین کو دی گئی مہلت کے پورا ہونے کے بعد یورینیم کی افزودگی کے عمل کو جاری رکھنے کا کہا تھا۔

  • مظفرگڑھ میں دریائے سندھ نے تباہی مچادی، کئی مقامات پر نہروں میں بھی شگاف پڑگئے

    مسلسل بارش اور پانی کے دباو کے باعث میان مختلف مقامات دریائی بند اور نہروں میں شگاف پڑ گئے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ گھر زیر آب آگئے۔مظفرگڑھ میں ٹو ایل غازی نہر میں ایک مرتبہ پھر 60 فٹ سے زائد چوڑا شگاف پڑگیا،شگاف پڑنے سے درجنوں ایکڑ قریبی زرعی اراضی اور ان پر موجود فصلیں زیرآب آگئیں.پانی چوری کی وارداتوں کے باعث 7 جون کو بھی اسی مقام پر نہر شگاف پڑا تھا۔دوسری جانب احسان پوربیٹ خادم۔والی کے مقام پر دریائے سندھ نے تباہی مچادی دریائی کٹاو کے باعث سینکڑوں ایکڑپر موجود فصلیں اور گھر دریا برد ہوچکے ہیں .مظفرگڑھ کے علاقے سلطان کالونی کے قریب ٹو ایل غازی نہر میں شگاف پڑگیا،اہل علاقہ کیمطابق نہر میں پڑنے والا شگاف 60 فٹ سے بھی زائد چوڑا ہے،شگاف پڑنے کے باعث درجنوں ایکڑ قریبی زرعی اراضی اور اس پر کھڑی مختلف فصلیں زیر آب آگئیں.اس سے قبل بھی 7 جون کو ٹو ایل غازی نہر میں اسی مقام پر شگاف پڑگیا تھا،مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ بااثر افراد کی جانب سے محکمہ انہار کے عملے کی ملی بھگت سے نہری پانی چوری کیاجاتا ہے،،جس کے باعث نہر کے کنارے کمزور ہوئے اور نہر میں بار بار شگاف پڑ رہا ہے،اہل علاقہ نے محکمہ انہار عملے کیخلاف احتجاج بھی کیا ہے.دوسری جانب محکمہ انہار کے مطابق شگاف پر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں.احسان پوربیٹ خادم والی کے مقام پر دریائے سندھ کے پانی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔اہل علاقہ کے مطابق دریائی کٹاو کے نتیجہ میں 2010 سے لیکر ابتک ان کی 25سے زائد بستیاں دریا برد ہوچکی ہیں اگر دریا کی ان طاقتور موجوں کو نہ روکا گیا تو اس علاقہ کی بستی چانڈیہ،گرمانی،میرانی،خوشحالی،گاڈی اور مشوری بھی دریا کی نذر ہوجائیں گی۔علاقہ مکینوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دریائے سندھ کی بے رحم موجوں کو روکنے کے لئے بند بنائیں تاکہ ان کی قیمتی زمینیں اور املاک بچ سکیں۔

  • محمد عامر کی باؤلنگ میں پہلے جیسی سوئنگ نہیں رہی: محمد آصف

    محمد عامر کی باؤلنگ میں پہلے جیسی سوئنگ نہیں رہی: محمد آصف

    لاہور: پاکستان کرکٹ کے فاسٹ بولر محمد آصف نے کہا ہے عامر نےٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ دے کر جلدبازی کی ہے، کھلاڑیوں کا زیادہ تر رجحان ٹی ٹوینٹی کی جانب ہو رہا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وائٹ بال کرکٹ کے اس فارمیٹ میں ٹائم کم لگتا ہے اور پیسہ زیادہ ملتا ہے ، ٹی ٹوئنٹی میں آپ صرف 4 اوورز اچھے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس کے برعکس ٹیسٹ کرکٹ آپ کا زور پانچ دن تک مانگتی ہے،
    محمد آصف کا مزید کہنا تھا کہ عامر نے ورلڈ کپ میں اچھی باولنگ کی لیکن وہ اس سے بھی اچھی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اب محمد عامر نے ریٹائرمنٹ لے لی ہے تو نئے لڑکوں کو ضرور موقع ملنا چاہیے، ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ اس وقت مشکلات کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باولنگ کرنے والا کوئی ایک بھی باولر نہیں،
    کپتانی کے سوال پر محمد آصف کا کہنا تھا کہ بورڈ کو تینوں فارمیٹوں کا سکواڈ اور کپتان الگ الگ رکھنا چاہیے تاکہ لڑکوں پر بوجھ نہ پڑے،

  • پاکستان مسلم لیگ (ن)کے ایم این اے جاوید لطیف کی سرگودہا میں پریس کانفرنس

    پاکستان مسلم لیگ (ن)کے ایم این اے جاوید لطیف کی سرگودہا میں پریس کانفرنس

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )

    پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے مرکزی رھنماء میاں جاوید لطیف ایم این اے کوارڈینٹر مریم نواز ریلی سرگو دھا نے ایم پی اے ڈاکٹر لیاقت خان کی رھائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ھوئے کہا ھے کہ موجودہ حکومت مکمل طوپر ناکام ھو چکی ھے اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے میرے قائد میاں نوازشریف کی بیٹی محترمہ مریم نواز چھ اگست کو اپکے شہر سرگودھا میں ریلی کی قیادت اور جلسہ عام سے خطاب کریگی یہ شہر سرگودھا کا تاریخی جلسہ ھوگا وہ چوھدری حامد حمید ایم این اے چوھدری عبدالزاق ڈھلوں سابق ایم پی اے ڈاکٹر لیاقت خان ایم پی اے چوھدری شاھنواز راںجھا سمیت مسلم لیگی ورکروں کے ھمرہ ھجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ھوئے کہا ھے کہ جب بچہ پیدا ھوتا ھے اسکی پیدائش سے لیکر قبر تک ٹیکس ادا کرتا ھے انہوں کہا ھے کہ احتساب کے نام پر عمران خان اپوزیشن کو پریشان کررھاھے اسکی غنڈہ گردی بہت جلد ختم ھو جائے گی کانفرنس کے اختتام کے چوھدری حامد حمید ایم این اے اور چوھدری عبدالزاق ڈھلوں سابق ایم پی اے نے کوارڈینٹر مریم نواز ریلی میاں جاوید لطیف کو ریلی کے روٹس کا وزٹ کروایا

  • پاکستان میں دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی طویل فہرست ،جانیے اس خبر میں

    پاکستان میں دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی طویل فہرست ،جانیے اس خبر میں

    (نمائندہ باغی ٹی وی)تفصیلات کے مطابق پاکستان میں دوہری شہریت والے افسران کی تعداد 22 ہزار 380 ہے جن کی ایک طویل فہرست ہے،

    اس میں
    1100 کا تعلق صرف پولیس اور بیوروکریسی سے ہے اور ان میں سے
    540 کینیڈین ,
    240 برطانوی
    190 کے قریب امریکہ کے بھی شہری ہیں ،

    درجنوں سرکاری ملازمین نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ملائیشیا اورآئرلینڈ جیسے ملکوں کی بھی شہریت لے رکھی ہے

    110 سرکاری افسروں میں اہم حکومتی عہدوں پر بھی براجمان ہیں۔

    گریڈ 22 کے 6
    جبکہ
    ایم پی ون سکیل کے 11 ،
    گریڈ 21 کے 40،
    گریڈ 20 کے 90،
    گریڈ 19 کے 160،
    گریڈ 18کے 220
    اور گریڈ 17کے
    کم وبیش 160 افسران ہیں

    اسی طرح
    داخلہ ڈویژن کے 20 ،
    پاور ڈویژن 44،
    ایوی ایشن ڈویژن 92،
    خزانہ ڈویژن 64،
    پٹرولیم ڈویژن 96،
    کامرس ڈویژن 10،
    آمدن ڈویژن 26،
    اطلاعات و نشریات 25، اسٹیبلشمنٹ 22،
    نیشنل فوڈ سکیورٹی 7،
    کیپیٹل ایڈمنسٹریشن11،
    مواصلات ڈویژن 16،
    ریلوے ڈویژن 8،
    کیبنٹ ڈویژن کے 6 افسر دہری شہریت کے حامل ہیں۔

