Baaghi TV

Author: +9251

  • فردوس جمال کے انتقال کی خبریں ، بیٹے بازل کی تردید

    فردوس جمال کے انتقال کی خبریں ، بیٹے بازل کی تردید

    سوشل میڈیا پر آئے روز ایسی خبریں پھیلا دی جاتی ہیں کہ جن کا حقیقت سے رتی برابر بھی تعلق نہیں‌ہوتا.معروف فوک گلوکار عطا اللہ عیسی خیلوی جب بیمار پڑے تو جتنی بار بھی ان کے بیمار پڑنے کی خبر سامنے آئی ، اتنی بار ہی سوشل میڈیا پر خبر اڑا دی گئی کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے ، اسی طرح سے دلیپ کمار کے انتقال کی جھوٹی خبریں بھی پھیلائی گئیں. اب حال ہی میں سینئر اداکار فردوس جمال کی طبیعت کی ناسازی سامنے آئی ہے، گزشتہ روز وفاقی حکومت کی جانب سے اداکار کو علاج معالجے کےلئے ایک کروڑ روپے کا چیک دیا گیا. اس کے چند گھنٹوں

    کے بعد ہی سوشل میڈیا پر فردوس جمال کے انتقال کی خبریں سرکولیٹ ہونا شروع ہو گئیں. آخر کار فردوس جمال کے بیٹے بازل فردوس کو سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کرنا پڑا کہ میرے والد بالکل خیریت سے ہیں اور ان کی سرجری ہوئی ہے اور وہ تیزی سے صحتیاب ہو رہے ہیں برائے مہربانی ان کے حوالے سے تکلیف دہ خبریں نہ اڑائی جائیں. میرے والد کے مداح ان کے لئے دعا کریں اور ان کو اپنی دعائوں میں یاد رکھیں. دوسری طرف فردوس جمال نے بھی کہا ہے کہ میں صحت یاب ہو رہا ہوں ہمت نہیں ہارا آپ سب کی دعائوں کا شکریہ .

  • بھارتی فلمساز اردو کا قتل عام بند کریں ارسلان نصیر

    بھارتی فلمساز اردو کا قتل عام بند کریں ارسلان نصیر

    اداکار ارسلان نصیر بھی فلم پٹھان اور دیپیکا کے گانے پر ہونے والی تنقید میں‌ کود پڑے ہیں. انہوں انتہا پسند ہندئوں سے ایک سوال کیا ہے انہوں نےکہا ہے کہ آپ لوگ دیپیکا کے گانے پر تنقید کررہے ہیں کہ اس نے زعفرانی رنگ کا لباس پہن رکھا ہے، فلم پٹھان کے نام پر تنقید بھی کی جا رہی ہے ، ٹھیک ہے آپ جو کررہے ہیں کرتے رہیں لیکن زرا یہ تو بتائیے کہ اس پہ تنقید کیوں نہیں ہو رہی کہ دیپیکا گانے میں لفظ شرافت کو شریفی کہہ رہی ہیں. اس پہ بھی احتجاج کیا جائے کہ کیوں اردو زبان کا قتل عام ہو رہا ہے. ارسلان نصیر نے بھارتی فلم میکرز کو آڑھے ہاتھوں

    لیتے ہوئے کہا کہ برائے مہربانی اردو زبان کا قتل عام بند کیاجائے. یاد رہے کہ فلم پٹھان جو کہ جنوری کے آخری ہفتے میں ریلیز ہونے جا رہی ہے اس پر انتہا پسند ہندو نہ صرف تنقید کررہے ہیں بلکہ فلم کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ بھی چلایا جا رہا ہے، شاہ رخ خان اس فلم کے زریعے چار سال کے بعد بڑی سکرین پر واپسی کررہے ہیں. دوسری طرف دیپیکا اور شاہ رخ خان کو ایک ساتھ دیکھنے کےلئے شائقین کافی بے تاب نظر رہے ہیں . شاہ رخ خان کا کہنا ہےکہ یہ فلم ہر لحاظ‌ سے انٹرٹیننگ ہے.

