Baaghi TV

Author: +9251

  • عراق کے مذہبی رہنما مقتدی الصدر کا اپنی فورس تحلیل کرنے کا عندیہ

    عراق کے مذہبی رہنما مقتدی الصدر کا اپنی فورس تحلیل کرنے کا عندیہ

    عراق میں مزہبی رہنما مقتدی صدر نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کی تنظیم ” السلام بریگیڈز (الصدری گروپ کا عسکری ونگ) عراق میں سیکیورٹی اور انتظامیہ کے درمیان رکاوٹ ہے تو میں اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے تیار ہوں”۔

    باغی ٹی وی رپورٹ عراق میں مزہبی رہنما مقتدی صدر نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کی تنظیم "اگر السلام بریگیڈز (الصدری گروپ کا عسکری ونگ) اس سلسلے میں رکاوٹ ہے تو میں اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے تیار ہوں”۔
    اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں الصدر نے کہا کہ وہ عراقی عوام کو مطلع کریں گے کہ سیاسی، پارلیمانی اور حکومتی پردوں کے پیچھے کیا ہو رہا ہے ،،، اور اس حوالے سے قوم کے سامنے متعدد اہم نقاط پیش کریں گے۔

    الصدر نے مزید کہا کہ یہ لوگ فرقہ وارانہ، نسلی اور جماعتی بنیادوں پر تقسیم کے علاوہ ایک پرانی ریاست کی جڑیں کھودنے پر مصر ہیں۔

    الصدری گروپ کے سربراہ کے مطابق انہوں نے خود کو وزارتی تشکیل سے دور رکھا اور کوشش کی کہ کابینہ خود مختار ٹکنوکریٹس پر مشتمل ہو تاہم بہت کم لوگوں نے ان کی مدد کی۔

    مقتدی الصدر نے اعلان کیا کہ وہ اس بات کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں کہ وہ خود کو اُن تمام منصبوں اور عہدوں سے دور رکھیں گے جو غلط معیار کے مطابق ہوں گے۔

    الصدر نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ "ہم امید کر رہے تھے کہ حب الوطنی حکومت کی اولین ترجیح ہو گی۔ تاہم افسوس کی بات ہے کہ عراق کے فیصلے اب بھی پس پردہ ہو رہے ہیں … بعض عناصر علاقائی تنازع کو ایندھن سے بھڑکا رہے ہیں تا کہ عراق کو خطرے میں ڈالا جا سکے”۔

    مقتدی الصدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پر امن مظاہرین کے تحفظ کے لیے جلد حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "انسداد بدعنوانی کونسل کا کام ابھی تک باعث شرمندگی اور سست ہے”۔

    الصدر نے مطالبہ کیا کہ فوج، پولیس اور سیکورٹی اداروں کو زیادہ مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر السلام بریگیڈز (الصدری گروپ کا عسکری ونگ) اس سلسلے میں رکاوٹ ہے تو میں اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے تیار ہوں”۔

    یاد رہے کہ مقتدی الصدر کے سیکڑوں پیروکاروں نے چند روز قبل دارالحکومت بغداد اور دیگر کئی صوبوں میں ملک میں مقننہ اور انتظامیہ کی کارکردگی کے خلاف احتجاجی مطاہرے کیے تھے۔