    سب سے زیادہ دہری شہریت کے حامل افراد کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہے
    اور ان کی تعداد 140 سے زیادہ ہے ۔
    اسی طرح
    قومی ایئر لائن کے 80 سے زیادہ ،
    لوکل گورنمنٹ 55،
    سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر 55،
    نیشنل بینک 30،
    سائنس اور ٹیکنالوجی 60، زراعت 40سے زیادہ،
    سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن 20،
    آبپاشی 20،
    سوئی سدرن 30،
    سوئی ناردرن 20،
    پی ایم ایس 17،
    پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس 14،
    نادرا کے 15ملازمین دہری شہریت کے حامل ہیں۔

    دوہری شہریت کی حامل اہم شخصیات میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22کے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوانوید کامران بلوچ کینیڈا،
    (پی اے ایس)کی پہلی خاتون صدراور گریڈ22 کی وفاقی سیکرٹری انسانی حقوق ڈویژن رابعہ آغا برطانیہ

    گریڈ 22کے سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ سردار احمد نواز سکھیرا امریکہ،

    گریڈ21کے موجودہ ڈی جی پاسپورٹ و امیگریشن عشرت علی برطانیہ،

    گریڈ22کی سابق سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ سمیرا نذیر صدیقی نیوزی لینڈ

    گریڈ 20 کے سیکرٹری اوقاف پنجاب ذوالفقار احمد گھمن امریکہ،

    مراکو میں سابق سفیر نادر چودھری برطانیہ
    ،
    قطر میں سابق سفیر شہزاد احمد برطانیہ،

    کسٹم کے گریڈ 21 کے ایڈیشنل وفاقی سیکرٹری خزانہ احمد مجتبیٰ میمن کینیڈا،

    گریڈ 21 کی چیف کلیکٹر کسٹم زیبا حئی اظہرکینیڈا،
    پولیس سروس کے گریڈ 22 کے اقبال محمود (ر)،
    گریڈ21کے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب میاں شجاع الدین ذکا کینیڈا،

    چیئرمین پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین فوزیہ وقار کینیڈا،

    پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سید ومیق بخاری امریکہ،

    موجودہ ایم ڈی معین رضا خان، نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد برطانیہ، ڈائریکٹرجنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف طاہر امریکہ،
    گریڈ 20کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ /پریس انفارمیشن آفیسرجہانگیر اقبال کینیڈا،
    سابق پنجاب حکومت کے ساتھ اہم قانونی معاملات پہ کام کرنے والے نامور قانون دان سلمان صوفی امریکہ کے شہری ہیں۔اسی طرح گریڈ 20 کے ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر محمد اجمل کینیڈا،
    گریڈ21کے وزارت داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری شیر افگن خان امریکہ، گریڈ 20 کے جوائنٹ سیکرٹری وزیر اعظم آفس احسن علی منگی برطانیہ، گریڈ20 کے راشد منصور کینیڈا، گریڈ 20کے علی سرفراز حسین برطانیہ،
    گریڈ 18کے محمد اسلم راؤبرطانیہ، گریڈ 20 کی سارہ سعید برطانیہ،گریڈ18کے عدنان قادر خان برطانیہ،گریڈ 18کی رابعہ اورنگزیب کینیڈا، گریڈ 18 کی صائمہ علی برطانیہ، گریڈ 20 کے سپیشل برانچ کے ڈی آئی جی زعیم اقبال شیخ برطانیہ،
    گریڈ 20 کے لاہور پولیس ٹریننگ کالج کے کمانڈنٹ ڈی آئی جی مرزا فاران بیگ برطانیہ،
    گریڈ20 کے ڈی آئی جی مواصلات شاہد جاوید کینیڈا،گریڈ 20 کے ڈاکٹر محمد شفیق (ریٹائرڈ) کینیڈا،گریڈ 19کے ایس ایس پی گوادر برکت حسین کھوسہ کینیڈا،
    گریڈ 19 کے ایس ایس پی ندیم حسن کینیڈا،
    گریڈ 18 کے ایس پی عادل میمن امریکہ،گریڈ 18کے عقیل احمد خان امریکہ،
    گریڈ18کے ارشد محمود کینیڈا، گریڈ 19کے سہیل شہزاد برطانیہ، تنویر جبار کینیڈا، گریڈ19کے محمد جاوید نسیم کینیڈا، گریڈ19کے محمد محسن رفیق کینیڈا، گریڈ19کے راشد احمد خان کینیڈا، گریڈ 19کے طفیل خان یوسفزئی آسٹریلیا، گریڈ19کے محمد شاہد نذیر کینیڈا، گریڈ19کے محسن فاروق کینیڈا، گریڈ18کے محمد ابراہیم کینیڈا، گریڈ17کے محمد افتخار امریکہ،
    گریڈ 17کے نواز گوندل کینیڈا، گریڈ 19کے اعجازعلی شاہ امریکہ، گریڈ19کے امجد علی لغاری کینیڈا،سٹیٹ بینک کے عبد الرؤف امریکہ، صبا عابد امریکہ ، سید سہیل جاویدکینیڈا ،
    راحت سعیدامریکہ ، ٹیپو سلطان امریکہ، عرفان الٰہی مغل امریکہ ، محمد علی چودھری برطانیہ، حسن جیواجی کینیڈا، زہرہ رضوی برطانیہ، امجد مقصود کینیڈا، عنایت حسین آسٹریلیا، شازیہ ارم کینیڈا، تبسم رانا کینیڈا،
    ریاض احمد خواجہ کینیڈا، ناصر جہانگیر خان کینیڈا، مصطفی متین شیخ کینیڈا، فضلی حمید کینیڈا، سینئرایگزیکٹو نائب صدر نیشنل بینک شاہد سعید برطانیہ، رشا اے محی الدین برطانیہ، سید جمال باقر برطانیہ، مدثر ایچ خان امریکہ، ایگزیکٹو نائب صدرفاروق حسن برطانیہ،عاصم اختر کینیڈا،ناصر حسین کینیڈا، سینئر نائب صدرسید خرم حسین امریکہ،
    واصف خسرو احمد برطانیہ، سید طارق حسن کینیڈا، غلام حسین اظہر کینیڈا،
    نائب صدرمحمود رضا برطانیہ، نادیہ احمر کینیڈا، اسسٹنٹ نائب صدرعامر نواز کینیڈا، محمد آفتاب کینیڈا،
    بابر علی کینیڈا،محمد امان پیر کینیڈا، محمد فرذوق بٹ برطانیہ، سید نعمان احمد برطانیہ،سبین طاہر برطانیہ، سید نازش علی برطانیہ،
    گریڈ 20 کے سید طارق حسن کینیڈا، گریڈ 20کے عبد القادر برطانیہ، گریڈ20کے سید شبیر احمد کینیڈا،گریڈ18کے سید نعمان احمدبرطانیہ، گریڈ17کے خواجہ فیصل سلیم برطانیہ، گریڈ18کے نوید تاجدار رضوی برطانیہ،
    گریڈ18کے عثمان علی شیخ امریکہ، گریڈ21کے امین قاضی جرمنی، محکمہ تعلیم میں گریڈ19کے منصور احمدجرمنی، گریڈ21کے ڈاکٹر سہیل اختر آسٹریلیا، گریڈ21کے خالد محمود کینیڈا،
    گریڈ 17کی فرزانہ اکرم سپین، گریڈ19 کے محمد عمران قریشی کینیڈا، گریڈ21کے ڈاکٹر مشرف احمد کینیڈا، بریگیڈیئر (ر) عامر حفیظ امریکہ، وقار عزیز کینیڈا،رملہ طاہر آسٹریلیا،ڈاکٹر جمشید اقبال جرمنی،
    ڈاکٹر کاشف رشید آسٹریلیا،ڈاکٹر اسد اﷲ خان برطانیہ، ڈاکٹر محمد مشتاق خان ہالینڈ،
    نعمان احمد کینیڈا،نیئر پرویز بٹ برطانیہ،اعجاز احمد فرانس، صنم علی ڈنمارک، خالدہ نور کینیڈا،پروفیسر ڈاکٹراسلم نور کینیڈا، محمد ارشد رفیق کینیڈا،نرگس خالد امریکہ، محمد افضل ابراہیم امریکہ،ڈاکٹر عقیل احمد قدوائی کینیڈا، ڈاکٹر پاشا غزل برطانیہ،
    محمد سعد بن عزیز کینیڈا،گریڈ19کے خالد محمود احمد برطانیہ، گریڈ19کی ثانیہ طارق کینیڈا، گریڈ20کی طاہرہ ضیا برطانیہ، گریڈ17کی روشان امبرامریکہ، گریڈ17کی سمرین آصف کینیڈا، گریڈ18کی قنطا نور کینیڈا، گریڈ19کے ڈاکٹر محمد شیراز ارشدملک کینیڈا، گریڈ21کے فرحت عباس کینیڈا، گریڈ19کی شبنم نور کینیڈا، گریڈ17کی عاصمہ اعظم امریکہ،
    گریڈ18کی تہمینہ عتیق کینیڈا، گریڈ19کی روحیلہ ریاض ہالینڈ، گریڈ18کی سیدہ نوشین طلعت کینیڈا، قمر الوہاب سویڈن، گریڈ17کے منصور احمد بٹ کینیڈا، گریڈ18کے سید جمال شاہ کینیڈا، گریڈ19کے محمد کلیم کینیڈا، گریڈ19کے ڈاکٹر قیصر رشید کینیڈا، گریڈ21کے محمد منیر احمد برطانیہ، گریڈ19کے ڈاکٹر عبد الرحمان شاہد برطانیہ، گریڈ18کے شاہ رخ عرفان برطانیہ، گریڈ18کی ساشا احمد کینیڈا، گریڈ17کے سخن الٰہی برطانیہ، گریڈ18کے حسن بخاری برطانیہ، گریڈ17کی رخسانہ احسن امریکہ، گریڈ17کے محمد علی ظہیر امریکہ، گریڈ17کے ابراہیم عبد القادر عارف امریکہ، ڈاکٹر محمد نعمان ملائیشیا، گریڈ17کی عالیہ نذر کینیڈا،
    گریڈ19کی ڈاکٹر مریم مصطفی جرمنی،گریڈ18کے نجم طارق برطانیہ، گریڈ19کی کوکب علی کینیڈا، گریڈ19کی فریدہ بیگم بحرین، گریڈ18کی عشرت این بخاری برطانیہ، گریڈ19کی نسیم اختر بحرین،
    نوباح علی سعد برطانیہ، کامران ہاشمی امریکہ، طاہر عزیز خان برطانیہ، جنید شریف کینیڈا، ڈاکٹر جلیل اختر کینیڈا، گریڈ20کی ڈاکٹر صبینہ عزیز برطانیہ، گریڈ18کے عتیق امجد کینیڈا، گریڈ17کی لائقہ کے بسرا امریکہ، گریڈ19کی فاخرہ سلطانہ برطانیہ،
    گریڈ 19کے ڈاکٹر آصف خان برطانیہ، گریڈ18کی نسرین کوثر کینیڈا، گریڈ17کی کشور فردوس کینیڈا، گریڈ20کے ناصر سعید کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر محمد علی عارف برطانیہ، ڈاکٹر محمد احمد بودلا کینیڈا، گریڈ18کی ناظمہ ملک کینیڈا، گریڈ18کی عائشہ سعید نیوزی لینڈ، گریڈ17کے ساجد مسعود برطانیہ،
    گریڈ17کے شاہد آزاد نیوزی لینڈ، گریڈ18کے نیاز محمد خان کینیڈا، گریڈ18کے شہزاد اسلم باجوہ آسٹریلیا، گریڈ17کی ڈاکٹر عفت بشیر امریکہ،
    گریڈ 19کے محمد اسماعیل برطانیہ، گریڈ18کے محمد اظہر آسٹریلیا، گریڈ17کی مدینہ بی بی افغانستان، گریڈ17کی عطرت جمال کینیڈا، گریڈ20کی ڈاکٹر راحیلہ آصف کینیڈا، گریڈ21کے پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین شیخ کینیڈا، گریڈ18کی ماریہ سرمد کینیڈا،
    گریڈ21کی پروفیسر ڈاکٹر انیلہ نعیم کینیڈا، گریڈ21کے پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا مہدی امریکہ، عمر میمن آسٹریلیا، گریڈ20کی سارہ کاظمی امریکہ، گریڈ21کے شمس ندیم عالم امریکہ،
    گریڈ19کے اقتدار احمد صدیقی امریکہ، گریڈ19کے اسد خان کینیڈا، گریڈ19کے سعید اختر امریکہ، گریڈ18کی شائمہ سلطانہ میمن جنوبی افریقہ، گریڈ18کے ذو الفقار نذیر امریکہ، شگفتہ نظام برطانیہ، گریڈ18کے عدنان سرور سکو والاسویڈن،
    گریڈ 19کی نادیہ رفیق کینیڈا، گریڈ20کے مجیب رحمان عباسی آئر لینڈ، تزین ملک برطانیہ، زنیرہ طارق امریکہ، گریڈ20کے فرید الدین صدیقی کینیڈا، گریڈ19کی مریم قریشی برطانیہ، گریڈ19کی راشدہ پروین امریکہ، گریڈ19کے شاداب علی راجپوت کینیڈا، گریڈ17کی لبنیٰ بلوچ کینیڈا،گریڈ18کی یاسمین زمان برطانیہ، گریڈ17کے محمد ارشد علی خان امریکہ، گریڈ19کے ڈاکٹر سلیم احمد پھل کینیڈا، گریڈ17کے توقیر سوئٹزر لینڈ، گریڈ19کی نبیلہ فرید برطانیہ،
    ڈاکٹر نوشین انور امریکہ، ڈاکٹر نادیہ قمر چشتی مجاہد امریکہ، ثمر قاسم امریکہ، ڈاکٹر جبران رشید کینیڈا، گریڈ21کے ڈاکٹر شمیم ہاشمی امریکہ، ڈاکٹر اعجاز احمد میاں کینیڈا، ڈاکٹر محمد نشاط نیوزی لینڈ، ڈاکٹر شیبا سعید برطانیہ، محمداسد الیاس کینیڈا، ڈاکٹر محمد شعیب جمالی امریکہ، لبنیٰ انصر بیگ کینیڈا، گریڈ21کی علیسیا مریم ثمیمہ امریکہ،
    گریڈ17کی حمیدہ عباسی کینیڈا، گریڈ19کی رابعہ منیر برطانیہ، ڈاکٹر بینش عارف سلطان برطانیہ، گریڈ17کی بشیراں رندکینیڈا، گریڈ20کے زبیر اے عباسی برطانیہ، گریڈ17کی مہرین افضل امریکہ، پی آئی اے کے ضیا قادر قریشی آسٹریلیا، عنایت اﷲ آئرلینڈ، شیخ عمر اسلام کینیڈا، مبارک احمد کینیڈا، فواز نوید خان کینیڈا، تنویر لودھی امریکہ، سہیل محمود کینیڈا،
    شہزادہ خرم کینیڈا، انعام اﷲ جان امریکہ، طلحہ احمد خان کینیڈا، ندیم احمد خان کینیڈا، توصیف احمد امریکہ، منظور بھٹو کینیڈا، عامر حسین شاہ کینیڈا، شہریار احمدڈوگرکینیڈا، محمد جمیل امریکہ، ڈاکٹر صنم ممتاز کینیڈا، بدر الاسلام امریکہ، سید ہمایوں امریکہ، طارق جمیل خان برطانیہ،