  • امجد صابری کی بیٹی کی لاہور میں شادی انجام پا گئی

    امجد صابری کی بیٹی کی لاہور میں شادی انجام پا گئی

    معروف قوال مرحوم امجد صابری کی بڑی صاحبزادی حورین امجد صابری رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔حورین امجد صابری کے نکاح کی تقریب 23 دسمبر کو لاہور میں ان کے گھر میں منعقد ہوئی تھی ۔شادی ممیں رشتہ داروں، دوست احباب کے علاوہ شوبز انڈسٹری سے میزبان و اداکارہ مایا خان نے شرکت کی۔ امجد صابری اپنے بچو سے بہت محبت کرتے تھے ، انکی بیٹی تاہم اب رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئی ہے. یاد رہے کہ امجد صابری قوالی کی دنیا میں‌اعلی مقام رکھتے تھے انہوں نے فن قوالی اپنے والد سے 9سال کی عمر میں سیکھنا شروع کیا اور 1988ء میں 12سال کی عمر میں پہلی بار سٹیج پر پرفارمنس دی۔انہوں نے بہت سے ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔امجد صابری نے دنیا بھر میں‌پاکستان

    کی بھرپور انداز میں نمائندگی کی، ان کا قتل قوالی کی دنیا کا وہ خلاء ہے جو کبھی پُر نہیں ہو سکتا. امجد صابری کا فن اور شخصیت کئی لوگوں کے مشعل راہ تھی اور ہے. امجد صابری کو 22 جون 2016ء کو دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے لیاقت آباد ٹاؤن کراچی میں میں اُن کی کار پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا امجد موقع پر ہی جان بحق ہو گئے تھے۔امجدصابری، کراچی شہر کے لیاقت آباد کے علاقہ میں واقع اپنی رہائش سے نکل کر نجی ٹیلی وژن کے اسٹوڈیو جا رہے تھے.

  • ہیلتھ لیوی، تحریر، ارم شہزادی

    "ہیلتھ لیوی”
    بچے ہمارا مستقبل ہوتے ہیں۔ سادہ دور میں بچوں کی تربیت والدین مل کر کیا کرتے تھے، ماں کی گود پہلی درسگاہ تھی،
    ماں کی زمہ داری اولاد کو اچھے برے کی تمیز سکھانا بینادی اسلامی تعلیمات سے روشناس کروانا تھا، بیٹوں کو باپ مساجد میں لے جاتے پانچ وقت کا نمازی بناتے قران پاک کی تعلیم دیتے تھے، سیکھے علوم کو اپنی زندگی میں شامل کرتے اور زندگی اس کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتے جس میں کافی حد تک کامیاب رہتے۔ پھر وقت بدلا ضروریات بدلیں اور اور باپ کو کمانے کے لیے شہر سے دوردرزا کما کر لانا پڑتا جسکی وجہ سے وہ اتنا وقت نہیں دے پاتا بچوں کو، اور یوں ساری زمہ داری ماں پر آگئی، گوکہ ماں نے بھرپور توجہ دی لیکن وہ باپ کی زمہ داری اس لحاظ سے پوری نا کرپائی کہ بچے گھر سے باہر کس طرح کی صحبت اختیار کرتے ہیں یا صحبت میں رہتے ہیں۔ یوں کچھ بچے تو احساس زمہ داری کے ساتھ رہے لیکن کچھ بچوں کے رویوں میں تبدیلی آئی اور وہ گھر کے ماحول کو گھٹن زدہ سمجھنے لگ گئے کچھ باغی ہوئے تو کچھ بری صحبت میں پڑ گئے پھر دنیوی تعلیم کی جدت نے بجائے انکے رویوں کو نرم کرنے کے بلکہ سخت کردیے