  • امریکی رپورٹ نے  بھارت میں  مذ ہبی دھشت گردی  کا مکروہ چہرا ننگا کر دیا

    امریکی رپورٹ نے بھارت میں مذ ہبی دھشت گردی کا مکروہ چہرا ننگا کر دیا

    ‎امریکی انتظامیہ کی جانب سے عالمی مذہبی آزادی سے متعلق 2019 کی رپورٹ نے مودی کےبھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں کر دیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 2 سال سے مذہبی دہشت گردی عروج پر پہنچ چکی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکا کی جانب سے مذہبی آزادی سے متعلق جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہندو قوم پرست دھڑوں نے ‘ہندوتوا’ کے تحت غیر ہندوؤں پر تشدد کیا اور انہیں دہشت اور خوف کا نشانہ بنایا گیا جب کہ مودی حکومت نے گزشتہ دور میں اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‎حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ سیاسی لیڈر کھلے عام ‘ہندوتوا’ کا پرچار کرتے ہیں اور مودی حکومت کا مستقبل میں بھی توجہ نہ دینے کا عندیہ نظر آرہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‎ایک تہائی ریاستی حکومتوں نے گائے کی ذبح پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور ‎گائے ذبح کرنے کی جھوٹی اطلاع پر بھی مسلمانوں کو سرعام تشدد کر کے قتل کیا گیا۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق ‎دودھ، دہی، چمڑے اور گوشت کے کاروبار سے وابستہ افراد پر تشدد ہوا اور ان کاروبار سے وابستہ 10 افراد کو گزشتہ سال قتل کیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں سمیت اقلیتوں کی زبردستی مذہب کی تبدیلی کی تقاریب ہورہی ہیں، غیر ہندوؤں کو "گھر واپسی” نامی تقاریب منعقد کر کے زبردستی ہندو بنایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ‎بھارت کی 10 ریاستوں میں اقلیتوں کے لیے حالات بدتر ہوچکے ہیں، ان میں اتر پردیش، آندھرا پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، اڑیسہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور راجھستان شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکا نے بھارت کو مذہبی دہشت گردی کی فہرست میں بدترین ممالک میں شامل کر رکھا ہے۔

  • متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    بچپن میں جب سنتے تھے کہ شہروں کے اندر کچھ ایسے سینما بھی ہوتے ہیں جن میں بہن بھائی، باپ بیٹی ، ماں بیٹا اکٹھے بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں تو کافی حیرانگی ہوتی تھی. سن شعور کو پہنچا تو ایک دن اپنی بڑی بہن سے پوچھ بیٹھا کہ یہ سب اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا کیسے ممکن ہے بھلا…ان کو شرم و حیا نہیں آتی. بہن کہنے لگی تم بھی تو سب کے سامنے بیٹھ کر عینک والا جن، انگار وادی، الفا براوؤ چارلی، آہن وغیرہ دیکھتے رہتے ہو اور صرف یہی نہیں بلکہ ابرارالحق کا دسمبر ، حدیقہ کیانی کی بوہے باریاں، شہزاد رائے کا کنگنا اور عدنان سمیع خان کی ڈھولکی نہ صرف سنتے ہو بلکہ گنگناتے بھی ہو…. تو ایک بار واقعی چلو بھر پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تھی.

    میں نے پھر بھی ڈھیٹ بن کر سوال داغا کہ اس کے اندر تو اتنا کچھ برا نہیں ہوتا لیکن سینما فلموں میں تو سنا ہے بہت فحاشی ہوتی ہے…. بہن کہنے لگی جس طرح تم یہ سوچتے ہو کہ یہ کوئی اتنی برائی والی بات نہیں… ٹی وی پر فحاشی کم ہے فلموں میں زیادہ… تو اسی طرح شہروں والے لوگ بھی یہ سوچتے ہیں کہ پاکستانی فلموں میں اتنی فحاشی نہیں ہوتی انڈین اور انگریزی فلموں میں فحاشی زیادہ ہوتی ہے. اس دن کے بعد مجھے سمجھ آ گئی کہ اگر کوئی بری چیز آپ میں رچ بس چکی ہے تو وہ آپ کو بری نہیں لگے گی بالکل اسی طرح جیسے بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہنے والا چرواہا ان کے پیشاب و مینگنی کی بدبو سے پریشان ہوئے بغیر سکون کے ساتھ ان کے قریب سو سکتا ہے….!

    لبرل طبقے نے پہلے ہمیں یہ سکھایا کہ عورت گھر میں قید نہیں کی جا سکتی… پھر مزید دو قدم آگے بڑھ کر پردے پر حملہ کیا کہ یہ معاشرتی ترقی میں رکاوٹ ہے اور اب اس سے اگلا قدم کہ پردے کے احکامات کو ہی داغ قرار دے دیا گیا… تضحیک کا نشانہ بنایا گیا. دکھ یہ نہیں کہ معاشرے میں بےپردگی و بے حیائی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے بلکہ دکھ یہ ہے کہ برائی کو برائی ہی نہیں سمجھا جا رہا… اور اسے معاشرتی ترقی کا نام دیا جا رہا ہے. اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ یہ داغ ہمیں نہیں روک سکتے.