    محمد علی کھنڈوالا امریکہ، فرحان وحید برطانیہ، عثمان غنی راؤ کینیڈا، مصباح احسان امریکہ، نجیب امین مغل کینیڈا، طارق محمود خان کینیڈا، وقار الاحسن کینیڈا، عمر رزاق کینیڈا، اشفاق حسین برطانیہ، سید خالد انور امریکہ، محمد ظفر علی کینیڈا، زریاب بشیر برطانیہ، محمد حسام الدین خان برطانیہ، سمیع ہاشمی کینیڈا، عامر سرور کینیڈا، فیضان خالد رضوی امریکہ، عمر سلیم برطانیہ، اسد اویس کینیڈا، زاہد رضا نقوی کینیڈا، نوید اکرام امریکہ، راشد احمد برطانیہ، محمد نجم الخدا کینیڈا، افضل احمد ممتاز برطانیہ، کہکشاں ترنم کینیڈا،
    عاصمہ باجوہ برطانیہ، ریاض علی خان کینیڈا، نجیب اے سید کینیڈا، محمد سہیل برطانیہ، زاہد حمید قریشی برطانیہ، ڈاکٹر رخسانہ کینیڈا،نائلہ منصور امریکہ، عریج اے بلگرامی کینیڈا، سعید احمد امریکہ، محمد حنیف میمن کینیڈا، محمد طارق گبول کینیڈا، امش جاوید کینیڈا،طارق بن صمد کینیڈا، سعیدہ حسنین برطانیہ، ساجد اﷲ خان امریکہ،
    طارق این علوی فرانس، علی حسن یزدانی کینیڈا، ارشد علی حسن جان کینیڈا، عدنان عندلیب آسٹریلیا، شمشاد آغا امریکہ، فرح حسین برطانیہ، علی اصغر شاہ برطانیہ، ندیم ظفر خان کینیڈا، راحیل احمد برطانیہ،
    سید بائر مسعود کینیڈا، کلیم چغتائی کینیڈا، عبد الحمید سعدی کینیڈا، رفعت اشفاق برطانیہ، محمد انور علوی امریکہ، سید محسن علی کینیڈا، ناصر جمال ملک کینیڈا، محمد ماجد حفیظ صدیقی کینیڈا،
    اسد مرتضیٰ کینیڈا، میر محمد علی کینیڈا، سجاد علی نیوزی لینڈ، سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئراینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں گریڈ19کی ڈاکٹر سعیدہ آصف امریکہ، محمد کامران منشا برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر منیب اشرف امریکہ،
    گریڈ18کی ڈاکٹر مریم اشرف برطانیہ، ڈاکٹر سمیرہ امین کینیڈا،گریڈ17کی ڈاکٹر گل رعناوسیم برطانیہ، ڈاکٹر خواجہ ندیم آئرلینڈ، فراز تجمل امریکہ،
    گریڈ20کے پروفیسر آصف بشیرامریکہ، گریڈ18کی ڈاکٹرعائشہ بشیرہاشمی، گریڈ18کے ڈاکٹر سید مظاہر حسین برطانیہ، گریڈ18کی ڈاکٹر رحسانی ملک کینیڈا، گریڈ20 کے پروفیسر ناصر رضا زیدی کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر علی رضا خان روس،
    گریڈ20کے ڈاکٹر مظہر الر حمان برطانیہ، گریڈ18کے محمد توقیر اکبر آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹرمحمد یوسف معراج ملائیشیا،گریڈ17کے ڈاکٹر انیس اورنگزیب برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر طیب اکرام برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر عدنان ایس ملک امریکہ، گریڈ20کے ڈاکٹر محمد مغیث امین برطانیہ،
    گریڈ18کی ڈاکٹرارم چودھری امریکہ، گریڈ 20 کی ڈاکٹر فرخندہ حفیظ کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر سلیمان اے شاہ امریکہ، گریڈ17کی ڈاکٹر اشما خان نیپال، گریڈ17کی ثمن صغیر برطانیہ، گریڈ18کی ڈاکٹر بشریٰ رزاق امریکہ، گریڈ18کی ڈاکٹر لبنیٰ فاروق کینیڈا،
    گریڈ17کی ڈاکٹر شمائلہ رشید برطانیہ، پروفیسر محمد طارق برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر گوہر علی خان برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر سلمان یوسف شاہ برطانیہ، گریڈ 17کی ڈاکٹر عائشہ عثمان برطانیہ، گریڈ19کے ڈاکٹر خرم ایس خان کینیڈا، گریڈ18کے طارق اے بنگش آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹر عامر لطیف آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹر غلام سرور برطانیہ،
    گریڈ 17کے امجد فاروق امریکہ، گریڈ 18کے کاشف عزیز احمد کینیڈا، گریڈ 17کی ڈاکٹر لبنیٰ ناصر برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر فرقان یعقوب برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر ظہیر خان امریکہ، گریڈ17کی غازیہ خانم کینیڈا، گریڈ20کے پروفیسر اعظم جہانگیر امریکہ،
    گریڈ18کے ڈاکٹر شفیق چیمہ امریکہ، گریڈ19کے ڈاکٹر خورشید خان امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹر ارسلان امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر نعمان اکرم فرانس، گریڈ18کی ڈاکٹر حمیرہ رضوان کینیڈا،
    گریڈ18کی ڈاکٹر تبسم عزیزبرطانیہ، گریڈ18کی رخسانہ کینیڈا، گریڈ17کے ڈاکٹر عمر فاروق برطانیہ، گریڈ20کی نسرین منظور نیوزی لینڈ، گریڈ 17کے ڈاکٹر حسن فاریس النائف شام،گریڈ20کی ڈاکٹر مہرین سادات کینیڈا، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں گریڈ 19کے اختر احمد بھوگیو کینیڈا،
    سہیل اصغر آسٹریلیا، چودھری آفاق الرحمان کینیڈا،سلمان اسلم کینیڈا،( نسٹ)گریڈ19کے اکرام رسول قریشی امریکہ، گریڈ19کی نگہت پروین گیلانی کینیڈا، گریڈ21کے ریاض احمد مفتی برطانیہ، گریڈ21کے ارشد حسین کینیڈا، گریڈ19کے کامران حیدر سید کینیڈا، گریڈ19کے عدیل نعیم بیگ آسٹریلیا، گریڈ19کے ندیم احمد آسٹریلیا، گریڈ20کے ارشد زمان خان امریکہ،
    گریڈ19کے منیر احمد تارڑ کینیڈا، ڈاکٹر طاہر مصطفی مدنی برطانیہ، گریڈ19کے ماجد مقبول کینیڈا، گریڈ19کے سعد اعظم خان المروت امریکہ، گریڈ19 کے عاطف محمد خان برطانیہ، گریڈ21کے شہباز خان برطانیہ، گریڈ19کے نوید اکمل دین برطانیہ،
    گریڈ19کے عثمان حسن کینیڈا، گریڈ19کے فرحان خالد چودھری برطانیہ، گریڈ19کے اطہر علی کینیڈا، گریڈ19کے اختر علی قریشی کینیڈا، گریڈ19کے حسن رضا کینیڈا، گریڈ 19کی ماہا احمد آسٹریلیا، گریڈ20کے فیصل شفاعت جرمنی، گریڈ21کے ذاکر حسین جرمنی،
    گریڈ21کے محمد فہیم کھوکھر جرمنی، محکمہ صحت میں گریڈ18کے ڈاکٹرفیاض احمد امریکہ،گریڈ 17کے ڈاکٹر صوبیہ ظفر کینیڈا، گریڈ17کے ڈاکٹر فیصل اعجاز امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹرمحمد عمران خان آئر لینڈ، گریڈ18کے ڈاکٹر خالد عثمان آئر لینڈ،
    گریڈ19کے ڈاکٹر آفتاب عالم برطانیہ، گریڈ18کی ڈاکٹر انیلہ ریاض برطانیہ، گریڈ20کے ڈاکٹر عمر حیات آئر لینڈ، گریڈ18کے مجیب الر حمان کینیڈا، گریڈ18کے ہارون ظفر برطانیہ، گریڈ18کی شازیہ طارق برطانیہ، گریڈ18کی مینا خان ناظم برطانیہ، اظہر سردار کینیڈا، گریڈ20کے آصف ملک برطانیہ،
    گریڈ18کے ڈاکٹر سجاد اے خان روس، گریڈ17کی ثمینہ ناز کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر مہدی خان برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر نسرین اختر امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد آصف سلیم برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر طاہرہ حمید برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد شیراز بحرین، گریڈ17کے ڈاکٹر ناصر علی نواز برطانیہ،
    گریڈ18کے ڈاکٹر محمد وسیم کینیڈا، گریڈ18کی ڈاکٹر عائشہ ابراہیم برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر محمد اقبال شکور برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر مشال وحید امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹر ساج علی ڈوگا برطانیہ، گریڈ18کے ڈاکٹر آصف محمود اے قاضی کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر اسد الرحمان برطانیہ،گریڈ17کی ناہید انور برطانیہ، ڈاکٹر محمد بلال یاسین آسٹریلیا،
    گریڈ18کے ڈاکٹر آفتاب احمد علوی امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر نیئر جمال کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر فیاض علی برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر ذکیہ صمد امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر راشد خان امریکہ، گریڈ18کے ڈاکٹر عبد الرؤف آئر لینڈ، گریڈ17کی رفعت آرا خالد کینیڈا، گریڈ17کے ڈاکٹر وقار احمد برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر شیریں جان بحرین، گریڈ17کی گل مہینا برطانیہ،
    گریڈ17کی شمیم نورآسٹریلیا، گریڈ19کے ڈاکٹر محمد فاروق ترین برطانیہ، گریڈ17کی حاجرہ علی آفریدی امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد فیصل بحرین، گریڈ17کی فریدہ بلوچ کینیڈا،
    گریڈ19کی صائمہ شیخ برطانیہ، گریڈ19کی ڈاکٹرلبنیٰ سرور برطانیہ، گریڈ20کے زاہد حسن انصاری کینیڈا، گریڈ19کی حمیرا معین کینیڈا، گریڈ20کے پروفیسر ڈاکٹر ہاشم رضا برطانیہ،گریڈ19کی ڈاکٹر سائرہ افغان برطانیہ، گریڈ17کی ڈاکٹر عنبر نواز امریکہ، گریڈ17کی ڈاکٹر مشل طارق آسٹریلیا، گریڈ18کی ڈاکٹر فریدہ امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمد ہاشم کینیڈا،
    گریڈ19کے محمد حنیف برطانیہ، گریڈ19کی شہلا باقی امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر شہاب جو نیجو امریکہ، شوہاب حیدر شیخ برطانیہ، سید اکمل سلطان برطانیہ، ڈاکٹر نوشیروان گل حیدر سومرو برطانیہ، گریڈ17کی عذراپروین برطانیہ، گریڈ18کے عدنان قاسم برطانیہ،
    گریڈ18کی ڈاکٹر آسیہ رحمان امریکہ، ڈاکٹر عامر حلیم آئرلینڈ، گریڈ17کے ڈاکٹر محمدعامر ہارون کینیڈا، گریڈ19کے محمد شاہد اقبال کینیڈا، منصوبہ بندی وترقی میں گریڈ 20 کے محمد اجمل کینیڈا، ڈاکٹر اسد زمان امریکہ، عامر منصف خان امریکہ،
    ڈاکٹر شہزادرحمان کینیڈا، مراد جاوید خان کینیڈا، علی رضا خیری برطانیہ، محمد احمد چودھری آسٹریلیا، انتساب احمد کینیڈا، حرا اقبال شیخ امریکہ، صداقت حسین کینیڈا، ملک احمد خان کینیڈا،