    آزادی ملی گھر سے باہر دور نکلنے کی اور "آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل” والی بات ہوگئی لیکن معاملات پھر بھی کسی حد تک قابو میں رہے، معاشرے کے بدلتی روایات اور تغیر نے انسانوں کو ایک مشین کی مانند بنا دیا، وہ انسان جو انسانیت کے جذبے سے بھرپور تھا اس میں تلخی مادیت اور دنیا پرستی آگئی، وقت کچھ اور بدلا تو باپ کے ساتھ ماں بھی گھر سے باہر کام کرنے لگی اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس سے پہلے عورت پر پابندیاں تھیں یا باہر نکلتی نہیں تھی بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ تعلیم کے نام پر فیشن کے نام پر آزادی کے نام پر سٹیٹس اپگریڈ رکھنے کے نام پر جب کمانے نکلی تو بچے اس دور میں نا ماں کی ترجیحات میں شامل رہے اور نا باپ کی ترجیحات میں۔ باپ پیسے کمانے کے چکر میں یوں پڑا کہ بھول ہی گیا بچے کو پیسے کے علاوہ توجہ محبت اور ساتھ چاہیئے وقت چاہیئے جبکہ ماں بھی کچھ ایسا ہی مصروف ہوئی اور بچے متاثر ہونے لگے۔ بچے ملازمین کے ہاتھوں پلنے لگے، جو اچھی بری باتوں کو والدین نے بتانا تھا وہ معاشرے سے پتہ لگنے لگیں، اور جب تربیت کی زمہ داری والدین چھوڑ دیں معاشرہ لے لے تو بچے ہر اس بری عادت میں بھی پڑنا شروع کردیتے ہیں جہاں والدین نہیں چاہتے ہرگز نہیں چاہتے۔ترقی کے نام پر جس طرح معاشرے میں نئی نئی دریافتوں نے در کھولے وہیں انسان زہنی طور پر پرسکون نا رہا اور اس سکون کو تلاش کرنے کے لیے وہ در، بدر پھرا اور کچھ ایسی عادات میں پڑ گیا جس سے حال اور مستقبل دونوں تباہ ہوئے، ایک وقت تھا جب زہنی سکون کے لیےلوگ نماز پڑھتے تھے اور اب ادویات کھاتے ہیں سگرہٹ پیتے ہیں نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے ہیں جس سے صحت تباہ ہوتی ہے معاشرے میں ناانصافی پھیلتی ہیں ان اعادات کی وجہ سے گھر برباد ہوجاتے ہیں۔ پھر علاج کے نام پر جہاں لاکھوں خرچ ہوتے ہیں وہیں معاشرے میں عزت بھی جاتی رہتی ہے۔۔ ان اشیاء میں سگریٹ، پان، چرس، آئس، اور کچھ میٹھے مشروبات ہیں،ان چیزوں کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہے کہ یہ تیرہ چودہ سال کے بچوں کی بھی پہنچ میں ہیں یہ چیزیں سکول، کالجز میں عام مل رہی ہیں پھر فیشن کے نام پر لڑکے تو ایک طرف لڑکیاں بھی اس، میں عادی ہوگئیں، ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے جب تک ٹھوس اقدامات نہیں کیے جائیں گے تب تک نا صرف ان سے چھٹکارہ مشکل ہے بلکہ مستقبل میں یہ زیادہ گھمبیر صورتحال اختیار کرجائیں گے۔ان چیزوں مکمل طور پر اگر بین نہیں بھی کیا جاسکتا تو کم از، ان پر ٹیکس اتنا ضرور ہو کہ یہ بچوں کی پہنچ سے دور رہیں۔ اس ضمن میں 2021 مئی میں ایک سمری وزارت خزانہ کو بھیجی گئی جس میں سگریٹ، اور میٹھے مشروبات پر ہیلتھ لیوی کے نام سے ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی کیونکہ ہیلتھ لیوی سے دو فائدے ہونگے ایک تو یہ بچوں کی پہنچ سے دور ہونگے دوسرا یہ ریونیو اربوں میں دے سکتی ہے جو کہ یقیناً فائدہ مند ہوگا۔ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے کابینہ سے اور وزارت خزانہ نے اس پر اعتراض بھی نہیں کیا کسی قسم کا۔ لیکن نفاز تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ یہاں بھی ایک مافیا بیٹھا ہے جسے بچوں اور انکے مستقبل سے زیادہ اپنا پیسہ اور کاروبار سے مطلب ہے۔ ہیلتھ لیوی کا معاملہ تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے سالانہ تقریبا 38ارب کا نقصان ہورہا ہے۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے باوجود تقریباً دو سال سے تاخیر ہورہی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا سیگریٹ کی فروخت کا شئر 90فیصد ہے، جس کی وجہ سے ہیلتھ لیوی کے لیے کابینہ سے بل منظور کروایا گیا لیکن آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔ایف بی ار نے اربوں روپے کے اس ریونیو کے بارے میں کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد چونکہ صحت صوبائی معاملہ ہے اس لیے وفاقی کابینہ کا منظور شدہ کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔جبکہ وزارت صحت یہ کہتی ہے کہ ہیلتھ لیوی ایک جنرل ٹیکس ہے اسکا صوبائی محکمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلے اسکا نام بھی کافی سخت یعنی "گناہ ٹیکس” تھا لیکن بعد میں بحث ومباحثہ کے بعد اسکا نام بدل کر ہیلتھ لیوی رکھ دیا۔ہیلتھ لیوی کے نفاز میں تمباکو، صنعت اور سیگریٹ تیار کرنیوالی کمپنیوں کی جانب سے دباؤ اور اثر رسوخ کی وجہ سے ہیلتھ لیوی بل پر کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہو رہی ہے اور وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے باوجود تاخیر کا شکار ہے۔ وزارت صحت کی تجویز کے مطابق ہیلتھ لیوی بل میں سیگریٹ کی 20سٹک کے حامل فی پیکٹ پر دس روپے اور میٹھے مشروبات کی 250ملی لیٹر بوتل پر ایک روپے ہیلتھ لیوی ہونا چاہیئے۔ اس سے سالانہ تقریباً 38ارب روپے سے زیادہ ریونیو حاصل ہوگاجسے دوسرے صحت کے معاملات پر خرچ کیے جاسکتے ہیں۔ دوسال کے التواء سے تقریباً اربوں کا نقصان ہوچکا ہے۔ پاکستان میں صحت پر اٹھنے والے اخراجات تقریباً 600ارب روپے سے زائد ہےہیلتھ لیوی کے نفاز سے صحت کے شعبے کو سہولیات فراہم کرن کتنا آسان ہوجائے گا۔صرف پاکستان میں یہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ کئی اور ممالک میں ہیلتھ لیوی کے طرز کے ٹیکسز عائد ہیں۔ جن ممالک میں ہیں یہ ٹیکس ان میں تھائی لینڈ، برطانیہ، سعودی عرب، یو اے ای، میکسیکو، فرانس، فلپائن شامل ہیں۔ ان ممالک میں ان ٹیکسز یا لیوی کے وجہ سیگریٹ نوشی میں کمی ہوئی ہے، ماہرین صحت اور عام عوام کا بھی یہی خیال ور مطالبہ ہے کہ اس تاخءر کا نوٹس لیا جائے اور اور نفاذ کی راہ ہموار کی جائے تاکہ یہ ناسور ہمارے بچوں سے دور رہے۔
    تحریر و تحقیق
    ارم شہزادی
    @irumrae