    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا….!
    کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

    بات سیدھی سی ہے کہ پردہ اس لیے ضروری ہے تا کہ اگر عورت گھر سے باہر نکلے تو کرے… گھر کے اندر رہتے ہوئے تو اس نے چہرہ کھلا ہی رکھنا ہے . لیکن اب اگر عورت کو مستقل بنیادوں پر گھر سے باہر نکال دیا جائے… اسے ہر وہ کام کرنے کی ترغیب دی جائے جو مردوں کے کرنے والے ہیں… ماڈلنگ سے لیکر کرکٹ کھیلنے تک… گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ائیر ہوسٹس سے لیکر سیلز گرل بنانے تک… تو یہ سارے کام کم از کم اسلام کے طریقوں کے مطابق نہیں. اسلام نے صرف مجبوری کی حالت میں یا چند فرائض کی بنیاد پر عورت کو گھر سے باہر آنے کی اجازت دی ہے (پردہ کر کے ).. ورنہ عمومی حکم تو گھر میں ہی رہنے کا ہے لیکن ان داغ دار دماغوں نے نہ صرف گھر میں ٹکنے کو داغ قرار دے دیا بلکہ پردہ کر کے گھر سے باہر آنے کو بھی. ان کی خواہش ہے کہ عورت گھر میں رہنے کی بجائے مرد کے شانہ بشانہ چلے اور ہر وہ کام کرے جو مرد کر سکتے ہیں اور یہ وہ ذہنی لیول ہے جب سوچا جاتا ہے کہ اس میں کون سی برائی ہے بھلا… صرف چہرہ ہاتھ اور پاؤں ننگے ہیں… شرم گاہ، سینہ، ٹانگیں وغیرہ تو ڈھانپی ہی ہوئی ہیں. انا للہ وانا الیہ راجعون.

    میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن صورتحال کافی تکلیف دہ محسوس ہو رہی تھی جس کی وجہ سے قلم اٹھانا پڑا. معاشرے میں بگاڑ اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک برائی کو اچھائی یا روشن خیالی سمجھ کر اپنایا جاتا ہے اور جب وہ برائی برائی محسوس ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ کہ بگاڑ کی ابتداء ہو چکی. کل تک معاملہ عورت کے گھر سے باہر نکل کر جاب کرنے کا تھا… آج کھیل میں عورت شامل ہو چکی ہے… صرف شامل نہیں ہو چکی بلکہ اسے اپنانے کی دعوت بھی دے رہی ہے. اور مستقبل کی تصویر کیا ہو سکتی ہے.. وہ آپ چشمِ تصور سے دیکھ لیں. یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ کے معاشرے کی رائے عامہ آپ کو پرانے زمانے کا انسان قرار دے کر لات مارنے کے درپے ہوتی ہے تو ایسے موقع پر سب سے مناسب بات یہی ہے کہ ایسی رائے عامہ قائم نہ ہونے دی جائے ورنہ کل آپ بھی یہی کہیں گے کہ پاکستانی فلموں میں تو کوئی فحاشی نہیں ہوتی بہ نسبت انڈین اور انگریزی فلموں کے اس لیے یہ فلمیں اور ڈرامے اپنی بہنوں بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں.

    ہو سکتا ہے کوئی یہ بھی سوچ رہا ہو کہ وہ پرانے وقتوں کی بات تھی جب سینما میں اکٹھے جانا مجبوری تھی یا ٹی وی پر بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہی ڈرامے فلمیں دیکھی جاتی تھیں تو اب تو اپنا موبائل ہے جو مرضی دیکھیں… دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے والی بات ہی نہیں کوئی. تو ان کے لیے اتنا عرض کروں گا کہ مان لیا جو کچھ آپ موبائل پر بند کمرے میں دیکھتے ہیں وہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم لیکن جو واٹس اپ یا فیس بک سٹیٹس آپ لگاتے ہیں وہ بشمول خاندانی افراد ساری دنیا دیکھتی ہے مگر مزید یہ بھی کہ آپ کے گھر میں، آپ کی فیملیز کے ہاتھوں جو جو موبائل پر دیکھا جا رہا ہے وہ بھی اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں.

    میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اپنی بہنوں بچوں سے موبائل چھین لیے جائیں… یا اپنا موبائل توڑ دیا جائے. اس کا یہ حل ہرگز نہیں. حل ہے تو بس یہی ہے کہ خود احتسابی کا عمل رکنے نہ پائے اور احساس بیدار رہے۔ ایسی رائے عامہ قائم کی جائے جو برائی کو برائی ہی سمجھے. اپنے ذاتی اعمال کا ہر بندہ خود ذمہ دار ہے لیکن یہ نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ جس طرح میں بچپن میں سوچتا تھا.. کوئی یہ نہ کہے کہ ایک تیس سیکنڈ کا کلپ ہی تو تھا گانے کا اس کو واٹس اپ اسٹیٹس لگانے سے کیا ہوتا ہے بھلا…. جو ویسے بھی چوبیس گھنٹے کے بعد غائب ہو جائے گا.

  • پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں میں کتنے فوائد؟ جانیے رپورٹ میں

    پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں میں کتنے فوائد؟ جانیے رپورٹ میں

    پھلوں اور سبزیوں میں موجود چھلکے میں چھپے فوائد کی وجہ سے ماہرین غزاء پھل اور سبزیاں چھلکے سمیت کھانے کی تجویز دیتے ہیں .

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پھلوں اور سبزیوں میں موجود چھلکے میں چھپے فوائد کی وجہ سے ماہرین غزاء چھلکے سمیت کھانے کی تجویز دیتے ہیں .
    پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے اتارنے کا مطلب صفائی لیا جاتا ہے جب کہ ہر سبزی اور پھل کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔
    چھلکے کا مطلب بھرپور فائبر کا استعمال ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اینٹی اوکسی ڈینٹس، وٹامن اور معدنیات بھی ان میں بھرپور ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ گودے سے 33 فی صد فائبر چھلکے میں ہوتا ہے اور اینٹی اوکسی ڈینٹس 328 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔
    مختلف پھلوں اور سبزیوں میں یہ مقدار مختلف ہوسکتی ہے لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ چھلکے کی افادیت اپنی جگہ ہے۔
    پھلوں میں آلو بخارا، خوبانی اور آڑو کے چھلکے میں فائبر 38 فی صد ہوتا ہے۔
    اسی طرح اکثر لوگ سیب کا چھلکا اتار کر کھاتے ہیں جب کہ سیب کا چھلکا فائبر، وٹامن اے اور وٹامن سی سے بھر پور ہوتا ہے۔

    ماہر غذائیت کھیرے کو بھی چھلکے سمیت کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ کینو موسمبی کے چھلکے کھائے نہیں جا سکتے لیکن ان کا استعمال بعد میں کیا جاسکتا ہے۔ ان چھلکوں کو سکھانے کے بعد ان کا استعمال مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔

  • دوسری شادی کرنے والوں کےلیے ایک اور شرط لگا دی گئی،

    دوسری شادی کرنے والوں کےلیے ایک اور شرط لگا دی گئی،

    دوسری شادی کے لیے بیوی سے اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری ہوگی۔ عدالت عالیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 12 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا جس کے مطابق دوسری شادی کے لیے بیوی سے اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری ہوگی۔
    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کشمیر کے شہری لیاقت علی میر کی بریت کے خلاف پہلی بیوی کی اپیل پر سماعت کی اور بریت کو کالعدم قرار دے دیا۔

    لیاقت علی میر کو ایک ماہ قید اور 5 ہزار روپے جرمانے کی سزا سناتے ہوئے عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جس شخص کے پاس قومی شناختی کارڈ ہے، اس پر تمام قوانین کا اطلاق ہوگا۔

    فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ بیوی کی اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل انکار کردے تو دوسری شادی پر سزا ہوگی، ایڈیشنل سیشن جج میرٹ پر لیاقت علی میر کی دوسری شادی کیس کا فیصلہ کریں۔

    ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ چونکہ نکاح اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہے اس لیے عدالت کا مکمل دائرہ اختیار ہے جب کہ مسلم فیملی لاء آرڈیننس 1961 کے مطابق اجازت کے بغیر شادی کرنے والے شخص کو سزا اور جرمانہ ہوگا۔

    یاد رہے کہ مجسٹریٹ اسلام آباد نے مصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیر شادی کرنے والے آزاد کشمیر کے رہائشی لیاقت علی کو سزا سنائی تھی۔

    دلشاد بی بی اور لیاقت علی میر نے 2011 میں پسند کی شادی کی اور 2013 میں لیاقت علی نے بیوی اور مصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی تھی۔

  • فلسطینیوں کو جو فارمولہ قبول ہوگا سعودیہ بھی اسی کی حمایت کرے گا.عادل الجبیر

    فلسطینیوں کو جو فارمولہ قبول ہوگا سعودیہ بھی اسی کی حمایت کرے گا.عادل الجبیر

    سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو جو فارمولہ قبول ہوگا سعودیہ بھی اسی کی حمایت کرے گا.

    تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نےکہا ہے کہ جس امن فارمولے کو فلسطینی قوم قبول کرے گی اس پرعرب ممالک بھی اتفاق کریں‌گے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے معاشی مسائل کےحل کی کوششوں کےساتھ ساتھ فلسطینیوں کےدیرینہ سیاسی حقوق کے حل کے لیے بھی موثر انداز میں‌کوشش کی جانی چاہیے تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیل کےدرمیان جاری تنازع کو حقیقی معنوں‌میں ختم کیا جا سکے۔

    انہوں‌نے کہا کہ ہر وہ تجویز جس سے فلسطینیوں کے حالات کی بہتری کی راہ ہموار ہو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ یہاں میں یہ کہوں‌گا کہ فلسطینیوں کےسیاسی حقوق کا حل حد درجہ اہم اور ناگزیر ہے۔

    عادل الجبیر نے مزید کہا کہ سعودی عرب سنہ 1967ء کے عرب علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی مملکت کا دارالحکومت بنائے جانے کے مطالبے کی حمایت جاری رکھے گا۔

  • جانیے ایسے شخص کو جس کا دل دائیں  جانب اور جگر بائیں جانب

    جانیے ایسے شخص کو جس کا دل دائیں جانب اور جگر بائیں جانب

    دنیا کا ایسا انسان کہ جس کا دل دائیں جانب اور جگر بائیں جانب قدرت کا کرشمہ دنیائے طب کو ورطہ حیرت میں ڈال گیا

    باغی ٹی وی رپورٹ :قدرت کے کارخانہ کا نظام ایسا ہے کہ انسانی جسم کے اندرونی اعضاء ایک خاص ترتیب سے نصب ہیں، دل بائیں جانب تو جگر دائیں طرف موجود ہے، معدہ قریب قریب مرکز میں ہے تو لبلبہ بھی اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے۔

    انسانی جسم میں اندرونی اعضا کی انہی ترتیب کے باعث علاج ومعالجے کے تمام تقاضے پورے کیے جاتے ہیں تاہم دنیا ایک عجائب خانہ ہے جہاں کچھ بھی ناممکن نہیں۔ قدرت کا کبھی ایسا بھی کرنا ہوتا ہےجب یہ ترتیب الٹ ہوتی ہےتو مخلوق حیران رہ جاتی ہے.
    اسے ہی واقعے کے سلسلے میں امریکی اسپتال میں ایک پناہ گزین مریض کو کھانسی اور سینے میں انفیکشن کی شکایت پر لایا گیا، مریض کے معائنے کے دوران زندہ مریض کی دل کی دھڑکن سنائی نہیں دی اور جگرلاپتہ تھا

    ڈاکٹرز نے مریض کے سینے کے ایکسرے لیے، پیٹ کا الٹرا ساؤنڈ کیا تو یہ راز کھلا کہ مریض کا دل بائیں جانب ہونے کے بجائے دائیں جانب تھا جب کہ جگر دائیں طرف ہوجانے کے بجائے بائیں اور تھا۔

    66 سالہ پناہ گزین مریض صحت مند زندگی گزار رہا تھا اور اب سے پہلے اسے اپنے اندرونی جسمانی اعضاء کے غلط سائیڈ پر موجودگی کا علم نہیں تھا اور نا ہی اسے کسی قسم کی جسمانی تکلیف تھی۔

    طبی سائنس میں جسمانی اعضا کے پیدائشی طور پر اپنی جگہ کے بجائے مخالف سمت میں ہونے کو Situs Inversus Totalis کے نام سے جانا جاتا ہے تاہم مریض کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی اس لیے اکثر مریض اپنے اندرونی اعضا کی اس تبدیلی کو جانے بغیر ہی دنیا سے چلے جاتے ہیں۔

    طبی سائنس کی تاریخ میں Situs Inversus Totalis کے سب سے عمر رسیدہ مریض نے 99 سال کی عمر میں وفات پائی تھی اور اسے اپنی زندگی کے آخری سال اس جسمانی اعضا کی جگہ کی تبدیلی کا پتہ چلا تھا۔