    مائرہ جعفری برطانیہ، فرحان ظہیر آسٹریلیا، حسن ایم خالد کینیڈا، نوشین فیاض کینیڈا، گریڈ19کے ناصر اقبال برطانیہ، گریڈ18کے عرفان احمد انصاری کینیڈا، ہما محمود برطانیہ، اعجاز غنی کینیڈا، گریڈ 20کے سابق ممبر پلاننگ سی ڈی اے (ر)اسد محمود کیانی امریکہ، گریڈ19کے ایاز احمد خان کینیڈا،گریڈ 19کے حافظ محمد احسان الحق کینیڈا،گریڈ 19کی ڈاکٹر شازیہ یوسف کینیڈا، گریڈ18کی ڈاکٹر عظمیٰ علی کینیڈا،
    لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں گریڈ 19کے معین شریف کینیڈا، گریڈ 20 کے محمد ارشاد اﷲ کینیڈا، گریڈ 18 کے خالد محمود کینیڈا، گریڈ 19کے سلما ن مجید بٹ کینیڈا، گریڈ 18کے احمد فراز سلیم کینیڈا، گریڈ 19کے اعجازاحمد کینیڈا، گریڈ 20کے محمد علی ڈوگرکینیڈا، گریڈ 17کے محسن وقار امریکہ، گریڈ19کے خالد خان کینیڈا، ہائر ایجوکیشن کمیشن میں گریڈ 21کے ڈاکٹر ریاض احمد نیوزی لینڈ، ڈاکٹر محمد لطیف آسٹریلیا،گریڈ18کے فواد مرتضیٰ کینیڈا،
    گریڈ19کی سیدہ ہما ترمزی برطانیہ، گریڈ19کی نادیہ اقدس کینیڈا، گریڈ19کی نبیلہ نثار کینیڈا، گریڈ18کی ریحانہ افضل آسٹریلیا، گریڈ18کی عذرامنور کاظمی آسٹریلیا، گریڈ18کی سمرہ عبد الجلیل امریکہ، گریڈ18کی حمیدہ بیگم کینیڈا، گریڈ17کی رفیعہ مرتضیٰ کینیڈا، گریڈ17کی امین فاطمہ امریکہ، گریڈ17کی غزالہ سہراب کینیڈا، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سلیم اﷲ محمود برطانیہ ،
    حسیب احمد کینیڈا، شجاعت احمد کینیڈا، عبد الوحید برطانیہ، سہیل رانا کینیڈا، فضل حسین برطانیہ، فاروق اعظم شاہ کینیڈا، خالد محمود رحمان کینیڈا، ثاقب احمد برطانیہ، کوثر احمد محمد کینیڈا، صدیق محمد چودھری برطانیہ، گریڈ 13کے صہیب قادرکینیڈا، شرجیل حسن خان برطانیہ، ایف بی آر میں گریڈ 19کی مصباح کھٹانا برطانیہ، گریڈ 19کے سید آفتاب حیدر برطانیہ،
    گریڈ 21کے احمد مجتبیٰ میمن کینیڈا، گریڈ 18کے عبد الوہاب امریکہ، گریڈ19کے اورنگزیب عالمگیر کینیڈا، طارق حسین نیازی کینیڈا، گریڈ18کے بشارت علی ملک امریکہ، گریڈ 20کے قاسم رضا کینیڈا، گریڈ 21 کے ڈاکٹر اشفاق احمد تنیو کینیڈا، پاکستان ٹیلی ویژن میں گریڈ 8کے ندیم احمد امریکہ،گریڈ6 کے محمد امجد رامے کینیڈا، گریڈ6 کے میر عجب خان کینیڈا،گریڈ7 کے منصور ناصر کینیڈا، گریڈ6کی صبا شاہد امریکہ، گریڈ6 کی نصرت مسعود امریکہ، گریڈ7کے امتیاز احمد کینیڈا، گریڈ6کے اعجاز احمد بٹ برطانیہ،گریڈ 9 کے محمد شاہ خان کینیڈا، اسدحسین کینیڈا، گریڈ 8کی شاہینہ شاہد، ان لینڈ ریونیو کے گریڈ 19کے نعیم بابر آسٹریلیا، گریڈ 20کے سجاد تسلیم اعظم برطانیہ،
    گریڈ 19کے شاہد صدیق بھٹی کینیڈا،گریڈ 20 کے عاصم افتخار کینیڈا، گریڈ18کے سید صلاح الدین جیلانی کینیڈا، گریڈ20کی شازیہ میمن برطانیہ، گریڈ18کے اسفندیار جنجوعہ کینیڈا، گریڈ20کے نوید اختر کینیڈا، گریڈ 21 کے حافظ محمد علی امریکہ، گریڈ20 کے وسیم اے عباسی کینیڈا، گریڈ 19کی سیدہ نورین زہرہ کینیڈا، گریڈ 20 کے عاصم افتخار کینیڈا،نادرا کے سمیر خان برطانیہ، جواد حسین عباسی برطانیہ، منظور احمد خواجہ برطانیہ، احمرین حسین برطانیہ، عارف علی بٹ آسٹریلیا، گریڈ18کے شاہد علی خان برطانیہ،
    عثمان چیمہ آسٹریلیا، وریام شفقت آسٹریلیا، مبشر امان نیوزی لینڈ، فضا شاہد آسٹریلیا، احمد کمال گیلانی کینیڈا، مکرم علی برطانیہ، گریڈ 19کے طاہر محمود پرتگال، سہیل ارشاد انجم امریکہ، سہیل جہانگیر امریکہ،نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں گریڈ19کے رانا ٹکا خان کینیڈا،گریڈ 18کے عامر سید کینیڈا، گریڈ 18کے محمد زمان کینیڈا،گریڈ 18کے سجاد علی شاہ کینیڈا،
    گریڈ18کے محمد الطاف نیوزی لینڈ، گریڈ17کے ندیم قاسم خان کینیڈا، گریڈ18کے سید اشرف علی شاہ کینیڈا، گریڈ 19کی نسیم کینیڈا، خالد اقبال ملک امریکہ، ڈاکٹر مریم پنہوارکینیڈا، مسعود نبی امریکہ، فیصل عارف کینیڈا، محمد ریاض آسٹریلیا، افتخار مصطفی رضوی برطانیہ، اظہر اسحاق کینیڈا،
    افتخار عباسی برطانیہ،سلیم باز خان امریکہ، گریڈ18کے کاشف علی شیخ کینیڈا، گریڈ17کے طاہر علی اکبر کینیڈا، گریڈ17کی صباحت احمد چودھری کینیڈا، گریڈ18کے آغا عنایت اﷲ کینیڈا، گریڈ17کے محمد جمیل کینیڈا، مواصلات اور ورکس ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ19کے سلیم الرحمان کینیڈا، گریڈ 18کی سمیراجمیل کینیڈا، گریڈ18کے محمد نسیم کینیڈا، گریڈ18کے زاہد امان وڑائچ کینیڈا،گریڈ19 کے امجد رضا خان کینیڈا، گریڈ19کے ساجد رشید بٹ کینیڈا،
    گریڈ19 کے انصار محمود کینیڈا، گریڈ20کے محمد جمال اظہر سلطان کینیڈا، گریڈ18کے علی نواز خان برطانیہ، گریڈ18کے مہرعظمت حیات کینیڈا، گریڈ18کے ارشد خان کینیڈا، گریڈ18کے محمد ایوب کینیڈا، گریڈ20کے علی احمد بلوچ کینیڈا، گریڈ21کے ملک عبد الرشید کینیڈا، گریڈ19کے شفقت حسین کینیڈا،خزانہ ڈویژن کے جیند احمد فاروقی برطانیہ، ایس ایم ای بینک کے اسسٹنٹ نائب صدراطہر اشفاق احمدبرطانیہ،
    سینئر نائب صدر حافظ محمد اشفاق برطانیہ، گریڈ19کے تجمل الٰہی برطانیہ، ڈاکٹر خاقان حسن نجیب آسٹریلیا، گریڈ 18کے باسط حسین برطانیہ، گریڈ 18کے وقاص خان امریکہ، گریڈ18کے قیصر وقار برطانیہ، اشعر حمید آسٹریلیا، گریڈ19کے عمران شبیر برطانیہ، نہال اے صدیقی کینیڈا، امتیاز احمد میمن برطانیہ، اطہر انعام ملک امریکہ، گریڈ17کے سید علی معظم کینیڈا،