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

  • سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کے حصول کے لیے بات چیت جاری ہے وزیر مملکت خزانہ

    سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کے حصول کے لیے بات چیت جاری ہے وزیر مملکت خزانہ

    سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کے حصول کے لیے بات چیت جاری ہے وزیر مملکت خزانہ

    ملکی معاشی بحران دور کرنے کے لیے حکومت کے چین اور سعودی عرب سے 6 ارب ڈالر کے حصول کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں سینیٹر فاروق حامد نائیک، سعدیہ عباسی، انوار الحق کاکڑ، مشتاق احمد، وزیر برائے سیفران سینیٹر محمد طلحہ محمود، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس کے آغاز میں سابق فاٹا کے صنعتی اداروں کے حوالے سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی/سیلز ٹیکس کے بقایا جات کے استثنا کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اجلاس میں مالاکنڈ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے عہدیداروں نے کمیٹی سے درخواست کی کہ سابق فاٹا اور پاٹا میں واقع اسٹیل، گھی و کوکنگ آئل کی 86 صنعتوں کوروبہ ماضی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے چھوٹ کی تجویز دی جائے۔ علاوہ ازیں ایف بی آر کو ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی واپسی کی اجازت دینے یا ٹیرف ایریاز میں سپلائی کے بدلے اس کی ایڈجسٹمنٹ، سابق فاٹا میں تیل،گھی اور اسٹیل کی صنعتوں کو بجلی کے بلوں میں ٹیکس سے استثنا، سابق فاٹا اور پاٹا کو ایف بی آر کے زیر انتظام لیویز میں چھوٹ کی مدت میں مزید 5 سال کی توسیع کے لیے وفاقی حکومت کو فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 میں ترامیم کی تجویز پیش کریں۔

    چیئرمین کمیٹی نے مالاکنڈ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکس استثناکا مناسب جواز فراہم کریں اور اس معاملے پر حکومت سے مزید بات چیت کریں۔ اجلاس میں لیٹرآف کریڈٹ کھولنے کے حوالے سے پابندیوں اوراسلام آباد میں مووان پک کے نام سے فائیو اسٹارہوٹل کے امورپربھی تفصیلی بحث ہوئی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹرعائشہ غوث پاشا نے کہا کہ زبردست معاشی دباؤ کی وجہ سے بعض پابندیاں عائد کرنا پڑی ہیں، ملک کے بہترین مفاد میں غیر ضروری اور پرتعیش اشیا کی درآمد پر پابندی لگائی گئی، یہ پابندیاں عارضی نوعیت کی ہیں اور معیشت و کرنسی کی صورتحال بہتر ہونے پر ان میں نرمی کی جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت
    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ
    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    کمیٹی کے اراکین نے کہاکہ اس حوالے سے 90 فیصد کام پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے۔ اراکین نے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کے حکام کو مشورہ دیا کہ وہ درآمد کی مخصوص درخواستوں پر غور کریں اور اس سلسلے میں تاجروں کو درپیش مسائل کے خاتمے کے لیے کام کریں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ پاکستان بیرونی ادائیگیوں کی ذمے داریاں پوری کرے گا، ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا کوئی امکان نہیں، سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کے حصول کے لیے بات چیت جاری ہے، چین سے بھی 3 ارب ڈالر کے لیے بات چیت کر رہے ہیں، آئی ایم ایف کی سالانہ تعطیلات چل رہی ہیں، ہم ان کے حکام سے رابطے میں ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف حکام سے ڈونرز کانفرنس کے موقع پر ملاقات ہوگی۔ یہ کانفرنس 9 جنوری کو جنیوا میں ہورہی ہے۔