  • بھارت میں دماغی بیماری سے ہلاکتیں خطرناک حد تک بڑھ گئیں

    بھارت میں دماغی بیماری سے ہلاکتیں خطرناک حد تک بڑھ گئیں

    بھارت میں‌ دماغی بیماری سے ہلاکتیں سینکڑے سے بھی تجاوز کر گئی.علاقے میں خوف و ہراس کے پہرے، بچے خاص نشانہ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھارت میں "اینسفالٹ "کے نام سے پہچانی جانے والی دماغی انفیکشن کی بیماری سے ہلاکتوں کی تعداد 145 تک جا پہنچی ہے۔

    بھارت کے روزنامہ انڈیا ٹو ڈے کے مطابق ملک کے مشرقی صوبے بہار میں آکیوٹ اینسفالٹ سینڈروم کی وجہ سے 145 بچے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

    خبر کے مطابق بیماری کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں میں سے 129 مظفر پور میں ہوئی ہیں۔

    رواں مہینے کے آغاز سے صوبے کے 16 مختلف مقامات پر 600 سے زائد بچوں میں مذکورہ متعدی بیماری کی تشخیص ہوچکی ہے۔

    ڈاکٹروں نے تاحال اس بیماری کی وجوہات کا تعین نہیں کیا تاہم ماہرین کے مطابق بھارت کے غریب ترین صوبے بہار میں یہ متعدی بیماری کچی لیچی کے استعمال سے پھیلی ہے۔

    بیماری خاص طور پر بچوں کو متاثر کر رہی ہے اور اس میں مبتلا مریضوں کے دماغ میں سوجن ، قے اور شدید بخار کی علامتیں دیکھی جا رہی ہیں۔

  • برطانیہ : سکھوں کا  پاکستان اور وزیراعظم عمران خان سے والہانہ اظہار محبت

    برطانیہ : سکھوں کا پاکستان اور وزیراعظم عمران خان سے والہانہ اظہار محبت

    لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں سکھوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو وزیراعظم عمران خان کے فیصلوں سے خوش ہو کر سپورٹ کرنا شروع کر دیا.اور پاکستان اور عمران خان سے اپنے والہانہ محبت کا اظہار بھی کیا.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سکھ کمیونٹی نے قومی کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا..پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود حکومت پاکستان کے اقدامات نے بھارت میں عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ کردیا ہے۔

    لارڈز گراؤنڈ کے باہر ایک سکھ کا کہنا تھا کہ 72 سال بعد ایک ایسا لیڈر آیا ہے جس نے سکھوں کیلئے بارڈر کھولا ہے، میں پاکستان کی اس لیے حمایت کررہا ہوں کیونکہ بابا گرونانک پاکستان کے پنجاب میں دفن ہیں۔

    سکھ برادری کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے کرتارپور بارڈر کھولنے کے اعلان کے بعد برادری ورلڈکپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت کررہی ہے کیونکہ آدھا پنجاب پاکستان میں ہے اور ہمیں بھارت میں لاہور والا کہا جاتا ہے، اس لیے ہم نے کھلم کھلا پاکستان ٹیم کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا پڑوسی ہے، میں بھارت کی طرح پاکستان کو بھی سپورٹ کررہا ہوں۔

    لارڈز کے باہر شائقین کرکٹ پاکستانی ٹیم کیلئے بھرپور سپورٹ اور عمران خان سے والہانہ محبت کا اظہار کرتے دکھائی دیئے اور ایسا لگ رہا تھا کہ جنوبی افریقا کے تماشائی گراؤنڈ میں نہیں ہیں کیونکہ ہر جانب پاکستان کی گرین شرٹس اور پرچم تھے۔

  • گھر کی دیوار گرنے سے 4 سالہ بچہ جاں بحق

    گھر کی دیوار گرنے سے 4 سالہ بچہ جاں بحق

    گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی)نواحی گاﺅں چک مرتضیٰ میں زیرتعمیرمکان کی دیوارگرنے سے چارسالہ بچہ جاں بحق،بتایاجاتا ہے کہ نواحی گاﺅں چک مرتضیٰ کے رہائشی محمد شہزاد کا چار سالہ بیٹا نجم شہزادگھر کے صحن میں کھیل رہاتھا کہ مبینہ طور پر زیر تعمیر دیوار کے ساتھ ریت پھینکنے سے دیوارزمین بوس ہوگئی اور کم سن نجم شہزاددیوارتلے آکربری طرح زخمی ہوگیااور زخمو ں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگیا،متوفی کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپردخاک کردیاگیا۔