    گریڈ 21کے نیشنل بینک کے سابق سینئر نائب صدر خواجہ احسن الٰہی امریکہ، گریڈ 19کے آفتاب عظیم امریکہ، گریڈ19کے محمد نادر اکرام کینیڈا، گریڈ17کے سید نازش علی برطانیہ، گریڈ17کے معیز ماجد ملک کینیڈا، ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں گریڈ17کے شاہد اقبال گل برطانیہ،گریڈ18کے احسان الحق قمرکینیڈا، گریڈ18کے چودھری فاروق احمدکینیڈا، گریڈ17 کے تنویرقیصر کینیڈا، گریڈ 18کے راجہ شہزاد اصغرکینیڈا، طاہر مجید آسٹریلیا، گریڈ17کے فہد انیس امریکہ،گریڈ19کے قیصر زمان کینیڈا، گریڈ18کے عرفان راشد کینیڈا، گریڈ19کے بابراﷲ خان کینیڈا، گریڈ18کے قیصر فاروق کینیڈا، گریڈ18کے ریحان گل کینیڈا، گریڈ 18کے منوہر لال کینیڈا، گریڈ17کے شاہد اقبال گل برطانیہ،گریڈ18کے احسان الحق قمرکینیڈا، گریڈ18کے چودھری فاروق احمدکینیڈا، گریڈ17 کے تنویرقیصر کینیڈا، گریڈ 18کے راجہ شہزاد اصغرکینیڈا، گریڈ17کے فہد انیس امریکہ، لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی گریڈ17کی نصرت ایمان کینیڈا، گریڈ19کے نجم الثاقب برطانیہ، گریڈ17کے عاصم رشید خان امریکہ، گریڈ18کے انور جاوید کینیڈا، گریڈ 18کے عامر بٹ کینیڈا، گریڈ 18کے عباس قمر کینیڈا، گریڈ17کے اسد خان بابر کینیڈا، گریڈ 17کے رائے شاہنواز حسن کینیڈا، گریڈ 18کے رفاقت حیات کینیڈا، گریڈ 17کی رفعت اکرام کینیڈا،
    گریڈ18کے بشیر احمد بلوچ کینیڈا، گریڈ18کے محمد جلیس صدیقی کینیڈا، گریڈ18کے وسیم اﷲ صدیق کینیڈا، گریڈ18کے سرفراز حسین کینیڈا، گریڈ19کے محمد منور علی صدیقی کینیڈا، گریڈ18کے ندیم سرور کینیڈا، گریڈ18کے مسعود احمد امریکہ، گریڈ17کے اسد اﷲ کینیڈا، گریڈ17کی لبنیٰ نائم کینیڈا، گریڈ18کے عبد الحق چھنا کینیڈا، گریڈ18کی ڈاکٹر روحی کینیڈا، گریڈ20کے نجیب احمد کینیڈا،
    گریڈ 20 کے محمد مسعود عالم کینیڈا، گریڈ17کے نوید احمد خان برطانیہ، گریڈ18کے سید فخر عالم رضوی امریکہ، گریڈ21کے سید محمود حیدر برطانیہ، گریڈ20کی سینا عزیز امریکہ، گریڈ18کے سید عقیل تنظیم نقوی کینیڈا، گریڈ18کے محمد آصف حفیظ صدیقی کینیڈا، گریڈ18کے جنید احمد خان کینیڈ،
    گریڈ17کے اکرام الحق باری کینیڈا، گریڈ18کے جمال یوسف صدیقی کینیڈا، گریڈ19کے شبیر احمد کینیڈا، گریڈ18کے ندیم اقبال کینیڈا، گریڈ17کے راشد ایوب فلپائن، گریڈ18کے ڈاکٹر علی گل لغاری امریکہ، گریڈ18کے سید جاوید حسن برطانیہ، گریڈ16کی سعدیہ خاتون امریکہ، گریڈ17کے ادیب عالم کینیڈا، گریڈ18کے عمیر مقبول برطانیہ، گریڈ17کے سیف الاسلام خان امریکہ، گریڈ17کے محمد نعیم الرحمان برطانیہ، گریڈ19کے نجیب احمدکینیڈا،
    گریڈ 18کے عظمت فہیم خان کینیڈا، گریڈ17کے اظہار احمد انصاری کینیڈا، گریڈ18کے جنید عالم انصاری برطانیہ، گریڈ17کی روبینہ ندیم آئرلینڈ،گریڈ18کے اسد اﷲ خان کینیڈا، گریڈ18کے حمایت اﷲ جان کینیڈا، گریڈ17کے مکرم شاہ کینیڈا، گریڈ19کے نسیم اﷲ امریکہ، گریڈ18کے ریاض علی کینیڈا،
    محکمہ صنعت میں گریڈ17کی شکیلہ انجم برطانیہ، گریڈ18کے ناصر الدین کینیڈا، گریڈ17کی عافیہ ضمیر ضیا امریکہ، گریڈ20کے عتیق راجہ برطانیہ، گریڈ21کے علی معظم سید کینیڈا، گریڈ22کے سعید احمد خان کینیڈا، گریڈ18کے شاہد محمود ارباب برطانیہ، گریڈ18کی مریم اقبال برطانیہ، گریڈ20کے امتیاز احمد کینیڈا، آفرین حسین برطانیہ، خالد سلیم علوی آسٹریلیا، محکمہ زراعت کے گریڈ17کے جاوید اختر چیمہ کینیڈا، گریڈ20کے ڈاکٹر عالمگیر خان اختر کینیڈا، گریڈ18کے محمد مقصود احمد کینیڈا، گریڈ18کے عارف منظورکینیڈا، گریڈ18کے نیر جلال کینیڈا، گریڈ17کے زاہد مشتاق میر کینیڈا، گریڈ18کے شوکت منظور کینیڈا،
    گریڈ18کے خالد حسین کینیڈا، گریڈ19کی سحرش شکیل ہالینڈ، گریڈ20کے ڈاکٹر قربان احمد آسٹریلیا، گریڈ18کے محمد عبد القدیر کینیڈا، گریڈ18کے تجمل حسین کینیڈا، گریڈ17کے سجاد حسین کینیڈا، گریڈ18کے طارق مقبول کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر محمد عارف خان کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر محمد آصف کینیڈا، گریڈ18کی ڈاکٹر روشان علی کینیڈا،
    گریڈ17کے اختر حسین کینیڈا، گریڈ18کے ظفر علی کینیڈا، حسن عبد اﷲ خان امریکہ، گریڈ18کے محمد اسلم کینیڈا، گریڈ18کے محمد عاشق کینیڈا، گریڈ18کے محمد عبد الرؤف کینیڈا، گریڈ 18کے پرنسپل ضیا اﷲ کینیڈا، ڈاکٹر محمد قاسم امریکہ،
    گریڈ18کے خالد محمود بھٹی کینیڈا،گریڈ21کے ڈاکٹر محمد اسحاق کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر ہارون رشید کینیڈا، گریڈ19کے شفیق انور آسٹریلیا، گریڈ19کی نائلہ انور آئر لینڈ، گریڈ19کے ڈاکٹر وسیم احمد کینیڈا، گریڈ18کے محمد آفتاب آسٹریلیا،
    گریڈ18کے محمد شفیق عالم کینیڈا، گریڈ18کے تنزیل الر حمان امریکہ، گریڈ19کے کاشف محمد آسٹریلیا، گریڈ19کے محمد شفقت اقبال کینیڈا، گریڈ18کے ڈاکٹر ظہیر اﷲ خان نیوزی لینڈ، گریڈ17کے ڈاکٹر عالمگیراختر خان کینیڈا، گریڈ17کے عابد جاوید کینیڈا،
    شرجیل مرتضیٰ آسٹریلیا، گریڈ18کے سید نوید بخاری برطانیہ،گریڈ19کے ڈاکٹر ظہیر احمد کینیڈا، گریڈ19کے ڈاکٹر رضوان شوکت فرانس، گریڈ21کے ڈاکٹر ممتاز چیمہ کینیڈا، پرائمری اور سکینڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ17 کے سرجن ڈاکٹر محمد عاصم چوہان کینیڈا، گریڈ 17کے ڈاکٹر ابو خنیفہ سعید برطانیہ،
    گریڈ17کے ڈاکٹر منصور اشرف امریکہ، گریڈ17کے ڈاکٹر سید طارق حسین امریکہ، گریڈ17کے میاں محمد طاہر کینیڈا، گریڈ17کی ڈاکٹر نبیہا اسلم برطانیہ، گریڈ17کے ڈاکٹرعدنان ضیا اﷲ فرانس،
    گریڈ18کے ڈاکٹر یاسر عمران بخاری آئر لینڈ، گریڈ17کی ڈاکٹر ام البنین آسٹریلیا، محکمہ توانائی میں گریڈ 20کے نصرت اﷲ کینیڈا، عبد الفرید کینیڈا، ذیشان علی خان برطانیہ، کامران مقبول کینیڈا،
    نعمان اقبال کینیڈا، شعیب علی صدیقی برطانیہ، گریڈ17کے وقاص احمد برطانیہ، سید عابد رضوی امریکہ، محمد وشاق امریکہ، گریڈ19کے مقصود انور خان کینیڈا، سوئی ناردرن گیس سپلائی کمپنی کے فصیح اظہر کینیڈا، گریڈ19کے عمران الطاف کینیڈا، گریڈ19کے اظہر رشید شیخ کینیڈا،
    گریڈ21کے عبد الاحد شیخ کینیڈا، گریڈ21کے اعجاز احمد چودھری کینیڈا، گریڈ21کے عامر طفیل کینیڈا، گریڈ21کے وسیم احمد کینیڈا،گریڈ 19کے افتخار احمد کینیڈا، گریڈ19کی عدیلہ مرزوق برطانیہ،
    گریڈ19کے مرزا یاسر یعقوب امریکہ، رضا جعفر امریکہ، گریڈ18کے شیراز علی خان آسٹریلیا، گریڈ18کے فیروزخان جدون آسٹریلیا، گریڈ17کے سید وجاہت حسین آسٹریلیا، گریڈ17کی حبیبہ سرور آسٹریلیا، گریڈ17کے کاشف نذیر آسٹریلیا، گریڈ17کے احتشام الر حمان کینیڈا، گریڈ17کے اقبال اکبر کینیڈا، گریڈ18کے کاشف سلیم بٹ کینیڈا،