  • ناکہ سرینا ہوٹل ای پوسٹ پر دوران چیکنگ چوری شدہ گاڑی برآمد

    ناکہ سرینا ہوٹل ای پوسٹ پر دوران چیکنگ چوری شدہ گاڑی برآمد

    ناکہ سرینا ہوٹل ای پوسٹ پر دوران چیکنگ چوری شدہ گاڑی برآمد

    ناکہ سرینا ہوٹل ای پوسٹ پر دوران چیکنگ چوری شدہ گاڑی برآمد۔ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے مطابق گاڑی تھانہ سول لائنز لاہور کی چوری شدہ نکلی۔ جبکہ گاڑی میں چار افراد سوار تھے جن کو مشکوک جانتے ہوئے پولیس نے چیک کیا۔ اور گاڑی کو تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔


    اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی طرف سے شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ اور شہری دوران چیکنگ پولیس سے تعاون کریں جبکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کے متعلق اطلاع فوری پکار 15 پر دیں۔ جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ یہ تو کرامت ہو گئی صرف آٹھ منٹ میں گاڑی لاہور سے راولپنڈی منتقل ہوگئی. جبکہ ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار نے کہا کہ میں کسی کام کے سلسلے کچہری آیا تھا اپنی گاڑی مہران کار ہیڈ بریج کے پاس کھڑی کی تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت
    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ
    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    درخواست گزار نے مزید کہا کہ جب میں واپس آیا تو میری گاڑی اپنی جگہ پر موجود نہیں تھی اور کافی تلاش کے باوجود بھی نہیں ملی لہذا میں نے دوبارہ بھی تلاس کی مگر مجھے اپنی گاڑی نہیں ملی جس کے بعد مجھے کافی پریشانی ہوئی اور ذہنی طور شدید کوفت ہوئی ہے.

  • الیکشن کمیشن کی 31 دسمبر کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے معذرت، عدالت کا اظہار برہمی

    الیکشن کمیشن کی 31 دسمبر کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے معذرت، عدالت کا اظہار برہمی

    لیکشن کمیشن کی 31 دسمبر کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے معذرت، عدالت کا اظہار برہمی

    الیکشن کمیشن نے 31 دسمبر کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے سے معذرت کرلی جس پر عدالت نے الیکشن کمیشن سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگ لی۔ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 31 دسمبر کو ملتوی کرانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواستوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی۔ لاء افسران، اٹارنی جنرل اشترو اوصاف، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن 31 دسمبر کو انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے؟ جس پر الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ مشکل ہے۔

    عدالت کا نے کہا کہ کیا آپ نے اس عدالت کو جو یقین دہانی کرائی تھی کہ الیکشن ملتوی کرنا اس کی خلاف ورزی نہیں؟ جس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نے اس عدالت کو مشروط یقین دہانی کرائی تھی۔ اشتراوصاف نے کہا کہ عدالت اس کیس میں عارضی ریلیف نہیں دے سکتی کیونکہ یہ تو پھر پٹیشن کا مکمل ریلیف ہوگا۔ عدالت نے اشتر اوصاف کو ہدایت دی کہ کیا آپ نے کل کا آرڈر دیکھا ہے؟ اس پر معاونت کریں۔ اشتر اوصاف نے کہا کہ ڈی جی لا الیکشن کمیشن موجود ہیں ان سے پوچھیں الیکشن ملتوی کیوں ہوئے۔

    عدالت نے کہا کہ ڈی جی صاحب یہ تو آپ پر ڈال رہے ہیں اب آپ بتائیں، کیا الیکشن کمیشن 31 دسمبر کو الیکشن کرانے پر تیار ہے؟ اس پر ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کے سامان کی ترسیل میں وقت لگے گا۔ عدالت نے پوچھا کہ سامان کی ترسیل تو آپ کرچکے تھے کل آپ نے کہا تھا، اسلام آباد کے اندر ہی سامان کی ترسیل میں کتنا وقت لگے گا؟ یہ بتائیں، اس پر ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا کہ نئی صورتحال میں 31 دسمبر کو الیکشن ممکن نہیں تھے۔ عدالت نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ عدالت میں کرائی گئی یقین دہانی کے منافی نہیں؟ آپ کے 101 یونین کونسلز کی حلقہ بندی کی پراسس مکمل کیا؟ ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ ساٹھ دن کے اندر 125 یونین کونسلز میں حلقہ بندیاں ہونی ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ حکومت کو یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں وجوہات کا ذکر ہم نے جواب میں کیا ہے، ڈی جی الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیکشن نے پہلے بھی کہا اب بھی کہہ رہے ہیں الیکشن کے نزدیک حکومت کوئی ترمیم نہ کرے۔ عدالت نے پوچھا کہ بلدیاتی انتخابات میں کتنے فنڈز استعمال ہوئے اس سے متعلق بتائیں؟ اشتر صاحب قومی خزانے کا اتنا نقصان کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس موقع پر عدالت نے الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات میں ہونے والے اخراجات کی تفصیل فراہم کرانے کا حکم دے دیا۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے ڈی جی لاء الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ جو فنڈز الیکشن کمیشن کو فراہم کیے گئے وہ کن چیزوں پر خرچ ہوئے؟کیا اب تک پچاس ساٹھ کروڑ کی رقم خرچ نہیں ہوچکی؟ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ نہیں، ابھی اتنی رقم خرچ نہیں ہوئی، تحریری طور پر عدالت کو بتائیں گے۔ عدالت نے پوچھا کہ اب تک الیکشن کمیشن کتنے فنڈز خرچ کر چکا ہے؟ تحریری طور پر بتائیں، ذہن نشین کرلیں یہ عدالت کسی صورت قومی خزانے کو نقصان نہیں پہنچانے دے گی، جو صورتحال ہے آپ اس سے آگاہ ہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ
    جی بالکل معلوم ہے، میں اپنے دفتر میں بھی بجلی تک کی بچت کرتا ہوں۔

    عدالت نے کہا کہ اس وقت یونین کونسلز کی تعداد 125 ہوگئی ہے تو آپ کو حلقہ بندیوں میں کتنا وقت لگے گا؟ ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے لیے قانون کے مطابق 60 دن کا وقت درکار ہے، عدالت نے پوچھا کہ کیا آپ 60 دنوں بعد الیکشن کرانے کی پوزیشن میں ہوں گے؟ ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا کہ کل بتایا تھا کہ پچاس سے ساٹھ کروڑ روپے خرچ ہوچکے مگر وہ اعداد و شمار غلط تھے، وہ بتانے میں غلطی ہوئی، 15 سے 16 کروڑ خرچ ہوئے ہوں گے، الیکشن کمیشن سمجھتا تھا کہ وفاقی حکومت شیڈول کے اعلان کے بعد یونین کونسلز نہیں بڑھا سکتی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ تو آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے اپنی درستی کرلی ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پٹیشنر کا کون سا حق متاثر ہوا؟ وہ تو الیکشن میں امیدوار ہی نہیں، عدالت نے پوچھا کہ مگر وہ اسلام آباد کا شہری ہے اور ووٹ دینا اس کا حق ہے، اس پر اٹارنی جنرل بولے کہ پٹیشنر سے ووٹ دینے کا حق کبھی بھی نہیں چھینا گیا، اٹارنی جنرل نے پٹشنر سے سوال کیا کہ کیا یہ پراکسی پٹیشن ہے ؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل سردار تیمور نے کہا کہ یہ پٹیشن دائر کرنے کے لیے پی ٹی آئی نے اتھورائز کیا ہےاس پر اشتر اوصاف نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے یہ پٹیشن دائر کی ہے تو پھر یہ پراکسی پٹیشن ہے، پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ یہ پٹیشن علی نواز اعوان نے پی ٹی آئی کے حوالے سے فائل کی ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے کے بل کی صدر سے منظوری ہوچکی؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے بل پاس ہو چکا ہے، صدر کی منظوری کی ایک رسمی کارروائی باقی ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ جب وہ حکومت میں تھے انہوں نے بھی دلچسپی نہیں لی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں کوئی سیاسی کمنٹ نہیں کروں گا مگر کیا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہوگئے؟ اس پر عدالت نے کہا کہ وہاں کا معاملہ ہمارے سامنے نہیں ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیوں نہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا جائے؟ اس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نے یونین کونسلز بڑھانے کا فیصلہ مسترد کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا، ہائیکورٹ نے ہمارا وہ آرڈر کالعدم قرار دیا تھا، ہائیکورٹ نے ہمیں فریقین کو دوبارہ سن کو فیصلہ کرنے کا کہا تو ہم نے فریقین کو سن کر ہی الیکشن ملتوی کرنے کا فیصلہ دیا۔ مکمل ریکارڈ ساتھ نہ لانے پر عدالت نے الیکشن کمیشن کے حکام پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ کو آج سارا ریکارڈ ساتھ لانا تھا، گزشتہ روز جاری کیے گئے نوٹس میں آپ کو مکمل ریکارڈ ساتھ لانے کا کہا گیا تھا۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں بطور اٹارنی جنرل کورٹ کے سامنے کھڑا ہوں کسی پارٹی کی طرف سے نہیں، مجھے اپنے علاج کے لیے بیرون ملک جانا تھا لیکن اس کیس کی وجہ سے رک گیا۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ تحریری طور پر آج کے دن کسی بھی وقت عدالت کو آگاہ کر دیں۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو آج کے تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کردی اور کہا کہ جب کوئی نوٹی فکیشن فیلڈ میں نہیں تو الیکشن کمیشن کیسے حلقہ بندیاں کر سکتا ہے؟ اس وقت کوئی نوٹی فکیشن فیلڈ میں موجود نہیں، الیکشن کمیشن نے قانون کی غلط تشریح کی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ بلدیاتی قانون میں ترمیم کے تحت میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات براہ راست ہوں گے، نیا بلدیاتی قانون قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس ہو چکا ہے، صدر مملکت کے دستخط باقی ہیں اب اس قانون میں تبدیلی نہیں ہوسکتی، اگر الیکشن پہلے ہوجاتے تو باقی یونین کونسلز کے عوام محروم رہ جاتے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ آج ہی تحریری طور پر عدالت میں اپنا جواب جمع کروا دیں، اشتر اوصاف نے کہا کہ مجھ سے ایسی یقین دہانی نہ کرائیں جو میں پوری نہ کر سکوں۔