    سوئی سدرن گیس سپلائی کمپنی کے شیخ عرفان ظفر آسٹریلیا، عبد العلیم کینیڈا، عدنان صغیر کینیڈا، سید عاصم علی ترمذی امریکہ، منیر اے مغل کینیڈا، ماریہ مغل کینیڈا، ایس ظل حسنین رضوی کینیڈا، شائستہ ساجد شیخ کینیڈا، عدنان رحمان کینیڈا، محمد شمائل حیدر کینیڈا، نورین شہزادی برطانیہ، اطہر حسین کینیڈا، سہیل احمد میمن کینیڈا،
    محمد طلحہ صدیقی امریکہ، اسلم ناصر برطانیہ، سید محمد سعید رضوی کینیڈا، محمد اطہر قاسمی امریکہ، عبد الحفیظ میمن کینیڈا، محمد ریاض کینیڈا، بینش قاسم برطانیہ، عتیق الز مان برطانیہ، ملک عثمان حسن امریکہ، سرفراز احمد امریکہ، مولا بخش کینیڈا، راشد اقبال کینیڈا، تراب اکبر بلوچ امریکہ، محمد زید اے سید کینیڈا، شبیر شیخ کینیڈا، اکرم علی شیخ امریکہ،
    صلاح الدین افغانستان، محکمہ آبپاشی میں گریڈ18کے خضر حیات کینیڈا، گریڈ 18 کے ولایت خان کینیڈا،گریڈ19کے سعید احمد کینیڈا،گریڈ 20 کے محمد عامر خان آسٹریلیا، گریڈ 19کے میاں خالد محمودکینیڈا، قائد اعظم سولر پاور لمیٹڈ کے محمد امجد کینیڈا، گریڈ 19کے نصراﷲ ڈوگر کینیڈا، گریڈ 18کے فاروق احمد کینیڈا، گریڈ20 کے عبد الرحیم گاریوال کینیڈا، گریڈ18کی یاسمین ناز کینیڈا، شبیر احمد ثاقب کینیڈا، گریڈ 19کے رضا الرحمان عباسی کینیڈا، گریڈ 19کے شیخ فضل کریم کینیڈا، گریڈ18کے جاوید شامل ہیں۔