    اس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن آج ہی تحریری جواب دائر کریں، سادہ کیس ہے اب ہمیں اسے کنفیوز نہیں کرنا چاہیے، آج تحریری جواب جمع کرائیں کل صبح دوبارہ یہ کیس سن لیتے ہیں، ڈی جی صاحب کیا الیکشن کمیشن نے بغیر کسی قانونی ترتیب کے کام کیا ہے، آپ کو اب جو جواب دینا ہے اس کو ذرا دیکھ کر لیجیے گا۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کام بہت جلد بازی میں نہیں کیا؟ اس پر اٹارنی جنرل بولے کہ اب اگر الیکشن ملتوی کرنے کا آرڈر کالعدم ہوا تو مسائل پیدا ہوں گے جب کہ پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور حکومت کا الیکشن شیڈیول پر ہونے سے کون سا حق متاثر ہوگا؟

    عدالت نے کل 10 بجے تک الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی اور کہا کہ کیس کی سماعت دو بجے کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے عدالت کے سامنے جواب دے دیا اور کہا کہ 31 دسمبر کو الیکشن نہیں کراسکتے اس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ  27 دسمبر تک تو یہ تیار تھے آج 29 دسمبر کو کو کہہ رہے ہیں کہ الیکشن نہیں ہوسکتے۔ وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ 27 دسمبر کو تو یہ ڈیوٹیاں بھی تبدیل کر رہے تھے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ نے بلدیاتی الیکشن کرانے کا کوئی ٹائم فریم بھی نہیں دیا، اپنے تحریری جواب میں آپ کو یہ بھی بتانا ہے، یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے الیکشن کمیشن جلد بازی میں کیوں چلتا ہے؟ یہ لوگوں کے ووٹ کے حق کا معاملہ ہے، حقیقت پسندانہ ٹائم لائن دیں یہ نہ ہو کہیں جون 2023ء کو الیکشن ہوں۔ عدالت نے کیس کی مزید کل دو بجے تک ملتوی کردی۔

  • عمران خان نے جس آیات کا حوالہ دیا وہ  قرآن کریم میں ہے ہی نہیں

    عمران خان نے جس آیات کا حوالہ دیا وہ قرآن کریم میں ہے ہی نہیں

    عمران خان نے جس آیات کا حوالہ دیا وہ قرآن کریم میں ہے ہی نہیں

    ممتاز عالم دین مفتی منیب الرحمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے بیان پر تصحیحی نوٹ جاری کردیا۔ مفتی منیب الرحمان نے ’خان صاحب کا فرمان‘ کے نام سے ٹوئٹ میں ایک نوٹ درج کیا جس میں عمران خان پر واضح کیا گیا تھا کہ ’خان صاحب نے فرمایا ہے کہ ’قرآن کی آیت ہے: دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالو‘، ان سے گزارش ہے کہ قرآنِ کریم میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے‘۔

    مفتی منیب نے وضاحت کرتے لکھا کہ ’قرآنِ کریم میں اللّٰہ تعالیٰ نے عیب جوئی، طعن و تشنیع، ٹوہ لگانے، تمسخر اُڑانے، برے ناموں سے پکارنے، بدگمانی، تجسس اور غیبت سے منع فرمایا ہے، البتہ حدیثِ پاک میں دوسروں کے عیوب پر پردہ ڈالنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے اور اس کا اجر بھی بیان فرمایا گیا ہے مگر یہ سب کے لیے ہے، نیز عزت کمانے کے لیے دوسروں کی عزت کرنی پڑتی ہے‘۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت
    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ
    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.
    مزید برآں مفتی منیب الرحمٰن نے اپنے بیان میں دعا بھی کہ’ اللّٰہ تعالیٰ ہم عاجز بندوں سمیت خان صاحب اور سارے سیاسی قائدین کو کتاب و سنت کے احکام پر عمل کی توفیق عطافرمائے‘۔ جبکہ اس حوالے سے سینئر صحافی حامد میر نے ھی لکھا کہ قرآن کا حوالہ دیتے وقت احتیاط کرنا چاہئے.

  • آمدن سے زائد اثاثہ کیس؛ اسپیکر سندھ اسمبلی کی درخواستِ ضمانت مسترد

    آمدن سے زائد اثاثہ کیس؛ اسپیکر سندھ اسمبلی کی درخواستِ ضمانت مسترد

    آمدن سے زائد اثاثہ کیس؛ اسپیکر سندھ اسمبلی کی درخواستِ ضمانت مسترد

    احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے سے متعلق ریفرنس میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ قبل ازیں کیس کی سماعت کے دوران اسپیکر سندھ اسمبلی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 20 فروری 2019ء میں آغا سراج درانی کو گرفتار کیا گیا۔ 13 دسمبر 2019ء کو سندھ ہائی کورٹ نے ضمانت دی تھی۔

    وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی نئی ترمیم کے بعد یہ ریفرنس بنتا ہی نہیں ہے جب کہ پراسیکیوٹر نیب نے مؤقف دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم آغا سراج درانی اپنے گھر ہی پر ہیں۔ ملزم کے گھر کو سب جیل ڈکلیئر کیا گیا ہے۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، جسے کراچی کی احتساب عدالت نے آج سناتے ہوئے ٓغا سراج درانی کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت
    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ
    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ بھی آغا سراج درانی کی درخواستِ ضمانت مسترد کر چکی ہیں۔ دوسری جانب محکمۂ داخلہ سندھ نے آغا سراج درانی کے گھر کو سب جیل قرار دے رکھا ہے۔ جبکہ اس سے قبل آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی عدالتِ عظمیٰ کے احاطے سے باہر آ گئے، جس کے بعد نیب نے انہیں گرفتار کر لیا تھا.

  • ہم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  میں آسانی اور مزید بہتری کے لیے پرعزم ہیں. فیصل کریم کنڈی

    ہم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں آسانی اور مزید بہتری کے لیے پرعزم ہیں. فیصل کریم کنڈی

    وزیر مملکت برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ فیصل کریم کنڈی کا بی آئی ایس پی سینٹرل زونل دفتر پنجاب کا دورہ
    وزیر مملکت برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ فیصل کریم کنڈی نے آج ڈائریکٹر جنرل بینظیر انکم سپورٹ پروگرام آفس ،سینٹرل زون پنجاب لاہور کا دورہ کیا ہے اور اس موقع پر سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی ندیم افضل چن بھی انکے ہمراہ تھے۔ وزیر مملکت برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ فیصل کریم کنڈی نے بی آئی ایس پی کے سینٹرل زونل دفتر لاہور کے مختلف سیکشنز کا بھی دورہ کیا۔

    ترجمان بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مطابق؛ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی سینٹرل زون پنجاب ارشد لیاقت چوہدری نے انہیں محکمہ کی کارکردگی اور پنجاب کے حوالے سے بی آئی ایس پی کے پروگرامز کے حوالے سے بریفنگ دی جبکہ وزیر مملکت فیصل کریم کُنڈی نے افسران سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شفافیت اور اعلیٰ کارکردگی کے باعث دنیا بھر میں اپنی پہچان رکھتا ہے.
    https://twitter.com/bisp_pakistan/status/1608408743754047490

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت
    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ
    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    انہوں نے اس موقع پر مزید کہا کہ ہم اس کے نظام میں آسانی اور مزید بہتری کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والوں کے مسائل اور شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