    سابق چیف جسٹس نے اس پہ نوٹس بھی لیا تھا کہ جنھوں نے دوران ملازمت کسی دوسرے ملک کے ساتھ وفاداری نبھانے کی شرط پر شہریت لے رکھی ہے یا وہ فوری طور پر اپنی غیر ملکی شہریت چھوڑیں یا ملازمت، کیوں کہ ایسے لوگوں کی اہم حکومتی عہدوں پر تعیناتی سے ملک کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

  • سارہ علی خان نے کارتک آریان کا دل جیت لیا

    سارہ علی خان نے کارتک آریان کا دل جیت لیا

    بالی وود کے نواب سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان نے کارتک آریان کا دل جیت لیا-
    بالی ووڈ میں آئے دن نئی جوڑیاں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں لیکن ان دنوں اداکار کارتک آریان اوراداکارہ سارہ علی خان کے چرچے ہیں اور یہ سلسلہ خود سارہ علی خان نے ہدایت کار کرن جوہر کے پروگرام کافی ود کرن میں مزاحیہ انداز میں یہ کہہ کر شروع کیا تھا کہ وہ کارتک آریان کو ” ڈیٹ ”کرنا چاہیں گی اوراداکار رنوویر سنگھ نے دونوں کو ایک پارٹی میں ملوا کر سارہ علی خان کی یہ خواہش پوری کر دی-
    سارہ علی خان اورکارتک آریان کی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے نامور ہدایت کارامتیاز علی نے دونوں کو فلم میں کاسٹ کرنے کا فیصلہ کیا،امتیاز علی ہی کی کامیاب فلم”لوآج کل”کے سیکوئل کی شوٹنگ تو مکمل ہو گئی لیکن نام ابھی تک فائنل نہ ہو سکا کہا جا رہا ہے کہ فلم کا نام”لو آج کل ٹو”رکھا جائے گا-

    ایک انٹر ویو میں کارتک آریان نے سارہ علی خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سارہ نہ صرف ایک اچھی اسٹار ہیں بلکہ ان کا دل بھی سونے کا ہے.ان کا کہنا تھا کہ سارہ کے ساتھ کام کر کے بہت اچھا لگا میں باربار سارہ علی خاان کے ساتھ کام کرنا چا ہوں گا-

  • روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا بغیر روٹ پرمٹ اور فٹنس سر ٹیفکیٹ چلنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

    فیصل آباد جولائی (اے پی پی) حکومت پنجاب کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے فیصل آباد ڈویژن سمیت صوبہ بھر میں بغیر روٹ پرمٹ چلنے والی بسوں، ویگنوں، لگژری ہائی ایس، اے پی وی وینز، ٹیکسی کا رز و دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے جبکہ گذشتہ روز ڈویژن کے بعض مقامات پر کئی گاڑیاں پکڑ کر مختلف تھانوں میں بندکر دی گئیں جس سے ان گاڑیوں میں سوار مرد و خواتین مسافروں اور بچوں کو شدید گرمی میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔اس موقع پر سیکرٹری روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی پنجاب کے ذرائع نے بتا یا کہ روٹ پرمٹ اور فٹنس سر ٹیفکیٹ کے بغیر گاڑیاں چلانا سخت جرم ہے جبکہ ان سرٹیفکیٹس و روٹ پرمٹ کی تجدید کے بغیر بھی گاڑیاں سڑک پر نہ لائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹرانسپورٹ مالکان کو ہدائت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر روٹ پرمٹ بنوا لیں اور پرانے روٹ پرمٹس و فٹنس سرٹیفکیٹس کی تجدید کروا لیں ورنہ ان کی گاڑیاں بند کر دی جائیں گی اور بھاری جرمانہ سمیت سخت قانونی کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

  • سرگودہا میں بچے اغواء کرنے والا گروہ گرفتار

    سرگودہا میں بچے اغواء کرنے والا گروہ گرفتار

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )سرگودھا میں بچے اغواہ کرنے والا گروہ متحرک آئے روز بچوں کے لا پتہ ہونے سے والدین خوف میں مبتلا ہو گئے اغواہ کار گروہ میں خواتین اور مرد شامل ہیں بلاک 23 میں اکرم نامی شہری کا تین سالہ بچہ گلی میں کھیل رہا تھا کہ بھکاری کے روپ میں عورت نے اسے اغواء کر لیا جسے ساتھ والی گلی کی خواتین نے روک کر بچے کے بارے پوچھا جس پر اس نے اس بچے کو اپنا بیٹا کہا شک ہونے پر عورت کو علاقہ مکینوں نے پکڑ لیا جس دوران بچے کا چچا اسلم اسے ڈھونڈتے وہاں پہنچ گیا اغواہ کار خاتون کی اصلیت سامنے آنے پر پولیس کو اطلاع دی گئی جس پر تھانہ اربن ایریا پولیس نے موقع پر پہنچ کر کاروائی کرتے ہوے خاتون کو حراست میں لے لیا

  • 1999 کا چنئی ٹیسٹ میرے کیرئیر کا یادگار ٹیسٹ میچ تھا: وسیم اکرم

    1999 کا چنئی ٹیسٹ میرے کیرئیر کا یادگار ٹیسٹ میچ تھا: وسیم اکرم

    لاہور: پی سی بی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک پول کے نتائج کے تحت 1999 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والا ٹیسٹ پاکستان کی ٹیسٹ کی تاریخ کا یادگار ترین ٹیسٹ قرار دے دیا گیا، اس پول کو پی سی بی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کیا گیا جس میں 15847 ٹوئٹر صارفین نے حصہ ڈالا اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی چار مشہور ٹیسٹ کامیابیوں میں سے پسندیدہ پر ووٹ ڈالا

    11 فیصد شائقین کرکٹ نے 1954 میں اوول،انگلینڈ کی کامیابی کو بہترین قرار دیا، 15 فیصد شائقین کرکٹ نے 1987 میں بنگلور،انڈیا میں حاصل ہونے والی کامیابی کو ووٹ دیا، 10 فیصد شائقین کرکٹ نے 1994 میں کراچی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ کو یادگار لمحہ قرار دیا، اور سب سے زیادہ یعنی 65 فیصد شائقین کرکٹ نے چنئی میں انڈیا کیخلاف حاصل کی جانے والی کامیابی کو یادگار قرار دیا
    اس پول کے انعقاد پر پاکستان کے سابق سٹار فاسٹ بولر وسیم اکرم نے کہا ہے کہ پریشر کے ہونے اور اس میں بہترین کھیل پیش کرنے کی سب سے اعلیٰ مثال چنئی ٹیسٹ ہے ، وسیم اکرم نے مزید کہا کہ میرا ووٹ بھی چنئی ٹیسٹ کیلئے ہی تھا
    پاکستان کرکٹ کے سٹار آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے کہا ہے مجھے اس بات پر فحر ہے کہ میں ایسی ٹیم کا حصہ رہا ہوں جو اپنے بل بوتے پر کسی بھی ٹیم کو کسی بھی لمحے میچ ہرانے کی قابلیت رکھتی تھی ،شاہد آفریدی نے مزید کہا ہے کہ اس میچ میں پرفارم
    کرنے کے بعد بڑی خوشی ہوئی تھی

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کا کہنا ہے کہ 20 سال بعد بھی شائقین کرکٹ کا چنئی ٹیسٹ کو یادگار ترین ٹیسٹ قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے یہ پاکستانی کھلاڑیوں کی انتھک محنت کے نتیجے سے حاصل ہونے والی کامیابی تھی ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کا قابل فخر ملک ہے اور ہم ٹیسٹ چیمپین شپ کی بہتری اور ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے